Ayah 44:1-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
حم (1)
یہ اس سورة کا قرآنی نام ہے اور یہی نام سابق سورة کا بھی ہے۔ ناموں کا اشتراک مطالب کے اشتراک کی دلیل ہوتا ہے چناچہ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ سابق سورة کی آخری آیت میں قریش کو تکذیب رسول کے جس انجام دھمکی دی ہے اس سورة میں اس دھمکی کی تفصیل ہے۔ آگے کی آیات سے اس کی پوری وضاحت ہوجائے گی۔
Ayah 44:2والکتب المبین (2)
’ و ‘ یہاں قسم کے لئے ہے اور یہ وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے کہ عربی میں قسم کا اصل مقصد کسی وعدے پر شہادت پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مقسم علیہ کیا ہے ؟ عام طور پر ہمارے مفسرین نے اس کا مقسم علیہ بعد والی آیت انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ … کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ زبان کے قواعد کے اعتبار سے اس میں کوئی خامی نہیں ہے لیکن مجھے اس پر پورا اطمینان نہیں ہے۔ قسم اور مقسم علیہ میں تعلق دلیل اور دعوے کا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ قرآن کا کتاب مبین ہونا اس بات کی دلیل کس طرح بن سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ میرے نزدیک یہاں مقسم علیہ محذوف ہے۔ قرینہ اور موقع کلام اس محذوف پر دل یل ہے۔ جو بنائے قرینہ مقسم علیہ کے محذوف ہونے کی نظریں بہت ہیں۔ ایک واضح نظیر سورة ق میں موجود ہے۔ ق والقرآن المجید بل عجبوآ ان جآء ھم منذر منھم …(2-1) (یہ سورة ق ہے، شاہد ہے قرآن بزرگ ! بلکہ انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک شخص منذر بن کر اٹھا) ظاہر ہے کہ یہاں مقسم علیہ محذوف ہے۔ اسی طرح آیت زیر بحث میں بھی مقسم علیہ محذوف ہے۔ اس حذف کا فائدہ یہ ہے کہ یہاں وہ ساری بات محذوف مانی جاسکتی ہے ہے جس کے لئے موقعہ کلام مقتضی ہو۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو گویا پوری بات یوں ہوگی کہ یہ واضح کتاب، جو اپنے دعوے پر خود حجت قاطع ہے، اس بات کی شاہد ہے کہ یہ جھٹلانے والوں کو جس انجام بد سے ڈرا رہی ہے وہ ایک امرشدنی ہے جو شخص اس کو پیش کر رہا ہے اس کو خبطی یا دیوانہ نہ سمجھو بلکہ وہ ایک رسول مبین ہے۔ اس کی دعوت تمام تر حکمت پر مبنی ہے۔ اس کو بول کرنا باعث رحمت اور اس کو رد کرنا باعث نقمت ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ان باتوں کی دلیل ڈھونڈنے کے لئے قرآن سے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان میں سے ہر حقیقت کو مبرہن کردینے کے لئے یہ کتاب خود کافی ہے۔ جو لوگ اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔
Ayah 44:3انا انزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنامنذرین (3)
یہ اس اہتمام خاص کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے اتارنے کے لئے فرمایا۔ مقصود اس اہتمام کے ذکر سے مخاطبوں پر یہ واضح کرنا ہے کہ اس کو کوئی ہنسی مسخری کی چیز یا کسی مذوب کی بڑ نہ سمجھیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم اسکیم کا ایک نہایت عظیم حصہ ہے اور اس کے اتارنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے وہ مبارک شب منتخب فرمائی جو اس کی طرف سے تمام امور حکمت کی تقسیم کے لئے خاص کی ہوئی ہے۔ مقصود اس کے اتارنے سے ان لوگوں کو انذار کرنا ہے جن کے آباء و اجداد کو انذار نہیں کیا گیا تھا تاکہ ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے اور قیامت کے دن وہ یہ عذر نہ کرسکیں کہ ان کو انذار کے بغیر ہی پکڑ لیا گیا۔ اس اہتمام خاص کے بعض اور پہلو بھی ہیں جن کی تفصیل انشاء اللہ سورة جن اور سورة قدر کی تفسیر میں آئے گی۔
لیلۃ مبارکۃ سے مراد ظاہر ہے کہ لیلتہ القدر ہے۔ چناچہ سورة قدر میں یہ تصریح موجود ہے کہ اسی رات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن اتارا انا انزلنہ فی لیلۃ القدر، ومآء ادرئک ما لیلۃ القدر، لیلۃ القدر، خیر من الف شھرہ تنزل الملٓئکۃ و الروح فیھا باذن ربھم من کل امرہ سلم ھی حتی مطلع الفجر (5-1) (ہم نے اس کو اتارا ہے لیلتہ القدر میں اور تم کیا سمجھے کہ لیلتہ القدر کیا ہے ! لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اس میں ملائکہ اور جبرئیل اترتے ہیں، ہر باب میں اپنے رب کے اذن کے ساتھ، وہ سلامتی ہی سلامتی ہے۔ ووہ طلوع فجر تک ہے۔)
یہ لیلتہ القدر لازماً رمضان شریف ہی کی کوئی رات ہو سکتی ہے اس لئے کہ قرآن میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ رمضان ہی کے مہینہ میں قرآن نازل ہوا۔ شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن (البقرہ 185) (رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔)
رہا یہ سوال کہ یہ رمضان کی کون سی رات ہے تو اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ روایات کی روشنی میں صرف اتنی بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ کی کوئی رات ہے۔ تعین کے ساتھ اس کے ظاہر نہ کرنے میں مصلحت الٰہی یہ معلوم ہوتی ہے کہ بندے اس کی جستج کریں اور اس طرح ان کے ذوق وشوق اور طلب و تمنا کا امحتان ہو۔ بندوں کی اس طلب و تمنا کے اندر ہی اس لیلتہ القدر کی تمام برکتوں کا راز مضمر ہے۔
ان تصریحات سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوگئی کہ اس سے شعبان یا کسی اور مہینہ کی کوئی رات مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اس رات میں قرآن کے اتارے جانے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ پورا قرآن اسی شب میں اتار دیا گیا ہو بلکہ یہ اس کے مبارک آغاز کا پتا دیا گیا ہے۔ جب ایک کام کا آغاز ایک مبارک ساعت میں ہوگیا اور اس کے پورے کئے جانے کا فصلہ بھی ہوگیا تو گویا وہ کام اسی مبارک ساعت میں ہوگیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو کوئی دوسرا تبدیل نہیں کرسکتا۔ قرآن میں اس اسلوب تعبیر کی مثالیں موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مستقبل میں پورے ہونے والے وعدے ماضی کے صیغے سے بیان کئے ہیں۔
لیلۃ مبارکۃ کی تنکیر تفخیم شان کے لئے ہے۔ خاص خاص دنوں، مہینوں اور اوقات کا مبارک ہونا ان کی روحانی زرخیزی اور فیض بخشی کے پہلو سے ہے۔ جس طرح ہماری اس مادی دنیا میں موسموں اور فصلوں کا لحاظ ہے، ہر موسم ہر چیز کی کاشت کے لئے موزوں نہیں ہوتا، اسی طرح روحانی عالم میں بھی ساعات و اوقات، سالوں اور مہینوں کا اعتبار ہے۔ جو عبادت اللہ تعالیٰ نے جس وقت جس دن اور جس مہینہ کے ساتھ وابستہ کردی ہے اس کی حقیقت برکت اسی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جب وہ اس وقت یا اس دن یا اس مہینہ کی پابندی کے ساتھ کی جائے۔ ورنہ جس طرح بےموسم کی بوئی ہوئی گندم بےحاصل رہتی ہے اسی طرح بےوقت کی نماز، بےوقت کے روزے اور بےموسم کے حج کا بھی کچھ حاصل نہیں اور اگر ہے تو بہت تھوڑا۔ ہمارے چوبیس گھنٹوں کے اوقات میں فجر، چاشت، ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور تہجد کے اوقات روحانی اعتبار سے اپنے اندر ایک خاص برکت رکھتے ہیں۔ قرآن اور حدیث میں ان کی برکت واضح فرمائی گی ہے۔ اسی طرح ہفتہ کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روحانی فیض بخشی کے اعتبار سے ایک مخصوص اہمیت حاصل ہے جو کسی دوسرے دن کو حاصل نہیں … سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان یا حج کے مہینوں کو جو شرف خصوصی حاصل ہے اس میں دوسرے مہینے ان کے شریک وسہیم نہیں ہیں۔ علی ہذا القیاس رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں میں سے ایک رات اللہ تعالیٰ نے مخصوص کردی ہے جس میں وہ اپنے ملائکہ مقربین کے ذریعہ سے اس دنیا میں مامور ملائکہ کو اپنے سال بھر کے پروگرام سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر حکم کو اس کے مقررہ وقت پر نافذ کریں۔ اسی طرح کی ایک رات میں رب العزت نے قرآن نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو انذار کیا جائے اور اس دنیا کی ہدایت کے لئے ایک آخری رسول کی بعثت کی شکل میں جو رحمت مقدر تھی وہ ظہور میں آئے۔
اس کا حوالہ دینے سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اس قرآن کا نزول نہ کوئی اتفاقی واقعہ ہے، نہ یہ کوئی بےوقت کی راگنی ہے، نہ یہ بےموسم کا کوئی خود رو پودا ہے۔ نہ یہ کوئی من گھڑت چیز ہے، بلکہ یہ اس اسکیم کا ظہور ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی خلق کی اصلاح و ہدایت کے لئے پسند فرمائی ہے۔ چناچہ اس مبارک رات میں اس کو اس نے اتارا ہے جو تمام امور حکمت کی تقسیم کے لئے خاص ہے۔ پس جن لوگوں کے لئے یہ اتاری گئی ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کے شایان شان اس کی قدر کریں رنہ یاد رکھیں کہ جو چیز اللہ نے اس شان و اہتمام کے ساتھ اتاری ہے اس کی ناقدری وہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا یہ کوئی ہوائی چیز نہیں ہے کہ یہ اس کو مذاق میں اڑا دیں اور یہ اڑا جائے۔ اس کی تصدیق یا تکذیب دونوں ہی چیزیں نہایت اہم نتائج کی حامل ہیں اور یہ نتائج لازماً سامنے آ کے رہیں گے۔
ابدی بادشاہی یا ابدی ہلاکت
انا کنا منذرین یہ قرآن کے مقصد نزول کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں یہ بات رہی ہے کہ جس طرح پچھلی قوموں کو ان کی نافرمانیوں پر ہلاک کرنے سے پہلے ان کو تمام خیر و شر سے آگاہ کردیا گیا اسی طرح اہل عرب کو بھی ان کی نافرمانیوں پر سزا دینے سے پہلے اچھی طرح آگاہ کردیا جائے تاکہ ان میں سے جو ہدایت قبول کرنا چاہیں وہ ہدایت قبول کرلیں اور جو ہدایت نہ قبول کریں ان کے لئے کوئی عذر نہ بای رہ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کا نزول اور اس کی بعثت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمام حجت کے لئے ہے اور سنت الٰہی یہ ہے کہ اتمام حجت کے بعد کسی قوم کو مہلت نہیں ملا کرتی اس وجہ سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ جو قدم اٹھائے یہ سوچ کر اٹھائے کہ ایک فیصلہ کن مرحلہ اس کے سامنے ہے۔ اس کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے ابدی بادشاہی یا ابدی ہلاکت ! !
Ayah 44:4فیھا یفرق کل امر حکیم (4)
مخاطبوں کو ایک تنبیہ
یہ اسی شب مبارک کی تعریف ہے کہ اس میں تمام مبنی بر حکمت امور کی تقسیم ہوتی ہے۔ اس آیت کو اگر سورة قدر کی روشنی میں دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ مقربین کو زمین سے متعلق تمام امور کلیہ سے آگاہ فرماتا ہے اور وہ ان سے زمین میں مامور ملائکہ کو آگاہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے نقشہ کے مطابق اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
امر کے ساتھ حکیم کی صفت اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ وہ کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ بھی اس کے عدل و حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور اگر کسی قوم پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے تو وہ بھی اس کے عدل و حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ مخاطبوں کو تنبیہ ہے کہ اس وقت جو مرحلہ تمہارے سامنے ہے اس کے ہر پہلو پر سنجیدگی سے غور کرو۔ اگر تم نے لا ایا لیان ہر وش اختیار کئے رکھی اور خدا کی ایک مبنی برحکمت اسکیم کے تقاضے پورے نہ کئے تو اس کے نتائج خود تمہارے حق میں نہایت مہلک ہوں گے۔
Ayah 44:5امراض عندنا ط انا کنا مرسلین (5)
امراً کا نصب علی سبیل الاختصاص ہے اور مقصود اس سے اس تقسیم امور کی اہمیت و عظمت کو واضح فرمانا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہوتا ہے خاص امر الٰہی سے ہوتا ہے۔ اس میں کسی اور کو دذخل نہیں ہوتا اس وجہ سے بندوں پر واجب ہے کہ اس کو کائنات کے بادشاہ حقیقی کے خاص فرمان کی حیثیت سے قبول کریں اور سچے جذبہ انقیاد کے ساتھ اس کے ہر حکم کی اطاعت کریں۔ اگر انہوں نے اس کو رد کیا۔ اس کا مذاق اڑایا اور اس کی تکذیب کی تو یاد رکھیں کہ یہ اس کائنات کے بادشاہی حقیقی سے بغاوت ہوگی جس کی سزا بڑی ہی ہولناک ہے۔
ان پیشن گوئیوں کی طرف اشارہ جو انبیاء سے منقولی ہیں
انا کنامرسلین یہ بالکل انا کنا مذرین کے ہم وزن جملہ ہے جس طرح اوپر والی آیت میں قرآن کے نزول کا مقصد انذار بتایا ہے اسی طرح اس آیت میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں یہ بات پہلے سے طے تھی کہ وہ بنی اسماعیل میں ایک رسول مبعوث فرمائے گا جو بنی اسماعیل کے لئے بھی باعث رحمت ہوگا اور تمام خلق کے لئے بھی یہ اشارہ ان پیشین گوئیوں کی طرف سے ہے جو حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت مسیح (علیہم السلام) سے منقول ہیں اور جن کا حوالہ ان کے محل میں ہم دے چکے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اس رسول کی بعثت اسی اسکیم کے تح ہوئی ہے اور ٹھیک اس رات میں ہوئی ہے جو اس طرح کے امور مہمہ کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے۔
Ayah 44:6رحمۃ من ربک ط انہ ھو السمیع العلیم (6)
آنحضرت صلعم کے رحمت ہونے کی طرف اشارہ
یہ ارسال رسول کا مقصد واضح فرمایا اور خطاب رسول الہ ﷺ سے ہے کہ تہارے رب نے تم کو اپنی جانب سے ایک عظیم رحمت کے طور پر مبعوث فرمایا ہے۔ اگر لوگوں نے تمہاری قدر نہ کی تو تمہارا کچھ نہیں بگاڑیں گے، اپنے ہی کو اللہ کی سب سے بڑی رحمت سے محروم کریں گے۔ آیت 3 میں رسول کے منذر ہونے کا ذکر تھا، اس آی میں اس کے رحمت و بشارت ہونے کی طرف اشارہ ہوگیا۔ اور یہ دونوں باتیں ایک ہی حقیت کے دو پہلو ہیں جو چیز سب سے بڑی رحمت ہوگی وہ سب سے بڑی نقمت بھی بن سکتی ہے اگر اس کی قدر نہ کی جائے۔
یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ انذار کے پہلو کو مقدم رکھا ہے درآنحالیکہ قرآن کے نزول اور رسول کے بعثت سے اصل مقصود خلق پر رحمت ہوتا ہے اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف، سورة کے عمود پر تقریر کرتے ہوئے، ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة کا اصل مزاج انذار ہے۔
اللہ تعالیٰ کی سمع و علم کا لازمی تقاضا
انہ ھو السمیع العلیم ان صفات کے حوالہ میں ایک پہلو یہ محلوظ ہے کہ اس کائنات کا رب ایک دانا و بینا ہستی ہے، وہ اپنی خلق کو شتر بےمہار بنا کر نہیں چھوڑ سکتا۔ اس کے دانا و بینا ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ خلق کے حالات پر پوری نظر رکھے۔ لوگوں کو اپنے احکام و اموامر سے آگاہ کرے۔ اگر وہ ان کی تعمیل کریں تو دنیا و آخرت دونوں میں اس کا انعام دے اور اگر سرکشی کریں تو اس کی سزا دے۔ دوسرا یہ کہ اس وقت اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کے ساتھ قریش کے لیڈر جو کچھ کر رہے ہیں خدائے سمیع وعلیم اس سے بیخبر نہیں ہے۔ ہر بات اس کے علم میں ہے اور جب ہر بات اس کے علم میں ہے اور کوئی چیز بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے تو بنی اور اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ جو کچھ اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا وہ لازماً ظہور میں آئے گا۔ کوئی چیز بھی اس کی راہ میں مزاحم نہ ہو سکے گی۔
ان آیات کے مقدرات کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے سورة قصص کی آیات 46-45 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 44:7رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین (7)
مخالفین کو ایک تحت و عید
یہ مخالفین کو وعید اور بڑی ہی سخت وعید ہے۔ فرمایا کہ اس انذار وتبشیر کو محض ہوائی بات نہ سجھو جو محض تم پر دھونس جمانے کے لئے کہی جا رہی ہو بلکہ یہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کے خداوند کی طرف سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہی ہر چیز کا مالک اور خداوند ہے تو کس کے امکان میں ہے کہ اس کے کسی ارادے میں مزاحم ہو سکے۔ اگر وہ لوگوں کو پکڑنا چاہے تو جب چاہے پکڑ لے کوئی اس کو بچا نہیں سکتا اور اگر وہ کسی کو کچھ بخشنا چاہے تو جو چاہے بخش دے کوئی اس کو چھین نہیں سکتا۔
ان کنتم موقنین یہ مخاطبوں کو ملامت ہے کہ ہے تو یہ حقیت بالکل بدیہی لیکن کسی چیز کے ماننے کے لئے صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ بالکل واضح اور بدیہی ہے بلکہ یہ بھی ضروری کہ آدمی کے اندر اس کے ماننے کا ارادہ پایا جاتا ہہو۔ اگر یہ ارادہ کسی کے اندر موجود نہ ہو تو بدیہی سے بدیہی حقیقت کا بھی وہ انکار کر بیٹھتا ہے اور کوئی بڑے سے بڑا منطقی بھی اس کو قائل کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔
Ayah 44:8لا الہ الا ھو یحی ویمیت ربکم و رب ابآء ئکم الاولین 8
یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید تاکید ہے کہ اس کے سوا کوئی الہ نہیں جس کی سفارش تمہارے کچھ کام آسکے۔ زندگی اور موت سب اسی کے اختیار میں ہے۔ وہی تمہارا بھی رب ہے اور وہی تمہارے اگلے آباء و اجداد کا بھی رب ہے۔ اگر تمہارے آباء و اجداد نے اس کے سوا کسی اور کو پوجا تو یہ ان کی سفاہت و جہالت ہے۔ ان کی تقلید کو اپنے لئے دلیل نہ بنائو ورنہ پرائے شگون پر اپنی ناک کٹوا بیٹھو گے۔
Ayah 44:9بل ھم فی شک یلعبون (9)
انکار کی اصل علت
یعنی یہ انذار وتبشیر ہے تو ایک امر واقعہ جس میں کسی ذی ہوش کے لئے شک و شبہ نہیں ہے لیکن یہ لوگ اپنی خواہشوں کے ایسے غلام ہیں کہ جب تک اس چیز کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں جس سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے اس وقت تک ماننے والے نہیں ہیں، اس وجہ سے شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے اور اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہ نبی ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ زندگی کے معاملات میں جن لوگوں کی روش لا ابالیانہ ہے ان کو قائل کرنا تمہارا کام نہیں۔ یہ لوگ اس وقت قائل ہوں گے جب عذاب کا تازیانہ دیکھ لیں گے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔
Ayah 44:10فادتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین، یغشی الناس ھذا عذاب الیم (11-10)
ان کے لئے اسی دن کا اتنظار کرو جس دن آسمان ہر ایک کو نظر آنے والے دھوئیں کے ساتھ نمودار ہوگا جو سب پر چھا جائے گا اور وہ زبان حال سے اعلان کرے گا کہ یہ ایک درد ناک عذاب ہے یہ اس عذاب کی دھمکی ہے جس کا لوگ مطالبہ کر رہے تھے اور جس کو دیکھے بغیر نبی کے انذار کی تصدیق کے لئے تیار نہیں تھے۔
دخان مبین سے کیا مراد ہے
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دخان مبین سے کیا مراد ہے ؟ ذخان کے معنی دھوئیں کے ہیں اور اس کے ساتھ مبین کی فت کا واضح مطلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ دھواں ایسا ہوگا کہ ہر کہ دمہ اور ہر چھوٹے بڑے کو بالکل نمایاں نظر آئے گا۔ کسی کے لئے بھی اس میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہوگی۔
مفسرین میں سے ایک گروہ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ دھواں ظہور قیامت کے وقت ظاہر ہوگا۔ اس کی تائید میں انہوں نے ایک روایت بھی نقل کی ہے لیکن ناقدین حدیث نے اس روایت کو قصہ گویوں کی روایت قرار دے کر اس کی تردید کردی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ روایت آیات کے سیاق وسباق کے بھی خلاف ہے۔ آگے آپ دیکھیں گے کہ سیاق کلام صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ذکر قیامت کا نہیں بلکہ کسی ایسے عذاب کا ہے جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں ان کی قوموں پر آیا ہے، جس کی تفصیل عاد ثمود او قوم شعیب وغیرہ کی سر گزشتوں میں گزر چکی ہیں۔
ایک دوسرے گروہ نے اس سے ایک قحط مراد لیا ہے جو ان کے بیان کے مطابق ہجرت کے بعد نبی ﷺ کی بد دعا کے نتیجہ میں قریش پر آیا اور اس نے اتنی شدت اختیار کرلی کہ لوگ مردار تک کھانے پر مجبور ہوگئے اور بھوک سے ہر شخص کا یہ حال ہوا کہ آسمان کی طرف لوگ نظر اٹھاتے تو وہ بالکل دھواں ہی دھواں نظر آتا۔
عام طور پر ہمارے مفسرین نے اسی دوسرے قول کو اتخیار کیا ہے لیکن مجھے اس میں کئی باتیں کھٹکتی ہیں۔
اول یہ کہ اپنی پوری قوم کے لئے نبی ں کی طرف سے اس طرح کی بد دعا کا ذکر صرف اس تفسیری روایت ہی میں ملتا ہے۔ اس کے وسا کوئی اور شہادت اس کی موجود نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی قوم کے لئے بد دعا فرمائی ہو۔ آپ کی دعا اپنی قوم کے لئے ہمیشہ یہی رہی کہ رب اھد قومی فانھم لایعلموکن (اے میرے رب، میری قوم کو ہدیت دے کیونکہ یہ لوگ جانتے نہیں) سب سے زیادہ نازک موقع ہجرت کا تھا۔ ہجرت کے موقع پر بعض دوسرے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کے لئے بد دعا کی بھی ہے لیکن نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے اس موقع پر بھی کوئی بد دعا کا کلمہ نہیں نکلا۔ آپ نے فرمایا تو بس یہ فرمایا کہ اے مکہ تو مجھے بہت عزیز ہے لیکن کیا کروں، تیرے فرزند مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ مختلف جنگوں کے مواقع پر بھی، جب کہ قریش اور مسلمانوں کی فوجیں آمنے سامنے ہوئی ہیں، آپ نے جو دعائیں کی ہیں وہ تمام تر اہل ایمان کے لئے ثبات قدم اور حق کے لئے نصرت کے مضمون پر مشتمل ہیں۔ دشمنوں کے خلاف کوئی کلمہ زبان مبارک سے نکلا ہے تو وہ اس سے زیادہ نہیں ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ رعب ڈال دے اور ان کے قدموں کو متزلزل کر دے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ان مواقع پر بھی کبھی اپنی پوری قوم کے لئے آپ نے بد دعا فرمائی ہ۔
دوسری یہ کہ ہجرت کے بعد سب سے زیاہ نازک موقع حدیبیہ کا موقع ہے جب قریش کی عصبیت، جاہلیت بالکل عریاں ہو کر سامنے آئی اور مسلمانوں کے جذبات ان کے خلاف آخری حد تک مشتعل ہوگئے۔ لیکن اس موقع پر بھی آپ ﷺ نے قریش کے لئے کوئی بد دعا نہیں کی۔ صرف یہی نہیں کہ بد دعا نہیں کی بلکہ مسلمانوں کے مشتعل جذبات کو دبایا اور ان کو جنگ سے روک دیا اور قرآن نے جیسا کہ سورة فتح میں تفصیل آئے گی، اس جنگ کو روک دینے کی حکمت یہ واضح فرمائی کہ جنگ ہوتی تو اندیشہ تھا کہ اس سے ان لوگوں کو نقصان پہنچتا جو دل سے مسلمان تھے لیکن اپنی مجبوریوں کے باعث ابھی مکہ سے ہجرت نہیں کرسکے تھے۔ غور کیجیے کہ جب مکہ کے ان مخفی مسلمانوں ہی کے خیال سے مسلمانوں نے اپنی کھینچی ہوئی تولاریں میانوں میں کرلیں اور نبی ﷺ نے قریش کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرلیا جو صحابہ کے عام جذبات کے خلاف تھا تو انہی اہل مکہ کے لئے کسی ایسے قحط کی بد دعا آپ کیسے کرسکتے تھے جس میں لوگ مردار کھانے تک مجبور ہوجائیں اس قسم کا کوئی قحط نمودار ہوتا تو اس کی زد میں مکہ اور طائف کے سردار ہی تو نہ اتے ! اس کا اصلی حملہ تو غرباء اور عوام پر ہوتا جن کے اندر ایک بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی بھی تھی۔
تیسری یہ کہ نبی ﷺ کو نہ کسی دعا کی ہدایت کی گئی ہے نہ کسی بد دعا کی، بلکہ صبر کے ساتھ ایک ایسے دن کے انتظار کی ہدایت فرمائی ہے جس دن آسمان ایک ایسے دھوئیں کے ساتھ نمودار ہوگا جو پوری قوم پر چھا جائے گا اور جو زبان حال سے یہم نادی کرے گا کہ یہ وہی درد ناک عذاب ہے جس سے لوگوں کو آگنہ کیا گیا لیکن لوگ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ گویا اس کی نوعیت ایک وعید کی ہے اور وعید حالات کے ساتھ مشروط ہوتی ہے۔ قرآن میں قریش کو بار بار اس طرح کے عذاب سے ڈرایا گیا جس طرح کے عذاب عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب وغیرہ پر آئے لیکن اس قسم کا کوئی عذاب ان پر نہیں آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب کی اکثریت ایمان لائی۔ صرف تھوڑے سے اشرار اپنی شرارت پر اڑے رہے جو یا تو اہل ایمان کے ساتھ تصادم میں ختم ہوگئے یا فتح مکہ کے موقع پر انہوں نے گھٹنے ٹیک دیئے۔
چوتھی یہ کہ قحط کی تعبیر دخان مبین سے کوئی موزوں تعبیر نہیں ہے۔ قحط کا مضمون عربی شاعری کا ایک پامال مضمون ہے۔ جس زمانے میں شمال کی ٹھنڈی ہوائیں چلتیں ملک میں ایک قحط کی سی حالت پیدا ہوجاتی۔ بعض علاقوں میں حالات نہایت سنگین بھی ہوجاتے۔ عرب شعراء اپنے قصائد میں ان حالات کی نہایت مئوثر تصویر کھینچتے ہیں اور مختلف استعارات، کنایات، اور تشبیہات سے پورے حالات نگاہوں کے سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی شاعر نے بھی کسی شدید سے شدید قحط کو بھی دخان مبین سے تعبیر کیا ہو یا اس کے اثر کو بیان کرنے کے لئے یہ اسلوب بیان اختیار کیا ہو۔
ان وجوہ سے قحط والی روایت اگر صحیح بھی ہے تو اس کا تعلق اس آیت سے نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی قحط پڑا ہو، یہ بھی امکان ہے کہ یہ قحط بہت سخت ہوگیا ہو اللہ تعالیٰ کی یہ سنت بھی رہی ہے کہ رسولوں کی بعثت کے دور میں ان کی قومیں ایسی آزمائشوں میں ڈالی گی ہیں جس سے ان کے اندر تنبہ اور انابت پیدا ہو۔ اس سنت کے اشارات قرآن میں موجود ہیں۔ ان تمام امکانات کے باوجود اس آیت کا تعلق کسی ایسے قحط سے نہیں معلوم ہوتا جس کی شدت سے ہر شخص کا یہ حال ہوگیا کہ اس کو آسمان دھوئیں کی شکل میں نظر آنے لگا۔
دخان مبین کی تعبیر سے ذہن اگر منتقل ہوتا ہے تو قحط کی طرف نہیں بلکہ حاصب کے عذاب کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ عرب کی پچھلی قوموں پر رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں بیشتر یہی عذاب آیا ہے۔ عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب وغیرہ کی جو سرگزشتیں پیچھے گزر چکی ہیں ان میں اس عذاب کی تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ شعرئاے عرب کے کلام اور قرآن سے اس کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ دخان مبین کی تعبیر سے بہت ملتی جلتی ہوئی ہے۔ اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ سیاہ غبار کا ایک ستون سا آسمان کی طرف اٹھتا نظر آتا ہے۔ اس غبار میں جب تک سورج بالکل چھپ نہیں جاتا اس کی شعاعیں بھی اس کے اندر مخلوط ہوتی ہیں جس سے دیکھنے والوں کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی جنگل میں آگ لگی ہوئی ہے جس کا دھواں آسمان تک اٹھ رہا ہے پھر جب ہوا کا زور بڑھتا ہے اور یہ طوفان کسی طرف کا رخ کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ابر سیاہ چھا رہا ہے جو بس بسرنے والا ہی ہے۔ پھر یہ ایک ہولناک شکل اختیار کرلیتا ہے اور بستیوں کی بستیوں کو ریت اور کنکر پتھر کی بارش سے ڈھانک دیتا ہے۔ قوم عاد پر جب عذاب آیا تو انہوں نے فضا کے سیاہ غابر کو ابر سیاہ خیال کیا۔ چناچہ سورة احقاف میں ان کا ذکر یوں آیا ہے۔ قلما راوہ عارضا مستقبل او دیتھم قالوا ھذا عارض ممطرنا بل ھوما استعجلتم بہ ط ریح فیھا عذاب الیم (24) (پس جب انہوں نے اس عذاب کو ایک ابر کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو بولے کہ یہ تو بادل ہے جو ہمیں سیراب کرنے والا ہے۔ نہیں بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کے لئے تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ ایک باد تند، جس کے اندر ایک درد ناک عذاب ہے) اسی عذاب کو قوم شعیب کی تباہی کے ذکر میں عذاب یوم الظلۃ، سے تعبیر فرمایا گیا۔ فکذبوہ فاخذھم عذاب یوم الظلۃ …(الشعرا : 189) (پس انہوں نے اس کی تکذیب کردی جس کے نتیجہ میں ان کو یوم ظلہ کے عذاب نے پکڑ لیا۔) خلۃ چھتری اور سائبان اور شامیانے وغیرہ کے لئے بھی آتا ہے اور ابر کے لئے بھی
حاصب کا عذاب اپنے ابتدائی مرحلہ میں اٹھتے ہوئے ابریا دھوئیں ہی کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اس وجہ سے قرین قیاس بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ اسی عذاب کی دھمکی ہو۔ یہ دھمکی نہایت واضح الفاظ میں قریش کو عاد اور ثمود وغیرہ قوموں کی سرگزشتیں سنا کردی بھی گی تھی ہم نہایت وضاحت کے ساتھ پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ان قوموں کے عذاب کی نوعیت واضح کرچکے ہیں۔ آگے کی سورتوں کی تفسیر میں بھی یہ تفصیلات آئیں گی۔ وہاں ہم استاذ امام ؒ کی تحقیق بھی اس باب میں انشاء اللہ پیش کریں گے۔
یہ دھمکی جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ مخلافین اگر وسول کی تکذیب کردیں گے تو ان پر عذاب آجائے گا لیکن مشرکین قریش کی اکثریت، جیسا کہ معلوم ہے، آہستہ آہستہ مسلمان ہوگئی اور صلح حدیبیہ کے بعد تو ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ بالتدریج معاندین کا زور بالکل ٹو گیا، یہاں تک کہ فتح مکہ کے بعد یدخلون فی دین اللہ افواجاً (النصر : 2) کی پیشین گوئی اس طرح پوری ہوئی کہ اس کی صداقت کا مشاہدہ ہر شخص نے اپنی آنکھوں سے کرلیا۔ ظاہر ہے کہ جو دھمکی تکذیب کی شرط کے ساتھ مشروط تھی اس تصدیق کے بعد اس کے ظہور میں آنے کے لئے کوئی وجہ باقی نہیں رہی چناچہ قریش بحیثیت مجموعی اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے۔ صرف ان کے وہ اشرار مسلمانوں کی تلواروں کی زد میں آئے جو ان پر حملہ آور ہوئے اور جو تلواروں سے بچ رہے انہوں نے فتح مکہ کے بعد گھٹنے ٹیک دیئے۔
Ayah 44:11یغشی الناس ھذا عذاب الیم (11)
یہ اس عذاب کی شدت کی تعبیر ہے کہ وہ لوگوں کو اس طرح چھالے گا کہ کسی کے لئے بھی اس سے فرار کی کوئی راہ باقی نہیں رہے گی۔ ھذا عذاب الیم یہ زبان حال یا صورت حال کی تعبیر ہے کہ ہر شخص پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ کوئی قتی جھونکا نہیں ہے جو آیا اور گزر گیا بلکہ قہر الٰہی ہے جو سب کی کمر توڑ کے رکھ دے گا۔
Ayah 44:12ربنا اکشف عذا العذاب انا مئومنون (12)
مشاہدہ عذاب کے بعد مغروروں کا حال
ینی اس وقت تو یہ بہت اکڑ رہے اور بڑے طنطنہ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن جب اس کی لپیٹ میں آجائیں گے تو فریاد کریں گے اے رب ! اس عذاب سے نجات دے۔ اب ہم ایمان لائے۔
Ayahs 44:13–14انی لھم الذکری وقد حآء ھم رسول مبین، ثم تولوا عنہ وقالوا معلم مجنون (14-13)
یہ وہ جواب ہے جو ان لوگوں کو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جائے گا۔ فرمایا کہ عذاب آجانے کے بعد قبول نصیحت کا کہاں موقع باقی رہے گا چ بالخصوص جبکہ ان کے پاس اتمام حجت کے لئے اللہ نے اپنا ایک رسول بھی بھیج دیا تھا جس نے ہر بات کی اچھی طرح وضاحت کردی تھی لیکن انہوں نے نہایت تکبر کے ساتھ اس سے منہ موڑا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ یہ دوسروں کا سکھایا پڑھایا ہوا ہے جس کو عذاب و قیامت کا مالیخولیا ہوگیا ہے۔ اب تو بہ کا وقت گزر چکا توبہ کا وقت وہ تھا جب رسول توبہ کی منادی کر رہا تھا۔ وہ وقت انہوں نے کھو دیا تو اب وہ ان کے لئے واپس آنے والا نہیں ہے۔
اس قسم کا جواب عذاب کی گرفت میں آجانے والے متکبرین کے لئے جگہ جگہ نقل ہوا ہے۔ بعض متکبرین کو یہ جواب مخاطب کر کے دیا گیا ہے۔ مثلا فرعون کو خطاب کر کے فرمایا : الن وقد عصیت قبل (یونس :91) (اب ایمان لائے ! اس سے پہلے تو تم نے نافرمانی کی) دوسرے مقام میں ہے :
فیقول الذین ظلموا ربنا اخرنا الی اجل قریب نجب دعوتک ونتبع الرسل ط اولم تکرنوآ اقسمتم من قبل مالکم من زوال (ابراہیم : 44) (تو عذاب کی گرفت میں آجانے کے بعد، وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے پکاریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے، ہم تیری دعوت قبول اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔ اس وقت ان کو جواب ملے گا کہ کیا تم لوگ اس سے پہلے قسمیں نہیں کھاتے تھے کہ تم کبھی اپنے موقف سے ہٹنے والے نہیں ہوا) آیت زیر بحث میں یہی بات ان سے منہ پھیر کر غائبانہ اسلوب میں فرمائی گئی ہے۔ اسلوب کی یہ تبدلیاں بلاغت کے تقاضوں کے تحت ہوتی ہیں اور اہل ذوق کے لئے یہ چیزیں محتاج وضاحت نہیں ہیں۔ خطاب کے اسلوب میں شدت اور غائب کے اسلوب میں اعراض کا مضمون نمایاں ہوتا ہے۔
قرآن اور پیغمبر سے لوگوں کو بدگمان کرنے کے لئے قریش کا ایک اشغلہ
آنحضرت ﷺ پر قریش کا یہ الزام کہ آپ کو بعض دوسرے لوگ سکھاتے ہیں اور یہ ان کی غلط سکھائی ہوئی باتیں وحی کے دعوے کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں، بعض دوسرے مقامات میں بھی مذکور ہے۔ یہ الزام قریش نے محض ان لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے ایجاد کیا تھا جو قرآن کے مواد بحث و استدلال سے متاثر ہو کر یہ سوچنے لگ گئے تھے کہ اس قسم کا پر مغز کلام کوئی امی غیبی رہنمائی کے بغیر نہیں پیش کرسکتا۔ اس طرح کے لوگوں کو قرآن سے بدگمان کرنے کے لئے قریش نے یہ اشغلہ ایجاد کیا کہ یہ کلام کسی وحی والہام کا ثمرہ نہیں بلکہ کچھ پڑھے لکھے لوگوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ وہ لوگ در پردہ یہ کلام ایجاد کرتے ہیں اور یہ شخص اس کو وحی کے نام سے پیش کرتا ہے۔ مقصود سازش کرنے والوں کا یہ ہے کہ اس راہ سے وہ ہماری قوم میں تفریق پیدا کریں یہ الزام لگاتے ہوئے وہ یہ بھی تاثر دیتے کہ اس سازش میں بعض اہل کتاب اور عجمی بھی شامل ہیں تاکہ اس طرح وہ قرآن مجید اور آنحضرت ﷺ کے خلاف عربوں کے قومی جذبات کو کامیابی کے ساتھ بھڑکا سکیں۔
آنحضرت ﷺ کو مجنون کہنے کی اصل وجہ کی طرف اس کے محل میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ قریش محسوس کرتے تھے کہ اول تو آپ ﷺ کے دل پر خوف عذاب آخرت کا ایسا غلبہ ہے کہ آپ ﷺ اٹھتے بیٹھتے، ہر وقت اسی کی یاد دہانی کرتے ہیں۔ دوسرے آپ کے لب و لہجہ میں ایسا اذعان و یقین ہے کہ ہر شخص اس سے متاثر ہو کر یہ سوچنے لگتا ہے کہ اگر یہ شخص اللہ کی طرف سے مامور نہ ہوتا تو اس کو کیا پڑی تھی کہ دوسروں کے غم میں اپنا خواب و خور حرام کرلیتا ؟ لوگوں کے اس تاثر کو دور کرنے کے لئے قریش نے یہ کہنا شروع کردیا کہ جس طرح بعض لوگوں کو بعض چیزوں کا سودا ہوجایا کرتا ہے، وہ اٹھتے بیٹھتے اسی چیز کی رٹ لگائے رہتے ہیں اور ہر جگہ ان کو وہی چیز نظر آتی ہے، اسی طرح اس شخص کو بھی عذاب کا سودا ہوگیا ہے۔ ہر گوشے سے اس کو وہی آتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک خبط و جنون ہے۔ بھلا عذاب ہم پر کدھر سے اور کیوں آجائے گا
Ayah 44:15انا کاشفوا العذاب قلیلاً انکم عآبدون (15)
جو خواہشوں کے بندے ہوتے ہیں ان کی تو بہ عاضری ہوتی ہے
یعنی ہوسکتا ہے کہ ہم تمہاری اس درخواست پر کہ ہم سے عذاب ٹال دیا جائے ہم ایمان لانے والے بن جائیں گے کچھ وقت کے لئے عذاب ہٹا دیں لیکن تم پھر اسی راہ پر چلو گے جس پر عذاب سے پہلے چلتے رہے ہو۔ اپنی خواہشوں کے غلاموں کا حال یہی ہوتا ہے کہ جب ان کو کوئی آزمائش پیش آجاتی ہے تو ناک رگڑ کے توبہ کرتے ہیں لیکن جب آزمائش گزر جاتی ہے تو اس طرح چل دیتے ہیں گویا نہ کوئی بات پیش آئی نہ انہوں نے کوئی قول وقرار کیا اور نہ آئندہ اب اس طرح کی بات پیش آئے گی۔
Ayah 44:16یوم نبطش البطشۃ الکبریٰ انا منتقمون (16)
یعنی اس دنیا میں پکڑ سے چھوٹ بھی گئے تو یہ چیز وجہ اطمینان نہیں ہونی چاہئے۔ اس دن کو یاد رکھو جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے۔ بڑی پکڑ سے مراد قیامت کی پکڑ ہے۔ اس دنیا میں قوموں کی جو گرفت ہوتی ہے وہ قیامت کے مقابل میں بہرحال چھوٹی ہی ہوتی ہے۔ قیامت کی پکڑ ابدی اور دائمی ہوگی اور اس دن تمام مجرموں سے اللہ تعالیٰ پورا پورا انتقام لے گا۔
Ayah 44:17-2 آگے کا مضمون …آیات : 33-17
آگے اس بات کی تاریخی دلیل پیش کی گئی ہے جو اوپر کے پیرے میں بیان فرمائی گی ہے۔ قریش کی تنبیہ کے لئے حضرت موسیٰ ؑ اور فعون کی سرگزشت کا اتنا حصہ بالا جمال سنا دیا گیا ہے جس سے ان پر حقیقت واضح ہوجائے کہ فرعون نے خدا کے رسول کے ساتھ جو چال چلی تھی وہی چال قریش کے فراعنہ بھی خدا کے رسول کے ساتھ چل رہے ہیں۔ فرعونیوں کو اللہ نے ان کی چالوں کی سزا دی اور ان کا سارا غرور پامال ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی خدا کی پکڑ میں آجائیں گے اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے … آیات کی تلاوت فرمایئے۔
ولقد فتنا قبلھم قوم فرعون وجآء ھم رسول کریم (17)
قریش اور قوم فرعون کے حالات میں مشابہت کی طرف قرآن نے جگہ جگہ اشارے کئے ہیں یہاں بھی اس کی طرف اشارہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج جس طرح کے امحتان میں ہم نے قریش کو ڈالا ہے اسی طرح کے امتحان میں ہم نے اس سے پہلے قوم فرعون کو بھی ڈالا تھا۔ جس طرح ان کو سامان عیش و رفاہیت کی فراوانی حاصل ہوئی اسی طرح ان کو بھی دولت و نعمت کی کثرت عطا ہوئی تھی۔ پھر جس طرح ان کی طرف ایک معزز رسول انذار اور اتمام حجت کے لئے آیا اسی طرح ان کی طرف بھی ایک باعزت رسول آیا ہے۔ اس مشابہت کے حوالہ سے مقصود ظاہر ہے کہ یہ دکھانا ہے کہ جو انجام ان کا ہوا، وہی انجام لازماً ان کا بھی ہونا ہے اگر انہوں نے بھی انہی کی روش اختیار کی۔
اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اس دنیا میں قوموں کو جو دولت شوکت حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امحتان کے لئے ہوتی ہے۔ وہ یہ سب کچھ دے کر یہ دیکھتا ہے کہ اللہ کی یہ نعمتیں پاکر قومیں اس کی شکر گزاری اور بندگی کی راہ پر چلتی ہیں یا سرکشی اور طغیان کی راہ اختیار کرلیتی ہیں۔ اگر وہ یہ دوسری راہ اختیار کرلیتی ہیں تو مہلت کی ایک مدت ان کو ملتی ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کا نام و نشان مٹا دیتا ہے۔
عزت و شرف منصب رسالت کا خاصہ ہے
رسول کے ساتھ کریم کی صفت اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ رسول چونکہ بادشاہ کائنات کے سفیر کی حیثیت سے لوگوں کے پاس آتا ہے اس وجہ سے عزت و شرف اس کے اس منصب کا ایک لازمی تقاضا ہے اس کے متعلق یہ سوال نہیں پیدا ہوتا کہ وہ امیر ہے یا غریب اور نہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ فرعون کے شاہی خاندان سے ہے یا نبی اسرائیل کے غریب خاندان سے جن کو فرعون غلام اور ذلیل سمجھتے تھے۔ اس کا اصلی وصف یہ ہے کہ وہ خدا کا سفیر ہے اور جو خدا کا سفیر ہے اس سے معزز خدا کے سوا نہ کوئی اور ہے، نہ ہو سکتا ہے۔
Ayah 44:18ان ادوا الی عباد اللہ ط انی لکم رسول امین (18)
اللہ کے بندوں کو کوئی پانا بندہ نہیں بنا سکتا
ان سے پہلے حرف جو محذوف ہے یعنی با عزت رسول اس پیغام کے ساتھ ان کے پاس آیا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالہ کرو۔ یہ وہی بات ہے جو دوسرے مقامات میں فارسل معنا بنی اسرآئیل (طہ : 47) کے الفاظ سے نقل ہوئی ہے۔ البتہ یہ فرق ہے کہ اس فقرے میں حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے مطالبہ کی دلیل بھی سمودی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو اللہ کے بندے ہیں کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ ان کو اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے اس وجہ سے ان کو میرے ساتھ جانے اور تاکہ ہم اپنے رب کی بندگی جس طرح کرنی چاہتے ہیں بغیر کسی روک ٹوک کے کرسکیں۔ یہ سوال کہ حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو کہاں لے جانا چاہتے تھے۔ اس تفسیر میں جگہ جگہ زیر بحث آچکا ہے۔ اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنی بات واضح ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کے لئے اللہ کی بندگی کی پوری آزادی چاہتے تھے۔ فرعون کے لئے یہ حق تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے کہ وہ لوگوں کو اپنا بندہ بنائے رکھے۔
ایک مخفی تہدید
انی لکم رسول امین یہ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کے درباریوں کو اطمینان دالیا کہ میں کوئی مدعی اور مفتری نہیں ہوں بلکہ فی الواقع خدا کا رسول ہوں۔ پوری امانت و دیانت کے ساتھ تم کو وہی پیغام پنچا رہا ہوں جو خدا نے دے کر مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے یہ بات مجرد اپنی صفائی میں نہیں فرمائی بلکہ اس کے اندر ایک تہدید بھی مخفی ہے کہ اگر مجھے مفتری قرار دے کر میری تکذیب کی گئی تو اس کے نتائج مہلک ہوں گے۔ جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے وہ ان لوگوں سے ضرور انتقام لے گا۔
Ayah 44:19ان لاتعلوا علی اللہ، انی اتیکم بسلطن مبین (19)
رسول سے بغاوت خدا سے بغاوت ہے
یہ اسی پیغام کا حصہ ہے کہ مجھے یہ پیغام پہنچانے کی بھی ہدیات ہوئی ہے کہ خدا کے اس حکم کو سیدھے سیدھے مان لو۔ اگر تم نے سرکشی کی تو یہ سرکشی صرف میرے ہی مقابلہ میں نہیں ہوگی بلکہ یہ اصلاً خدا کے مقابل میں ہوگی اس لئے کہ میری اصل حیثیت یہ ہے کہ میں خدا کا سفیر ہوں۔
انی اتیکم بسلطن مبین سلطان مبین سے اشارہ عصا اور ید بییضاء کے معجزات کی طرف ہے۔ یعنی سفیر الٰہی ہونے کی اپنے پاس نہایت واضح سند رکھتا ہوں اور وہ تمہیں دکھاتا ہوں تاکہ میرے باب میں تمہیں کوئی شک باقی نہی رہے۔ حضرت موسیٰ ؑ چونکہ ایک نہایت سرکش اور جبار بادشاہ کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے ان کو ایسے عجزات سے مسلح فرما دیا تھا جو ان کے مخالفوں پر حجت ہو سکیں۔
Ayah 44:20وانی عذت بربی و ربکم ان ترجمون (20)
ایک بلیغ دعوت اور موثر تنبیہ
یہ بات حضرت موسیٰ ؑ نے اس وقت فرمائی ہے جب ان کے مطالبہ کے تمام قبطیوں میں ایک ہلچل برپا کردی۔ اس وقت ان کو قتل کی دھمکی بھی دی گئی اور یہ اندیشہ بھی پیدا ہوگیا کہ کہیں یہ سرپھری قوم بوکھلا کر آپ کو سنگسار ہی نہ کرے۔ اس وقت آپ کے لوگوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے اگر تم لوگ مجھے سنگسار کرنے کی نیت رکھتے ہو تو میں اپنے کو اس رب کی پناہ میں دیتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ وربکم (اور تمہارا بھی رب ہے) کے الفاظ میں ایک مئوثر اپیل بھی ہے، نہایت بلیغ دعوت بھی ہے اور نہایت پروقار تبیہ بھی اور ساتھ ہی اس میں یہ طنز بھی مخفی ہے کہ اس خناس کے کہے میں آ کر جو تمہارا رب اعلیٰ بنا ہوا بیٹھا ہے کوئی ایسی حرکت نہ کر گزرنا جو تمہاری ساری قوم کا بیڑا ہی غرق کر دے۔
Ayah 44:21وان لم تومنوا لی فاعتزلون (21)
یعنی اگر تم لوگ یہ باور کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہو کہ میں خدا کا سیر ہوں تو کم از کم مجھے قتل یا سنگسار کرنے کے مجرم نہ بنو بلکہ میری راہ چھوڑو۔ میں بنی اسرائیل کو لے کر جہاں جانا چاہتا ہوں چلا جائوں۔ بہتر تو یہ تھا کہ تم میری بات ابور کرتے اور مجھ پر ایمان لاتے۔ یہ چیز تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کی سعادت کی ضامن ہوتی۔ اگر یہ منظور نہیں ہے تو کم از کمیری راہ میں مزاحم ہونے کی کوشش نہ کرو۔
Ayah 44:22فدعا ربہ ان ھولاء قوم مجرمون (22)
حضرت موسیٰ کی فریاد اپنے رب سے
قبطیوں پر حضرت موسیٰ ؑ کی اس اپیل پر اور تنبیہ کا کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ وہ بدستور اپنی سازشوں اور سرگرمیوں میں لگے رہے۔ بالآخر حضرت موسیٰ ؑ اپنے رب سے فریاد کی، اے رب یہ لوگ سننے اور ماننے والے نہیں ہیں بلکہ یہ پکے مجرم ہیں، تو ہی ہے جو ان کے چنگل سے رہائی دلوا سکتا ہے۔
Ayah 44:23فاسربعبادی لیلاً انکم متعبون (23)
فریاد کی فوراً شنوائی ہوئی
یہ فریاد بالکل برقوت تھی اس وجہ سے فوراً شنوائی ہوئی۔ قبولیت کی مب اورت ظاہر کرنے کے لئے یہا کوئی ایسا لفظ لانا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ دعا کے جواب میں حضرت موسیٰ ؑ کو یہ ہدایت ہوئی۔ حکم ہوا کہ میرے بندوں کو لے کر یہاں سے راتوں رات نکل جائو اور ساتھ ہی یہ نبیہ بھی فرما دی گئی کہ فرعونیوں کی طرف سے تمہارا تعاقب ہوگا۔ اس انتباہ کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ فرعون نے اگرچہ ان آفتوں سے تنگ آ کر جو حضرت موسیٰ ؑ کی دعائوں کے نتیجہ میں مصر پر نازل ہوئیں، حضرت موسیٰ ؑ کو چند دن کے لئے جانے کی اجازت دے دی لیکن جب حضرت موسیٰ ؑ اپنی پوری قوم سمیت روانہ ہوئے تو اس کی نیت بدل گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ اجازت دینے میں اس نے غلطی کی ہے۔ چناچہ وہ فوراً اپنی اور اپنے تمام علاقائی سرداروں کی فویں لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہوا کہ ان کو مجبور کر کے پھر واپس لائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو اس پیش آنے والی صورت حال سے ہپلے سے آگاہ کردیا تھا تاکہ کوچ و قیام میں کوئی غیر ضروری تاخیر پیش نہ آئے بلکہ وہ مقررہ پروگرام کے مطابق دریا کو عبور کرنے کی کوشش کریں۔
Ayah 44:24واترک البحر رھواً ط انھم جند مغرقون (24)
حضرت موسیٰ ؑ کو ہدایت
رھو کے معنی ساکن کے ہیں یعنی تم اس ہوا کے رکنے سے پہلے پہلے وریا سے نکل جائو جس ہوا کے ذریعہ سے پانی کو قدرت ہٹائے اور تمہارے لئے راستہ صاف کرے گی۔ تمہارے نکلتے ہی دریا پر سکون ہوجائے گا اور ہٹا ہوا پانی پھر اپنی جگہ گھیر لے گا۔ اس دوران میں مصرف تمہارے ت عاقب میں دریا کے بیچ میں ہوں گے اور پانی ان پر اس طرح چھا جائے گا کہ وہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔
Ayahs 44:25–27کم ترکوا من جنت وعیون وزروع ومقام کریم وقعمۃ کانوا فیھا فکھین (27-25)
خدا کے خوف کے بغیر سامان پیش تیزی کا پیش خیمہ ہے
یعنی جن باغوں اور چشموں، کھیتوں اور پر شکوت کو ٹھیوں اور عیش کے سامانوں نے ان کو استکبار میں مبتلا کیا، ان سے محروم ہو کر سمندر کی موجود کا لقمہ بنے۔ ان کا گمان تھا کہ یہ چیزیں ان کی کامیابی اور ترقی کی دل یل ہیں اور جو لوگ ان کی تباہی سے ڈراتے ہیں وہ بالکل بےخرد ہیں۔ لیکن ثابت ہوگیا کہ خدا کے خوف کے بغیر یہ چیزیں تباہی کا پیش چیمہ ہیں اور جب تباہی آتی ہے تو ان میں سے کوئی چیز بھی کام نہیں آتی۔
Ayah 44:28کذلک واورثنھا قوماً اخرین (28)
مجرموں کے لئے سنت الٰہی
کذلک کے بعد نقعل بالمجرمین کے الفاظ بربنائے قرینہ محذوف ہیں۔ یعنی ہم نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے آئے ہیں اور ایسا ہی آئندہ بھی کریں گے واورثنھا قوماً اخرین اور ان چیزوں کا وارث ہم نے دوسروں کو بنایا۔ دوسروں سے مراد یہاں نبی اسرائیل نہیں ہیں۔ مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل کا مصر آنا ثابت نہیں ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد پڑوس کی وہ قومیں ہوں جن سے فرعونیوں کو برابر اندیشہ رہا کہ مبادا وہ بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ ملا کر ملک پر قبضہ کرلیں تو رات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ذکور کے قتل کی جو اسکیم چلائی گئی تھی اس کا محرک ان کا یہ انیدشہ بھی تھا کہ اگر بنی اسرائیل کی تعداد زیادہ ہوگئی تو وہ ان کے دشمنوں کیساتھ مل کر ان کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
Ayah 44:29فما بکت علیھم السمآء والارض وما کانوا منظرین (29)
یعنی جب تک وہ اقتدار میں رہے اس وقت تک تو سمجھیت رہے کہ وہ ایک عظیم تمدن کے بانی ہیں اور ساری دنیا ہمیشہ ان کی کنونڈی رہے گی لیکن ان کی تباہی پر نہ آسمان رویا، نہ زمین ہی نے دو آنسو بہائے بلکہ ہر ایک نے اطمینان کا سانس لیا کہ خس کم جہاں پاک !
یہ امر یہاں واضح رہے کہ ایک مظلوم کی موت پر تو آسمان بھی کبیدہ خاطر ہوتا ہے اور زمین بھی فریاد کرتی ہے۔ تورات میں لکھا ہے کہ خداوند نے فرمایا کہ زمین سے مجھے ہابیل کا خون پکارتا ہے۔ لیکن ظالموں اور نافرمانوں کی بربادی پر آسمان اور زمین سب خوش ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ان نافرمانوں کی تباہی پر جن پر اللہ نے اپنے رسول کے ذریعہ سے حجت تمام کردی ہو۔
Ayahs 44:30–31ولقد نجینا بنی آسرائیل من العذاب المھین، من فرعون انہ کان عالیاً من المسرفین (31-30)
من فرعون بدل ہے العذاب المھین سے گویا اللہ نے خود رفعون کو ایک عذاب ذلت سے تعبیر فرمایا۔ فرعون تو حرت موسیٰ اور ان کی قوم کو ذلیل سمجھتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک خود فرعون نہ صرف ذلیل بلکہ ایک عذاب رسوائی تھا۔
انہ کان عالیاً من المسرفین یہ وجہ یان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اسے ایک رسوا کن عذاب سے تعبیر کیا گیا : فرمایا کہ اس وجہ سے کہ وہ نہایت سرکش اور اللہ کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کر جانے والوں میں سے تھا۔ جو لوگ اللہ کے آگے سرکشی کرتے ہیں وہ مظلوموں کے لئے عذاب اور عند اللہ ذلیل ہوتے ہیں۔
Ayah 44:32ولقد اخترنھم علی علم علی العلمین (32)
جو قوم شریعت کی حامل ہوتی ہے وہی خلق کی رہنمائی کی اہل ہوتی ہے
یعنی فرعون اور اس کی قوم کو تو ہم نے غرق دریا کیا اور بنی اسرائیل کو جو ان کے قدموں کے نیچے پامال ہو رہے تھے، اہل عالم کی رہنمائی کے لئے انتخبا یا۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ جو قوم خدا کی شریعت کی حامل بنائی جاتی ہے فطری طور پر وہی اہل اور حقدار ہوتی ہے اس بات کی کہ وہ خلق کی رہنمائی کیر۔ اس کا یہ منصب مشروط ہوتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ اپنی منصبی ذمہ داری پوری دیانت کے ساتھ ادا کرے اگر وہ یہ ذمہ داری ادا نہ رے تو اللہ تعالیٰ اس سے یہ منصب چھین کر دوسروں ک کے حوالہ کردیتا ہے۔ ایک خاص دور میں بنی اسرائیل کو یہ منصب حاصل ہا لیکن جب وہ اس کے اہل نہیں رہے تو وہ معزول کردیئے گئے اور ہدایت خلق کی ذمہ داری ملت مسلمہ کے سپرد ہوئی۔
تاریخ کا ایک فلسفہ
علی علم کے الفاظ سے تاریخ کے اس فلفہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں قوموں کا عزل و نصب اتفاقی واقعات کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی کسوٹی پر جانچ کر جس قوم کو اہل پاتا ہے اس کو منتخب کرتا ہے اور جس کو نااہل پاتا ہے اس کو رد کردیتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو معزول ہوئے ہیں وہ دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنی نالائقی پر سرپیٹیں اور جو اقتدار پر آئے وہ فخر و غرور میں مبتلا ہونے کے بجائے خدا کے شکر گزار ہوں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اس دنیا کے عروج پر زوال کا سارا نقشہ اللہ تعالیٰ مرتب کرتا ہے اور اس کی بنیاد تمام تر قوموں کے اخلاق و کردار پر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم بےخطا اور اس کی حکمت بےلاگ ہے۔
بنی اسرائیل کے لئے ایک اہم تنبیہ
ان آیات کے اندر بنی اسرائیل کے لئے جو ان آیات کے زمانہ نزول میں قرآن اور پیغمبر ﷺ کی مخالفت کے لئے کمریں کس رہے تھے، نہایت اہم تنبیہ ہے جس کی وضاحت کی رضورت نہیں ہے۔ اگر وہ ایک ہی نکتہ سمجھ گئے ہوتے کہ ان کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بنیاد پر کیا تھا اور اب اس کے علم ہی کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اس کے اہل نہیں رہے تو وہ اس انجام بد سے بچ جاتے جو اسلام کی مخالفت کے نتیجہ میں ان کے سامنے آیا۔
Ayah 44:33واتینھم من الایت مافیہ بلوآء مبین (33)
بنی اسرائیل کا امتحان انعامات کے ذریعہ سے
بلوآء کے اصل معنی تو امتحان اور جانچ کے ہیں لیکن امتحان نعمت کے ذریعے سے بھی ہوتا ہے در مصیبت کے ذریعے سے بھی۔ نعمت کا امتحان شکر کی جانچ کے لئے ہوتا ہے اور مصیبت کا امتحان صبر و رضا کی جانچ کے لئے۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہ نعمت اور انعام کے مفہوم میں آیا ہے جس طرح الانفال آیت 17 میں بلآء کا لفظ حسناً کی صفت کے ساتھ آیا ہے۔ یہ اشارہ ان انعامات کی طرف ہے جو سمندر سے پار کراتے ہوئے اور اس کے بعد صحرا کی زندگی میں اور فتح فلسطین اور اس کے بعد کے ادوار میں اللہ تعالیٰ نے گوناگوں شکلوں میں بنی اسرائیل پر فرمائے جن کی تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔
Ayahs 44:34–35-4 آگے کا مضمون … آیات 57-34
آگے کی آیات میں قریش کی سرکشی کے اصل سبب پر روشنی ڈلی گئی ہے کہ یہ لوگ اس دنیا کی زندگی کے بعد کسی اور زندگی کا تصور نہیں رکھتے اس وجہ سے اپنے حاضر میں مگن اور مستقبل سے نچنت ہیں۔ ان کی اس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے پہلے قانون جزاء و سزا کے عقلی و فطری دلائل بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد اہل کفر و اہل ایمان دونوں کے انجام کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ان ھولآء لیقولون ان ھی الا موتننا الاولی وما نحن بمنشرین (35-34)
کفار کا زعم
یعنی یہ لوگ بڑے عزم و جزم کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ قیامت وغیرہ کا ڈراوا محض ایک ہوا ہے۔ بس یہی موت، جس سے اس دنیا میں سابقہ پیش آتا ہے۔ یہی اول موت بھی ہے اور یہی آخر بھی۔ اس کے بعد نہ کوئی موت ہے، نہ کوئی زندگی۔
Ayah 44:36قالوا بابآئنا ان کنتم صدقین (36)
کفار کی واحد بےبنیاد دلیل
اپنے اس دعوے کی تائید میں وہ اہل ایمان سے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر موت کے بعد زندگی ہے تو تمہاری سچائی ہم اس وقت تسلیم کریں گے جب تم ہمارے وفات پائے ہوئے بزرگوں میں سے کسی کو زندہ کر کے دکائو۔ یہی مضمون سورة جاثیہ میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ واذا تتلی علیھم ایتنا بینت ما کان ججتھم الا ان قالوا ائتوا بابآئنا ان کنتم صدقین (الجاثیۃ :25) (اور جب ان کو موت کے بعد کی زندگی کے حق میں ہماری روشن دلیلیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو واحد دلیل جو وہ اس کے مقابل میں پیش کرتے ہیں وہ ان کا یہ قول ہوتا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے دکھائو) قرآن نے اس دلیل کو ان کی واحد دلیل قرار دیا ہے اور اس کا حوالہ دے کر اس کو نظر انداز کردیا ہے۔ کوئی تردید اس کی نہیں کی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان کی واحد لیل جس پر ان کو بڑا ناز ہے، یہ ہے اس کی نعویت اس قدر واضح ہے کہ اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔