42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 42:45

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تم ان کو دیکھوے گے کہ وہ دوزخ کے سامنے اس طرح لائے جائیں گے کہ وہ ذلت سے جھکے ہوئے، کن انکھیوں سے دیکھتے ہوں گے، اور اہل ایمان کہیں گے کہ حقیقی خاسر وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے لوگوں کو خسارے میں ڈالا ! آگاہ کہ یہ ظالمین ایک دائمی عذاب میں پڑیں گے !

وترلھم یعرضون علیھا خشعین من الذل ینظرون من طرف خفی ط وقال الذین امنوا ان لاخسرین الذین خسروا انفسھم و اھلیھم یوم القیمۃ ط الا ان الظلامین فی عذاب مقیم 45 عربیت کا ایک اسلوب ’ یعرضون علیھا ‘ میں ضمیر کا مرجع وہی عذاب ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے چونکہ اس سے مراد دوزخ یا نار جہنم ہے اس وجہ سے ضمیر علی سبیل التاویل مونث آئی۔ اس طرح گویا لفظ عذاب کے اجمال کی وضاحت ہوگی۔ عربی زبان میں یہ اسلوب بہت معروف ہے۔ فرمایا کہ آج تو یہ لوگ اپنی کامیاب زندگی کے غرے میں اس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن جس دن یہ اس میں داخل کرنے کے لئے لے جائے جائیں گے تو ذلت سے اپنے سر نہوڑائے ہوئے کن انکھیوں سے اس کو دیکھ رہے ہوں گے کوئی مجرم جب مقتل کی طرف لے جایا جاتا ہے تو اس کے اندر مقتل اور جلاد کی تلوار کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کا حوصلہ نہیں ہوتا لیکن وہ کن انکھیوں سے دیکھتا ہے کہ کیا پیش آنے والا ہے۔ حقیقی خسارہ آخرت کا خسارہ ہے وقال الذین امنوا الایۃ فرمایا کہ وہاں ان کی ذلت و خواری اور تباہی کو دیکھ کر اہل ایمان پکار اٹھیں گے کہ بیشک حقیقی نامراد وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا اور ساتھ ہی اپنے اہل و عیال اور متعلقین کو بھی اپنے دبائو یا بد آموزی سے برگشتہ کر کے اس خسارے میں مبتلا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ناعاقبت اندیش لوگ تو اپنی کامیاب دنیوی زندگی کے غرے میں ہم کو دنیا میں خسارے میں سمجھتے رہے لیکن وہ کوئی خسارہ نہیں تھا۔ حقیقی خسارہ یہ قیامت کے دن کا خسارہ ہے جس میں یہ بدقسمت لوگ مبتلا ہوئے ہیں۔ الا ان الظلمین فی عذاب مقیم یہ وجہ بیان ہوئی ہے اس بات کہ کہ کیوں حقیقی خسارہ قیامت کے دن کا خسارہ ہے۔ فرمایا کہ آگاہ ہو کر سن لو ! اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ ایک ابدی عذاب میں گرفتار ہوں گے جو کسی طرح ٹالا نہ جاسکے گا … مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو دکھ ہو یا سکھ بہرحال وہ عاضری ہے لیکن آخرت کا عذاب ابدی ہے اس وجہ سے حقیقی خسارہ ان لوگوں کا خسارہ ہے جو آخرت کے خسارہ سے دوچار ہوئے۔
Ayah 42:46

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور وہاں ان کے اولیاء میں سے کوئی بھی نہیں ہوگا جو خدا کے مقابل میں ان کی کوئی مدد کرسکے اور جس کو خدا گمراہ کر دے تو پھر اس کے لئے کوئی راہ نہیں ہے

وما کان لھم من اولیآء و ینصرونھم من دون اللہ ط ومن یضلل اللہ فمالہ من سبیل ہ 46 من دون اللہ یہاں اللہ کے مقابل میں کے مفہوم میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قایمت کے دن جب یہ لوگ اللہ کے عذاب کی گرفت میں آجائیں گے تو اپنے جن شرکاء اور حمایتیوں پر ان کو بڑا ناز ہے ان میں سے کوئی بھی اللہ کے مقابل میں ان کے کچھ کام نہ آسکے گا۔ ومن یضلل اللہ فمالہ من سبیل، وہی مضمون جو اوپر آیت 44 میں گزر چکا ہے، بالفاظ کی معمولی تبدیل کے ساتھ، پھر آگیا یہ کہ ان کی شامت اعمال کے سبب سے، اللہ نے ان کو گمراہی کیلئے چھوڑ دیا اور جن کو اللہ بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے ان کو کہیں بھی راہ نہیں ملتی، نہ دنیا میں نہ آخرت میں
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

اور اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہو قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے ایک ایسا دن آدھمکے جو ٹالا نہ جاسکے گا اس دن تمہارے لئے نہ کوئی پناہ ہوگی اور نہ تم کسی چیز کو رد کرسکو گے

استجیبوا لربکم من قبل ان یاتی یوم لا مردلہ من اللہ ط مالکم من ملجاء یومئذ وما لکم من نکیر (47) من اللہ کا تعلق میرے نزدیک ان یاتی یوم سے ہے اور لامردلہ یوم کی صفت ہے۔ دعوت بطور زجر و تنبیہ یہ دعوت بطور زجر و تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اب بھی وقت باقی ہے کہ اپنے رب کی دعوت قبول کر کے اپنی عاقبت سنوار لو۔ ورنہ یاد رکھو کہ جب تمہارے رب کی طرف سے وہ دن آجائے گا جو اٹل ہے تو اس وقت تمہارا اس کو قبول کرنا اور نہ کرنا دونوں یکساں ہوگا۔ اس دن نہ تمہارے لیء کوئی پناہ ہوگی اور نہ اس دن تم کسی چیز کو رد کرسکو گے۔ جو کچھ تمہارا سامنے آئے گا بےچون و چرا اس کے آگے سر جھکا دینا پڑے گا۔ نکیر کا ترجمہ عامطور پر لوگوں نے انکار کیا لیکن اس کا صحیح مفہوم کسی ناگوار چیز کو احسان غیرت کے ساتھ دیا دفع کرنا ہے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں ہوچکی ہے۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

اگر وہ اعراض کریں تو ہم نے تم کو ان پر کوئی داروغہ نہیں مقرر کیا ہے۔ تمہارے اوپر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اور انسان کو جب ہم اپنی کسی رحمت سے نوازتے ہیں تو اس پر اترانے لگتا ہے اور اگر اس کے اعمال کی پاداش میں اس کو کوئی افتاد پیش آجائے تو وہ ناشکرا بن جاتا ہے

فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم حفیظاً ان علیک الا ابلغ وان اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ فرح بھا وان تصبھم سیئۃ بما قدمت ایدیھم فان الانسان کفرور (48) یہ خطاب نبی ﷺ سے ہے کہ اگر یہ لوگ اس دعوت پر لبیک کہتے ہیں تو فبہا، نہیں قبول کرتے تو تم ان کی مطلق پروا نہ کرو۔ ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں مامور کیا ہے کہ تم لازماً ان کو یہ دعوت قبول ہی کرا دو۔ تمہارے اوپر ذمہ داری صرف دعوت لوگوں تک پہنچا دینے کی ہے۔ بعینہ یہی مضمون پیچھے آیت 6 میں بھی گزر چکا ہے۔ اصل سبب اعراض کی طرف اشارہ وانا اذا اذقنا الانسان …الآیۃ یہ ان لوگوں کے سبب اعراض سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ تنگ ظرف اور ناشکرے لوگ ہیں۔ اس طرح کے انسانوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ جب ہم ان کو اپنی رحمت و نعمت سے نوازتے ہیں تو یہ ہمارے شکر گزار ہونے کے بجائے اتراتے اور اکڑتے ہیں اور اگر ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو ذرا کوئی افتاد پیش آجائے تو مایوس، بےصبر اور ناشکرے بن جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے یہ توقع نہ رکھو کہ یہ کبھی صحیح راہ اختیار کریں گے۔ آج نعمت و رفاہیت حاصل ہے تو اس کا غرور ان کے لئے حجاب بن گیا ہے اور اگر ذرا ہم ان کو اس عذاب کا مزہ چکھا دیں جس کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں تو مایوس ہوجائیں گے۔
Ayahs 42:49–50

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے۔ وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا بیٹے اور بیٹیاں دونوں ملا کر ان کو بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہی علم رکھنے والا اور قدرت رکھنے والا ہے

للہ ملک السموت ولارض ط یخلق مایشآء یھب لمن یشآء انثا ویھبلمن یشآء الذکورہ اویزروجھم ذکرانا وانثا ج ویجعل من یشآء عقیماً ط انہ علیم قدیر (50-49) تنک ظرفی کا باعث صحیح عقیدے سے محرومی ہے یہ اس عقیدے کا بیان ہے جس سے محروم ہونے کے باعث ان لوگوں کے اندر یہ تنک ظرفی اور ناشکری پیدا ہوئی ہے۔ اگر یہ لوگ اس حقیقت پر ایمان رکھتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ وہی جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس کو جو کچھ چاہتا ہے بخشتا ہے تو اس حالت میں مبتلا نہ ہوتے بلکہ نعمت پر اپنے رب کے شکر گزار ہوتے اور کوئی مصیبت پیش آتی تو اس پر صبر کرتے۔ یخلق مایشآء کے بعد یھب المن یشآء انثا …الآیۃ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے کہ یہ خدا ہی ہے جو جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بٹیاں دونوں ہی دیتا ہے اور جن کو چاہتا ہے بےاولاد ہی رکھتا ہے۔ وہی علم اور قدرت رکھنے الا ہے اور جو کچھ کرتا ہے اپنے علم وقدرت کے مطابق کرتا ہے، کسی دوسرے کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اس وجہ سے بندوں کا فرض یہ ہے کہ تمام معاملات میں خدا ہی پر بھروسہ رکھیں۔ نہ کبھی مغرور ہوں، نہ کبھی مایوس اور نہ کبھی اس کے سوا کسی اور سے لو لگائیں۔
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی بشر کی بھی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کی اوٹ سے یا بھیجے کسی فرشتہ کو پس وہ وحی کر دے اس کے اذن سے جو وہ چاہے وہ بڑا ہی عالی مقام، بڑا ہی حکیم ہے

10۔ آگے کا مضمون … آیات :53-51 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں اور یہ خاتمہ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ پوری سورة سے بحیثیت مجموعی بھی تعلق رکھتا ہے اور اوپر کے پیرے سے بھی اس کا نہایت واضح ربط ہے۔ قرآن کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ سورة جس مضمون سے شروع ہوتی ہے بالعموم اسی مضمون کے کسی پہلو کیوضاحت پر ختم ہوتی ہے۔ چناچہ اس سورة میں بھی دیکھ لیجیے۔ اس کا آغاز کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک … الایۃ سے ہوا تھا۔ یعنی یہ قرآن اسی طرح کی وحی ہے جس طرح کی وحی اس سے پہلے اللہ تعالیٰ دوسرے نبیوں اور رسولوں پر نازل فرما چکا ہے۔ پھر مقصد اور ذریعہ دونوں کی یکسانی کی وضاحت فرمائی اور خاتمہ اس مضمون پر کیا جس سے آغاز فرمایا تھا۔ چناچہ خاتمہ میں بھی تقریباً وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو تمہید میں آئے ہیں۔ فرمایا ہے : وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا … الایۃ یہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ پوری سورة از اول تا آخر ایک وحدت ہے۔ اوپر کے پیرے سے اس کا تعلق یہ ہے کہ اس کا خاتمہ مخلافین کے سبب اعراض کے بیان پر ہوا ہے۔ ان کے اعراض کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہ کہتے کہ اگر محمد ﷺ کا دعویٰ یہ ہے کہ ال لہ ان پر اپنا کلام نازل کرتا ہے تو آخر وہ ہم سے کیوں کلام نہیں کرتا ؟ ان کے اس اعتراض کا جواب ان آیات میں دیا اور آیات کی تفسیر سے واضح ہوجائے گا کہ یہ جواب نہایں جامع و مانع اور مسکت ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت وما کان لبشر ان یکملہ اللہ الاوحیا اومن ورآی حجاب اویرسل رسولا فیوحی باذنہ مایشآء انہ علی حکیم 51 آنحضرت صلعم کے مخالین کے ایک اعتراض کا جواب یہ جواب ہے مخالفین کے اس اعتراض یا مطالبہ کا جو قرآن میں جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے نقل ہوا ہے کہ لولا یکلمنا اللہ اگر اللہ ان سے (پیغمبر سے) بات کرتا ہے، جیسا کہ یہ دعویٰ کرتے ہیں تو آخر وہ ہم سے رو در رو ہو کر بات کیوں نہیں کرتا ؟ آخر ان کے ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ ان کو تو وہ اپنے شرف خطاب سے نوازتا ہے اور ہم کو لائق التاف نہیں سمجھتا حالانکہ ہم عزت و وجاہت میں ان سے کہیں بڑھ کر ہیں ! اس کے جواب میں فرمایا کہ کسی انسان کا یہ درجہ و مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے رو برو ہو کر بات کرے۔ وہ بات کرتا ہے تو وحی کے ذریعہ سے بات کرتا ہے، یا پردے کی آڑ سے بات کرتا ہے یا اپنا کوئی اقصد یعنی فرشتہ بھیج دیتا ہے جو اس کے اذن سے، جو کچھ وہ چاہتا ہے، اس کے کسی بندے کی طرف، جس کو وہ اپنے خطاب و کلام کے لئے منتخب فرماتا ہے، وحی کردیتا ہے۔ وما کان لبشر سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ خدا سے بالمشافہ کلام میں جو چیز مانع ہے وہ درحقیقت انسان کا اپنا ضعف اور اس کی اپنی نا اہلیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی عالی مقام، ایسی باعظمت اور ایسے انوار و تجلیات کا مظہر ہے کہ کوئی بشر اس سے رو درو ہونے کی تاب نہیں لا سکتا۔ حضرت موسیٰ ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر کی نسبت قرآن میں مذکور ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی خاہش کی تو ان کو جو ابملا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ میری تجلی کی تاب پہاڑ بھی نہیں لا سکتے تو تم اس کا تحمل کس طرح کرسکو گے۔ الا وحیا او من ورآءی حجاب او یرسل رسولاً فیوحی بلذنہ ما یشآء یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اگر کسی سے خطاب کرتا ہے تو تین طریقوں سے خطاب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خطاب کی مختل شکلیں ایک طریقہ وحی کا ہے وحی سے مراد دل میں بات ڈال دینے کے ہیں۔ اسی کو احادیث میں القاء فی الروع یا نفث فی الروع سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کے دل پر اپنا کلام القاء فرما دیتا ہے اور پیغمبر اس کو محفوظ کرلیتا ہے۔ الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ چیز مجر و فکر یا خیال کی شکل میں نہیں بلکہ کلام کی شکل میں نازل ہوتی ہے جس کو نبی سنتا بھی ہے سمجھتا بھی ہے اور اس کو محفوظ بھی کرلیتا ہے۔ یہاں یہ بات خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نبیوں سے اپنے کلام کا طریقہ بتایا ہے اس وجہ سے ہمارے نزدیک ان لوگوں کا خیال صحیح نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ وحی مجرد فکر کی شکل میں دل پر القاء ہوتی ہے جس کو الفاظ کا جامہ پیغمبر پہناتا ہے۔ او من ورآءی حجاب دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ پردے کی اوٹ سے بات کرتا ہے۔ یعنی نبی اللہ کا کلام اور اس کی آواز تو سنتا ہے لیکن اس کو دیکھتا نہیں۔ اس کی مثال حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ اللہ کا کلام و خطاب ہے۔ تورات اور قرآن دونوں میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے بات کی لیکن اس کو دیکھا نہیں اور قرآن میں یہ تصریح بھی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے سوا اور کسی نبی سے اللہ تعالیٰ نے اس طرح کلام نہیں کیا۔ یہ شرف صرف حضرت موسیٰ ؑ ہی کو حاصل ہوا۔ او یرسل رسولا فیوحی باذنہ مایشآء تیسرا طریقہ یہ یکہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئی رسول یعنی فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے پیغمبر کے دل پر القاء کردیتا ہے، مثلاً سورة بقرہ میں ہے۔ قل من کان عدوالجبریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ (97) کہہ دو کہ جو جبرئیل کا دشمن ہے وہ اس بات کو یاد رکھے کہ جبریل نے اس قرآن کو تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے۔ یہی بات سورة نحل میں یوں ارشاد ہوئی ہے۔ قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق (النحل :102) کہہ دو اس قرآن کو روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے اتارا ہے۔ نض کے کلام و خطاب کے یہ تین طریقے ہیں۔ ان میں سے دو طریقے، جو اوپر مذکور ہوئے، اس اعتبار سے ایک مخصوص نوعیت کے حامل ہیں کہ ان میں کلام بلاواسطہ نبی پر نازل ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور نبی کے درمیان جبریل امین کا واسطہ نہیں ہوتا اور تیسرے میں جبریل امین واسطہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے دو طریقے … پہال اور تیسرا … معروف طریقے ہیں دوسرا طریقہ حضرت موسیٰ ؑ کے مخصوصات میں سے ہے کسی اور نبی کے متعلق، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ چیز مذکور نہیں ہے۔ اگر الاقدم فالاقدم کے اصول کو سامنے رکھیے تو یہ بات بھی نکلتی ہے کہ پہلے طریقہ کو متربہ کے لحاظ سے اولیت حاصل ہے۔ یہاں صرف تین طریقے مذکور ہوئے ہیں اس لئے کہ جس سوال کو پیش نظر رکھ کر یہ آیت وارد ہوئی ہے اس کا جواب انہی تین صورتوں کے ذکر کا مقتضی تھا لیکن قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تین طریقوں کے علاوہ دو اور طریقے بھی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اپنے بعض ارادوں سے آگاہ فرماتا ہے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ فرشتہ بشری شکل میں ممثل ہو کر ظاہر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیتا ہے۔ اس کی مثال حضرت ابراہیم حضرت لوط اور حضرت مریم کے ان واقعات میں موجود ہے جو قرآن میں تفصیل سے مذکور ہوئے ہیں۔ دوسرا طریقہ رئویا کا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو جو کچھ مطلوب ہوتا ہے وہ رئویا میں امر فرما دیتا یا مشاہدہ کر ا دیتا ہے۔ مثلاً حضرت ابراہیم ؑ کو بیٹے کی قربنی کا حکم رئویا میں ہوا۔ غزوہ بدر سے متعلق آنحضرت ﷺ کو بہت سے واقعات رئویا میں مشاہدہ کر ئاے گئے۔ ایک نہایت اہم رئویا کا ذکر سورة نبی اسرائیل میں بھی گزر چکا ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام و خطاب اور ایماء و اشارہ کے پانچ طریقے ہیں اور ہمارے نبی ﷺ براہ راست کلام کے سوا جو حضرت موسیٰ ؑ کے مخصوصات میں سے ہے، ان میں سے ہر طریقہ سے مشرف ہوئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت موسیٰ کو بھی یہ شرف صرف ایک آدھ بار ہی حاصل ہوا باقی تورات اسی طرح کی وحی ہے جس طرح کی وحی دوسرے صحیفے ہیں۔ انہ علی حلیم یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفتوں کا حوالہ دیا ہے۔ ایک اس کی عظمت، رفعت اور بالاتری کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسری اس کی حکمت اور اس حکمت کے لوازم رحمت، عدل اور ہدایت خلق … کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ان دونوں کو جمع کرنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی بلند وبالا ہے کہ نہ اس کو کسی سے کلام کی ضرورت ہے اور نہ کوئی یہ درجہ و مرتبہ رکھتا ہے کہ اس سے ہم کلام ہو سکتے لیکن اس عظمت و رفعت کے ساتھ وہ حکیم، عادل اور رحیم بھی ہے اس وجہ سے وہ خلق کی رہنمائی اور اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے ان کو اپنے خطاب و کلام سے بھی نوازتا ہے اور اس کے لئے اس نے وہ طریقے اختیار فمائے جو اپور مذکور ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے آگے بڑھ کر جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ خدا ان میں سے ہر ایک سے رو و رو و ہو کر بات کرے تو اس قسم کے لوگ نہ خدا کی عظمت سے آگاہ ہیں، نہ اپنی بےحقیقتی سے ! ! ایسے احمق لوگ اپنی اس رعونت ہی کے ہاتھوں ہلاک ہوں گے۔
Ayahs 42:52–53

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی وحی کی ہے ایک روح اپنے امر میں سے نہ تم یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے لیکن ہم نے اس کو ایک نور بنایا جس سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہت ہیں اور بیشک تم ایک سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کر رہے ہو۔

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

اس اللہ کے راستہ کی طرف جس کا ہی وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ آگاہ ! سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

وکذلک اوحینا الیک روحاً من امرنا ط ماکنت تدری مالکتب ولا الایمان ولکن جعلنہ نوراً انھدی بہ من نشآء من عبادنا وانک لتھدی الی صراط مستقیم، صراط اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض الا الی اللہ تصیراً الامور (53-52) وحی کی تعبیر روح سے یہ خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے کہ اسی معروف طریقہ وحی کے مطابق ہم نے تمہاری طرف بھی ایک روح اتاری ہے۔ روح سے مراد وحی ہے۔ وحی کو روح سے تعبیر کر کے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ یہ تمہارے لئے بھی حقیقی زندگی کا ذریعہ ہے اور ان لوگوں کے لئے بھی جو اس کو اپنا لیں۔ تمام آسمانی صحیفوں میں اللہ کے کلام والہام کے لئے یہ تعبیر موجود ہے اس لئے کہ بندوں کو حقیقی زندگی، جیسا کہ حضرت مسیح ؑ کا اشراد ہے، روٹی سے نہیں حاصل ہوتی بلکہ اس کلام والہام سے حاصل ہوتی ہے جو خدا کی طر سے آتا ہے۔ من امرنا اس روح کی صفت کے طور پر، دفع دخل مقدر کے لئے آیا ہے۔ یعنی یہ روح اللہ تعالیٰ کے امور غیب میں سے ہے۔ اس کی حقیقت وماہیت اللہ تعالیٰ جانتا ہے یا وہ رسول جانتا ہے جس کو اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ ہر شخص اس کی حقیقت و کیفیت کا اندازہ نہیں کرسکتا۔ اس وجہ سے نہ تو ہر شخص کو اس کیفیت معلوم کرنے کے درپے ہونا چاہئے اور نہ اس بنیاد پر کسی عاقل کو اس کا انکار کرنا چاہئے کہ وہ اپنے اندر اس قسم کی کوئی چیز محسوس نہیں کرتا۔ جو شخص درد جگر کی لذت سے آشنا نہیں ہے اس کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ درد جگر کے وجود ہی سے انکار کر دے۔ یہ مضمون سورة نبی اسرائیل میں بھی گزر چکا ہے۔ ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الاقلیلاً (بنی اسرآئیل :85) اور یہ لوگ تم سے روح (وحی) کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ ان کو بتا دو کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تم کو تھوڑا ہی علم دیا گیا ہے۔ یہ چیز یہاں ملحوظ رہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے جب اپنی قوموں کے سامنے اس امر کا اظہار فرمایا کہ ان کے اوپر ان کے رب کی جانب سے ایک روح نازل ہوتی ہے تو نادانوں نے ان کا مذاق اڑایا کہ یہ روح کیا چیز ہے ؟ آخر اس طرح کی کوئی چیز ہم اپنے اندر کیوں نہیں محسوس کرتے اسی سوال کا جواب سورة بنی اسرائیل کی مذکورہ بالا آیت میں دیا گیا ہے اور اسی جواب کی طرف اشارہ کرنے کے لئے یہاں روحاً کے ساتھ من امرنا کے الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال ہو تو اس کو اثنائے کلام ہی میں جواب مل جائے۔ اس امر کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے جس پر انشاء اللہ ہم سورة دخان کی آیات 5-4 کے تحت اور سورة قدر میں بحث کریں گے۔ ماکنت تدری ما الکتب والا الایمان ولکن جعلنہ نوراً نھدی بہ من نشآء من عبادنا، یہ اس روح کا فیضان بیان ہوا ہے کہ یہ اسی کی حیات بخشی ہے کہ تم پہلے کتاب و ایمان سے نا آشنا تھے، لیکن اس وحی کے نور سے اللہ نے تمہارے سینہ کو اس طرح جگمگا دیا کہ تم اس خلق کے اندر ایک چلتے پھرتے منارہ نور بن گئے اور اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس نور سے راہ یاب کر رہا ہے جن کو چاہتا ہے، یعنی جن کے اندر اس نور سے اکتساب کی صلاحیت پاتا ہے۔ اللہ ان کو اس سے بہرہ ور فرماتا ہے اس لئے کہ اللہ ہر چاہنا اس کی حکمت اور اس کے عدل پر مبنی ہوتا ہے۔ یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ جس طرح منصب نبوت کا اہل ہر شخص نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے انہی کو منتخب فرماتا ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں اسی طرح اس نور کے حامل بھی وہی ہوتے ہیں جن کے اندر اس کی صلاحیت ہوتی ہے۔ گویا اس میں ان لوگوں کا جواب بھی ہے جو کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی کو (محمد ﷺ کو ہمارے اندر سے نبوت اور اپنے کلام و خطاب کے لئے کیوں منتخب فرمایا، ہمارے اوپر اس کی نظر کیوں نہ پڑی ؟ اور آنحضرت ﷺ کو یہ تسلی بھی ہے کہ تم جو روشنی دکھا رہے ہو اس سے ہر شخص بہرہ یاب نہیں ہو سکتا، اس سے بہرہ یاب وہی ہوں گے جو اس کے اہل ٹھہریں گے، جو اس کے اہل نہیں ہیں ان کو یہ روشنی راہ دکھانے کے بجائے خیرہ کر کے چھوڑ دے گی۔ کتاب اور ایمان میں نسبت قالب اور روح کی ہے یہاں یہ امر محلوظ رہے کہ کتاب اور ایمان میں وہی نسبت ہے جو نسبت قالب اور روح میں ہے۔ کتاب تمام تر ایمان کا مظہر اور بروز ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ کتاب درحقیقت ایمان کے مقتضیات کا بیان ہے اس وجہ سے دونوں میں جسم و جان کا رباطہ ہے جہاں تک کتاب کا تعلق ہے اس سے تو نبی ﷺ نا آشنا تھے اس لئے کہ آپ امی تھے لیکن ایمان سے انا آشنائی کی جو نفی کی گئی ہے۔ یہ اس کی تفصیلات اور مقتضیات کے اعتبار سے ہے۔ یعنی آپ ایمان کے تمام لوازم و مقتضیات سے نا آشنا تھے ورنہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) تو وحی سے پہلے بھی اپنی فطرت سلیم کی روشنی سے بہرہ ور ہوتے ہیں اس وجہ سے اجمالی ایمان ان کے اندر موجود ہوتا ہے جو وحی کی روشنی سے جگمگا کر آفتاب کی طرح ایک عالم کو منور کردیتا ہے۔ فطرت کی روشنی اور وحی کی روشنی میں نسبت چونکہ ذرہ اور آفاتب کی ہے اس وجہ سے اس کے مقابل میں اس کی نفی کی گئی ہے لیکن ہے وہ اسی آفاتب تاباں کا ایک ذرہ اور وہی لوگ نور نبوت سے اکتسا بھی کرتے ہیں جو اس ذرہ کی حفاظت کرتے ہیں۔ جو لوگ اپنے آپ کو اس سے محروم کرلیتے ہیں وہ نبی کے انوار سے محروم ہی رہتے ہیں۔ اساتذ امام یہاں ایمان سے حکمت مراد لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایمان، قول عمل اور حال تینوں کا مجموعہ ہے اور یہی حقیقت حکمت کی بھی ہے اس وجہ سے یہ جو فرمایا کہ تم کتاب اور ایمان سے نا آشنا تھے تو دوسرے الفاظ میں گویا یہ فرمایا کہ تم کتاب اور حکتم سے نا آشنا تھے۔ گویا ایمان کے لفظ سے یہاں حکمت کی فسیر فرما دی گئی۔ وانک لتھدی الی صراط مستقیم …الایۃ یہ اس نور کی برکت خلق کے اعتبار سے بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نور سے تم کو جو فیض یاب کیا تو تم جو ایک امی تھے اب لوگوں کی رہنمائی اس اللہ کی سیدھی راہ کی طرف کر رہے ہو جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ لوگوں کو اگر عاقبت کی فلاح مطلوب ہے تو چاہے کہ تمہاری رہنمائی کی قدر کریں۔ الا الی اللہ تصیر الامور، یہ آخر میں لوگوں کو تنبیہ ہے کہ اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ جس خدا کا سب کھ ہے اس کی طرف سارے معاملات لوٹیں گے بھی اس وجہ سے اس کے آگے پیشی اور جواب دہی کے لئے تیار رہو۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین رحمان آباد 12 دسمبر 1975 ء