Ayah 46:17والذی قال لوالدیہ ان تکما اتعدننی ان اخوج وقد حکت القرون من قبلی ج وھما یستغیثن اللہ ویلک امن سے ان وعد اللہ حق ج فیقول ما ھذا الا اساطیر الاولین 17
یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو بالکل مادر پدر آزاد لاأبالیانہ زندگی گزارتے ہیں۔
تمثیل میں الذی کا معرفہ کے لئے ہونا ضروری نہیں ہے
ہم اس کتاب میں جگہ جگہ ذکر کرچکے ہیں کہ الذی جب تمثیل کے لئے آتا ہے تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس سے لازماً کسی خاص شخص ہی کو مراد لیا جائے بلکہ اس سے مراد ہر وہ شخص ہوگا جس پر تمثیل منطبق ہو۔ سورة نحل آیت 92 میں اس کی نہایت واضح مثال گزر چکی ہے۔ یہاں بھی یہ عام ہی ہے۔ چناچہ آگے والی آیت میں اس کا ذکر جمع کے صیغوں ہی سے ہوا ہے۔ جو لوگ عربیت کے اس اسلوب سے آشنا نہیں ہیں وہ ہر جگہ الذی سے کسی خاص شخص کو مراد لینے کی کوشش کرتے ہیں وہ آیت کے صحیح مفہوم سے بہت دور نکل جاتے ہیں چناچہ یہاں بھی بعض لوگوں نے اس سے حضرت ابوبکر صدیق کے فرزند حضرت عبدالرحمان کو مراد لیا ہے۔ اگرچہ مفسرین نے اس قول کو رد کیا ہے لیکن ان کی یہ تردید کسی محکم اصول پر مبنی نہیں ہے اس وجہ سے یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگر الذی معرفہ کے لئے آتا ہے تو اس سے کون مراد ہے ؟ ہم نے جو توجیہہ کی ہے اس کے بعد یہ سوال نہیں پیدا ہوتا ہے۔
لا ابایسانہ رویہ
یہ اوپر والے گروہ کے مقابل گروہ کا ذکر ہے۔ فرمایا کہ جو نوجوان بالکل مادر پدر آزاد زندگی گزارتے ہیں ان کو اپنے رویہ کا جائزہ لینے کی توفیق نہیں ہوتی۔ ان کے ماں باپ ان کی بےراہ روی پر ان کو ٹوکتے اور خدا و آخرت کی یاد دہانی کرتے ہیں تو وہ ان کو بھی نہایت بےدردی سے جھڑک دیتے ہیں، ماں باپ نہایت شفقت اور درد مندی کے ساتھ سمجھاتے ہیں کہ بیٹے ! ایمان کی راہ اختیار کر، خدا کا وعدہ شدنی ہے تو وہ ان کو بیوقوف بناتا ہے کہ کیا تم لوگ مجھے اس بات سے ڈراتے ہو کہ مر کھپ جانے کے بعد پھر زندہ کر کے قبر سے نکالا جائوں گا ؟ یہ ایک بالکل مہمل بات ہے۔ نہ جانے کتنی بیشمار خلقت مجھ سے پہلے گزر چکی ہے، ان میں سے کوئی بھی اب تک زندہ ہو کر واپس نہیں آیا تو میں کس طرح باور کرلوں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائوں گا ! یہ سب اگلوں کے فسانے ہیں۔ ہر دور میں کچھ لوگ اس طرح کی بےسروپا باتیں کرتے رہے ہیں کہ قیامت آرہی ہے لیکن قیامت کر نہ آنا تھا، نہ آئی اور نہ کبھی آئے گی۔
ویلک امن یفظ ویل اگرچہ لعنت کے الفاظ میں سے ہے لیکن بعض مواقع میں یہ دل سوزی، شفقت اور درد مندی کے اظہار کے لئے بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں اس کی نہایت عمدہ مثالیں موجود ہیں۔ یہاں بھی یہ اسی طرح کے محل میں ہے۔ بغض ماں باپ نہایت دل سوزی کے ساتھ اس کو سمجھاتے ہیں کہ تیرا ناس ہو ! ضد نہ کر، بےراہ روی چھوڑ، ایمان کی راہ اختیار اور آخرت سے ڈر۔ لیکن وہ ان کی اس شفقت کی قدر کرنے کی بجائے نہایت نفرت کے ساتھ ان کو جھڑک دیتا ہے۔
Ayah 46:18اولئک الذین حق علیھم القول فی امم قدخلت من قبلھم من الجن ولانس ط انھم کانوا خسرین 18
لا ابالیوں کا انجام
یہ ان کا انجام بیان ہوا ہے۔ یہاں اشارے، ضمیریں اور افعال سب جمع استعمال ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ الذی یہاں الذین ہوگیا ہے۔ یہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ اوپر والی آیت میں ذکر کسی خاص شخص کا نہیں بلکہ ایک خاص قماش کے لوگوں کا تھا۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات پوری ہوگئی۔ اللہ کی بات، سے مراد وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرمائی تھی کہ جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی تیری پیروی کریں گے میں ان سب کو تیرے سمیت جہنم میں بھر دوں گا۔ ”فی امم، بالکل اسی موقع و محل میں ہے جس محل میں اوپر والی آیت میں فی اصحب البغتہ ہے مقصود اس سے ان کے زمرے کو بتانا ہے کہ یہی انہی جنوں اور انسان کے ساتھ بنیں گے جو ان سے پہلے انہی کی طرح لا ابالیانہ زندگ گزار کے اپنی عاقبت برباد کرچکے تھے۔
Ayah 46:19ولکل درجت مما عملوا ولیوفیھم اعمالھم وھم لایظلمون 19
مذکورہ دونوں گروہوں کا انجام
’ کل ‘ سے مراد یہاں وہی دونوں گروہ ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ فرمایا کہ ان دونوں گرہوں کو ان کے اعمال کے اعتبار سے درجے ملیں گے۔ جنہوں نے اپنے ماں باپ اور اپنے رب کے حقوق پہچانے اور ادا کئے وہ جنت کے مدارج حاصل کریں گے اور جنہوں نے شتر بےمہار زندگی گزاری وہ اپنے اعمال کے اعتبار سے دوزخ کے جس طبقہ کے مستحق ہوں گے، اس میں جائیں گے۔ لفظ درجات یہاں علی سبیل التغلیب استعمال ہوا ہے۔
ولیوفیھم، کا معطوف علیہ یہاں محذوف ہے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ ترجمہ میں اس حذف کو میں نے کھول دیا ہے۔
Ayah 46:20ویوم یعرض الذین کفروا علی النار ط ادھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا و استمتعتم بھا ج فالیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تستکبرون فی الارض بغیر الحق وبما کنتم تفسقون 20
اوپر ولکل درجت مما عملوا میں اگرچہ اجمالاً دونوں گروہوں کے نتائج اعمال کا ذکر ہوچکا ہے لیکن یہاں مخاطب خاص طور پر متکبرین قریش ہیں اس وجہ سے ان کے انجام کی وضاحت خاص طور پر فرمائی ارشاد ہوا کہ اس دن کا خیال کرو جس دن یہ متکبرین جہنم کے سامنے حاضر کئے جائیں گے اور ان سے ہا جائے گا کہ تمہارے حصہ میں جو نعمتیں مقدر تھیں وہ تم دنیا میں برت چکے۔ اب تمہارے لئے صرف ذلت کا عذاب ہے اس لئے کہ تم بلا کسی حق کے خدا کی زمین میں تکبر اور اس کے احکام کی نافرمانی کرتے رہے۔
اذھبتم طیباتکم کے معنی ہیں تم نے اپنے حصہ کی نعمتیں ختم کرلیں۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں جن لوگوں کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے اگر وہ اپنے رب کے شکر گزار رہتے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں تو وہ اپنی آخرت کے لئے بھی نعمتوں کا ذخیرہ جمع کرتے ہیں۔ برعکس اس کے جو لوگ نعمتیں پا کر استکبار میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان کا سارا ذخیرہ یہیں ختم ہوجاتا ہے، آخرت میں صرف ان کا وبال ان کے حصہ میں آئے گا۔
استکبار کے ساتھ بغیر الحق کا اضافہ اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ ساری نعمتیں بخشتا تو اللہ تعالیٰ ہے تو ان کو پا کر کسی کو اکڑنے اور اترانے کا کیا حق ہے۔ آدمی اترائے تو جب کہ وہ کسی چیز کا خالق ہو اور خدا کے دیئے بغیر اس نے محض اپنی ذاتی قابلیت سے کوئی چیز حاصل کی ہو۔ جب ہر چیز خدا ہی کی دی ہوئی ہے تو اترانا بالکل جہل و حماقت ہے اور اس سے بھی بڑی حماقت یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتیں اسی کی نافرمانی میں استعمال کرے۔
Ayah 46:21-4 آگے آیات 28-21 کا مضمون
آگے بالا جمال قوم عاد کی تکذیب اور ان کے انجام کا حوالہ ہے۔ مقصود اس حوالہ سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا اور قریش کے متکبرین کو متنبہ کرنا ہے کہ اگر وہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو وہ بھی اسی طرح کے انجام سے دوچار ہوں گے جس سے وہ دور چار ہوئے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
واذا کر اخا عاد ط اذا نذر قومہ بالاحقاف و قد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ الاتعبدو الا اللہ ط انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم 21
اخا عاد سے مراد حضرت ہود ؑ ہیں جو قوم عاد کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ یہ قوم عاد ہی کے ایک فرد تھے اس وجہ سے ان کو عاد کا بھائی کہا۔ رسول کا اپنی قوم کے اندر سے ہونا اتمام حجت کے پہلو سے اپنے اندر گوناگوں اہمیتیں رکھتا ہے جن کی وضاحت برابر کرتے آ رہے ہیں۔
الاحقاف لغت میں تو ریگ کے ستطیل تودوں کو کہتے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد وہ ریگستان ہے جو عمان ویمن اور نجد و حضرموت کے درمیان الاحقاف کے نام سے موسوم ہے اور جو قوم عاد کا اصل مسکن رہا ہے۔ اس نام سے ذکر کر کے قرآن نے یہاں اس عظیم تباہی کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس علاقہ سے آئی۔ ظاہر ہے کہ جس دور میں قوم عاد یہاں اپنے عروج پر تھی اس زمانے میں یہ علاقہ نہایت سرسبز و شاداب اور ان عظیم تمدنی کارناموں سے معمور رہا ہوگا جن کے سبب سے قوم عاد کو تاریخ میں ایک خاص شہرت و عظمت حاصل ہوئی۔ لیکن اب وہی مقام ہے جہاں ایک لق و دق صحرا ہے جس کو دیکھ کر کوئی گمان بھی نہیں کرسکتا کہ کبھی یہاں تعمیر و تمدن کا بھی کوئی نقش قائم ہوا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ الاحقاف کے نام سے یہ علاقہ عاد کے زوال کے بعد موسوم ہوا ہے جب یہاں شاندار تعمیرات کی جگہ صرف ریت کے ٹیلے رہ گئے۔
وقد خلت النذرمن بین یدیہ ومن خلفہ یہ سلسلہ کلام کے بیچ میں جملہ معترضہ ہے۔ نذر یہاں نذیر کی جمع ہے مطلب یہ ہے کہ حضرت ہود ؑ کا انذار کوئی انوکھا انذار نہیں تھا، آگے اور پیچھے کے علاقوں میں بھی اسی طرح کے منذر آ چکے تھے اور انہوں نے اللہ کے جس عذاب سے لوگوں کو ڈرایا تھا اس کے آثار بھی موجود تھے لیکن جس طرح اگلوں نے کوئی سبق نہیں لیا اسی طرح ان پچھلوں نے بھی اپنے منذر کے انذار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔
تمام فساد کی جڑ شرک ہے
لا اتعبدوآ الا اللہ ط انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم یہ حضرت ہود ؑ کا اصل اندار ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو آگاہ کیا کہ اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی نہ کرو۔ اگر تم اپنی روش سے باز نہ آئے تو مجھے ڈر ہے کہ تم پر ایک ہولناک دن کا عذاب آ دھکے گا اس سے معلوم ہوا کہ اصل فساد کی جڑ شرک ہے جس سے تمام دوسرے فسادات کی شاخیں پھوٹتی ہیں اس وجہ سے اللہ کے رسولوں نے سب سے پہلے اسی سے آگاہ کیا اور اس کا انجام یہ بتایا کہ اگر لوگوں نے اپنی روش کی اصلاح نہ کی تو خدا کے ہولناک عذاب کی زد میں آجائیں گے۔ شرک خدا کی زمین میں اس کے خلا بغاوت ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ جس قوم پر اپنے رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت کردیتا ہے اور پھر بھی وہ اپنی اس سرکشی سے باز نہیں آتی تو اس کو مزید مہلت نہیں ملتی۔
Ayah 46:22قالوآ اجئتنا لتا فکنا عن الھتنا ج فاتنا بما تعد نآ ان کنت من الصدقین 22
قوم کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس کا جواب
افک کے معنی جھوٹ بولنے کے ہیں اس کے بعد عن کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ کسی ایسے فعل پر متضمن ہے جس کے معنی پھیرنے اور برگشتہ کرنے کے ہیں۔ یعنی انہوں نے حضرت ہود کے اس انداز کا جواب یہ دیا کہ اچھا آپ اس مقصد سے ہمارے پاس رسول بن کر تشریف لائے ہیں کہ جھوٹ موٹ اپنی رسالت اور ایک عذاب کی دھونس جما کر ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کریں ! اگر یہ بات ہے تو وہ عذاب ہمارے اوپر لائو جس سے ڈرا ہے ہو، اس کے بغیر ہم تمہارا سچا ہونا تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
Ayah 46:23قال انما العلم عند اللہ ز وابلغکم ما ارسلت بہ ولکنی اریکم قوماً تجھلون 23
حضرت ہود ؑ نے ان کے مطالبہ عذاب کے جواب میں فرمایا کہ تم کو اس عذاب سے آگاہ کردینے کا حکم مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا تھا۔ چناچہ میں نے اس سے آگاہ کردیا رہی یہ بات کہ وہ عذاب کب آئے گا اور کس شکل میں آئے گا تو اس کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ نہایت ہی سخت جہالت میں مبتلا ہو کہ جس عظیم خطرے سے تم کو آگاہ کیا جا رہا ہے اس کے سدباب کی تدبیر سوچنے کے بجائے تم اس کو دعوت دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہو۔ میں اس خطرے کو لانے والا نہیں بلکہ اس سے آگاہ کرنے والا ہوں۔
Ayah 46:24فلما راوہ عارضا ً مستقبل اودیتھم لا قالوا ھذا عارض ممطرنا ط بل ھوما استعجلتم بہ ط ریع فیھا عذاب الیم 24
عذاب الٰہی کا ظہور اور مجرموں کا حشر
ضمیر مفعول کا مرجع وہی عذاب ہے جس کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا۔ عارض کے معنی بادل کے ہیں اور یہاں یہ یہاں حال کے محل میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس عذاب کے لئے وہ جلدی مچائے ہوئے تھے جب وہ ایک ابرک کی ش میں ان وادیوں کی طرف بڑھتا نظر آیا تو خوش ہو کر بولے کہ یہ ابر باراں عے جو ہماری وادی کو جل تھل کر دے گا ! بل ھوما استعجلتم بہ یعنی وہ تو اس کو بار باراں سمجھے لیکن صورت حال نے بتایا کہ ابر باراں نہیں بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کے لئے وہ جلدی مچائے ہوئے تھے۔ ریح فیھا عذاب الیم یہ اس عذاب کی نوعیت واضح فرمائی ہے کہ وہ ایک باند تند تھی جس کے اندر ایک درد ناک عذاب چھپا ہوا تھا۔ اس باد تند کو دوسرے مقام میں صرصر سے تعبیر فرمایا ہے جو کئی دن تک ان پر مسلط رہی اور اس نے ان کو بالکل پامال کر کے رکھ دیا۔ سورة حاقہ میں اسکا ذکر یوں آیا ہے۔
واما عاد فا ھلکوا بریح صرصر عاتیۃ سخرھا علیھم سبع لیال و سنیۃ ایام لا حسوماً افتری القوم فیھا صرعی لا کا نھم اعجاز ًنخیل خاویۃ والحآقۃ 7-6)
اور رہے عاد تو وہ ایک سے قابو باد تند سے ہلاک کئے گئے اس کو اللہ نے ان پر مسلط رکھا سات رات اور آٹھ دن ان کی جڑ کاٹ دینے کے لئے تم دیکھتے کہ وہ اس کے اندر اس طرح پیچھے پڑے ہیں گویا کھجوروں کے کھوکھلے تنے
Ayah 46:25تدموکلشیء بامر ربھا فاصبحوا الایری الا مسکنھم کذلک تجزی القوم المجرمین 25
یہ اس باد تند کی تباہ کاریوں کی طرف اشارہ ہے کہ اس نے اس طرح کا ستھرائو کردیا کہ ان کے مکانوں کے آثار کے سوا اور کوئی چیز دیکھنے کے لئے باقی نہیں رہ گئی۔
کذلک تجزی القوم المجرمین فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ صرف ماضی کی ایک کہانی ہے بلکہ ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ اگر قریش نے بھی وہی روش اختیار کی جو عاد نے اختیار کی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اللہ کا معاملہ ان کے ساتھ مختلف ہو۔ یہ بھی لازماً اسی انجام سے دوچار ہوں گے۔ خدا کا قانون سب کے لئے ایک ہی ہے۔
Ayah 46:26ولقد مکنھم فیمآ ان مکنکم فیہ وجعلنا لھم سمعاً وابصار او افبدہ فما اغنی عنھم سمعھم ولابصارھم ولا افئذتھم من شیء اذکانوا یجحدون بایت اللہ وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزون 26
قریش کو تنبیہ
یہ قریش کو براہ راست مخاطب کر کے ان کے سامنے وہ سبق رکھا ہے جو اس سرگزشت سے حاصل ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اساب و وسائل کی جو فراوانی اور تعمیر و تمدن کی جو عظمت و شوکت ان کو حاصل ہوئی وہ تم کو حاصل نہیں ہے لیکن دیکھ لو، جب ہم نے ان کو پکڑنا چاہا تو وہ ہماری پکڑ سے اپنے کو بچا نہ سکے ! ہم نے ان کو کان، آنکھ اور دل کی تمام صلاحیتیں عطا فرمائیں لیکن چونکہ وہ ہماری آیات کی روشنی قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اس وجہ سے ان کے کان، آنکھ، دل ان کے کچھ کام آنے والے نہ بنے بلکہ وہ ساری ذہانت و فطانت رکھتے ہوئے اس عذاب کی گرفت میں آگئے جس کا مذاق اڑاتے رہے تھے۔
کان، آنکھ اور دل کی صلاحیتیں آیات الٰہی سے بیدار ہوتی ہیں
اس سے حقیقت سامنے آئی کہ کان، آنکھ اور دل کے اندر بھی حقیقی روشنی اللہ تعالیٰ کی آیات ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ آیات الٰہی کے نور سے یہ منور نہ ہوں تو ان کی ساری رسائی صرف محسوسات تک محدود رہتی ہے اور ان محسوسات پر بھی وہ اپنا سارا زور محسوس فوائد ہی کے حاصل کرنے کے لئے صرف کرتے ہیں۔ اس محسوس پرستی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی یہ ساری اصلی صلاحیتیں بالکل کند ہو کے رہ جاتی ہیں۔ وہ اشیاء کے محسوس اور مادی پہلو کے سوا کسی اور پہلو پر نہ غور کرسکتا اور نہ اس پر غور کرنے کی کوئی ضرورت محسوس کرتا حالانکہ غور کرنے کا اصلی پہلو وہی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے اس طرح کے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کے پاس کان ہیں لیکن وہ سنتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں لیکن وہ دیکھتے نہیں، ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں۔
Ayah 46:27ولقد اھلکنا ماحولکم من القوی وصرفنا الایت لعلھم یرجعون 27
قریش کو ایک اور تنبیہ
یہ خطاب بھی قریش ہی سے ہے۔ فرمایا کہ عاد کا قصہ اگر کچھ دور کا سمجھتے ہو تو اپنے ماحول کی بستیوں پر نگاہ ڈالو۔ ان کی آنکھوں اور ان کے دلوں کے پردے ہٹانے کے لئے بھی ہم نے اپنی آیات انکے سامنے گونگاوں پہلوئوں سے پیش کیں تاکہ وہ اپنے اصل خالق وہ مالک کی طرف رجوع کریں لیکن انہوں نے بھی ہماری آیات قبول کرنے سے انکار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ یہ اشارہ ان تبادہ شدہ بستیوں کی طرف ہے جن پر سے قریش کو اپنے تجارتی سفروں میں گزرنے کے مواقع ملتے رہتے تھے۔
Ayah 46:28فلولا نصرھم الذین اتخذوا من دون اللہ قرباناً الھۃ بل ضلواعنھم وذلک افکھم وما کانوا یفترون 28
ایک سوال
یہ قریش کے سامنے ایک سوال رکھا ہے کہ اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ تمہارے یہ دیوی دیوتا تمہیں خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے تو آخر ان کے معبودوں نے ان کو خدا کے عذاب سے کیوں نہیں بچایا، انہوں نے بھی تو تمہاری ہی طرح ان معبودوں کو خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر اختیار کیا تھا ؟ بل ضلوا عنھم یعنی وہ تو سب عین وقت پر کھوئے گئے، کوئی بھی ان کے کام آنے والا نہ بنا۔
ذلک افکھم وما کانوا یفترون یعنی ثابت ہوا کہ یہ سب ان کا جھوٹ اور افترائے محض تھا، انہوں نے محض اپنے جی سے ان کو معبود بنایا اور پھر خدا پر یہ بہتان باندھا کہ یہ خدا کے چہیتے ہیں اور اس نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے۔
قرباناً مفعول لہ ہے۔ یہ مشرکین کے اس عقیدہ کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر ان کے قول ما نعبدھم الا یفربونا الی اللہ زلفی، (ہم ان کو صرف اس خیال سے پوجتے ہیں کہ ہمیں خدا سے زیادہ سے زیادہ قریب کردیں) میں ہوا ہے۔
یہ امر واضح رہے کہ مشرکین جن معبودوں کو پوجتے تھے ان کو خلق کا خالق ومالک سمجھ کر نہیں پوجتے تھے بلکہ اس خیال سے پوجتے تھے کہ یہ خدا کے چہیتے ہیں، ان کی عبادت خدا کے تقرب کا ذریعہ ہوگی۔ فرشتوں کے متعلق ان کا جو عقیدہ تھا وہ اس کتاب میں جگہ جگہ زیر بحث آچکا ہے۔
Ayah 46:29-6 آگے آیات 35-29 کا مضمون
آگے نبی ﷺ کو چند آیات میں تسلی دی گئی ہے کہ اگر تمہاری قوم کے لوگ اس کتاب کی ناقدری کر رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو یہ اس کتاب کا یا تمہارا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ خود ان کی اپنی طبیعت کا فساد ہے ورنہ اس کتاب کی دلکشی اور اثر آفرینی کا حال تو یہ ہے کہ اگر صالحین جن کی کسی جماعت کیکانوں میں اتفقا سے بھی اس کی آواز پڑگئی ہے تو وہ سراپا گوش ہو کر اس طرف متوجہ ہوگئے ہیں اور پھر اس کی دعوت لے کر اپنی قوم کی اصلاح کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ حیف ہے اگر یہ لوگ جن کے لئے یہ کتاب اتاری گئی ہے، اس کی قدر نہ کریں۔
اس کے بعد خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں کفار کے لئے تہدید و وعید اور آنحضرت ﷺ کو صبر و عزیمت کی تلقین ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
واذصرفنآ الیک نفرا من الجن یستمعون القرآن فلما حضروہ قالوآ انصتوا فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین 29
جنوں کے قرآن سننے کے واقعہ کی نوعیت
صرفنا آلیک کے اسلوب بیان سے یہ بانت نکلتی ہے کہجنوں کے قرآن سننے کے یہ واقعہ بالکل اتفاقاً ،
محض اللہ تعالیٰ کی کار سازی سے پیش آگیا۔ نبی ﷺ نے اس کے لئے کوئی اہتمام فرمایا اور نہ جنوں ہی نے اس کا پہلے سے کوئی ارادہ کیا تھا۔ بس اللہ نے سررا ہے ان کی ایک پارٹی کو متوجہ فرما دیا کہ وہ نبی ﷺ کو قرآن پڑھتے ہوئے ذرا سن لیں۔ چناچہ انہوں نے سنا اور اسی سننے کا اثر ان پر یہ پڑا کہ وہ اس کے گرویدہ ہوگئے اور ایسے گرویدہ ہوئے کہ اپنی قوم کو اس کی دعوت دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ طائف والوں کے رویہ سے نہایت کبیدہ خاطر ہو کر واپس ہوئے ہیں تو راستہ میں نخلہ میں آپ نے رات گزاری ہے۔ وہیں شب کی نمازوں میں سے کسی نماز میں آپ قرآن پڑھ رہے تھے۔ اسی موقع پر جنوں کی اس پارٹی نے قرآن سنا اور اس پر وہ اثر پڑا جو اوپر مذکور ہوا اور جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ مقصود اس واقعہ کے ذکر سے اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ جن کے لئے اور جن کی زبان میں یہ کلام اترا، جن کی اصلاح کے لئے اللہ کا رسول اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہے، جن کی تلاش میں وہ مکہ سے سفر کر کے طائف تک پہنچتا ہے وہ تو نہ صرف یہ کہ اس کلام کو سننے کے روا دار نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول کے ساتھ نہایت بدسلوکی کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور جنات کا حال یہ ہے کہ ان کے اندر جو سلیم الفطرت ہیں اگر وہ سر را ہے بھی قرآن کی کچھ آیتیں سن لیتے ہیں تو سن کر تڑپ اٹھتے ہیں اور اپنی قوم کے اندر اس کتاب کے داعی بن کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ خرابی قرآن اور اس کے پیش کرنے والے کے اندر نہیں بلکہ خود ان لوگوں کے اندر ہے جو اس سے گریز کر رہے ہیں۔
مکہ اور طائف کے گنڈوں پر تعریض
فلما حضروہ قالوا انصتوا یعنی قرآن کی بھنک کان میں پڑتے ہی انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت کی کہ خاموش اور مئودب ہو کر اس لا ہوتی کلام کو سنو کہ تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ ان کے اس حسن ادب کا حوالہ مکہ اور طائف کے ان گنڈوں کی بدتمیزیوں پر تعریض ہے جن کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے کہ وہ اپنے کارندوں کو یہ سکھاتے کہ جب قرآن سنایا جائے تو اس میں خوب گڑ بڑ پیدا کرو کہ اس کی آواز دب جائے اور تم غالب رہو۔ ان کے اسی رویہ کا ذکر سورة جن میں بدیں الفاظ ہوا ہے، وانہ لما تمام عبداللہ یدعوہ کا دوا یکونون علیہ لبداً (الجن 19)
(اور یہ کہ بج اللہ کا بندہ، خالص اللہ ہی کی دعوت کے لئے اٹھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس پر ٹوٹ پڑیں گے۔)
جنوں کے بچے تاثر کی شہادت
فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین، یہ بات ان کے سچے اور حقیقی تاثر کی شہادت کے طور پر بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے صرف واہ واہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ کہہ دینے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی قوم کو بھی اس خطرے سے آگاہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے جن سے اس کتاب نے لوگوں کو آگاہ کیا ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ کسی اچھی اور سچی بات پر واہ واہ کردینے والے تو برے سے برے زمانے میں بھی نکل آتے ہیں لیکن اس واہ واہ کی اس وقت تک کوئی قیمت نہیں ہے۔ جب تک زندگی کے اندر اس سے کوئی عملی تبدیلی نہ واقع ہو۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت پر سردھننے والے اور اس کی تعریف میں آسمان و زمین کے فلابے ملانے والے اس زمانے میں بھی بہت ہیں لیکن اس پر عمل کرنے والے اگر آپ ڈھونڈھیں تو وہ عنقا ہیں۔ ان جنوں کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ ان پر اس کتاب کا یہ اثر پڑا کہ وہ اپنی بگڑی ہوئی قوم کے اندر، تمام خطرات سے بےپروا ہو کر، اس کی منادی کرنے اٹھ کھڑے ہوئے۔
Ayahs 46:30–32قالوا یقومنا انا سمعنا کتباً انزل من بعد موسیٰ مصدقالما بین بدیہ یھدی الی الحق والی طریق مستقیم، یقومنا اجیبوا داعی اللہ کی آمنوا بہ یغترتکم من ذنوبکم و یخرکم من عذاب الیم، ومن لایحب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض ولیس لہ من دونہ اولیآء ط اولئک فی ضل مبین 32-30)
جنوں کی دعوت اپنی قوم کو
یہ وہ دعوت ہے جو انہوں نے اپنی گمراہ قوم کو دی۔ سب سے پہلے انہوں نے اس کتاب کا تعارف کرایا کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ان پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوئی ہے جو اس کے باب میں سابق صحیفوں میں وارد ہوئی ہے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد صاحب شریعت نبی آنحتر ﷺ ہی میں آپ سے پہلے جتنے بھی انبیا بنی اسرائیل میں گزرے سب حضرت موسیٰ ؑ ہی کی شریعت کے پیرو تھے۔ اسی طرح قرآن سے پہلے اصل کتاب کی حیثیت صرف تورات کو حاصل ہوئی ہے اور اس کے آسمان ہونے کے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ ٹھیک ٹھیک اور ان پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوئی جو اس کے باپ، پہلے سے تورات اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں موجود تھیں۔
یھدی الی الحق والی طریق مستقیم، بہب بات سورة جن میں انہی جنوں کی زبان سے معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ یوں نقل ہوئی ہے، انا سمعنا قراناً عجبا، یھدی الی الرشد فامتا بہ ط ولن نشرک بربنا احدا (الجن 201:1) (ہم نے ایک عجیب و غریب قرآن سنا ہے، جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور اب ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں ٹھرائیں گے) ان دونوں آیتوں کو سامنے رکھنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حق سے مراد یہاں عقیدہ توحید ہے جو خدا تک پہنچانے والا سیدھا راستہ ہے لفظ حق اس عقیدہ کے رسوخ و استحکام اور اس کے مطابق حقیقت و موافق عقل و فطرت ہونے کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور صراط مستقیم سے اس کے آسان ہموار اور کج پیچ سے پاک ہونے کی طرف اشارہ ہے اور یہ دونوں ہی باتیں لازم و ملزوم ہیں۔ تنکیر یہاں تفخیم شان کے لئے ہے۔
اجیبوا داعی اللہ وامنوا بہ … الایہ یہ وہ اصل دعوت ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دی کہ اللہ کے اس داعی پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لائو۔ وامنوا بہ اسی لبیک کہنے کی وضاحت ہے کہ اصل مطلوب شے ایمان ہے۔ جو ایمان لائیں گے اللہ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور ایک درد ناک عذاب سے ان کو نجات دے گا۔
حقوق العباد کے معاملات کی نزاکت
من ذنوبکم میں من تبعیض کے لئے ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ بعض گناہ ایسے بھی ہیں جن کی معافی کا معاملہ اس ایمان کے بعد بھی محلول رہتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ وہ سنگین قسم کے گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ حقوق العباد کی معافی کے لئے یہ ضروری ہے کہ آدمی ان کی تلافی کیرز۔ اگر ان کی تلافی نہیں کی گئی ہے یا تلافی کا موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عدل کا تقاضا یہی ہے کہ یہ معاملہ فریقین کی موجودگی میں آخرت کی عدالت میں پیش ہو۔ وہاں کیا فیصلہ ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن اتنی بات واضح ہے کہ تلافی کا موقع ہوتے ہوئے اگر تلافی نہیں کی گئی ہے تو یہ چیز ایمان کے تاقضے کے خلاف ہے اور اگر تلافی کا موقع ہاتھ سے نکل جا چکا ہے تو امید ہے کہ آدمی کا سچا احساس، سچی توبہ، سچی ندامت اور اس کی وہ نیکیاں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے سفارشی بنیں جو وہ اپنے جرائم کی تالفی کے لئے اپنی بعد کی زندگی میں مرتے دم تک کرے گا۔
قنوطیت کی طرح بےجا رجائیت بھی فتنہ ہے
جن لوگوں نے اس آیت کے اندر من کو ایک بالکل زائد چیز سمجھ کر اس کی تاویل کی ہے انہوں نے اس کا حق ادا نہیں کیا ہے۔ قرآن میں ایک حرف بھی زائد نہیں ہے اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں سج طرح بےجا قنوطیت ناجائز ہے اسی طرح بےجا رجائیت بھی ایک فتنہ ہے۔ نقطہ اعتدال بیم و رجادونوں کے بین بین ہے۔
ومن لایحب داعی اللہ فلیس بمعجز فی الارض ولیس لہ من دونہ اولیآء اولئک فی ضلل مبین یہ بات اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تضمین کے طور پر بھی ہو سکتی ہے لیکن نظائر قرآن کی روشنی میں میرے نزدیک یہ جنوں ہی کے قول کا ایک حصہ ہے۔ سورة جن میں ان کی یہی بات بدیں الفاظ نقل ہوئی ہے۔
وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض ولن نعجزہ ھرباہ والجن 12)
اور یہ کہ ہم نے جان لیا ہے کہ نہ ہم زمین میں خدا کے قابو سے باہر نکل سکتے نہ آسمان میں بھاگ کر اس کو ہرا سکتے۔
ولیس لہ من دونہ اولیآء کا تعلق آخرت سے ہے۔ یعنی جس طرح اس دنیا میں وہ خدا کے قابو سے باہر نہیں ہو سکتے اس طرح آخرت میں بھی خدا کے مقابل میں ان کا کوئی مددگار و کار ساز نہیں بنے گا۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنات بھی قرآن کے اسی طرح مخاطب ہیں جس طرح بنی نوع انسان مخاطب ہیں اور نبی ﷺ جنات کے بھی اسی طرح رسول ہیں جس طرح ہمارے لئے ہیں ؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو جنوں کے اس قول کا کیا مطلب کہ یقومنا اجینوا داعی اللہ وا منوا بہ (اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لائو) اور اگر اثبات میں ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسالت سے متعلق اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہمیشہ سے جاری ہے اور جو قرآن میں وضاحت سے بیان ہوئی ہے۔ وہ نبی ﷺ کے باب میں بدل دی گئی ؟ رسولوں کے ابب میں سنت الٰہی تو یہ رہی ہے کہ وہ اسی قوم کے اندر سے مبعوث ہوئے جس کی دعوت پر وہ مامور ہوئے۔ اسی زبان میں انہوں نے اپنی دعوت پیش کی جو پوری قوم کی زبان تھی۔ قوم ہی کے اندر انہوں نے اپنی زندگی گزاری اور اس کے ہر طبقہ کے پاس خود جا جا کر، ان کو جھنجھوڑا، جگایا اور ان پر اللہ کی حجت تمام کی۔ اس کے بعد اگر قوم ایمان نہیں لائی تو انہوں نے اس سے اعلان برأت کر کے ہجرت کی اور قوم پر اللہ کا عذاب آیا۔ کیا یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ نبی ﷺ نے جنوں کے اندر بھی یہ تمام ذمہ داریاں اسی طرح ادا فرمائیں جس طرح انسانوں کے اندر ادا فرمائیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا پھر یہ بات بھی ہے کہ رسول کی ساری زندگی اس کے متبعین کے لئے اسوہ اور نمونہ ہوی ہے کیا جنات کے لئے کسی بشر کی زندگی کامل اسوہ اور نمونہ ہو سکتی ہے جب کہ یہ بات بالبداہت معلوم ہے کہ ہم انسانوں کے لئے کسی فرشتہ یا جن کی زندگی اسوہ اور نمونہ نہیں ہو سکتی ؟ چناچہ قرآن نے ان لوگوں کے جواب میں جو مطالبہ کرتے تھے کہ ہماری رہنمائی کے لئے ہمارے ہی جیسے ایک بشر کو کیوں بھیجا گیا، کسی فرشتہ کو کیوں نہیں بھیجا گیا، کہا بھی ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لئے کوئی فرشتہ کس طرح بھیجا جاتا۔ اگر فرشتہ بھیجا جاتا تو وہ بھی بہرحال انسانوں ہی کے بھیس میں آتا۔
علاوہ ازیں یہ بات بھی ہے کہ جب جنوں اور انسانوں کی خلقت دو بالکل متضاد عناصر سے ہوئی ہے تو لازماً دونوں کی سرشت، دونوں کے مزاج دونوں کی معاشرتی، سماجی اور تمدنی ضروریات اور دونوں کے احکام و شرائع میں بڑا فرق ہوگا۔ ان میں مشترک ہو سکتے ہیں تو توحید، معاد اور خیر و شر کے بنیادی کلیات ہی ہو سکتے ہیں، باقی امور تو بہرحال الگ الگ ہوں گے اس وجہ سے قرآن ان کی رہنمائی کرسکتا ہے تو صرف عقائد اور اخلاقی کلیات کی حد تک ہی کرسکتا ہے۔ زندگی کے دوسرے ابواب میں لازماً و محتاج ہیں کہ ان کے اندر انہی کے اندر سے رسول آئیں جو ان کی رہنمائی ان کے فطری تقاضوں ان کی ضروریات اور ان کے حالات و مسائل کے مطابق کریں تاکہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہو سکے۔
یہ جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے قرآن پر غور کیجیے تو یہی بات اس سے بھی نکلتی ہے۔ اوپر قرآن سے متعلق جنوں کا جو تاثر نقل ہوا ہے اس کا علم آنحضرت ﷺ کو براہ راست نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ سے ہوا۔ بعینیہ یہی تاثرات جنوں کے، زیادہ تفصیل کے ساتھ، سورة جن میں نقل ہوئے ہیں۔ وہاں بھی اس بات کی تصریح موجود ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ان تاثرات کا علم وحی الٰہی کے ذریعہ سے ہوا۔ چناچہ اس سورة کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے : قل ادحی الی انہ استمع نصرمن الجن فقالوآ انا سمعنا قرآن اعجبیا الجن :1) (لوگوں کو بتا دو کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک پارٹی نے قرآن کو سنا تو انہوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ ہم نے ایک عجیب و غریب کلام سنا ہے) اگر نبی ﷺ ان کے بھی رسول ہوتے تو ان کے ان سارے تاثرات کا علم آپ کو براہ راست ہونا تھا۔ آپ کو ان کے اندر اسی طرح تبلیغ و دعوت کا فرض ادا کرنا چاہئے تھا جس طرح آپ نے اہل عرب کے اندر یہ فرض ادا کیا، لیکن قرآن سے اس طرح کی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ بعض روایات سے یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ جنوں کے ایک آدھ وفود آپ کے پاس آئے اور خود آپ بھی بعض وفود کی دعوت پر ان سے ملنے گئے لیکن اول تو ان رویا ات میں ایسا اضطراب ہے کہ وہ روایت و درایت دونوں کی کسوٹی پر جانچے جانے کی محتاج ہیں، دوسرے ان سے زیادہ سے زیادہ جو بات نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض مرتبہ جنوں کے وفود آپ سے ملے یا ایک آدھ بار آپ ان کی دعوت پر ان کے پاس لئے۔ صرف اتنی سی بات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے کہ آپ نے بحیثیت ان کے رسول کے ان کے اندر اپنا فرض رسالت ادا فرمایا۔
رہی یہ بات کہ ان جنوں نے قرآن کی تعریف کی اور اپنی قوم کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی تو یہ بات بالکل صحیح ہے۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ جہاں تک کلیات دین کا تعلق ہے وہ انسانوں اور جنوں کے درمیان بالکل مشترک ہیں بلکہ ہمارے اور فرشتوں کے درمیان بھی مشترک ہیں بلکہ اس سے ایک قدم بڑھ کر یہ دعویٰ بھی کیا جاسکتا ہے کہ ان میں چرند و پرند، شجر و حجر اور شمس و قمر سب شریک ہیں۔ اس وجہ سے جس طرح حضرت دائود ؑ کے نغمات حمد میں پرندے اور پہاڑ ان کی ہمنوائی کرتے تھے، اسی طرح جنوں کے صالحین کی اس پارٹی نے قرآن سنا تو عش عش کر اٹھی اور اس نے اپنی قوم کو بھی توحید اور آخرت پر ایمان لانے اور خدا کے عذاب سے ڈرتے رہنے کی دعوت دی۔ جنوں کی جو دعوت اوپر مذکور ہوئی ہے اس پر بھی ایک نظر ڈالیے اور سورة جن پر بھی، جس میں ان کی دعوت پوری تفصیل سے فقل ہوئی ہے، ایک نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے انہی باتوں کا ذکر کیا ہے جو ان کے اور انسانوں بلکہ تمام کائنات کے اندر مشترک ہیں۔ اس سے یہ بات تو ضرور ثابت ہوتی ہے کہ قرآن کی بنیادی دعوت انسانوں اور جنوں دونوں کے لئے یکساں ہے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ نبی ﷺ جنوں کے لئے بھی اسی طرح رسول تھے جس طرح انسانوں کے لئے تھے۔ جن لوگوں نے یہ بات کہی ہے ان کی بات اس سنت الٰہی کے خلاف ہے جو قرآن میں رسالت سے متعلق نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے۔
یہاں ایک اور ضمنی بات کی طرف اشارہ کردینا بھی ضروری ہے۔
اوپر کی آیات میں جنات کے اہل ایمان کے لئے چونکہ صرف عذاب الیم سے نجات کا ذکر ہوا ہے، ان کو صریح الفاظ میں دخول جنت کی بشارت نہیں دی گئی ہے اس وجہ سے امام ابوحنیفہ ؒ سے یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ وہ صالحین جن کے لئے دخول جنت کے قائل نہیں تھے یا کم از کم یہ کہ وہ یہ بات صریح الفاظ میں کہنے سے احتیاط کرتے تھے، ہماری سمجھ میں امام صاحب کی یہ احتیاط کسی طرح نہیں آئی۔ جب جنات کے بروں کے لئے دوز، لازمی ہے تو آخر ان کے صلاحین جنت سے کیوں محروم رہیں گے ؟ بعض متاخرین نے امام صاحب ؒ کے اس مسلک کی تائید میں یہ دلیل دی ہے کہ خدا کے اوپر کسی کا حق قائم نہیں ہے اس وجہ سے اگر وہ کسی کے صلاح وتقویٰ کے باوجود اس کو جنت میں نہ داخل کرے تو یہ بات خلاف عدل نہیں ہے ہمارے نزدیک یہ دلیل بالکل لا یعنی ہے۔ خدا کے اوپر کوئی دوسرا تو کوئی حق قائم نہیں کرسکتا لیکن جو حقوق اس نے از خود اپنے عدل اور اپنی رحمت کی بنا پر اپنے اوپر قائم کر رکھے ہیں اور جن کو پورا کرنے کا نہایت قطعی اور حتمی الفاظ میں اس نے اپنے صالح بندوں سے وعدہ کیا ہے آخر ان سے اس کے نیک بندو کو، خواہ وہ انسانوں میں سے ہوں یا جنات میں سے، وہ کیوں محروم رکھے گاڈ ہمارا خیال ہے کہ امام صاحب نے اگر فرمائی ہوگی تو یہ بات فرمائی ہوگی کہ صالحین جن اس جنت میں نہیں جائیں گے جو انسانوں کے لئے ہے۔ اگر انہوں نے یہ بات فرمائی تو اس کا ایک محل ہے۔ اس مسئلہ پر انشاء اللہ سورة جن کی تفسیر میں ہم مفصل بحث کریں گے۔
Ayah 46:33اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت ولارض ولم یعنی بخلقھن بقدر علی ان یعی نے الموتی ط بلی انہ علی کل شیء قدیر (33)
مکذبین کو انذار
یہ سورة کے خاتمہ پر مکذبین کو انذار ہے کہ کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس کام میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی وہ مردوں کو بھی زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرنے پر قادر ہے۔ یہی سوال دوسرے مقامات میں بھی قرآن نے منکرین قیامت کے سامنے رکھا ہے۔ مثلاً فرمایا ہے : افعیینا بالخلق الاول (ق : 15) کیا ہم پہلی بار لوگوں کو پیدا کرنے سے عاجز ہے ؟) بعض جگہ یہ سوال کیا ہے کہ بتائو، آسمان و زمین کو پیدا کردینا زیادہ مشکل ہے یا مردوں کو دوبارہ پیدا کردینا ؟
بلی انہ علی کل شیء قدیر سوال کر کے خود ہی جواب دیا ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے عاجز نہیں رہا وہ نہ صرف مردوں کو زندہ کردینے پر قادر ہے بلکہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم قرآن مجید کے اس اسلوب بیان کی طرف جگہ جگہ اشارہ کرچکے ہیں کہ مخاطب کے لئے جس جواب سے فرار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی بعض اوقات قرآن وہ خود ہی اس کے سامنے رکھ دیتا ہے۔
Ayah 46:34ویو مریعرض الذین کفروا علی النار ط الیس ھذا بالحق ط قالوا بلی و ربنا ط قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون (34)
یہ اسی انذار کی تصویر ہے کہ اس دن کی یاد کو ہمیشہ مستحضر رکھو جس دن کفر کرنے والوں کو دوزخ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ بتائو قیامت ایک واقعہ اور حقیقت ثابت ہوئی ہے یا نہیں ؟ اس وقت وہ اپنے رب کی قسم کھا کر جواب دیں گے، ہاں ! ہمارے رب کی قسم، بلاشبہ یہ ایک امر واقعی ثابت ہوئی ! ان کے اس اعتراف کے بعد حکم ہوگا کہ اب جائو، اپنے کفر کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو ! یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ قیامت کے دلائل آفاق وانفس کے اندر اتنے واضح ہیں کہ کوئی عاقل ان کا انکار نہیں کرسکتا۔ جن لوگوں نے بھی قیامت کا انکار کیا ہے کسی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض اس لئے کیا کہ وہ اپنی نفس کی خواہشوں کو قربان کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے محض اپنی خواہشوں کی پیروی میں اپنی عقل، اپنی فطرت پھر تمام نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کر ڈلای وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
Ayah 46:35فاصبرکما صبراولوا العزم من الرسل ولاتستعجل لھم ط کا نھم یوم یرون مایوعدون لالم یلبثوا لا ساعۃ من نھار ط بلغ فھل یھلک الا القوم القسقون 35
نبی ضلعم کو استقامت کی تلقین
یہ آخر میں نبی ﷺ کو صبر وا ستقامت کی تلقین ہے کہ جس طرح تم سے پہلے ہمارے اولوالعزم رسولوں نے عزم و جزم کے ساتھ تمام مخالفتوں کا مقابلہ کیا اور اپنے موقف حق پر جمے رہے اسی طرح دشمنوں کی تمام سازشوں اور ایذا رسانیوں کے علی الرغم تم بھی اپنے موقف پر ڈٹے رہو
من الرسل میں من میرے نزدیک تبعیض کے لئے نہیں بلکہ بیان کے لئے ہے۔ امتحان اللہ کے تمام رسولوں کو پیش آئے ہیں، ایک سے ایک بڑھ کر اور تمام رسولوں نے بلا استثناء ان امتحانوں میں سو فیصد کامیابی حاصل کی ہے۔
ولاتستعجدلھم یعنی اگر یہ لوگ تمہیں زچ کرنے کے لئے عذاب کی جلدی مچائے ہوئے ہیں تو ان کی جلد بازی سے پریشان ہوکر تم ان کے لئے عذاب کی جلدی نہ کرو۔ آج ان کو جو مہلت طویل معلوم ہو رہی ہے جب عذاب سامنے آئے گا تو یہم حسوس کریں گے کہ بس دن کی ایک گھڑی دنیا میں رہے ہوں گے۔
بلغ ج فھل یھلک الا القوم الفسقون، بلاغ مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔ ساری توجہ خبر پر مروز کردینے کے لئے مبتدا کو حذف کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا کام بس لوگوں تک اپنے انذار کو اچھی طرح پہنچا دینا ہے تاکہ کسی کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ اس کے بعد اگر یہ لوگ تباہ ہوئے تو اس کی ذمہ داری خود ان پر ہوگی۔ اگر یہ نادان لوگ عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں تو مچائیں، جب وہ آئے گا تو اس کی برق خرمن سوز کن پر گرے گی ! انہی نافرمانوں پر تو گرے گی ! چ
رب کریم و کار ساز کی عنایت سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی احسانہ
رحمن آباد 4 اگست 1976 ء 7 شعبان 1396 ھ