Ayahs 44:37–39اھم خیرام قوم تبع والذین من قبلھم اھلکنھم انھم کانوا مجرمین (37)
قوم تبع سے مراد تبابعہ یمن ہیں جن کی ماذی شوتک و عظمت اور ذہنی صلاحیتوں کی عرب میں بڑی شہرت رہی ہے۔ عرب شعراء ان کی عظمت کا چرچا بہت کرتے ہیں۔
قوموں پر جب خدا کا عذاب آتا ہے تو وہ اپنے ہی اسلحہ سے خودکشی
قرآن نے قریش کے مذکورہ بالا مطالبہ کے جواب میں ان سے یہ سوال کیا ہے کہ وہ تائیں کہ مادی شان و شوکت اور ذہنی و عقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے وہ برتر ہیں یا تبابعہ برتر تھے ؟ اگر وہ برتر تھے اور اس برتری کے باوجود خدا نے ان کو تباہ کردیا، نہ ان کے مادی قوت و وصولت ہی خدا کی پکڑ سے ان کو بچاسکی نہ ان کی ذہانت ہی ان کے کچھ کام آئی تو آخر یہ کس بل بوتے پر اس غرے میں مبتلا ہیں کہ کوئی ان کو ہلا نہیں سکتا ؟ جب خدا نے ان سے زیادہ زور آوروں کی گردن توڑ دی تو ان کی گردن کیوں نہیں توڑ سکتا ؟ یہی حال ان سے پہلے کی دوسری قوموں کا بھی ہوا۔ عاد وثمود وغیرہ اور بعض دوسری قومیں ہر اعتبار سے ان سے برتر تھیں لیکن جب انہوں نے خدا سے سرکشی کی تو خدا کے ان کا نام و نشان مٹا دیا تو آخر ان کے ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ بہ خدا کے چہیتے بنے رہیں گے اگرچہ سرکشی میں ان سے بھی چار قدم آگے نکل جائیں ؟ خدا کی میزبان میں وزن قوموں کے اخلاق و کردار کا ہے، ان کی مادی دولت و ثروت اور ان کی شاندار عمارتوں کا نہیں ہے اور نہ ان کے میزائلوں پر ایٹم بموں کا ہے۔ جب قوموں کا کردار فاسد ہوجاتا ہے تو ان کے انہی بموں کو، جو وہ دوسروں کو تباہ کرنے کے لئے بناتی ہیں خود ان یہ کے سروں پر دے مارتا ہے اور وہ اپنے ہی بنائے ہوئے اسلحہ سے خودکشی پر مجبور ہوتی ہیں۔
دنیا میں قوموں کو سزا ملنا آخرت کے عذاب کی دلیل ہے
دنیا میں خدا کے قانون مجازات کی مثالیں موجود ہیں اور اتنی کثرت سے موجود ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ہے تو آخر ایک ایسے روز جزاء و سزا کے بارے میں کیوں شک کیا جائے جس دن خالق کائنات افراد کو بھی اسی طرح جزا یا سزا دے جس طرح اس نے دنیا میں قوموں کو جزا یا سزا دی ہے۔ وما خلقنا السموت والارض وما بینھما یعبین، ماخلقنھا الا بالحق ولکن اکثرھم لایعلموکن (39-38)
آخرت خدا کی صفات کا لازمی تقاضا ہے
اوپر جزاء و سزا کید لیل تاریخ اور آفاقت کے آثار و شواہد سے پیش کی گئی ہے۔ اب یہ خدا کی صفات اور ان کے اخلاقی و عقی تقاضوں سے اس پر دلیل لائی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل تماشے کے طور پر نہیں بنایا ہے بلکہ ایک برترغایت اور ایک مقصد حق کے ساتھ پیدا کیا یہ۔ اس مقصد حق کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک دن یہ دنیا ختم ہو اور اس کے بعد ایک ایسا دن آئے جس میں اس کا خالق ان لوگوں کو انعام دے جنہوں نے اس میں اس کی پسند کے مطابق زندگی بسر کی ہو اور ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے اس کی نافرمانی کی ہو۔ اگر اس طرح کا کوئی دن نہ آئے، یہ دنیا اسی طرح چلتی رہے یا یوں ہی ایک دن تمام ہوجائے، نہ اس کے نیکوں کو کوئی انعام ملے نہ بدوں کو کوئی سزا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کا خالق نعوذ باللہ، کوئی کھلنڈرا ہے جو آسمانوں پر بیٹھا ہوا ظلم و مظلومی کا تماشا دیکھ رہا ہے اور جب اس کا جی اسے تماشے سے بھر جائے گا تو اس کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا یا یوں ہی یہ تماشا جاری رہے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ خیال اس کائنات کے حکیم و رحیم خالق سے متعلق ایک ایسا سوء ظن ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اکثریت اس میں مبتلا ہے اور لوگ اس کے نتائج سے بالکل بیخبر ہیں۔
اس خیال کی گمراہیوں پر پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ہم مفصل بحث کرچکے ہیں اس وجہ سے یہاں اشارہ پر کافیت کرتے ہیں۔
Ayah 44:40ان یوم الفصل میقتھم اجمعین (40)
اس کائنات کے بالحق ہونے کا لازمی تقاضا
یہ اس کائنات کے بالحق ہونے کا لازمی نتیجہ مذکور ہوا ہے کہ یہ بات خدا کے علم، عدل اور اسکی حکمت و رحمت کے بالکل منفای ہے کہ یہ دنیا یوں ہی چلتی رہے یا یوں ہی متام ہوجائے بلکہ ضرور ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس دن خدا عدل کی کرسی پر بیٹھے اور ہر ایک کے معاملات کا فیصلہ کرے۔ جنہوں نے حق و راستی کی زندگی بسر کی ہو وہ اس کا صلہ پائیں اور جنہوں نے ظلم و تعددی کا ارتکاب کیا وہ اپنے کئے کی سزا بھگتیں اور وہ دن عدل کامل کے ظہور کا دن ہو کہ کوئی بھی اس سے بچ نہ سکے۔ چھوٹے اور بڑے، امیر اور مامور، شاہ اور گداسب کا انصاف ہو اور ایسا انصاف ہو کہ نہ کوئی حقیقت مخفی رہ جائے اور نہ کوئی کسی پہلو سے انصاف میں مزاحم ہو سکے۔ یہاں لفظ اجمعین پر خاص طور سے نظر رہے۔
Ayah 44:41یوم لایغنی مولی عن مولی شیئاً ولاھم ینصرون (41)
لفظ مولی خاندان اور قبیلہ کے ان افراد کے لئے آتا ہے جن کے ساتھ آدمی کا خون اور نسب کا رشتہ اور جن میں باہم عصبیت کا جذبہ ہو۔ فرمایا کہ وہ دن ایسا نفسی نفسی کا ہوگا کہ کوئی عزیز و قریب کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں بنے گا۔ ولا ھم ینصرون اور نہ ان کی کسی اور ہی طرف سے کوئی مدد کی جائے گی۔ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس مدد کی نفی ہے جو مشرکین اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء سے رکھتے تھے۔
Ayah 44:42الا من رحم اللہ ط انہ ھو العزیزا الرحیم (42)
اللہ کی رحمت کے حق دار
یعنی اس دن فائز المرامی صرف انہی کا حصہ ہوگی جن پر خدا اپنا فضل فرمائے اور اس کا فضل انہی پر ہوگا جو اس کے مستحق ٹھہریں گے۔ اللہ عزیز بھی ہے اور ساتھ ہی رحیم بھی۔ وہ جن کو پکڑے گا کوئی ان کو چھڑا نہ سکے گا اور جن کو وہ اپنی رحمت کا مستحق پائے گا کوئی ان کو اس کی رحمت سے محروم نہیں کرسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ بندوں کو ڈرنا بھی اسی سے چاہئے اور رحمت کی امید بھی اسی سے رکھنی چاہئے۔
Ayahs 44:43–46ان شجرت الزقوم، طعام الاثیم، کالمھل یغلی فی البون، کغلی الحمیم (46-43)
مجرموں کا حشر
اوپر یوم الفصل کا جو ذکر آیا ہے اس کے فیصلوں کے نتیجہ میں گنہگاروں کا جو حشر ہوگا یہ اس کی تصویر ہے۔ فرمایا کہ تھوہر کا درخت گنہگاروں کی غذا بنے گا یہ تھوہر دوزخ کا تھوہر ہے اس وجہ سے اس کی اصل حقیقت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ ہم اس دنیا کے تھوہر سے بس اس کا ایک ہلکا سا تصور ہی کرسکتے ہیں، اس کی اصل حقیقت نہیں سمجھ سکتے۔
لفل مھل کے مختلف معنی لوگوں نے بیان کئے ہیں۔ اشتقاق کے پہلو کو سامنے رکھ کر میں نے تیل کے تلچھٹ کے معنی کو ترجیح دی ہے فرمایا کہ یہ تھوہر ان گنہگاروں کے معدہ میں جا کر اس طرح کھولے گا جس طرح تیل کا تلچھٹ کھولتا ہے اور اس طرح جوش مارے گا جس طرح پانی جوش مارتا ہے۔
یعنی اس کا کھولنا حدت، شدت، جلن اور تلخی میں تو نہایت مکروہ اور کڑوے تیل کے تلچھٹ کے مانند ہوگا اور جوش کے اعتبار سے پانی کے کھولنے کے مانند تیل پکتا ہے تو اس میں حدت تو نہایت شدید ہوتی ہے لیکن جوش نہیں ہوتا، پانی پکتا ہے تو اس میں جوش بھی ہوتا ہے۔ یہاں تشبیہ میں کھولنے کی دونوں صفتیں جمع کردی گئی ہیں۔
Ayahs 44:47–48خذوہ فاعتلوہ الی سوآء الجحیم، ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (48-47)
یہاں اتنی بات بر بنائے قرینہ و بتقاضائے بلاغت محذوف ہے کہ ان لوگوں کے باب میں بارگاہ خداوندی سے یہ حکم ہوگا اس کے بجائے اصل حکم کا حوالہ دیح دیا گیا ہے کہ دوزخ کے وارڈروں کو ہدایت ہوگی کہ ان کو پکڑو اور گھسیٹتے ہوئے جہنم کے بیچ میں لے جائو اور وہاں گرم پانی کے عذاب کے دونگڑے ان پر برسائو۔
Ayahs 44:49–50ذق، انک انت العزیز الکریم، ان ھذا ماکنتم بہ تمترون (50-49)
یہ قول عذاب کی زبان حال سے بھی ہوسکتا ہے اور عذاب دینے والوں کی زبن قال سے بھی ایک ایک سے یہ کہا جائے گا کہ تم دنیا میں بڑے مقتدر اور عزت والے بنے رہے اور اس گھمنڈ میں تم نے اس دن کی پیشی کو جھٹلایا۔ آج اس کا مزہ چکھو۔ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تم طرح طرح کے شبہات پیدا کرتے تھے۔
Ayahs 44:51–52ان المتقین فی مقام امین فی جنت عیون (52-51)
خدا ترسوں کا صلہ
گنہگاروں کے انجام کے بیان کے بعد یہ خدا ترسوں کے انجام کی تصویر ہے کہ وہ ایک مقام مامون میں ہوں گے، نہ وہاں ان کو کوئی خوف ہوگا نہ کوئی غم وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے اور اس بات کا ان کو کوئی اندیشہ نہیں ہوگا کہ ان چیزوں کو کوئی ان سے چھین سکے گا یا ان پر کوئی زوال آئے گا یا ان میں کسی چیز کے باب میں ان سے کوئی پرسش ہونی ہے۔
Ayah 44:53یلسون من سندس و استرق متقلبین (53)
سندس، اور استبرق ریشمی کپڑوں کے نام ہیں۔ بعض لوگوں نے ان کے درمیان باریک اور دبیز کا فرق کیا ہے۔ لیکن یہ ذکر جنت کے سندس اور استبرق کا ہے اس وجہ سے یہ بحث غیر ضروری ہے۔ ان کی اصل حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔
تقابل کے معنی یہاں آمنے سامنے بیٹھنے کے ہیں۔ تالیف کلام کے پہلو سے یہاں فعل یلجسون یا یتکئون محذوف ماننا پڑے گا۔ یعنی وہ سندس اور استبرق کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ آمنے سامنے بیٹھنا باہمی اعتماد و محبت کی دلیل ہے چونکہ انہوں نے دنیا میں ایک دوسرے کو نیک مشورے دیئے اور اس کا نہایت مبارک انجام ان کے سامنے ہوگا اس وجہ سے وہ پویر خوشدلی کے ساتھ ایک دوسرے سے مل کے بیٹھیں گے۔ اس کے برعکس کفار اور ان کے لیڈر اس دن ایک دوسرے پر لعنت کے دو نگڑے برسائیں گے۔
Ayahs 44:54–55کذلک وزوجنھم بحورعین، یدعون فیھا بکل فاکھۃ امنین (55-54)
فرمایا کہ ان کی مسرت کی تکمیل کے لئے ہم آہو چشم حوریں ان کی زوجیت میں دے دیں گے۔ عربی ادب میں عورت کے لئے یہ صفت اس کے کمال حسن کی ایک جامع تعبیر ہے۔
یدعون فیھا الآیۃ ان کے لئے ہر قسم کے میوئوں کی بہتات ہوگی وہ جو میوے چاہیں گے حاضر باش خدام سے طلب کریں گے۔ نہ ان کو میووں کی کمی کا کوئی اندیشہ ہوگا۔ نہ اس عیش سے محرومی کا کوئی خوف ہوگا اور نہ موت ہی کا کوئی کھٹکا ہوگا۔ ہر اندیشہ سے نچنت وہ ابدی عیش کا لطف اٹھائیں گے۔
Ayahs 44:56–57لایذوقون فیھا الموت الا الموتۃ الاولی، ووقھم عذاب الجحیم، فضلاً من وبک ذلک ھوا لفوز العظیم (57-56)
یعنی اس دنیا میں جو موت انہوں چھ لی اس کے بعد پھر وہ موت سے آشنا نہیں ہوں گے۔ ان کی زندگی بھی جاوداں ہوگی اور ان کا عیش بھی۔ موت سے انہوں نے چھٹکارا پایا اور دوزخ سے ان کے رب نے ان کو بچیا ا یہ خاص فضل ہے جو ریے رب نے ان پر فمایا اور یہی درحقیت سب سے بڑی کامیابی ہے نہ کہ وہ جس پر اس دنیا کے پرستار ریجھے ہوئے ہیں اور اس کے عشق میں ایسے کھوئے گئے ہیں کہ سمجھتے ہیں کہ یہی دنیا کی زندگی بس کل زندگی ہے، اس کے بعد نہ جینا ہے نہ مرنا
Ayah 44:58-6 خاتمہ سورة …آیات 59-58
یاد ہوگا اس سورة کا آغاز قرآن کی عظمت کے بیان سے ہوا تھا کہ بڑی ہی عظیم نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اہل عرب کو نوازا ہے۔ اگر وہ اس کی قدر کریں گے تو دنیا اور آخرت دونوں میں فوز عظیم کے وارث ہوں گے اور اگر کھمنڈ میں مبتلا ہو کر اس کی ناقدری کریں گے تو یاد رکھیں کہ یہ جتنی بڑی نعمت ہے اتنی ہی بڑی نقمت بھی بن جائے گا اور وہ دنیا و آخرت دونوں میں اپنی بربادی کا سامان کریں گے۔ اس تمہیدی مضمون کے بعد قرآن کے دعا دی کی صداقت کے دلائل مذکور ہوئے۔ اب آخر میں ایک نئے پہلو سے پھر اسی مضمون کی یاد دہانی فرما دی گئی جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا۔ گویا سورة اسی مضمون پو ختم ہوئی جس سے شروع ہوئی تھی۔ اس اسلوب کی متعدد مثالیں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ اعلیٰ خطیبوں کے خطبات میں بھی اس اسلوب کی نہایت بلیغ مثالیں ملتی ہیں۔ خطیب جس مضمون سے کلام کا آغاز کرتا ہے بالعموم اسی کی یاد دہانی پر اس کو ختم کرتا ہے تاکہ آخرت میں سامعین کو اصل بات کی مکرر یاد دہانی ہوجائے۔
-7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی واضحت
فانما یسرنہ بلسانک لعلھم یتذکرون (58)
’‘ سابق کے ساتھ مضمون کے اتصال کو ظاہر کرتا ہے اور اتصال کا پہلو وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔
قرآن کی تیسیر کا مفہوم
تیسیر کے معنی کسی شے کو کسی مقصد کے لئے موزوں، سازگار اور ہر پہلو سے مستحکم وا ستوار بنانا ہے یسر الفرس للوکوب کے معنی ہوں گے، گھوڑے کو زین، رکاب لگام اور دوسرے تمام لوازم سے آرساتہ کر کے سواری کے لائق بنا دیا، اسی طرح یسرنا القرآن للذکر کے معنی ہوں گے قرآن کو تعلیم و تذکیر کے مقصد کے لئے تمام ضروری لوازم سے آراستہ کر کے نہایت موزوں بنایا ہے جن لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ قرآن ایک نہایت سہل اور سپاٹ کتاب ہے۔ انہوں نے اس لفظ کی اصل حقیقت نہیں سمجھی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ قرآن نہایت سہل کتاب بھی ہے لیکن اس کی یہ سہولت اس اعلیٰ مقصد تعلیم و تذکیر کے اعتبار سے ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمائی ہے۔ یہ مقصد اپنے اندر گوناگوں پہلو رکھتا ہے اور قرآن چونکہ اس کے تمام پہلوئوں اور ان کے تمام ضروری لوازم کا جامع ہے اس وجہ سے اس کے اندر نہایت دقیق اور مشکل پہلو بھی ہیں اگرچہ ان مشکل پہلوئوں کو دلوں کے انر اتارنے کے لئے قرآن نے جو طریقے اختیار کئے ہیں ان سے زیاہ نشین طریقے اختیار کرنا دوسروں کے امکان میں نہیں ہے۔ تاہم یہ چیزیں بجائے خود نہایت گہرے تدبر کی محتاج ہیں اس لئے کہ ان کا تعلق حکمت سے ہے اور حکمت گہرے تدبر کی مقتضی ہوتی ہے اس سمئلہ کے بعض پہلوئوں کی طرف سورة مریم کی آیت 97 کے تحت بھی ہم اشارہ کر آئے ہیں اور خدا نے چاہا تو اس پر مزید روشنی سورة قمر کی تفسیر میں ڈالیں گے۔
بلسانک سے مراد قریش کی وہ ٹکسالی زبان ہے جو فصیح عربیت کا سب سے اعلیٰ نمونہ تھی اور نبی ﷺ جس کی فصاحت و بلاغت کے مظہر اتم تھے۔ یہ قرآن کی تیسیر کے ایک نہایت اہم پہلو کی طرف اشارہ فرمای گیا ہے کہ قریش پر اتمام حجت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو تمہاری زبان میں اتارا ہے جو قریش کی زبان کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے۔ اگر اس زبان میں بھی یہ اس کتاب کو نہ سمجھے تو نہ اس کتاب کا قصور ہے اور نہ تمہارا بلکہ یہ خود ان کے دلوں کا فساد ہے جس کی ذمہ داری تمہارے اوپر نہیں ہے۔
لعلتھم یتذکرون یہ قرآن کے اس اہتمام خاص کے ساتھ اتارے جانے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ وہ یاد دہانی حاصل کریں یاد دہانی حاصل کریں، یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کی عقل و فطرت کے اندر ودیعت فرمایا ہے اس کو یاد کریں، جو حقائق آفاق وانفس کے اندر مضمر ہیں ان سے سق حاصل کریں اور جو تعلیم ان کو سابق نبیوں، خاص کر ان کے جداعلیٰ حضرت ابراہیم ؑ کے ذریعہ سے کھلی ہے اس کو یاد کریں۔ قرآن ان ساری باتوں کی نہایت بہترین زبان اور بہترین اسلوب سے یاد دہانی کر رہا ہے۔ اس ٹکڑے کے اندر یہ تنبیہ بھی مضمر ہے کہ اگر وہ یہ یاد دہانی حاصل کرنے کے لئے تایر نہیں ہیں تو پھر اس انجام کے لئے تیار ہوجائیں جو اس طرح کے سرکش لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے اور جس کی یاد دہانی خود ان کے ملک کی پچھلی تاریخ ان کو کر رہی ہے۔
Ayah 44:59فارتقب انھم مرتقبون (59)
اس آیت میں اوپر والی مضمر تنبیہ واضح ہو کر سامنے آگئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کتاب سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ بضد ہیں کہ جس عذاب سے یہ ان کو ڈرا رہی ہے اس کو دیکھ کر ہی اس کو مانیں گے تو تم بھی انہی کی طرح اب اس عذاب ہی کا اتنظار کرو۔ اب فیصلہ کا انحصار اسی پر ہے۔ اوپر آیت 10 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ (فالحمد للہ علی احسانہ
رحمان آباد
22 مئی 1976 ء
2 ہع جمادی الثانی 1396 ھ