43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 43:77

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک ! اب تمہارا رب ہمارا خاتمہ ہی کر دے وہ جواب دے گا کہ تمہیں اسی حال میں رہنا ہے۔

ونا دوا ایملک لیقض علینا ربک ط قال انکم مکثون 77 اہل دوزخ کی فریاد جہنم کے داروغہ سے اور اس کا جواب آیت 75 میں ان کی جس ابدی مایوسی کا ذکر ہے یہ اس کی وضاحت ہے کہ وہ دوزخ کے جیلر سے کہیں گے کہ اے مالک ! اگر ہمارے لئے کسی رحم کی گنجائش نہیں رہی تو اپنے رب سے ہمارے لئے درخواست کرو کہ وہ ہمارا خاتمہ ہی کر دے۔ وہ فوراً جواب دے گا کہ تمہارا خاتمہ نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہیں اسی حال میں پڑے رہنا ہے۔ مایوس کے لئے آخری سہارا موت کا سہارا ہوتا ہے لیکن یہ لوگ اس سہارے سے بھی محروم ہوں گے اور یہ ان کی سب سے بڑی محرومی ہوگی۔
Ayah 43:78

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

اور ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے لیکن تمہاری اکثریت حق سے بیزاری رہی۔

لقد جبنکم بالحق ولکن اکثرکم للحق کرھون (78) قریش کو تنبیہ مجرمین کا انجام سنانے کے بعد یہ پھر قریش کو تنبیہ ہے کہ ہم نے قرآن کی شکل میں تمہارے سامنے پیش کردیا ہے لیکن تمہاری اکثریت کا حال یہ ہے کہ حق تمہیں بہت ناگوار ہے۔ اگر یہ ناگورار تو اس کا جو انجام تمہارے سامنے آنے والا ہے اس کو اچھی طرح سوچ لو۔ اب اس انجام سے تم کو دوچار ہونا پڑا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ظلم نہیں ہوگا بلکہ تم خود اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے ہو گے۔
Ayah 43:79

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

کیا انہوں نے کوئی قطعی فیصلہ کرلیا ہے تو ہم بھی ایک قطعی فصلہ کرلیں گے۔

ام ابراموآ امرافانا صبرمون 79 ابرام کے معنی کسی امر کو محکم کرنے کے ہیں۔ ’ ابرم الحبل“ کے معنی ہوں گے رسی کو اچھی طرح مضبوط بٹا۔ یہاں یہ کسی بات کا قطعی فیصلہ کرلینے کے مفہوم میں آیا ہے۔ قریش کو فیصلہ کن عذاب کی دھمکی یہ قریش کو فیصلہ کن عذاب کی دھمکی دی ہے اور دھمکی میں شدت پیدا کرنے کے لئے اسلوب اچانک حاضر سے غائب کا اختیار کرلیا ہے گویا وہ لائق خطاب و التفات نہیں رہے۔ فرمایا کہ اگر انہوں نے ایک قطعی فیصلہ کرلیا ہے تو لازماً ہم بھی ایک قطعی فیلہ کرلیں گے۔ یعنی انہوں نے اگر قرآن اور رسول کی تکذیب کا فیصلہ کرلیا ہے تو یاد رکھیں کہ اس کے بعد اپنی سنت کے مطابق ہم بھی ان کو ہلاک کردینے کا فیصلہ کرلیں گے۔ رسولوں کے باب میں اس سنت الٰہی کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ گزر چکی ہے کہ جب قوم رسول کے اخراج یا اس کیق تل کا فیصلہ کرلیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو مزید مہت نہیں دیتا بلکہ رسول اور اس کے باایمان ساتھیوں کو اپنی امان میں لے لیتا اور قوم کو ہلاک کردیتا ہے۔ یہاں اسی سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے کہ اگر یہ لوگ رسول کی تکذیب کے معاملے میں یکسو ہوگئے ہیں تو اب لازماً یہ سنت الٰہی کی زد میں بھی آجائیں گے اور کوئی چیز اس سے ان کو بچانے والی نہیں بنے گی۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ قوم جب تک رسول کی دعوت کے باب میں مذبذب رہتی ہے اس وقت تک تو اللہ تعالیٰ اس کو مہلت دیتا ہے لیکن جب وہ داعی اور دعوت کو ختم کردینے کا حتمی فیصلہ کرلیتی ہے تو اس کے باب میں خدا کا آخری فیصلہ بھی ظہور میں آجاتا ہے۔
Ayah 43:80

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کے رازوں اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سن رہے ہیں ؟ ہاں، ہم سن رہے ہیں اور ہمارے فرستادے ان کے پاس لکھ رہے ہیں

ام یحسبون انا لانسمع سرھم ونجولھم ط بلی ور سلنا لدیھم یکتبون (80) خفیہ سرگوشیوں کی طرف اشارہ اللہ تعالیٰ یوں تو لوگوں کے ہر راز اور ان کی ہر سرگوشی کو جانتا ہے لیکن سیاق و سبقا کلام یہاں دلیل ہے کہ اس سے خاص طور پر ان سرگوشیوں کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے لیڈر دارالندوہ وغیرہ میں آنحضرت ﷺ کے قتل یا اخراج سے متعلق کر رہے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اس مغالطہ میں نہ رہیں کہ خدا ان کی سازشوں اور سرگوشیوں سے بیخبر ہے۔ وہ ان کی تمام خفیہ حرکتوں سے اچھی طرح باخبر ہے اور اس کے فرشتے ان کی ایک ایک بات کا ریکارڈ رکھ رہے ہیں۔ یہ جس وقت پیغمبر کے باب میں اپنا آخری فیصلہ کرلیں گے خدا کا فیصلہ بھی ان کے باب میں ظہور میں آجائے گا۔ پھر ان کے تمام منصوبے دھرے رہ جائیں گی اور خدا کا فیصلہ نافذ ہوجائے گا۔
Ayahs 43:81–82

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدائے رحمان کے کوئی اولاد ہو تو سب سے پہلا اس کی عبادت کرنے والا میں ہوں گا۔

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا خداوند، عرش کا مالک، ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں

قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العبدین سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (82-81) ابتدائے سورة کے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فیصلہ کن بات یہ آخر میں، ابتدائے سورة کی اس بحث کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے جو فرشتوں کی الوہیت کے ابطال میں گزر چکی ہے، ایک فیصلہ کن بات کا اعلان فرمایا کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ خدا کوئی اولاد بھی رکھتا ہے تو تم سے پہلے اس کی عبادت کے لئے میں خود تیار ہوں لیکن آسمانوں اور زمین اور عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو یہ اس کی طرف بغیر کسی دلیل کے منسوب کر رہے ہیں وہی تنہا ان تمام چیزوں کا خالق اور وہی اکیلا اس ساری کائنات کا مالک اور اس کے عرش حکومت پر بلاشرکت غیرے حکمران ہے۔ نہ وہ کسی بیٹے کا محتاج ہے، نہ کسی بیٹی کا اور نہ کسی معاون اور شریک کار کا
Ayah 43:83

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

تو ان کو چھوڑو یہ بوالفضولی اور ہنسی مسخری کرلیں یہاں تک کہ وہ اس دن سے دوچار ہوں جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے۔

فذرھم یخوضوا ویلعبوا حتی یلقوا یومھم الذی یوعدون 83 یعنی یہ فیصلہ کن چیلنج دے کر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ جو باتیں یہ چاہیں بنا لیں اور جو ہنسی مسخری کرنی چاہیں کرلیں، یہاں تک کہ وہ دن ان کے سامنے آجائے جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے اس دن ان پر ساری حقیت کھل جائے گی کہ جن کو انہوں نے خدا کی اولاد بنا کر پوجا وہ ان کے کچھ کام آنے والے نہیں بنے۔
Ayah 43:84

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

اور وہی اکیلا آسمانوں میں بھی خداوند ہے اور وہی زمین میں بھی خداوند ہے اور وہی حقیقی حکیم وعلیم ہے

وھو الذی فی السمآء الہ وفی الارض الہ وھو الحکیم العلیم (84) یعنی وہی تنہا آسمانوں کا بھی خداوند ہے اور وہی زمین کا بھی خداوند ہے اور تنہا اسی کا حکم و ارادہ ان دونوں کے اندر کار فرما ہے۔ ان کا باہمی توافق دلیل ہے کہ یہ ایک ہی قادر وقیوم کی مشیت کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اگر ان کے اندر متعدد ارادے کار فرما ہوتے تو یہ درہم برہم ہو کر رہ جاتے۔ وھو الحکیم العلیم وہ حکیم وعلیم ہے نہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی ہوتا اور نہ وہ اپنی معلومات کے لئے کسی کی مدد کا محتاج ہے اس وجہ سے شفاعت باطل کا عقیدہ جس کی آڑ میں مشرکین آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں، بالکل بےسود ہے۔ یہ عقیدہ اس کی حکمت اور اس کے علم کی نفی ہے۔
Ayah 43:85

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

اور بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے اختیار میں آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کی بادشہی ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے۔

وتبارک الذی لہ ملک السموت والارض وما بینھا ہوعندہ علم الساعۃ والیہ ترجعون (85) تبارک میں خدا کی عظمت کا پہلو بھی ہے اور اس کے سپرا اخیر و برکت ہونے کا پہلو بھی۔ اس کے باعظمت اور بابرکت ہونے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اسی سے ڈرا بھی جائے اور اسی سے امید بھی رکھی جائے۔ وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا بادشاہ ہے اس وجہ سے کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے سامنے دم مار سکے یا اس کی مشیت میں کوئی دخل اندازی کرسکے۔ ساتھ ہی وہ عظیم رحمت و برکت والا ہے اس وجہ سے وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے لئے اس کی رحمت مقتضی ہوگی۔ اس رحمت کے لئے بندے کسی اور کی سفدش کے محتاج نہیں ہیں۔ وعندہ علم الساعۃ والیہ ترجعون قیامت کی گھڑی کا صحیح علم صرف اسی کے پاس ہے اگر پیغمبر ﷺ اس کا وقت نہیں بتا سکتے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ آئے گی ہی نہیں۔ اس کا آنا برحق ہے اور یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رکھو کہ تم کو لوٹنا اسی کی طرف ہے اس کے سوا اس دن کوئی اور مرجع نہیں ہوگا کہ تم اس سے کوئی امید باندھو
Ayah 43:86

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اور جن کو یہ اس کے علاوہ پکارتے ہیں وہ سفارش پر اختیار نہیں رکھیں گے مگر وہ جو حق کی گواہی دیں گے اور وہ جانتے بھی ہوں گے

ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفعۃ الامن شھد بالحق وھم یعلمون 86 یہ والیہ ترجعون کی وضاحت ہے یعنی مشرکین اس وہم باطل میں مبتلا ہیں کہ ان کے مولیٰ و مرجع ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء ہوں گے جو سفارش کر کے ان کو خدا سے چھڑا لیں گے۔ فرمایا کہ جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ شفاعت پر کوئی اختیار نہیں رکھیں گے۔ اس دن فیصلہ تمام تر اللہ کے اختیار میں ہوگا اور وہ بالکل حق کے مطابق فیصلہ فرمائے گا۔ واللہ یقضی بالحق والذین یدعون من دونہ لا یقضون بشیء (المومن :20) (اور اللہ بالکل حق کے مطابق فیصلہ فرمائے گا اور جن کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی بات کا بھی فیصلہ نہیں کریں گے۔) جوگواہی دے گا سچی گواہی دے گا الامن شھد بالحق وھم یعلمون یہ استثنائے منقطع ہے یعنی اسی دن سفارش کا اختیار تو کسی کو بھی نہیں ہوگا البتہ اللہ تعالیٰجن کو اجازت مرحمت فرمائے گا وہ حق بات کی گواہی دیں گے اور وہ گواہی اسی بات کی ہوگی جس کو وہ جانتے ہوں گے۔ قرآن میں جگہ جگہ اس بات کی تصریح ہے کہ خدا کے سامنے سفارش کے لئے صرف وہ لوگ زبان کھولیں گے جن کو اللہ تعالیٰکی طرف سے اجازت مرحمت ہوگی اور اسی کے لئے زبان کھولیں گے جس کے باب میں ان کو اجازت ملے گی۔ سورة طہ میں ہے یومئذ لا تنفع المشفعۃ الا من اذن لہ الرحمٰن و رضی لہ قولاً (109) (اس دن شفاعت کسی کو کئو نفع نہیں پہنچائے گی مگر جس کے لئے خدائے رحمان اجازت دے اور اس کے لئے کوئی بات کہنے کو پسند کرے) اسی طرح اس بات کی بھی تصریح ہے کہ اس دن جو بھی بات کرے گا اول کو خدا کے اذن کے بعد ہی بات کرے گا۔ پھر وہ وہی بات زبان سے نکالے گا جو بالکل ٹھیک ہوگی۔ سورة بنا میں ہے۔ یوم یقوم الروح والملٓئکۃ صفا لایتکلمون الا من اذن لہ الرحمٰن وقال صواباً (38) (اور جس دن جبرئیل اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے، وہ نہیں بات کریں گے مگر جس کو خدائے رحمان اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے گا) اسی طرح اس بات کی بھی تصریح ہے کہ خدا کے مقرب بندے بھی زبان سے صرف وہی بات نکالیں گے جو ان کے علم میں ہوگی، جو بات ان کے علم سے باہر ہوگی اس کے باب میں وہ زبان کھولنے کی جرأت نہیں کریں گے۔ سورة مائدہ آیت 117 میں حضرت عیسیٰ کا قول گزر چکا ہے کہ وکنت علیھم شھیداً ما دمت فیھم میں ان کے اوپر گواہ رہا جب تک ان کے اندر رہا۔ ؛ یعنی میرے بعد انہوں نے کیا بنایا اس کی مجھے کچھ خبر نہیں، اس کو تو ہی جانتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی گواہی صرف اس دور سے متعلق ہوگی جو ان کے سامنے گزرا ہے۔ بعد کے ادوار کے لوگوں کے متعلق وہ کچھ نہیں کہیں گے اس لئے کہ ان حالات سے وہ ناواقف ہوں گے۔
Ayah 43:87

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے تو پھر کہاں بھٹک جاتے ہیں !

ولئن سالتھم من خلقھم لیفولن اللہ فانی یوفکون (87) یہ مشرکین کے حال پر اظہار تعجب ہے کہ وہ اللہ کے مقابل میں دوسروں کو شفاعت کا مجاز سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر تم ان سے یہ سوال کرو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو اس کا جواب بہر شکل وہ یہی دیں گے کہ اللہ نے ! اس حقیقت کو تسلیم کر لنیے کے بعد معلوم نہیں ان کی مت کہاں ماری جات ی ہے کہ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کے مزعومہ معبودوں کو خدا کے ہاں تقرب کا وہ مقام حاصل ہے کہ وہ جس کو چاہیں گے خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے اور جس کو چاہیں گے اپنی سفارش سے اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبہ پر فائز کرا دیں گے۔
Ayah 43:88

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

اور حق کی گواہی دینے والوں کا قول یہ ہوگا کہ اے رب ! یہ لوگ خد ایمان لانے والے نہ بنے۔

وقیلہ یوب ان ھولآء قوم لامنوکن (88) وقتیلہ کا معطوف علیہ قیلہ کا عطف اوپر والی آیت میں بالحق پر ہے۔ یعنی وہ صرف حق بات کہیں گے اور ان کی شہادت یہ ہوگی کہ اے رب ! ان کے ایمان نہ لانے میں اصلی قصور انہی کا ہے، یہ خود ایمان لانے والے نہیں تھے۔ بیچ کی آیت محض استدراک کے طور پر بطور جملہ معترضہ آگئی تھی اس وجہ سے معطوف اور معطوف علیہ میں کوئی معنوی بعد نہیں پیدا ہوا۔ اس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ مشرکین قیامت کے دن اپنے جن مزعومہ شرکاء کو اپنی ضلالت کے لئے بطور عذر پیشک ریں گے وہ شرکاء ان کے اس الزام کو ان کے منہ پر پھینک ماریں گے۔ مثلاً فرشتوں کے متعلق قرآن میں تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ یہ مشرکین مدعی ہیں کہ وہ تمہاری پرستش کرتے رہے ہیں تو کیا ان کی یہ بات صحیح ہے ؟ فرشتے اس سوال کے جواب میں صاف اظہار برأت کریں گے کہ یہ خود اس ضلالت کے ذمہ دار ہیں، ان کی اس گمراہی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ویوم یعشرھم جمیعاً ثم یقول للمٓلئکۃ اھولاء ایاکم کانوا یعبدون قالوا اسبحنک انت ولینا من دونھم بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مئومنون (سبا :41-40) اور اس دن کا خیال کرو جس دن ان سب کو اکٹھا کرے گا پھر فرشتوں سے سوال کرے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری پرستش کرتے رہے ہیں ؟ وہ جواب دیں گے کہ تو ہر عیب سے پاک ہے، تو ان کے مقابل میں ہمارا کار ساز ہے، بلکہ یہ لوگ تو جنوں کو پوجتے رہے ہیں اور ان کی اکثریت انہی پر ایمان رکھنے والوں کی ہے۔ حضرت مسیح ؑ کی شہادت حق ان الفاظ میں مذکور ہے۔ واذ قال اللہ یعیسی ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون ال لہ قال سبحنک مایکون لی ان اقول مالیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ ط (المآئدۃ :1/16) جب اللہ پوچھے گا، اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنائو ؟ وہ جواب دیں گے، تو پاک ہے ! میرے لئے کس طرح ممکن تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے اس طرح کی کوئی بات کہی تو تو اس کو جانتا ہوگا۔ یہی حقیقت سورة احقاف میں یوں واضح فرمائی گی ہے۔ ومن اضل ممن یدعوا من دون ال لہ من لایستجیب لہ الی یوم القیمۃ وھم عن دعآئھم غفلون، واذا حشر الناس کانوا لھم اعدآء و کانوا بعبادتھم کفرین (الاحقاف :6-5) اور ان سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو اللہ کے سوا ایسی چیزیوں کو پکارتے ہیں جو ان کو قیامت تک جواب دینے والی نہیں ہیں اور وہ ان کی بندگی سے بالکل بیخبر ہیں اور جب لوگ اکٹھے کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن بنیں گے اور ان کی بندگی کا انکار کریں گے۔
Ayah 43:89

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

تو تم ان کو نظر انداز کرو اور کہو، اچھا میرا سلام لو۔ پس یہ عنقریب خود جان لیں گے۔

فاصفح عنھم و قل سلم ط فسوف یعلموکن (89) یہ نبی ﷺ کو ہدایت ہے کہ یہ لوگ اگر اپنا آخری انجام ہی دیکھنے کے در پے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو اور ان سے اسی طرح درگزر کرو جس طرح ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے در گزر کیا۔ سلام یہاں وداع کے مفہوم میں ہے۔ فسوف یعلمون یعنی جس انجام کے یہ منتظر ہیں اس کے ظاہر ہونے میں اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ وہ اس کو عنقریب دیکھ لیں گے۔ بتوفیق ایزدی ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذلک رحمان آباد 22 اپریل 1976 ء، 21 ربیع الثانی 1396 ھ