42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا ۔ سورة کا عمود اور زمانہ نزول اس سورة کا بھی مرکزی مضمون توحید ہی ہے۔ اسی کے تحت قیامت سے بھی ڈرایا گیا ہے اس لئے کہ توحید کی اصلی اہمیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اس بات پر ایمان ہو کہ انصاف کا ایک دن لازماً آنے والا ہے اور اس دن ہر شخص کو سابقہ اللہ واحد وقہار ہی سے پیش آئے گا، کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ اس کی پکڑ سے کسی کو بچا سکے یا اس کے اذن کے بغیر اس کے سامنے زبان ہلا سکے۔ استدلال کی بنیاد اس میں دعوت انبیاء کی تاریخ پر ہے کہ آدم و نوح سے لے کر اب تک تمام انبیاء نے اسی دین توحید کی دعوت دی اور ان کو بھی اللہ نے اسی طرح وحی کے ذریعہ سے تعلیم دی جس طرح یہ قرآن وحی کیا جا رہا ہے مختلف حلقوں نے دین کے معاملہ میں جو اختلاف کیا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ کے رسولوں نے الگ الگ دینوں کی تعلیم دی بلکہ اس کی وجہ صرف باہمی عداوت و رقابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحیح علم آجانے کے باوجود مختلف گروہوں نے اپنی ضد اور اپنی برتری قائم رکھنے کے زعم میں حق سے اختلاف کیا اور اس طرح لوگ مختلف گروہوں اور حلقوں میں بٹتے گئے۔ یہ قرآن اسی اختلاف کو مٹانے کے لئے ایک میزان حق بن کر نازل ہوا ہے۔ اگر لوگ اس میزان کے فیصلہ کو قبول نہیں کریں گے تو اب قیامت کی میزان عدل لوگوں کا فیصلہ کرے گی۔ ورہ کے مطالب پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مکی دور کے آخر میں ہجرت سے متصل زمانے میں نازل ہوئی ہے چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے قریش کے لیڈروں کو اس میں جو خطاب ہے اس کی نوعیت و داعی خطاب کی ہے، گویا ان سے متعلق پیغمبر کی جو ذمہ داری تھی وہ پوری ہوگئی۔ اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے۔ اگر انہوں نے یہ ذمہ داری اب بھی محسوس نہ کی تو اس کے نتائج کے لئے تیار رہیں۔ اسی طرح مسلمانوں سے متعلق اس میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں ان سے مترشح ہوتا ہے کہ اب وہ ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ان کو ایک ہئیت اجتماعی کی شکل میں اپنے فرائض ادا کرنے ہیں جس کے تقاضے پورے کرنے کے لئے انہیں تیار رہنا چاہئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس میں بار بار یہ تسلی دی گئی ہے کہ تمہاری ذمہ داری لوگوں کو واضح طور پر حق ہپنچا دینے کی تھی وہ تم نے پوری کردی۔ لوگوں کے دلوں میں ایمان اتار دینا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ اب ان کا کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ اس ضمن میں بعض اعتراضات کے جواب بھی دیئے گئے ہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر مخالفین کی طرف سے کئے گئے۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (10-1) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے یہ حقیقت واضح فرماگئی ہے کہ جس دین توحید کی وحی اللہ نے تم پر کی ہے۔ اسی دین کی وحی اس نے تم سے پہلے آنے والے رسولوں پر بھی کی اور روحی کا طریقہ بھی وہی ہے جو اس سیپہلے اختیار کیا گیا۔ اللہ کی ذات بہت بلند اور عظیم ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ آسمان اس کی خشیت سے پھٹا جا رہا ہے اور فرشتے برابر اس کی تسبیح اور اہل زمین کے لئے استغفار میں سرگرم ہیں جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں اللہ ان کو دیکھ رہا ہے۔ ان کے ایمان کی ذمہ داری تمہایر اوپر نہیں ہے۔ اللہ نے جو عربی قرآن تم پر اتارا ہے اس کے ذریعہ سے اہل مکہ اور اس کے اطراف کے لوگوں کو اس دن سے آگاہ کر دو جس دن وہ سب کو اکٹھا کرے گا اور پھر ایمان لانے والوں کو جنت میں اور کفر کرنے والوں کو دوزخ میں داخل کرے گا۔ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری تمہارے اوپر نہیں ہے۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے وہ تبدیل نہیں ہو سکتی۔ ہدایت وہی پائیں گے جو اس کے سزاوار ٹھہریں گے۔ (20-11) آسمان و زمین کا خالق خدا ہی ہے، ان کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اولاد اور رزق خدا ہی بخشتا ہے۔ اس کی خدائی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی دین توحید کی تعلیم تمام نبیوں نے دی اور اسی پر قائم رہنے اور اس میں اختلاف نہ پیدا کرنے کی انہوں نے برابر تلقین کی۔ جن لوگوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا انہوں نے خدا کی طرف سے صحیح علم آجانے کے بعد، محض باہمی عناد اور تعصب کے سبب سے پیدا کیا۔ اگر اللہ نے اس جھگڑے کے فیصلہ کے لئے ایک وقت نہ مقرر کرلیا ہوتا تو ان کا فیصلہ فوراً کردیا جاتا۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ تم اسی دین انبیاء کی دعوت دو اور اسی پر جمے رہو اور لوگوں کو آگاہ کر دو کہ اللہ نے جو کتاب میزان عدل بنا کر اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں اور مجھے یہ ہدایت ہوئی ہے کہ اسی میزان عدل کے ذریعہ سے تمہارے درمیان فیصلہ کروں۔ جو لوگ اس کے بعد بھی تم سے جھگڑیں ان کے لئے عذاب شدید ہے۔ انہیں متنبہ کر دو کہ قیامت کو بہت دور نہ سمجھیں۔ اللہ نے جو مہلت بخشی ہے اس سے فائدہ اٹھا لیں ورنہ یاد رکھیں کہ اللہ نہایت مہربان بھی ہے اور نہایت منتقم وقہار بھی۔ اگر وہ لوگوں کو، ان کے طغیان و فساد کے باوجود مہلت دیتا ہے تو اپنی سنت کے مطابق دیتا ہے۔ اس مہلت کے بعد وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ہوگا۔ (26-21) اگر انہوں نے کچھ شرکاء ایجاد کئے ہیں جنہوں نے اللہ کے رسولوں کے لائے ہوئے دنی سے کوئی الگ دین ان کے لئے ایجاد کیا ہے تو یہ دین اور اور ان کے یہ شرکاء قیامت کے دن کچھ بھی ان کے کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ اس دن مشرکین اپنے انجام پر اپنے سرپیٹیں گے۔ اس دن کی کامیابی صرف ایمان اور عمل صالح والوں کے لئے ہوگی۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کی ان لوگوں کو بتا دو کہ میں تمہاری ہدایت کے لئے جو اتنا فکرمند ہوں تو اس لئے نہیں کہ میں تم سے کسی صلہ کا طالب ہوں بلکہ یہ محض قرابت ہے جو تمہارے لئے مجھے بےچین کئے ہوئے ہے۔ اگر تم ایمان لائو گے تو اس کا صلہ تم خود پائو گے۔ اگر یہ لوگ تمہاری وحی کو افتراء بتاتے ہیں تو تمہارے اطمینان کے لئے یہ چیز بس ہے کہ تم جانتے ہو کہ یہ چشمہ فیض تمہارے انر خدا نے جاری کیا ہے، اگر وہ چاہے تو ابھی اس کو بند کر دے، پھر تم کسی طرح بھی اس کو جاری نہیں کرسکتے۔ علاوہ ازیں دیکھنے کی چیز اس کے اثرات اور اس کی برکات ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے باطل کو مٹا اور حق کو سربلند کر رہا ہے۔ یہ لوگ جو کچھ بھی کہیں اسکی پروا نہ کرو جن کے اندر صلاحیت ہے وہ اس کو لبیک کہہ رہے ہیں۔ تمہارے اطمینان کے لئے یہ کافی ہے۔ (36-27) اگر یہ لوگ اپنی دنیوی برتری کو اپنے برحق ہونے کی دلیل بنائے بیٹھے ہیں تو ان کو بتا دو کہ آخرت کی نعمتوں کے مقابل میں اس دنیا کی بڑی سے بڑی دولت کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو شیطان کے فنتوں سے بچانا چاہا اس وجہ سے دنیا کے طالبوں کو بھی اتنا ہی دیتا ہے جتنا اس کے مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے ورنہ وہ ان کو پوری ڈھیل دے دیتا کہ وہ اس دنیا میں سے جتنا چاہیں اپنے دامن بھر لیں … اللہ کی ڈھیل سے کسی کو غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہئے۔ ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے لوگوں کو پکڑ سکتا ہے لیکن وہ لوگوں کی ناشکری اور ان کے طغیان کے باوجود ان سے درگزر کرتا ہے۔ انسان کی روزمرہ کی زندگی میں جو تجربات و مشاہدات ہوتے رہتے ہیں اگر کوئی دیدہ بنیاد رکھتا ہو تو انہی کے اندر دیکھ سکتا ہے کہ انسان ہر وقت خدا کی مٹھی میں ہے۔ اگر خدا حفاظت نہ کرے تو انسان کے تمام وسائل اس کی حفاظت سے قاصر ہیں۔ کافروں کو جو کچھ حاصل ہوت ہے وہ عارضی وفاقی ہے۔ خدا کی ہاں ابدی بادشاہی ان لوگوں کو حاصل ہوگی جو ایمان لائیں گے اور خدا پر بھروسہ رکھیں گے۔ (43-37) اہل ایمان کی حقیقی صفات کا بیان اور ان کو چند خاص ہدایات جو موجودہ اور آئندہ پیش آنے والے حالات میں ان کی رہنمائی اور ذمہ داریوں سے عہدہ برآن ہونے کے لئے ضروری تھیں۔ قرینہ دلیل ہے کہ اس دور میں کفار کی تعدیاں بھی بہت بڑھ گئی تھیں اور مسلمان بھی ایک جماعت اور تنظیم کی شکل اختیار کررہے تھے اس وجہ سے ان کو ضروری ہدایات سے آگاہ کردیا گیا تاکہ اس نازک دور میں ان کا کوئی قدم غلط نہ اٹھ جائے۔ (53-44) خاتمہ سورة جس میں پہلے مخالفین کو تنبیہ ہے۔ اس کے بعد ان کو دوت ہے کہ اب بھی موقع ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبول کر کے اپنی عاقبت سنوار لو۔ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر یہ کبھی واپس آنے والا نہیں ہے۔ اس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلقین صبر ہے کہ اگر یہ لوگ تمہاری بات نہیں سن رہے ہیں تو ان کا پیچھا چھوڑو، تمہارے اوپر جو ذمہ داری تھی وہ تم نے ادا کردی، ان کے دلوں میں ایمان اتار دینا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ انسان کی تنک ظرفی کا حال یہی ہے۔ اگر اللہ اس کو اپنی رحمت سے نوازتا ہے تواتراتا اور اکڑتا ہے اور اگر اس کے اعمال کی پاداش میں اس کو کوئی مصیبت پیش آجائے تو مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے۔ ان لوگوں کو اپنی مزعومہ شریکوں پر بڑا ناز ہے لیکن خدا کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے غرور کے سبب یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ خدا ان سے رو درود ہو کر بات کرے تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے سے بات کرتا ہے صرف وحی کے ذریعہ ہی سے کرتا ہے اور اس کے خاص طریقے ہیں۔ اسی طرح کی وحی اس نے تم پر بھی کی ہے اور یہ تم پر اور تمہارے واسطہ سے لوگوں پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہوا ہے ورنہ اس سے پہلے نہ تم کتاب سے آشنا تھے اور نہ ایمان کی تفصیلات اور اس کے مطالبات سے۔

Ayahs 42:1–2
-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حم، عسق (2-1) یہ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ یاد ہوگا پچھچلی دو سورتوں کا نام بھی حم ہی ہے۔ یہاں اس پر عسق کا اضافہ ہے۔ ناموں کا اشتراک عمود کی وحدت پر دلیل ہے اور یہ اضافہ اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سورة میں کچھ خاص مطالب بھی ہیں جو پچھلی دونوں سورتوں میں نہیں ہیں چناچہ مطالب کے تجزیہ پر ایک نظر ڈال کر ان خاص مطالب کو الگ کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 42:3

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

اسی طرح خدائے عزیز و حکیم وحی کرتا ہے تمہاری طرف اور اسی طرح وہ وحی کرتا رہا ہے ان کی طرف جو تم سے پہلے گزرے۔

کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (3) تمام نبیوں کی تعلیم بھی ایک رہی ہے اور طریقہ تعلیم بھی ایک ہی رہا ہے کذلک کا اشارہ ان مطالب کی طرف ہے جو اس سورة میں بیان ہوئے ہیں۔ ان مطالب کا ایک اجمالی تصور اس سورة کے نام نے دے دیا ہے اس وجہ سے کذلک کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ بالکل موزوں ہے یعنی اس نام سے موسوم سورة میں جو باتیں وحی کی جا رہی ہیں یہ جس طرح تمہاری طرف وحی کی جا رہی ہیں اسی طرح تم سے پہلے آنے والے نبیوں کو بھی وحی کی جا چکی ہیں۔ ادائے مطلب میں ی بتقاضائے بلاغت ایجاز ہے۔ پوری بات گویا یوں ہے کہ اس طرح اللہ تم پر وحی کر رہا ہے اور اسی طرح اس نے ان نبیوں پر بھی وحی کی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اس قسم کے ایجاز کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔ کذلک وحدت مدعا کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے اور طریقہ وحی کی یکسانی کی طرف بھی یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو تعلیم بھی انہی باتوں کو دی جن کی تعلیم تم کو دی جا رہی ہے او اس تعلیم کے لئے طریقہ بھی وہی اختیار فرمایا جو تمہارے لئے اختیار فرمایا اس وجہ سے کسی پہلو سے بھی قرآن میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو لوگوں کے لئے باعث وحشت ہو۔ اگر یہ اس سے وحشت زدہ ہو رہے ہیں تو یہ ان کی اپنی طبیعت کا فساد ہے۔ وحدت مدعا کی طرف آگے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے۔ وحدت مدعا کی رف اشارہ شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوافیہ کبر علی المشرکین ماتدعو ھم الیہ ط …(13) تمہارے لئے اس نے اسی دین کو مقرر کیا جس کی تعلیم نوح کو دی اور اسی کی وحی ہم نے تم کو کی اور جس کی تلقین ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی کہ اللہ کے دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ برپا کرو۔ مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی تم دعوت دے رہے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس اسلام اور جس دین توحید کی دعوت آنحضرت ﷺ نے دی اسی کی دعوت پر تمام انبیاء (علیہم السلام) مامور ہوئے لیکن مشرکین نے جو دین شرک ایجاد کیا اس کی عصبی کے جوش میں اس دین حق کے مخلاف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اسی قسم کی عصبیت کے جنون میں اہل کتاب بھی مبتلا ہوگئے۔ طریقہ کی یکسانی کی طرف اشارہ طرقہ کی یکسانی کی طرف آگے اس سورة میں اسی طرح اشارہ فرمایا ہے۔ طریقہ کی یکسانی کی طرف آگے اس سورة میں اسی طرح اشارہ فرمایا ہے۔ وما کان لبشرات یکلمہ اللہ الا وحیا او من ورآی حجاب او یرسل رسولاً فیوحی باذنہ ما یشآء ط انہ علی حکیم مکذلک افحینا الیک روحاً من امرنا ماکنتتدری ما الکتب ولا الایمان ولکن جعلنہ نوراً نھدی بہ من نشآء من عبادنا (52-51) اور کسی بشر کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اس سے بات کرے مگر یہ کہ وحی کے ذریعہ سے یا پردہ کی اوٹ سے یا بھیجے اپنا کوئی فرشتہ پس وہ وحی کر دے اس کے اذن سے جو وہ چاہے۔ بیشک وہ بڑا ہی بلند اور حکیم ہے۔ اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی وحی کی ایک روح کی اپنے امر میں سے تم نہ کتاب سے آشنا تھے اور نہ ایمان سے لیکن ہم نے اس کو ایک نور بنایا جس سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔ اس سے واضح ہوا کہ آج جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر خدا پیغمبر سے کلام کرتا ہے تو ان سے بھی کلام کرے یا وہ اس طرح نمودار ہو کر وہ اس کو دیکھیں اور اس کا کلام سنیں، یہ محض ان کی خود سری اور بد دماغی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح نہ کسی سے بات کرتا اور نہ اس طرح جلوہ نمائی کرنا اس کی شان ہے۔ بلکہ ہمیشہ سے اس کا طریقہ یہ رہا کہ اس نے اپنے جن بندوں کو نبوت کے کار خاص کے لئے منتخب فرمایا ان سے وحی کے ذریعہ سے بات کی اور اس وحی کا ایک خا ضابطہ ہے۔ آنحضرت صلعم کے لئے تسلی اور فالغین پر اتمدم حجت اس بات کے کہنے سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا بھی ہے اور مخالفین پر اتمام حجت بھی۔ ظاہر ہے کہ جب آپ اسی دین حق کی دعوت دے رہے ہیں جس کی دعوت تمام نبیوں اور رسولوں نے دی تو آپ کوئی ایسی بات نہیں پیش کر رہے ہیں جس سے لوگ وحشت زدہ ہوں۔ جو لوگ اس سے وحشت زدہ ہیں وہ تمام نبیوں کی دعوت کے مخالف اور تعصب وعناد میں مبتلا ہیں۔ علی ہذا ال قیاس اگر آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا مشاہدہ نہیں کرا سکتے یا اس کو کلام کرتے دوسروں کو سنا نہیں سکتے تو یہ چیز بھی آپ کی نبوت کا کوئی نقص نہیں۔ آپ اللہ کی وحی پیش کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس سے بھی بات کرتا ہے وحی کے ذریعہ ہی سے کرتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ کسی کو بھی نہیں نوازتا۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے عزیز و حکیم کا حوالہ یہاں تسلی کے مضمون سے بھی تعلق رکھتا ہے اور تہدید کے مضمون سے بھی۔ جب اللہ تعالیٰ عزیز ہے تو وہ گردن کشوں کو جب چاہے دبا سکتا ہے۔ اگر وہ فوراً نہیں دباتا تو وہ اپنی حکمت کے تحت ان کو مہلت دے رہا ہے اس وجہ سے پیغمبر ﷺ کو اپنے رب عزیز و حکیم پر بھروسا رکھنا اور ان لوگوں کا معاملہ اسی کے حوالہ کرنا چاہئے۔
Ayah 42:4

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہ بڑی ہی بلند اور عظیم ہستی ہے۔

لہ ما فی السموت وما فی الارض ط وھو العلی العظیم (4) صفت، عزیز، ی کی وضاحت یہ اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کی وضاحت ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے نہ کسی چیز میں کسی کا ساجھا ہے اور نہ کوئی چیز اس کے حیطہ اقتدار و اختیار سے باہر ہے۔ وہ بڑی ہی بلند اور بڑی ہی عظیم ہستی ہے، کسی کا بھی یہ درجہ نہیں کہ اس کا کفو اور ہمسر ہو سکے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ لوگوں کو مہلت دے رہا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ لوگ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہوگئے اور اگر اس نے کسی کو عزت و شوکت بخشی ہے تو اس کو اتنا مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ہو خد کو دیکھنے اور اس سے ہم کلام ہونے کا حوصلہ کر بیٹھے۔ اللہ کی بارگاہ بہت بلند اور اس کی ہستی بڑی عظیم ہے۔
Ayah 42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح اور زمین والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ آگاہ کہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا اللہ ہی ہے

تکاد السموت یتفطرن من فوقھن والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض ط الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم (5) علی و عظیم کی وضاحت یہ خدائے علی و عظیم، کے علو اور اس کی عظمت کا بیان ہے کہ اس کی عظمت کے بوجھ سے آسمانوں کا یہ حال ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپور سے پھٹ پڑیں گے اور ملائکہ کا حال، بایں ہمہ قربت یہ ہے کہ اس کی خشیت کے سبب سے وہ ہر وقت اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہتے اور زمین والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ یعنی نادانوں نے تو فرشتوں کو خدائی میں شریک بنا رکھا ہے اور یہ توقع لئے بیٹھے ہیں کہ خدا کی بارگاہ میں ان کو وہ مقام حاصل ہے کہ وہ اپنے پجاریوں کو بڑے بڑے متر بےدلوائیں گے اور خود ان کا حال یہ ہے کہ وہ ہر وقت اس کی خشیت سے لرزاں و ترسان اور مصروف تسبیح وتحمید ہیں۔ تسبیح اور حمد کے فرق پر اس کے محل میں گفتگو ہوچکی ہے۔ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور حمد میں اثنات کا۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو تمام خلاف شان باتوں سے، جن میں سب سے زیادہ نمایاں شرک ہے، پاک اور تمام اعلیٰ صفات سے، جن میں سب سے مقدم توحید ہے، متصف ٹھہراتے ہیں۔ ویستغفرون لمن فی الارض میں وہی بات فرمائی گئی ہے جو سورة مومن میں بدیں الفاظ گزر چکی ہے۔ الذین یعملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمد ربھم ویومنون بہ ویتغفرون للذین امنوا …(7) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے اردگرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے، اس پر ایمان رکھتے اور ایمان والوں کے لئے استغافر کرتے رہتے ہیں۔ ملائکہ کا استغفار اہل زمین کے لئے اس سے معلوم ہوا کہ ملائکہ اہل زمین میں سے ان لوگوں کے لئے استغفار کرتے ہیں جو اہل ایمان ہیں۔ چونکہ یہ بات واضح تھی اس وجہ سے آیت زیر بحث میں یہ حذف کردی گی ہے۔ ملائکہ کا یہی استغفار ان کی شفاعت ہے جو وہ اپنے رب کی بارگاہ میں اہل ایمان کے لئے کر رہے ہیں۔ اس سے مشرکین کی مزعومہ شفاعت کی تردید ہوگئی۔ الا ان اللہ ہو الغفور الرحیم یہ مشرکین کو ایک برمحل تنبیہ ہے کہ کان کھول کر اچھی طرح سن لو کہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا اللہ ہی ہے۔ اگر یہ چیز فرشتوں کے اختیار میں ہوتی تو وہ اس تذلل کے ساتھ لوگوں کی مغفرت کے لئے اللہ تعالیٰ سے کیوں درخواست کرتے ؟
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں اللہ ان پر نگرانی رکھے ہوئے ہے اور تم ان پر داروغہ نہیں مقرر کئے گئے ہو۔

والذین اتخذوا من دونہ اولیآء اللہ حفیظ علیھم وما انت علیھم بوکیل (6) مشرکین کو نہایت سخت وعید یہ مشرکین کو نہایت سخت انداز میں وعید اور آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ ان واضح دلائل کے بعد بھی جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں اور تمام نبیہ و تذکیر کے باوجود اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، اللہ ان کی کڑی نگرانی کر رہا ہے کہ جو نہی وہ اپنی مہلت پوری کرلیں ان کو اپنے قہر و غضب کے پنجہ میں گرفتار کر کے۔ اس کے بعد پیغمبر ﷺ کو تسلی دی کہ خدا نے تم پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی ہے کہ لازماً تم انکو ایمان کی راہ پر لگا ہی دو۔ تمہاری ذمہ داری تبلیغ حق کی تھی وہ تم نے کردی اور جب تم تمہارے رب کا حکم ہے کرتے رہو۔ اگر یہ ایمان نہ لائے تو اس کی پرسش انہی سے ہونی ہے، تم سے نہیں ہونی ہے۔ یہی مضمون آگے اسی سورة میں یوں آیا ہے۔ فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم ط ان علیک الا البلغ (49) پس اگر یہ اعراض کریں تو ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا ہے، تمہارے اوپر ذمہ داری صرف واضح طور پرہ پنچا دینے کی ہے۔
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف ایک عربی قرآن وحی کیا ہے تاکہ تم اہل مکہ اور اس کے گرد و پیش والوں کو آگاہ کر دو اور اس دن سے ڈرا دو جو سب کے اکٹھے کرنے کا دن ہوگا جس کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اس دن ایک گروہ جنت میں داخل ہوگا اور ایک گروہ دوزخ میں

وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیا لتنذرام القری ومن حولھا وتنذرریمہ الجمع لاریب فیہ ط فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر (7) اس کذلک کا اشارہ آیت 1 کے مضمون کی طرف ہے کہ جس طرح ہم نے تم سے پہلے آنے والے نبیوں اور رسولوں کو اپنی وحی سے سرفراز کیا اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی یہ قرآن بزبان عربی اتارا ہے تاکہ تم عرب کی مرکز بستی اور اس کے گرد و پیش کے لوگوں کو آگاہ کر دو۔ قرآن کے ساتھ عربی کی صفت بطور امتنان اور اتمام حجت ہے، جیسا کہ حم السجدۃ کی آیت 24 میں گزر چکا ہے کہ اہل عرب کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے کہ ان کے لئے اللہ کے دین کی پوری وضاحت نہیں کی گئی۔ ام القری میں اتمام حجت کا پہلو ام القریٰ سے مراد مکہ ہے اس لئے کہ ام القریٰ مرکزی بستی کو کہتے ہیں اور عرب میں مرکزی بستی کی حیثیت مکہ ہی کو حاصل تھی۔ یہاں مکہ کے بجائے ام القریٰ کے لفظ میں بھی اتمام حجت کا پہلو ہے۔ اگر ایک پیغام مرکزی بستی کے لوگوں کو پہنچا دیا گیا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس ملک کے لوگوں کو ان کے سر پر چڑھ کر پکار دیا گیا ہے۔ اگر ام القریٰ کے بجائے عرب کے کسی گوشے سے یہ دعوت اٹھتی تو باتیں بنانے والے یہ بات بنا سکتے تھے کہ آخر ہمارے اکابر بردسادات اور ہمارے ذہین طبقہ کو چھوڑ کر قرآن نے سب سے پہلے عوام کے طبقہ کو کیوں مخاطب کیا، اس کے حق و باطل کے اصلی پرکھنے والے تو مکہ کے سادات ہو سکتے تھے ! ومن حولھا سے کیا مراد ہے ؟ ومن حولھا سے بعض لوگوں نے تمام عالم کو مراد لیا ہے۔ ان کے اس خیال کی بنیاد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام عالم کے لئے ہوئی ہے، اس وجہ سے صرف اطراف مکہ یا ملک عرب ہی کے شہر مراد نہیں ہیں، بلکہ پوری دنیا مراد ہے۔ یہ بات اگرچہ بجائے خود ایک حقیقت ہے کہ آنحضرت خاتم النبین ہیں، اس وجہ سے آپ کی بعثت تمام عالم کے لئے ہوئی لیکن من حولھا کی یہ تاویل الفاظ کے حدود سے اول تو صریح تجاوز ہے پھر اصل مقصد کے لئے اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے خود فرمایا ہے کہ آپ دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ ایک بعثت خاص، دوسری بعثت عام آپ کی بعثت خاص اہل مکہ اور اہل عرب کی طرف ہوئی اور ان پر آپ نے براہ راست حجت قائم فرمائی۔ رہی آپ کی بعثت عام تو وہ تمام عالم کی طرف ہے اور اہل عالم پر دین حق کی شہادت دینے کی ذمہ داری قرآن نے بھی اور نبی ﷺ نے بھی، قیامت تک کے لئے ملت مسلمہ پر ڈالی ہے اور اس ذمہ داری ہی کی بنا پر اس امت کو اللہ تعالیٰ نے شھداء اللہ فی الارض کے منصب پر سرفراز فرمایا ہے۔ یہ اس امت کا فریضہ منصبی ہے کہ اللہ کے رسول نے دین حق کی گواہی جس طرح اس امت کے لوگوں پر دی اسی طرح یہ برابر دوسروں کے سامنے یہ گواہی دیتی رہے۔ اسی فریضہ کے تقاضے سے اس امت کو یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ ایک گروہ اس میں ہمیشہ حق پر قائم رہے گا یہاں تک کہ یہ اس وقت بھی حق پر قائم رہے گا جب دنیا کی رگ رگ میں باطل کا زہر سرایت کر جائے گا۔ 1 1۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث ہم اپنی کتاب دعوت دین اور اس کا طریقہ کار میں کرچکے ہیں۔ جن لوگوں کو دلائل کی تفصیل مطلوب ہو اس کی مراجعت کریں۔ عدالت عام سے انذار وتنذریوم الجمع لاریب فیہ انذار عام کے بعد یہ انذار خاص کا ذکر ہے کہ ان لوگوں کو خاص طور پر یوم الجمع، سے ر اور یوم الجمع سے اشارہ ظاہر ہے کہ روز قیامت کی طرف ہے۔ روز قیامت کو یوم الجمع سے تعبیر کرنے میں اس بات کی آگاہی ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ بلا استثناء سب کو اکٹھا کریگا عابدوں کو بھی اور معبودوں کو بھی لیڈروں کو بھی ان کے پیروئوں کو بھی، انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو بھی، کفار اور ان کے حمایتیوں کو بھی اور ان سب کی موجودگی میں بھری عدالت میں فیصلہ فرمائے گا کہ اللہ کے دین کیم عاملے میں کس کا رول کیا رہا ہے ؟ کس نے اس میں اختلاف برپا کیا اور فساد ڈالا اور کس نے اس کی وحدت و پاکیزگی قائم رکھنے کی کوشش کی کو نانعام کا مستحق ہے اور کون سزا کا ؟ فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر یہ اس کھلی عدالت کے فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن ایک گروہ یعنی اہل ایمان کا گروہ لازماً جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ یعنی اہل کفر کا گروہ لازماً دوزخ میں۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے اور جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں نہ ان کا کوئی کار ساز ہوگا اور نہ مددگار

ولو شآء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ و لکن یدخل من یشآء فی رحمتہ والظلمون مالھم من ولی ولانصیر (8) ایک شبہ کا جواب اب یہ ایک شبہ کا جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایک ہی دین دیا تو اس نے یہ کیوں نہیں پسند فرمایا کہ سب اسی دین پر رہتے ؟ اس نے یہ موقع کیوں دیا کہ لوگ اس میں اختلاف برپا کریں اور اس اختلاف کا نتیجہ بالآخر یہ نکلے کہ ایک گروہ تو جنت کا حقدار ٹھہرے اور دوسرا دوزخ کا سزا وار قرار پائے ؟ اس کا جواب یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنا چاہتا تو کرسکتا تھا، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا۔ لیکن اس نے یہ نہیں پسند فرمایا کہ وہ لوگوں کو اپنی ہدایت قبول کرنے پر مجبور کرے بلکہ اس نے چاہا کہ لوگوں کو اختیار دے کر ان کے سامنے اپنی ہدایت رکھے کہ لوگ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر، اپنی آزادی رائے کے ساتھ، ہدایت کو اختیار کریں اور اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کے سزا وار بنیں۔ یدخل من یشآء فی رحمتہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جس مشیت کا ذکر فرمایا ہے وہ اس کی رحمت اور اس کے عدل کے تحت ہے۔ اس وجہ سے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جن کے لئے اس کا عدل مقتضی ہو کہ وہ اس کی رحمت میں داخل ہوں ان کو وہ اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ اس مضمون کو اس کے بعد والظلمون مالھم من ولی ولا نصیر فرما کر واضح بھی کردیا کہ جو لوگ ظالم کافرو مشرک ہیں نہ ان کا کوئی کار ساز ہوگا، نہ کوئی مددگار یعنی نہ ان کے مزعومہ اولیاء ان کے کام آنے والے بنیں گے اور نہ ان کی کوئی جمعیت و جماعت ہوگی جو ان کی کوئی مدد کرسکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف وہ لوگ محروم ہوں گے جو ظالم و شرک ہوں گے اور ایسا اس لئے ہوگا کہ یہ اس کے عدل کا تقاضا ہے۔ اس کی مشیت اس کے عدل پر مبنی ہے اور کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس کی مشیت کو بدل سکے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور اس کتاب میں بار بار اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ ہم مزید وضاحت کے لئے یہاں بھی چند آیات کا حوال دیئے دیتے ہیں۔ سورة یونس میں فرمایا ہے۔ ولومشآء ربک لامن من فی الارض کلھم جمیعاً ط افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مومنین، وما کان لنفس ان تو من الا باذن اللہ ط ویجعل الرجن علی الذین لا یعقلون (یونس :100-99) اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین میں بھی سب ایمان پر ہوتے تو کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے کہ وہ مومن بن جائیں اور کوئی جان بھی ایمان نہیں لا سکتی مگر اللہ کے اذن سے اور اللہ ان لوگوں پر گندگی لاد دیتا ہے جو اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان و ہدایت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر منحصر ہے اور اس کی مشیت ان لوگوں کو ایمان کی توفیق بخشتی ہے جو اپنی قعل سے کام لیتے ہیں۔ جو عقل سے کام نہیں لیتے ان کی عقل ایسی گندگی کے ڈھیر کے نیچے دب جاتی ہے کہ ان کو ایمان و ہدایت کی روشنی نظر آتی ہے۔ یہ مضمون سورة سجدہ میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ ولو شئنا لاتینا کل نفس ھدھا (السجۃ :13) اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اس کی ہدایت دے دیتے یعنی اگر ہم لوگوں کو ایمان پر مجبور کرنا چاہتے تو سب کو مومن بنا دیتے لیکن ہم نے لوگوں کو اختیار دے کر آزمایا ہے کہ کون ایمان کی راہ اتخیار کرتا ہے، کو نکفر کی پس جو کفر کی راہ اختیار کریں گے ہم ان سب کو جہنم میں بھر دیں گے اور ان لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے جو ایمان لائیں گے۔ یہی بات نہایت وضاحت سے سورة دہر میں اس طرح ارشاد ہوئی ہے۔ ان ھذا تذکرہ فمن شآء اتخذ الی ربہ سبیلاً وما تشآء ون الا ان یشآء اللہ ان اللہ کان علیما حکیما یدخل من یشآء فی رحمتہ والظلمین اعدلھم عذاباً الیماً (الدھر :31-29) یہ قرآن تو بس ایک یاد دہانی ہے تو جس کا جی چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کرے اور تمہارا چاہنا کچھ نہیں ہے مگر یہ کہ اللہ بھی چاہے بیشک اللہ علیم و حکیم وہ اپنی رحمت میں دخل کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ رہے اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تو ان کے لئے اللہ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس آیت میں نبی ﷺ اور آپ کیے صحابہ کو تسلی دی گئی ہے کہ لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی سے پریشان نہ ہو۔ یہ قرآن لوگوں پر زبردستی لادنے کی چیز نہیں ہے۔ یہ صرف ایک یاد دہانی ہے تو اس کے ذریعہ سے لوگوں کو یاد دہانی کرو۔ جس کا جی چاہے ایمان لائے جس کا جی چاہے کفر کی راہ اختیار کرے۔ اگر تم لوگ ان کے ایمان کے خواہشمند ہو تو تمہاری خواہش سے کچھ نہیں ہوسکتا جب تک اللہ کی مشیت نہ ہو اور اللہ کی مشیت اس کے علم او اس کی حکمت پر بنی ہے۔ وہ اپنی رحمت میں انہی کو داخل کرتا ہے جن کو چاہتا ہے اور وہ انہی کو چاہتا ہے جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نہیں ہوتے بلکہ اللہ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے اور اس کی ہدایت کی قدر کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے بن کر چلتے ہیں تو ایسے ظالموں کے لئے اللہ نے ایک درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے
Ayahs 42:9–10

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں تو یاد رکھیں کہ کار ساز اللہ ہی ہے اور وہ مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور جس کسی چیز میں بھی تم نے اختلاف کیا ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے۔ وہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

ام اتخذوا من دونہ اولیآء فاللہ ھو الولی وھو یحییٰ الموتی ھو علی کل شیء قدیر (9) سوال یہاں اظہار تعجب اور انکار کے مفہوم میں ہے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا ہے کہ ان کے لئے نہ کوئی کارساز ہوگا۔ نہ مددگار۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کے سوا کچھ دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں تو یہ محض ان کی بو الفضولی ہے۔ کار ساز صرف اللہ ہی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وہی ہے جو مردوں کو زندہ کرے گا اور ہر ایک کی پیشی اس کے حضور میں ونی ہے تو کار ساز کوئی دوسرا کیسے بن جائے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس کے ہوتے کسی کار ساز کی ضرورت کیا رہی اور اس کے آگے کسی بڑے سے بڑے کار ساز کی کار سازی کیا کارگر ہو سکتی ہے۔ فعا اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ، ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت والیہ انیب (10) ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ جو اپنی ضد پر اڑے ہوئے تھے اوپر آیت 88 میں نبی ﷺ کی یہ تسلی دی گی ہے کہ مخلافین کی ضد اور مکابرت سے آپ پریشان نہ ہوں۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ نے جو سنت مقرر کر رکھی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی یہ لوگ اللہ کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں اس وجہ سے ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجیے۔ اسی ہدایت کے بموجب نبی ﷺ نے ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجیے اسی ہدایت کے بموجب نبی ﷺ نے ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حالہ فرما دیا چونکہ یہ بات اوپر والی آیت ہی کی تعمیل میں تھی اس وجہ سے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نئی ہدایت کی ضرورت نہیں تھی بلکہ کہنے کی بات نبی ﷺ کی زبان سے کہلا دی گئی۔ فرمایا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے دین کی جس بات میں بھی تم نے اختلاف کیا، خواہ وہ توحید ہو یا آخرت، میری ذمہ داری اس میں صرف حق پہنچا دینے کی تھی سورة میں نے تم کو پہنچا دیا۔ اب اس کا فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے۔ وہ فیصلہ فرمائے گا کہ میں نے حق پہنچانے میں کوتاہی کی یا تم نے حق کو پہچان کر اس کو جھٹلایا ! وہی اللہ میرا رب ہے اس وجہ سے میں نے اس پر بھروسہ کیا اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے۔
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

وہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے پیدا کئے اور چوپایوں کی جنس سے بھی جوڑے پیدا کئے۔ اس مزرعہ کے اندر وہ تمہاری تخم ریزی کرتا ہے۔ اس کے مانند کوئی شے بھی نہیں ہے۔ اور وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

-2 آگے کا مضمون … آیات :20-11 پہلے اسی توحید کے مضمون کی وضاحت فرمائی ہے جو اپور سے چلا آ رہا ہے کہ کار ساز حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ رزق اور اولاد سب اسی کا عطیہ ہیں اور اس کائنات کے اضداد میں جو توافق ہے وہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اللو واحد کی مشیت اور اس کے ارادہ کے سوا کوئی اور ارادہ اس کے اندر دخیل نہیں ہے۔ اس کے بعد پہلی آیت کے مضمون کی وضاحت فرمائی ہے کہ حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح ؑ تک تمام نبیوں نے اسی دین توحید کی دعوت دی اور اس میں اختلاف برپا کرنے سے لوگوں کو روکا لیکن ان کی امتوں نے خدا کی طرف سے وضاح علم آجانے کے باوجود اس میں اختلاف پیدا کیا اور اپنے آپ کو اللہ کی ہدایت سے محروم کرلیا۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ تم اسی دین انبیاء کی لوگوں کو دعوت دو اور اپنی اس دعوت پر جمے رہو۔ جو لوگ تمہاری مخالت کر رہے ہیں ان کو آگاہ کر دو کہ میں اللہ کی کتاب پر ایمان لایا ہوں جو اس نے تمہارے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لئے، میزان عدل بنا کر اتاری ہے۔ اگر تم اس کے فیصلہ کو قبول نہیں کرو گے تو قیامت کی میزان تمہارا فیصلہ کرے گی اور قیامت شدنی ہے۔ اپنی موجودہ رفاہیت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل نہ سمجھو۔ اللہ حق کے دشمنوں کو بھی دنیا کی نعمتیں دیتا ہے لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت فاطر السموت والارض ط جعل لکم من انفسکم ازواجاً ومن الانعام ازوجاً یذرو کم فیہ ط لیس کمثلہ شیء ج و ھو السمیع البصیر (11) اللہ تعالیٰ کی یکتائی کی دلیل اوپر آیت 10 میں یہ جو فرمایا ہے۔ ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت اس کی یہ مزید وضاحت ہے کہ آسمانوں اور زمین کا خالق اور تمام انسانوں اور دوسری مخلوقات کو وجود میں لانے والا وہی ہے۔ دوسرا کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اس کی ذات یا صفات میں اس کا مثیل ہو سکے تو کوئی اور کس طرح حقدار ہوسکتا ہے کہ اس کو اس کا شریک ٹھہرایا اور مولیٰ و مرجع بنایا جائے ! یذرئو کم فیہ میں ضمیر مجرور کا مرجع الفاظ کے اندر نہیں ہے بلکہ اس مفہوم کے اندر ہے جو الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے۔ الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور چوپایوں کے اندر ان کی جنس سے جو جوڑے پیدا کئے ہیں تو اس طرح گویا انسانوں اور چوپایوں کی تخلیق کے لئے ان کے اپنے نوعی نظام کے اندر ہی ایک فار میا مزرعہ بنا دیا ہے جس میں وہ ان کی برابر تخم ریزی کرتا اور ان کو پروان چڑھاتا ہے۔ عربی زبان میں اس طرح پمیریں آتی ہیں۔ اس کتاب میں اس کی بعض نہایت واضح مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ لیس کمثلہ شیء اوپر والے ٹکڑے میں خالق آسمان و زمین کی جس قدرت و حکمت کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ اس کا نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین جیسی عظیم چیزیں پیدا کیں، جس نے انسانوں اور چوپایوں کی نسل چلانے کے لئے یہ حیرت انگیز نظام قائم فرمایا آخر دوسرا کو نیاسا ہوسکتا ہے جس کو اس کا مثل قرار دیا جاسکے ؟ کوئی چیز بھی نہ اس کے مثل ہے، نہ ہو سکتی ہے۔ وہ اپنی ذات اور صفات میں بالکل یکتا ہے۔ پھر اس سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ جب آسمانوں کا خالق وہ ہے تو ان سے جو کچھ اترتا ہے اس کا اتارنے والا بھی وہی ہے، جب زمین کا بنانے والا وہ ہے تو اس سے جو کچھ برآمد ہوتا ہے اس کا برآمد کرنے والا بھی لازماً وہی ہے۔ جب عورت اور مرد، نر اور ناری کا خالق وہ ہے تو جو خلق ان سے وجود میں آتی ہے ان کا وجود میں لانے والا بھی وہی ہوا یطلب یہ نکلا کہ جب آسمانوں اور زمین اور عورت و مرد کا خالق خدا کے سوا کسی دوسرے کو نہیں قرار دیا جاسکتا تو ان کے باہمی تفاعل سے وجود میں آنے والی چیزوں کو کس طرح کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے ؟ کون ہے جس نے ان کاموں میں سے کوئی ایک بھی کیا ہو یا کرسکے جو خدا نے کئے ہیں کہ اس کو اس کا ہم پایہ بنا دیا جائے ؟ وھو السمیع العلیم یہ اس سبق سے نکلا ہوا آگے کا سبق ہے کہ جس طرح اس کائنات کے مشاہدے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کوئی اس کا مثیل نہیں ہے اسی طرح یہ حقیقت بھی اس سے نکلتی ہے کہ حقیقی سمیع وعلیم وہی ہے۔ ایک سمیع وعلیم خالق ہی اتنی وسیع کائنات کو جود میں لا سکتا ہے اور وہی اس کو برقرار رکھ سکتا ہے … تو جب اس کی قدرت بھی بےمثال اور اس کا علم بھی محیط کل تو سب اسی کی بندگی کریں اور اسی سے اپنی ضرورتیں مانگیں۔ وہ سب کی باتیں سنتا اور جانتا ہے۔ اس سے مانگنے کے لئے کسی واسطہ اور وسیلہ کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں وہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لئے چاہتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ بیشک وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

لہ مقالید السموت والارض یبسط الرزق لمن یشآء و یقدر انہ بکل شیء علیم (12) جو خالق ہے وہی مالک بھی ہے جب اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہی ان کا مالک بھی ہو۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ان کو پیدا تو کرے لیکن پیدا کرنے کے بعد ان کے خزانوں کی کنجیاں دوسروں کو پکڑا دے ؟ اسی کے حکم سے بارش ہوتی ہے اور اسی کے حکم سے زمین اپنے خزانے اگلتی ہے اور وہی ہے جو اپنے علم اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے تحت جس کے لئے چاہتا ہے رزق میں کشادگی دیتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اس کے رزق کو تنگ کردیتا ہے نہ رزق کے پیدا کرنے میں کسی دیوی دیوتا کا کوئی دخل ہے اور نہ اس کی تقسیم میں کسی کو دخل ہے یہ تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں اس وجہ سے شکر کا حقیقی سزا وار وہی ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے اس وجہ سے بندذوں کو اسی سے امید بھی رکھنی چاہئے اور اسی سے ڈرنا بھی چاہئے اور اگر کسی کے رزق میں تنگی ہو تو اس بدگمانی میں اس کو نہیں مبتلا ہونا چاہئے کہ خدا کو اس کی خبر نہیں ہے یا اس نے اس کے ساتھ کوئی ناانصافی کی ہے بلکہ یہ اطمینان رکھنا چاہئے کہ جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے خدا کے علم سے ہو رہا ہے اور اسی میں حکمت ہے۔
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اس نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی ہدایت اس نے نوح کو فرمائی اور جس کی وحی ہم نے تمہیں طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا کیجیو۔ مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی طرف تم ان کو دعوت دے رہے ہو۔ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف آنے کے لئے چن لیتا ہے اور وہ اپنی طرف رہنمائی ان کی کرتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں

شرع لکم من الدنی ما وصی بہ نوحاً والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ ط کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ ط اللہ یجتی الیہ من یشآء و یھدی الیہ من ینب (13) یہی دین تمام نبیوں کا دین ہے سورة کی تمہید میں نبی ﷺ کو خطاب کر کے یہ جو فرمایا ہے کہ تمہیں اسی دین حق کی وحی کی جا رہی ہے جس کی وحی تم سے پہلے آنے والے نبیوں اور رسولوں کو کی گی، یہ اسی مضمون کی وضاحت قریش اور اہل عرب کو مخاطب کر کے جا رہی ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے وہی دین پسند فرمایا ہے جو اس نے نوح کو دیا تھا اور جس کی وحی محمد ﷺ کو کی جا رہی ہے۔ اسی دین کی تلقین ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی کی گئی تھی۔ یہ کوئی ایسا دین نہیں ہے جو تمہارے لئے انوکھا اور اجنبی ہو بلکہ شروع سے لے کر اس آخری نبی تک سب کا دینی یہی رہا ہے اور یہی اللہ کا حقیقی دین ہے۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا حوالہ یہاں اس طرح دیا ہے کہ پہلے ابتدائی اور آخری کڑی یعنی حضرت نوح اور حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر فرمایا، پھر بیچ کے انبیاء میں سے تین جلیل القدر نبیوں … حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ نور حضرت عیسیٰ ؑ … کا نا خاص طور پر لیا۔ اس اہتمام خاص کے ساتھ ان کے ذکر کی وجہ یہ ہے کہ انہی تین نبیوں کی پیروی کے مدعی اس وقت قرآن کے سامنے تھے۔ مشرکین عرب حضرت ابراہیم ؑ کی پیروی کے مدعی تھے اور یہود و نصاری ٰ بالترتیب حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے اس طرح گویا نبیوں کی پوری تاریخ کی طرف بھی اجمالی اشارہ ہوگیا اور قابل ذکر امتیں بھی سامنے آگئیں۔ اس دین سے متعلق امتوں کو ہدایت ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ یہ اس دنیا کا بھی بیان ہے جس کی تلقین ان نبیوں کو کی گئی اور اس ہدایت کا بھی جو اس دین سے متعلق ان نبیوں کے واسطہ سے ان کے پیروئوں کو کی گئی۔ الدین پر الف لام اسی طرح کا ہے جس طرح الکتاب پر ہے جس طرح الکتاب کے معنی اللہ کی کاتب کے ہیں اسی طرح الدین کے معنی اللہ کے دین کے ہیں۔ اللہ کا دین شروع سے اسلام ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے ان الدین عند اللہ الاسلام (اصل دین اللہ کے نزدک اسلام ہے) اس دین کی بنیاد خالص اور کامل توحید پر ہے۔ یہی دین اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ بلکہ حضرت آدم ؑ کو بھی دیا اور یہی دین محمد رسول اللہ اللہ تعالیٰ پر بھی نازل فرمایا۔ اس کے عقائد اور اس کی اساسات شروع سے آخر تک بالکل ایک ہیں۔ فرق اگر ہوا ہے تو جزئیات شریعت میں ہوا ہے جس کو قرآن نے شرعۃ و منھاج کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس دین سے متعلق امتوں کو یہ ہدایت بھی فرمائی گی تھی کہ اس کو قائم رکھنا اور اس میں اختلاف اور تفرق نہ برپا کرنا۔ یہ اسی طرح کی ہدایت ہے جس طرح فرمایا ہے کہ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقواً (ال عمران :113) (سب مل کر اللہ کی رسی کو پکڑو اور متفرق نہ ہو) قائم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اس کی جو باتیں ماننے کی ہیں وہ سچائی کے ساتھ مانی جائیں جو کرنے کی ہیں وہ دیانتداری اور استبازی کے ساتھ کی جائیں۔ نیز لوگوں کی برابر نگرانی کی جائے کہ وہ اس سے غافل یا منحرف نہ ہونے پائیں اور اس بات کا بھی پورا اہتمام کیا جائے کہ اہل بدعت اس میں کوئی رخنہ نہ پیدا کرسکیں۔ لاتفرقوا کا مطلب یہ ہے کہ یہی دین حبل اللہ ہے اس وجہ سے سب کا فرض ہے کہ سب مل کر اس کو تھا میں ایسا نہ ہو کہ جس کے ہاتھ میں جو رسی آجائے اسی کو وہ حبل اللہ سمجھ بیٹھے اور اسی رسی کو چھوڑ دے۔ اگر اس جل اللہ سے تعلق منقطع ہوا تو سارا شیرازہ درہم برہم ہوجائے گا۔ پھر کوئی چیز بھی لوگوں کی شیرازہ بندی نہ کرسکے گی۔ وہ خاص چیز جس سے مشرکین کو چڑ تھی کبر علی المشرکین ما ندعوھم الیہ مشرکین سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ فرمایا کہ ان کے لئے اللہ نے دین تو وہی اتارا جو تمام انبیاء کا دین ہے اور اسی دین کی تعلیم ان کے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم ؑ نے بھی دی ہے لیکن وہ چیز ان پر شاق گزر رہی ہے جس کی طرف تم ان کو دعوت دے رہے ہو۔ 1۔ حضرات انبیاء کی اصل تاریخ تو حضرت آدم سے شروع ہوتی ہے لیکن قرآن نے بالعموم حضرت نوح ہی سے آغاز فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت نوح سے پہلے کی تاریخ بالکل پردہ خفا میں ہے۔ ماتدعوھم الیہ اگرچہ با اعتبار الفاظ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد توحید ہے۔ قرآن میں اس بات کی جگہ جگہ تصریح ہے کہ مشرکین کو سب سے زیادہ چڑ قرآن کی دعوت توحید ہی تھی۔ ہدایت کے باب میں سنت الٰہی اللہ یجتبی الیہ من یشآء ویھدی الیہ من ینب یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کے معاملہ میں صبر کرو تم ان کے ایمان کے کتنے ہی چاہنے والے بنو لیکن ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور اللہ کا چاہنا اس کی حکمت اور اس کی سنت کے تحت ہے۔ وہ اپنی طرف رہنمائی انہی لوگوں کی کرتا ہے جو خود بھی اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جو اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے وہ توفیق ہدایت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یجتبی کے بعد الی کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں تضمین ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ ہوچکی ہے۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ صحیح علم آچکنے کے بعد محض باہمی ضدم ضدا کے باعث متفرق ہوئے اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات ایک مدت معین کے لئے طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کے درمیا نفوراً فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ان کے بعد وہ اس کے باب میں ایک الجھن میں ڈالنے والے شک میں مبتلا ہیں

وما تفرقوا الا من بعد ما جآء ھم العلم بغیا بینھم ولولا کلمۃ سبقت من ربک الی اجل مسمی تقضی بینھم و ان الذین اور ثوا الکتب من بعدھم لفی شک منہ مریب (14) امتوں کو ملامت یہ ان امتوں کو ملامت ہے کہ انہوں نے علم الٰہی کی روشنی پانے کے بعد محض اپنی باہمی ضدم ضدا کے ابعث آپس میں اختلاف کیا اور گمراہی میں مبتلال ہوئیں۔ اگر رات کی تاریکی میں کوئی ٹھوکر کھا جائے تو اس کو ایک حد تک معذور قرار دیاجا سکتا ہے لیکن جو شخ پورے دن کی روشنی میں مح اپنی ضد کے سبب سے، ٹھوکر رکھاتا ہے وہ اپنی اس حماقت کا خود ذمہ دار ہے۔ اس تفرق کی نوعیت سمجھنے کے لئے یہ اشارہ غالباً یہاں کافی ہوگا کہ یہود کے علماء اور فقہاء میں بالکل اسی طرح کے اختلافات برپا ہوئے جس طرح کے اختلافات ہمارے ہاں برپا ہوئے۔ بس فرق یہ ہے کہ اس امت کے پاس قرآن محفوظ ہے اس لئے رفع اختلاف کی کسوٹی موجود ہے لیکن یہود نے تورات بھی ضائع کردی اس وجہ سے ان کے اختلاف کے رفع ہونے کی کوئی شکل باقی ہی نہیں رہی۔ حضرت عیسیٰ کی دعوت سے جو امت ظہور میں آئی اس کے اور یہود کے درمیان شروع ہی سے ایک چپقلش برپا رہی اور اس میں اصلی دخل علمائے یہود کے عناد کو تھا۔ وہ محض ضد اور حسد کے باعث ان کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ بعد میں خود نصاریٰ کے اندر بیشمار فرقے پیدا ہوگئے اور پال نے ان کو تورات اور انجیل دونوں کی روشنی سے محروم کردیا۔ اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے ان کو قرآن کی روشنی دکھاین چاہی تو یہود اور نصاریٰ اور قریش تینوں نے مل کر اس روشنی کو گل کرنے کی جو سعی نامراد کی اس کی پوری تفصیل قرآن میں آپ پڑھ رہے ہیں۔ یہود کو قرآن سے اس بنا پر عناد تھا کہ مذبہی پیشوائی بنی اسماعیل کو منتقل نہ ہونے پائے اور قریش کو آنحضرت ﷺ سے جو پر خاش تھی اس کے وجوہ خود ان سورتوں سے واضح ہیں۔ اسی صورت حال کو قرآن نے وما تفرقوا الا من بعدما جآء ھم العلم بغیا بینھم کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے کہ جس امت نے بھی تفرق اور اختلاف کی راہ اختیار کی ہے محض اپنی شامت اعمال اور باہمی عناد کے سبب سے اختیار کی ہے۔ جہاں تک اللہ اور اس کے رسول کا تعلق ہے ان کی طرف سے برابر لوگوں کو صراط مستقیم ہی کرہنمائی کی گئی۔ ولولا کلمۃ سبقت من ربک الی اجل مسمی تقضی بینھم یہ ان امتوں کو زجر و توبیخ بھی ہے اور آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی بھی کہ چونکہ تمہارے رب کی طرف سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ اتمام حجت کے لئے ہر امت کو ایک خاص حد تک مہلت دی جائے گی اس وجہ سے ان کو مہلت دی جا رہی ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو بلاتاخیر ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔ وان الذین اور ثوا الکتب من بعدھم لفی شک منہ مریب۔ اس ٹکڑے کا تعلق اوپر والے جملے وما تفرقوآ الا من بعد ماجآء ھم العلم بغیابینھم سے ہے۔ بیچ کا جملہ محض بطور جملہ معترضہ اور بغرض تنبیہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم آنے کے بعد ان امتوں نے آپس میں جو اختلاف برپا کیا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد میں جو لوگ کتاب یعنی تورات کے وارث ہوئے وہ اس تورات کی طرف سے الجھن میں ڈال دینے والے شکوک میں مبتلا ہوگئے۔ یہ مضمون بعینیہ سابق سورة میں بھی بدیں الفاظ گزر چکا ہے۔ ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ ط ولولا کلمۃ سبقت من ربک تقضی بینھم وانھم لفی شک منہ مریب (حم السجدۃ :45) (اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تو اس میں اختلاف پیدا کردیا گیا اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کا جھگڑا چکا دیا جاتا اور بیشک وہ اس کی طرف سے ایک الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑگئے ہیں) لفظ مریب کی تحقیق اس کے محل میں بیان ہوچکی ہے۔ الذین اور ثوا الکتب سے مراد یہود کے اختلاف ہیں جو اپنے اگلوں کے بعد تورات کے وارث ہوئے۔ چونکہ تورات، ان کو بالکل متناقض شکل میں ملی اس وجہ سے ان کا اس کی طرف سے شکوک میں مبتلا ہوجانا ایک امر فطری تھا اور یہ چیز مقتضی تھی کہ وہ اس اختلاف کو رفع کرنے والی کتاب … قرآن … کی دل سے قدر کرتے لیکن انہوں نے محض ضد اور حسد کے سبب سے اس کی مخالفت کی۔ عام طور پر لوگوں نے کتاب سے قرآن کو مراد لیا ہے لیکن اس کا کوئی قرینہ نہیں ہے۔
Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

پس تم اسی دین کی دعوت دو اور اس پر جمے رہو جیسا کہ تم کو حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کیجیو اور اعلان کر دو کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں اور مجھے یہ حکم ہے کہ میں تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں۔ اللہ ہی ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے۔ ہماری درمیان کسی بحث کی ضرورت نہیں رہی۔ اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے

فلذلک فادع واستقم کما امرت ولا تتبع اھوآء ھم وقل امنت بمآ انزل اللہ من کتب وامرت لاعدل بینکم اللہ ربنا و ربکم لنا اعمالنا ولکم اعمالکم لاحجۃ بیننا وبینکم اللہ یجمع بیننا والیہ المصیر (15) نبی کو استقامت کی یہ نبی ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ تم اس دین حق کی دعوت دو جو تمام انبیاء کا مشترک دین ہے اور تمہارے یہ مخالفین خواہ کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم ان کی مطلق پروا نہ کرو، بلکہ ٹھیک ٹھیک اسی طرح جس طرح تمہیں ہدایت ہوئی ہے اس پر جمے رہو۔ ولا تتبع اھوآء ھم یہ اس استقامت کی وضاحت اس کے منفی پہلو سے ہے کہ ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو یعنی اپنی خواہشوں کو دین بنانے کے لئے انہوں نے اللہ کے دین میں جو بدعتیں گھسائی ہیں ان کی پیروی نہ کرو اھواء سے مراد، جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاح کرچکے ہیں بدعات ہیں۔ اس لئے کہ بدعات تمام تر خواہشوں ہی سے وجود میں آتی ہیں۔ وقل امنت بما انزل اللہ من کتب یعنی ان لوگوں کو جو تم سے اپنی ایجاد کردہ بدعات کی حمایت میں لڑ رہے ہیں، بتا دو کہ میں اللہ کی اتاری ہوئی کاتب پر ایمان لایا ہوں تو تمہاری بدعات و خواہشات کی پیروی کس طرح کرسکتا ہوں ؟ وامرت لاعدل بینکم یعنی میں تمہاری بدعات و خواہشات کی پیروی کرنے نہیں بلکہ تمہارے درمیان انصاف کرنے آیا ہوں۔ تم نے اللہ کے دین میں جھگڑے پیدا کردیئے ہیں، مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں اس جھگڑے کا فیصلہ کر کے بتائو کہ اس میں کیا حق ہے اور کیا باطل ؟ سو تم مجھ سے اپنی مدعات کی پیروی کی توقع نہ رکھو بلکہ اگر توفیق ہے تو مجھ سے یہ جاننے کی کوشش کرو کہ تم میں سے کس کے ساتھ کتنا حق ہے اور کتنا باطل اور اللہ کا اصلی اور بےآمیز دنی کیا ہے ؟ اللہ ربنا و ربکم الایۃ یہ تنبیہ وتحذیر ہے کہ یاد رکھو کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، وہی تمہارا بھی رب ہے۔ اسی کے آگے ہماری بھی پیشی ہونی ہے اور اسی کے حضور میں تمہاری پیشی بھی ہوگی۔ اس مغالطہ میں نہ رہتا کہ تمہارا مولیٰ و مرجع کوئی اور ہوگا اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہوں گے اور تم اپنے اعمال کے اگر ہم نے تمہیں حق پہنچا دیا تو ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہوئے، اب خدا کے سامنے تمہاری ذمہ داری ہمارے اوپر نہیں ہے بلکہ خود تمہارے اوپر ہے۔ اس کے نیک و بد کو تم خود بھگتو گے۔ سورة یونس میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ وان کذبوک فقل لی عملی ولکم عملکم انتم بریسون مما اعمل وانا بری مماتعملون (یونس :41) (اور اگر وہ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو کہہ دو کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل۔ تم بری ہو میرے عمل سے اور میں بری ہوں تمہارے اعمال سے۔) لاحجۃ بیننا وبینکم یعنی اتنی رد و قدح اور اتنی توضیح و تفصیل کے بعد بھی اگر بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی تو اب ہمارے اور تمہارے درمیان مزید طول کلام کی ضرورت نہیں رہی۔ اب معاملہ اللہ کے حوالہ ہے وہ ہم سب کو اکٹھا کر کے فصلہ کرے گا اور یاد رکھو کہ سب کاٹھکانہ اسی کی طرف ہے۔
Ayah 42:16

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کے باب میں حجت کر رہے ہیں بعد اس کے کہ اس کو مانا جا چکا ہے، ان کی حجت ان کے رب کے آگے بالکل پسپا ہے اور ان پر غضب اور ان کے لئے عذاب شدید ہے

والذین یعآجون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ حجتھم دا حضۃ عند ربھم وعلیکم غضب ولھم عذاب شدید (16) ’ محاجۃ کے معنی مجادلہ اور کٹ حجتی کرنے کے ہیں اور فی اللہ میں مضاف محدوف ہے یعنی فی توحید اللہ، اس لئے کہ جھگڑا جن سے بھی تھا اللہ کے باب میں نہیں بلکہ اس کی توحید ہی کے باب میں تھا۔ اہل کتاب تو درکنار مشرکین عرب بھی خدا کے منکر نہیں تھے۔ لیکن خدا کو شرک کے ساتھ ماننا دین میں معتبر نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ اس کی توحید کے ساتھ اس پر ایمان لایا جائے گا اگر کوئی توحید کے معاملہ میں جھگڑتا ہے تو وہ گویا خدا ہی کے باب میں جھگڑتا ہے اور اسی کی نفی کر رہا ہے۔ من بعد ما استجیب لہ کا مفہوم کم و بیش وہی ہے جو من بعد ما جآء ھم العلم کا ہے یعنی یہ جھگڑا خدا کو ماننے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب حضرت نوح ؑ سے لے کر حضرت مسیح ؑ تک تمام نبیوں کی تعلیم ایک ہی رہی ہے۔ سب نے توحید ہی کی دعوت دی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ قریش، یہود اور نصاریٰ سب کے اصل اسلاف اللہ تعالیٰ کی توحید کو مان چکے ہی۔ اب اس ماننے کے بعد اگر خدا کی وتحید میں ان امتوں کی طر سے یہ جھگڑے اٹھائے جا رہے ہیں تو یہ حجت نہیں بلکہ کٹ حجتی ہے اور یہ کٹ حجتی خدا کے آگے کام آنے والی نہیں بلکہ یہ پسپا ہو کر رہے گی۔
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے اتاری کتاب قول فیصل کے ساتھ اور میزان اتاری اور کیا پتہ شاید قیامت بھی قریب ہی آ لگی ہو !

اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان ط وما یدریک لعل الساعۃ قریب (17) قرآن میزن ہے الکتب سے مراد قرآن اور المیزان اسی کا بیان ہے۔ فرمایا کہ امتوں کے باہمی اختلاف کو رفع کرنے اور حق و باطل کو ممیز کردینے کے لئے اللہ نے قرآن اتارا ہے جو درحقیقت ایک میزان عدل ہے۔ اوپر آیت 15 میں نبی ﷺ کی زبان سے جو یہ اعلان کرایا گیا ہے کہ وقل امنت بما انزل اللہ من کتب و امرت لاعدل بینکم (اور یہ بتا دو کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں اور مجھجے یہ حکم ہوا کہ میں تمہارے درمیان فصلہ کروں) یہ وہی بات دوسرے الفاظ میں فرمائی گئی ہے ظاہر ہے کہ جبی نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مامور فرمایا کہ ملتوں کے درمیان اللہ کے دین کے بارے میں جو اختلاف ہے آپ اس کا فیصلہ کریں تو ضروری ہوا کہ آپ کو ایک ایسی کتاب بالحق عطا ہو جو میزان عدل کا کام دے اور آپ اس پر پرکھ کر بتاسکیں کہ کس کے پاس کتنا حق ہے اور کتنا باطل قرآن کی اسی خصوصیت کی وجہ سے اس کا ایک نام مھیمن بھی ہے جس کے معنی کسوٹی کے ہیں۔ یہی مضمون سورة حدید میں بھی آیا ہے۔ وانزلنا معھم الکتب والمیزان لیقوم الناس بالقسط …(25) (اور ہم نے ان رسولوں کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری کہ لوگ ٹھیک نقطہ عدل پر استوار ہوں) وما یدریک لعل الساعۃ قریب یہ فقرہ یہاں نہایت ہی جامع اور نہایت ہی بلیغ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جو اس میزان عدل کے فیصلہ کے مطابق اپنے حق و باطل میں امتیاز اور اپنے اختلافات کو رفع کرلیں گے ورنہ قیامت تو بہرحال فیصلہ کر کے رہے گی اور اس کے فصلہ سے کسی کے لئے بھی فرار کی گنجائش نہیں ہوگی اور قیامت کو بہت دور نہ سمجھو، کیا عجب کہ وہ بھی اب قریب آ لگی ہو۔ جو لوگ قرآن کی میزان عدل سے گریز کر رہے ہیں آخر قیامت کی میزان سے وہ کہاں بھاگیں گے !
Ayah 42:18

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

اس کے لئے جلدی وہ لوگ مچائے ہوئے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ترساں ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ شدنی ہے۔ آگاہ کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں

یستعجل بھا الذین لامنون بھا ج والذین امنوا مشفقون منھا لا یعلمون انھا الحق ط الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید (18) یعنی یہ لوگ قیامت کو محض ایک خیالی ڈراوا سمجھتے ہیں اس وجہ سے ان کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے بلکہ ڈھیٹ ہو کر یہ کہتے ہیں کہ اگر اس کو آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتی ؟ فرمایا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک وہ محض ایک مذاق ہے۔ مگر جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کی ہولناکی کو سمجھتے اور اس سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید یہ ان لوگوں کی محرومی پر اظہار حسرت ہے جو قیامت جیسی واضح حقیقت کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ بہت دور کی گمرایہ میں جا پڑے ہیں ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جب ان کے کھلنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ ہر ایک کے سامنے اس کا انجام موجود ہوگا جس سے کسی کے لئے بھی مفر نہیں ہو اگ۔
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے وہ رزق بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ نہایت زور آور اور غالب ہے

اللہ لطیف بعبادہ یرزق من یشآء وھو القوی العزیز 19 نافرمانوں کو ڈھیل دینے کی حکمت یہ سبب بیان فرمایا ہے اس بات کا کہ کیوں اللہ تعالیٰ نافرمانوں اور شریروں کو اتنی ڈھیل دیتا ہے کہ وہ دل یر ہو کر عذاب اور قیامت کے لئے جلدی مچانے اور اس کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔ وہ رحمت کرنے میں سبقت کرتا ہے، عذاب نازل کرنے میں جلد ہی نہیں کرتا۔ وہ نافرمانوں کی نافرمانی کے باوجود ان کو رزق دیتا رہتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر توبہ و اصلاح کرلیں اور اپنے رب کی ابدی رحمت کے سزا دار بن جائیں۔ وھو القوی العزیز اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ خدا نہایت ہی قوی و عزیز ہے۔ کسی کی تاب نہیں ہے کہ اس کی پکڑ سے بچ سکے تو جب کوئی نہ اس کی گرفت سے باہر ہے اور نہ باہر ہوسکتا تو وہ جلدی کیوں کرے ! جلدی کی ضروتر اسے پیش آتی ہے جس کو اندیشہ ہو کہ شکار اس کے قابو سے باہر نکل جائے گا۔
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

اور جو آخرت کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اس کی کھیتی میں افزونی دیتے ہیں۔ (اور دنیا میں سے بھی اس کا حصہ دیتے ہیں) او جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اس کو اس میں سے کچھ دیتے ہیں اور آحرت میں اس کے لئے کوئی حصہ نہیں

من کان یرسید حرت الاخرۃ نزدلہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدین نوتہ منھا ومالہ فی الاخرۃ من نصیب (20) یہ اسی سنت الٰہی کی مزید وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یو قاعدہ نہیں ہے کہ وہ اپنے رزق و فضل سے انہی کو نوازے جو اس کی بندگی کرنے والے ہوں بلکہ نیکو کاروں اور بدکاروں دونوں کو وہ روزی دیتا ہے البتہ جو لوگ آخرت کی کھیتی کرتے ہیں اللہ ان کی آخرت کی کھیتی میں بھی برکت دیتا ہے اور اس دنیا کے رزق و فضل میں سے بھی جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں، آخرت کی پروا انہیں نہیں ہوتی تو اللہ ان کو بھی اتنا دے دیتا ہے جتنا اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے۔ البتہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ نزدلہ فی حرثہ کے بعد نوتہ من الدین کے الفاظ بربنائے قرینہ محذوف ہیں۔ تقابل اس حذف پر دلیل ہے اس لئے کہ دوسرے ٹکڑے میں نوتہ منھا کے الفاظ موجود ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔ من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید تم جعلنا لہ جھنم یصلھا مذموماً مدحوراً ومن ارادالاخرۃ و سعی لھا سعیھا وھو مومن فاولئک کان سعیھم مشکوراً کلا نمد ھولاء وھولآء من عطاء ربک ومان کان عطآء ربک محظوراً (بنی اسرائیل 20-18) جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کو اسی دنیا میں دے دیتے ہیں جو چاہتے ہیں اور جن کے لئے چاہتے ہیں۔ پھر ہم نے ان کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ مذموم و مطر ود ہو کر داخل ہوں گے اور جو آخرت کے طالب ہوتے ہیں اور اس کے شایان شان جدوجہد کرتے ہیں اور وہ مومن بھی ہیں تو دراصل وہ ہیں جن کی سعی مشکور و مقبول ہوگی۔ تیرے رب کی بخشش سے ہم ان کی بھی مدد کرتے ہیں اور ان کی بھی اور تیرے رب کی بخشش کا دروازہ کسی پر بھی بند نہیں ہے۔
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے کچھ شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے وہ دین ٹھہرایا ہے جس کا اذن اللہ نے نہیں دیاڈ اور اگر فیصلہ کی مدت طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک ان ظالموں کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے

-4 آگے کا مضمون آیات :36-21 اوپر کے پیرے میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ تمام نبیوں اور رسولوں نے اسی دین توحید کی تعلیم دی ہے جس کی تعلیم یہ پیغمبر (محمد ﷺ دے رہے ہیں۔ اب آگے یہ واضح فرمایا جا رہا ہے کہ اگر ان مشرکین کی مزعومہ شرکاء نے ان کے لئے کوئی الگ دین ایجاد کیا ہے تو یہ دنیا خدا کے ہاں کام آنے والا نہیں ہے۔ جزائے اعمال کے دن یہ لوگ اپنی بدبختی پر اپنے سرپیٹیں گے۔ اس دن کی کامیابی صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کر کے اس دن کے لئے کچھ کمائی کرلیں گے۔ اس کے بعد مخلافین کے تین اعتراضوں کے علی الترتیب جواب دیئے ہیں۔ ایک اس اعتراض کا کہ اس جوش و گرمی کے ساتھ یہ (محمد ﷺ جو دعوت دے رہے ہیں تو اس لئے نہیں کہ ہمارے بہبود ان کو عزیز ہے بلکہ اس میں سراسر ان کی اپنی غرض پوشیدہ ہے۔ دوسرے اس کا کہ جو کلام یہ پیش کر رہے ہیں یہ ہے تو تمام تر ان کا اپنا من گھڑت لیکن اپنا رعب جمانے کے لئے یہ اس کو خدا سے منسوب کر رہے ہیں۔ تیسرے اس کا کہ اگر ہم اپنی گمراہی پر سزا کے مستحق ہیں تو ہمارے حالات ان کے اور ان کے ساتھیوں کے حالات سے بہتر کیوں ہیں اور جس عذاب سے یہ ہم کو ڈرا رہے ہیں وہ آکیوں نہیں جاتا ؟ … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ام لھم شرکوآ لھم من الدین مالم یاذن بہ اللہ ولو لاکلمۃ الفصل لقضی بینھم وان الظلمین لھم عذاب الیم (21) یہ دین شرک کہ ان سے آ نکلا ! ام یہاں استنکار واستعجاب کے مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا دین، جو اس نے اپنے تمام نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے بھجیا، وہ تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوا تو یہ نیا دنی کہاں سے آ دھمکا ! کیا ان کے کچھ شرکاء ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایک ایسا دین گھڑ دیا جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ یعنی ال لہ کی منظویر کے بد دن تو کوئی دین اللہ کا دین نہیں ہو سکتا تو یہ دین کہاں سے آیا ؟ اگر ان کے کچھ شرکاء ہیں تو اللہ کا تو کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ محض ان کا وہم ہے۔ ربولا کلمۃ الفصل لقضی بینھم یہ مضمون اوپر آیت 14 میں بھی گزر چکا ہے یہ ان کو دھمکی ہے کہ اگر اللہ نے ان کے فیصلہ کے لئے ایک وقت نہ مقرر کرلیا ہوتا تو ان کا قصہ اسی دنیا میں ابھی پاک کردیا جاتا۔ پس ان کو جو مہلت ملی ہوئی ہے اس سے مغرور نہ ہوں بلکہ اللہ کے شکر گزار ہوں کہ وہ ان کے پکڑنے میں جلدی نہیں کر ہرا ہے۔ اگر انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا تو یاد رکھیں کہ اس طرح کے ظالموں کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے۔ ظالمین سے مراد یہاں یہی مشرکین ہیں جنہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو چھوڑ کر ایک نیا دنی شرک ایجاد کیا اور اس طرح خود اپنے ہاتھوں اپنی جانور پر ظلم ڈھانے والے بنے۔