Ayahs 46:1–2-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
حم، تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم 2-1
یہ دونوں آیتیں پچھلی سورة کی تمہیں میں بھی گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔ بعینیہ اسی نام اور اسی تمہید سے اس سورة کا آغاز نہایت واضح قرینہ اس بات کا ہے کہ دونوں میں نہایت واضح قدر مشترک موجود ہے۔ چناچہ آگے کے کے مباحث سے ان کے اشتراک کا پہلو بھی سامنے آجائے گا اور جملہ حوامیم کا جو پیچھے گزر چکی ہیں، خلاصہ بھی معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 46:3ماخلقنا السموت والارض وما بینھا الابالحق واجل مسمی والذین کفروا عمآ انذرما معضرون 3
یہ ان لوگوں کے مال پر اظہار افسوس ہے جو خدائے عزیز و حکیم کے اتارے ہوئے اس صحیفہ گرامی کی تکذیب پر مصر اور اس چیز سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے تھے جس سے آگاہ کرنے کے لئے اللہ نے اس کو نازل کیا تھا۔
اس دنیا کے بامقصد ہونے کا تقاضا ہے کہ اس کے بعد ردز جزا ہو
عما انذروا سے اشارہ ظاہر ہے کہ قیامت کی طرف ہے اور قیامت ایک ایسی حقیقت ہے جس کو نہ ماننے سے یہ سارا کارخانہ عالم ایک بالکل عبث اور بےمقصد و بےغایت کھیل بن کے رہ جاتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ عالم بالحق یعنی ایک غایت و مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ عزیز یعنی غالب و مقتدر ہونے کے ساتھ حکیم بھی ہے۔ اگر قیامت نہ ہو تو اس دنیا کو دیکھ کر یہ بات تو ثابت ہوگی کہ اس کے بنانے والے کی قدرت بےنہایت ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ اس نے یہ ایک بالکل بےمقصد اور باطل کام کر ڈالا ہے۔ حالانکہ یہ بات اس کی ظاہر صفات کے بالکل منافی ہے۔ اس دنیا سے جس طرح اس کی قدرت ظاہر ہوتی ہے اسی طرح اس کی حکمت بھی مشاہدے میں آتی ہے اور یہ دونوں صفتیں بالکل پہلو بہ پہلو اس میں موجود ہیں۔ یہاں زبان کا وہ نکتہ یاد رکھیے جس کا ذکر اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرچکے ہیں کہ جب صفات کا بیان بغیر حرف عطف کے ہو جس طرح العزیز الحکیم میں ہے تو اس سے بہ بات نکلتی ہے کہ یہ صفات موصوف میں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔
باالحق واجل مسمی یعنی جس طرح اس کائنات کا بالحق ہونا واضح ہے اسی طرح اس کے بالحق ہونے کا ایک بدیہی تقاضا یہ بھی ہے کہ دنیا اسی طرح برابر چلتی نہ رہے بلکہ ضروری ہے کہ یہ ایک معین مدت تک کے لئے ہو جس کے بعد یہ ختم ہو پھر اس کی عدالت قائم ہو جس نے اس میں نیکی کمائی ہو اس کو اس کی نیکی کا صلہ ملے اور جس نے بدی کمائی ہو وہ اپنی بدی کی سزا بھگتے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ممکن ہے ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہ بات تو معقول معلوم ہوتی ہے کہ ہر شخص اپنینی کی یا بدی کی جزا یا سزا پائے لیکن اس کے لئے یہ کیا ضروری ہے کہ یہ پوری دنیا ایک معین مدت کے بعد ختم ہوجائے کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ برابر قائم بھی رہے اور جو مرتے جائیں ان کی عدالت بھی ہوتی رہے ؟ یہ سوال یوں تو ذہن میں متعدد غلط فہمیوں کے موجود ہونے کے سبب سے پیدا ہوتا ہے جن پر یہاں بحث کے لئے گنجائش نہیں ہے لیکن ایک چیز کی طرف ہم یہاں اشارہ کریں گے، وہ یہ کہ انسان کا ہر عمل خواہ نیکی کا عمل ہو یا بدی کا، اپنے اندر متعدی ہونے کی خصوصیات رکھتا ہے۔ ایک شخص ایک نیکی کا تخم بوتا ہے جس کی برکتوں سے صدیوں اور قرنوں تکاولاد آدم مستفید ہوتی ہے، اسی طرح ایک شخص ایک غلط اور گمراہ کن فلسفہ ایجاد کرتا ہے جس کی ضلالت ایک خلق کثیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور پھر وہ متداد زمانہ کے ساتھ ساتھ اتنی مستحکم ہوتی جاتی ہے کہ اس کو اکھاڑنا تو درکنار قوموں کے بعد قومیں اٹھتی اور اپنی صلاحیتیں ان کو پروان چڑھانے پر صرف کرتی ہیں۔ اس صورتحال کے سبب سے کسی کی نیکی یا بدیکا صحیح اندازہ اس کو کرانا ہو تو یہ ضروری ہوگا کہ ان کے بعید سے بعید اثرات اس کے سامنے لائے جائیں اور عناصر کائنات میں سے جو بھی اس کی کسی نیکی یا بدی کے گواہ ہوں ان کو پیش کیا جائے۔ اس کے بغیر کامل عدل ظہور میں نہیں آسکتا۔ اس وجہ سییہ ضروری ہوا کہ ایک دن اس دنیا کی مدت پوری ہو اور اللہ تعالیٰ ایک ایسی عدالت میں لوگوں کا فیصلہ فرمائے جس میں سب حاضر ہوں، یہاں تک کہ آسمان اور زمین سے بھی اگر کسی معاملہ میں گواہی مطلوب ہو تو ان کو بھی ان کے سارے ریکارڈ کے ساتھ طلب کیا جائے۔ یہ چیز ظاہر ہے کہ اسی صورت میں ممکن ہے جب سب کا روز انصاف ایک ہو۔
Ayah 46:4قل اریتم ماتدعون من دون اللہ ارونی ماذا خلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت ایتونی بکتب من قبل ھذآ او اثرۃ من علیم ان کنتم صدقین 4
شرک کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے
یہ ان لوگوں کے اغراض کے اصل سبب پر ضرب لگائی ہے کہ ان کا اعتماد چونکہ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر ہے اس وجہ سے یہ قرآن کے انداز کی کوئی پروا نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اول تو قیامت محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور اگر اس کی کچھ حقیقت ہے بھی تو ہم جن معبودوں کی پرستش کر رہے ہیں وہ ہم کو ہر خطرے سے بچائیں گے۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے کہ کہ تم اللہ کے سوا جن چیزوں کو پکارتے ہو کبھی ان پر غور بھی کیا ہے کہ ان کی کچھ حقیقت بھی ہے یا یہ محض تمہارے ذہن ہی کی ایجاد ہیں ! اگر تم ان کی کچھ حقیقت سمجھتے ہو تو ذرا مجھے بھی دکھائو کہ انہوں نے زمینی اس کی چیزوں میں سے کیا چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کیا حصہ ہے ! مطلب یہ ہے کہ خدا کے شریک بننے کے حق دار تو صرف اسی شکل میں وہ ہو سکتے ہیں جب آسمان و زمین کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہو۔ اگر اس میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے تو آخر ان کو اس خدا کے حقوق میں شریک کرنے کے کیا معنی جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا خالق ہے۔ وہ خالق ہو کر کس طرح گوارا کرے گا کہ اس کی پیدا کی ہوئی دنیا کے مالک دوسرے بن بیٹھیں ! اور تم نے یہ کس طرح جائز سمجھا کہ اس کی اجازت کے بغیر دوسروں کو اس کی حکومت اور اس کے حقوق میں شریک بنا دو ! یہ امر یہاں واضح رہے کہ مشرکین عرب ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ اس وجہ سے اس دلیل کی بنیاد ایک ایسی حقیقت پر ہے جو ان کے نزدیک بھی مسلم تھی۔
ایتونی بکتب من قبل ھذآ واثرۃ من علم ان کنتم صدقین اشارۃ اس روایت کو کہتے ہیں جو سلف سے منقول ہوتی چلی آرہی ہو۔ الاثارۃ البقیۃ من العلم توثر وحم علی اثارۃ من العلم ای بقیۃ منہ یاثر ونھا من الاولین (اقرب الموارد) اس کے ساتھ من علم کی قید اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ اس روایت کی بنیاد محض و ہم و گمان پر نہیں بلکہ علم پر ہو۔
خدا کی گواہی کے معلوم کرنے کا قابل اعتماد ذریعہ
یعنی اگر تم مدعی ہو کہ خدا نے تمہارے معبودوں کو اپنی خدائی میں شریک بنایا ہے تو اپنے اس دعوے کی سچائی ثابت کرنے کے لئے یا تو اس قرآن سے پہلے کی کوئی کتاب پیش کردیا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد وہم و گمان پر نہیں بلکہ علم پر ہو۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کا کوئی شریک ہے یا نہیں ؟ اس باب میں اصلی گواہی خود خدا ہی کی ہو سکتی ہے کہ اس نے اپنا شریک کسی کو بنایا ہے یا نہیں اور بنایا ہے تو کس کو ؟ خدا کی گواہی کو جاننے کا واحد ذریعہ اس کی نازل کردہ کتابیں ہیں یا وہ روایات و آثار جو اس کے نبیوں اور رسولوں سے صحیح طور پر سلف سے خلف کو منتقل ہوئے۔ فرمایا کہ اس طرح کی کوئی چیز ہو تو اس کو پیش کرو محض و ہم کی بنیاد پر ایک ہوائی قلعہ تعمیر کر کے اپنی عاقبت نہ خراب کرو۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ علم یا تو اس کی کتابوں کے ذریعہ سے خلق کو منتقل ہوا ہے مثلاً تورات و انجیل وغیرہ کے ذریعہ سے یا روایات و آثار کے ذریعہ سے، مثلاً حضرت ابراہیم ؑ اور دوسرے انبیاء کی تعلیمات بعد والوں کو روایات ہی کے ذریعہ سے پہنچیں ان ذرائع سے جو علم منتقل ہوا اس میں کہیں شرک کے حق میں کوئی شہادت موجود نہیں رہے۔ تورات، انجیل اور دوسرے صحیفوں میں اگرچہ بہت سی تحریفات ہوچکی ہیں تاہم ان کے اندر شرک کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ سے متعلق جو روایات، تورات، انجیل یا دوسرے صحیفوں میں نقل ہوئی ہیں ان میں بھی شرک کا کوئی جرثومہ نہیں ہے۔ مشرکین عرب اپنے باپ دادا کے طریقہ پر ہونے کے مدعی ضرور تھے لیکن قرآن کے بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ یہ ثابت کرنے سے قاصر رہے کہ ان کے باپ دادا کے طریقہ کی بنیاد کسی شرعی یا عقلی دلیل پر تھی۔ آخر تک وہ یہی کہتے رہے کہ جس طریقے پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اسی پر ہم چلتے رہیں گے، اس سے بحث نہیں کہ انہوں نے یہ طریقہ کہاں سے لیا۔
Ayahs 46:5–6ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لایستعجیب لہ الی یوم القمیۃ وھم عن دعآئھم غفلون، واذا حشر الناس کانوا لھم اعدآء وکانوا بعبادتھم کفرین (6-5)
مشرکین کے معبودوں کی بےحقیقتی اور بیخبر ی
یہ ان نادانوں کے حال پر اظہار افسوس ہے کہ ان لوگوں سے بڑھ کر گمراہ اور محروم القسمت کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا ان سے دعا و فریاد کر رہے ہیں جو قیامت تک ان کو کوئی جواب دینے والے نہیں ہیں اور جن کا حال یہ ہے کہ انہیں خبر نہیں کہ کوئی ان سے دعا و فریاد کر رہا ہے ! قیامت کے دن ان کی طرف سے کوئی مدد ملنا تو درکنار وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔
مشرکین جن کی پرستش کرتے تھے وہ یا تو فرضی ہستیاں تھیں جن کا کوئی مسمی سرے سے موجود ہی نہ تھا، اس وجہ سے ان کے کسی چیز سے باخبر ہنے یا کسی دعا کے قبول کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہی وہ ہستیاں جن کی کچھ حقیقت ہے مثلاً ملائکہ یا جنات جن کی پرستش مشرکین عرب کرتے تھے یا حضرت مسیح ؑ جن کی پرستش عیاسئیک رتے تھے وہ تو بذات خود کسی کی دعاء فریاد سے واقف بھی نہیں ہو سکتے چہ جائیکہ اس کو قبول کرسکیں، سورة مائدہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے قیامت کے دن سوال کرے گا کہ کیا تم نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود بنائو، وہ جواب دیں گے کہ میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا تھا جس کا مجھے کوئی حق نہیں تھا ! میں نے ان کو وہی بتایا جس کا تو نے مجھے حکم دیا۔ میرے بعد انہوں نے کیا بنایا اس کی خبر مجھے نہیں ہے۔ اس کو تو ہی جانتا ہے۔
سور فرقان میں فرشتوں کا جواب ان الفاظ میں منقول ہے۔
ویوم یحشرھم ومایعبدون من دون اللہ فیقول انتم اضللتم عبادی ھولآء ام ھم ضلوا السبیل، قالوا سبحانک ما کان ینبغی لنا ان نتخذمن دونک من اولیآء ولکن متعتھم وابآء ھم حتی نسوا الذکر، وکانوا قوماً بوراً (الفرقان :18-17)
اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ ان کو اور ان سب کو جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، اکٹھا کرے گا، پس پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انہوں نے خواہ راہ کھوئی ؟ وہ جواب دیں گے تو پاک ہے ہمارے لئے یہ زیبا نہ تھا کہ ہم تیرے سوا دوسرے کو کار ساز بناتے بلکہ یوں ہوا کہ تو نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ وہ تیری یاد دہانی بھول بیٹھے اور ہلاک ہونے والے بنے ،
اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تک انبیاء اور صالحین کا تعلق ہے وہ تو ساری ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال دیں گے جنہوں نے ان کی تعلیم کے بالکل خلاف ان کو شریک خدا ٹھہرایا اور ان کی پرستش کی۔ رہے دوسرے معبود یعنی خبات و شیاطین وغیرہ تو وہ جس طرح اپنے پرستاروں سے اعلان برأت کریں گے اور ان کے پرستار جس طرح ان پر لعنت کریں گے اس کی تفصیلات مختلف سورتوں میں بیان ہوئی ہیں ان سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ قیامت کے دن ان کا کچھ نافع ہونا تو درکنار سب سے زیادہ بدتر دشمن اپنے پرستاروں کے وہی ہوں گے۔ سورة قصص کی آیات 64-62 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 46:7واذا تتلی علیھم ایتنا بنت قال الذین کفروا للحق لما جآء ھم ھذا سحرمبین 7
قرآن سے فرار کے بہانے
اب یہ ان بہانوں کا ذکر ہو رہا ہے جو قرآن سے فرار کے لئے وہ ایجاد کرتے تھے۔ فرمایا کہ جب ہماری نہایت واضح آیتیں درباب توحید و قیامت ان کو سنائی جاتی ہیں اور ان سے ان کا کوئی جواب نہیں بن آتا تو وہ اس قرآن کے باب میں کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ قرآن کو جادو کہنے کی وجہ کی وضاحت جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ قریش کے لیڈروں کے لئے جب اس کی تاثیر و تسخیر کا لوہا مانے بغیر چارہ نہیں رہا تو انہوں نے اپنے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہم تو یہ کلام نہایت پر زور اور پر تاثیر لیکن یہ زور و تاثیر اس کے خدائی کلام ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے۔
للحق کے بعد لما جآء ھم کے الفاظ ان کے اس فعل کی شناخت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ اس حق کو انہوں نے جادو اس وقت قرار دیا جب کہ وہ ان کے پاس آگیا۔ حق کے بارے میں کوئی مغالطہ اس وقت تک توبعید نہیں ہے جب تک وہ سامنے نہیں آیا۔ لیکن اس کے سامنے آجانے کے بعد وہی لوگ اس قسم کی باتیں بناتے ہیں جو خود بھی مغالطہ میں رہنا چاہتے ہیں اور دوسرے کو بھی مغالطہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Ayah 46:8ام یقولون افترابہ قل ان افتریتہ فلاتملکون لی من اللہ شیئاً ط ھواعلم بما تقیضون فیہ ط کفی بہ شھیداً بینی وبینکم ط وھو الغفور الرحیم 8
یہ قرآن کے مخالفین کے ایک اور پر اپیگنڈے کا حوالہ ہے چونکہ یہ نایت ہی لغو پروپیگنڈہ تھا جس کا لغو ہونا خود ان لوگوں پر بھی واضح تھا جو اس کے مرتکب ہو رہے تھے اس وجہ سے اس کا ذکر نہایت استعجاب و حیرت کے انداز میں فرمایا ہے کہ اس کا کوئی جواب دینے کے بجائے معاملہ اللہ کے حوالہ کردیا ہے کہ اگر تم لوگ میری مخالفت کے جنون میں اس حد تک اتر آئے ہو کہ اپنے ضمیر کے بالکل خلاف مجھے ایک مفتری قرار دینے میں بھی کوئی باک نہیں رہا تو اب تم سے کوئی بحث بےسود ہے۔ اس معاملہ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔
قل ان اقتریتہ فلاتملکون لی من اللہ شیاء ً مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن ہے تو تمہاری اپنی تصنیف لیکن تم اس کو جھوٹ موٹ خدا کی وحی قرار دے رہے ہو تو ان سے کوئی بحث نہ کرو۔ بس یہ کہہ دو کہ اگر میں نے خدا پر اتنا بڑا افترا کیا ہے تو کوئی چیز مجھے اس کی پکڑ سے نہ بچا سکے گی اور اس وقت تم لوگ میرے کچھ کام آنے والے نہیں بنو گے کہ تم میرے اس جرم کا بار اپنے اوپر محسوس کرو۔
ھو اعلم بما تفیضون فیہ افاض فی الحدیث، کے معنی کی وضاحت دوسرے مقام میں ہم کرچکے ہیں۔ اس کا اصل مفہوم کسی بات میں نکتہ چینی کرتے کرتے اس کو اس حد تک بڑھا دینا ہے کہ رائی پر بت بن جائے۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ جو سخن سازیاں کر رہے ہو اللہ تعالیٰ ان سے اچھی طرح آگاہ ہے اس وجہ سے میں معاملہ اسی کے حوالہ کرتا ہوں۔ وہی فیصلہ فرمائے گا کہ فی الواقع میں کوئی مفتری ہوں اس وجہ سے تم مجھے کوئی وزن نہیں دے رہے ہو یا مجھے ایک راستباز اور امین جانتے ہوئے محض اس وجہ سے مقتری قرار دے رہے ہو کہ میری دعوت تمہارے نفس کی خواہشوں کے خلاف ہے۔
ہٹ دھرموں کا مغالہ اللہ کے حوالہ کیا جائے۔
کفی بہ شھیداً بینی وبینکم اس قضیہ میں اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے مابین گواہی کے لئے کافی ہے یہ امر یہاں واضح رہے کہ جب معلوم ہو کہ فریق مخلاف ضدا اور دھانلدی پر اتر آیا ہے اور جان بوجھ کر وہ ایک ایسی بات کہہ رہا ہے جو خود اس کے اپنے ضمیر کے بھی خلاف ہے تو ایسی صورت میں واحد چارہ کار ایک معقول انسان کے لئے یہی باقی رہ جاتا ہے کہ وہ معاملہ اللہ کے حوالہ کر کے بحث ختم کر دے۔ یہ شریفانہ طریقہ بعض اوقات ضدی مخاطبوں کو بھی اپنے رویہ پر نظرثانی کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔ وہ اس سے متاثر نہ بھی ہوں جب بھی دعوت کے نقطہ نظر سے بابرکت طریقہ یہی ہے غیر جانبدار ذہن کے لوگ اس سے ضرور متاثر ہوتے ہیں اور مخالفوں کے دل میں بھی داعی کی عظمت اس کی اس خود اعتمادی کے سبب سے دو چند ہوجاتی ہے۔
وھو الغفورا الرحیم، یعنی میں یہ معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ وہ اس کا فصلہ ضرور فرمائے گا اور یہ حقیقت سب پر واضح ہوجائے گی کہ میں مفتری ہوں یا تم لوگ جان بوجھ کر حق کو جھٹلانے والیہو اگر اس فیصلہ میں کچھ دیر بھی ہوئی جب بھی میرے لئے مایوسی اور پریشانی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے۔ وہ لوگوں کو پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ آخری حد تک مہلت دیتا ہے تاکہ جو تو بہ وا صلاح کرنا چاہیں وہ توبہ وا صلاح کر کے اس کی رحمت کی سزاوار بن جائیں۔
Ayah 46:9قل ما کنت بدعا من الرسل ومآ ادری مایفعل بی ولابکم ط ان اتبع الاما یوحی الی وما انا الا نذیر مبین 9
یعنی اگر تم میری مخالفت اس وجہ سے کر رہے ہو کہ میں تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں اور وہ عذاب دکھا نہیں سکتا جس سے تم کو ڈرا رہا ہوں تو یاد رکھو کہ میں دنیا میں پہلا شخص نہیں ہوں جو رسول بن کر آیا ہو۔ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں۔ وہ سب بشر ہی تھے۔ ان میں سے کوئی بھی مافوق بشر نہیں۔ رسولوں کے باب میں سنت الٰہی یہی رہی ہے کہ انسانوں کے اندر رسول ہمیشہ انسانوں ہی کے اندر سے آئے ہیں اور یہ بات بھی سن لو کہ اگر میں تمہاری طلب کے مطابق عذاب نہیں لا سکتا تو یہ چیز بھی میرے دعوائے رسالت کی نفی نہیں کرتی۔ میں نے رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے، خدا یا عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ مجھے خود برملایہ اعتراف ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اور نہ یہ علم ہے کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کر رہا ہوں جو مجھے وحی کی جاتی ہے اور اسی سے تم کو بھی آگاہ کر رہا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق تمہارے لئے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ بس اس سے زیادہ نہ میرے اوپر کوئی ذمہ داری ہے اور نہ میں اس سے زیادہ کچھ اور ہونے کا مدعی ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے سے اگر کوئی بحث کرنی ہے تو میرے اصل دعوے سے متعلق کرو، غیر متعلق سوالات چھیڑ کر نہ اپنے آپ کو الجھن میں ڈالو، نہ دوسروں کو۔
Ayah 46:10قل ارء یتم ان کان من عند اللہ و کفر تم بہ وشھد شاھد من بنی آسرائیل علی مثلہ فامن واستکبرتم ط ان اللہ لایھدی القوم الظلمین 10
یہاں جواب شرط محذوف ہے اور یہ حذف اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جواب شرط ایسے خوفناک نتائج پر متضمن ہے کہ الفاظ اس کی تعبیر سے قاصر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم تو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کتاب کا انکار اور اس کو خدا کے اوپر میرا افتراء قرار دے رہے ہو لیکن اگر یہ خدا کی طرف سے ہوئی تب کیا بنیگا ! ! ساتھ ہی یہ بات بھی تمہارے سوچ لینے کی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شاہد اس طرح کی چیز کو گواہی دے چکا ہے، وہ تو اس پر ایمان لایا اور تم استکبار کی بنا پر اس سے اعراض کئے جا رہے ہو !
شاہد سے کون مراد ہے ؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شاہد سے کس کی طرف اشارہ ہے۔ اس سوال کے تین جواب ہمارے مفسرین نے دیئے ہیں۔
عام رائے تو یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام ہیں لیکن ایک دوسرے گروہ نے اس پر یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ عبداللہ بن سلام اس سورة کے نزول کے بہت بعد مدینہ میں اسلام لائے تو اس مکی سورة میں ان کے اسلام سے پہلے ہی ان کی گواہی کے حوالہ دینے کے کیا معنی، جب کہ کوئی ادنیٰ قرینہ بھی یہاں اس بات کا نہیں ہے کہ کم از کم اس آیت ہی کو مدنی قرار دیا جاسکے۔
دوسرے گروہ کے نزدیک اس سے اشارہ حضرت حضرت موسیٰ ؑ کی طرف ہے لیکن یہ قول بھی کچھ وزنی نہیں ہے۔ آگے حضرت موسیٰ ؑ اور تورات کا ذکر قرآن کے حق میں ان کی شہادت ہی کا حوالہ دینے کے لئے مستقلاً ، نام کی تصریح کے ساتھ آ رہا ہے تو یہاں اشارے کی صورت میں ان کا حوالہ دینے کی کیا ضرورت ہے ؟
ایک تیسرے گروہ نے اس کو اسم جنس کے مفہوم میں لے کر اس سے ان عام لوگوں کی شہادت مراد لی ہے جو بنی اسرائیل میں سے قرآن پر ایمان لائے۔ اس گروہ میں ابن کثیر بھی شامل ہیں لیکن یہ قول بالکل ہی بےبنیاد ہے۔ اس کو اسم جنس کے مفہوم میں لینا قواعد زبان کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن ہم اس غیر ضروری بحث میں یہاں پڑنا نہیں چاہتے۔ اسلوب کلام یہاں خود شاہد ہے کہ نکرہ تضخیم شان کے لئے ہے نہ کہ حقیر و تعمیم کے لئے اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ اشارہ کسی ایسے شاہد کی طرف ہو جس کی شخصیت اور شہادت دونوں کا مرتبہ ایسا ہو کہ اس کو بطور ایک دلیل کے پیش کیا جاسکے۔
ہمارے نزدیک یہ اشارہ سیدنا مسیح ؑ کی طرف ہے۔ اس کے وجوہ مندرجہ ذیل ہیں۔
-1 پہلی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے اپنی بعثت کا خاص مقصد ہی یہ بتایا ہے کہ میں آنے والے کی راہ صاف کرنے آیا ہوں آپ کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ آخری نبی بھی ہیں اور آخری رسول بھی اس وجہ سے اس آنے والے سے آنحضرت ﷺ کے سوا کسی اور کو مراد لینے کی کوئی ادنیٰ گنجائش بھی نہیں ہے۔ انجیلوں کا مطالعہ کیجیے تو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ جس طرح حضرت مسیح ؑ کی بعثت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو حضرت مسیح کی بشارت دینے کے لئے مبعوث فرمایا اسی طرح حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت سے پہلے حضرت مسیح ؑ کو مبعوث فرمایا کہ وہ آنے والے کی راہ صاف کریں۔ انجیلوں میں اصل مضمون جو گوناگوں اسلوبوں سے سامنے آتا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی بشارت ہی ہے۔ استاذ امام نے خاص اس موضوع پر انگریزی میں ایک رسالہ لکھا ہے کہ انجیلوں کا اصل مقصد آنحضرت ﷺ کی تعریف اور تعارف ہے۔ حضرت مسیح ؑ نے جس آسمانی بادشاہت کا بار بار ذکر کیا ہے اور اس کی جو تمثلیں بیان فرمائی ہیں وہ تمام تر آنحضرت ﷺ اور قرآن کی دعوت ہی پر منطبق ہوتی ہیں۔
-2 دوسری اہم چیز یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بشارت اگرچہ تو رات اور زبور وغیرہ میں بھی ہے جن کے حوالے ہم پچھلی سورتوں میں نقل کر آئے ہیں لیکن حضرت مسیح ؑ نے نام کی تصریح کے ساتھ آپ کی بشارت دی ہے۔ سورة صف میں اس کا حوالہ یوں آیا ہے۔
واذقال عیسیٰ ابن مریم یبنی آسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقاً لمبا بین یدی من التورتہ و مبشراً برسول یاتی من بعد اسمہ احمد ط فکما جآء ھم بالبینت قالوا ھذا سحر مبین (الصف 6)
اور یاد کرو جب کہ عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کی جانب سے تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہوں، مصداق بن کر ان پیشین گوئیوں کا جو میرے پہلے سے تورات میں موجود ہیں اور خوش خبری دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ پس جب وہ کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
قرآن نے اس آیت میں جس بشارت کا حوالہ دیا ہے وہ انجیلوں میں موجود ہے۔ بعض انجیلوں میں ت آنحضرت ﷺ کے نام نامی کی تصریح بھی بار بار وارد ہوئی۔ مثلاً برناباس کی انجیل میں …عیسائی اسی وجہ سے اس انجیل کو مستند نہیں مانتے لیکن اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا، دوسری انجیلوں میں بھی آپ کا حوالہ موجود ہے۔ اگرچہ نام غائب کر کے صرف صفات کا حوالہ باقی رہنے دیا گیا ہے اور ترجموں کے ذریعہ سے ان صفات کو بھی مسخ و محرف کرن کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم جو شخص ایمان داری کے ساتھ ان پر غور کرے گا وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کے سوا کوئی دورسا ان کا مصداق نہیں ہوسکتا۔ یہاں اشارے پر قناعت کیجیے۔ انشاء اللہ سورة صف کی تفسیر میں اس مسئلہ پر ہم مفصل بحث کریں گے۔
-3 تیسری چیز یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی پشین گوئیوں میں قرآن، قرآن کی دعوت، اس دعوت کے مزاج، دنیا پر اس دعوت کے غلبہ اور اس غلبہ کے مراحل و مدارج کا نہایت صاف الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ سورة اعراب کی تفسیر میں ہم بعض چیزوں کا حوالہ دے چکے ہیں۔ آگے سورة فتح کی آیت 29 کے تحت بھی ہم اس مسئلہ پر بحث کرنے والے ہیں۔ قارئین کے اطمینان کے لئے بعض حوالے یہاں بھی ہم نقل کرتے ہیں۔
”یسوع نے ان سے کہا کہ کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے دو کیا وہی کرنے کے سرے کا پتھر ہوگیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے ؟ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔“ متی : باب 21، 44-41
”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔“ یوحنا : باب 14:17
اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا مچھ نہیں۔ یوحنا : باب 14، 31
اسلامی دعوت کے تدریجی فروغ کی طرف بھی متعدد تمثیلوں میں اشارے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک تمثیل جس کی طرف سوروہ فتح میں قرآن نے بھی اشارہ کیا ہے، یہ ہے۔
”اس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر جب بڑھتا ہے تو سب تر کاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہوجاتا ہے کہ ہوا کے پرندے ا کر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔“ متی : باب 13:32-31
-4 چوتھی اہم چیز یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اس واضح شہادت کا یہ اثر تھا کہ عیسائیوں میں سے جو لوگ اصل نصرانیت پر اقئم رہے، یعنی ان کے خلیفہ صادق شمعون کے پیرو، وہ قرآن کے نزول کے بعد بڑے جوش و خروش سے اس پر ایمان لائے اور قرآن نے نہایت شاندار الفاظ میں ان کی تعریف کی ہے۔ سورة مائدہ میں اسی گروہ کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے۔
لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا لیھودو الذین اشرکوا ولتجدن اتربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصری ذلک بان منھم قسیسین ودھباتا وانھم لایستکبرون واذا اسمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینھم تفیض من الدمع مما عرفوامن الحق یقولون ربنا امتا فاکتبنا مع الشھدین (المآئدۃ :83-82)
تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پائو گے اور اہل ایمان کی محبت میں سب سے قریب تر ان لوگوں کو پائو گے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں علماء اور راہب ہیں اور وہ تکبر کرنے والے نہیں ہیں۔ یہ لوگ جب اس چیز کو سنتے ہیں جو رسول کی طرف اتاری گئی ہے تو حقکو پہچان لینے کے سبب سے تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز ہوجاتی ہیں۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے رب ہم ایمان لائے تو ہم کو تو حق کی گواہی دینے والوں میں لکھ۔
تدبر قرآن میں ان آیات کی تفسیر غور سے پڑھ لیجیے۔ نصاریٰ کی تاریخ سے لوگ اچھی طرح واقف نہیں ہیں اس وجہ سے ان آیات کا صحیح مفہوم ان پر واضح نہیں ہوسکا۔ یہ پال کے پیروئوں کی تعریف نہیں ہے بلکہ شمعون کے پیروئوں کی ہے۔ پال کئے سرو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے بھی نہیں۔ وہ اس لفظ کو حقیر سمجھتے ہیں اور اس کی جگہ انہوں نے اپنے لئے مسیحی کا لفظ اختیار کیا ہے۔ شمعون کے پیرو بیشک اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے تھے۔ یہ لوگ اس شہادت کے حامل رہے۔ جو سید سیدنا مسیح ؑ نے آخری رسول کی بعثت کے باب میں دی تھی اور جب وقت آیا تو انہوں نے پورے جوش و خروش اور نہایت سچے جذبہ ایمانی کے ساتھ اس کی شہادت دی۔ اسی چیز کی طرف ربنا امنا فاکتبنا مع الشھدین کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں یہ لوگ اس تکبر میں مبتلا نہیں ہوئے جن میں پال اور اس کے پیرو مبتلا ہوئے اس وجہ سے اسلام کی دولت سے بہرہ مند ہوئے۔ انہی لوگوں کے باب میں حضرت مسیح ؑ نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ ”مبارک ہیں دے جو دل کے غریب ہیں، آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے۔“ اوپر سورة مائدہ کی آیت میں ”وانھم لایستکبرون، کے الفاظ سے ان کے اسی وصف کی طرف اشارہ فرما گیا ہے۔
اسی تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی شہادت کی نوعیت ایک عام شہادت سے بالکل مختلف ہے۔ ان کی بعثت ہی خاص اس مقصد سے ہوئی تھی کہ وہ آپ ﷺ کی راہ صاف کریں اور خلق کو اس آسمانی بادشاہی دیں جس کا آپ ﷺ کے ذریعہ سے ظہور ہونے والا تھا۔ اس حوالہ سے قرآن نے مشرکین پر بھی حجت قائم کی ہے اور اہل کتاب پر بھی ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں کہ دعوت کے اس دور میں قریش کو اہل کتاب کی پشت پناہی بھی حاصل ہوگئی تھی اس وجہ سے ان کا حوصلہ بہت بڑھ گیا تھا۔ قرآن نے یہاں یہی دکھایا ہے کہ اسلام کی مخالفت کے جنوں میں آج یہودی اور مسیحی جو حرکتیں چاہیں کریں لیکن بنی اسرائیل کا ایک عظیم شاہد اس حق کی نہایت آشکارا الفاظ میں شہادت دے چکا اور اس پر ایمان لا چکا ہے۔ اس کے ایمان اور اس کی شہادت کے بعد جو لوگ محض استکبار کی بنا پر اس حق کی مخالفت کر رہے ہیں وہ اپنا انجام اچھی طرح سوچ لیں۔
ان اللہ لایھدی القوم نلظلمین یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اس کتاب میں بار بار ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کبھی راہ یاب نہیں کرتا جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے اور اس کی بخشی ہوئی روشنی کی ناقدری کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس نے عقل کی رہنمائی اور آفاق وانفس کی گواہی کے ساتھ ساتھ اپنے نبیوں اور رسولوں کی شہادت کے ذریعہ سے بھی حق کو بالکل آشکارا کردیا۔ اب جو لوگ ان ساری چیزوں کو ہدایت کا ذریعہ بنانے کے بجائے ان کو اپنی ضلالت کا ذریعہ بنان کی کوشش کریں ایسے لوگوں کو ہدایت کی راہپر لاکھڑا کرنا اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس طرح کے لوگوں کو وہ بھٹکنے ہی کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔
Ayah 46:11وقال الذین کفروا اللذین امنوا لوکان خیراً ما سبقونا الیہ دواذ الم یھتدوابہ فسیقولون ھذا افک تدیم 11
منکرین کے اشکبار کی
اوپر والی آیت میں ان منکرین کے جس استکبار کا حوالہ ہے یہ اس کی وضاحت ہے کہ ان ظالموں کی رعونت کا حال یہ ہے کہ اس حق کے خلاف ایک دلیل وہ یہ بھی لاتے ہیں کہ اس کو سب سے پہلے غریبوں نے قبول کیا ہے چناچہ ان کے اغنیار کہتے ہیں کہ اگر اس نئے دین میں کوئی خیر ہوتا تو یہ ممکن نہیں تھا کہ یہ فتو فقیر لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کر جاتے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کی کوئی اور نعمت تو ان کے حصہ میں آئی نہیں تو یہ چیز اگر فی الواقع کوئی نعمت ہوتی تو یہ اس کی طرف سبقت کرنے والے نہ بنتے بلکہ ہم ہی اس کی طرف بھی سبقت کرتے۔ ان کا اس کی طرف سبقت کرنا دلیل ہے کہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے بلکہ یہ انہی چیزوں میں سے ہے جن کے در پے ادنیٰ درجہ کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔
واذلم یھتدوابہ فسیقولون ھذا انک قدیم یعنی اب جبکہ اس روشنی سے ہدایت حاصل کرنے کے بجائے انہوں نے گمراہی اور خیرگی ہی حاصل کی ہے تو جو کچھ انہوں نے کہا ہے صرف اسی پر بس نہیں کریں گے بلکہ یہ بھی کہیں گے کہ یہ کوئی نیا جھوٹ نہیں ہے بلکہ یہ جھوٹ قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے، ہر دور میں کچھ لوگ رہے ہیں جو اسی قسم کے ڈراوے سنا کر لوگوں پر اپنی دھونس جماتے رہے ہیں لیکن ان کی بات آج تک سچی ثابت نہیں ہوئی۔ جس قیامت سے انہوں نے ڈرایا نہ وہ آئی نہ کبھی آئے گی۔ اس طرح کے لوگوں کا جھوٹ اب بالکل کھل چکا ہے اس وجہ سے ہم ان کی دھونس میں آنے والے نہیں ہیں۔
الذین کفروا سے قرینہ دلیل ہے کہ یہاں کفار کے اغنیاء مراد ہیں جن کے استکبار کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا ہے۔ للذین امنوا، سے یہاں غربائے مسلمین مراد ہیں اور ل یہاں فی کے مفہوم میں ہے یہ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔
واذ لم یھتدوا بہ، سے یہ بات نکلتی ہے کہ جب انہوں نے ایک بالکل واضح حق کا انکار کیا ہے تو اپنے ضمیر کو تسلی دینے اور لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے انہیں اور بھی باتیں بنانی پڑیں گی چناچہ وہ یہ بھی کہیں گے کہ یہ جھوٹ تو بہت پرانا جھوٹ ہے۔ اس کو پرانا جھوٹ قرار دینے میں دلیل کا پہلو، ان کے زعم کے مطابق یہ ہے کہ اس کا جھوٹ ہونا بالکل ثابت ہوچکا ہے۔ اگر قیامت آنے والی ہے تو آخر وہ کہاں غائب ہے ایک مدت دراز سے اس کا چرچا ہے لیکن جہاں تک اس کے ظہور کا تعلق ہے ہنوز روز اول ہے۔
Ayah 46:12ومن قبلہ کتب موسیٰ اماماً ورحمۃ و ھذا کتب مصدق بساناً عوبیا ینذر الذین ظلموا وبشریٰ للمحسنین 12
قرآن کے حق میں تورات کی شہادت کا حوالہ
یہ قرآن کے حق میں توریت کی شہادت کا حوالہ ہے۔ اگرچہ زمانی ترتیب کے لحاظ سے اس کا ذکر مقدم ہونا تھا لیکن ان خاص وجوہ سے جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا، حضرت مسیح کی شہادت کا ذکر پہلے آیا۔ اب یہ تورات کا حوالہ دے کر اس شہادت کے تسلسل کو ظاہر فرما دیا کہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی امام اور رحمت بن کر آچکی ہے امام کے معنی رہنما کے ہیں۔ یہ بعینیہ وہی بات ہے جو قرآن کے باب میں ھدی و رحمۃ کے الفاظ سے ارشاد ہوئی ہے اور ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ دونوں الفاظ دنیا اور آخرت دونوں کو پیش نظر رکھ کر استعمال ہوئے ہیں۔ اللہ کی کتاب دنیا میں رہنمائی کرتی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کی اصل حیثیت امام کی ہے۔ جن طرح امام کی اقتدار لازمی ہے اسی طرح زندگی کے معاملات میں اس کتاب کی اقتدار واجب ہے۔ اگر اس کی یہ حیثیت باقی نہ رہے تو خواہ باقی نہ رہے تو خواہ زبان سے اس کا کتنا ہی احترام کیا جائے اور اس کو کتنا ہی چوما چاٹا جائے لیکن یہ ساری باتیں عند اللہ بےسود ہیں۔
قرآن تورات کی پیشین گوئیوں کا مصداق
وھذا کتب مصدق لسانا عدبیا، یہ قرآن کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن عربی زبان میں تورات کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوا ہے۔ جس طرح حضرت مسیح ؑ نے اس کے باب میں شہادت دی ہے اسی طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ بھی اس کی پیشین گوئی کرچکے ہیں۔ یہ پیشین گوئیاں اپنے مصداق کی منتظر تھیں۔ قرآن کے نزول سے یہ مصداق سامنے آگیا اور اس طرح قرآن نے تورات کی تصدیق کردی۔
عام طور پر لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ قرآن چونکہ تورات کو ایک آسمانی کتاب تسلیم کرتا ہے اس وجہ سے قرآن بھی ایک آسمانی کتاب ہوا۔ یہ بات بالکل لا یعنی ہے۔ قرآن اگر تورات کو ایک آسمانی کتاب مانتا ہے تو یہ تورات کے آسمانی ہونے کی ایک دلیل تو بیشک ہوئی لیکن اس قرآن کا آسمانی ہونا کیسے ثابت ہوجائے گا ؟ قرآن کے آسمانی ہونے کی تصدیق تورات کی زبان سے تو اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کے اندر قرآن اور اس کے حامل سے متعلق پیشین گوئیاں ہوں اور قرآن کے نزول اور آنحضرت ﷺ کی بعثت سے ان پیشین گوئیوں کی اس طرح تصدیق ہوجائے کہ کسی منصف کے لئے اس سے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے بلکہ ہر دیانتدار اور غیر جانبدار آدمی پکار اٹھے کہ بیشک ان پیشین گوئیوں کا حقیقی مصداق سامنے آگیا اور اس مصداق نے ان پیشین گوئیوں کی تصدیق کردی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اسیپہلو سے پچھلے صحیفوں کا مصداق کہا ہے، نہ کہ اس پہلو سے جو لوگوں نے عام طور پر سمجھا ہے۔ قرآن ان صحیفوں کا آسمانی ہونا تو بیشک مانتا ہے لیکن ساتھ ہی ان کے محرف ہونے کا بھی اعلان کرتا ہے۔ اس وجہ سے یہ تصدیق مطلق نہیں بلکہ اس خاص مفہوم میں ہے جس کی ہم نے اوپر وضاحت کی ہے۔ اس مفہوم کے لئے لفظ تصدیق کا اسعتمال عربی میں معروف ہے۔ اس کے محل میں اس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔
لساناً عربیا لینذرالذین ظلموا۔ یہ اہل عرب پر احسان کا اظہار بھی ہے اور اس میں تو رات کی بعض پیشین گوئیوں کی طرف اشارہ بھی ہے۔ اہل عرب پر احسان کا پہلو تو واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب عربی میں نازل فرما کر ان کی زبان کی عزت بڑھائی، اس کو بقائے دوام کی سند عطا فرمائی، ان کو اپنے دین کی ترجمانی اور اس کی گواہی کے لئے چنا اور ان کے ہر عذر کا خاتمہ کردیا۔
سابق پیشین گوئیوں کی طرف اس میں اشارہ کا پہلو یہ ہے کہ تورات میں آخری رسول سے متعلق یہ بات موجود ہے کہ اس کی بعثت امیوں یعنی بنی اسماعیل میں ہوگی۔ ان امیوں کی زبان ظاہر ہے کہ عربی تھی اس وجہ سے ان کی زبان کا حوالہ گویا خود ان کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
لینذر الذین ظلموا یہ اس کتاب کے نزول کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس لئے اتارا ہے کہ جن لوگوں نے شرک و کفر میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ان کو اس کے انجام سے آگاہ کردیا جائے تاکہ جو اپنی اصلاح کرنی چاہیں وہ آخری نتائج کے سامنے آنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلیں۔
قرآن کا اصل مقصد
وبشریٰ للسحسنین یہ اس کتاب کا دوسرا مقصد بیان ہوا ہے اور چونکہ اصل مقصود یہی ہے اس وجہ سے اس کا ذکر بشکل اسم ہے۔ فرمایا کہ یہ عظیم اور دائمی خوش خبری ہے خوب کاروں کے لئے محسنین یہاں الذین ظلموا کے مقابل میں ہے جس کے لفظ کے مفہوم پر روشنی پڑتی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کی حفاظت کی اور اپنی زندگی کو اپنے خالق کی حدود وقیوم کے اندر رکھا۔
Ayahs 46:13–14ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا فلا خوف علیھم ولا ھم یخزنون، اولٓئک اصحب الجنتہ خلدین فیھا، جزآء بما کانوا یعملون (14-12)
محسنین کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ
یہ اس بشارت کی وضاحت بھی ہے جس کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا اور ”محسنین“ کے کردار کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ بھی فرمایا کہ ہمارے جن بندوں نے قرآن کی دعوت حق قبول کر کے یہ اعلان کردیا ہے کہ ہمارا رب بس اللہ ہی ہے اور اپنے اس اقرار پر وہ تمام مخالفتوں سے بالکل بےخوف ہو کر ڈٹ گئے ہیں ان کے لئے ابدی جنت کی بشارت ہے نہ ان کو مستقبل کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ماضی کا کوئی غم وہی جنت کے مالک ہوں گے ہمیشہ کے لئے اور یہ چیز ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گا۔
Ayah 46:15-2 آگے آیات 20-15 کا مضمون
آگے نبی ﷺ کی تسلی کے لئے اس بات کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ کس طرح کے لوگوں کو یہ کتاب اپیل کرے گی اور کس طرح کے لوگ ہیں جو اس سے ہمیشہ بیزار ہی رہیں گے۔ اوپر الذین ظلموا اور محسنین کے الفاظ سے جن دو قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ گویا انہی کے تفصیل ہے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جو لوگ سلیم الفطرت ہیں، جو ہوش گوش رکھنے والے ہیں، جو اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے اور اپنے ماں باپ کے حقوق پہچاننے والے ہیں وہ اپنے رب کے حقوق ادا کرنے والے بھی بنیں گے۔ قرآن کی دعوت ان کو اپیل کرے گی۔ رہے وہ لوگ جو بالکل مادر پدر آزاد زندگی گزارنے والے، اپنی ذمہ داریوں اور حقوق و فرائض سے بالکل بےپروا ہیں ان سے کسی خبر کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ وہ اپنی ہی راہ چلیں گے اور اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو اس طرح کے لا ابالیوں کے لئے مقدر ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ووھینا الانسان یوالدیہ احسناً ط حملہ امہ کرھاً ووضعتہ کرھاً ط وحملہ وفصلہ ثلثون شھراً ط حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ لا قال رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحاً ترضہ واصلح لی فی ذرتیتی ط انی تبت الیک وانی من المسلمین 15
ایک سلیم الفطرت کے اندر حقوق کے شعور کا ارتقاء
یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، وضاحت ہو رہی ہے اس بات کی کہ ایک سلیم الفطرت اور صحیح المزاج انسان کے اندر حقوقو فرائض کے شعور کا فطری ارتقا کس طرح ہوتا ہے یا کس نہج پر اس کو ہونا چاہئے۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر بھی ودیعت فرمائی ہے اور اسی کی تعلیم اس کے تمام نبیوں اور نیک بندوں نے بھی دی ہے۔ یہ حقیقت تمام مذاہب و ادیان میں ابتداء سے مسلم رہی ہے کہ خدا کے بعد انسان پر سب سے بڑا حق اس کے ماں باپ ہی کا ہے بلکہ یہ کہنا بھی بےجا نہیں ہے کہ جہاں تک شعور آنے کا تعلق ہے ماں باپ کا حق سب سے پہلے شعور میں آتا ہے۔ پھر اسی حق کے شعور سے انسان خدا اور اس کے حقوق کے شعور شعور تک ترقی کرتا ہے۔ جب تک انسان بچہ رہتا ہے اس وقت تک وہ سب کچھ ماں باپ ہی کو سمجھتا ہے اس لئے کہ وہ کچھ بھی پاتا ہے انہی سے پاتا ہے لیکن جب وہ سن رشد کو پہنچتا ہے تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اصلی منعم و پروردگار وہ ہے جس نے ماں باپ کو بھی وجود بخشا۔ اس طرح وہ ماں باپ کی انگلی پکڑ کر خدا تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے اندر ماں باپ کے حق سے بھی بڑے حق کا شعور بیدار ہوتا ہے اور یہی دو حق انسان پر سب سے بڑے ہیں اور پھر انہی دو سے بہت سے حقوق کی شاخیں پھوٹتی ہیں۔
ماں باپ کا حق اولاد پر یہ ہے کہ جب اولاد ہاتھ پائوں والی ہوجائے اور ماں باپ بڑھاپے کو پہنچیں تو وہ ان کو اپنے اوپر ایک بوجھ نہ محسوس کرے بلکہ یاد رکھے کہ ایک دن وہ ان کی گود میں ایک مضفغہ گوشت کی شکل میں ڈالا گیا تھا لیکن انہوں نے بوجھ سمجھنے کے بجائے اس کو اپنی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور سمجھا اور پال پوس کر اس کو جوان کیا۔ ان کے اس احسان کا حق یہ ہے کہ وہ اپنی اطاعت اور مہر و محبت کے بازوان کے لئے ہمیشہ جھکائے رکھے۔ نہ ان کی کسی خدمت کو اپنے اوپر بار سمجھے، نہ زبان سے کبھی ان کے لئے بیزاری کا کوئی کلمہ نکالے۔
ماں کی جاں بازیاں پنی اولاد کے لئے
حملتہ امۃ کرھاً ووضعتہ کرھاً ط وحملہ وفصلہ ثلثون شھراً یہ ان چند جاں بازیوں اور قربانیوں کی طرف اشارہ ہے جو ہر ماں کو اپنی اولاد کے لئے لازماً کرنی پڑتی ہیں۔ اس اشارے سے مقصود اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ کوئی اولاد خواہ کچھ ہی کر ڈالے لیکن وہ اپنے ماں باپ کے احسان کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ فرمایا کہ اس کی ماں مہینوں نہایت دکھ کے ساتھ اس کو اپنے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، پھر وہ جان کی بازی کھیل کر اس کو جنتی ہے۔ اس کے بعد اس کی رضاعت کا دور آتا ہے اور پورے دو سال وہ اپنے خون کو دودھ بنا کر اس کو پلاتی اور پرورش کرتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کون ہے جو اس کے لئے اتنے دکھ خوشی خوشی جھیل سکے ؟ پھر یہ کتنی بڑی ناسپاسی ہوگی اولاد کی اگر وہ اس احسان کو بھول جائے اور جب ماں باپ اس کے احسان کے محتاج ہوں تو ان سے بےپروائی برتے !
یہاں ایک بات قابل توجہ ہے کہ حسن سلوک کا مطالبہ تو ماں باپ دونوں ہی کے لئے کیا گیا ہے لیکن تین قربانیاں جو مذکور ہوئی ہیں وہ صرف ماں ہی کی ہیں، باپ کی کسی قربانی کا ذکر نہیں ہوا ہے۔ اس کے وجوہ ہمارے نزدیک مندرجہ ذیل ہیں۔
-1 پہلی وجہ تو یہ ہے کہ فی الواقع اولاد کی ابتدائی پرورش و پرداخت میں جو حصہ ماں کا ہوتا ہے وہ باپ کا نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے خدمت کے معاملے میں ماں کا حق باپ کے بالمقابل تین گنا رکھا ہے۔ یہ حدیث اسی آیت پر مبنی ہے۔
-2 دوسری وجہ یہ ہے کہ ماں کا تعلق جنس ضعیف سے ہے۔ اس کا یہ پہلو بھی متقاضی ہے کہ اولاد اس کی خدمت و اطاعت باپ سے بھی زیادہ کرے۔
-3 تیسری وجہ یہ ہے کہ باپ سے بالعموم اولاد کا ماوی مفاد وابستہ ہوتا ہے۔ ان کو اس سے جائیداد و املاک وراثت میں ملنے والی ہوتی ہیں اس سبب سے اس کے معاملے میں کوتاہی یا نافرمانی کا اندیشہ کم ہے برعکس اس کے ماں سے عام حالات میں اس طرح کی توقع کم ہی ہوتی ہے اس وجہ سے وہ لوگ ماں کی حقیقی قدر نہیں کرتے جن کے اندر اس کی قربانیوں کا صحیح شعور نہیں ہوتا۔
ایک لطیف استنباط
رحملہ و فصلہ ثلاثون شھراً سے بعض فقہائے صحابہ نے یہ استباط بھی کیا ہے کہ وضع حمل کی اقل مدت چھ مہینے ہے۔ اس لئے کہ یہاں حمل اور رضاعت دونوں کی مدت تیس مہینے بتائی گئی ہے اور قرآن کے دوسرے مقام میں میں یہ تصریح ہے کہ مدت رضاعت پورے دو سال ہے۔ اگر ان تیس مہینوں میں سے دو سال نکال دیئے جائیں تو حمل کے چھ مہینے بچتے ہیں جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اقل مدت حمل چھ ماہ ہے۔ یہ استنباط لطیف ہے اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان غنی اور حضرت علی جیسے اکابر صحابہ اس سے متفق ہیں۔
ماں باپ کے حقوق کا شعور خدا کے حقوق کے شعور کے لئے نشان راہ ہے
حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ … الآیۃ یعنی جو شخص اپنے ماں باپ کے حقوق پہچانتا ہے وہ جب جوانی اور عمر کی پختگی کو پہنچتا ہے تو اس کی طبیعت کی یہ سلامت روی لازماً اس کے اندر رب حقیقی کے حق کا شعور بھی بیدار کردیتی ہے۔ وہ ماں باپ کی شفقت و محبت اور ان کی پرورش و پرداخت کے اندر اپنے اصل خالق کی مہر و محبت اور اس کی ربوبیت کی ایک جھلک لیتا ہے اور یہیں سے اسے اس پروردگار حقیقی تک پہنچنے کی راہ مل جاتی ہے جس نے اس کی پرورش کے لئے ماں باپ کا سایہ عاطفت مہیا فرمایا۔ گویا ایک حق کا احساس اس کو دوسرے اس سے بڑے حق کے ادا کرنے کے لئے اٹھا کھڑا کرتا ہے۔ اگر کسی کے اندر ماں باپ کے حقوق کا احساس بیدار نہ ہو تو اس کی رسائی خدا کے حقوق تک نہیں ہو سکتی۔ اس منزل تک پہنچنے کے لئے نشان راہ دراصل ماں باپ کے حقوق ہی ہیں جس نے اس دروازے کو نہیں کھولا اس کے لئے آگے کی راہ مسدود ہی رہے گی۔
فرمایا کہ اس طرح کا سلیم الفطرت انسان جب اپنی پختگی، خاص کر چالیس سال کی عمر کو، پہنچتا ہے تو وہ اپنے رب سے یہ دعا کرتا ہے کہ اے رب، تو مجھے سنبھال کہ میں تیری ان عنایات کے شکر کی توفیق پائوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمائیں اور ایسے نیک عمل کروں جو تجھے پسند ہیں اور میری اولاد میں بھی میرے صالح وارث اٹھا، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں تیرے فرمانبرداروں میں سے بننے کا عہد کرتا ہوں۔
اس شعور کے بیدار ہونے کا اصلی وقت تو جوانی یا سن رشد ہے جس کو یہاں بلغ اشدہ، کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے لیکن رشد کے پیدا ہونے میں اصلی عامل کی حیثیت صرف عمر ہی کو حاصل نہیں ہے بلکہ اس میں ماحول، تربیت اور دوسرے عوامل کو بھی بڑا دخل ہے اس وجہ سے ہر شخص کے لئے کوئی ایک عمر رشد کی معین نہیں کی جاسکتی۔ چناچہ ہمارے علماء کے درمیان اس باب میں اختلاف ہوا ہے اور اس اختلاف کے لئے معقول وجوہ موجود ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ نے ہماری طبیعت کی کمزوریوں کا لحاظ کر کے اس میں وسعت رکھی ہے اور چالیس سال کی عمر (وبلغ اربعین سنۃ) کا ذکر یہاں اس کی آخری حد کی حیثیت سے فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جوانی کو پہنچ جانے کے بعد یہ شعور ہر سلیم الفطرت انسان کے اندر بیدار ہوجانا چاہئے کسی کے اندر اگر بعض موانع کے سبب سے بیدار نہ ہو یا پوری طرح بیدار نہ ہو تو چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر تو اس کو لازمًا بیدار ہوجانا چاہئے۔ اس عمر کو پہنچ کر بھی اگر کسی کے اندر یہ بیدار نہ ہو تو یہ علامت ہے اس بات کی اس شخص نے اپنی فطرت بگاڑ لی ہے۔
اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ رب رحیم و کریم نے ہماری طبیعت کی کمزوریوں کا لحاظ کر کے چالیس سال کی عمر تک فی الجملہ رعایت رکھی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہے کہ اس عمر تک جذبات و خواہشات کا نفس پر غلبہ ہوتا ہے۔ آدمی اگر اپنی اصلاح کی کوشش کرتا بھی ہے تو بس اوقات خواہشوں اور جذبات سے مغلوب ہو کر راہ سے بےراہ ہوجاتا ہے۔ چالیس سال کے بعد جذبات و خواہشات کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر آدمی ان کو غلط طریقہ پر مہمیز کرنے کی کوشش نہ کرے تو وہ اپنے رہوار نفس کو قابو میں کرسکتا ہے اس وجہ سے اس کے بعد اسے کسی مزید الائونس کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔
یہ امر یہاں ملحوظ ہے کہ یہاں جو بات فرمائی گئی ہے عام انسانی فطرت اور عام انسانی ماحول کو پیش نظر رکھ کر فرمائی گئی ہے، ایک خالص اسلامی معاشرہ اور اسلامی ماحول کو پیش نظر رکھ کر نہیں فرمائی گی ہے۔ ایک بگڑے ہوئے معاشرہ کے اندر مزاحمتیں زیادہ ہوتی ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ خاص رعایت فرماتا ہے جو اس طرح کے معاشرے کے اندر اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک اسلامی معاشرہ میں یہ مزاحمتیں نہیں ہوتیں اس وجہ سے اس میں لوگوں کی مسئولیت بھی زیادہ ہے۔
توفق رشد کی دعا
اوزعنی کی وضاحت سورة نمل کی تفسیر میں ہم کرچکے ہیں۔ اس کے معنی ہیں مجھے روک مجھے تھام مجھے سنبھال، یعنی اب تک تو میں اپنے جذبات کی رو میں بہتا رہا ہوں لیکن اب تو مجھے توفیق دے کہ میں جذبات و خواہشات کی رو میں بہنے کے بجائے تیری ان بےپایاں عنایات کا شکر ادا کرسکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ یہی شکر کا جذبہ تمام دین و شریعت کی بنیاد ہے۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث سورة فاتحہ کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔
وان اعمل صالحاً ترضہ شکر کا جذبہ لازماً عمل صالح کا محرک بنتا ہے اور عمل صالح وہ ہے جو نفس کی خواہشوں کی پیروی کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ہو۔ اس راہ میں بعض اوقات آدمی کو یہ مغالطہ پیش آتا ہے کہ وہ ایک کام اپنے گمان کے مطابق، خدا کی رضا جوئی کے لئے کرتا ہے لیکن وہ خدا کی خوشنودی کے بجائے اس کے غضب کا باعث ہوتا ہے۔ مثلاً وہ کام جو فی الظاہر تو نیکی کے ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر بدعث یا شرک کی ملاوٹ ہوتی ہے۔ اس وجہ سے انسان کو یہ دعا بھی برابر کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس کو نیکی کے ان کاموں کی توفیق بخشے جو اس کی پسند کے مطابق ہوں۔
واصلح لی فی ذریتی یعنی ساتھ ہی وہ اپنی اولاد کے لئے بھی دعا کرتا ہے کہ ان کے اندر بھی اس کے صالح وارث اٹھیں تاکہ دنیا میں بھی اس کے لئے سرخروئی کا باعث ہوں اور آخرت میں بھی ان کی نیکی اس کے لئے شفاعت بن سکے۔ یہی مضمون ربنا ھب لنا من ازوجنا وذریتنا قرۃ اعین … الآیۃ والی آیت میں گزر چکا ہے اور ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔
انی تبت الیک وانی من المسلمین، یہ آئندہ کے لئے اس کا اقرار صالح ہوتا ہے کہ اب میں نے تیری طرف رجوع کیا اور تیرے فرمانبردار بندوں میں سے ب ننے کا عہد کرتا ہوں۔
Ayah 46:16اولئک الذین نتقبل عنھم احسن ماعملوا و نتجاوزعن سیاتھم فی اصحب الجنۃ ط وعد الصدق الذی کانوا یوعدون 16
فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال کو ہم قبول اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے۔
فی اصحب الجنۃ حال کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ان کے ساتھ وہ معاملہ ہوگا جو جنت کے مستحقین کے ساتھ ہوگا۔ یہ انہی کے زمرے میں شمار ہوں گے۔
وعد الصدق مصدر مئوکد ہے یعنی ان کے لئے اللہ تعالیٰ کا یہ سچا اور پکا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔
چالیس اسل کی عمر کو پہنچنے والوں کو تنبیہ
یہ آیت، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، جوانوں، خاص طور پر چالیس سال کی عمر کو پہنچے ہوئے لوگوں کو تشویش و ترغیب بلکہ ایک قسم کی تنبیہ ہے کہ اب ان کے لئے بیدار ہونے کا آخری وقت آگیا ہے۔ اگر اب بھی انہوں نے آنکھیں نہ کھولیں تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رعایت سے اپنے کو محروم کرلیں گے۔