Ayah 42:22تری الظلمین مشفقین مما کسبوا و ھو واقع بھم والذین امنوا و عملوا الصلحت فی روضت الجنت۔ لھم ما یشآئون عند ربھم ذلک ھو الفضل الکبیر (22)
آخرت میں آدمی کو اپنے اعمال سے سابقہ پیش آئے گا
یعنی آج تو یہ مشرکین اپنے مزعومہ شرکاء کے بل پر آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں سمجھتے ہیں کہ اگر آخرت ہوئی تو ان کے شرکاء ان کی مدد کریں گے، انہیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن جب قیامت آجائے گی اور یہ دیکھیں گے کہ یہاں کوئی کسی کا شریک و شفیع نہیں ہے بلکہ ہر ایک کا واسطہ اس کے اعمال سے پڑنے والا ہے تو وہ اپنے اعمال کے وبال سے لرزاں ہوں گے لیکن ان کا یہ لرزاں وترساں ہونا بالکل بےسود ہوگا۔ ان کے اعمال کا وبال لازمًا ان کے سر پر پڑے گا اور کسی تدبیر سے بھی وہ اس کو دفع نہ کرسکیں گے۔
والذین امنوا البتہ جنہوں نے دیویوں دیوتائوں پر اعتماد کرنے کے بجائے ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاری ہوگی وہ جنتوں کے باغیچوں میں براجمان ہوں گے۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔
روضات الجنات میں روضات سے مراد وہ ضمنی باغیچے اور لان ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وسیع جنت میں اہل جنت کی تفریح اور سیر کے لئے بنے ہوں گے۔ روضات بھی ایک سے زیادہ ہوں گے اور جنتیں بھی ایک سے زیادہ ہوں گی اس وجہ سے دونوں جمع کی صورت میں آئے ہیں۔
ذلک ھو الفضل الکبیر اس ٹکڑے کا صحیح زور سمجھنے کے لئے اوپر آیت 20 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
وہاں فرمایا ہے کہ اس دنیا کے طالب انہی خزف ریزوں کو بہت بڑی چیز سمجھتے ہیں جو ان کے آگے ڈال دیے گئے ہیں حالانکہ اصلی فضل، جس کا لوگوں کو طالب ہونا چاہئے، یہ ہے جو اللہ یقامت کے دن اپنے باایمان بندوں پر فرمائے گا۔
Ayah 42:23ذلک الذی یبشر اللہ عبادۃ الذین امنوا وعملوا الصلحت قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسناً ط ان اللہ غفور شکور (23)
یہ اس فضل عظیم کی عظمت وضاح فرمائی ہے کہ اللہ اپنے باایمان بندوں کو ایک ابدی بادشاہی کی بشارت دے رہا ہے تو وہ اس کے لئے جدوجہد کریں اور ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑیں جو اسی دنیا کے خوف ریزوں پر ریجھے ہوئے ہیں۔
قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا المودۃ فی الرقبی یہاں استثناء میرے نزدیک مقنطع اور قربی مصدر کے مفہوم میں ہے جس طرح زلفی اور بشریٰ وغیرہ اس وزن کے دوسرے الفاظ ہیں۔
قریش کے لیڈروں کو آگاہی
مطلب یہ ہے کہ قریش کے ان برخود غلط لیڈروں کو آگاہ کردو کہ تمہاری تمام ناقدریوں، بےزاریوں اور دل آزایوں کے باوجود میں اس طرح جو اپنے رات دن تمہارے پیچھے ایک کئے ہوئے ہوں تو یہ نہ سمجھو کہ اس میں میری کوئی ذاتی غرض پوشیدہ ہے جس کے لئے خدا کی طرف سے اس فضل عظیم کی بشارت ہے جس کا اوپر ذکر ہوا وہ بھلا تم سے کسی صلہ و معاوضہ کا طالب کیا ہو گا چ میری یہ ساری سرگرمیاں اور بےقراریاں اس وجہ سے ہیں کہ میں اس حق قربت و قرابت سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں جو تمہارے اور میرے مابین ہے۔ تم میرے خاندان اور میری قوم کے لوگ ہوا اس وجہ سے مجھ پر یہ حق ہے کہ جو ہدایت اور آگاہی خدا کی طرف سے میں لے کر آیا ہوں اس سے سب سے پہلے تم کو آگاہ کروں اور جس رحمت کی منادی کر رہا ہوں اس میں سب سے پہلے تمہیں شریک کرنے کی کوشش کروں۔
حضرات انبیاء کی ایک صفت
یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ حضرت انبیاء (علیہم السلام) کی ہمیشہ سے یہ سنت رہی ہے کہ انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے خاندان اور قبیلہ کے لوگوں سے کیا اور جب تک ان سے وہ مایوس نہیں ہوگئے ہیں اس وقت تک انہوں نے دوسروں کی طر توجہ نہیں کی ہے۔ اسی سنت کے مطابق نبی ﷺ کو بھی اول اول یہ ہدایت ہوئی کہ وانذر عشیر تک الاقربین (الشعراء :214) (تم اپنے قریبی خاندان والوں کو آگاہ کرو) آپ کے یہ قریبی قریش تھے جن کو پورے عرب کی دینی و سیاسی پیشوائی حاصل تھی۔ آپ نے سب سے پہلے ان کو انذار کیا اور ان کی تمام تعدیوں کے باوجود اس وقت تک آپ اس کام میں لگے رہے جب تک انہوں نے اپنی ہٹ دھرمی سے مایوس نہیں کردیا بالاخر جب نوبت ہیاں تک پہنچ گئی کہ آپ کے قتل و اخراج کے مشورے ہونے لگے تب آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ کو ہجرت فرمائی۔
استاذ اتہم کا نقطہ نظر
اساتذ امام اس آیت کو ذرا مختلف زاویہ سے دیکھتے ہیں وہ اس استثناء کو استدراک کے مفہوم میں لیتے ہیں اور آیت کی تاویل سورة سبا کی آیت 47: قل ما سالتکم من اجر فھو لکم ط ان اجری الا علی اللہ (کہہ دو کہ میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو تمہارے ہی لئے مانگا ہے۔ میرا اجر تو اللہ ہی کے ذمہ ہے) کی روشنی میں کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ میں جو تمہیں صلہ رحم، ادائے حقوق اور انفاق کی دعوت دیتا ہوں تو یہ نہ سرمجھو کہ یہ میں کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر کر رہا ہوں بلکہ یہ تمہاری ہی دنیا اور آخرت کی بہبود کے لئے ہے۔ یہ مال تمہارے اغنیاء سے لے کر تمہارے ہی غرباء میں تقسیم کردیا جائے گا اور اس طرح میں تمہیں مودت فی القربیٰ کی راہ دکھا رہا ہوں۔ اس میں میرا کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے۔
یہ امر یہاں ملوظ ہے کہ نبی ﷺ نے اموال زکواۃ سے اپنے اور اپنے اقرباء کے لئے کسی قسم کا استفادہ جائز نہیں رکھا تھا تاکہ اس طرح کی بدگمانی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔
ان دونوں تاویلوں میں زیادہ بعد نہیں ہے اس لئے کو انقطاع اور استدراک دونوں ایک ہی نوع کی چیز ہے۔ تاہم دونوں میں کچھ فرق ہے۔ مجھے اگرچہ اپنی تاویل پر زیادہ اطمینان ہے تاہم میں مولانا کی تاویل کو غلط نہیں کہتا۔
مئولف کا نقطہ نظر
میرے نزدیک آیت کی صحیح تاویل یہی ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ عام طور پر لوگوں نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ میں تم سے کوئی اجر تو نہیں مانگتا، پس یہ چاہتا ہوں کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت ہے اس کی بنا پر میرے ساتھ حسن معشارت کا برتائو رکھو۔ اس تاویل میں جو ضعف ہے وہ بالکل ظاہر ہے حسن معاشرت کا سوال بھی ایک اجر ہی کا سوال ہے اور سورة شعراء میں تمام انبیاء … نوح، ہود، صالح، لوط، شعیب (علیہم السلام) … کی زبان سے بالاتفاق منقول ہے کہ ما اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین (میں تم سے اس چیز پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میر اجر تو بس خداوند عالم کے ذمہ ہے) کسی نبی نے بھی اپنی دعوت کے صلہ میں اپنی قوم سے اپنے ساتھ حسن معاشرت کی اپیل نہیں کی اس لئے کہ سارا جھگڑا تو دعوت ہی کی بنا پر تھا تو جب نبی کے لئے اس میں کوئی مداہنت برتنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی تو مخالفوں سے حسن معاشرت کی اپیل کرنے کے کیا معنی ! قریش کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ جو عناد تھا وہ محض آپ کی دعوت کی بنا پر تھا۔ وہ آپ کی ہر خواہش پوری کرتے اور آپ کا ہور حکم بجا لانے کو تیار تھے بشرطیکہ آپ اپنی دعوت توحید سے باز آجائیں لیکن آپ نے صا صاف فرما دیا کہ میں اس دعوت سے باز نہیں آسکتا۔ اس کے بعد جب قریش کا رویہ مزید سخت ہوا تو آپ نے ان سے حسن معاشرت کی درخواست کرنے کے بجائے ان کو صاف الفاظ میں آگاہ کردیا کہ تمہیں جو کچھ کرنا ہے کہ گزرو، مجھے اگر احد کے برابر بھی سونا دے دیاج ائے جب بھی میں اپنی دعوت سے باز آنے والا نہیں ہوں۔
بعض گمراہ فرقوں نے اس کے یہ معنی لیے ہیں کہ میں اس دوت پر تم سے بس یہ اجر مانگتا ہوں کہ میرے اقرباء کے ساتھ محبت کرو۔ یہ تاویل آیت کے الفاظ، دوسرے نصوص اور عقل کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن صحیح تاویل واضح ہوجانے کے بعد اس کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ جن لوگوں نے یہ تاویل کی ہے انہیں شاید یہ بات بھی یاد نہیں رہی کہ یہ آیت مکی دور کی ہے جب آپ کے خاص اقرباء میں اکثر آپ کے جانی دشمن تھے، ان کے لئے لوگوں سے محبت کی اپیل کرنے کے کیا معنی !
قریش کو ایک اور تنبیہ
ومن ……نزدلہ فیھا حسناً ط ان اللہ غفور شکور“ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو یہ بھی بتا دو کہ تمہاری نیکی اور پرہیز گاری سے اللہ کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے کہ تم نے اس کی بندگی نہ کی تو اس کی خدائی میں کوئی رخنہ پیدا ہوجائے گا بلکہ اس میں سراسر تمہارا ہی نفع ہے اس لئے کہ تم جو چھوٹی بڑی نیکی بھی کرو گے اس میں اللہ افزونی اور بڑھوتری دے گا اور اس کا صلہ تم ایک ابدی بادشاہی کی شکل میں پائو گے۔ اللہ بڑا بخشنے والا اور لوگوں کی نیکیوں کی بڑی قدر افزائی فرمانے والا ہے۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی نظر انداز نہیں کرے گا بلکہ اس کی پرورش کر کے اس کو بڑھائے گا اور ایک اجر عظیم کی صورت میں اس کو اپنے بندے کو عطا فرمائے گا۔
Ayah 42:24ام یقولون افتری علی اللہ کذباً فان یشاء اللہ یختم علی قلبک دویمح اللہ الباطل و یحق الحق بکلمتہ ط انہ علیم بذات الصدور (24)
ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار
یعنی اگر اس میزان عدل (قرآن) کے خلاف انہوں نے یہ فتنہ اٹھایا ہے کہ یہ ہے تو تمہاری ایجاد لیکن محض لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے تم نے اس کو جھوٹ موٹ اللہ سے نسبت دے رکھی ہے تو تمہارے اطمینان کے لئے یہ چیز بس کرتی ہے کہ نہ تم نے اپنی خواہش سے یہ چیز پائی ہے اور نہ اپنی خاہش سے اس کو پا سکتے ہو بلکہ خدا ہی نے اس چشمہ فیض کو تمہارے اندر جاری کیا ہے اور وہ جب بھی چاہے اس کو روک سکتا ہے۔ یہی مضمون سورة نبی اسرائیل میں یوں گزر چکا ہے۔
ولئن شئنا لنذھبن بالذین اوحینا الیک تم تاجد لک بہ علینا وکیلا الا رحمۃ من ربک ان فضلہ کان علیک کبیراً (بنی اسرآئیل 87-86)
اور اگر ہم چاہیں تو اس کو سلب کرلیں جو ہم نے تمہاری طرف وعی کی ہے۔ پھر تم کسی کو ہمارے مقابل میں، اس کو واپس دلانے کے لئے وکیل نہ بنا سکوں۔ یہ محض تمہارے رب کا تمہارے اوپر ایک فضل ہے بیشک اس کا فضل تمہارے اوپر بہت بڑا ہے۔
ویمح اللہ الباطل ویحق الحق بکلمتہ وائو، حالیہ ہے اور یمح کا عطف یختم پر نہیں ہے بلکہ یہ اگل جملہ ہے۔ یہ دراصل یمحو ہے لیکن مصاحف کے رسم الخط میں اس طرح کی وائو، بعض جگہ ساقط کردی گئی ہے، مثلاً یدع الانسان، یا سندع الزبانیۃ وغیرہ
مذکورہ حقیقت کا ایک اور پہلو
یہ اسی اوپر والی بات کا دوسرا پہلو ہے کہ جو لوگ اس قرآن کو افتراء قرار دیتے ہیں کیا وہ اس کے اثر کو نہیں دیکھتے کہ اللہ اپنے ان کلمات کے ذریعہ سے باطل کو مٹا اور حق کا اثبات کر رہا ہے۔ افترا ہمیشہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور شیطان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ باطل کو مٹائے اور حق کو اجاگر کرے بلکہ اس کا کام اس کے بالکل برعکس ہے۔ ذرا مختلف الفاظ میں یہی بات سیدنا مسیح سے ان لوگوں کے جواب میں منقول ہوئی ہے جو آپ پر یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ بدروحوں کو بدرحوں کے سردار بعلز بول کی مدد سے نکالتے ہیں۔ آپ نے ان معترضین کو یہ جواب دیا کہ اگر میں نے شیطانوں کو شیطان ہی کی مدد سے نکالا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ شیطان خود ہی اپنا دشمن بن گیا۔ یہی بات یہاں ارشاد ہوئی کہ اگر یہ کلام افتراء اور اس کا پیش کرنے والا مفرتی ہے تو اس کا اثر احقاق حق اور ابطال باطل کی صورت میں نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس نکلنا تھا۔ دنیا میں کس مفتری نے اس طرح کا فیض بخش اور ارواح و قلوب کو منور کرنے والا کلام پیش کیا ہے جس طرح کا کلام یہ قرآن ہے !
مخالفین کو تنبیہ
انہ علیم بذات الصدور یہ ان کو تنبیہ ہے جو قرآن کو افتراء اور آنحضرت ﷺ کو مفتری قرار دے رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے یہ فتنہ اٹھایا تھا وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ نہ قرآن افتراء ہے اور نہ اس کا پیش کرنے والا مفتری ہے۔ ان کو قرآن کی جلالت کا بھی اچھی طرح اندازہ تھا اور آنحضرت ﷺ کی اخلاقی عظمت کا بھی۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ قرآن حق ہے اور اس کا پیش کرنے والا ایک بےداغ کردار کا انسان ہے لیکن چونکہ وہ قرآن کو اللہ کی کتاب اور آنحضرت ﷺ کا رسول ماننے کے لئے تیار نہیں تھے اس وجہ سے اپنے دل کی آواز کے بالکل خلاف اس طرح کی باتیں گھڑتے اور پھیلاتے تھے۔ ان کی اسی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دھمکی دی کہ خدا تمہارے دلوں کے بھیدوں سے اچھی طرح واقف ہے کہ تمہارے دلوں کے اندر کیا ہے اور زبانوں سے تم کیا کہہ رہے ہو !
Ayah 42:25توبہ اور اصلاح کی ترغیب
وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعصوا عن السیات ویعلم ماتفعلون (25)
توبہ اور اصلاح کی ترغیب
یہ ان لوگوں کو توبہ اور اصلاح کی ترغیب ہے کہ اب بھی موقع بای ہے کہ تم چاہو تو توبہ و اصلاح کر کے اپنے کو خدا کے غضب سے بچا سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی مہربان اور اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر فرمانے والا ہے۔ ورنہ یادرکھو کہ جو تم کر رہے ہو اس سے وہ اچھی طرح واقف ہے۔ اپنا کوئی جرم بھی اس سے چھپا نہ سکو گے۔
Ayah 42:26ویستجیب الذین امنوا و عملوا الصلحت ویزید ھم من فضلہ ط والکفرون لھم عذاب شدید (26)
یہ اہل ایمان کی روش اور ان کے انجام کو انکے سامنے رکھا ہے کہ جس طرح انہوں نے اس دعوت پر لبیک کہنے کی توفیق پائی اور اس کے صلہ میں ان پر دنیا و آخرت میں مزید افضال ہوں گے اسی طرح یہ لوگ بھی چاہیں تو ان افضال کے سزا دار بن سکتے ہیں ورنہ یاد رکھیں کہ کفار کے لئے خدا کے ہاں سخت عذاب ہے الذین امنوا یہاں میرے نزدیک مفعول کے محل میں نہیں بلکہ فاعل کے محل میں ہے۔ دوسری جگہ فرمایا : انما یستجیب الذین یسمعون ط والموتی یبعثھم اللہ (الانعام :36) (قبول تو وہی کریں گے جو بات گوش دل سے سنتے ہیں۔ رہے مردہ دل تو اللہ ان کو اٹھائے گا …)
Ayah 42:27ولولابسط اللہ الرزق بعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشآء انہ بعبادہ خبیر بصیر (27)
ایک مغالطہ کی اصلاح
یعنی یہ لوگ اگر اپنی دنیا کی دولت اور ثروت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھے بیٹھے ہیں اور اس غرے میں پیغمبر ﷺ اور اس کے غریب ساتھیوں کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں تو یہ محض ان کی خود فریبی ہے۔ دنیا کی دولت و ثروت کسی کے برحق ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ یہ چیز محض امتحان کے لئے ہے اور اللہ اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق کا فرو مومن دونوں کو یہ دیتا ہے اور دونوں کا امتحان کرتا ہے۔ یہ چیز تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ بندوں کے حالات و مصالح سے اچھی طرح باخبر ہے اس وجہ سے اپنی حکمت و مصلحت کے تحت جس کے لئے چاہتا ہے اس کو تنگ کرتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور اس طرح ان کے صبریا شکر کا امتحان کرتا ہے۔ وہ چاہتا تو اس کے دروازے سب کے لئے نہایت کشادہ کردیتا کہ لوگ جتنا چاہیں اس میں سمیٹ لیں لیکن یہ چیز ان لوگوں کے لئے بہت بڑا فتنہ بن جاتی، لوگ اس کے نشہ میں سرکشی و بغاوت کے راستہ پر چل پڑتے۔ اس فتنہ سے لوگوں کو بچانے کے لئے اللہ نے یہ معاملہ تمام تر اپنے اختیار ہی میں رکھا ہے۔ وہی اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق جتنا رزق چاہتا ہے اتارتا ہے۔ اگر کسی کو اس نے زیادہ دیا ہے تو وہ اس گھمنڈ میں نہ مبتلا ہو کر یہ اس کی اپنی تدبیر و قابلیت کا کرشمہ یا اس کا اور اس کے آباء و اجداد کا حق ہے بلکہ اس رب کا شکر گزار رہے جس کے اختیار میں بخشنا بھی ہے اور رنجش کر چھین لینا بھی۔
یہ مضمون آگے سورة … زخرف … میں جو اس کی قوام سورة ہے، اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ آیا ہے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم، اھم یقسمون رحمت ربک نحن تسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدین ورفعنا بعضھم فوق بعض درجت لیتخذ بعضھم بعضاً سخریا و رحمت ربک خیرمما یجمعون ولولا ان کیون الناس امتہ واحدۃ لجعلنا لمن یکفربالرحمن لمیوتھم سقفاً من فضۃ ومعارج علیھا یظھرون، وبسوتہم ابواباً وسرار علیھا یتکمون، وزخرفا وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا والاخرۃ عند ربک للمتقین (35-31)
اور وہ پوچھتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں بستیوں، مکہ یا طائف … کے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں اتارا گیا ! کیا تیرے رب کے فضل کے تقسیم کرنے والے یہی ہیں۔ دنیا میں ان کی معیشت کی تقسیم ہم نے کی ہے اور ان کے درجے ایک دوسرے پر بلند کئے ہیں تاکہ ان میں سے ایک دوسرے کا تعاون حاصل کرسکے اور تیرے رب کا فضل ان چیزوں سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کئے ہوئے ہیں اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب ایک ہی ڈگر پر چل پڑیں گے تو ہم ان لوگوں کے گھروں کی چھتیں، جو خدائے رحمان کا کفر کرتے ہیں، چاندی کی کردیتے اور زینے بھی جن پر وہ چڑھتے اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وہ ٹیک لگا کربیٹھتے اور یہ چیزیں سونے کی بھی بنا دیتے یہ دنیوی زندگی کی چند روزہ متاع ہے اور آخرت کی کامرانی تیرے رب کے پاس متقیوں کے لئے ہے۔
Ayah 42:28وھو الذین ینزل الغیث من بعد ما قنطوا وینشر رحمتہ ط وھو الولی الحمید 28
اوپر کی بات پر دلیل
یہ دلیل ہے اس بات کی جواد پر ارشاد ہوئی ہے کہ اللہ ہی اپنے ادنازے کے مطابق بندوں کے لئے رزق اتارتا ہے، نہ بندوں کو اس معاملے میں کچھ اختیار ہے نہ اس کے مزعومہ شرکاء کو فرمایا کہ اللہ ہی اتارتا ہے بارش بعد اس کے کہ لوگ بالکل مایوس ہوجاتے ہیں۔ بارش کا ذکر خاص طور پر اس وجہ سے فرمایا کہ معاش کا تمام تر انحصار اسی پر ہے۔ اور من بعد ما قنطوا سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ان تمام لوگوں کو جن کو اپنی تدبیر، اپنے استحقاق، اپنے وسائل و ذرائع اور اپنے شرکاء و شفعاء پر ناز ہے، اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے کہ آسمان کے بند دریچوں کو کھولنا اس کے خالق کے سوا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی یہ شان اسی لئے وقتاً فوقتاً دکھاتا رہتا ہے کہ کوئی اس غرے میں نہ مبتلا ہو کہ رزق و فضل کسی کی میراث ہے یا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اس کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
وھوا لولی الحمید یہ خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ آئے دن کا یہ مشاہدہ اس بات کی دلیل ہے کہ کار ساز حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ حمید ینی ستودہ صفات اور تمام سزا وار حمد و شکر کاموں کا منبع ہے۔ اس حیات چند روزہ میں وہ ان لوگوں کو بھی اپنے رزق سے محروم نہیں کرتا جو اسی کے رزق پر پلتے اور اسی کو چیلنج کرتے ہیں۔
Ayah 42:29ومن ایتہ خلق السموت والارض وما بث فیھما من دآبۃ وھو علی جمھم اذا یشآء قدیر (29)
ایک اور مغالطے کی اصلاح
یعنی کسی کو یہ مغالطہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو عذاب و قیامت سے جو ڈرایا جا رہا ہے یہ محض ڈھم کی ہے جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بدرجہ اولی قادر ہے۔ یہ وہی دلیل ہے جو دوسرے مقام میں یوں ارشاد ہوئی، انتم اشد خلقا ام السمآء بنھا (النزعت :37) (کیا تمہارا پیدا کرتا زیادہ مشکل ہے۔ یا اس آسمان کا جس کو بلند کیا۔)
لفظ دآبۃ زمین کی جاندار چیزوں کے لئے آتا ہے اس وجہ سے ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ کیا آسمانوں میں بھی اس طرح کی کوئی مخلوق پائی جاتی ہے جس پر دآبۃ کا اطلاق ہو سکے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو یہاں وما بث فیھا من دآبۃ میں مثنیٰ کی ضمیر استعمال ہوئی ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ لفظ سمار، جس طرح آسمان کے لئے آتا ہے اسی طرح اس فضا کے لئے بھی آتا ہے جس میں پرندے پرواز کرتے ہیں۔
اس آیت میں بث اور جمع کا تقابل بھی نہایت بلیغ اور قیامت کی ایک نہایت دلنشین دلیل ہے بث کے معنی چھنٹنے بکھیرنے اور پھیلانے کے ہیں اور جمع کے معنی اکٹھا کرنے اور سمیٹنے کے اس سے یہ اشارہ نکلا کہ جس نے زمین اور فضا میں یہ تمام جادنار پھیلائے ہیں وہ ان کو جب چاہے گا جمع کرنے پر بھی قادر ہے۔ جب وہ بکھیرنے پر قادر ہوا تو ان کو سمیٹنے سے کیوں قاضر رہے گا۔ جو کا سن اپنے کھیت میں تخم ریزی کرتا ہے وہ ضائع کرنے کے لئے تخم نہیں بکھیرتا بلکہ وہ اس کا حاصل ایک دن جمع بھی کرتا ہے اور اس میں اس کا کوئی زحمت نہیں پیش آتی۔
Ayahs 42:30–31وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعضوا من کثیرہ، وما انتم بمعجزین فی الارض ومالکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر (31-30)
شبہ کا ازار ایک دوسرے پہلو سے
یہ اسی اوپر والے شبہ کا ازالہ ایک دوسرے پہلو سے ہے۔ فرمایا کہ خدا کے قانون مجازات کا تجربہ تو تم اپنی روزمرہ میں بھی کرسکتے ہو۔ اس دنیا میں تمہیں جو دکھ بھی پہنچتے ہیں وہ تمہایر اعمال ہی کے نتیجے میں پہنچتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بہت سی بداعمالیوں سے درگزر بھی فرماتا ہے۔ یہ دکھ جو تمہیں پہنچتے ہیں تمہاری تنبیہ و تذکیر کے لئے پہنچتے ہیں تاکہ تم اس دنیا کو بازیچہ اطفال سمجھ کر اس میں لا ابالیانہ زندگی نہ گزار دو بلکہ ان تنبیہی واقعات سے یہ سبق حاصل کرو کہ اس کا خالق جزا اور سزا دینے والا ہے اور وہ ایک دن تم کو جمع کر کے تم سے ضرور مواخذہ فرمائے گا۔ اگر آج وہ تمہیں ڈھیل دے رہا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ اس کو تمہارے خیر و شر سے کوئی تعلق نہیں یا تمہارے شر ہی کو اس نے خیر کا درجہ دے دیا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے کامل جزاء و سزا کے لئے ایک خاص یوم الصل مقرر کر رکھا ہے جو لازماً آ کے رہے گا۔
یعفواعن کثیر میں لفظ عفور درگزر کرنے کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں اس کا استعمال جگہ جگہ ہوا ہے۔
وما انتم بمعجزین فی الارض یعنی یہ بھی تم اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ جب اللہ تعالیٰ پر اپنی کوئی آفت زمین میں نازل کرتا ہے تو تم اس کے قابو سے باہر نہیں نکل پاتے اور نہ تمہارا کوئی کار ساز و مددگار تمہاری بگڑی بنانے یا تمہاری حمایت و مدافعت کے لئے اٹھتا ہے۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اسی طرح آسمان میں بھی قیامت کے دن تم کو خدا کی پکڑ سے نہ کوئی شریک و شفیع بچا سکے گا اور نہ کوئی حامی و مددگار۔
یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ خطاب کفار سے ہے جن کو اس دنیا میں جو تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں ان کے اعمال کی پاداش ہی میں پہنچتی ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس کا خالق جزاء اور سزا دینے والا ہے اس وجہ سے وہ ایک ایسا روز جزا ضرور لائے گا جس میں ان کے ان جرائم کی بھی وہ سزا دے گا جن سے اس دنیا میں وہ درگزر کر رہا ہے۔ اس آیت کا تعلق انبیاء اور صدیقین و صالحین سے نہیں ہے۔ ان کو جو مصائب پیش آتے ہیں وہ ان کے اعمال کی سزا کے طور پر نہیں بلکہ ابتلاء کے طور پر پیش آتے ہیں، جن سے مقصود ان کے صبر کا امتحان ہوتا ہے اور یہ امتحان ان کے مدارج کی بلندی کا ذریعہ بنتا ہے۔
Ayahs 42:32–35ومن ایتہ الجوار فی البحر کا لاعلام ان یشا یسکن الریع فیظلن رواکد علی ظہرہ ط ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور، ویوبضھن بما کسبوا ویعف عن کثیرہ ویعلم الذین یجادلون فی آیتنا ط مالھم من محیص (35-32)
دنیا کی کامیابی پر مفروروں کے لئے ایک تمثیل
یہ ان لوگوں کے سامنے ایک مثال پیش کی ہے جو اپنی دنیوی کامیابیوں پر مگن ہیں کہ اس دنیا کی زندگی کو کشتی کے سفر کی مانند سمجھو۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں کے مانند بھاری بھاری جہازات سمندر کے سینہ پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ جن لوگوں کی نظر خدا کی قدرت پر نہیں ہوتی وہ جب جہاز کو رواں داں دیکھتے ہیں تو مگن ہو کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس کو کوئی خطرہ بھلا کہاں سے اور کس طرح پیش آسکتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ چاہے تو ہوا کو روک دے اور یہ جہازات اپنے مسافروں سمیت سطح سمندر پر ہی پڑے رہ جائیں یا ان کو ان کے مسافروں سمیت ان کی جگہ ہی پر غرق کر دے اور کوئی ان کو بچانے والا نہ بنے۔ اس تمثیل میں اگرچہ پیش نظر باد بانی جہازات ہیں اس لئے کہ اس وقت تک باد بانی جہازات ہی وجود میں آئے تھے لیکن ٹھیک ٹھیک یہی تمثیل آج کے ترقی یافتہ جہازوں پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ آج سائنس کی ترقیوں نے انسان کو اسٹیم، بجلی اور ایٹم کو کنٹرول کرنے کا سل یقہ سکھا دیا ہے جس سے اس کی طاقت میں بڑا اضافہ ہوگیا ہے لیکن آج بھی ہم آئے دن بڑے بڑے بحری جہازوں کے متعلق اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ بتاشہ کی طرح پانی میں بیٹھ جاتے ہیں، یا ان کی ساری مشینری اس طرح معطل ہوجاتی ہے کہ ایک لاشہ بےجان کی طرح ان ان فی ذلک لایت تکل صبار شکون یہ اس سبق کی طرف اشارہ ہے جو اس تمثیل میں مضمر ہے۔ فرمایا کہ اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرتیں پوشیدہ ہیں جو صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے ہیں۔ یعنی جو لوگ زندگی کے حالات و واقعات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں وہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر کسی کو ناساز گار حالات پیش آئیں تو اس کو مایوس و دل شکستہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنے رب کے بھروسے پر صبر کرنا چاہئے۔ اس دنیا میں انسان کو جو کچھ پیش آتا ہے خدا کے حکم ہی سے پیش آتا ہے اور خدا کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس طرح اگر کسی کو سازگار حالات میسر آئیں تو اس کو اترانے اور فخر کرنے والا نہیں بن جانا چاہئے بلکہ اپنے رب کا برابر شک گزار رہنا چاہئے اس لئے کہ بندے کو جو کچھ بھی ملتا ہے خدا ہی کے دیے ملتا ہے اور وہ جس طرح دینے پر قادر ہے اسی طرح چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ جو لوگ اس حقیقت ہے نا آشنا ہوتے ہیں ان کو نعمت مغرور اور مصیبت مایوس بناتی ہے وہ کبھی ایمان کی حلاوت سے آشنا نہیں ہوتے۔ آگے اسی سورة میں اس طرح کے لوگوں کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے۔ وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ فرح بھا وان تبھم سیۃ بما قدمت ایدیھم فان الانسان کفور (48 (اور جب ہم انسان کو اپنے کسی فضل سے نوازتے ہیں تو وہ اس پر اتراتا ہے اور اگر اس کو اس کے اعمال کی پاداش میں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو ناشکرا بن جاتا ہے۔
اویوبقھن بما کسبوا ویعض عن کثیر اس کا عطف اوپر والے جملے ان یشایسکن الریح پر ہے۔ ان فی ذلک … الآیۃ والافقرہ بیچ میں، بطور جملہ معترضہ اس تمثیل کے مقصد کی طرف توجہ دلانے کے لئے آگیا ہے۔ جملہ معترضہ کے بعد بات پوری کردی گئی کہ جس طرح وہ قادر ہے کہ ہوا کو روک کر جہازوں کو سطح سمندر ہی پر ساکن کر دے اسی طرح وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ان کو ان کے مسافروں کے اعمال کی پداش میں غرق کر دے اور چاہے تو ان میں سے بہتوں کے گناہوں سے درگزر فرمائے اور وہ بھنور سے نکل کر بخیریت ساحل پر پہنچ جائیں۔ ان تینوں میں سے ہر بات اس کے اختیار میں ہے اس وجہ سے اس دنیا میں کسی کے لئے اپنی کسی کامیابی پر مغرور ہونا جائز نہیں ہے بلکہ کامیابی حاصل ہو تو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہئے اور کوئی افتاد پیش آئے تو اس کو اپنی کسی کوتاہی کا نتجیہ سمجھ کر صبر کرنا چاہئے اور اللہ سے خیر کی امید رکھنی چاہئے۔
حذف کی ایک مثال
ویعلم الذین یجادلون فی آیتنا مالھم من معیص یہاں یعلم حالت نصب میں ہے اس وجہ سے اس کا معطوف علیہ محذوف ماننا پڑے گا۔ اس قسم کے حذف کی متعدد مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور آگے بھی آرہی ہیں، مثلاً وخلق اللہ السموت والارض بالحق ولتجزی کل نفس بما کسبت (الجاثیتہ : 2 ہ) (اور آسمانوں اور زمین کو اس نے غایت کے ساتھ پیدا کیا (تاکہ وہ ایک روز عدل لائے) ور تاکہ ہر جان کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے) اسی اصول پر یہاں کوئی مناسب تعلیل محذوف ماننی پڑے گی۔ گویا پوری بات یوں ہوگی کہ تاکہ اللہ ان سے انتقا ملے اور تاکہ آیات الٰہی میں کٹ حجتی کرنے والوں پر یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ ان کے لئے خدا سے بھاگ سکنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے آیا ہے۔ ہم ایک نظیر سورة یونس سے پیش کرتے ہیں فرمایا ہے۔
ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر، حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم بربج طیبۃ دفوحوا بھا جاء تھا ریج عاصف وجآء ھم الموج من کل مکان و ظنوا انھم احیط بھم لا دعو اللہ مخلصین لہ الدین لئن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشکرین، فلما انجھم اذا ھم یبغون فی الارض بغیر الحق، ط یا یھا الناس انما بعیکم علی انفسکم لا متاع الحیوۃ الدنیا تم الینا مر جعکم فنبئکم بما کنتم تعملون (یونس :23-22)
وہی ہے جو تم کو سفر کراتا ہے خشکی اور تری میں۔
یہاں تک کہ جب تم کشتویں میں ہوتے ہو اور وہ سازگار ہوائوں سے چلتی ہیں اور وہ مگن ہوتے ہیں، آپڑتی ہے ان پر باد تند اور اٹھنے لگتی ہیں ان پر موجیں ہر جانب سے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ اب ہلاک ہوئے۔ اس وقت وہ اللہ کو پکارتے ہیں، اسی کی خالص اطاعت کا عہد کرتے ہوئے کہ اگر تو نے ہمیں اس ورطہ ہلاکت سے نجات بخشی تو ہم تیرے شکر گزار بندے بن کے رہیں گے۔ پس جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے وہ پھر زمین میں بلا کسی حق کے سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو ! تمہاری سرکشی کا وبال تمہارے ہی اوپر پڑنے والا ہے۔ اس دنیا کی چند روزہ متاع سے فائدہ اٹھا لو۔ پھر ہم تکو بتائیں گے جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔
Ayah 42:36فما اوتیتم من شیء ممتاع الحیوۃ الدینا وما عند اللہ خیر وا بقی للذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون (36)
خلاصہ بحث
یہ آخر میں اوپر والی بحث کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ دنیا کی جو نعمتیں تمہیں ملی ہیں، اترانے اور فخر کرنے کی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ اس حیات چند روزہ کی متاع ہیں۔ ایک دن بالآخر یہ زندگی بھی ختم ہوجائے گی اور اس کا یہ سرور سامان بھی۔ البتہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے کہیں بہتر اور ابدی ہے جو ان لوگوں کا حصہ ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر حوصلہ ہے تو اس کے چاہنے والے بنو۔ اس دنیا کی متاع حقیر کے پیچھے کیوں اپنی عاقبت برباد کر رہے ہو۔
یہاں وعلی ربھم یتوکلون کے الفاظ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ اس حقیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ جو لوگ آخرت کی ابدی بادشاہی کے طالب ہوں ان کے لئے اس راہ میں اصلی زاد راہ توکل ہے۔ جب تک کسی کے اندر یہ حوصلہ نہ ہو کہ اس دنیا کی جو چیزیں خدا کی راہ میں مزاحم ہوں ان کو خدا کے بھروسہ اور آخرت کے صلہ کے اعتماد پر طلاق دے سکے اس وقت تک کوئی شخص یہ ابدی بادشاہی حاصل نہیں کرسکتا۔
Ayah 42:37-6 آگے کا مضمون …آیات 43-37
آگے کی آیات میں مذکورہ بالا اجر کے مستحقین کی کچھ اور صفتیں بیان فرمائی ہیں جن سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو مسلمان اس دور میں قریش کے مغروروں کے ہاتھوں ہر قسم کے مظالم کا ہدف بنے ہوئے تھے یہاں تک کہ ان کے مظالم سے تنگ آ کر اپنے گھر ور چھوڑنے پر مجبور ہو رہے تھے، وہی اس کے اصلی حق دار ہیں۔ یہ سورة ، جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں، ہجرت کے بالکل قریب نازل ہوئی ہے اس وجہ سے ان صفات کے بیان کا انداز کچھ اس طرح کا ہے جس میں مسلمانوں کے لئے فتح یاب کی بشارت بھی ہے اور آگے کے مراحل میں ان کے فرائض اور ان کی ذمہ داریوں سے متعلق بعض ضروری ہدایات بھی گویا ہجرت سے پہلے ان کو یہ بتا دیا گیا کہ اب تک وہ منتشر افراد کی صورت میں تھے اب اللہ تعالیٰ ان کو ایک ہئیت اجمتاعی و سیاسی میں منظم کرنے کی شکل پیدا کر رہا ہے۔ اب تک وہ مظلوم تھے لیکن اب وقت آ رہا ہے کہ وہ اپنی مداعفت کی قوت بھی حاصل کریں گے اور اس کے لئے اللہ کی طرف سے مجاز بھی ہوں … ان پیش آنے والے حالات میں ان کو کیا رویہ اختیار کرنا ہے اس کی طرف ان آیتوں میں رہنمائی کی گئی ہے لیکن اس رہنمائی کا انداز امر و حکم کا نہیں بلکہ ایمان اور توکل کے لازمی مقتضیات کے باین کا ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی واضحت
والذین یجتنبون کبیرا لاثم والفواحش واذا ماغضبوا ھم یغفرون (37)
برائیوں کے تین عنوان
یعنی یہ ان لوگوں کی طرح نہیں ہیں جو خدا کی نعمتیں پا کر ظلم، بےحیائی اور بغی و طغیان میں مبتلا ہوئے ہیں بلکہ وہ حق تلفی، بےحیائی اور غصہ و اتنقام کی قسم کے تمام بڑے جرائم سے اجتناب کرنے والے ہیں۔ اس اسلوب بیان میں مخالف گروہ پر جو تعریض ہے وہ وضاحت کی محتاج نہیں ہے اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہاں تمام برائیوں کو تینع نوانوں کے تحت سمیٹ دیا گیا۔ اثم، فحتساء اور غضب … اثم سے مراد وہ برئایاں ہیں جو حق تلفی، ناانصافی اور ظلم کی نوعیت کی ہوں۔ فحشاء سے وہ برئایاں مراد ہیں جو شہوات اور خواہشات نفس کی راہ سے ابھری ہیں۔ غضب، انانیت، خود سری اور استکبار سے وجود میں آتا ہے اور طغیان و فساد اور بغی و جبر کو جنم دیتا ہے۔
یہاں ان برائیوں کے صرف کبائر سے بچتے رہنے کا ذکر ہے۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ انسان خیر و شر کے دو متضاد داعیات کی کشمکش کے اندر امتحان میں ڈالا گیا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ اس سے یہ نہیں ہے کہ وہ بالکل معصوم ہو کر زندگی گزارے۔ اگر یہ بوجھ اس پر ڈالا جاتا تو یہ اس کے لئے ناقابل برداشت ہوجاتا۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے صرف یہ چاہا ہے کہ وہ بڑے گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کرے۔ اگر وہ بڑی برائیوں سے بچتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی چھوٹی غلطیوں سے درگزر فرمائے گا۔
دوسری یہ کہ چھوٹی برائیوں سے بچنے کا بھی صحیح طریقہ یہی ہے کہ آدمی بڑی برائیوں سے اجتناب کرے۔ جو شخص بڑی بڑی امانتیں ادا کرتا ہے اس کا ضمیر اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی چھوٹی سی امانت میں خیانت کر کے فائن کہلانے کا ننگ گوارا کرے۔ اسی طرح اللہ کا جو بندہ بڑی برائیوں سے اپنے کو بچاتا ہے وہ یہ نہیں پسند کرتا کہ چھوٹی چھوٹی برائیوں کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اجر کو برباد کرے۔ جو شخص اشرفیوں کی چوری سے اجتناب کرے گا وہ دھیلے اور پیسے کی چوری کرنے والا نہیں بنے گا۔ اگر اس طرح کی کوئی حرکت اس سے صادر ہوگی بھی تو سہواً ہی ہوگی، عملاً نہیں ہوگی۔ ال بتہ جو لوگ مچھر کو چھانتے ہیں ان کو اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ اونٹ کو نگل جانے والے ہوتے ہیں۔
واذا ماغضبوا ھم یغفرون کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ جہاں تک غصہ کے آنے کا تعلق ہے وہ تو ان کو آتا ہے اس لئے کہ غصہ انسان کی حمیت، غیرت اور عزت نفس کا ایک فطری تقاضا ہے لیکن یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس غصہ سے بےقابو ہو کر اپنی عقل سے دست بردار اور خدا کے حودود سے متجاوز ہوجائیں بلکہ وہ اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھتے ہیں اور ان لوگوں کو معاف کردیا کرتے ہیں جن کی حرکتیں اگرچہ غصہ دلانے والی ہوتی ہیں لیکن مختلف وجوہ سے وہ مستحق ہوتے ہیں کہ ان سے درگزر کی جائے۔ اس میں در پردہ مسلمانوں کو اس بات کی تلقین بھی ہے کہ ہرچند تمہارے دشمنوں کا رویہ نہایت اشتعال انگیز ہے لیکن ابھی یہی بہتر ہے کہ ان سے درگزر کرو یہاں تک کہ ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے۔ آگے کی آیات میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔ یہاں ضمیر ھم کے اظہار سے جملہ میں یہ زور پیدا ہوگیا ہے۔ کہ اگرچہ یہ کام ہے نہایت کٹھن لیکن مستحق آفرین ہیں وہ لوگ جو یہ کڑوے گھونٹ حلق سے اتارتے ہیں۔
Ayah 42:38والذین استجابوا الربھم واقاموا الصلوۃ وامرھم شوریٰ بینھم ومما رزقنھم ینفقون (38)
وہ صفات جن سے مذکورہ خوبیاں پیدا ہوئی ہیں
یہ ان صفات کا بیان ہے جن سے ان کے ادنر وہ خوبیاں پیدا ہوئی ہیں جن کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ انہوں نے اپنے رب کی اس دعوت پر لبیک کہی ہے جو اس کے رسول کے واسطہ سے ان کو پہنچی ہے۔ قریش کے متکبرین کی طرح انہوں نے اس کو جھٹلانے کی کوشش نہیں کی۔ ان کی اسی خوبی کی طرف اوپر آیت 26 میں اشارہ فرمایا ہے۔ ویستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت ویزیدھم من فضلہ (اور اس کو قبول کر رہے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور اللہ ان کے لئے اپنے فضل میں افزونی فرمائے گا۔)
ایمان اکا اولین مظہر نماز ہے
وقاموا الصلوۃ یہ اس قبول کرنے یا بالفظ دیگر ان کے ایمان کے اولین مظہر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ دین کی اس حقیقت کا اظہار اس کتاب میں ہر جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ ایمان کا سب سے پہلا عملی مظہر نماز ہے۔ یہی اس کا اولین مظہر بھی ہے اور پھر اسی سے دوسری نیکیاں ظہور میں بھی آتی اور اسی سے پروان بھی چڑھتی ہیں۔ اس وجہ سے جس نے نماز کا اہتمام نہیں کیا اس نے گویا ایمان کی دعوت بھی قبول نہیں کی۔ اگر وہ ایمان کا مدعی ہے تو اس کا یہ دعویٰ محض خود فریبی ہے۔
یہاں اس حقیقت پر بھی نظر رہے کہ اقاموا الصلوۃ کا مفہوم صرف نماز پڑھنا ہی نہیں بلکہ نماز کا اہتمام کرنا بھی ہے۔ یعنی وہ نماز پڑھتے بھی ہیں اور یہ اہتمام بھی کرتے ہیں کہ دوسرے بھی نماز پڑھیں۔ یہی نماز اور اہتمام نماز ان کی جماعتی زندگی کی خصوصیت اور اس دنیا میں ان کا اصلی امتیاز ہے۔ یہی نماز ان کو سکھاتی ہے کہ ان کو دنیا میں اپنے رب کی بندگی اور اس کے دین کی اقامت کے لئے کس طرح بتیان مرصوص بن کر زندگی گزارنی ہے اور یہی نماز اس فحشاء اور منکر سے ان کو روکتی ہے جن سے اجتناب کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ نماز کی اس حقیقت کی طرف دوسرے مقام میں یوں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر (نماز بےحیائی اور ناروا باتوں سے روکتی ہے) … اس میں بھی قریش کے لیڈروں پر تعریض ہے کہ نماز تو انہوں نے برباد کردی لیکن اس کے باوجود حضرت ابراہیم ؑ کے بنائے ہوئے اس گھر کے وارث ہونے کے مدعی ہیں جو نماز اور اہتمام نماز کے ایک مرکز کی حیثیت سے تعمیر ہوا تھا۔
اہل ایمان کے سیاسی نظم کی بنیاد شوریٰ پر ہے
وامرھم شوری بینھم … شوری مصدر ہے فتیا کے وزن پر اور اس کے معنی آپس میں مشورہ کرنے کے ہیں، لفظ امر عربی میں ہمارے لفظ معاملہ کی طرح بہت وسیع معنوں میں آتا ہے۔ اس کے صحیح مفہوم کا تعین موقع و محل اور سیاق وسباق سے کرتے ہیں۔ یہاں قرینہ پتہ دے رہا ہے کہ یہ لفظ جماعتی نظم کے مفہوم میں آیا ہے۔ یعنی مسلمانوں کا جماعتی اور سیاسی نظم خود سری، انانیت، خاندانی برتری، نسبی غرور پر مبنی نہیں ہے بلکہ اہل ایمان کے باہمی مشورہ پر مبنی ہے۔ اس میں قرش کے نظم سیاسی و اجتماعی پر جو تعریفض ہے وہ محتاج وضاحت نہیں ہے اس لئے کہ ان کا نظم اجتماعی تمام تر خاندانی اور نسبی امتیاز پر قائم تھا۔ اسلام کی مخالفت کا ایک بڑا سبب ان کے لئے یہ بھی تھا کہ وہ اس دعوت کے فروغ پانے کی صورت میں اپنے اس جاہلی نظام کی موت سمجھتے تھے۔ قرآن نے اس آیت میں ایک طرف تو مسلمانوں کو یہ بشارت دے دی کہ ان کے لئے ایک ہئیت اجمتاعی و سیاسی کی شکل میں منظم ہونے کا وقت آگیا اور یہ نظم اجتماعی نسب اور خاندان کی اساس کے بجائے اہل ایمان کے باہمی مشورہ پر مبنی ہوگا، دوسری طرف درپردہ قریش کے لیڈروں کو یہ آگاہی بھی دے دی کہ اب تم خواہ کتنا ہی زور اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت میں صرف کرو لیکن انہی کمزور و مظولم مسلمانوں کے ہاتھوں وہ نیا نظام آ رہا ہے جو تمہارے اس فاسد نظام کی بساط الٹ کر رکھ دے گا۔
شوریٰ کی اہمیت کا ایک خاص پہلو
یہاں شورائی نظام کی خصوصیات اور اس کے اصول و مبادی پر بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث ہم اپنی کتاب … اسلامی ریاست … کی ایک مستقل فصل میں کرچکے ہیں۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔ البتہ ایک سوال یہاں قابل غور ہے کہ قرآن کا معروف اسلوب بیان تو یہ ہے کہ وہ نماز کے ساتھ بالعموم زکوۃ یا انفاق کا ذکر کرتا ہے لیکن یہاں اس معروف طریقہ کے خلاف نماز اور انفاق کے بیچ میں شوریٰ کا ذکر آگیا ہے آخر شوریٰ کی اہمیت کا وہ خاص پہلو کیا ہے جس کی بنا پر اس کو نماز کے پہلو میں جگہ دی گئی ؟
اسلام کا نظم اجتماعی نماز کی صورت میں مشکل کیا گیا
ہمارے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے نظم اجتماعی کی روح اور اس کے قالب کی اصلی شک نماز میں محفوظ کی گئی ہے۔ اسی کے اندر مسلمانوں کو دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ان کو اللہ کی بندگی کے لئے ایک بنیان مرصوص بن کر کھڑے ہونا ہے کس طرح اپنے اندر سے سب سے زیادہ علم وتقویٰ والے کو اپنی امامت کے لئے منتخب کرنا ہے، کس طرح لوگوں کو حدود الٰہی کے اندر اس امام کی بےچون و چرا اطاعت کرنی ہے اور کس طرح امام اس بات کا پابند ہے کہ لوگوں کو کسی ایسی بات کا حکم نہ دے جو اللہ اور رسول کے کسی حکم کے خلاف ہو اور کس طرح اس کے ایک ادنیٰ مقتدی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ کوئی غلطی کرے تو وہ اس کو ٹوک دے یہاں تک کہ عین نماز کے اندر بھی رکوع، سجود، قیام، قعودیا تلاوت میں کوئی ادنیٰ فروگزاشت بھی اس سے صادر ہوجائے تو اس کے پیچھے ہر نماز پڑھنے والا اس کو متنبہ کرنے کا ذمہ دار ہے اور امام کا یہ فرض ہے کہ اگر مقتدی کی تنبیہ مطابق شریعت ہے تو وہ اس کو قبول اور اپنی غلطی کی فوراً اصلاح کرے۔ گویا اس طرح ہمارا پورا نظم اجتماعی نماز کی صورت میں مشل کر کے ہمیں یہ دکھایا گیا کہ ہم اپنی سیاسی تنظیم میں اسی نمونہ کی پیروی کریں۔ اسی طرح اللہ کے دین کی اقامت کے لئے اپنی تنظیم کریں، اسی طرح اپنے اندر سے سب سے زیادہ اہل اور صاحب علم وتقویٰ کو اپنی قیادت کے لئے منتخب کریں، اسی طرح تمام معروف میں بےچون و چرا اس کی اطاعت کریں اور اگر اس سے کوئی ایسی بات صادر ہو جو شریعت کے معروف کے خلاف ہو تو بےخوف لومتہ لائم اس کو متنبہ کر کے اس کو صحیح راہ پر لانے کی کوشش کریں۔
نماز اور ہمارے سیاسی نظام کا یہ تعلق ہے جس کے سبب سے قرآن نے ٹھیک اس وقت جب مسلمان ایک ہئیت اجتماعی کی شکل اختیار کرنے والے تھے، ان کی رہنمائی شوریٰ کی طرف فرمائی اور اس شوریٰ کا ذکر نماز کے پہلو بہ پہلو کر کے ایک طرف تو اس کی عظمت نمایاں فرمائی کہ دنی میں اس کا کیا درجہ و مرتبہ ہے اور دوسری طرف اس کی تشکیل کی نوعیت بھی واضح فرما دی کہ اس میں امیر و مامور کے حقوق و فرائض کی صورت کیا ہوگی، کس طرح کے لوگ اس کی رکنیت کے لئے موزوں ہوں گے، جماعت اور خلق خدا سے متعلق ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوں گی اور ان کی اصلی مسئولیت کس کے آگے ہوگی۔
شوریٰ کی اہمیت اور نماز کے ساتھ اس کے تعلق کا یہی پہلو تھا کہ عہد رسالت اور خلافئے راشدین کے دور میں اس کا انعقاد مسجد ہی میں ہوتا تھا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے متعلق تو سیرت کی کتابوں میں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ وہ شوریٰ کے انعقاد کا عالان الصلوۃ جامعۃ کے الفاظ سے کرتاے تھے۔ یعنی اہل شوریٰ نماز کے لئے جمع ہوں۔ جب اہل شوریٰ مسجد میں جمع ہوجاتے تو وہ دو رکعت نماز ادا کتے۔ ظاہر ہے کہ جب وہ نماز پڑھتے تھے تو دور سے اہل شوریٰ بھی ان کی اقتدار میں نماز پڑھتے رہے ہوں گے۔ نماز اور دعا کے بعد حضرت عمر مسئلہ زیر بحث پیش کرتے اور اہل شوریٰ اس پر اپنی رایوں کا اظہار کرتے اور خلیفہ کی رہنمائی میں کسی متفق علیہ نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔
یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کی رہنمئیا کے حصول کے پہلو سے بھی نہایت بابرکت ہے اور اسلام کے نظم سیاسی کی اصل روحی کے تحفظ کے نقطہ نظر سے بھی۔ لیکن اس دور میں مسلمانوں نے دوسری قوموں کی تقلید میں شورائی نظام کی جگہ نظام بھی دوسرے اختیار کرلیے اور مسجدوں سے بھی ان کا تعلق بالکل منقطع ہوگیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خدا کی رہنمائی سے محروم ہوگئے اور ان کی باگ شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے ہاتھ میں چلی گی۔ اب پارلیمنٹوں کے ایوانوں میں جو دھینگا مشتی ہوتی ہے اس کی مثال بازاروں میں بھی مشکل ہی سے مل سکتی ہے۔
ومما رزقنھم ینفقون نماز کے ساتھ انفاق یا زکوۃ کے تعلق پر اس کتاب میں جگہ جگہ مفصل بحث ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا ایک ستون تو یہ ہے کہ اس کی نماز پڑھی جائے اور اس کا دوسرا ستون یہ ہے کہ اس کے بخشے ہوئے رزق میں سے اس کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ پہلی چیز بندے کا تعلق اس کے خالق سے اسوتار کرتی ہے۔ دوسری چیز خلق سے اس کو جوڑتی ہے اور انہی دونوں اساسات پر تمام شریعت قائم ہے۔
Ayah 42:39والذین اذا صابھم البغی ھم ینتصرون (39)
اوپر آیت 37 میں یہ جو ارشاد ہوا ہے کہ ”واذا ماغضبوا ھم یغفرون ‘ یہ اسی پر ایک قسم کا استدراک ہے کہ اول تو وہ مخالفوں کی غصہ دلانے والوں باتوں سے درگزر کرتے ہیں اور اگر کوئی جوابی کارروائی کرتے بھی ہیں تو اس وقت جب ان پر کوئی صریح زیادتی کی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کس تعدی کے دفاع اور اس کے انتقا مکا حق ہر شخص کو حاصل ہے اور اس حق سے وہ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن یہ نہیں ہے کہ ہر بات کو کسی اقدام کا بہانہ بنا لیں بلکہ وہ بدلہ لیتے ہیں تو کسی بغی کا لیتے ہیں۔ بغی مخالف کی کسی کھلی ہوئی تعدی، سرکشی اور زیادتی کو کہتے ہیں۔
Ayah 42:40وجزآء سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ انہ لاحب الظلمین (40)
انتقام میں توازن
پھر یہ کہ بدلہ لیتے بھی ہیں تو یہ نہیں کرتے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کیں۔ بلکہ وہ اس معاملے میں بھی پورا توازن قائم رکھتے ہیں۔ جواب میں صرف اتنی ہی کارروائی کرتے ہیں جو برائی کے ہم وزن ہو۔
کوئی انتقامی کارروائیں کوئی برائی نہیں ہے بلکہ قصاص ہے لیکن یہاں اس کو سیئۃ کے لفظ سے عربی زبان کے اس اسلوب کے مطابق تعبیر کیا گیا ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے کہ بعض اوقات الفاظ مجانست کے اصول پر استعمال ہوتے ہیں، مثلاً دناھم کمادنورا، ظاہر ہے کہ اس میں کما دانوا بالکل کما فعلوا کے معنی میں ہے لیکن محض ہم آہنگی کے پہلو سے کما فعلوا کی جگہ کما دانورا استعمال ہوا۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی میں بھی کسی ایسے فعل کا ارتکاب جائز نہیں ہے جو شریعت میں بہر شکل ممنوع ہے۔
انفرادی معاملات میں پسندیدہ روش اصلاح کی ہے
فھن عفاد اصلح فاجرہ علی اللہ یعنی ہرچند اس بات کا حق تو ہر شخص کو حاصل ہے کہ اس پر تعدی کی گئی ہے تو وہ تعدی کے بقدر انتقام لے لے لیکن اس سے اعلیٰ رویہ ان لوگوں کا ہے جو درگزر کریں اور معاملہ کو اصلاح کی راہ سے طے کرنے کی کوشش کریں۔ اصلاح کی راہ اختیار کرنے میں اگرچہ جذبات کی قربانی کرنی پڑتی ہے لیکن اس کا اجر بہت بڑا ہے جس کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ عام انفرادی واقعات میں زیادہ پسند اللہ تعالیٰ کو اصلاح ہی کا طریقہ ہے خواہ دونوں فریق خود باہمدگر اصلاح و تلافی کی کوشش کریں یا دوسروں کو اس کا ذریعہ بنائیں یا دوسرے از خود بیچ میں پڑ کر مصالحت کر ادیں۔
انتقام صرف لقدر تعدی جائز ہے
انہ لایحب الظلمین یہ ایک جامع تنبیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرنا۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی پر تعدی کرے تو وہ بھی اللہ کے نزدیک مبغوض اور اگر کوئی کسی کی تعدی کا جواب اس سے بڑھ کر تعدی سے دینے کی کوشش کرے تو وہ بھی مبغوض پسندیدہ روش اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ تعدی کی اصلاح کی کوشش کی جائے اور اگر یہ نہیں تو بقدر تعدی اس کا اتنقا ملے لیا جائے۔
Ayahs 42:41–42ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل وانما السبیل عل الذین یظلمون الناس ویبغون فی الارض بغیر ط اولئک لھم عذاب الیم (42-41)
بعد ظلمہ میں مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے جس طرح سورة روم کی آیت وھم من بعد غلبھم سیغلبون (3) ہے۔
ان لوگوں کے شبہ کا جواب جو انتقام کو دینداری کے خلاف سمجھتے ہیں
یہ ان لوگوں کے شبہ کا جواب ہے جو دینداری کا ایک تقاضا یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آدمی دوسروں کے ہاتھوں پٹتا رہے اور ان سے کوئی انتقام نہ لے۔ اگر کوئی اتنقام لے تو یہ چیز دینداری کے خلاف سمجھی جاتی ہے اور اس کو بھی برابر کا مجرم سمجھ لیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ اس طرح کے معاملات میں الزام ان لوگوں پر نہیں ہے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کئے جانے کے بعد اتنقام لیا بلکہ الزام ان لوگوں پر ہے جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور بلا کسی استحقاق کے خدا کے زمین میں سرکشی اور طغیان کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
بغیر الحق، یعنی زمین کا خلاق اور مالک تو خدا ہے، ان کا کوئی دخل نہ اس کی تخلیق میں ہے نہ تدبیر میں۔ لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ کوئی ان کے آگے سر اٹھا کے نہ چلے۔ فرمایا کہ اصل مجرم یہ لوگ ہیں اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ اگر ان کے جواب میں مظلوموں کو بھی کوئی اقدام کرنا پڑے تو اس کی مسئولیت ان مظلوموں پر نہیں بلکہ ان ظالموں ہی پر ہے جنہوں نے اس کی طرح ڈالی۔ سورة مائدہ کی آیت الی ارید ان تبواء باثمی واثمہ (29) کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 42:43ولمن صبرو غفر ان ذلک لمن عزم الامور (43)
خلاصہ بحث
یہ آیت یہاں غلاصہ بحث کی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے کئی باتیں واح ہوئیں۔ ایک یہ کہ اگرچہ تعدی کے بقدر اتنقام کا حق ہر شخص کو حاصل ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوسری یہ کہ یہ درگزر صرف وہی لوگ کرسکیں گے جن کے اندر صبر کی خصلت ہوگی۔ جن کے اندر یہ صفت نہیں ہے وہ یہ بازی نہیں کھیل سکیں گے۔ اس وجہ سے لوگوں کو اپنے اندر صبر کی صفت راسخ کرنی چاہئے۔
تیسری یہ کہ یہ کردار عزیمت کا کردار ہے۔ جو لوگ یہ کردار اپنے اندر پیدا کریں گے وہ ارباب عزیمت میں ہیں۔
یہ امر یہاں واضح رہے کہ ان باتوں کی طرف مسلمانوں کی رہنمائی ان حالات کے مقابلہ کے لئے کی گئی ہے جن سے وہ قریش کے ہاتھوں قرب ہجرت کے زمانے میں دوچار تھے اس وقت تک مسلمان نہ تو ایک منظم سیاسی طاقت بنے تھے اور نہ ابھی قریش پر دین کی حجت ہی پوری طرح تمام ہوئی تھی۔ ہجرت کے بعد جب مسلمان ایک منظم طاقت بن گئے اور قریش پر حجت تمام ہوگئی تو مسلمانوں کو من حیث الجماعت اللہ تعالیٰ کی طر سے یہ ہدایت ہوئی کہ اب مسلمان ان سے کلیتہ اپنے تمام روباط منقطع کرلیں اور اس وقت تک ان سے جنگ جاری رکھیں جب تک یہ اسلام کے آگے سپر نہ ڈال دیں۔
Ayah 42:44-8 آگے کا مضمون آیات :50-44
آگے کی آیات کا تعلق اوپر آیت 36 کے مضمون سے ہے۔ وہاں سلسلہ کلام اس بات تک پہنچا تھا کہ یہ مخالفین جس زندگی پر ریجھے ہوئے ہیں یہ تو چند روزہ ہے، اصلی دولت جاوداں ان اہل ایمان کے لئے ہے جو اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی جگہ آخرت کی کامرانیوں کے لئے بازی کھیل رہے ہیں۔ اس کے بعد چند آیات میں اہل ایمان کا کردار بیان ہوا تاکہ کلام مطالق حال ہوجائے اور اس وقت کے مسلمانوں پر یہ واضح ہوجائے کہ یہ بشارت انہی کے لئے ہے اور ان کے مخالفوں پر بھی واضح ہوجائے کہ آج جو لوگ ان کے ہاتھوں مظلوم ہیں اب ان کے لئے فتح باب کا وقت قریب ہے۔
اس کے بعد اپور کے سلسلہ مضمون کو از سر نو لے لیا اور پیغمبر ﷺ کو پہلے تسلی دی کہ جو لوگ خدا کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں ان کو کوئی دوسرا ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا۔ ان لوگوں کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جب پانی سر سے گزر جائے گا۔ پھر آخری تنبیہ کے طور پر مخالفین کو یاد دہانی کی کہ اب بھی موقع ہے اگر سنبھلنا ہے تو سنبھل جائو۔ یہ وقت نکل گیا تو پھر کبھی واپس نہیں آئے گا۔ ساتھ ہی ان کے اصل سبب غرور کی طرف اشارہ کرتے ہئے یہ حقیقت واضح فرمائی۔ جس کو اجر کچھ بھی ملتا ہے خدا ہی کی عنایت سے ملتا ہے۔ لیکن انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کہ خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کو خدا ہی سے بغاوت کا ذریعہ بنا لیتا ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
9۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ ط وتری الظلمین لما راو العذاب یقولون ھل الی مرد من سبیل 44
پیغمبر صلعم کی تسلی کے لئے سنت الٰہی کا حوالہ
یہ پیغمبر ﷺ کی تسلی کے لئے اس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جو اس نے ہدایت و ضلالت کے باب میں مقرر فرمائی ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ ان کی ضلالت پسندی کے سبب سے گمراہی کی راہ پر ڈال دیتا ہے وہ خدا کی توفیق بخشی سے محروم ہوجاتے ہیں اور جو خدا کی توفیق و دسوت گیری سے محروم ہوجائیں کوئی دوسرا ان کا کار ساز نہیں بن سکتا۔ اب تم کتنا ہی زور لگائو لیکن جن پر خدا کی مار ہے وہ ہایت کی راہ اختیار کرنے والے نہیں بنیں گے۔
وتری الظلمین الآیۃ ظالمین سے مراد یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے گمرایہ کے لئے چھوڑ دیا۔ ان کے لئے اس صفت کے استعمال سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ یہ گمراہ کئے جانے کے مستحق اس وجہ سے قرار پائے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا، اس کی ہدایت کی قدر نہیں کی بلکہ آنکھیں بند کر کے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفر و شرک میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ فرمایا کہ یہ محروم القسمت لوگ آج تو اپنی روش پر بہت نازاں ہیں لیکن جب خدا کے عذاب سے دوچار ہوں گے تو بڑی حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ کیا دنیا کی طرف پلٹنے کی کوئی راہ اب بھی باقی ہے کہ وہاں جا کر وہ کچھ نیکی کی کمائی کریں کہ اس عذاب سے چھوٹ سکیں۔