Ayahs 45:1–2-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
حم، تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم 2-1
اس سورة کا بھی قرآنی نام حم ہی ہے۔ اس نام سے موسوم سورتوں کے مطالب کے اشتراک اور ان کے مزاج کی ہم رنگی پر پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔
سورة کی تمہید
تنزیل الکتب …الایۃ، سابق سورة کی طرح اس سورة کی تمہید میں بھی قرآن کی عظمت و اہمیت کا حوالہ ہے البتہ اس میں اہمیت کے بیان کا پہلو سابق سورة سے مختلف ہے۔ لفظ تنزیل، پر ہم اس کے محل میں بحث کر کے بتا چکے ہیں کہ اس کے اندر تدریج و اہتمام کا مفہوم پایا جاتا ہے اور قرآن کے اتارے جانے کے معاملے میں اللہ نے جو اہتمام خاص ملحوظ رکھا ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس اہتمام خاص کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنی دو صفتوں، عزیز اور حکیم …کا حوالہ دیا ہے۔ عزیز کے معنی غالب و مقتدر کے ہیں اور حکیم اس کو کہتے ہیں جس کے ہر قول و فعل میں حکمت ہو۔ ان دونوں صفوں کے اجتماع سے یہاں دو باتیں واضح ہوئیں۔
صفات عزیز و حکیم کے متقیات
ایک یہ کہ جس خدا نے یہ کلام اس اہتمام کے ساتھ اتارا ہے وہ کوئی ضعیف و ناتواں اور عاجز و بےبس ہستی نہیں ہے بلکہ تمام کائنات کا اختیار و اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ تمام کائنات کے مالک حقیقی کا فرمان واجب الادغان ہے اگر اس کا کماحقہ، احترام نہ کیا گیا تو لوگ یاد رکھیں کہ جب وہ لوگوں کو پکڑے گا تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہ بن سکے گا۔
دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ عزیز اور غالب و مقتدر ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم بھی ہے۔ اس وجہ سے اس کا ہر قول و فعل حکمت پر مبنی ہے۔ اس کی حکمت کی شان اس کے اس حکیمانہ کلام سے واضح ہے بشرطیکہ لوگ اس پر غور کریں۔ اس کی حکمت ہی کی ایک شان یہ بھی ہے کہ اگرچہ ناقدرے اور ناشکرے اس کے کلام اور اس کے رسول کی توہین کر رہے ہیں لیکن وہ غالب و مقتدر ہون یکے باوجود ان کے پکڑنے میں جلدی نہیں کر رہا ہے بلکہ ان کو مہلت پر مہلت دیئے جا رہا تاکہ جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے وہ اپنی اصلاح کر کے اپنے آپ کو اللہ کی رحمت کا مستحق بنا لیں اور جو اپنی صلاحیتیں برباد کرچکے ہیں ان پر اللہ کی حجت پوری ہوجائے۔ حساب کے دن وہ کوئی عذر نہ کرسکیں۔
Ayah 45:3ان فی السموت والارض لایت للمومنین (3)
قرآن کی دعوت
یہ قرآن کی دعوت توحید اور اس کے انداز قیامت کے حق میں آفاق کے دلائل کی طرف اشارہ ہے تاکہ اس کا حکیمانہ کلام ہونا واضح ہو۔ فرمایا کہ قرآن لوگوں کو جس چیز کی طرف بلا رہا ہے اور جس چیز سے کرا رہا ہے اس کی نشانیاں آسمانوں اور زمین کے چپہ چپہ میں موجود ہیں لیکن یہ نشانیاں کارآمد ان لوگوں کے لئے جو ایمان لانے والے ہوں۔ جو لوگ ایمان لانے والے نہ ہوں وہ سب کچھ دیکھ کر بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں اور روز نئی نئی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ان کی طلب کے مطابق کوئی نئی نشانی دکھا بھی دی جائے تو اس سے بھی وہ قائل نہیں ہوتے بلکہ کسی دوسری نشانی کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں۔ اصل چیز انسان کا ارادہ ہے۔ اگر اس کے اندر حقیقت کی جستجو اور منزل کی طلب ہو تو خالق کائنات نے منزل مقصود کی نشان دہی ہیں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ آسمانوں میں بھی جگہ جگہ سگنل اشارے دے رہے ہیں اور زمین بھی قدم قدم پر رستہ دکھا رہی ہے لیکن جو لوگ اپنی خواہشوں کی پیچھے بھٹکنا چاہتے ہیں ان کو نہ آسمان کے سگنل نظر آتے اور نہ زمین کے نشانات، وہ ہمیشہ آوارہ گردی کرتے رہتے ہیں اور اسی آوارہ گردی میں ان کی زندگیاں گزر جاتی ہیں۔
Ayah 45:4مرنی خلقکم ومایبث ومن دآبۃ ایت تقوم یوقنون (4)
انسان کی خلقت کے اندر جو نشایاں ہیں ان کی طرف اشارہ
آسمانوں اور زمین کی نشانیوں کی طرف ایک جامع اشارہ کرنے کے بعد خود انسان کی خلقت اور اس کی پرورش کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں جو اہتمام فرمایا ہے اس کی طرف توجہ دلائی کہ انسان اگر اپنی ہی خلقت کے تمام اطوار و مراحل پر غور کرے تو اس پر خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کے وہ حقائق واضح ہوں گے کہ اس کے لئے نہ خالق کی توحید میں کسی شبہ کی گنجائش باقی رہے گی نہ امکان معاد میں اور نہ جزاء و سزا کے لازمی ہونے میں جس خالق نے انسان کو مٹی سے اور پھر پانی کی ایک بوند سے ایسی اعلیٰ صورت بخش دی اس کے لئے اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیوں مشکل ہوجائے گا ؟ جس پروردگار نے انسان کی پیدئاش کے بالکل ابتدائی مرحلہ سے لے کر اس کے آخری مرحلہ تک پرورش کا یہ انتظام فرمایا آخر وہ اس کو بالکل غیر مسئول کس طرح چھوڑ دے گا۔ جو انسان اتنی اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آیا ہے آخر اس کی صلاحیتوں کے اب میں اس سے پرسش کیوں نہیں ہوگی ؟ پھر یہ کہ جس انسان کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے تمام اضداد اور تمام اجزائے مختلفہ کو سازگار بنایا آخر اس کی کیا شامت آئی ہوئی ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی دوسری چیز کو شریک کرے ؟
سامان پرورش کی نشانیوں کی طرف اشارہ
وما یبث من دآبۃ میں اشارہ اس سامان ربوبیت کی طرف ہے جو اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کی شکل میں انسان کے لئے مہیا فرمایا ہے۔ اگر انسان غور کرے تو اس امر میں ذرا شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان چوپایوں سے جو گوناگوں فوائد حاصل کر رہا ہے یہ اس کو محض اتفاقی واقعہ کے طور پر نہیں حاصل ہو رہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہی فوائد کے لئے ان چیزوں کو وجود بخشا او ہر اعتبار سے ان کو ان کے فوائد کے لئے موزوں بنایا ہے۔ انسان کو سواری اور باربرداری کا محتاج بنایا تو سواری اور باربرداری کے لئے نہایت موزوں جانور پیدا کئے، اس کو دودھ اور گوشت اور کھال اور اون کا ضرورتمند بنایا تو ان تمام ضروریات کے لئے الگ الگ نہایت مناسب چوپائے عطا کئے۔ یہ چیز اس بات کی صاف دلیل ہے کہ اس کائنات کا خالق نہایت مہربان ہے اور اس کی شکر گزاری واجب ہے۔ پھر اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ جب اس نے انسان کو اس اہتمام کے ساتھ اپنی نعمتوں سے نوازا ہے تو لازم ہے کہ ایک ایسا دن بھی آئے جس دن وہ ان نعمتوں کے متعلق لوگوں سے سوال کرے، جنہوں نے ان کا حق پہچانا ہو ان کو انعام دے اور جو ان کو پا کر خدا کو بھول بیٹھے ہوں ان کو اس کفران نعمت کی سزا دے۔
ایمان لانے کے لئے اصلی چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر ایمان کا ارادہ پایا جاتا ہو
لقوم یوقنون، میں فعل یوقنون ارادہ فعل کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی مذکورہ چیزوں کے اندر توحید و معاد اور جزاء و سزا کی دللیں تو بیشمار ہیں لیکن مجرد دلیلوں کا وجود اس کے لئے نافع نہیں ہے جس کے اندر دلیلوں کو قبول کرنے کا ارادہ نہ پایا جاتا ہو جو شخص کسی بات کا یقین نہیں کرنا چاہتا وہ بدیہی سے بدیہی حقیقت کے خلاف بھی کچھ نہ کچھ شکوک ایجاد کر ہی لیتا ہے۔
Ayah 45:5واختلافا لیل و الھار و ما انزل اللہ من السمآء من رزق فاحیابہ الارض بعد موتھا وتصریف الریح ایت تقوم یعقلون (5)
اختلاف کے معنی یہاں یکے بعد دیگرے رات اور دن کی آمد و شد کے ہیں۔ ساتھ ہی یہ لفظ اس اختلاف مزاج کی طرف بھی ایک لطیف اشارہ کر رہا ہے جو رات اور دن کے اندر پایا جاتا ہے اور جو اس کائنات کی نشو و نما اور اس کی بہبود و بقا کے لئے ضروری ہے۔ من رزق سے مراد یہاں پانی ہے جو ذریعہ رزق بنتا ہے۔ گویا مسبب سبب کے لئے استعمال ہوا ہے۔ الفاظ کا یہ طریقہ استعمال عربی بلکہ کم و بیش ہر زبان میں معروف ہے۔
رات اور ان کی آمد و شد کے اشارات
اختلاف لیل و نہار کی دلیل قرآن میں جگہ جگہ مذکور ہوئی ہے کہ باوجودیکہ ان دونوں کے اندر نسبت ضدین کی ہے، ایک خشک ہے دوسرا گرم، ایک پرسکون ہے دوسرا پر شور، ایک تاریک ہے دوسرا روشن، تاہم ان کے اندر انسان کی پرورش کے لئے زوجین کی سی سازگاری اور موافقت پائی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ دونوں ایک ہی خدا کے بنائے ہوئے اور اسی کے حکم سے برابر، پوری پابندی وقت کے ساتھ، اپنے مفوضہ فرائض کی بجا آوری میں سرگرم ہیں۔ اگر یہ الگ الگ خدائوں کی ایجاد ہوتے تو ان کے اندر جو سازگاری پائی جاتی ہے اس کا وجود میں آنا ناممکن تھا اور اگر یہ سازگاری وجود میں نہ آتی تو اس کرہ زمین کے باشندوں کے لئے زندگی ناممکن ہوجاتی۔
بارش کی نشانیاں
یہی حال بارش کا ہے کہ وہ ہوتی تو آسمان سے ہے لیکن زندگی زمین اور اہل زمین کو بخشتی ہے۔ یہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ آسمانوں اور زمین کے اندر ایک ہی ارادہ کار فرما ہے۔ اگر آسمان کے دیوتا الگ اور زمین کے دیوتا الگ ہوتے تو آسمان کو کیا پڑی تھی کہ وہ زمین والوں کے لئے غذا کا ذخیرہ اتارتے ! پھر یہ بات بھی ہر موسم میں، ہر خاص و عام کے مشاہدہ میں آتی ہے کہ زمین بالکل خشک اور بےآب وگیاہ ہوتی ہے، اس کے کسی گوشے میں بھی زندگی کی کوئی نشانی دکھائی نہیں دیتی کہ بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی دیکھتے دیکھتے زمین کا ہر گوشہ لہلہا اٹھتا ہے۔ تو جس خدا کی یہ شانیں ہر موسم میں ہم دیکھتے ہیں اگر وہ اس دنیا کے مرکھپ جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ کرنا چاہے تو کیا یہ کام اس کے لئے مشکل ہوجائے گا ؟
ہوائوں کی گردش کی نشانیاں
وتصریف الریح، یعنی ہوائوں کی گردش میں بھی خدا کی قدرت، رحمت، ربوبیت اور اس کی نقمت کی نشانیاں موجود ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی مصرف کے ہاتھ میں ان کی باگ ہے اور وہی اپنی حکمتوں کے تحت ان کو اسعتمال کرتا ہے۔ اگر وہ ان کو روک دے تو چشم زدن میں ساری دنیا تباہ ہوجائے۔ وہ چاہے تو ایک قوم کے لئے اس کو رحمت بنا دے اور دوسری قوم کے لئے نقمت، اسی ہوا کی گردش سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کو نجات بخشی اور اسی کی گردش سے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کیا۔ آئے دن یہ بات مشاہدہ میں آتی رہتی ہے کہ کسان اپنی فصل کے مستقبل سے نہایت مطمئن ہوتے ہیں لیکن دفعتہ کوئی ایسی ہوا چل جاتی ہے کہ مستقبل تاریک ہوجاتا ہے۔ ملاح اپنی کشتیوں کے بادبان کھولے ہوئے اور کسان اپنی گندم صاف کرنے کے آلات لئے ہوئے سازگار ہوا کے انتظار میں چشم براہ ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں کہ سازگار ہوا چلا دے۔ اس زمانے میں سائنس کی بدولت اگرچہ انسان کے اندر یہ زعم پیدا ہوگیا ہے کہ اس نے ابرو ہوا کو بہت بڑی حد تک اپنے قابو میں کرلیا ہے لیکن قدرت ذرا سا جھنجھوڑ دیتی ہے تو اس ادعا کا سارا بھرم کھل جاتا ہے۔ یہ باتیں اس بات کی صاف شہادت ہیں کہ ایک ہی ذات ہے جو اس کائنات کے تمام عناصر پر حکمران ہے۔ اس کے اذن کے بغیر ایک پتہ بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا۔
ایت تقوم یعقلون یعنی نشانیاں تو قدم قدم پر توحید اور معاد کی موجود ہیں لیکن یہ نشانیاں نظر ان لوگوں کو آتی ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔ جو لوگ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے یا کام لیتے ہیں تو بس اسی حد تک جس حد تک وہ ان کی مادی ضروریات کی تکمیل میں ان کا ہاتھ بٹا سکے، وہ لوگ ان انشانیوں کے اصی جمال کے مشاہدہ سے محروم ہی رہتے ہیں۔
یہاں قرآن نے ان نشانیوں کی طرف اجمالی اشارات کئے ہیں اس وجہ سے ہم بھی اجمالی اشارات ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔ پچھلی سورتوں میں یہ باتیں تفصیل سے گزر چکی ہیں اور ہم بھی ان کی وضاحت پوری تفصیل سے کرچکے ہیں۔
نشانیاں ان کے لئے کار آمد ہیں جو ان سے فائدہ اٹھائیں
اوپر کی تینوں آیات سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اہل ایمان کے لئے تو اس کائنات کا گوشہ گوشہ توحید معاد کی نشانیوں سے معمور ہے نہ رہے دوسرے تو ان سے بھی یہ نشانیاں مخفی نہیں ہیں بشرطیکہ ان کے اندر ماننے اور یقین کرنے کا حوصلہ اور اپنی عقل سے صحیح کام لینے کا دم داعیہ ہو۔ جو لوگ ایک حقیقت کو، خواہ وہ کتنی ہی واضح ہو، ماننا ہی نہیں چاہتے یا اپنی عقل سے وہ اصل کام لیتے ہی نہیں جس کے لئے وہ فی الحقیقت خلق ہوئی ہے، ایسے لوگوں کے اندھے پن کا کوئی علاج نہیں ہے۔
Ayah 45:6تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق، فبای حدیث، بعد اللہ مایتہ یومنون (6)
آنحضرت صلعم کے لئے تسلی اور مخالفین کو ملامت
یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی اور آپ کے مخلافین کو ملامت ہے۔ تلک کا اشارہ آفاق وانفس کی انہی نشانیوں کی طرف ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئیں۔ فرمایا کہ اللہ کی توحید، اس کی قدرت و حکمت اور اس کے روز جزاء و سزا کی یہ نشانیاں ہیں جو اس قرآن کے ذریعہ سے ہم تم کو ان کے صحیح نتائج ولوازم کے ساتھ، پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ یہ نشانیاں اس قدر واضح ہیں کہ کوئی ذی ہوش ان کا انکار نہیں کرسکتا۔ انہی کے واقعی نتائج و لوازم کو قرآن تسلیم کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اگر تمہارے یہ مخالفین ان نشانیوں کے بدیہی نتائج کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں تو اب ان سے زیادہ عقل اور دل کو مطمئن کرنے والی اور کون سی چیز ہو سکتی ہے جس پر ایمان لائیں گے !
بالحق کا مفہوم
نتلوھا علیک بالحق میں بالحق سے مراد وہ قطعی اور حقیقی نتائج ہیں جو ان نشانیوں پر غور کرنے سے سامنے آتے ہیں۔ یہ قید اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جہاں تک ان نشانیوں پر غور کرنے کا تعلق ہے ان پر غور تو دوسرے بھی کرتے ہیں لیکن وہ اپنے مخصوص اور نہایت محدود زاویہ سے غور کرتے ہیں اس وجہ سے یا تو ان حقائق تک پہنچ نہیں پاتے جو ان کے اندر مضمر ہیں یا پہنچتے تو ہیں لیکن چونکہ وہ ان کے نفس کی خواہشوں کے خلاف ہیں اس وجہ سے ان کے اعتراف سے گریز کرتے ہیں۔ مثلاً آسمان و زمین کی نشانیوں پر فلکیات و ارضیات کے ماہرین بھی غور کرتے ہیں۔ انسان کی خلقت پرانا ٹومی (Anatomy) والے بھی تحقیق کرتے ہیں، حیوانات کے مختلف پہلوئوں پر علم الحیوانات والے بھی سر کھپاتے ہیں، رات اور دن کی گردش، بارشوں کے اوقات و اثرات اور ہوائوں کے تغیر و تبدل پر موسمیات والے بھی بہت کچھ ہوا باندھتے ہیں لیکن ان سب کا حال ان کی تنگ نظری کے سبب سے یہ ہے کہ یہ اپنی دور بینیوں اور خورد بینیوں سے تل کو تو دیکھ لیتے ہیں لیکن تل کے اوٹ کا پہاڑ ان کو نظر نہیں آتا۔ موسمیات والے یہ پیشنگوئی تو کردیں گے کہ آگے چوبیس گھنٹے موسم گرم و خشک رہے گا اور اس کی کوئی الٹی سیدھی توجیہ بھی کردیں گے۔ اکثر حالات میں ان کی پیشین گوئی صحیح بھی ثابت ہوتی ہے اور بعض حالات میں ان کی پیش کردہ توجیہ سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کی نگاہ صرف ہوائوں کے تصرف کی نوعیت اور اس کے اثرات کا اندازہ کرنے تک محدود رہ جاتی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر وہ اس سوال پر غور کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے کہ ان تصرفات کے پس پردہ حقیقی مصرف کون ہے اور اس کے حقوق و فرائض کیا ہیں ! حالانکہ کائنات کے اندر یہ تمام تصرفات و تغیرات ہوتے ہیں یہ اسی لئے ہوتے ہیں کہ انسان اس اصل سوال تک پہنچے، اس کا حل دریافت کرے اور اگر خدا کا کوئی بندہ اس کو اس سوال کو کوئی دلنشیں حل بتائے تو اس کو قبول اور اس پر عمل کرے۔ قرآن نے ان نشانیوں کے انہی پہلوئوں کو خاص طور پر بےنقاب کیا ہے جو اصل حقیقت پر روشنی ڈالنے والے ہیں اس وجہ سے اس کو نتلوھا علیک بالحق سے تعبیر فرمایا ہے۔
دو اہم حقیقتیں
اس سے ایک بڑی اہم حقیقت یہ واضح ہوئی کہ قرآن کی دعوت جبر یا تحکم پر مبنی نہیں ہے بلکہ تمام تر آفاق وانفس کے واضح دلائل اور عقل و فطرت کے بینات پر مبنی ہے۔ جو لوگ ان کو نہیں مانتے ان کے نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ مخفی ہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے نفس کی خواہشوں کے خلاف پاتے ہیں اس وجہ سے ان سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں ظاہر ہے کہ وہ کوئی بھی ایسی بات ماننے کو تیار نہیں ہو سکتے جو ان کی خواہش کے خلاف ہے اگرچہ وہ سورج سے بھی زیادہ روشن ہو کر ان کے سامنے آئے۔
دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ اس کائنات میں س سے زیادہ بدیہی بلکہ ابدہ البدیہات اللہ اور اس کی نشانیاں ہیں۔ جو لوگ ان کے منکر ہیں وہ کسی بھی حقیقت کو ماننے کے اہل نہیں ہیں۔ وہ محض اپنی خواہشوں کے غلام، اپنے پیٹ اور تن کے پجاری ہیں۔ اس طرح کے لوگ اگر کچھ نئی نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کریں تو ان کے مطالبات لائق توجہ نہیں ہیں۔ اس طرح کے اندھوں کی آنکھیں کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی نہیں گھول سکتا۔
Ayahs 45:7–8ویل لکل افاک اثیم، یسمع ایات اللہ تتلی علیہ ثم یصر متکبراً کان لم یسمعھا، ج فبشوہ بعذاب الیم (8-7)
یہ اسی ملامت کے مضمون کی مزید توسیع ہے کہ جن لوگوں نے اس طرح تمام حقائق تلپٹ کردیے ہیں تاکہ اپنی گہنگار انہ زندگی کے لئے سند جواز فراہم کریں ان کے لئے ہلاکی ہے۔
افاک اور اثیم ،
افاک کے معنی ہیں حقائق کی قلب ماہیت کر دنیے والا، یعنی خدا کی نشانیاں اور اس کی آیات تو کسی اور حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہوں لیکن وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بندگی میں اس حقیقت کی بالکل قلب ہیت کر دے۔ اس کے مصداق اول تو قریش کے مشرکین تھے جنہوں نے محض اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی میں دین ابراہیم کو مسخ کیا لیکن اس کے عام مصداق میں ہر دور کے وہ محرفین دین شامل ہیں جو اللہ کی آیات اور اس کے احکام میں اپنی خواہشات کے تحت تحریف کے مرتکب ہوئے یا ہو رہے ہیں۔
اثیم کے معنی گنہگار، خاص طور پر حقوق و فرئاض کے تلف کرنے والے کے ہیں۔ افاک کے ساتھ اس صفت کا جوڑ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ حقائق کے قلب ہیت کی اس سازش کے مرتکب و ہی نابکار ہوتے ہیں جو خدا کے حقوق و فرائض کے ادا کرنے سے گریز اور اپنی معصیت کی زندگی پر اصرار کرنا چاہتے ہیں۔ فرمایا کہ ان بدبختوں کے لئے ہلاکی اور تباہی ہے اس لئے کہ اللہ کی آیات ان کو سنائی جا رہی ہیں لیکن یہ نہایت تکبر کے ساتھ ان کو سن کر اس طرح چل دیتے ہیں گویا کوئی بات انہوں نے سنی ہی نہیں۔ یہ اشارہ قریش کے لیڈروں کے اس رویے کی طرف ہے جو وہ نبی ﷺ کی دعوت کے جواب میں اختیار کرتے۔ اول تو یہ لوگ مجلس نبوی میں جانے ہی کو عار خیال کرتے لیکن کبھی پہنچ بھی جاتے یا آنحضرت ﷺ خود ان کے پاس جا کر ان کو قرآن سناتے تو اس طرح کان جھاڑ کر اٹھ جاتے گویا کوئی بات انہوں نے سنی ہی نہیں۔
تتلی علیہ کے الفاظ سے ان کے جرم کی سنگینی کا اظہار ہو رہا ہے کہ اگر دعوت حق کسی کو پہنچی نہ ہو اور وہ اس سے غافل رہ جائے تو اس کے لئے کچھ عذر ہوسکتا ہے لیکن وہ بدبخت خدا کو کیا جواب دے گا جس کے کانوں میں رسول نے خود جا کر اذان دی لیکن وہ بیدار نہ ہوا !
اصرار علی الشرک کا اصل سبب استکبار ہے۔
یصر مستکبراً ، میں اصرار علی الشرک کے اصل سبب پر روشنی پڑتی ہے کہ ان کے اصرار کی اصل علت یہ نہیں ہے کہ ان پر حقیقت واضح نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ اس بات میں اپنی سبکی سمجھتے ہیں کہ قوم کے سردار اور اعیان و اشراف ہو کر ایک ایسے شخص کی بالاتری اپنے اوپر تسلیم کرلیں جو دنیوی وجاہت میں ان کا ہم سر نہیں ہے۔
فبشرہ بعذ اب الیم یہ اس ویل کی وضاحت ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا کہ اس طرح کے تمام متکبرین کو ایک درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ یہ لوگ اگر اپنے غرور کے باعث نجات کی بشارت سے اپنے کان بند کئے ہوئے ہیں تو بندرکھیں، عذاب کی خوش خبری بہرحال ان کو ہپنچا دو جو اس طرح کے لوگوں کے لئے لازمی ہے۔
Ayah 45:9واذا علم من ایتنا شیاء اتخذھا ھزوا ط اولئک لھم عذاب مھین (9)
حق کی مخالفت کا عامیانہ حربہ
اوپر کی آیت میں متکبرین کا وہ رویہ بیان ہوا ہے جو وہ اس وقت اختیار کرتے۔ جب ہی ﷺ بذات خود ان کو قرآن سنانے کی کوشش فرماتے۔ اب ان کا وہ رویہ بیان ہو رہا ہے جو اس وقت وہ اختیار کرتے جب قرآن کی کوئی بات ان کو کسی اور واسطہ سے پہنچتی۔ فرمایا کہ ان کو ہماری آیات میں سے کسی چیز کا علم ہوتا ہے تو اس کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دوسرے ان سے متاثر نہ ہونے پائیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قرآن کے زمانہ نزول میں قریش کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو غیر جاندبارانہ ذہن کے ساتھ قرآن کو آیتیں سنتے اور ان سے وہ متاثر بھی ہتے۔ اس طرح کے لوگ ان آیتوں کو اپنے سرداروں کے علم میں بھی لانے کی کوشش کرتے تاکہ ان کے باب میں ان کی رائے معلوم کریں۔ ان کے سردار فوراً تاڑ جاتے کہ لوگ ان آیات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اثر سے لوگوں کو بچانے کے لئے وہ یہ تو کر نہیں سکتے تھے کہ دلیل سے قائل کردیں کہ قرآن کی بات میں فلاں چیز عقل یا فطرت یا حقیقت کے خلاف ہے۔ واحد تدبیر جو وہ کرسکتے تھے وہ یہی تھی کہ قرآن کی بات کا مذاق اڑائیں تاکہ اس طرح بات ہوا میں اڑ جائے اور کسی پر اس کا کوئی اثر نہ ہونے پائے۔ اس قسم کی عامیانہ حرکتا گرچہ کچھ زیادہ کارگر نہیں ہوتی تاہم وقتی طور پر کمزور رائے کے لوگ غلط فہمیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ حربہ ہر دور کے شیاطین نے حق کے خلاف استعمال کیا ہے۔
سب سے زیادہ سخت عذاب وہ ہے جس کے ساتھ رسوائی ہو
اولئک لھم عذاب مھین ان لوگوں کے اس رویہ کا اصل محرک، جیسا کہ اوپر والی آیت میں مذکور ہوا، استکبار تھا اس وجہ سے فرمایا کہ ان کے لیل ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ انہوں نے حق کے مقابل میں گھمنڈ کیا اس وجہ سے ان کے لئے آخرت میں رسوائی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اگرچہ اللہ کا ہر عذاب پناہ مانگنے کی چیز ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ سخت عذاب وہ ہے جس کے ساتھ رسوائی بھی ہو۔ یہ عذاب متکبرین کے لئے خاص ہے۔
Ayah 45:10من ورآئھم جھنم ولایغنی عنھم ماکسبوا شیئاً ولاما اتغذوا من دون اللہ اولیآء ج ولھم عذاب عظیم (10)
من ورآء کا مفہوم ہمارے اردو کے ورے اور پرے کی طرح موقع و محل سے معین ہوتا ہے۔ اس کا مطلب آگے بھی ہوسکتا ہے اور پیچھے بھی فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے آگے جہنم ہے جس میں یہ پڑیں گے اور اس میں پڑنے کے بعد نہ ان کا وہ حرام اندوختہ ان کے کچھ کام آئے گا جو ان کے استکبار اور حق سے اعراض کا سبب بنا اور نہ ان کے وہ مزعومہ شرکاء و شفعاء ہی کچھ کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا اپنا کار ساز بنایا۔
ولھم عذاب عظیم اور عذاب بھی کوئی ایسا ویسا نہیں ہوگا جو کسی طرح جھیلا جاسکے بلکہ بہت بڑا عذاب ہوگا۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ آج نہیں ہوسکتا۔
Ayah 45:11ھذا ھدی والدین کفروا بایت ربھم لھم عذاب من رجز الیم (11)
یعنی یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ ہدایت ہے۔ یہ ہنسی مسخری کی چیز نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ کی ان آیات کا انکار کریں گے یا مذاق اڑائیں گے وہ یاد رکھیں کہ ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہوگا۔ من رجز کے الفاظ اس عذاب کی نوعیت واضح کر رہے ہیں۔ رجز اس سزا یا عذاب کو کہتے ہیں جو کپکپی پیدا کر دے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی معمولی عذاب نہیں ہوگا بلکہ نہایت درد ناک ہوگا۔ جو دلوں کو لرزا دے گا۔
Ayahs 45:12–13اللہ الذی سخر لکم البحر لتجری انفلک فیہ بامرہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون، وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعاً منہ ط ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (13-12)
دلائل کا سلسلہ بیان
اوپر کی چار آیتیں توحید اور معاد کے دلائل کے بیچ میں بطور تنبیہ و تذکیر آگئی تھیں تاکہ قریش کے لیڈروں کو برسر موقع تنبیہ ہوجائے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دے دی جائے، اب اس آیت میں اصل سسلہ کلام کو پھر لے لیا۔ فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو اس طرح تمہاری خدمت میں لگا رکا ہے کہ وہ اپنے سینہ پر تمہاری کشتویں کو چلاتا ہے۔ بامرہ یعنی یہ بات خاص خدا کے حکم سے ہوتی ہے۔ اگر خدا کا حکم نہ ہوتا تو دیکھتے ہو کہ کشتی سے کہیں زیادہ چھوٹی چیزیں سمندر کے اندر ڈالتے ہی ڈوب جاتی ہیں لیکن ہزاروں ٹن کا جہاز اس پر تیرتا ہے۔ یہ اللہ ہی کا بنایا ہوا قانون ہے کہ لوہے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تو ڈوب جائے لیکن جہاز اپنے اوپر ہزاروں ٹن لوہا لادے ہوئے نہ ڈوبے وتسبعوا سے پہلے قرینہ دلیل ہے کہ لترکبوا، یالتسافروا، یا ان کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ حرف عطف اس حذف کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے یہ اہتمام اس لئے فرمایا ہے کہ تم ایک مقام سے دوسرے مقام کا سفر کرو اور تجارت کی راہ سے اس کے فضل کے طلب بن سکو۔
مشاہدات ربوبیت کی اصل تعلیم
ولعکم تشکرون یہ وہ اصل سبق ہے جو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ان مشاہدات سے ہر اس شخص کو ملتا ہے جس کے ضمیر اور جس کی عقل کے اندر زندگی کی کوئی رمق باقی ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے اپنی پروردگاری کی یہ شانیں اس لئے تم کو دکھائی ہیں کہ تم اس کے شکر گزار بندے بنو۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ شکر گزاری کا یہ جذبہ ہی خدا کی بندگی کی اصل ہے۔ سورة فاتحہ کی تفسیر میں اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔
وسخرلکم مافی السموت والارض جمیعاً منہ، اور خاص طور پر سمندر کی تسخیر کا ذکر فرمایا تھا جو انسان کے مشاہدہ میں آنے والی چیزوں میں سب سے زیادہ زور دار اور بظاہر بالکل ناقابل تسخیر بھی ہے اور کم و بیش ہر شخص کو اس کے سفر کا تجربہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ اب یہ خاص کے بعد اس کائنات کی عام چیزوں کا حوالہ دیا کہ اسی خدا نے آسمانوں اور زمین کی دوسری چیزوں کو بھی تمہاری منعفت رسانی میں لگا رکھا ہے۔ جمیعاً منہ یعنی یہ ساری چیزیں اسی کے حکم سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تمہاری خدمت انجام دے رہی ہیں۔ جمیعاً کا تعلق ماسبق سے نہیں بلکہ منہ سے ہے۔ ان میں سے کسی چیز کو بھی نہ تم نے مسخر کیا ہے، نہ کسی اور نے مسخر کیا ہے اور نہ یہ چیزیں بطور خود تمہاری چاکری کر رہی ہیں بلکہ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے تمہارے رب کی تدبیر سے ہو رہا ہے اس لئے کہ تنہا وہی ہے جو ان تمام چیزوں کا خالق اور ان پر مصرف ہے۔
ان فی ذلک لایت تقوم یتفکرون یعنی غور کرنے والوں کے لئے آفاق کی نشانیوں میں توحید اور معاد کی گوناگوں دلیلیں موجود ہیں۔
آفاق کی نشانیوں میں توحید اور معاد کی دلیلیں
ان کا مسخر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی یہ درجہ نہیں رکھتی کہ اس کو معبود مان کر اس کی پرستش کی جائے بلکہ ہر چیز اپنے وجود سے اس بات کی شاہد ہے کہ اس کی نکیل ایک بالاتر قوت کے ہاتھ میں ہے جو اس کو اپنی مشیت اور حکمت کے تحت استعمال کر رہی ہے۔
ان کے اندر تضاد تخالف کے باوجود اس طرح کی موافقت اور سازگاری بھی ہے جو ایک مشین کے پرزوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ یہ تو افق اس بات کی دلیل ہے کہ ایک ہی ارادہ ہے جو اس کائنات کے پورے نظام پر حاوی ہے۔
اس نظام میں ربوبیت، رحمت اور حکمت کی ایسی شہادتیں موجود ہیں جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ کوئی ادنھی بہری قوت اس کو نہیں چلا رہی ہے۔ اس کا علم، اس کی رحمت اور اس کی حکمت مقتضی ہے کہ وہ ایک ایسا روز جزاء و سزا بھی لائے جس میں وہ ان لوگوں کو انعام دے جنہوں نے اس کی نعمتوں کا حق پہچانا اور ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے اس کی نعمتوں کی ناقدری کی اور کفر و شرک میں مبتلا ہوئے اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ یا تو نعوذ باللہ، بالکل بےاختیار ہے یا بالکل بےحس اور کھلنڈرا یہ باتیں اس کی اعلیٰ صفات کے منافی ہیں۔
دلائل کی کمی نہیں ہے ضرورت تفکر کی ہے۔
آخر میں لفظ تفکرون اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے ان کی کمی نہیں ہے۔ کائنات کا چپہ چپہ ان سے معمور ہے اور قرآن نے بھیان کی پوری تفصیل کردی ہے۔ کمی جس چیز کی ہے وہ تفکر کی ہے۔ لوگ اللہ کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے اور یہ غور کرنا انسان کا اپانا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر کسی کو مجبور نہیں کرتا۔
Ayah 45:14قل للذین امنوا یغفروالذین لایرجون ایام اللہ لیجزی قوماً بما کانوا یکسبون 14
یغفروا، یہاں درگزر اور نظر انداز کرنے کے معنی میں ہے۔
ایام اللہ، سے مراد اللہ تعالیٰ کے عدل و انتقام کے وہ تاریخی دن ہیں جس میں اس نے رسولوں کے مکذبین کو صفحہ ارض سے نیست و نابود کیا ہے۔ قرآن میں قوموں کی جو تاریخ بیان ہوئی ہے اس میں ان ایام کا ذکر گزر چکا ہے اور آگے بھی ان کی تفصیل آئے گی۔ لیجزی قوماً میں قوم سے مراد یہی مخالفین ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ اس لفظ کی تنکیر اظہار نفرت و بیزاری کے لئے ہے جس طرح ام علی قلوب اقفالھا میں لفظ قلوب کی تنکیر ہے جن لوگوں نے اس سے مسلمانوں کو مراد لیا ہے انہوں نے سیاق وسباق کی دلالت اور اسلوب کی بلاغت پر غور نہ کیا۔
جس طرح اوپر آیت 6 میں مخالفین کی ضد اور ہٹ دھرمی پر نبی صلی اللہ لعیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے اسی طرح اس آیت میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ مخالفین کی اوچھی حرکتوں سے وہ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ ان کو بھی نظر انداز کریں۔ ان لوگوں کو چونکہ یہ اندیشہ نہیں ہے کہ جس روز بد سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ فی الواقع ظہور میں بھی آنے والا ہے اس وجہ سے یہ دلیر ہوتے جا رہے ہیں لیکن اللہ اس قابل نفرت قوم کو اس لئے ڈھیل جے رہا ہے کہ یہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں تاکہ یہ اپنے کئے کی بھرپور سزا پائیں۔ سنت الٰہی یہی ہے کہ وہ شریروں کو پوری مہلت دیتا ہے تاکہ ان پر اللہ کی حجت پوری ہوجائے اور جب وہ پکڑے جائیں تو ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔
Ayah 45:15من عمل صالحاً فلنفسہ ج ومن اسآء فعلیھاز ثم الی ربکم ترجعون 15
یہ اسی تسلی کے مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ اگر یہ لوگ نیکی کی راہ اختیار کریں گے تو اس کا نفع انہی کو پہنچے گا اور اگر بدی پر جمے رہے گئے تو اس کا وبال انہی پر آئے گا۔ اس کی کوئی ذمہ داری اہل ایمان پر نہیں ہوگی جب کہ انہوں نے حق لوگوں کو پہنچا دیا۔ پھر قیامت کے دن سب کی پیشی خدا کے سامنے ہوگی اور اس دن فیصلہ ہوجائے گا کہ کون حق پر رہا اور کون باطل پر اور کون کس انجام کا سزا وار ہے۔
Ayah 45:16-2 آگے کا مضمون … آیات 23-16
آگے یہود کے اس رویہ سے بحث ہے جو اسلام دشمنی کے جوش میں مشرکین کی حمایت میں انہوں نے اختیار کیا۔ اس دور میں جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں انہوں نے بھی کھلم کھلا مشرکین کی پیٹھ ٹھنکنی شروع کردی تھی۔ ان کو چونکہ ایک مذہبی گروہ کی حیثیت حاصل رہی تھی اس وجہ سے ان کی شہ نے مشرکین کا حوصلہ بہت بڑھا دیا تھا۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ ان کا پول کھول دیا جائے تاکہ مسلمانوں کے اندران کی مخالفت سے کوئی ہراس نہ پیدا ہو اور مشرکین بھی آگاہ ہوجائیں کہ جن کی شہ پر وہ بہت نازاں ہیں وہ ان سے بھی بڑے خدا کے مجرم ہیں۔ اگر ان کے کہے پر وہ چلے تو بالآخر دونوں کا انجام ایک ہی ہوگا۔ اسی ضمن میں نبی ﷺ کو پورے استقلال کے ساتھ اپنے موقف حق پر ڈٹے رہنے کی تاکید فرمائی گئی کہ اب خدا کی اصل شریعت پر تمہی ہو۔ نہ تمہیں یہود کی پروا کرنی ہے نہ مشرکین کی۔ اللہ کی تائید صرف تمہیں اور تمہارے ساتھیوں ہی کو حاصل ہے اور اللہ کی تائید بس ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ولقد اتینا بنی آسرائیل الکتب والحکم والنبوۃ ورزقنھم من الطیبت وفضلتھم علی العلمین 16
انعامات جو اللہ نے بنی اسرائیل پر کئے لیکن انہوں نے ان کی ناقدری کی
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو عظیم احسانات فرمائے یہ ان کا حوالہ ہے اور مقصود ان کے حوالہ سے، جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا اور آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا، یہ دکھانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر بڑے بڑے احسانات کئے لیکن یہ قوم ایسی ناہنجار نکلی کہ اس نے ہر احسان کی ناقدری کی یہاں تک کہ خود بھی اللہ کی نعمتوں سے محروم ہوئی اور اپنی ہی طرح دوسروں کو بھی اس سے محروم ہی دیکھنا چاہتی ہے۔
الکتب سے مراد ظاہر ہے کہ تورات ہے۔
”حکم، سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ وہ حکومت مراد ہے جو بنی اسرائیل کو حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہا السلام) کے دور میں حاصل ہوئی اور ایک طویل مدت تک قائم رہی۔ کتاب اور حکومت میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے اللہ کی کتاب اس کے احکام و قوانین کا مجموعہ ہوتی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ جس قوم کو اپنے احکام قوانین کا صحیفہ عطا فرماتا ہے اس کو لازماً حکومت بھی دیتا ہے اس لئے کہ احکام و قوانین کی تنقید کے لئے حکومت ناگزیر ہے۔ اس حکومت سے قوم اسی وقت محروم ہوتی ہے جب وہ اللہ کے احکام کو پیٹھ پیچھے پھینک دیتی ہے۔
’ نبوۃ ‘ کا مفہوم واضح ہے لیکن یہاں اس کے ذکر کا ایک خاص پہلو ہے وہ یہ کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد بنی اسرائیل کے اندر نبوت کا ایک ایسا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا جو حضرت مسیح علیہ اسلام تک بلاانقطاع جاری رہا حضرت مسیح کے ساتھ اس قوم نے ہر سلوک کیا اس کے نتیجہ میں یہ قوم ملعون ہوئی پھر حکومت اور نبوت دونوں نعمتوں سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوگئی۔
ورزقنھم من الطیبت سے رزق و فضل اور نعمت و رفاہیت کی اس فراوانی کی طرف اشارہ ہے جس کا آغاز ارض فلسطین پر ان کے قبضہ کے بعد سے ہوا اور حضرت سلیمان ؑ کے دور میں یہ اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔
وفضلنھم علی العلمین یہ فضیلت کسی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب دیے جانے کا لازمی نتیجہ ہے۔ کتاب الٰہی خلق کے لئے ہدایت کی روشنی ہوتی ہے۔ یہ روشنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو پکڑاتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس نے اس قوم کو اپنی خلق کی رہنمائی کے لئے چن لیا۔ بلاشبہ یہ ایک عظیم فضیلت ہے لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح رہے کہ یہ فضیلت مشروط ہے۔ جب تک کوئی خلق کی رہنمائی کا یہ فرض انجام دیتی ہے اس وقت تک اس کو یہ فضیلت حاصل رہتی ہے۔ جب وہ اس فرض کو ترک کردیتی ہے اس فضیلت سے بھی محروم ہوجاتی ہے۔
Ayah 45:17واتینھم بینت من الامر فما اختلفوا الامن بعد ماجآء ھم العلم، بغیا بینھم ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوافیہ یختلفون 17
یہود کی رہنمائی کے لئے مزید اہتمام اور ان کی طرف سے اس کی ناقدری
امر سے مراد یہاں دین و شریعت ہے فرمایا کہ مزید برآں ہم نے یہ کیا کہ شریعت کے احکام ان کو نہایت واضح قطعی اور غیر مشتبہ شکل میں دیے تاکہ ان میں کسی اختلاف یا ان سے فرار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ لیکن اس سارے اہتمام کے باوجود انہوں نے اختلاف کیا اور یہ اختلاف اس وجہ سے نہیں کہ اس کے لئے کوئی وجہ موجود تھی بلکہ علم وحی کی روشنی موجود ہوتے ہوئے انہوں نے محض غلام ضدا کے باعث یہ اختلاف برپا کیا جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ وہ اللہ کی روشنی سے محروم ہو بیٹھے اب قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا کہ یہ کس حد تک حق بجانب تھے اور کس حد تک اس میں محض ان کضد، ہٹ دھرمی، بات کی پیچ اور حیرف کو شکست دینے کی خواہش کو دخل رہا ہے۔
مسلمانوں کو تسلی اور قریش کو تنبیہ
یہاں ان کے کردار کے اس پہلو کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود ایک طرف تو مسلمانوں کو تسلی دینا ہے کہ آج جو لوگ پنچ بن کر یہ فیصلہ کرنے اٹھے ہیں کہ قریش حق پر ہیں یا مسلمان، ان کا اپنا حال یہ ہے کہ آپس کے اختلافات اور باہمی عناد و حسد کے سبب سے اللہ کے دین سے محروم ہوچکے ہیں۔ ایسے محروم القسمت لوگ اگر تمہارے حسد میں مبتلا ہو کر تمہاری مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
دوسری طرف قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ جو لوگ خود اپنی آنکھوں میں دھول جھونک کر اندھے بن چکے ہیں ان سے یہ توقع نہ رکھو کہ وہ تمہارے لئے سر مہ بصیرت لے کر آئیں گے وہ تو یہی چاہیں گہ کے جس طرح وہ اللہ کی روشنی گل کر کے اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں اسی طرح تم بھی اس روشنی سے محروم، اسی اندھیرے میں بھٹکتے رہو جس میں ابک تک بھٹکتے رہے ہو۔
اس آیت سے ایک نہایت اہم حقیقت یہ واضح ہوئی کہ دین کی کسی بات کے سمجھنے میں اختلاف ہوا ہے اور ہوسکتا ہے لیکن اسی اختلاف کی محرک اگر باہمی چشمک و رقابت اور ایک دوسرے کو زک پہنچانے اور پچھاڑنے کی خواہش ہو تو یہ چیز بلاشبہ سارے دین کا تیا پانچا کر کے رکھ دیتی ہے اسی نوعیت کے اختلاف نے اہل کتاب کو اللہ کی روشنی سے محروم کیا اور اسی قسم کے اختلافات نے مسلمانوں کو تباہی میں ڈالا۔
Ayah 45:18ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر فاتبعھا ولا تتبع اھوآء الذین لا یعلمون 18
نبی ضلعم کو اللہ کے اصل دین پر جمے رہنے کی تاکید
شریعت کے معنی صاف راستہ اور واضح طریقہ کے ہیں اور من الامر جس مفہوم میں اوپر والی نبی صلعم کو اللہ آیت میں استعمال ہوا ہے اسی مفہوم میں اس آیت میں بھی استعمال ہوا ہے فرمایا کہ جب ان اہل کتاب نے اللہ کی بتائی ہو صراط مستقیم گم کردی اور خلق کو صحیح راہ بتانے والا کوئی نہیں رہا تب اللہ نے تم کو اپنی ایک واضح شریعت پر مبعوث فرمایا مطلب یہ ہے کہ اگر آج بنی اسرائیل تمہاری دعوت کے خلاف یہ وسوسہ اندازی کرتے پھرتے ہیں کہ ان کے اور ان کی شریعت کے ہوتے کسی نئی کتاب اور نئی شریعت کی کیا ضرورت تھی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نظر اپنی کرتوتوں پر نہیں ہے۔ اگر ان کی نظر اپنی کرتوتوں پر ہوتی تو وہ جان جاتے کہ تمہاری بعثت دین کے کن تقاضوں اور خلق کی کس ضرورت کی تکمیل کے لئے ہوئی ہے۔ یہ مضمون حم السجدۃ کی آیت 45 میں بھی گزر چکا ہے۔
فاتبعھا ولا تتبع اھوآء الذین لایعلمون، اھوآء سے مراد، جیسا کہ اس کتاب میں جگہ جگہ ہم واضح کرتے آ رہے ہیں، بد عات ہیں بدعات کی ایجاد چونکہ اپنی خواہشوں ہی کو دین کی سند دینے کے لئے لوگ کرتے ہیں اس وجہ سے قرآن نے ان کو اھواء سے تعبیر کر کے ان کے اصل منبع کا پتہ دے دیا کہ وہ دین یا عقل سے نہیں وجود میں آتی ہیں بلکہ ان کو نفس کی خواہشیں جنم دیتی ہیں۔
یہ نبی ﷺ کو تاکید ہے کہ تم کو اللہ نے جو واضح شریعت، تمام بدعات و خرافات سے پاک کر کے دی ہے اسی کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی بدعات کی پیروی نہ کرو جو نہیں جانتے ہیں ان نہیں جاننے والوں میں، مشرکین اور یہود و نصاریٰ سب شامل ہیں۔ مشرکین عرب تو ظاہر ہے کہ کتاب و شریعت سے بالکل نا آشنا امی تھے۔ وہ دین ابراہیمی کے وارث ہونے کے مدعی ضرور تھے لیکن ان کے حصہ میں صرف وہ بدعات آئی تھیں جو ان کے جاہل باپ دادا نے دین ابراہیم ؑ کے نام سے گھڑ رکھی تھیں۔ انہی کی حمایت میں وہ آنحضرت ﷺ سے لڑتے کہ آپ اپنی دعوت سے ان کے آبائی دین کو مٹا رہے ہیں یہود اور نصاریٰ اگرچہ حامل کتاب ہونے کے مدعی تھے لیکن جیسا کہ اوپر والی آیت میں بیان ہوا ہے، انہوں نے اللہ کے دین میں اتنے اختلافات پیدا کر لئے تھے کہ اصل حقیقت بالکل گم ہوگئی تھی قرآن نے جب اصل حقائق واضح کئے اور وہ ان کی بدعات (اھواء) کے خلاف پڑے تو ان کے اندر بھی آگ لگ گئی کہ اس نئی دعوت سے تو ان کی دینداری کا سارا کاروبار معرض خطرہ میں ہے حالانکہ قرآن کی دعوت سے نہ صرف انبیاء کا اصل دین نکھر کر سامنے آ رہا تھا بلکہ اس کی تکمیل بھی ہو رہی تھی لیکن یہود و نصاریٰ چونکہ اصل دین سے بالکل تاریکی میں تھے اس وجہ سے وہ آنحضرت ﷺ کا ساتھ دینے کے بجائے قریش کے ساتھ بن کر اسلام کو مٹانے کے در پے ہوگئے۔ قرآن نے اس آیت میں نبی ﷺ کو تاکید فرمائی کہ اللہ کی شریعت پر تمہی ہو۔ یہ مخالفین خواہ کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم اسی پر جمے رہو اور ان لوگوں کی بدعتوں کی پیروی ہرگز نہ کرنا جو اللہ کے اصل دین سے بیخبر ہیں۔
اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے نہیں پیدا ہوئی کہ آنحضرت ﷺ سے خدانخواستہ یہ اندیشہ تھا کہ آپ ان کی بدعات کی طرف مائل ہوجائیں گے بلکہ لوگوں کی بدعات سے یہ بالواسطہ اظہار نفرت کا ایک طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو مخاطب کرنا پسند نہیں فرمایا اس وجہ سے اپنے پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے ان بدعات سے احترار کی تاکید فرما دی۔ یہ اسلوب کلام قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔
Ayah 45:19انھم لن یغنوا عنک من اللہ شیاء ط مان الظلمین بعضھم اولیآء بعض واللہ ولی المتقین 19
یہ لوگ کتنا ہی زور لگائیں لیکن ان کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ لوگ خدا کے حضور میں تمہارے کچھ کام آنے والے نہیں بن سکیں گے۔ جو ذمہ داری اللہ نے تم پر ڈالی ہے اس کی بابت پرسش تمبی سے ہونی ہے، ان سے نہیں ہونی ہے اس وجہ سے اللہ کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کرو یہ لوگ خواہ مخالفت کر کے تمہیں دبانے کی کوشش کریں خواہ ہمدردانہ انداز میں تمہیں کچھ نرم کرنا چاہیں، کسی صورت میں بھی ان کی پرواہ نہ کرو۔
وان الظلمین بعضھم اولیآء بعض ج واللہ و لی المتقین، ظالمین، سے مراد یہاں اہل کتاب اور مشرکین دونوں ہی ہیں اس لئے کہ دونوں ہی اللہ کے دین کے معاملہ میں اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ فرمایا کہ ان ظالموں نے قرآن کی مخالفت کے لئے آپس میں گٹھ جوڑ بیشک کرلیا ہے لیکن اس سے ذرا بھی ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ اپنے خدا ترس بندوں (یعنی مسلمانوں) کا کار ساز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب خدا اہل ایمان کار ساز ہے تو پھر وہ کسی سے کیوں ڈریں یاد ہیں وہ اپنے طریقہ پر کام کریں اللہ ہر مشکل میں ان کی مدد فرمائے گا اور جن کی مدد پر اللہ ہو کس کی طاقت ہے کہ ان کو شکست دے سکے !
Ayah 45:20ھذا بصآء پر للناس و ھدی و رحمۃ یقوم یوقنون 20
قرآن کی آیات بصیرت بخش ہیں بشرطیکہ لوگ آنکھیں کھولیں
یہ اس قرآن کی طرف اشارہ ہے جس کی مخالفت کے لئے اہل کاتب اور مشرکین نے مذکورہ متحدہ محاذ بنایا تھا اوپر آیت 11 میں بھی اس کا ذکر ہوچکا ہے۔ ھذا سے اشارہ قرآن کی طرف بحیثیت مجموعی ہے اور لفظ بصآء د قرآن کی آیات کو پیش نظر رکھ کر استعمال ہوا ہے جن کا کفار مذاق اڑانے کی کوشش کرتے تھے فرمایا کہ یہ قرآن لوگوں کے لئے بصیرت بخش آیات کا مجموعہ ہے۔ اگر لوگ اس کا مذاق اڑاتے اور ان کی مخالفت کرتے ہیں تو خود اپنی ہی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ اس آیت کے اسلوب بیان سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جہاں تک اس قرآن کی آیات کی بصیرت بخشی کا تعلق ہے وہ سورج کی طرح ہر شخص کے لئے عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد سے اس کو اتارا ہے لیکن اس سے فیض انہی کو پہنچے گا جو اس سے کسب نور کے لئے اپنی آنکھیں کھولیں گے۔
ھدی و رحمۃ لقوم یوقنون فیض عام کے بعد یہ اس کے فیض خاص کا ذکر ہے کہ جو لوگ اس کے انداز اور اس کی بشارت کا یقین کریں گے ان کے لئے یہ ہدایت اور رحمت ہے ہم دوسرے محل میں وضاحت کرچکے ہیں کہ ہدایت و رحمت کے الفاظ اس سیاق میں جہاں جہاں استعمال ہوئے ہیں دونوں الگ الگ مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی یقین کرنے والوں کے لئے یہ قرآن دنیا میں ہدایت اور آخرت میں رحمت ثابت ہوگا۔ دنیا میں یہ صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرے گا اور آخرت میں یہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمتوں کے دروازے کھولے گا۔
Ayah 45:21ام حسب الذین اجتوجوا السیات ان نجعلھم کالذین امنوا وعملوا الصلحت لاسوآء محیاھم ومماتھم ط سآء مایحکمون 21
قیامت کے منکروں کا تصور خدا کے متعلق بالکل باطل ہے
یعنی جو لوگ قرآن کے انداز اور اس کی تبشیر کا مذاق اڑا رہے ہیں ان کا تصور گویا یہ ہے کہ جہان کے خالق کے نزدیک مومن اور کافر، نیک اور بد، صالح اور طالح میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کی زندگی اور موت بالکل یکساں ہے۔ فرمایا کہ اگر ان کا تصور یہ ہے تو یہ نہایت برافیصلہ ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ یعنی یہ انسان کے اس شعور عدل کے بالکل منافی ہے جو انسان کی فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمایا ہے کوئی شخص خواہ برائی کی زندگی گزارے یا بھلائی کی لیکن وہ اپنے دل کے اندر نیک اور نیکی کا احترام ضرور رکھتا ہے جو شخص معاملات پر غیر جانبدارانہ نظر ڈالتا ہے وہ ہرگز اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ نیک اور بد دونوں کے ساتھ یکساں معاملہ کیا جائے ہر دور میں انسانوں نے جو قوانین جاری کئے ہیں ان میں یہ اصول عدل بنیادی طور پر محلوظ رہا ہے تو جو اصول عدل انسانوں کے اندر اس طرح مسلم ہے اللہ تعالیٰ کے متعلق کس طرح باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس سے عاری ہے ؟ اگر نیک و بد دونوں اس کے نزدیک یکساں ہیں تو اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ وہ یا تو نعوذ باللہ ظالم اور نا منصف ہے یا نیکی اور بدی کے معاملہ میں بالکل بےحس اور یہ ایسی باتیں ہیں جن کا خدا کے متعلق تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور اگر وہ عادل و منصف ہے تو ضروری ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں لوگوں کے درمیان بےلاگ انصاف کرے ان لوگوں کو پورا پورا انعام دے جنہوں نے نیکی اور عدل کی زندگی گزاری اور ان لوگوں کو پوری سزا دے جنہوں نے فسق اور نافرمانی کی زندگی بسر کی ایک ایسے دن کا ظہور اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ دنیا آزمائش کے قانون پر چل رہی ہے۔ اس میں نیک وبدونوں کو مہلت ملی ہوئی ہے کہ خواہ ہو نیکی کی زندگی بسر کریں یا بدی کی، ضرورت نہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سزا دے جو برائی کی زندگی بسر کریں یا ان لوگوں کو صلہ دے جو نیکی کی زندگی گزاریں اس کے لئے اللہ نے ایک خاص دن مقرر کر رکھا ہے قرآن اسی دن کی سزا یا اس دن کے انعام سے لوگوں کو آگاہ کرنے یا اس کی بشارت دینے آیا ہے بس جو لوگ اس انداز اور بشارت کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ گویا یہ تصور رکھتے ہیں کہ اس کائنات کا خالص محض ایک کھلنڈر اور تماشائی ہے جو دنیا کو پیدا کر کے اس کا تماشا دیکھ رہا ہے اس کے خیر اور شر سے اس کو کچھ بحث نہیں۔
Ayah 45:22وخلق اللہ السموت والارض بالحق ویتجزی کل نفس بما کسبت وھم لایظلمون 22
نادانوں کے زعم کے علی الرغم خالق نے یہ دنیا پالحق پیدا کی ہے
یعنی نادانوں نے تو یہ گمان کر رکھا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو ایک غایت اور نہایت کے ساتھ پیدا کیا ہے، اس غایت و نہایت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فصلہ فرمائے اور ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ ہے، اس کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو۔ اگر کوئی ایسا دن نہ آئے، یہ دنیا اسی طرح چلتی رہے یا چلتے چلتے بس یونہی ایک دن تمام ہوجائے، اس کے بعد نہ کوئی جزا ہو نہ سزا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا بالحق نہیں بلکہ ایک عبث اور باطل کارخانہ اور ایک کھلنڈرے کا کھیل ہے اور اس کا خالق ایک تماشا پسند ہے جس نے بالکل بےمقصد اتنا بڑا کارخانہ کھڑا کردیا ہے۔
بالحق کے بعد یفصل بینھم یا اس کے ہم معنی الفاظ میرے نزدیک محذوف ہیں۔ لتجزی کل نفس اسی محذوف پر معطوف ہے۔
وھم لایظلمون کی قید سے مقصود یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس دن ہر جان کے ساتھ بالکل بےلاگ انصاف ہو، کسی پہلو سے کسی کی کوئی حق تلفی نہ ہو۔ اگر اس حق تلفی کے لئے کوئی گنجائش باقی رہ جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا پھر بالکل عبث اور باطل ہو کے رہ جاتی ہے۔ یہ قید شرک و شفاعت کے ان باطل تصورات کی نفی کے لئے بڑھائی گئی ہے جن میں مشرکین بھی مبتلا تھے اور اہل کتاب بھی ان تصورات کے ساتھ آخرت کو ماننا یا نہ ماننا دونوں کے ساتھ تھا۔ جب عقیدہ یہ ہو کہ آدمی کے اعمال خواہ کچھ ہی ہوں شفعاء و شرکاء اپنی شفاعت اور زور و اثر سے بخشوا ہی لیں گے تو بےلاگ انصاف کہاں رہا ! پھر تو ہر ظلم و ناانصافی کے لئے راہ کھل گئی۔
Ayah 45:23افرء یت من اتخذ الھہ ھویۃ واضلہ اللہ علی علم وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشوۃ ط فمن یھدیہ من بعد اللہ ط افلا تذکرون 23
ایک برمحل اشارہ یہود کی طرف
اوپر کی آیت میں خاص طور پر مشرکین کے غلط تصور حیات پر ان کو ملامت تھی۔ اس آیت میں ان کی سرپرستی کرنے والے یہود کے بارے میں مسلمانوں کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ یہ اللہ کی کتاب کے مدعی ہوتے ہوئے مشرکین اور ان کے دین شرک کی حمایت جو کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بدعملیوں کی پاداش میں اللہ نے ان کے کانوں اور دلوں پر مہر کردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ تو جو خدا کے قانون کی زد میں آ چکے ہوں اب کس کے بس میں ہے کہ ان کو راہ راست لا سکے۔
افرء یت من اتخذالھہ ھوئہ، افریت کا اسلوب کسی کی حالت پر تعجب یا افسوس کے ساتھ توجہ دلانے کے لئے آتا ہے جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں ذرا فلاں کو تو دیکھو یا بھلا تم نے فلاں کو بھی دیکھا ؟ یہود کی حالت پر تعجب کے ساتھ اس لئے توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی کتاب و شریعت سے نوازا لیکن انہوں نے کتاب و شریعت کو تو پیٹھ پیچھے پھینکا اور اپنی خواہشوں اور بدعات کو معبود بنا بیٹھے۔ آدمی جب خواہشوں کا اس طرح فرمانبردار بن جائے کہ خدا کے صریح احکام کی بھی پروا نہ کرے بلکہ خواہشوں ہی کے اندر اپنے لئے خیر و مصلحت سمجھنے لگے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کا بندہ نہیں بلکہ اپنی خواہشوں اور بدعتوں ہی کا بندہ ہے یہود کی اس اہوا پرستی کا ذکر تفصیل سے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
واضلہ اللہ علی علم، یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ ان کو علم کی روشنی ملی نہیں بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا اس کی قدر کرنے کے بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں اور بدعات ہی کی پیروی کی۔ اس ضلالت پسندی کی سزا ان کو یہ ملی کہ اللہ نے ان کو گمراہی کے لئے چھوڑ دیا اوپر فرمایا ہے کہ ”واتینھم بینت من الامرا فما اختلفوآ الا من بعد ما جآء ھم العلم بغیا بینھم …(اور ہم نے انہیں شریعت الٰہی کے نہایت واضح احکام دیے تو انہوں نے علم آجانے کے بعد محض آپس کے عناد کے باعث اختلاف کیا) جو بات یہاں من بعد مآ جآء ھم العلم، کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے وہی بات آیت زیر بحث میں علی علم، کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے۔ یعنی یہ لوگ روشنی پانے کے بعد اندھیرے میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیئے گئے ہیں تو ان سے اب کسی خیر کی امید نہ رکھو۔
دختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشوۃ بعینیہ یہی مضمون سورة بقرہ آیت میں ان یہود ہی کے بارے میں گزر چکا ہے وہاں ہم ختم قلوب کی حقیقت پر وضاحت سے بحث کرچکے ہیں اس صفت کے ساتھ قرآن نے صرف یہود ہی کا ذکر کیا ہے۔
فمن یھدیہ من بعد اللہ ط افلاتذکرون من کے بعد ایک مصاف محدوف ہے یعنی من بعد ان اضلہ اللہ مطلب یہ ہے کہ جن کے دلوں پر سنت الٰہی کے تحت مہر ہوچکی ہو ان کو بھلا کون ہدایت دے سکتا ہے ! ہدایت وضلالت کے باب ہیں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں ختم قلوب کی بحث پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
افلاتذکرون یہ مسلمانوں کو نصیحت بلکہ ایک قسم کی تنبیہ ہے کہ تمہیں یہ حیرانی کیوں ہے کہ یہ پڑھے لکھے اور کتاب و شریعت کے مدعی لوگ قرآن کے دشمن اور مشرکین کے ساتھی بن کر کیوں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ! یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو ہدایت بخشا ہے جو اس کی ہدایت کی قدر کرتے ہیں جو لوگ اسکی قدر نہیں کرتے ان کے لئے وہ ہدایت ہی ضلالت کا پھندا بن جاتی ہے۔ یضل بہ کثیراً و یھدی بہ کثیراً کے تحت اس حقیت کی وضاحت ہوچکی ہے۔