Ayah 43:37وانھم لیصدونھم عن السبیل ویسحبون انھم مھتدون 37
زبان کے بعض استعمالات
اوپر والی آیت میں حرف من چونکہ مبہم ہے، واحد اور جمع دونوں ہی کے لئے آسکتا ہے، نیز لفظ شیطان بھی عام ہے، اس سے شیاطین جن بھی مراد ہو سکتے ہیں اور شیاطین انس بھی، اس وجہ سے آیت زیر بحث میں ضمیریں جمع آئیں۔ یہاں حال ایک پورے گروہ کا بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اس طرح شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ان کا حشر یہ ہوتا ہے کہ شیاطین تو ان کو سیدھی راہ سے روک دیتے ہیں لیکن ان کے پھندوں میں پھنسے ہوئے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ بالکل سیدھی راہ پر چل رہے ہیں۔
یہاں ضمیروں کا انتشار بھی قابل توجہ ہے۔ انھم کی ضمیر کا مرجع تو شیاطین ہیں اور بحسبون، کے فاعل وہ لوگ ہیں جو شیاطین کے پھندوں میں گرفتار ہیں۔ لیکن جہاں کلام کا مفوہم واضح ہو وہاں ضمیروں میں اس قسم کا اتنظار کوئی عیب نہیں ہے۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال سورة یوسف کی مندرجہ ذیل آیت میں گزر چکی ہے۔
حتی اذا ستیئس الرسل وظنوا انھم قدکذبوا جآء ھم نصرناً …
یاں تک کہ جب رسول اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہو کر جاتے ہیں اور ان کی قوم کے لوگ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ان کو جھوٹ موٹ عذاب کا ڈرائونا سنایا گیا تھا تو رسولوں کے پاس ہماری مدد آجاتی ہے۔
Ayah 43:38حتی اذا جآء نا قال یلیت بینی دبینک بعد المرشقین فئس القرین (38)
یعنی اس دنیا میں تو اس قسم کے ساتھیوں میں خوب گاڑھی چھنتی ہے لیکن جب آخرت میں ہمارے آگے پیشی ہوگی اور اس دوستی کا انجام سامنے آئے گا تو جس نے کسی شیطان کے پھندے میں پھنس کر اپنی عاقبت پر باد کی ہوگی وہ اپنے ساتھی پر لعنت بھیجے گا اور کہے گا کاش میرے اور تیرے درمیان مشرقین کی دوری ہوتی ! !
بئس القرین یہ اس برے ساتھی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اظہار نفرت و لعنت ہے کہ کیا ہی برا ساتھی ثابت ہوا وہ جس نے بالآخر اپنے ساتھی کو اس کھڈ میں لا گرایا۔
زبن کا ایک اسلوب
مشرقین کا مفہوم عام طور پر مفسرین نیمشرق اور مغرب لیا ہے لیکن میرے نزدیک یہ نہیں ہے۔ عربی میں بعض مرتبہ مثنیٰ کسی شئے کے دونوں کناروں کی وسعت کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ ایسی بھی کسی شے کے اطراف و اکناف کی وسعت کے اظہار کے لئے آتی ہے۔ قرآن میں مغربین و مشرقین، اور مشارق، و مغارب، وغیرہ الفاظ اسی پہلو سے اسعتمال ہوئے ہیں۔ اس کی واضحت دوسرے محل میں ہوچکی ہے۔
Ayah 43:39ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم انکم فی العذاب مشترکون 39
اذ ظلمتم یعنی اذ ظلمتم انفسکم فی الحیوۃ الدین
جب گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے ساتھیوں میں یہ جوتی پیزار ہوگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو بتایا جائے گا کہ جب دنیا میں تم ایک دوسرے کے تابع اور مبوع بن کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھا چکے اور تمہیں اس کے انجام پر غور کرنے کی توفیق نہ ہوئی تو اب ایک دوسرے پر لعنت کے ڈونگرے برسا کر کیا تسلی حاصل کرو گے ؟ یہ چیز تم میں سے کسی کو بری کرنے والی نہیں بنے گی۔ اب تو بہرحال دونوں ہی کو یہ عذاب بھگتنا ہے تو اس کو بھگتو اس لعن طعن کا موقع دنیا میں تھا لیکن وہاں تم ایک دوسرے کے جاں نثار اور وفادار بنے رہے۔ جو وقت گزر چکا اب وہ ہاتھ آنے الا نہیں ہے۔
Ayah 43:40افانت تسمع الصم اوتھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین 40
آنحضرت صلعم کو تسلی
یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہاری تذکیر و موعظت کارگر ہو سکتی ہے تو ان لوگوں پر ہو سکتی ہے جن کے اندر دیکھنے سننے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت زندہ ہے ان لوگوں کو آخر تم کس طرح سنا سکتے ہو جن کے کان بہرے ہوں اور جنہوں نے اپنی آنکھیں پھوڑ لی ہوں !
ومن کان فی ضلل مبین یعنی کسی کو گمراہ اگر کسی حقیت کے خفایا اس کی کم علمی و بیخبر ی کے سبب سے ہو تو اس کے ازالہ کی تدبیر کی جاسکتی ہے لیکن جو شخص بالکل کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہو، جس کا گمراہی ہونا خود اس پر بھی واضح ہو، اس کو ہدایت دینا کس کے امکان میں ہے۔
Ayahs 43:41–42فامانذھبن بک فانا منھم منتقمرون، او نزینک الذین وعدتھم فانا علیھم مقتدون (42-41)
یہ بھی اسی تسلی کے سلسلہ کی بات ہے۔ فرمایا کہ ان ظالموں کو ان کے حال پر چھوڑو۔ اب یا تو یہ ہوگا کہ ہم تم کو اٹھا لیں گے اس کے بعد ان سے انتقام لیں گے یا جس عذاب کی ہم ان کو دھمکی دے رہے ہیں وہ تمہارے ہوتے ہوئے آجائے گا اور تم بھی ان کا کا انجام دیکھ لوگے۔ ہم ان کو عذاب دینے پر پوری طرح قادر ہے۔ یہ مضمون یونس آیت 46 اور الرعد آیت 40 میں بھی گزر چکا ہے۔ تفصیل معلوب ہو تو ان آیات پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 43:43فاستمسک بالذی اوحی الیک انا علی صراط مستقیم 43
یعنی ان لوگوں کی اس ژاژ خائی اور مخالفت کے علی الرغم تم اس دعوت توحید اور اس کتاب عزیر پجمے رہو جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے، سیدھی راہ پر تمہیہ و۔ صراط مستقیم سے اشارہ یہاں خاص طور پر توحید کی اس دعوت کی طرف ہے جو اس سورة میں اوپر دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے مخالفین کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے وہ ایک بےبنیاد دعوے کے علمبردار ہیں اور تم ایک مضبوط بنیاد پر ہو، تم اپنے موقف پر جمے رہو، مخالفوں کے قدم بہت جلد اکڑھ جائیں گے۔
Ayah 43:44وانہ لذکر لک و لقوموک وسوف تسئلون 44
رسول اور قوم دونوں کی ذمہ داری
یعنی یہ قرآن جو تمہاری طرف وحی کیا گیا ہے تمہارے لئے بھی یاددہانی ہے اور تمہاری قوم کے لئے بھی یاد دہانی ہے اور ایک دن تم سب سے پرسش ہونی ہے۔ تم سے یہ پرسش ہوگی کہ تم پر جو وحی کی گئی وہ تم نے لوگوں کو ٹھیک ٹھیک بےکم وکاست پہنچا دی یا نہیں اور قوم کی طرف سے تم کو کیا جواب ملا، قوم سے یہ پرسش ہونی ہے کہ کیا تمہارے پاس کوئی نذیر نہیں ایا کہ تم نے اپنی یہ شامت بلائی۔ سورة اعراف میں اس بات کا یوں ذکر ہوا ہے۔
فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولتسئلن المرسلین فلنقصن علیھم بعلم وما کنا عآئبین، (الاعراف :7-6)
پس لازماً ہم ان لوگوں سے پوچھیں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور خود رسولوں سے بھی پوچھیں گے، پھر ہم ان کو پوری سرگزشت، پورے علم کی روشنی میں سنائیں گے، ہم کہیں غائب نہیں رہے ہیں۔
رسولوں اور ان کی قوموں سے سوال جواب کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے۔
رسولوں پر بلاغ کی جو ذمہ داری ڈالی گی ہے، ان سے اس کے متعلق پرسش ہونی ہے اور ان کی قوموں سے یہ پرسش ہوگی کہ اللہ کی اتنی بڑی نعمت، جو رسول کی بعثت کی شکل میں، ان کو ملی اس کی انہوں نے کیا قدر کی۔ پھر جس انعام و اکرام کے حقدار رسول اور ان کے ساتھی ٹھہریں گے وہ ان کو ملے گا اور جس نقمت و عذاب کے سزاوار ان کے مکذبین قرار پائیں گے وہ ان کے حصہ میں آئے گا۔ اس میں روسل ﷺ اور صحابہ رسول کے لئے تسلی اور مخلافین کے لئے تہدید ہے کہ معاملہ یہیں ختم ہوجانے والا نہیں ہے بلکہ ایک دن یہ سارا مقدمہ خدا کی عدالت میں بھی پیش ہوگا اور وہاں معلوم ہوگا کہ کون جیتا اور کون ہارا۔
Ayah 43:45وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنآ اجعلنا من دون الرحمٰن الھۃ یعبدون 45
یہ مشرکین کے اس دعوے کی تردید ہے کہ جن کو وہ پوجتے ہیں ان کی عبادت کا حکم خدا نے دیا ہے فرمایا کہ خدا کے امرونہی کے معلوم کرنے کا ذریعہ اس کے رسول ہیں تو جو رسول تم سے پہلے آئے ہیں ان سے معلوم کرو کہ خدا نے اپنے سوا کچھ دوسرے معبود بھی عبادت کے حق دار ٹھہرائے ہیں ؟
وسئل من ارسلنا ایک بلیغ اسلوب کلام ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں رسل سے مراد ان کے صحیفے اور ان کی تعلیمات ہیں جو ان کی دعوت کے ترجمان ہیں۔ کلام کا یہ اسلوب پچھلے صحیفوں میں اکثر استعمال ہوا ہے اور اعلیٰ خطیبوں کے خطبات میں بھی اس کی نہایت بلیغ مثالیں ملتی ہیں۔
Ayah 43:46-4 آگے کا مضمون … آیات :56-46
آگے باجمال حضرت موسیٰ ؑ اور فرعکن کی سرگزشت بیان ہوئی ہے جس سے مقصود ایک تو اس انتقام الٰہی کی تاریخی شہادت پیش کرنا ہے جس کا ذکر اوپر آیات 42-41 میں ہوا ہے کہ رسول کی تکذیب کے بعد اس کی قوم کا فیصلہ لازماً ہوجاتا ہے، خواہ رسول کی زندگی ہی میں ہو یا اس کی ہجرت یا موت کے بعد اللہ کا یہ اتقام اس کی ایک مقررہ سنت ہے جس کی گرفت سے کوئی قوم بھی نہیں بچی۔ فرعون جیسا جبار بھی جب اس کی زد میں آیا ہے تو وہ بھی اپنی تمام افواج سمیت غرق کردیا گیا۔ اس کی قوت وصولت اس کے کچھ کام نہ آئی۔
دوسرے یہ اس حقیقت کی مثال ہے جو آیت 40 میں بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں برباد اور جان بوجھ کر گمراہی کی راہ اختیار کرلیتے ہیں ان کو کسی نشانی سے بھی ہدایت نہیں حاصل ہوتی۔ وہ بڑے سے بڑے معجزات دیکھنے کے بعد بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں۔ ان کی آنکھیں صرف خدا کے فیصلہ عذاب ہی سے کھلتی ہیں۔
تیسرے اس میں اس حقیقت کی بھی شہادت ہے جو آیت 45 میں مذکور ہوئی ہے کہ اللہ نے جتنے رسول بھی بھیجے سب وہی دعوت و توحید لے کر آئے جس کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔ کسی رسول نے بھی اللہ تعالیٰکے سوا کسی اور معبود کی عبادت کی دعوت نہیں دی … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا الی قرعون وملائہ فقال انی رسول رب العلمین 46
آیات، سے مراد وہ نشانیاں ہیں جن سے مسلح کر کے اللہ تعالیٰنے حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے پاس بھیجا، یعنی عصا اور ید بیضاء وغیرہ
ملا سے مراد قوم فرعون کے وہ اعیان و اکابر ہیں جو اس کے دربار میں بار یاب ہوتے۔ ان الفاظ کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہوچکی ہے۔
فقال انی رسول رب العلمین یہ حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت ہے جو انہوں نے فرعون اور اس کے اعیان کو دی۔ یہاں اس کی وضاحت نہیں ہے۔ صرف اجمالی اشارہ ہے لیکن دوسرے مقامات میں تفصیل ہے کہ انہوں نے فرعون اور اس کے درباریوں کو آگاہ کیا کہ وہ ان کے انذار کے لئے خدا کی طرف سے رسول ہو کر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰنے ان کو اپنی طرف سے نشانیاں بھی دی ہیں اور اللہ کے حکم سے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ عبادت کے لئے تین دن کی راہ بیابان میں جانے دیا جائے۔
Ayah 43:47فلما جآء ھم با یتنا اذا ھم منھا یضحکون 47
یہاں اتنی بات بربنائے قرینہ محذوف ہے کہ جب فرعون اور اس کے اعیان نے سنا کہ حضرت موسیٰ ؑ خدا وند عالم کے رسول ہونے کے مدعی ہیں اور وہ اس دعوے کی تصدیق کی کچھ نشانیاں بھی اپنے پاس رکھتے ہیں تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو نشانیاں وہ لے کر آئے ہیں، دکھائیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے ان کو نشانیاں دکھائیں لیکن ان کو ماننے کے بجائے انہوں نے ان کا مذاق اڑایا کہ بھلا یہ کیا نشانیاں ہیں، یہ تو ساحری کے کرتب ہیں اور ہمارے پاس بھی ایسے جادوگر ہیں جو ان سے بڑے کرتب دکھا سکتے ہیں۔
Ayah 43:48وما نریھم من ایۃ الا ھی اکبر من اختھا واخذنھم با عذاب یعلھم یرجعون 48
نریھم سے پہلے فعل ناقص، زبان کے معروف قاعدے کے مطابق، محذوف ہے۔ یعنی ہم ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھاتے رہے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ یہ ان نشانیوں کی طرف اشارہ ہے جو پہلی نشانیوں کی تکذیب کے بعد تنبیہی عذاب کے طور پر نازل ہوئیں، تاکہ فرعونیوں کو خدا کی پکڑ کا کچھ انداز ہوا اور وہ توبہ کی طرف مائل ہوں۔ یہ نشانیاں مختلف عذابوں کی شکل میں یکے بعد دیرگے ظاہر ہوئیں اور قدرتی طور پر ہر نشانی اپنی ماسبق سے زیادہ عبرت انگیز شکل میں نمایاں ہوئی۔ لیکن ان کے دلوں پر ایسی قساوت چھا چکی تھی کہ کوئی نشانی بھی کارگر نہ ہوسکی یہاں تک کہ وہ فیصلہ کن عذاب کی زد میں آگئے۔
Ayahs 43:49–50وقالوآیا یہ السحر ادع لنا ربک بما عھد عندک اننا لمھتدون، فلما کشفنا عنھم العذاب اذا ھم ینکثون (50-49)
جب وہ کسی عذاب کی گرفت میں آتے تو بھاگے ہوئے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آتے اور نہایت لجاجت سے درخواست کرتے کہ آپ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ اس عذاب کو دور فرمائے، اگر یہ عذاب دور ہوگیا تو ہم صحیح راہ پر آجائیں گے اور آپ کی بات ضرور ہی مان لیں گے لیکن جب اللہ تعالیٰ ان سے عذاب دور کردیتا تو وہ عہد توڑ کر اپنی ضد پر اڑ جاتے۔
ان تنبیہی عذابوں کی تفصیل سورة اعراف کی آیات 135-133 کے تحت گزر چکی ہے۔ وہاں ہم تو رات کی روشنی میں ہر بات کی وضاحت کرچکے ہیں۔ آیات ہم یہاں بھی نقل کئے دیتے ہیں۔ تفصیل مطلوب ہو تو تدبر قرآن میں ان کی تفسیر ملاحظہ فرمایئے۔
فارسلنا علیھم الطوفان والجراء والقمل والضفاع والدم ایت مخبصلت فاستکبروا وکالوا قوما محرمین، ولما وقع علیھم الرجز قالوا یموسی ادع لتاربک بما عھد تحندک لئن کشفت عند الرجزلنومنن لک ولنرسلن منک بنی آسرائیل، فلما کشفتا عنھم الرجوا الی اجل ھم بلقوہ اذھم ینکثون (الاعراف)
تو ہم نے ان پر بھیجے طوفان اور ٹٹڈیاں اور جوئیں او مینڈک اور خون، تفصیل کی ہوئی نشانیاں تو انہوں نے تکبر کیا اور یہ مجرم لوگ تھے اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو درخواست کرتے کہ اے موسیٰ تم اپنے طلب سے، اس عہد کے واسطہ سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے ہمارے لئے دعا کرو۔ اگر تم نے ہم سے یہ آفت دور کردی تو ہم تمہاری بات ضرور مان لیں گے اور تمہارے ساتھ نبی اسرائیل کو جانے دیں گے تو جب ہم ان سے دور کر یدتے آفت کو کچھ مدت کے لئے جس تک وہ بہرحال پہنچنے والے ہی ہوتے تو وہ دفعتاً عہد توڑ دیتے۔
مصریوں کے نزدیک ساحروں کا درجہ
حضرت موسیٰ ؑ کو آیایۃ السحر سے مخاب کرنا کسی تحقیر یا سوء ادب پر مبنی نہیں ہے۔ مصر میں اس وقت ساحروں کو سوسائٹی میں وہی مقام حاصل تھا جو کسی سوسائٹی میں علماء اور صوفیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ اے ساحر ہا ہمارے لئے دعا کیجیے تعظیم کا خطاب ہے۔
منما عھد عندک کی وضاحت سورة اعراف میں ہوچکی ہے۔ یعنی چن کہ آپ کے رب نے آپ کی دعا کی قبولیت کا آپ سے وعدہ کر رکھا ہے اس وعدہ کے واسطہ سے آپ دعا کریں گے تو وہ ضرور ہی قبول ہوگی۔
لما یہاں کلما کے مفہوم میں ہے۔ اس کی وضاحت سورة احراف میں ہوچکی ہے۔ اس وجہ سے اس کے بعد اذا کا استعمال جو مفاجات کے لئے آتا ہے۔ بالکل موزوں ہے۔
Ayah 43:51وفا دی فرعون فی قومہ قال یقوم الیس لی ملک مصر و ھذاہ الانھر تجری من تحتی افلاتبصرون 51
فرعون نے اپنی قوم میں پکارا، یعنی اپنی قوم میں منادی کرائی۔
حضرت موسیٰ کے مقابل میں فرعون کا دعوائے برتری
اوپر آیات 35-31 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ وہاں قریش کے لیڈروں کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ لولا نزل ھذا القرآن علی رجل ومن القریتین عظیم (اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے اترا ہے تو مکہ یا طائف کے سرداروں میں سے کسی پر کیوں نہیں اتارا گیا) ٹھیک اسی طرح فرعون نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ ؑ کے دلائل و معجزات سے قوم کی عقیدت اس کے ساتھ متزلزل ہو رہی ہے تو اس نے یہ منادی کرائی کہ ملک مصر کی بادشاہی اور اس کی بہتری ہوئی نہریں تو میرے قبضہ میں ہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کسی کو رسول بنانے والا ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رسول بناتا۔
Ayah 43:52امرانا خیرمن ھذا الذی ھو مھین، ولایکاد یبین 52
اس آیت میں کلام کا ایک حصہ حذف ہے۔ پچھلی سورتوں میں متعدد ثمالیں اس قسم کے استفہامیہ جملوں میں حذف کی گزر چکی ہیں۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ جب مصر کی بادشاہی، اس کے دریا اور نہریں میرے قبضہ میں ہیں تو یہ شخص بہتر ٹھہرا جو ایک غلام قوم کا فرد ہے۔ اور اپنی بات کھول کر بیان بھی نہیں کرسکتا یا میں بہتر ہوں جو اس پورے ملک اور اس کی تمام دولت و ثروت کا بلا شرکت غیرے مالک ہوں ! مطلب یہ کہ جب صورتحال یہ ہے تو آخر اس شخص میں ایسی کیا بات تھی کہ خدا نے اس کو رسول بنایا۔
مھین سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ موسیٰ ؑ ایک غلام قوم کے فرد ہیں اور لایکادیبین سے حضرت موسیٰ ؑ کی قوت بیانیہ کی کمزوری کی طرف اشارہ ہے۔ واحلل عقدۃ من لسانی کے تحت ہم یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کو لکنت وغیرہ کی قسم کا کوئی عارضہ تو نہیں تھا، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے گمان کیا ہے، البتہ وہ کوئی زبان آور خطیب نہیں تھے اور اس دور میں کسی شخص کو پبلک میں نمایاں ہونے کے لئے ساحری، شاعری اور خطابت میں سے کسی نہ کسی ایک چیز میں ممتاز ہونا ضروری تھا۔ فرعون نے ان کی اس کمزوری کا بھی طعنہ دیا کہ ایک طرف تو یہ ایک غلام قوم کا فرد، دوسری طرف خطابت پر قادر نہیں تو میرے مقابل میں ایک ایسا شخص سیادت کا مدعی کیسے ہوسکتا ہے ؟
Ayah 43:53قلولاً القی علیہ اسورۃ من ذھب اوجآء معہ الملٓئکۃ مقترنین 53
یعنی اس کے زعم کے مطابق اگر کوئی خدا ہے اور اس نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے تو ہونا یہ تھا کہ آسمان سے اس کی زینت کے لئے کنگن اتارے جاتے اور فرشتے پرے بنا بنا کر اس کے جلو میں چلتے لیکن یہ مدعی تو ہے خدا کے رسول ہونے کا اور اس کی کسمپرسی کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ غور کرو کہ کوئی خدا کا رسول ہوگا تو وہ اس حال میں کیوں آئے گا !
یہ امر محلوظ رہے کہ اس عہد میں عام طور پر سلاطین، بالخصوص مصر اور ایران کے سلاطین، اظہار شان و شوکت کے لئے سونے کے کنگن پہنتے تھے اور فوجی دستوں کے جلو میں نکلنا تو جس طرح آج شکوہ خسروی کے اظہار کے لئے ضروری ہے اسی طرح اس زمانے میں بھی اس کا اہتمام تھا۔
Ayah 43:54فاستنحف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوماً فسقین 54
استخف ضد ہے استثقل کا استثقال کے معنی کسی چیز کو بھاری بھرکم، وزن دار اور گراں سمجھنے کے ہیں اس وجہ سے استخفاف کے معنی کسی کو بےوزن، بےحقیقت اور بےحیثیت سمجھنے کے ہوں گے۔ استخف قومہ کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے اپنی قوم کو بالکل سادہ لوح پا کر اس کو پرفریب باتوں سے چٹکیوں میں اڑا دیا اور وہ بیوقوفوں کی طرح اس کے چکموں میں آگئی۔
انسان کے اندر وزن ایمان سے پیدا ہوتا ہے۔
انھم کانوا قوماً فسقین یعنی یہ لوگ خدا کے نافرمان اور اس کے ایمان سے محروم تھے اس وجہ سے بالکل بےوزن اور بےحقیقت تھے۔ اس طرح کے لوگ بڑی آسانی سے شیاطین کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور شیاطین ان کی ناکوں میں نکیل ڈال کر جدھر چاہتے ہیں لئے پھرتے ہیں۔ انسان کے اندر وزن اللہ تعالیٰکے تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ پاسنگ اس کے پلڑے میں نہ ہو تو اس کی حیثیت خس و خاشاک کی ہے۔ ہوا کا معمولی جھونکا بھی اس کو اڑا لے جاتا ہے۔
Ayah 43:55فلما اسفونا انتقمنا منھم فاغرقنھم اجمعین 55
اسفہ کے معنی ہیں اغضبہ یعنی اس کو غضبناک کردیا۔ فرمایا کہ جب انہوں نے اپنی ان حرکتوں سے ہم یہ غصہ دلایا تو بالآخر ہم نے بھی ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ یہا مر یہاں واضح رہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کا تعاقب اپنی تمام عسکری طاقت اور پانے جملہ اعیان و امراء کے ساتھ کیا تھا اس وجہ سے اس عذاب نے اس کی پوری جمعیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
Ayah 43:56فجعلنھم سلفاً و مثلاً للاخرین 56
قریش کو تنبیہ
سلف کے اصل معنی گزرنے کے ہیں۔ یہیں سے یہ گزرے ہوئے لوگوں کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ سلف اچھے بھی ہو سکتے ہیں، برے بھی۔ یہاں یہ برے معنوں میں ہے یعنی ہم نے ان کو اس طرح مٹایا کہ وہ ایک داستان ماضی اور ایک افسانہ پارینہ بن کے رہ گئے۔ یہی حقیقت بعض مقامات میں جعلنھم احادیث کے الفاظ سے بھی واضح فرمائی گی ہے۔ یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ اگر تم نے بھی انہی کی روش اختیار کی تو انہیں کی طرح تمہارا نام بھی حاضر کی لوح سے مٹا دیا جائے گا، صرف ماضی کی ایک داستان بن کر رہ جائو گے۔
ومثلاً للاخرین مثل کے معنی مثال اور نمونہ کے ہیں۔ مثال بھی اچھی اور بری دونوں ہو سکتی ہے۔ یہاں یہ برے مفہوم میں ہے اس وجہ سے اس کے معنی نمونہ عبرت کے ہیں یعنی ہم نے ان کو دوسروں کے لئے ایک مثال عبرت بنا دیا کہ لوگ ان سے سبق حاصل کریں کہ خدا سے اکڑنے والوں کا انجام یہ ہوا کرتا ہے۔
Ayahs 43:57–58-6 آگے آیات 65-57 کا مضمون
جس مقصد سے اوپر حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشتیں سنائی گی ہیں اسی مقصد کی تائید کے لئے آگے حضرت عیسیٰ ؑ کی سرگزشت کا بھی ایک حصہ اجمالاً بیان ہوا ہے کہ انہوں نے بھی اللہ کی توحید ہی ہی کی دعوت دی لیکن ان کی پیروی کے مدعی مبتدعین نے ان کی صریح تعلیمات کے خلاف بدعتیں ایجاد کر کے ان کو ابن اللہ بنا کر رکھ دیا۔
اس سرگزشت کا آغاز اس تمہید سے فرمایا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ ؑ کا نام لیا جاتا ہے تو قریش کے جھگڑا لو لوگ یہ فتنہ اٹھاتے ہیں کہ یہ شخص عیسیٰ کی تعریف کرتا ہے، حالانکہ عیسیٰ سے اچھے تو ہمارے ہی معبود ہیں کہ وہ فرشتے اور خدا کی بیٹیاں ہیں جب کہ عیسیٰ ؑ مریم (علیہا السلام) کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے بیوقوف پیروئوں پر یہ اثر ڈالنا چاہتے ہیں کہ قرآن جو ان کا ذکر خیر کرتا ہے تو گویا عیسائیوں کی طرح ان کو ابن اللہ تسلیم کر کے ان کی بندگی کی دعوت دیتا ہے حالانکہ قرآن ان کا ذکر اللہ کے ایک بندے او اس کے ایک رسول کی حیثیت سے کرتا ہے کہ انہوں نے بھی اسی توحید کی دعوت دی جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی لیکن یہ شریر اور مناظرہ باز لوگ سدیھی سادی باتوں کو بھی فتنہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ولما ضرب ابن مریم ثلاً اذا قومک منہ یصدون، وقالوآء الھتنا خیر ام ھو ماضربوہ لک الاجدلا بل ھم قوم خصمون (58-57)
قریش کے شریروں کی ایک فتنہ انگیزی
یعنی جب تمہاری قوم کے سامنے انبیاء کے سلسلے میں حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی دعوت کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے کہ وہ بھی ایسی دین توحید کے داعی بن کر آئے جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی تو تمہاری قوم کے جھگڑالو مجردان کے نام کے ذکر ہی کو فتنہ بنا لیتے اور چیخنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ لو، یہ شخص ہمارے بتوں کو تو برا کہتا ہے لیکن مسیح کی تعریف کرتا ہے۔ حالانکہ ہمارے معبود فرشتے ہیں اور مسیح بہرحال مریم کے بیٹے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن حضرت عیسیٰ کا ذکر کرتا ہے تو گویا ایک معبود کی حیثیت سے کرتا ہے اور یہ ایک سازش ہے اس غرض کے لئے کہ ہمارے ذہنوں سے ہمارے آبائی دیوتائوں کی عقیدت ختم کر کے ان کی جگہ مسیح کی الوہیت کا عقیدہ راسخ کیا جائے۔
ماضربوہ لک الاجدلا، بل ھم قوم خصمون فرمایا کہ یہ اشغلہ انہوں نے محض بحث و جلال کے لئے چھوڑا ہے ورنہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن حضرت مسیح کا ذکر کرتا ہے تو معبود کی حیثیت سے نہیں بلکہ اللہ کے ایک بندے اور ایک رسول کی حیثیت سے کرتا ہے کہ دوسرے نبیوں اور رسولوں کی طرح انہوں نے بھی خلق کو توحید ہی کی تعلیم دی۔ یہ سب جانتے ہوئے انہوں نے محض اس لئے یہ فتنہ اٹھایا ہے کہ قرآن اور نبی کی مخالفت کے لئے کوئی بہانہ ان کو ملے اور وہ لوگوں کو بھڑکا سکیں کہ یہ شخص ہمارے آبائی دین کو مٹا کر ہمارے اوپر مسیحیت کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ ہیں ہی جھڑالو، یہ شاخسانہ انہوں نے اتفاق سے نہیں کھڑا کیا ہے بلکہ فتنہ پردازی و شر انگیزی ان کے قومی مزاج کی خصوصیت بن چکی ہے۔
یہ امر ہیاں واضح رہے کہ قریش کے جھگڑالو لیڈروں نے اسی طرح کا فتنہ اسم رحمان کی آڑلے کر اٹھانے کی کوشش کی تھی جس کی وضاحت ہم سورة بنی اسرائیل کی آیت قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن …110 کے تحت کرچکے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اللہ تعالیٰ کے اسم رحمان سے قریش ناواقف نہیں تھے لیکن اس کا غالب استعمال چونکہ اہل کتاب، بالخصوص نصاریٰ کے ہاں تھا، اس وجہ سے انہوں نے اپنی قوم کو یہ کہہ کر بھڑکا یا کہ یہ شخص دوسروں کے عقائد و نظریات ہمارے اوپر مسلط کرنا چاہتا ہے اور اس کے ثبوت میں انہوں نے ذلیل یہ دی کہ جو صحیفہ یہ شخ پیش کر رہا ہے اس میں لفظ رحمان کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح کی باتوں کی آڑ لے کر مشرکین یہ بھی کہتے تھے کہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ہیں جو اس شخص کو سکھاتے ہیں اور مقصود اس سازش کا ہمارے دین اور ہماری روایات کو مٹانا ہے۔
بدگمانی کی فضا میں اس طرح کے اشغلے بڑے کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ عوام کے ذہن بالکل خام ہوتے ہیں۔ وہ بڑی آسانی سے اس طرح کی باتیں قبول کرلیتے ہیں اور جب قبول کرلیتے ہیں تو ان کو ذہنوں سے نکالنا آسان نہیں ہوتا۔
صدمن الشی کے معنی ہوتے ہیں کسی شے سے بیزار ہو کر چیخ اٹھنا کسی بات سے خوش ہو کر شور و غل کرنے کے لئے اس لفظ کا استعمال معروف نہیں ہے۔
Ayah 43:59ان ھوالا عبدانعمنا علیہ وجعلنہ مثلاً لبنی اسرآئیل 59
حضرت عیسیٰ کی اصل حیثیت
یعنی قرآن ان کی مثال جو پیش کر رہا ہے تو ایک معبود کی حیثیت سے نہیں بلکہ صرف اس حیثیت سے پیش کر رہا ہے کہ وہ اللہ کے ایک بندے تھے جن پر اس نے اپنا خاص فضل فرمایا اور بنی اسرائیل کے لئے ان کو ایک نمونہ بنایا کہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ زندگی کی مثال یہ ہے۔ خاص فضل سے اشارہ ان خصوصیات کی طرف ہے جن کا ذکر قرآن کے دوسرے مقامات میں تفصیل سے ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰنے ان کو بن باپ کے مجرد اپنے کلمہ کن سے پیدا کیا، تائید وروح القدس سے ان کو نوازا، ابھی وہ گہوارے ہی میں تھے کہ نہایت دانائی و حکمت کی باتیں کرنے لگے، پھر اللہ نے ان کو نبوت و رسالت کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ انہوں نے لوگوں کو حکمت کی تعلیم دی۔ نہایت حیرت انگیز معجزے دکھائے اور یہود کی کوئی سازش ان کے خلاف اللہ تعالیٰ نے کامیاب نہیں ہونے دی۔ یہاں تک کہ یہود اپنے جس کارنامے پر بہت نازاں ہیں کہ انہوں نے آنجناب کو سولی پر چڑھایا، قرآن نے اس کی بھی تردید کردی کہ اس سازش میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوئے۔
بنی اسرائیل کے لئے مثال
مثلاً لبنی اسرآئیل یعنی اللہ تعالیٰ نے آں جناب کو بنی اسرائیل کے لئے ایک نمونہ اور مثال بنایا کہ اس پاکیزہ مثال کو سامنے رکھ کر وہ اپنی زندگی کے تمام کج پیچ درست کرلیں۔ یوں تو ہر رسول اپنی قوم کی اصلاح کے لئے ایک خدائی کسوٹی ہوتا ہے اور اس کے اسوہ حسنہ کی پیروی ہی میں قوم کی نجات مضمر ہوتی ہے لیکن حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰنے ایک خاص نوع کی ولادت اور نہایت کھلے ہوئے معجزات کے ساتھ اس لئے بھیجا کہ بنی اسرائیل جو اپنے انبیاء کی تمام تعلیمات بھلا کر بالکل اندھے بہرے بن گئے تھے آنکھیں کھولیں لیکن وہ ایسے تمسی القلب نکلے کہ اس مثال سے بھی انہوں نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا جس کی پاداش میں اللہ تعالیٰنے ان پر ہمیشہ کے لئے لعنت کردی۔
Ayah 43:60ولونشآء لجعلنا منکم ملٓئکۃ فی الارض یخلفون 60
مشرکین کے ایک مغالطہ کا ازالہ
اوپر مشرکین کا قول نقل ہوا ہے کہء ائھتنا خیر ام ھو (ہمارے معبود اچھے ہوئے یا وہ ؟) یہ اسی پر استدراک ہے کہ تم نے اگر مجرد اس بنیاد پر فرشتوں کو معبود بنایا ہے کہ ان کی خلقت ایک اعلیٰ عنصر (نور) سے ہوئی ہے تو یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کسی کو معبود بنا دینے کی دلیل بن سکے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا حال تو یہ ہے کہ وہ جس طرح فرشتوں کو نور سے بنا سکتا ہے اسی طرح چاہے تو وہ خود تمہارے اندر سے فرشتوں کی صفات کے لوگ پیدا کر دے اور وہ زمین میں خلافت کا وہ فرض انجام دیں جو انسانوں کو سپرد ہوا ہے لیکن یہ بات اللہ تعالیٰکی حکمت کے خلاف ہے اس وجہ سے اس نے ایسا نہیں کیا۔ مطلب یہ ہے کہ مجرد کسی کا نور یا نار سے پیدا ہونا یا کسی کا بن باپ کے وجود میں آنا اس کے خدایا شریک خدا ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰکی قدرت میں یہ ساری باتیں ہیں اس وجہ سے مستحق عبادت وہی ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ہے۔
Ayahs 43:61–62وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا واتبعون ھذا اصراط مستقیم ولایصدنکم الشیطن انہ لکم عدو مبین (62-61)
حضرت عیسیٰ کے نشانی قیامت ہونے کے بعض پہلو
یہ نبی ﷺ کی زبان مبارک سے جھگڑنے والوں کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ بات کا بتنگڑ بنانے کی کوشش نہ کرو۔ حضرت عیسیٰ کو جس حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ معبود یا ابن اللہ ہیں بلکہ وہ توحید کے داعی اور قیامت کا علم یعنی اس کی ایک قاطع حجت ہیں تو قیامت کے باب میں شک میں نہ پڑو اور مناظرہ بازی میں الجھنے اور الجھانے کے بجائے میری پیروی کرو۔ ہدایت اور فلاح کی سیدھی راہ یہی ہے۔
حضرت عیسیٰ کے قیامت کی بہت بڑی حجت ہونے کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عام ضابطہ کے خلاف ان کو بن باپ کے مجرد اپنے کلمہ کن سے پیدا کیا۔ مشرکین عرب کو قیامت کے باب میں سب سے بڑا شبہ یہی تھا کہ مرکھپ جانے کے بعد آخر لوگ قیامت کو کس طرح از سر نو پیدا ہوجائیں گے ؟ قرآن نے ان کے اس شہ بےکا ازالہ جگہ جگہ اس طرح فرمایا ہے کہ مرنے اور جینے میں اصلی دخل ظاہری اسباب کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت کو ہے۔ یہاں اسی چیز کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ دیکھ لو، پیدائش کا عام ضابطہ تو یہ ہے کہ اولاد، باپ اور ماں دونوں کے ازدواجی تعلق سے پیدا ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو بن باپ کے صرف ماں سے پیدا کردیا۔ اسی طرح وہ جب چاہے گا لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھا کھڑا کرے گا اور اس کو اس میں ذرا بھی زحمت پیش نہیں آئے گی۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے ہاتھوں جو معجزے ظاہر ہوئے ان میں احیائے موتی کے معجزے بھی ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰکے حکم سے مردوں کو بھی زندہ کردیتے اور مٹی سے پرندوں کی مانند مورتیں بنا کر انمیں بھی پھونک مار کر زندگی پیدا کردیتے۔ انکے اس قسم کے معجزات کا ذکر انجیلوں میں بھی ہے اور قرآن میں بھی ان کا حوالہ ہے۔ یہ معجزات اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں اس لئے ظاہر فرمائے کہ یہود قیامت کے باب میں جس بےیقینی میں مبتلا ہوگئے تھے اور سج کے سبب سے وہ بالکل دنیا کے کتنے بن کر رہ گئے تھے، اس سے نکلیں اور از سر نو ایمان و ہدایت کی راہ اختیار کریں۔
تیسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے آسمان کی بادشاہی اور ابدی زگندی کی منادی جس شان سے کی ہے یہ بس انہی کا حصہ ہے۔ آدمی اگر انجیلوں میں ان کے وہ مواعظ پڑھے جن میں انہوں نے آخرت کی تذکیر فرمائی ہے تو آخرت کے خون اور شوق دونوں سے دل لبریز ہوجاتا ہے۔ بشرطیکہ دل پر یہود کی طرح سیاہی نہ چھا گئی ہو۔
آنحضرت صلعم کی زبان سے قریش کو تنبیہ
فلا تمترن بھا واتبعون ط ھذا صراط مستقیم یعنی اس قیاتم کے باب میں کسی شک میں نہ پڑو اور میری پر یوی کرو۔ میں جس توحید کی دعوت دے رہا ہوں اور جس روز جزاء و سزا سے آگاہ کر رہا ہوں یہی زندگی کی صحیح اور سیدھی راہ ہے اس وجہ سے تمہاری فلاح میری پیروی ہی میں ہے۔ اس آیت میں لفظ اتبعون (میری پیروی کرو) اس بات کی صاف دلیل ہے کہ یہ بات نبی ﷺ کی زبان سے قریش کو کہلائی گئی ہے۔ اگر بات براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہی گئی ہوتی تو لفظ اتبعون موزوں نہ ہوتا۔ قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ اپنی مختلف شکلوں میں استعمال ہوا ہے لیکن کہیں بھی یہ کے لئے استعمال نہیں ہوا ہے۔ اگرچہ یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات نبی اللہ تعالیٰ کی زبان سے کہلوائی گئی ہے تو آیت سے پہلے قل یا اس مفہوم کا کوئی اور لفظ آنا تھا لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ قرآن میں متعدد مثالیں موجود ہیں کہ اثنائے کلام میں کوئی بات حضرت جبرئیل کی زبان سے یا پیغمبر ﷺ کی زبان سے یا کسی اور قائل کی زبان سے کہلا دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اس طرح کی کوئی تشریح نہیں ہے کہ قائل کون ہے۔ صرف قرینہ قائل کو معین کرتا ہے۔ یہاں لفظ اتبعون اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ اس کے قائل آنحضرت ﷺ ہی ہو سکتے ہیں اس وجہ سے اس کی تصریح کی ضرورت نہیں ہے۔
ولا یصدنکم الشیطن انہ لکم عدومبین یہ اس تنبیہ کا حصہ ہے کہ اس امر کو کبھی نہ بھولو کہ شیطان اس صراط مستقیم کا کھلا ہوا دشمن ہے جس کی طرف میں بلا رہا ہوں۔ وہ صاف صاف اللہ تعالیٰ کو یہ چیلنج دے چکا ہے کہ لاقعدن لھم صراط المستقیم (الاعراف :16) (میں لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ان کی گھات میں تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا) مطلب یہ ہے کہ میری اس تنبیہ کے بعد بھی اگر تم ایک ایسے دشمن سے مار کھا گئے جس کی دشمنی ڈھکی چھپی نہیں ہے تو یہ تمہاری بدبختی کی انتہا ہوگئی۔
Ayah 43:63ولما جآء عیسیٰ بالبینت قال قد جئتکم بالحکمۃ ولابین لکم بعض الذی تخلفون فیہ فاتقوا اللہ واطیعون 63
حضرت عیسیٰ کی بعثت کا مقصد
یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے قمصد بعثت اور ان کی دعوت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نہایت واضح نشانیوں کے ساتھ آئے اور بنی اسرائیل کو دعوت دی کہ میں تمہارے پاس کوئی نیا دین نہیں بلکہ وہی دین لے کر آیا ہوں جس کی تعلیم حضرت موسیٰ ؑ نے دی۔ البتہ حکمت دین جس سے تم نے اپنے کو محروم کرلیا وہ لے کر آیا ہوں تاکہ تم میں ایمانی زندگی پیدا ہوا اور تاکہ بعض ان اختلافات میں امر حق واضح کروں جن میں تم مبتلا ہوگئے ہو۔ قرینہ دلیل ہے کہ ولابین کا معطوف علیہ محذوف ہے۔ ہم نے اس کی وضاحت کردی ہے۔
یہ امر یہاں واضح رہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کسی نئی شریعت کے داعی نہیں تھے بلکہ وہ تورات ہی کے مصدق تھے البتہ انہوں نے حکمت یعنی روح دین اور مغزدین سے بنی اسرائیل کو آشنا کرنا چاہا لیکن انہوں نے اس کی کوئی قدر نہیں کی۔ بلکہ اپنی اس ظاہر پرستی میں مبتلا رہے جس میں مبتلا تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اصل دین تو ان کے اندر سے غائب ہوگیا البتہ کچھ رسوم رہ گئے جن کو ادا کر کے وہ مطمئن ہوجاتے کہ اللہ اور اس کے دین کے تمام حقوق سے وہ سبکدوش ہوگئے۔
اختلافات کو رفع کرنے والی چیز حکمت ہے
اگر دین کی حکمت غائب ہوجائے، صرف رسوم اور الفاظ باقی رہ جائیں تو اس کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ دین کے اندر طرح طرح کے اختلافات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کو دور کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ یہود بھی حکمت دین سے محروم ہوجانے کے بعد اسی فتنہ میں مبتلا ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے تعلیم حکمت کے ذریعہ سے ان کے ان مذہبی اختلافات کو دور کرنا چاہا لیکن یہود نے اس حکمت کی قدر نہیں کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے اختلافات برابر بڑھتے ہی رہے یہاں تک کہ وہ اپنے اس انجام کو پہنچ گئے جو ان کی ان ناقدیروں کا لازمی نتیجہ تھا۔
Ayah 43:64ان اللہ ھو ربی و ربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم 64
حضرت عیسیٰ کی اصل دعوت توحید ہے
بعینہ یہی مضمون صرف ایک لفظ کے معمولی فرق کے ساتھ آل عمران آیت 51 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم اس کی پوری وضاحت کرچکے ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اصل دعوت بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے بھی دوسرے تمام نبیوں اور رسولوں کی طرح توحید ہی کی دعوت دی، اپنی یا کسی اور کی بندگی کی دعوت نہیں دی۔ آل عمران کی محولہ بالا آیت کے تحت ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ انجیلوں میں جو یہ آتا ہے کہ میرا باپ اور تمہارا باپ، اسی کی تعبیر قران نے ان اللہ ھو ری و ربکم کے الفاظ سے فرمائی ہے وہ اللہ تعالیٰ کو جس معنی میں اپنا باپ کہتے ہیں اس معنی میں دسروں کا باپ بھی کہتے تھے اور تنہا اسی کو سزا وار عبادت سمجھتے تھے۔ یہ حقیقت بھی آل عمران کی تفسیر میں واضح ہوچکی ہے کہ لفظ اب عبرانی میں باپ کے معنی میں بھی آتا ہے اور رب کے معنی میں بھی اور مشترک الفاظ کی طرح اس کا مفہوم موقع و محل سے معین ہوتا ہے۔
ھذا صراط مستقیم یعنی خدا تک پہنچنے کی سیدھی راہ یہی ہے۔ اگر کسی اور کو خدا کا شریک بنا دیا جائے تو یہ سیدھی راہ کج یا مسدود ہوجاتی ہے۔
Ayah 43:65فاختلف الاحزاب من بینھم فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم 65
عیسائیوں کے باہمی اختلافات
یعنی حضرت عیسیٰ ؑ نے دعوت تو نہایت واضح اور قطعی الفاظ میں توحید کی دی لیکن ان کی امت کے اندر سے مختلف گروہوں نے مختلف مذہب اختیار کر لئے۔ ان اختلافات کی نوعیت اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد شمعون کے پیروئوں کے سوا دوسرے تمام فرقوں نے تثلیث اور کفار وغیرہ کے طریقے ایجاد کر کے حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیم توحید کا بالکل خاتمہ کردیا۔ موجودہ مسیحیت تمام ترپال (PAUL) کی بدعات کا مجموعہ ہے اور ان بدعات کی تعبیر میں بھی مختلف گروہ ہوگئے ہیں۔
فویل للذین ظلموا من عذاب الیم الذین ظلموا سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے شرک میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے ایک درد ناک دن کے عذاب کی ہلاکی ہے !
Ayah 43:66-8 آگے کا مضمون آیات 89-66
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پہلے تو ایمان لانے والوں کے حسن انجام اور کفر کرنے والوں کے سوء انجام کی وضاحت فرمائی ہے اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ان لوگوں سے اعراض کا حکم دیا ہے جو اللہ کی ہدایت کا مذاق اڑاتے اور اپنے انجام سے بےفکر رہے۔ آخر میں توحید کی پھر یاد دہانی کردی ہے کہ جو لوگ شفاعت باطل کے بل پر آخرت سے نچنت ہیں وہ یاد رکھیں کہ اس دن ہر ایک کو سابقہ اللہ واحد ہی سے پیش آئے گا اور کسی کی سفارش کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں بنے گی … آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-9 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ وھم لاشعرون 66
اوپر کے دلائل بیان کرنے کے بعد یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ تمہاری بات جو نہیں سن رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نگاہوں میں تمہاری تذکیر و موعظت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ ان کا رویہ شاہد ہے کہ یہ لوگ متنبہ ہونے اور آخرت کے لئے کچھ کمائی کرنے کے بجائے چاہتے ہیں کہ قیامت ان کے اوپر اس طرح اچانک آدھمکے کہ اس کی ان کو خبر بھی نہ ہو۔ اگر یہی یہی چاہتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ اللہ نے تو یہ چاہات تھا کہ اس ہولناک دن کے آنے سے پہلے پہلے یہ اس کے لئے کچھ کمائی کرلیتے لیکن یہ اس کا استقبال اچانک ہی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے فکر مند ہونا بےسود ہے۔ اپنی اس بےفکری کا انجام یہ خود دیکھ لیں گے۔
Ayah 43:67الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض علدو الا المتقین 67
روز قیامت کی نفسی نفسی
یعنی اس دنیا میں تو ان کو اپنے دوستوں، مددگاروں، اپنی قوم و قبیلہ اور اپنے شرکاء و شفعاء پر بھروسا ہے اور اس بھروسے نے انہیں آخرت سے بالکل نچنت کر رکھا ہے لیکن آگے جو دن آنے والا ہے اس دن کوئی قریبی سے قریبی رشتہ دار اور عزیز سے عزیز دوست بھی کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں بنے گا بلکہ یہ سارے دوست آخرت میں باہمدگردشمن بن جائیں گے کہ ان کی یہ باہمی دوستی ہی ان کے لئے اس ابدی تباہی کا موجب ہوئی۔ اگر یہ ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملانے والے نہ ہوتے بلکہ اپنے خیر و شر پر آزادی و سنجیدگی سے غور کرتے تو نبی اور اس کے ساتھیوں کے کلمہ خیر کی برکت سے محروم نہ رہتے۔ اس دن ہر شخص اپنی اس محرومی پر سر پیٹے گا اور اپنے ساتھی کو ملامت کرے گا لیکن یہ سارا نالہ و شیون بالکل بےسود ہوگا۔ پیچھے آیات 39-36 میں یہ مضمون نہایت عمدہ اسلوب سے بیان ہوچکا ہے۔
الا المتضین یعنی خدا کے باایمان اور متقی بندے اس انجام بد سے محفوظ رہیں گے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو حق و عدل کی نصیحت کی اور اسی پر خود بھی عامل رہے اس وجہ سے قیامت کے دن وہ اپنی کامیابی پر شادمان ہوں گے اور اپنے ساتھیوں کا سلام و تحیت کے ساتھ خیر مقدم کریں گے۔
Ayahs 43:68–70یعباد لاخوف علیکم الیوم ولا انتم تحزنون، الذین امنوا بایتنا وکانوا مسلمین، ادخلوا الجنۃ انتم وازواجکم تبرون (70-68)
اللہ تعالیٰ کی طرف سے متقی بندوں کو مبارکباد
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان متقی بندوں کو مبارکباد دی جائے گی کہ اے میرے بندو ! اب تم خوف اور حزن کے دارالابتلاء سے نکل کر اس ابدی بادشاہی میں داخل ہوگئے جس میں نہ تم کو کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ تم کسی حزن میں مبتلا ہو گے۔ ہم دوسرے محل میں وضاحت کرچکے ہیں کہ خوف مستقبل کے خطرات کا ہوتا ہے اور حزن حاضر و ماضی کی ناکامیوں اور صدمات کا جنت ایسی جگہ ہے جہاں اہل ایمان ان دونوں ہی چیزوں سے محفوظ ہوں گے اس وجہ سے جنت کی تعبیر کے لئے یہ ایک نہایت جامع اسلوب ہے۔
الذین امنوا بایتنا و کانوا مسلمین یہ متقی بندوں کی وہ صفات بیان ہوئی ہیں جن کی بنا پر وہ اس اجر عظیم کے مستحق ہوں گے … ان صفات کے بیان سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے گویا اللہ تعالیٰ نے انگلی اٹھا کر اشارہ فرما دیا کہ اس مقام بلند کے حق دار وہی لوگ ہوں گے جو آج ہماری آیات پر ایمان لائے اور صدق دل سے ہمارے احکام پر عمل پیرا ہیں۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو لوگ ایمان کے مدعی ہیں لیکن خلوص دل سے اس کے احکام پر عمل پیرا نہیں ہیں وہ اس بشارت کے اہل نہیں ہے۔
لفظ ازواج کی تحقیق
لفظ ازواج قرآن مجید میں بیویوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور بعض دوسرے معنوں میں بھی مثلاً نوع بنوع اور گوناگوں کے معنی ہیں۔ سورة طہ میں ہے۔ ونزل من السمآء مآء فاخرجنا بہ اواجاً من نبات شتی (53) (اور اس نے آسمان سے پانی اتارا، پس ہم نے اس سے اگائیں مختلف نباتات کی نوع بنوع قسمیں)
اسی طرح یہ ہم مسلک وہم مشرب جماعتوں کے مفہوم میں بھی قرآن میں آیا ہے۔ مثلاً
لاتمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازوجاً منھم …(الحجر :88)
اور تم اپنی نگاہ ان چیزوں کی طرف نہ اٹھائو جن سے ہم نے ان کی بعض جماعتوں کو بہرہ مند کر رکھا ہے۔
احشروا الذین ظلموا و ازاواجھم وما کانوا یعبدون (الصفت :22
جمع کرو ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کیا اور ان کے ہم مشریوں کو اور ان چیزوں کو جن کی یہ عبادت کرتے رہے ہیں۔
وکنتم ازوحاً ثلثہ (الواقعۃ : 7)
اور اس دن تم تین گروہوں میں تقسیم ہو گے۔
ان نظائر کی روشنی میں ہمار اخیلا یہ ہے کہ آیت زیر بحث میں بھی لفظ ازواج ہم مسلک و ہم عقیدہ جماعتوں کے مفہوم میں آیا ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اسی مفہوم کا لحاظ رکھا ہے۔ اگرچہ مدارج، ایمان و عمل کے اعتبار سے مختلف ہوں گے لیکن اللہ کے تمام باایمان بنے جنت کی نعمتوں سے محظوظ و مسرور ہوں گے۔ اوپر کفار کے ہم مشربوں اور ان کے دوستوں کا ذکر گزر چکا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ ان کے مقابل میں اہل ایمان کا حال بیا ان ہوا کہ وہ مسرور و شاد کام کئے جائیں گے۔
Ayah 43:71یطاف علیھم بصحاف من ذھب واکواب، وفیھا ماتشتھیہ الانفس وتلذالاعین وانتم فیھا خلدون 71
صحاف کے معنی طشتریوں کے ہیں، اکواب کے معنی پیالوں کے لفظ ذھب، جس طرح صحاف کے ساتھ آیا ہے اسی طرح اکواب کے ساتھ بھی ہے لیکن تکرار سے بچنے کے لئے اس کو حذف فرما دیا ہے۔ ہم نے ترجمہ میں اس کو کھول دیا ہے۔ یعنی غلمان جنت ان کی تواضع و ضیافت کے لئے ان کے سامنے سونے کی طشتریاں اور جام لئے ہوئے ہر وقت گردش میں ہوں گے۔
وفیھا ماتشتھیہ الانفس وتلذ الاعین ان طشتریوں اور پیالوں میں کھانے اور پینے کی وہ چیزیں ہوں گی جو دل پسند بھی ہوں گی اور باصرہ نواز بھی۔ بعض چیزیں ذائقہ کے لحاظ سے اچھی ہوتی ہیں لیکن دیکھنے میں اچھی نہیں لگتیں۔ اللہ تعالیٰ اہل جنت کی ضیافت ایسی نعمتوں سے فرمائے گا جو کام و دہن کے لئے بھی لذت بخش ہوں گی اور نگاہوں کے لئے بھی۔
وافتم فیھا خلدون اوپر کی بات غائب کے اسلوب میں فرمائی گئی ہے اور یہ حاض رکے اسلوب میں اسلوب کی یہ تبدیلی التفات خاص کی دلیل ہے۔ یعنی خاص اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کو بشارت دے گا کہ اطمینان رکھو، یہ جو کچھ تمہیں حاصل ہوا ہے یہ کوئی وقتی عزت افزائی نہیں ہے بلکہ اب تم اسی جنت میں ہمیشہ رہو گے۔ کسی بڑی سے بڑی نعمت کے متعلق بھی اگر یہ اندیشہ ہو کہ یہ وقتی اور عارضی ہے تو یہ چیز سارے عیش کو مکدر کردیتی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ اہل جنت کو یہ اطمینان دلا دے گا کہ اب بےغل و غش اس جنت سے فائدہ اٹھائو۔ اب کوئی تمہیں اس سے محروم نہیں کرسکتا۔
Ayah 43:72وتلک الجنۃ التی اور تثموھا بما کنتم تعملوکن 72
جنت مجرد انعام کے طور پر نہیں بلکہ حق کے طور پر ملے گی
اوپر والی بشارت سے بھی بڑ بشارت اللہ تعالیٰ اہل جنت کو یہ دے گا کہ یہ جنت تمہارے اعمال کے صلہ میں تم کو عطا ہوئی ہے۔ یعنی یہ محض تم پر انعام نہیں بلکہ یہ تمہارا حق بھی ہے۔ اگر کوئی عزت افزائی بلا استحقاق ہو تو دل کو اس سے سچی خوشی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کے اس پہلو کو بھی محلوظ رکھا ہے اس وجہ سے اس نے جنت کو مجرد فضل و احسان کے بجائے اہل جنت کا حق اور ان کی ان محنتوں کا ثمرہ قرار دیا ہے جو حق کی راہ میں انہوں نے دنیا کے اندر جھیلی ہیں۔
Ayah 43:73لکم فیھا فکھۃ کثیرہ منھا تاکلون 73
اوپر آیت 71 میں اہل جنت کے ماکولات و مشروبات کا ذکر تھا۔ یہ ان کے تفکہات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی لطف اندوزی کے لئے بےشما رقسم کے میوے ہوں گے ان میں سے جس میوے سے چاہیں گے لطف اٹھائیں گے۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا کہ اس ذخیرے میں کوئی کمی ہوجائے گی۔
Ayah 43:74ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون 74
اہل دوزخ کے لئے ابدی مایوسی
متقی بندوں کے انجام کے ذکر کے بعد اب مجرموں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ ہمیش دوزخ کے عذاب ہی میں رہیں گے۔ اس سے ان کو کبھی رہائی نہیں نصیب ہوگی۔
Ayah 43:75لایفترعنھم وھم فیہ مبلسون 75
یہ عذاب ان پر اس طرح مسلط ہوگا کہ اس سے نجات پانا تو درکنار کبھی عارضی اور وقتی طور پر بھی نہ وہ ٹالا جائے گا اور نہ اس میں کوئی تخفیف ہی ہوگی۔ وھم فیہ مبلسون وہ اس میں بالکل مایوس ہوں گے۔ آخری درجے میں یہ موہوم امید بھی کبھی سہارا بن جاتی ہے کہ شاید اس عذاب سے کبھی رہائی حاصل ہوجائے یا کبھی اس میں کوئی تخفیف ہی ہوجائے لیکن ان بدبختوں کے لئے اس طرح کا کوئی موہم سہارا بھی نہ ہوگا۔
Ayah 43:76وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین 76
یعنی اصورتحال سے ان کو جو سابقہ پیش آئے گا تو یہ اللہ تعالیٰکی طرف سے ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ اس کے اسباب انہوں نے خود فراہم کئے اس وجہ سے وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔ ان کی ہدایت کے لئے جو اہتمام ضروری تھا وہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے فرمایا لیکن انہوں نے اس کی قدر نہیں کہ بلکہ ساری زندگی اپنی خواہشوں کی غلامی میں گزاری جس کے نتیجہ میں اس انجام سے دوچار ہوئے۔