43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا ۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق یہ سورة ، سابق سورة کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ گروپ کی دوسری سورتوں کی طرح اس کا بھی مرکزی مضمون توحید ہی ہے اور اس توحید ہی کی اہمیت واضح کرنے کے لئے اسی میں قیامت کا بھی ذکر ہوا ہے۔ خاص طور پر ملائکہ کی الوہیت اور ان کی شفاعت کے تصور کا ابطال اس میں فصیل سے ہے اور قریش کے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے کہ وہ جس دین شرک کے پیرو ہیں یہ ان کو حضرت ابراہیم سے وراثت میں ملا ہے۔ سابق سورة میں قرآن کی عظمت ایک خاص پہلو سے نمایاں کی گئی تھی اس میں اس کے بعض دوسرے پہلو نمایاں کر کے قریش کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر محض دولت دنیا کے غرور میں تم نے اس عظیم نعمت کی قدر نہ کی تو یاد رکھو کہ پیغمبر کے اوپر ذمہ داری صرف اس حق کو پہنچا دینے کی ہے۔ اس کی تکذیب کے نتائج کی ذمہ داری خود تمہارے اوپر ہوگی۔ قرآن پر نفس وحی کے پہلو سے مخالفین کے جو اعتراضات تھے اور جن کو وہ اس کی تکذیب کا بہانہ بنا رہے تھے ان کے جواب پچھلی سورة میں دیئے گئے ہیں، اس سورة میں انبیائے سابقین کی دعوت کے ساتھ اس کی ہم آہنگی واضح فرمائی گی ہے کہ جس دین توحید کی دعوت یہ قرآن دے رہا ہے اسی کی دعوت تمام انبیاء نے دی ہے۔ جو لوگ اس کو جھٹال رہے ہیں وہ اپنے لئے اسی ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی دوسری قومیں دو چار ہوئیں۔ ب ۔ سوروہ کے مطالب کا تجزیہ (8-1) قرآن کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے قوم عرب پر جو احسان فرمایا اور اس کے ذریعہ سے ان پر اتمام حجت کا جو سامان کیا اس کا حوالہ اور اس بات کی یاد دہانی کہ اگر انہوں نے بھی اپنے رسول کی تکذیب کی وہی روش اختیار کی جو ان سے پہلے کی قوموں نے اختیار کی تو اسی انجام سے دوچار ہونے کے لے تیار رہیں جس سے وہ دوچار ہوئیں اور یاد رکھیں کہ قوت و شوکت کے اعتبار سے وہ ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ (15-9) مخالین کے اس اعتراف کا حوالہ کہ آسمان و زمین کا خالق خدائے عزیز وعلیم ہی ہے۔ لیکن اس اعتراف کے باوجود انہوں نے خدا کے بندوں میں سے اس کے شریک بنا رکھے ہیں حالانکہ اس کائنات میں قدرت، ربوبیت اور حکمت کے جو آثار و شواہد ہر قدم پر موجود ہیں وہ خدا کی توحید اور قیامت پر گواہ ہیں۔ ( 25-16) ملائکہ کی الوہیت کے تصور کا ابطال دو مختلف پہلوئوں سے ایک اس پہلو سے کہ یہ لوگ ملائکہ کہ خدا کی بیٹیاں مانتے ہیں درآنحالیکہ خود اپنے لیے بیٹیاں پسند نہیں کرتے۔ ایک چیز کو اپنے لیے پسند نہ کرنا اور اس کو خدا کی طرف منسوب کرنا صریح حماقت اور رب عزیز و جلیل کی اہانت ہے۔ دوسرے اس پہلو سے کہ ملائکہ کو شریک خدا قرار دینے کی واحد دلیل ان کے پاس یہ ہے کہ ان کے باپ دادا ان کو شریک خدا مانتے رہے ہیں۔ حالانکہ کسی طریقہ کی صحت و صداقت کی یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ طریقہ ان کو اپنے باپ دادا سے ملا ہے یا تو وہ اللہ کی کسی کتاب کی سند پیش کریں یا عقل و فطرت سے کوئی دلیل لائیں ورنہ اسی انجام سے دوچار ہونے کے لئے تیار رہیں ج سے وہ قومیں دوچار ہوئیں جنہوں نے اس قسم کے لا طائل بہانوں کی آڑ لے کر اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔ (28-26) تاریخ کی روشنی میں مشرکین کے اس دعوے کی تردید کہ یہ دین شرک ان کے باپ دادا کی وراثت ہے۔ ان کے اصل جدامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے اننی برآء مما تعبدون (میں ان چیزوں سے بری ہوں جن کو تم پوجتے ہو) کا یادگار کلمہ کہہ کر اپنی قوم کو چھوڑا اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو مکہ میں بسایا۔ ان کا یہ اعلان ہجرت ایک مقدس روایت کی حیثیت سے ان کی ذریت میں باقی رہا تو یہ کہنے کے کیا معنی کہ یر شرک ان کے باپ دادا کی وراثت ہے ! (45-29) مکذبین کی سرکشی کے اصل سبب کا بیان کہ یہ اپنی جہالت کے حق میں جو دلیلیں گھڑنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ محض سخن سازی ہے۔ اصل چیز جو ان کے لئے فتنہ بنی ہوئی ہے وہ ان کی دنیوی رفاہیت ہے حالانکہ خدا کی میزان میں اس رفاہیت کا کوئی وزن نہیں ہے۔ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے اور یہ اس سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ شیطان نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے۔ اور یہ پٹی ان کی اس وقت کھلے گی جب اس کا کھلنا اور نہ کھلنا دونوں ہی بےسود ہوگا۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ تم اپنی دعوت حق پر جمے رہو۔ ہم ان کا انجام یا تو تمہاری زندگی ہی میں دکھا دیں گے یا تمہارے بعد یہ اس سے دوچار ہوں گے۔ تم جس دنی کی دعوت دے رہے ہو وہ دین حق یہی ہے، تمام انبیائ کی ہشادت اسی کے حق میں ہے۔ (65-46) حضرات انبیاء (علیہم السلام) میں سے دو غیبوں … حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ … کی دعوت کا حوالہ کہ انہوں نے بھی بعینیہ اسی دین توحید کی دعوت دی۔ حضرت موسیٰ نے اپنی رسالت کے حق میں، فرعون اور اس کے اعیان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھائیں لیکن وہ کسی نشانی سے بھی قائل نہ ہوئے۔ ان کی تکذیب کا سبب بعینیہ یہی تھا جو قریش کے ان فراعنہ کی تکذیب کا ہے۔ بالآخر وہ کیفر کردار کو پہنچے، وہی انجام ان لوگوں کا بھی ہونا ہے۔ اسی توحید کی دعوت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی دی۔ ان کا نام سنتے ہی قریش کے جھگڑالو تم سے مناظرہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں کہ ان سے بہتر تو ہمارے ہی معبود ہیں گویا ان جاہلوں کے نزدیک قرآن ان کا ذکر خیر اس لئے کر رہا ہے کہ لوگ نصاریٰ کی طرح ان کو ابن اللہ مانیں۔ حالانکہ قرآن ان کو ابن اللہ کی حثیت سے نہیں پیش کر رہا ہے بلکہ اس حیثیت سے پیش کر رہا ہے کہ ان کی دعوت ان اللہ ھو ربی و ربکم قاعبدوہ (اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور وہی تمہارا بھی رب ہے تو اسی کی بندگی کرو) کی دعوت تھی۔ ان کی اس دعوت حق میں اختلافات تو بعد والوں نے پیدا کئے ہیں اور وہ عنقریب اس کا انجام دیکھیں گے۔ (89-66) خاتمہ سورة جس میں پہلے ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اس دعوت حق پر ایمان لائیں گے۔ پھر ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اس کی تکذیب کریں گے۔ آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ ان ضدی لوگوں سے اعراض کرو۔ یہ خود اپنا انجام دیکھ لیں گے اور فرشتوں کی جس شفاعت کے بل پر اکڑ رہے ہیں اس کی حقیقت ان کے سامنے آجائے گی۔ اس تجزیہ مطالب پر ایک نظر ڈلا کر دیکھ لیجیے کہ عمود کے ساتھ اس کے ہر جزو کا کیسا گہرا تعلق اور شروع سے لے کر آخر تک یہ پوری سورة کس طرح مربوط ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کر سورة کی تفسیر تشروع کرتے ہیں۔ وبیدہ التوفیق

Ayah 43:1
-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حم (1) پہلی سورتوں کی طرح اس کا قرآنی نام بھی حم ہی ہے سورتوں کے ناموں کا اشتراک، ہم اشارہ کرچکے ہیں، ان کے مطالبت کے اشتراک پر دلیل ہے۔ چناچہ تمام حوامیم جو آپ پڑھتے آ رہے ہیں، ایک ہی قدر مشترک کی حامل ہیں۔ اختلاف اگر ہم تو اسلوب بیان، نہج استدلال اور اجمال و تفصیل کا ہے۔
Ayah 43:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

شاہد ہے یہ واضح کتاب۔

والکتب المبین (2) قرآن اپنے ہر دعوے پر خود حجت ہے یہ قران کی قسم کھائی ہے اور اس کی صفت یہاں مبین وارد ہوئی ہے جس کے معنی ہیں واضح کردینے والی کتاب، یعنی اپنے ہر دعوے پر یہ خود حجت ہے، کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ جو لوگ اس کی تکذیب کے لئے بہانے ڈھونڈھ رہے ہیں وہ آفتاب پر خاک ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ خود اپنی ہی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب یہاں مقسم علیہ محذوف ہے۔ جہاں قرینہ بالکل واضح اور قسم خود مقسم علیہ کو واضح کر رہی ہو، وہاں مقسم علیہ کو حذف کردیتے ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ سورة ق میں بھی اس کی نہایت واضح مثال موجود ہے۔ یہاں لفظ مبین نے خود مقسم علیہ کی طرف اشارہ کردیا ہے اس وجہ سے اس کے علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ گویا آفتاب آمد دلیل آفتاب۔
Ayah 43:3

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا ہے تاکہ تم سمجھو

انا جلنہ قراناً عربیا تعلکم تعقلون 3 قرآن کے مبین ہونے کا ایک خالص پہلو یہ قرآن کے مبین ہونے کے ایک خاص پہلو کی اشارہ فرمایا ہے کہ ہم نے اس کو عربی قرآن کی صورت میں اتارا ہے تاکہ تم سمجھو۔ یہ مضمون اس گروہپ کی پچھلی سورتوں میں بھی مختلف اسلوبوں سے گزر چکا ہے اور ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کا عربی میں اتارا جانا اہل عرب پر ایک عظیم احسان بھی تھا اور ایک فیصلہ کن اتمام حجت بھی۔ احسان کا پہلو تو بالکل واضح ہے کہ خدا نے اپنی آخری اور کامل ہدایت ان کی زبان میں اتاری کہ وہ بلاواسطہ غیر اس سے کسب فیض کرسکیں، دوسروں کی تعلیم و تبلیغ کا انہیں رہین احسان نہ ہونا پڑے بلکہ دوسرے ان کے ممنون احسان بنیں۔ اتمام حجت کا پہلو یہ ہے کہ اللہ نے ان کی اپنی زبان میں اپنی ہدایت نازل کر کے ان کا ہر عذر ختم کردیا ہے۔ اب وہ عند اللہ یہ عذر نہیں کرسکتے کہ مخاطب عربی اور کلام عجمی !
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور بیشک یہ اصل کتاب میں ہمارے پاس ہے نہایت بلند اور پر حکمت

وانہ فی آمر الکتب لدینا لعلی حکیم 4 قرآن کی عالی نسبی اس قرآن کی عظمت واضح فرمائی کہ یہ کوئی ہنسی مسخری کی چیز نہیں ہے بلکہ نہایت ہی عالی نسب اور عالمی مقام چیز ہے۔ اس کی عالی نسبی کی وضاحت یوں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو ام الکتب یعنی لوح محفوظ ہے یہ اس میں ہے اور اسی میں یہ تمہاری ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس کو جنتا کا القاء کاہنوں کی کہانت، شاعروں کی شاعری اور خطیبوں کی لفاظی گمان کر کے، اس کا مذاق اڑانے کی کوشش نہ کیر بلکہ یہ روشنی اس منبع نور سے نازل ہوئی ہے جس کے نور ہی سے آسمان و زمین میں روشنی ہے اور جو تمام علم کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ بدقسمت ہوں گے وہ لوگ جو اس کی قدر نہ پہنچانیں ! قرآن کی عالی مقامی اس کی عالی مقامی کا اظہار یوں فرمایا کہ لعلی حکیم یہ قرآن بجائے خود نہایت برتر اور پر حکمت ہے۔ یاد ہوگا پچھلی سورة میں بعینیہ یہی صفت آیت 51 میں اللہ تعالیٰ کے لئے آئی ہے اور وحی و قرآن کے بیان ہی کے سلسلہ میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر کلام متکلم کی فات و خصوصیات کا آئینہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ علی و حکیم ہے اس وجہ سے اس کا کلام بھی علی و حکیم ہے۔ اس سے یہ اشارہ نکلا کہ جن کے اندر جوہر شناسی کی صلاحیت ہوگی وہ اس کلام کی قدر کریں گے، رہے بلید و بذوق لوگ تو نہ وہ اس کے اہل ہیں نہ وہ اس کی قدر کریں گے۔ اس کی عالی مقامی کے ذکر سے مخالفین کو اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلا دی گئی کہ یہ آسمانوں اور زمین کے خالق کا اتارا ہوا کلام ہے، کسی سائل کی درخواست نہیں ہے۔ اگر تم نے اس کی قدر نہ کی تو تمہیں اپنے کو محروم کرو گے، خدا یا اس کے کلام کا کچھ نہیں بگاڑو گے۔ ان کی عظمت اور برتری اپنی ذاتی ہے جو دوسروں کے رد و قبول سے بالکل بےنیاز ہے۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

کیا ہم تمہاری تذکیر سے اس لئے صرف نظر کرلیں کہ تم حدود سے تجاوز کر جانے والے لوگ ہو !

افتضرب عنکم الذکر صفحاً ان کنتم قوماً مسرفین 5 تمہاری ناقدری کے باوجود تم پر اتمام حجت ضروری ہے یعنی ہرچند تم ہو تو ناشکرے اور ناقدرے کہ اس کلام بلندو برتر کی توہین و تکذیب کر رہے ہو اور شرک و کفر میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر جو ظلم تم نے ڈھائے ہیں ان کصلاح پر تمہاری طبیعتیں آمادہ نہیں ہو رہی ہیں لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا جاتا یا اب چھوڑ دیا جائے، تمہاری بیماریوں اور ان کے مہلک نتائج سے تم کو اچھی طرح آگاہ نہ کیا جائے۔ تمہاری یہ حالت اغماض کے بجائے اس بات کے متقضی ہے کہ تمہارا علاج کیا جائے چناچہ اللہ نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لئے اپنی کتاب اتاری۔ تم اس کی قدر کرو یا نہ کرو، لیکن یہ تذکیر اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تم پر اللہ کی حجت تمام نہ ہوجائے تاکہ جس کو زندگی کی راہ اختیار کرنی ہو وہ پوری بصیرت کے ساتھ زندگی کی راہ اختیار کرلے اور جس کو ہلاکت کی راہ پر جانا ہو وہ اتمام حجت کے بعد اس راہ پر جائے۔ تمہاری یہ تذکیر و تنبیہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت کے مطابق ہو رہی ہے۔ تم کتنی ہی نفرت و رعونت کے ساتھ اس کو ٹھکرائو لیکن اب یہ اپنے آخری نتائج تک پہنچ کے رہے گی۔ صفحاً میرے نزدیک مفعول لڑکے مفہوم میں ہے اور اس کے معنی چشم پوشی کے ہیں۔ ضرب عنہ الشیء کے معنی ہوں گے، اس سے اس چیز کو ہٹا دیا۔ ان کنتم قوماً مسرفین ان کی اصل بیماری کا بیان ہے اور مسرفین یہاں اسر فوا علی انفسھم کے مفہوم میں ہے یعنی اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے جانے والے اور اپنی جانوں پر سب سے بڑا ظلم شرک ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جب تم کفر و شرک کی آلودگیوں میں لتھڑے ہوئے ہو تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنا جام شفا ہٹائے رکھتا۔ دوا کے اصل مستحق تو مریض ہی ہوتے ہیں، خواہ وہ اس کی قدر کریں یا نہ کریں۔ اگر اس کی قدر کرو گے تو اپنا بھلا کرو گے، اگر نہ کرو گے تو اپنی ہی موت کو دعوت دو گے۔
Ayahs 43:6–8

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے اگلوں میں کتنے ہی نبی بھیجے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور جو نبی بھی ان کے پاس آتا تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے زیادہ زور آوروں کو ہلاک کر چھوڑا اور اگلوں کی مثالیں گزر چکی ہیں

وکم ارسلنا من نبی فی الاولین، وما یا تیھم من نبی الا کانوا بہ یستھزون فا ھلکنا اشد منھم بطثا و مضی مثل الاولین (8-6) مذکورہ بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے یہ اوپر کی بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے پیش کی گئی ہے اور خطاب بغرض تسلی نبی ﷺ سے ہے۔ فرمایا کہ جو سلوک آج تمہارے مخالفین تمہارے ساتھ کر رہے ہیں یہی سلوک اس سے پہلے دوسرے نبیوں کے ساتھ ان کی قومیں کرچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے بھی کتنے رسول اسی مقصد تذکیر و اصلاح کے لئے بھیجے لیکن ہر قوم نے اپنے رسول کا مذاق اڑایا اور اس کی نصیحتوں کی تحقیر کی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کردیا اور وہ قومیں کچھ کمزور نہ تھیں بلکہ وہ اپنی قوت و شوکت میں ان سے (قریش سے) کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ کے عذاب نے ان کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ ومضی مثل الاولین اور تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ اشارہ عاد وثمود اور ان قوموں کی طرف ہے جن کی تباہی کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں بھی بیان ہوچکی ہیں اور آگے کی سورتوں میں بھی آرہی ہیں۔
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ لازماً یہی جواب دیں گے کہ ان کو خدائے عزیز وعلیم نے پیدا کیا ہے

مشرکین کے تضاد فکر کی وضاحت ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیفولن خلقھن العزیز العلیم 9 یہ قریش کے کفر و شرک اور ان کی اس ضد و مکایرت کی تفصیل بیان ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر آیت 5 میں ان کنتم قوما مسرفین کے الفاظ سے گزر چکا ہے۔ یہ بیان آگے دور تک جائے گا فرمایا کہ یہ یوں تو اپنے دین شرک کی حمایت میں تم سے لڑنے کے لئے آستینیں چڑھائے ہوئے ہیں لیکن یہ ایک شدید قسم کے تضاد فکر میں مبتلا ہیں جس کی طرف ان کا جوش مخالفت ان کو متوجہ ہونے نہیں دے رہا ہے۔ اگر تم ان سے سوال کرو کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو اس کا جواب لازماً وہ یہی دیں گے کہ ان کا خالق خدائے عزیز وعلیم ہے لیکن دوسری طرف ان کی مفاہمت کا یہ عالم ہے کہ وجعلوالہ من عابدہ جزء اً (اور انہوں نے اللہ کی بندوں میں سے اس کے شریک اور کفو و ہمسر بنا رکھے ہیں) یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین عرب جیسا کہ پچھلی سورتوں میں تفصیل گزر چکی ہے۔ آسمان و زمین اور دوسری تمام مخلوقات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی مانتے تھے کہ ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں جو اس کی چہیتی اور اس کی ذات وصفات میں شریک ہیں اس وجہ سے ان کی عبادت خدا کے تقریب کا ذریعہ اور مال و اولاد کی فراوانی کا وسیلہ ہے۔
Ayah 43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے رکھے کہ تم راہ پائو۔

الذی جعل لکم الارض مھداً وجعل لکم فیھا بلا لعلکم تھتدون 10 چار آیتیں بطور تضمین یہ آیت اور بعد کی تین آیات مشرکین کے جواب کا حصہ نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہیں کہ جو شخص اس کائنات کی خلقت پر تدبر کی نگاہ ڈالے گا وہ اس میں خالق کی قدرت، ربوبیت اور حکمت کے ایسے آثار ائے گا کہ لازماً وہ اس کی توحید کا بھی اقرار کرے گا اور ایک روز جزاء و سزا کا بھی۔ مقصد اس تفصیل سے یہ دکھانا ہے کہ مسترکین کا یہ اعتراف کہ آسمان و زمین کا خالق خدائے عزیز وعلیم ہی ہے، اگر اپنی صحیح سمت میں آگے بڑھے تو اس کے تضمنات یہ بھی ہیں جو آگے بیان ہو رہے ہیں۔ لیکن مشرکین پہلا قدم صحیح اٹھا کر پھر غلط سمت میں مڑ جاتے ہیں جس سے وہ اپنے مانے ہوئے عقیدہ کو باطل اور پائی ہوئی راہ کو گم کردیتے ہیں۔ خدا کے خالق ہونے کے تضمنات فرمایا کہ وہی خدائے عزیز وعلیم جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے (اور جس کا خالق ہونا تم کو بھی تسلیم ہے اسی نے تمہاری بود و باش کے لئے اس زمین کو گہوارہ بنایا۔ اس گہوارہ بنانے کی مزید وضاحت قرآن کے دوسرے مقامات میں اس طرح فرمائی ہے کہ اس نے اپنی عظیم قدرت و حکمت سے اس میں پہاڑ گاڑ دیئے ہیں کہ وہ تمہارے سمیت کسی طرف کو لڑھک نہ پڑے۔ پھر اس میں تمہارے لئے راستے رکھے ہیں یعنی زمین کے توازن کو قائم رکھنے کے لئے پہاڑ گاڑے تو اس طرح نہیں کہ وہ ہر طرف سے تمہاری راہ روک کر کھڑے ہوجائیں بلکہ خشکی اور تری دونوں کے اندر ان پہاڑوں کے درمیان سے تمہارے لئے راستے بھی رکھے ہیں کہ تمہارے قافلے اور تمہارے جہازات ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرسکیں۔ ایک معنی خیز ٹکڑا لعلکم تھتدون کا ٹکڑا یہاں نہایت معنی خیز اور بلیغ ہے۔ ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں پہاڑوں کی فلک بوس دیواروں کے درمیان تمہارے لئے جو راستے رکھے ہیں وہ اس لئے رکھے ہیں کہ تم ان ناقابل عبور دیواروں کے اندر محبوس و محصو رہو کے نہ رہ جائو بلکہ ان سے باہر نکلنے کے لئے بھی راہیں کھلی رہیں۔ دوسرا نہایت لطیف اشارہ اس سے یہ نکلتا ہے کہ تم اپنے رب کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اپنے حال پر اس کی ان بےپایاں عنایات پر غور کرو اور اس نتیجہ تک پہنچو کہ جس پروردگار نے تمہارے لئے یہ کچھ اہتمام فرمایا ہے وہی تمہاری شکر گزاری اور عبادت و اطاعت کا اصل سزا وار ہے اور اگر تم نے اس کے اصل حق کو نہ پہچانا تو ایک دن لازماً ایسا آئے گا جس میں تم کو اس ناسپاسی کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔
Ayah 43:11

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے آسمان سے پانی اتارا ایک اندازہ کے ساتھ۔ پس ہم نے اس سے حیات تازہ بخش دی ایک مردہ زمین کو۔ اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جائو گے !

والذی نزل من السمآء مآء بقدر فانشرنا بہ بلدۃ میتاً کذلک تخرجون 11 اللہ تعالیٰ کا کرشمہ ربوبیت اور اسی خدائے عزیز وعلیم کا یہ کرشمہ ربوبیت بھی ہے کہ اس نے آسمان سے پانی اتارا ایک خاص اندازے کے ساتھ پانی کا ایک خاص اندازے کے ساتھ اترنا اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ یہ محض ابرو ہوا کے تصرف سے نہیں بلکہ ایک عزیز وعلیم کی تقدیر سے اترتا ہے جو اپنی حکمت کے تحت صرف اتنا ہی پانی اتارتا ہے جس کا زمین تحمل کرسکتی ہے۔ پھر اس سے یہ بات بھی نکلی کہ آسمان و زمین دونوں کے اندر ایک ہی خدائے عزیز وعلیم کا ارادہ کار فرما ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ آسمان اور زمین میں ایسا تو افق ہوتا کہ آسمان سے پانی اترتا اور زمین اس سے اپنی صلاحیتیں اجاگر کرتی۔ مزید برآں اس سے یہ بات بھی نکلی کہ وہ عزیز وعلیم ہستی نہایت کریم و بندہ پرور ہے کہ ایک خاص اندازے کے ساتھ ہی پانی اتارتی ہے۔ اسی اندازے کے ساتھ زمین کی تمام برکتیں وابستہ ہیں۔ اگر اس میں کوئی خلل واقع ہوجائے تو یہ زمین پانی کی کمی سے بھی تباہ ہو سکتی ہے اور اسکی زیادتی سے بھی۔ بارش کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ فانشرنا بہ بلدۃ میتا کذلک تخرجون یہ بارش کے ایک اور خاص پہلو کی طرف توجہ دلائی اور یہ پہلو چونکہ اس کائنات کی ایک بہت بڑی حقیقت کو آشکارا کرنے والا ہے اس وجہ سے اس کا ذکر متکلم کے صیغے سے فرمایا جو اہتمام خاص پر دلیل ہے۔ فرمایا کہ دیکھتے ہو کہ اسی پانی سے ہم ایک مردہ اور بےآب وگیاہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور وہ لہلہا اٹھتی ہے۔ اسی طرح ایک دن تم بھی مرنے اور گل سڑ جانے کے بعد اس زمین سے اٹھا کھڑے کئے جائو گے۔
Ayahs 43:12–14

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام گوناگوں قسم کی چیزیں پیدا کیں اور تمہارے واسطے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو پھر تم اپنے رب کی نعمت کو، جب کہ تم ان پر بیٹھو، یاد کرو اور کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ان چیزوں کو ہماری خدمت میں لگا دیا اور ہم تو ان کو قابو میں کرلینے والے نہیں تھے !

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور بیشک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں

والذین خلق الازواج کلھا و جعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون، لتستوا علی ظھورہ ثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا ستویتم علیہ وتقولوا سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنالہ مقرننی، وانآ الی ربنا لمنقلبون (14-12) بعض اور آثار قدرت کی طرف اشارہ اسی خدائے عزیز وعلیم کی پروردگاری کے بعض اور آثار کا ذکر کر کے ان کے متقضیات کی طرف توجہ دلائی جن کا احساس ہر سلیم الفطرت انسان کے اندر پیدا ہونا چاہئے جو ان سے بہرہ مند ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لئے دوسری نوع بنوع چیزیں پیدا کی ہیں۔ لفظ ازواج یہاں گوناگون اور نوع بنوع چیزوں کے مفہوم میں ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ قرآن مجید اور عربی ادب میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ من کل زوج بھیج کے الفاظ سے بھی قرآن میں یہی مفہوم ادا فرمایا گیا ہے۔ اشیاء اور انواع کی گوناگونی اور ان کا جوڑے جوڑے ہونا اس کائنات میں اسی لئے ہے کہ انسان کو اس کائنات کے خالق کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و ربوبیت کی یاد دہانی ہوتی رہے۔ جوڑوں کے اندر جو توافق پایا جاتا ہے اس سے قرآن نے توحید پر جو دلیل قائم فرمائی ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ وجعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون یہ عام کے بعد دو خاص چیزوں کا ذکر فرما دیا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لئے کشتیاں اور ایسے چوپائے پیدا کئے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ قرآن کے زمانہ نزول میں خشکی اور تری کی یہی سواریاں معروف تھیں اس وجہ سے انہی کا ذکر ہوا۔ اب سائنس کی برکت سے ان سواریوں کی فہرست گو بہت طویل ہوگئی ہے لیکن وہ سب انہی کے تحت ہیں اس لئے کہ جس سائنس کی مدد سے انسان کا ان کا موجد بنا ہے وہ خدا ہی کی ودیعت کردہ ہے۔ نعمتوں کا حق لتستوا، علی ظھورہ … الایۃ یہ ان نعمتوں کا حق بیان ہو رہا ہے کہ خدا نے یہ سواریاں تمہیں اس لئے دی ہیں کہ تم ان سے فائدہ اٹھائو اور ان کے بخشنے والے کا حق پہچانو اور جب تم ان کی پیٹھو پر بیٹھو تو اپنے رب کے اس فضل کو یاد کرو کہ اس نے بغیر کسی استحقاق کے یہ نعمتیں تم کو بخشی ہیں اس وجہ سے تمہارے لئے یہ زیبا نہیں ہے کہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے غرور کا مظاہرہ کرو بلکہ اس وقت تمہیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ہماری مقصد برآری کے لئے ان کو ہمارے قابو میں کردیا ہے ورنہ ہم تو ان کو قابو میں کرنے والے نہیں بن سکتے تھے۔ لتستموا علی ظھورہ، میں لفظ ظھورا اگرچہ کشتیوں کے لئے زیادہ موزوں نہیں ہے، اس کی واضح مناسبت گھوڑوں یا سواری کے دوسرے جانوروں ہی کے ساتھ ہے، لیکن یہاں لفظ علی سبیل التغلیب استعمال ہوا ہے۔ اس طرح کا استعمال عربی میں معروف ہے۔ مقصود یہی کہنا ہے کہ کشتی پر سوار ہو یا گھوڑے پر اس وقت غرور سے اکڑنے کے بجائے اپنے رب کی نعمت کا شکر ادا کرو لیکن خاص طور پر گھوڑوں کے ذکر کے ساتھ یہ تنبیہ اس لئے فرمائی کہ گھوڑے کا سوار عام پیدل چلنے والوں کے سامنے سے گزرتا ہے اس وجہ سے اس کے اندر اپنے تفوق کا احساس (خاص طور پر جب کہ وہ تنک ظرف بھی ہو) زیادہ شدت کے ساتھ ابھرتا ہے یہاں تک کہ گھوڑے کی طرح خود اس کی گردن بھی اکڑ جاتی ہے۔ یہی چیز اس زمانے میں موٹروں نے کہیں زیادہ بڑھا دی ہے۔ بہت کم خوش قسمت ایسے ہوتے ہیں جو موٹریں بھلے آدمیوں کی طرح بیٹھیں۔ ان کی رعونت ان کے ہر ادا سے نمایاں ہوتی ہے اور اس قدر بدنما طریقے سے نمایاں ہوتی ہے کہ یہ امتیاز مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ آدمی ہی یا کوئی اور مخلوق ! سبحن الذی سخرلنا ھذا وماکنالہ مقرنین سبحن اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کا کلمہ ہے یعنی وہ ہر قسم کے شرک اور ہر چھوٹے بڑے عیب سے پکا ہے۔ یہ تنزیہہ آدمی کے اندر خدا ہی کے لئے تفویض وتعلیم کا جذبہ ابھاتری ہے اور یہی جذبہ انسان کو غرور و استکبار اور طغیان و فساد سے بچاتا اور اس کے اندر شکر وسپاس کی نیاز مندی و فروتنی پیدا کرتا ہے۔ اقران کے معنی اپنے حریف پر غلبہ پانے اور اس کو مطیع کرلینے کے ہیں۔ یعنی اس وقت انسان کو پوری نیاز مندی کے ساتھ اپنے رب کے حضور میں یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ یہ اللہ ہی کی شان اور اسی کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس مرکب کو ہمارا مطیع و فرماں بردار بنا دیا ہے ور نہ ہم تو اس کو قابو کرلینے والے نہیں بن سکتے تھے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ یہ اعتراف ایک حقیقت نفس الامری کا اعتراف ہے۔ اس دنیا میں جو چیزیں بھی ہماری خدمت گزاری میں لگی ہوئی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی تسخیر ہی سے لگی ہئوی ہیں یہ تسخیر نہ ہو تو مجرد ہماری تدبیر کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی کمند نہیں ڈال سکتی۔ اونٹ جیسے بڑے جانور کی ناک میں آپ نکیل ڈال دیتے ہیں اور گھوڑے کے منہ میں لگام لگا دیتے ہیں۔ یہی کام اگر آپ جنگل کے درندوں کے ساتھ کرنا چاہیں تو ہزار خطرات کا مقابلہ کرنے کے بعد بھی آپ شیر پر سواری نہیں کرسکتے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی مہربانی ہے کہ اس نے ہماری خدمت کے لئے مختلف قسم کے جانو رپیدا لئے اور ہمیں یہ صلاحیت بخشی کہ ہم انکو مسخر کر کے اپنے مختلف مقاصد میں استعمال کرتے ہیں۔ اس زمانے میں بھاپ، بجلی اور ایٹم پر انسان کو تصرف حاصل ہوا ہے وہ بھی خدا ہی کی تسخیر سے حاصل ہوا ہے۔ ان فتوحات نے انسان کو بہت مغرور بنا دیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اب کون و مکان کا مالک سمجھنے لگا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ جب چاہے ان کو انسان کی قید سے آزاد کر کے رحمت کے بجائے عذاب بنا دے یہاں جو دعا تلقین کی گئی ہے اس کا ظاہری تعلق تو اونٹ اور گھوڑے وغیرہ کی سواریوں ہی سے ہے لیکن یہی دعا اس زمان کے دوسری ترقی یافتہ سواریوں کے لئی بھی موزوں ہے، مثلاً موٹر اور ہوائی جہاز وغیرہ البتہ بحری سواریوں کے لئے موزوں تر دعا بسم اللہ مجریھا و مرسھا والی دعا ہے جو حضرت نوح سے منقول ہے۔ ایک بلیغ فقرہ وانا الی ربنا لمنقلبون اوپر جس طرح آیت 10 میں لعلکم تھتدون کے الفاظ نہایت معنی خیز گزرے ہیں اسی طرح یہاں یہ ال فاظ بھی نہایت بلیغ، حقیقت افروز اور فلسفہ دین کی ایک نہایت اہم حقیقت پر روشنی ڈالنے والے ہیں۔ یعنی انسان کو کسی سواری پر بیٹھتے ہوئے صرف اتنی سی بات یاد نہیں رکھنی چاہئے کہ ہم فلاں شہر سے فلاں شہر کو جانے والے ہیں بلکہ اس حقیقت کا بھی تذکر کرنا چاہئے کہ ایک دن ہمیں لازماً اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے آگے پیش ہونا یہ۔ اس تذکر کا محرک یہ ہے کہ ہر نعمت خدا کی پروردگاری کی شہادت ہے اور پروردگاری اس بات کو مستلزم ہے کہ پروردگار ایک دن سب کو جمع کر کے ان سے پرسش کرے کہ انہوں نے اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو کس طرح اسعتمال کیا۔ پھر ان کو نعام دے جنہوں نے ان کو صحیح استعمال کیا ہو اور ان سے انتقام لے جنہوں نے ان کو طغیان و فساد کا ذریعہ بنایا۔ یہ مسئولیت اور جزاء و سزا اس ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو یہ تمام ربوبیت بےمعنی اور یہ دنیا کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت سے دوسری اعلیٰ حقیقت کی طرف گریز کی ایک نہایت خوبصورت مثال ہے جس کے متعدد شواہد اس کتاب میں پیچھے گزر چکے ہیں۔
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے اس کا ایک جزء ٹھہرایا۔ بیشک انسان کھلا ہوا ناشکرا ہے !

وجعلوا لہ من عبادہ جزئً ط ان الانسان لکفور مبین 15 مشرکین کے فکری تضادات پر تبصرہ اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت 9 (ولئن سالتھم من خلق السموت … الایۃ) سے ہے۔ وہاں اس کے بعد تضمین کی آیتیں آگئی تھیں اس وجہ سے ان تضادات پر کوئی تبصرہ نہیں ہوا تھا جو اعتراف کرنے والوں نے اپنے اندر جمع کر لئے تھے۔ اب یہ ان تضادات پر تبصرہ ہو رہا ہے۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ ایک طرف تو ان لوگوں کا اقرار یہ ہے کہ آسمان و زمین کا خالق خدا ہی ہے، دوسری طرف انہوں نے خدا کے بندوں میں سے کچھ کو خدا کا جزء یعنی شریک ذات بنا رکھا ہے۔ ان کا یہ عقیدہ ان کے اپنے مسلمہ کے خلاف ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہی تمام آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کا خالق ہے تو ہر چیز اسی کی مخلوق ہوئی، پھر کوئی چیز اس کا جزء کیسے ہو سکتی ہے ! کسی چیز کے اس کا جزء ہونے کے معنی تو یہ ہوئے کہ وہ اس کی ذات کے اندر سے وجود میں آئی ہو اور پھر اس کا لازمی اقتضاء یہ بھی ہے کہ وہ اس کی کفو اور ہمسر بھی ہو۔ اس بات کے ماننے کے بعد خدا کی یکتائی اور بےہمگی کہاں باقی رہی ! یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ مشرکین کے دیویوں دیوتائوں میں کچھ تو وہ تھے جن کو وہ صرف خدا کی صفات یا اس کے حقوق میں شریک مانتے تھے اور کچھ ایسے تھے جن کو وہ صرف خدا کی صفات یا اس کے حقوق میں شریک مانتے تھے اور کچھ ایسے تھے جن کو وہ اس کی ذات میں بھی شریک تصور کرتے تھے۔ مثلاً ملائکہ کے متعلق ان کا تصور یہ تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں جو اس کی بڑی چہیتی ہیں، ان کی پرستش شفاعت اور ریجات کا ذریعہ ہوگی۔ قرآن نے یہاں ان کے اسی زعم کی تردید کی ہے کہ خدا کے سوا جو بھی ہیں سب اس کی مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو بھی اس کے جزو ہونے کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ یہ انسان کا انتہائی ناشکرا پن ہے کہ اس کو سب کچھ حاصل ہوا ہے خدا سے لیکن وہ دوسروں کو دیوی دیوتا بنا کر ان کے گن گاتا ر اور ان کی پرستش کرتا ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت کی زد اس عقیدہ وحدت الوجود پر بھی پڑتی ہے جس کے اصل موجد تو ہندو فلسفی ہیں لیکن ہمارے صوفیوں کے ایک گروہ نے اسلام میں بھی اس کو لا گھسایا ہے۔ اس عقیدے کے بموجب تمام کائنات اور اس کی ہر چیز خدا کے جزو کی حیثیت حاصل کرلیتی ہے۔ تو جب مشرکین عرب کا فرشتوں کو خدا کا جزو بنانا شرک ٹھہرا تو ساری کائنات کو خدا کا جزو بنا دینا توحید کس طرح بن جائے گا۔
Ayahs 43:16–17

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا !

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی بشارت دی جاتی ہے جس کو وہ خدا کی صفت بیان کرتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے

ام اتخذ مما یخلق بنات و اصغکم بالبنین، واذا بشراحدھم بما ضرب للرحمن مثلاً ظل وجھہ مسوداً وھو کظیم (17-16) مشرکین کے عقیدے کا بھونڈا پن اخلاقی پہلو سے ام استنکار و الستعجاب کے مفہوم میں ہے۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں جو قرار دیتے تھے، ان کے اس عقیدے پر ایک دوسرے پہلو سے نکیر فرمائی۔ اوپر والی آیت میں ان کے جزء خدا ہونے کی تردید تھی۔ اس آیت میں ایک نفسیاتی پہلو سے ان کے اس عقیدے کے بھونڈے پن کو واضح فرمایا کہ صرف یہی ستم نہیں ہے کہ خدا کی مخلوقات کو اس کا ایک جزو بنائے دے رہے ہیں بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بیٹیوں کو اپنے لئے تو ایک نہایت نفرت کی چیز سمجھتے ہیں لیکن خدا کی طرف ان کو منسوب کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ جب خدا ہی سب کچھ پیدا کرتا ہے تو اس نے اپنے لئے بیٹیاں کیوں پسند کیں جب کہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خبر دی جائے تو غم سے اس کا چرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ برابر گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس عقیدہ کے گھڑنے میں صرف یہی نہیں کہ عقل سے انہوں نے کوئی کام نہیں لیا بلکہ یہ اس احساس شرافت کی بھی بالکل نفی ہے جو انسانی فطرت کا بالکل بدیہی تقاضا ہے۔ اگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ خدا کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا تو کم از کم وہ اتنا انصاف تو کرتے کہ خدا کی طرف وہ چیز نہ منسوب کرتے جس سے وہ خود اس درجہ بیزار و نفور ہیں۔ یہ عقیدہ ایجاد کر کے انہوں نے صرف عقل ہی کی تذلیل نہیں کی ہے بلکہ احساس عدل سے اپنی بےمائگی کا ثبوت بھی دیا ہے۔
Ayah 43:18

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کہ کیا وہ پیدا ہوئی ہے جو زیوروں میں پلتی اور مفاخرت میں بےزبان ہے !

اومن ینشوا فی الحلیۃ وھو فی الخصام غیر مبین 18 لڑکویں سے متعلق عرب جاہلیت کے احساس کی تشبیہ یہ ان کے اس احساس کی تعبیر ہے جو لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر ان کے دل میں پیدا ہوتا اور ان کی گھٹن کا باعث ہوتا ہے۔ فرمایا کہ وہ اس سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کیا وہ آئی ہے جو زیوروں میں پلتی اور مفاخرت کے مقابلوں میں بالکل بےزبان ہے۔ لفظ خصام یہاں مبارزت اور مفاخرت دونوں معنوں پر مشتمل ہے اور عرب جاہلیت ان دونوں ہی چیزوں کے رسیا تھے۔ ان کے ہاں آئے جن جنگیں بھی برپا ہوتی رہتیں اور مفاخرت کے مقابلے بھی ہوتے رہتے جن میں ہر قبیلہ کے خطیب اور شاعر اپنے اپنے قبیلہ کے مفاخر بیان کرین میں داد خطابت و شاعری دیتے۔ ظاہر ہے کہ عورت ان دونوں ہی میدانوں میں فرو تر تھی۔ نہ وہ زرہ بکتر اور شمشیر و سناں کی مخلوق تھی اور نہ خطابت و شاعری کی، اس وجہ سے اہل عرب کی نگاہوں میں اس کی کچھ زیادہ اہمیت نہ تھی اور یہ بات کچھ اہل عرب ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اس زمانے میں بھی عورت کو جو اہمیت حاصل ہوئی ہے وہ نمائش کی مجالس ہی میں ہوئی ہے۔ مبارزت اور مفاخرت کے اعتبار سے تو آج بھی وہ ہیں ہے جہاں عرب جاہلیت کے دور میں تھی۔ یہ امر یہاں اچھی طرح محلوظ رہے کہ عورت پر یہ تبصرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ان اہل عرب کی طرف سے ہے جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ عام ور پر مفسرین نے یہ خیال کیا کہ یہ تبصرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ غلط فہمی لوگوں کو کلام کے سیاق و پنہ غور کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمان کے بندے ہیں، بیٹیوں کا درجہ دے رکھا ہے۔ کیا یہ ان کی ولادت کے وقت موجود تھے ! ان کی یہ وگاہی نوٹ رہے گی اور ان سے اس کی پرسش ہوگی !

وجعلوا الملٓئکۃ الذین ھم عیدالرحمٰن انثا ط اشھداوا خلقھم ط ستکب شھدتھم ویسئلون 19 اس واہمہ کی تردید ایک اور پہلو سے ان کے اس واہمہ پر ایک اور پہلو سے بھی ضرب لگائی۔ فرمایا کہ انہوں نے فرشتوں کو جو عوتریں بنا کر رکھ دیا ہے تو آخر ان کے اس دعوے کی بنیاد کیا ہے کیا جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا تو یہ اس وقت موجود تھے ! اس کے بعد نہایت سخت الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ ان کا یہ دعوے نوٹ رہے گا اور ایک دن ان سے اس کی پرسش ہونی ہے۔ فرشتوں کے متعلق یہ پوری بحث سورة صافات کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔
Ayahs 43:20–21

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کو پوجنے والے نہ بنتے۔ ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے تو وہ اس کی سند پکڑتے ہیں۔

وقالوا لوشآء الرحمٰن ماعبدنھم ط مالھم بذالک من علم ق ان ھم الایخرصون، ام اتینھم کتباً من قبلہ فھم بہ مستمسکون، بل قالوآ انا وجدنآ اباء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مھتدون (22-20) اپنی حماقت کی تائید میں مشرکین کی شرعی دلیل اور اس کی تردید اپنی اس حماقت کی تائید و تصویت میں مشرکین جو شرعی دلیل پیش کرتے یہ اس کا حوالہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان کو پوجنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کو ان کی عبادت پسند ہے۔ اگر یہ چیز اس کو پسند نہ ہوتی تو اس کی قدرت میں تو سب کچھ ہے، وہ اپنی مشیت کے زور سے اس کو روک دیتا اور ہم ان کی عبادت نہ کر پاتے جو اب میں فرمایا کہ یہ محض ان کی اٹکل پچو باتیں ہیں۔ اسی باب میں ان کو کوئی علم نہیں ہے۔ خدا کی پسند ناپسند کے جاننے کا یہ ذریعہ نہیں ہے کہ کسی شخص یا گروہ کو کسی برائی کے کرنے کی ڈھیل ملی ہوئی ہے۔ اگر یہ کوئی دلیل ہے تو یہ دلیل ہر چور، ہر زانی، ہر بدمعاش اپنی چوری اور بدمعاشی کے جواز بلکہ استحسان کی تائید میں پیش کرسکتا اور کہہ سکتا ہے کہ اگر یہ بات خدا کی مرضی کے خلاف ہوتی تو وہ اپنی مشیت کے زور سے اس کو روک دیتا لیکن جب اس نے اس کو نہیں روکا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے جو کچھ کیا اس کی مرضی سے کیا اور ہمارا یہ فعل اس کو پسند ہے۔ ام اتینھم کتباً من قبلہ فھم بہ مستمسکون فرمایا کہ خدا کی پسند اور ناپسند کے جاننے کے قابل وثوق ذریعہ اس کی کتابیں اور اس کے نبیوں کی تعلیمات ہیں تو کیا اس قرآن سے پہلے ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے جس کو وہ سند میں پیش کرسکتے ہوں ؟ اگر ایسا نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نہیں ہے تو آخر وہ کس سند پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کو خدا کی تائید حاصل ہے ؟
Ayah 43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی انہی کے نقش قدم پر راہ یاب ہیں

بل قالوآ انا وجدنا ابآء نا علی امۃ وانا علی اثرعم مھتدون 22 مشرکین کی روایتی دلیل اور اس کی تردید اوپر مشرکین کی کالمی دلیل کی تردید فرمائی ہے۔ اس پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مشرکین عرب کو بھی بالکل اسی طرح کا دھوکا پیش آیا جس طرح کا دھوکا ہمارے ہاں مجبرہ کو پیش آیا۔ اب یہ ان کی روایتی دلیل ایک حوالہ ہے جس پر ان کو سب سے زیادہ اعتماد تھا اور چونکہ اس کی بنیاد تقلید آباء پر ہے جس کا تعلق عقل کے بجائے مجرد جذبات سے ہے اس وجہ سے ہر دور کے اشرار نے اس ہتھیار سے فائدہ اٹھایا اور عوام کے جذبات بھڑکا کر مصلحین کی مساعی اصلاح کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے۔ امۃ کے معنی جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہوچکی ہے، کسی قوم کے مجموعی طریقہ اور مسلک کے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنی اس حماقت کی تائید میں یہ دلیل بھی لاتے ہیں کہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ایک صحیح مسلک اور ایک اعلیٰ طریقہ پر پایا ہے اور ہم چونکہ انہی کے مسلک پر ہیں اس وجہ سے بالکل ہدایت کی راہ پر ہیں۔ انہی کے نقش قدم کی پیروی ہماری ہدایت کی ضامن ہوگی۔ اگر ہم اس سے ذرا منحرف ہوئے تو ہم ہدایت کی راہ سے بھٹک جائیں گے اس وجہ سے جو لوگ ہمیں اس راہ سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں وہ ہماری تباہی کے در پے ہیں۔
Ayahs 43:23–24

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے جس بستی میں بھی تم سے پہلے کوئی منذر بھیجا تو اس کے خوش حالوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے۔

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

منذر نے کہا، کیا اگر میں اس سے زیادہ ہدایت بخش طریقہ لے کر تمہارے پاس آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے جب بھی تم انہی کے نقش قدم کی پیروی کرو گے ! انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس سارے کے منکر ہیں

یہ امر ملحوظ رہے کہ لفظ امۃ کی تنکیر اس کی عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔ وکذلک ما ارسلنا من قبلک فی قریۃ من نذیر الاقال مسترفوھآ انا وجدنآ ابآء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مقتدون، قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابآء کم ط قالوا انا بما آ ارسلتم بہ کفرون (24-23) ہر دور کے مکذبین کا طریقہ ایک ہی رہا ہے فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح اپنے دین کے معاملے میں اندھے مقلد ہیں اسی طرح اپنی دلیل میں بھی پچھلے انبیاء کے مکذبین کے مقلد ہیں۔ تم سے پہلے جو منذر بھی کسی بستی میں ہم نے بھیجا اس کے انذار اور اس کی دعوت اصلاح کا جواب قوم کے مستکبرین نے یہی دیا کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک خاص طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی بیروی پر جمے رہیں گے۔ رسول نے جب ان سے یہ سوال کیا کہ اگر میں تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے بہتر طریقہ تمہارے پاس لے کر آیا ہوں جب بھی تم اپنے باپ دادا کی طریقہ ہی پر جمے رہوہ گے ! اس کے جواب میں انہوں نے جھلا کر کہا کہ ہم تو اس سارے ہی کے منر ہیں جو دے کر تم بھیجے گئے ہو ! انا بمآ ارسلتم بہ کفرون سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ جواب انہوں نے جھلا کر اور آپے سے باہر ہو کردیا۔ اس لئے کہ جواب اصل سوال سے کئی قدم آگے ہے۔ رسول کا سوال تو صرف یہ تھا کہ اگر میرا طریقہ جس کی میں دعوت دے رہا ہوں تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے بہتر ہوا تو کیا اس صورت میں بھیتم اپنی اسی ہٹ پر قائم رہو گے۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری ہر بات کے منکر ہیں۔ یعنی مسئلہ اھدی اور غیر ھدی کے امتیاز کا نہیں ہے بلکہ ہم تمہاری کوئی بات سرے سے سننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ دوسری یہ کہ کسی شے کے اھدی، اور غیر اھدی میں امتیاز کی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ودیعت فرمائی ہے بشرطیکہ انسان کے پاس گوش حقیقت نیوش ہو۔ وہ مغرور، ضدی اور ہٹ دھرم نہ ہو۔
Ayah 43:25

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

جو دے کر تم بھیجے گئے ہو ! تو ہم نے ان سے انتقام لیا تو دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا

فانتقمنا منھم فانظر کیف کان عقبۃ المکذبین (25) مطلب یہ ہے کہ جب قوموں کی ضد اور مکابرت اس حد کو پہنچ گئی کہ انہوں نے رسولوں کی بات سننے اور سمجھنے سے انکار کردیا تب اللہ تعالیٰ نے ان سے کفر ان نعمت کا اتنقام لیا، پھر دیکھو کہ رسولوں کے جھٹلاین والوں کا کیا انجام ہوا ! !
Ayah 43:26

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ میں ان چیزوں سے بالکل بری ہوں جن کو تم پوجتے ہو۔

-2 آگے کا مضمون … آیات :45-26 آگے حضرت ابراہیم ؑ کی ہجرت اور شرک سے ان کے اعلان برلدت کا حوالہ ہے جس سے مقصود کی حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین شرک کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباء و اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو حضرت ابراہیم ؑ ہیں جنہوں نے شرک ہی کی بنا پر اپنی قوم کو چھوڑا اور ان کی اس ہجرت اور اعلان برأت کی ایت آج تک ان کی ذریت کی دونوں شاخوں میں موجود ہے۔ پھر قریش کس طرح یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے آبائو اجاد کے طریقہ پر چل رہے ہیں۔ اس تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے بعد قریش کی سرکشی کے اصل اسباب پر روشنی ڈالی ہے اور نبی ﷺ کو تسلی دی ہے کہ تم اپنی دعوق حق پر جمے رہو۔ انبیاء کا اصل راستہ یہی ہے جس کی طرف تم لوگوں کو بلا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو ابھی تمہارے اور تمہارے مخالفوں کے درمیان فیصلہ کر دے لیکن اس کی سنت یہ ہے کہ ایک خاص حد تک وہ حق کے دشمنوں کو بھی مہلت دیتا ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت واذ قال ابراھیم لابیہ قومہ آننی برآء مما تعبدون 26 حضرت ابراہیم کے اعلان برأت کی یاد دہانی ’ برآء ‘ مصدر ہے جو صفت کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مصدر جب صفت کے مفہم میں استعمال ہو تو اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے جیسے زید عدل اس وجہ سے اننی برآء کیم عنی ہوں گے۔ میں تم سے یک قلم بری ہوں، میرے اور تمہارے درمیان اب کوئی رابطہ باقی نہیں رہا۔ یہ حضرت ابراہیم ؑ کے اس اعلان برأت کا حوالہ ہے جس کا ذکر پچھلی سورتوں میں تفصیل سے ہوچکا ہے اور مقصود اس حوالہ سے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، قریش پر اس حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ اپنے شرک کی حمایت میں اپنے آباء و اجداد کا حوالہ جو دیتے ہیں تو آخر اپنے اصل جدامجد کو کیوں بھول جاتے ہیں جنہوں نے شرک سے بیزاری ہی کی بنا پر اپنے باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا اور اپنی ذریت کو اس وادی غیر ذی زرع میں بسایا ! مطلب یہ یہ کہ ان کو اگر اپنے اجداد کے دین پر ناز ہی ہے تو سب سے زیادہ مایہ ناز تو حضرت ابراہیم ؑ ہیں جن کی برکت سے ان کو دین اور دنیا دونوں کی نعمتیں ملیں تو آخر ان کو چھوڑ کر انہوں نے ان جاہلوں کی تقلید کیوں اختیار کی جنہوں نے ان کو اصل بزرگ خاندان کے دین سے ہٹا کر شرک کے جوہڑ میں گرایا۔ یہ اعلان برأت حضرت ابراہیم ؑ نے سب سے پہلے اپنے باپ کے سامنے کیا، جیسا کہ واذ قالو ابراہیم لایبہ کے الفاظ سے واضح ہے۔ اس میں قرش کو یہ تنبیہ ہے کہ وہ سوچیں تو ان کے جد امجد نے ان کے لئے روایت تقلدی آباء میں شرک پرستی کی نہیں بلکہ مبتلائے شرک باپ دادا سے بیزاری کی چھوڑی ہے۔
Ayah 43:27

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

میں صرف اسی کو پوجتا ہوں جس نے مجھ کو پیدا کیا۔ پس بیشک وہی میری رہنمائی فرمائے گا

الا الذی فطرنی فانہ سیھدین 27 میرے نزدیک یہ استثناء مما تعبدون سے ہے۔ جس طرح مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتے تھے لیکن اس کے شریک ٹھہرا کر، اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ کی قوم بھی خدا کی منکر نہیں تھی بلکہ اس کے شریک ٹھہراتی تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے اس اعلان سے قوم پر یہ واضح فرمایا کہ اللہ کے سوا، دوسرے دیوی دیوتا جو تم نے بنا رکھے ہیں، وہ تو بالکل بےحقیقت ہیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی بندگی میں کرتا ہوں اور کروں گا اس لئے کہ وہ میرا خالق و فاطر ہے اس وجہ سے بندگی کا حق دار ہے۔ فانہ سیھدین کا تعلق ان کے اعلان برأت سے ہے یعنی میں اپنے باپ اور اپنی قوم کو چھوڑنے کا جو اعلان کر رہا ہوں تو یہ اعلان ہے تو نہایت کٹھن میں اس کی مشکلات سے واقف ہوں لیکن اپنے جس رب کی خاطر میں یہ باری کھیل رہا ہوں مجھے امید ہے کہ وہ تمام مشکلات میں میری رہنمائی فرمائے گا۔
Ayah 43:28

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور اس کو اس نے ایک پائیدار روایت کی حیثیت سے چھوڑا اپنے اخلاف میں تاکہ لوگ اسی کی طرف رجوع کریں۔

وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون 28 ضمیر منصوب کا مرجع وہی اعلان برأت و ہجرت ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ اس نوع کی ضمیریں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ اس اعلان برأت کی روایت اخلاف میں باق رہی کلمۃ باقیۃ سے مراد پائیدار اور باقی رہنے والی روایت (Tradition) ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے قول و عمل اور اپنی تعلیم و تذکیر سے اپنے اس اعلان برأت ہجرت کو اپنی ذریت میں ایک مستحکم روایت کی حیثیت دے دی۔ اسلاف، اخلاف کو یہ روایت منتقلک رنے اور اس کو زندہ رکھنے کی برابر وصیت اور تاکید کرتے رہے۔ ذریت ابراہیم کی ایک شاخ یعنی اسرائیل میں اس کا چرچا ان کے صحیفوں اور ان کے اندر مبعوث ہونے والے انبیاء کی تعلیم و تذکیر سے قائم رہا۔ دوسری شاخ یعنی بنی اسماعیل میں چونکہ انبیاء نہیں مبعوث ہوئے اس وجہ سے اس کا چرچا کچھ مدت بعد کمزور پڑگیا تاہم اس کے اندر بھی ایک گروہ برابر ان لوگوں کا باقی رہا جو حضرت ابراہیم ؑ کے دین حنیفی کے پیرو، ان کی دعوت توحید کے حامل اور ان کی شرک بیزاری کی روایات کے امین رہے۔ لعلھم یرجعون یعنی یہ روایت انہوں نے اپنی ذریت میں اس لئے چھوڑی کہ ان کے لئے نشان راہ کا کام دیتی رہے۔ جب کبھی شیطان ان کو بھٹکانے لگے یا وہ بھٹک جائیں تو اس نشان کو دیکھ کر پھر صراط مستقیم کی طرف پلٹ سکیں۔
Ayahs 43:29–30

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بلکہ یوں ہوا ہے کہ میں نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو دنیا سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور ایک واضح کردینے والا رسول آیا

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق آگیا، انہوں نے کہا یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں۔

بل متعت ھولآء وابآء ھم حتی جآء ھم الحق و رسول مبین، ولما جآء ھم الحق قالوا ھذا سحروانا بہ کفرون (30-29) مخالفت کی اصل علت حق سے مراد قرآن مجید ہے اور ابآء ھم کے بعد فطال علیھم الامہ فقست قلوبھم کے الفاظ بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہیں۔ سورة حدید آیت 16 میں بالکل اسی سیاق میں مذکورہ الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ نیز سورة انبیاء آیت 4 میں یہی مضمون سا طرح آیا ہے : بل بل متعناہ ولآء وابآء ھم حتی طال علیھم العموط (بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو دنیا کی نمتوں سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ اسی حال میں ان پر ایک طویل مدت گزر گئی) مطلب یہ ہے کہ یہ تو محض ان کی سخن سازی ہے کہ قرآن کی مخالفت وہ اس بنا پر کر رہے ہیں کہ اس کی دعوت ان کے دین آباء کے خلاف ہے بلکہ اس مخالفت کی اصل علت یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو دنیا کی نعمتوں سے بہرہ مند کیا اور اس رفاہیت پر ایک طویل مدت گزر چکی ہے جس کے سبب سے ان کے دلوں پر قساوت چھا گئی ہے۔ اب جو ان کے پاس قرآن اور حقائق کردینے والا رسول آیا تو یہ دعوت وتعلیم ان کے دلوں پر شاق گزر رہی ہے۔ وہ اس کے قبول کرنے میں اپنے دنیوی مفادات کے لئے خطرہ تصور کرتے ہیں اس وجہ سے اپنے عوام کو اس سے برگشتہ کرنے کے لئے اس کو سحر قرار دیتے ہیں۔ قرآن کو سحر کہنے کی اصل علت قرآن کو قریش جو سحر کہتے تو اس کا ایک خاص پہلو تھا جس پر ہم دوسرے مقام پر روشنی ڈال چکے ہیں۔ کوئی حقیقت اگر صحیح الفاظ میں سامنے آئے تو لازماً وہ دلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ قرآن چونکہ سراسر حقیقت ہے۔ جیسا کہ لفظ حق سے واضح ہے اور اس کا اسلوب بیان بھی معجزانہ ہے اس وجہ سے وہ قدرتی طور پر ان لوگوں کے دلوں پر اثر انداز ہوتا جو مفاد پرست نہیں تھے اور جن کو قریش کے لیڈروں کی طرح یہ اندیشہ نہیں تھا کہ اس کے ظہور سے ان کی سیاوت کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ اس طرح کے لوگوں کو قرآن کے اثر سے بچائے رکھنے کے لئے قریش کے لیڈر یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ قرآن ایک لغو اور بےمعنی کتاب ہے۔ اگر وہ یہ کہتے تو ان کے عوام خود ان کو بیوقوف ٹھہراتے کہ یہ سورج پر خاک ڈالنے کی کوشش ہے البتہ وہ عوام کہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ قرآن میں جو بلاغت و جزالت ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ آسمان سے نازل ہوا ہے، جیسا کہ اس کے پیش کرنے والوں کا دعویٰ ہے، بلکہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے جس میں ہمارے شاعروں اور خطیبوں کی طرح اس کو پیش کرنے والا بھی ماہر ہے۔ گویا ان کی کوشش یہ تھی کہ لوگوں کے دلوں پر یہ اثر پڑنے نہ پائے کہ قرآن خدائی وحی ہے بلکہ لوگ اس کو اسی درجے میں رکھیں جس درجے میں اپنے بڑے شاعروں اور خطیبوں کے کلام کو رکھتے ہیں۔
Ayah 43:31

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ یہ قرآن دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا ؟

وقالوا لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم (31) عوام فریبی کے لئے ایک اور اشغلہ قرآن اور نبی ﷺ سے اپنے عوام کو برگشتہ کرنے کے لئے یہ بات بھی قریش کے لیڈر کہتے کہ اگر یہ کتاب خدا کی نازل کی ہوئی ہے تو آخر یہ مکہ یا طائف کے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں نازل کی گئی ! من القریتین سے مراد مکہ اور طائف ہیں اس لئے کہ یہی دو بستیاں عرب کے سادات و اشراف کا مرکز تھیں۔ پشتہاپشت سے عرب کی سیادت و قیادت انہی لوگوں کو حاصل رہی تھی اس وجہ سے سادہ لوح عوام کو یہ بات آسانی سے باور کرائی جاسکتی تھی کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کو اگر لوگوں کی رہنماء کے لئے کوئی چیز اتارنی ہی ہوتی تو وہ انہی دونوں بستیوں میں سے کسی رئیس ابن رئیس پر اتارتا، ان کو چھوڑ کر، وہ ایک ایسے شخص کا انتخبا کیوں کرتا جو ایک غریب ابن غریب ہے اور جس کی بات سننے کے لئے امراء مشکل ہی سے تیار ہو سکتے ہیں۔
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا تیرے رب کے فضل کو یہی تقسیم کرتے ہیں ! دنیا کی زندگی میں ان کی معیشت کا سامان تو ہم نے تقسیم کیا ہے اور ایک کے درجے دوسرے پر بلند کئے ہیں تاکہ وہ باہم دگر ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔

معترضین کو جواب اہم یقسمون رحمت ربک نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیہ یہ ان فراعنہ کی رعونت کا جواب ہے کہ ان کی یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کا اجارہ دار وہ اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ انہی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جس نعمت سے جس کو چاہیں نوازیں اور جس کو چاہیں محروم رکھیں۔ حالانکہ اس دنیا میں بھی ان کو جو وسائل معیشت حاصل ہوئے ہیں، خدا ہی کی تقسیم سے حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے خود نہیں حاصل کئے ہیں۔ اگر یہ خود حاصل کر لنیے والے ہوتے تو ان اغنیاء کے درمیان درجات و مراتب کا تفاوت کیوں ہوتا ! اپنے اختیار میں معاملہ ہوتے ہوئے کوئی خود اس بات پر کیوں راضی ہوتا کہ وہ کسی پہلو سے دوسرے سے فروتر ہو کر رہے۔ اپنی خواہش کے خلاف یہ فرق مراتب اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ تقسیم کا معاملہ ان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ کسی اور ہی کے ہاتھ میں ہے جو اپنی صواب دید اور حکمت کے مطابق جس کو چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے۔ لیتخذبعضھم بعضا سحریا اتخذفلان فلانا سخریا کے معنی ہیں فلاں نے فلاں کو اپنے کام یا اپنی خدمت میں لگایا۔ نفاوت درجات کی حکمت یہ حکمت بیان فرمائی اس بات کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ذہنی اور مادی دونوں ہی اعتبار سے درجات وم راتب کا تفاوت کیوں رکھا ہے ؟ فرمایا کہ ایسا اس نے اس وجہ سے کیا ہے کہ لوگ باہم دگر تعاون کی زندگی بسر کریں اور ایک دوسرے کو اپنے کام میں لگا سکیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لئے بنائی ہے اس وجہ سے اس کا نظام اس نے اس طرح کا رکھا ہے کہ اس میں ہر شخص دوسروں کا محتاج بھی ہے اور محتاج الیہ بھی۔ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی دوسروں کا محتاج ہے اور چھوٹے سے چھوٹا آدمی بھی اس میں محتاج الیہ ہے۔ یہاں کوئی شخص بھی دوسروں سے مستغنی نہیں اور کوئی شخص بھی ایسا نہیں کہ معاشرہ میں کسی نہ کسی پہلو سے اس کی افادیت نہ ہو۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ خالق کائنتا نے ہر شخص کو ایک ہی درجے کی صلاحیت، ایک ہی طرح کے ذوق، ایک ہی مرتبہ کی ذہانت اور ایک ہی حیثیت کے وسائل و ذرائع کے ساتھ نہیں پیدا کیا بلکہ ان اعتبارات سے لوگوں کے درمیان بڑا تفاوت رکھا ہے۔ یہ تفاوت معاشرہ کی تشکیل اس طرح کرتا ہے کہ اس میں ایک طرف متجر عالم، نامور مصنف، یکتائے روزگار محقق، شہرہ آفاق مدبر اور طاقوتر حکمران بھی پیدا ہوتے ہیں، دوسری طرف کھیتوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور، گھٹڑیاں ڈھونے والے قلی، حاضر خدمت رہنے والے خادم گلیاں اور نالیاں صاف کرنے والے مہتر بھی اس میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سارے طبقات معاشرہ کی تشکیل کے لئے ضروری بلکہ ناگزیر ہیں۔ ان سب کی خدمت کی نوعیت الگ الگ ہے مگر ان میں سے کوئی عنصر بھی نہ حقیر ہے اور نہ ان میں سے کسی کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ معاشرہ کی مشین جاری رکھنے کے لئے اس مشین کے چھوٹے سے چھوٹے پرزے کی دیکھ بھال بھی، اس کی افادیت کی نسبت سے ضروری ہے۔ دنیا کو درجات و مراتب کے اس فرق کے ساتھ پیدا کیا کے اللہ تعالیٰ امتحان کر رہا ہے کہ جو لوگ اعلیٰ صلاحیتوں اور بہتر وسائل کے امین بنائے گئے ہیں وہ اپنے وسائل اور اپنی صلاحیتیں کس طرح استعمال کر رہے ہیں ؟ ان کو پا کر وہ غرور، خود سری، تغلب اور خالق کائنات کی نافرمانی میں مبتلا ہوگئے ہیں یا اس کے شکر گزارو فرمانبردار اور اس کی خلق کے غمگسار ہیں ؟ اسی طرح وہ ان لوگوں کو بھی دیکھ رہا ہے جو فروتر اور کمتر وسائل کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنے فرائض کو پہچاننے والے اور اپنے خالق سے ڈرنے والے اپنی خودی اور خود داری کی حفاظت کرنے والے ہیں یا اپنے فرائض چھوڑ کر اس خبط میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ انہیں ان لوگوں کو نیچا دکھانا چاہئے جو ان کے حاکم اور افسر بنے ہوئے ہیں۔ اگر ان میں سے پہلی صورت وجود میں آتی ہے تو اعلیٰ اور ادنیٰ کے صالح تعاون سے صالح معاشرہ اور صالح تمدن وجود میں آتا ہے اور اس کے تمام اجزاء بلا امتیاز اعلیٰ و ادنیٰ اس دنیا میں ی بھی عزت پاتے ہیں اور آخرت میں بھی ہر ایک اپنی اپنی خدمتا اور اپنے حسن نیت کے مطابق صلہ پائے گا۔ اگر دوسری شکل ہوتی ہے تو معاشرہ کا نظام بالتدریج مائل بہ فساد ہونا شروع ہوتا ہے اور بالآخر فنا ہوجاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کے تمام بڑے اور چھوٹے عناصر اپنی اپنی شرارت یا غفلت کے مطابق خدا کے عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ اس زمانہ میں جو لوگ اس خبط میں مبتلا ہیں کہ وہ دنیا سے طبقات کے وجود کو مٹا کے رہیں گے وہ اس ارادے میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک وہ لوگوں کو ذہنی، مزاجی، طبعی اور عملی صلاحیتوں کے اعتبار سے مساوی درجہ کا بنانے میں کامیاب نہ ہوجائیں اور یہ چیز محال ہے جن قوموں نے اس خبط میں مبتلا ہو کر خون کے دریا بہا دیئے ان کا حال بھی یہ ہے کہ وہاں بڑے سے بڑے فراعنہ بھی موجود ہیں اور ان فراعنہ کے بوٹوں پر پالش کرنے والے اور گلیوں میں جھاڑو دینے والے بھی موجود ہیں اور اگر وہ اس محال کو ممکن بنانے میں کامیاب ہوگئے یعنی انہوں نے پوری قوم کو صلاحیتوں اور ذہنی و مادی قوتوں کے اعتبار سے ایک درجہ پر کردیا تو اسی دن باہمی تعاون کی بنیاد ختم ہوجائے گی اور قوم میں انارکی پھیل جائے گی۔ جب ہر شخص لینن اور سٹالن بننے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرلے گا تو آخر وہ لینن یا مائو کی کار چلانے والا ڈرائیور یا ان کے جوتوں پر پالش کرنے والا خدمت گار بننے پر کیوں قانع ہوگا ؟ پھر تو ہر شخص خداوندی بننے کی کوشش کرے گا اور اتنے خدائوں کی کشمکش میں اس دنیا کا جو حشر ہوگا اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے ! !
Ayahs 43:33–34

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی ڈگر پر چل پڑیں گے تو جو لوگ خدائے رحمان کے منکر ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے اور زینے بھی چاندی کے جن پر وہ چڑھتے

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے کواڑ اور ان کے تخت بھی چاندی کے جن پر وہ ٹیک لگا کر بیٹھتے

ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفربالرحمٰن لبیوتھم سقفاً من فضۃ ومعارج علیھا یظھرون، ولبیوتھم ابواباً و سوراً علیھا یتکون (34-33) حذف کا ایک اسلوب یہاں من فضۃ کے الفاظ جس طرح سقفاً کے بعد آئے ہیں اسی طرح معارج ابواب اور سر کے بعد بھی آنے چاہئیں لیکن فصیح عربی کے معروف اسلوب کے مطابق وہ حذف کردیئے گئے اس لئے کہ قرینہ خود ان کو واضح کر رہا ہے۔ متاع دنیا کی بےحقیقتی اب یہ اس متاع دنیا کی بےحقیقتی واضح فرمائی جا رہی ہے جس کے غرو نے کفار کو اس خبط میں مبتلا کیا کہ وہ سمجھنے لگ گئے کہ جب اس دنیا کی ساری شوکت و عظمت ہم کو حاصل ہوئی تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کو کوئی کتاب اتارنی ہوتی تو اس کے لئے وہ ہمارے سوا کسی اور کو تلاش کرتا ! فرمایا کہ دنیا کے جس سرورسامان پر ان کو یہ ناز ہے اس کی حقیقت خدا کی نگاہوں میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر یہبات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی ڈگر پر چل پڑیں گے تو اللہ تعالیٰ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور ان پر چھڑنے کے زینے اور ان کے کواڑ اور ان کے ٹیکے لگانے کے تخت سب چاندی کے کردیتا لیکن اس نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ یہ آزمائش لوگوں کے لئے بہت سخت ہوجاتی۔ عام لوگ جب دیکھتے کہ خدا کے کفر کنے والوں کو یہ کچھ حاصل ہے تو لوگ اندھے ہو کر کفر ہی کی راہ اختیار کرلیتے۔ کوئی بڑا ہی نصیبہ ور ہوتا ہوتا تو وہ اپنے ایمان کو اس فتنہ سے بچا پاتا۔ خلق کو اس آزمائش سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں سے اہل ایمان اور اہل کفر دونوں ہی کو حصہ دیا ہے البتہ آخرت میں اہل کفر کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ بات جو فرمائی کہ لوگ ایک ہی ڈگر پر چل پڑتے، ایک کلیہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ عمومیت و اکثریت کے اعتبار سے فرمائی گی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر دنیا صرف کافروں ہی کو ملت تو اس دنیا میں بہت تھوڑے لوگ نکلتے جو ایمان کی راہ اختایر کرتے تاہم نکلتے ضرور، خواہ ان کی تعداد کتنی ہی کم ہوتی۔ انسان کی فطرت اللہ تعالیٰ نے ایس بنائی ہے کہ شدید سے شدید امتحان میں بھی ان کے اندر سے ایسے جوہر قابل نکل آتے ہیں جو آگ کے سمندر سے گزر جاتے ہیں لیکن اپنے رب کو نہیں چھوڑتے۔
Ayah 43:35

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور یہ چیزیں سونے کی بھی کردیتے اور یہ چیزیں تو بس دنیا کی زندگی کی متاع ہیں اور آخرت تیرے رب کے پاس متقیوں کے لئے ہے

وزخرفاً وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا، والاخرۃ عند ربک للمتقین (35) ذخرف، کا اعراب زخرف کے معنی زینت کے بھی آتے ہیں اور سونے کے بھی جو زینت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ تالیف کلام کے اعتبار سے اس کو منہ فضۃ کے محل پر عطف بھی کرسکتے ہیں اور فعل بھی محذوف مان سکتے ہیں یعنی لجعلنا لمن یکفربالرحمن زخرفاً مدعا میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوگا۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو مذکورہ ساری چیزیں ان کے لئے سونے کی بھی بنا دیں یا ان کے لئے سونے کے ڈھیر اکٹھے کردیں۔ لما کی تحقیق لما یہاں الا کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ اس ل کی جگہ پر ہے جو ان مخففہ اور ان نافیہ کے درمیان بطور علامت فرق کے آیا کرتا ہے۔ بعض جگہ اس ل کو اشارع یعنی کلام کے صوتی خلا کو بھرنے کے لئے لما کردیتے ہیں۔ مثلاً سورة طارق میں ہے ان کل نفس لما علیھا حافظ (4) (بےشک ہر جان پر ایک نگران ہے اصلاً تو یہ (ان کل نفس لعلیھا حافظ ہے لیکن فقرے میں ایک قسم کا صوتی خلا رہ جاتا تھا اس وجہ سے آہنگ کو ٹھیک کرنے کے لئے اہل زبان کے معروف استعمال کے مطابق، اس کو لما کردیا۔ حروف میں اس قسم کے اضافہ کی مثالیں عربی میں بہت ہیں لیکن یہاں ہمارے لئے زیادہ تفصیل میں جانے کی گنجائش نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں، جن پر یہ لوگ ریجھے ہوئے ہیں، بس اس حیات چند روزہ کی متاع ہیں۔ اصل غیر قانونی نعمتیں تو آخرت میں ملنے والی ہیں اور آخرت تمام تر تیرے رب کے پاس صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو رب سے ڈرنے والے ہیں۔
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو خدا کے ذکر سے اعراض کرلیتا ہے تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے

ومن یعش عن ذجکرا الرحمٰن نقیض لہ شیطنا فھولہ قرین (36) اصل حقیقت یعنی ان کے یہ سارے شبہات و اعتراضات تو محض بناوٹی ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے خدا کی یاد سے بالکل اعراض کرلیا ہے اور سنت الٰہی یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی یاد سے منہ موڑ لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اپور ایک شیطان مسلط کردیتا ہے جو ان کا دن رات کا ساتھی بن جاتا ہے پھر وہ اس وقت تک ان کی جان نہیں چھوڑتا جب تک ان کو جہنم کا فرزند بنا لے۔ عشاعن الشیء کے ممعنی کسی چیز سے اعراض کرنے کے آتے ہیں۔ انسان کے دل کی خصویت یہ ہے کہ جب تک خدا کی یاد سے آباد رہتا ہے اس وقت تک تو شیطان کو اس میں راہ نہیں ملتی لیکن جب انسان خدا سے غافل ہوجاتا ہے تو آہستہ آہستہ شیطان اس کے دل پر قبضہ جما لیتا ہے اور جب وہ قبضہ جما لیتا ہے تو پھر اس کے چنگل سے نکلنا آسان نہیں رہ جاتا۔ بہتر سے بہتر تذکیر و موعظت بھی جو اس کے سامنے آتی ہے شیطان اس کے خل اف شبہات و اعتراضات ایجاد کر کے اس کو اس سے بگشتہ کردیتا ہے۔ البتہ جو لوگ اپنے دل اپنے رب کی یاد سے آباد رکھتے ہیں شیطان کو ان کے اند رگھسنے کی راہ نہیں ملتی اور اگر کبھی کسی غفلت کے سبب سے اس کو در اندازی کا کوئی موقع مل بھی جائے تو اس کو وہاں ٹکنے کی جگہ نہیں ملتی بلکہ بندہ کے متنبہ ہوتے ہی شیطان کو وہاں سے بھاگنا پڑتا ہے۔