Ayahs 41:1–2ا۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(1۔ 2)
حٰمٓ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ پچھلی سورة میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ جو سورتیں اس نام سے موسوم ہیں ان سب میں مضامین مشترک سے ہیں۔ تالیف کلام اگرچہ یوں بھی ہو سکتی ہے کہ اس کو مبتدا مان کر بعد کے جملہ کو اس کی خبر قرار دیجئے لیکن ہمارے نزدیک یہ مستقل جملہ ہے اور مبتداء اس میں محذوف ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔
تنزیل من الرحمن الرحیم میں بھی مبتداء میرے نزدیک حذف ہے یعنی یہ قرآن خدائے رحمان ظاہر کرنا بھی ہے جو قرآن جیسی عظیم رحمت کی ناقدری اور اس پر ایمان لانے کے بجائے اس عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے جس سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا تھا۔ گویا ان کو بتایا جا رہا ہے کہ خدائے رحمان و رحیم نے تو ان کے لئے ایک عظیم برکت و رحمت نازل فرمائی لیکن وہ اپنی شامت کے باعث رحمت کی جگہ نقمت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آگے کی آیات سے بالتدریج یہ مضمون واضح ہوتا جائے گا۔
Ayah 41:3اہل عرب پر قرآن کا خاص حق
یہ خبر کے بعد دوسری خبر اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت و عنایت کی تفصیل ہے جو قرآن کی صورت میں خاص طور پر اس نے اہل عرب پر فرمائی کہ اس کو عربی زبان میں اتارا تاکہ ان کو اس کلام کے سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یہ اعتراض اٹھاتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کی وضاحت ان کے لئے خود ان کی زبان میں کیوں نہیں فرمائی ؟ چناچہ آگے اسی سورة میں اسی بات کی وضاحت یوں فرمائی گئی ہے۔
Ayah 41:4اور اگر ہم اس کو عجمی قرآن کی صورت میں اتارتے تو یہ لوگ اعتراض اٹھاتے کہ اس کی آیتیں ہمارے لئے اچھی طرح کھولی کیوں نہ گئیں ؟ کلام عجمی اور مخاطب عربی !
’ لقوم یعلمون ‘ میں فعل ہمارے نزدیک ارادہ فعل کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ہم نے یہ سارا اہتمام ان لوگوں کے لئے کیا جو جاننے اور سمجھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو جاننے کی خواہش ہی سے محروم ہیں ان کے لئے سارے جتن بیکار ہیں۔ اس اسلوب بیان میں عربوں کے لئے ایک تحریص و ترغیب بھی ہے کہ انہیں جاننے اور سمجھنے کا حریص ہونا چاہئے اس لئے کہ وہ امی رہے ہیں اور اب پہلی بار اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کی تعلیم کے لئے ان کی زبان میں اپنی کتاب اتاری ہے۔
قرآن کے ردو قبول دونوں کے دور رس اثرات
’ بشیرا و نذیرا ‘۔ یہ قرآن کی دوسری صفت بیان ہوئی ہے کہ یہ بشیر و نذیر بن کر نازل ہوا ہے۔ جو لوگ اس کو قبول کریں گے ان کے لئے یہ دنیا اور آخرت دونوں میں فوزو فلاح کی بشارت ہے اور جو تکذیب کریں گے ان کے لئے یہ عذاب الٰہی کا پیش خیمہ ہے۔ یعنی کوئی اس کو سہل چیز نہ سمجھے۔ اب یہ سب سے بڑی رحمت بھی ہے اور سب سے بڑی نقمت بھی اس وجہ سے جو لوگ اس کی مخالفت کے در پے ہیں وہ اس مخالفت کے انجام کو دور تک سوچ لیں۔
قرآن محض وعظ نہیں بلکہ خدائی انذار ہے
’ فاعرض اکثرھم فھم لا یسمعون ‘۔ یعنی اکثر لوگوں نے اس کی اس اہمیت کو محلوظ نہیں رکھا بلکہ انہوں نے اس کو ایک معمولی چیز سمجھ کر اس سے اعراض اختیار کررکھا ہے اور اس کو سننے سمجھنے کے لئے کسی طرح تیار نہیں ہو رہے ہیں۔ انہیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ یہ محض کسی واعظ کا وعظ نہیں ہے بلکہ یہ خدائی انذار ہے اور یہ جن باتوں سے آگاہ کر رہا ہے ان میں سے ہر بات لازماً سامنے آ کے رہے گی۔
Ayahs 41:5–6یہ اس اعراض اور نہ سننے کی تفصیل ہے کہ وہ بڑی رعونت و تمکنت کے ساتھ کہتے ہیں کہ جن چیزوں کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو ان کو قبول کرنے کے لئے ہمارے دل بالکل بند ہیں یعنی جس توحید اور آخرت کی تم دعوت لے کر اٹھے ہو یہ دعوت کسی طرح ہمارے دل پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو یہود کی زبانی قالوا قلوبنا غلف ‘ کے الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ لفظ ’ اکنۃ ‘ پر اس کے محل میں گفتگو ہوچکی ہے۔
’ وفی اذاننا وقرا ‘ کے بعد ’ من استماع القراٰن ‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذت ہیں۔ ’ مما تدعونا الیہ ‘ کا تقابل اس حذف کی طرف اشارہ کر رہا ہے، ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔ یعنی یہ قرآن جو تم ہم کوس نا رہے ہو اس کے سننے کے لئے ہمارے کان بہرے ہیں۔
’ ومن بیننا و بینک حجاب ‘۔ یعنی ہمارے اور تمہارے درمیان عقائد و نظریات اور مسلک و مذہب کے اختلاف کی ایک ایسی دیوار حائل ہوگئی ہے کہ اب ہمارے مل سکنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔
مخالفین قرآن کا آخری مطالبہ
’ فاعمل اننا عملون ‘ یعنی جب ہمارے درمیان ایسی دیوار حائل ہوچکی ہے کہ اب ہم ایک دوسرے سے کبھی مل ہی نہیں سکتے تو اب جو کچھ تم کرسکتے ہو وہ کر گزر و اور ہم بھی جو کچھ کرنے والے ہیں وہ اب بلا پس و پیش کر کے رہیں گے۔ اگرچہ الفاظ سے ظاہر نہیں ہے لیکن اوپر ’ بشیر و نذیر ‘ کے جو الفاظ وارد ہوئے ہیں ان کو سامنے رکھ کے غور کیجئے تو ’ فاعمل ‘ کے اندر ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ مضمر ہے۔ یعنی تم اپنے قرآن میں جس عذاب کی روز دھمکی سنا رہے ہو اب ہمارے اس فیصلہ کن اعلان کے بعد اس کو لائو اگر اپنے دعوے میں سچے ہو ورنہ ہم تو بہرحال جو کچھ کرنے والے ہیں کر کے رہیں گے۔
Ayah 41:7اس کا شریک وسہیم نہیں ہے تو بالکل یکسو ہو کر اسی کی طرف توجہ کرو اور اب تک جس شرک میں آلودہ رہے ہو اس کی معافی مانگو اور اپنے رب حقیقی کی طرف رجوع کرو۔ اور ساتھ ہی یہ بھی سن لو کہ ان مشرکوں کے لئے ہلاکی و بربادی ہے جو اللہ کی راہ میں انفاق تو کرتے نہیں، بس اپنے مزعومہ سفارشیوں کے بل پر نچنت بیٹھے ہیں۔ فرمایا کہ آخرت کے اصلی منکر یہی ہیں۔
لفظ زکوٰۃ انفاق کے حام مفہوم میں
’ لایوتون الزکوٰۃ میں ’ زکوٰۃ ‘ سے مراد انفاق فی سبیل اللہ ‘ ہے۔ اس مفہوم کے لئے یہ لفظ اسلام کے مکی دور میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ مدنی دور میں آ کر اس کی ایک باضابطہ شکل معین ہوگئی اور پھر اس کا اطلاق اسی پر ہونے لگا۔ یہاں یہ لفظ اپنے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور اس مفہوم میں اس زمانے میں معروف تھا۔
اس جواب کا مدعا یہ ہے کہ قرآن جس عذاب کی دھمکی سنا رہا ہے اس کو لانا تو میرا کام نہیں ہے بلکہ اللہ ہی کا کام ہے البتہ یہ انذار کان کھول کر سن لو کہ جو مشرکین ایمان و عمل صالح کے بجائے اپنے شرکاء و شفعاء پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ان کی ہلاکت ہے۔“
شرک و شفاعت کے ساتھ آخرت کو ماننا اس کے انکار کے حکم میں داخل ہے
’ وھم بالآخرۃ ھم کفرون ‘۔ اس جملہ میں مبتداء کے اعادہ سے حصر کا مضمون پیدا ہوگیا ہے۔ اس کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہوگا کہ آخرت کے منکر یہی ہیں، اس حصر کا فائدہ یہ ہوا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جب یہ آخرت کو مانتے ہیں، اگرچہ شرک و شفاعت کے تصور کے ساتھ سہی، تو کسی نہ کسی درجے میں ان کے اس ماننے کا بھی اعتبار ہونا چاہئے۔ فرمایا کہ ہرگز نہیں، جن لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کے شفعاء و شرکاء ان کو بہرحال بخشوا ہی لیں گے خواہ ان کے اعمال کچھ ہی ہوں وہ آخرت کے ماننے والے نہیں بلکہ اس کے اصلی منکر و مکذب وہی ہیں۔ اس زور و تاکید کے ساتھ اس بات کے کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے اس عدل اور اس حکمت ہی کی نفی کردی جس پر آخرت کی بنیاد ہے۔ دوسرے اگر منکر ہیں تو محض استبعاد یا شک میں مبتلا ہیں لیکن انہوں نے تو قیامت کا سارا فلسفہ ہی ہدم کردیا۔ آگے آپ دیکھیں گے کہ قرآن نے شرک کو بھی صاف صاف کفر سے تعبیر کیا ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ شرک در حقیقت اللہ تعالیٰ کی تمام بنیادی صفات کی نفی کردیتا ہے جن کی نفی کے بعد خدا کو ماننا اور نہ ماننا دونوں بالکل یکساں ہو کر رہ جاتا ہے۔
Ayah 41:8توحید خالص پر قائم رہنے والوں کے لئے بشارت
یہ اس انذار کے مقابل میں بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں غیر منقطع اجر صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کریں گے یعنی بلا شائبہ شرک توحید پر ایمان لائیں گے اور خدا کی بندگی اور اطاعت کے جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کو پورے اخلاص اور کامل استقامت کے ساتھ ادا کریں گے۔ ’ غیر ممنون ‘ کی تاویل بعض لوگوں نے اس سے مختلف بھی کی ہے لیکن قرآن کے نظائر سے تائید اسی تاویل کی ہوتی ہے جو ہم نے اختیار کی ہے۔ قرآن میں بعض جگہ یہی مضمون ’ عطا غیر مجذوذ ‘ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے معنی ایسی بخشش کے ہیں جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہو۔
Ayah 41:9نظام کائنات میں توحید کے شواہد
اب یہ آسمان و زمین کے نظام کے اندر خالق کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اس کی توحید کے جو آثارنمایاں ہیں ان کی طرف توجہ دلائی ہے اور آگے آیت 12 میں اس بحث کا خلاصہ یہ نکالا ہے کہ ’ ذلک تقدیر العزیز العلیم ‘ یعنی جو شخص اس کائنات کے ان پہلوئوں پر غور کرے گا وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ یہ نہ تو ایک حادثہ کے طور پر آپ سے آپ وجود میں آگئی ہے، نہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا ہے اور نہ یہ مختلف دیویوں دیوتائوں کی بازی گاہ یا رزم گاہ ہے بلکہ یہ خدائے عزیز وعلیم کی منصوبہ بندی اور اس کے علم و حکمت سے وجود میں آئی ہے۔ یہ مضمون چار آیتوں میں پھیلا ہوا ہے اس وجہ سے قارئین کی سہولت کے لئے ہم پہلے آیتوں پر الگ الگ بحث کریں گے پھر آخر میں خلاصہ بحث پیش کر کے اس پر جو شبہات وارد ہوتے ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس سلسلہ کی پہلی آیت کو لیجیے جو اوپر نقل ہوئی ہے۔ فرمایا کہ کیا تم لوگ اس ذات کا انکار کر رہے ہو جس نے زمین کو دونوں میں پیدا کیا اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو، عالم کا خداوند تو وہی ہے !
خدا کو ماننا صرف وہ معتبر ہے جو اس کی تمام صفات کے اقرار کے ساتھ ہو
یہاں پہلی قابل توجہ بات یہ ہے کہ خطاب اگرچہ مشرکین قریش سے ہے جو خدا کے منکر نہیں بلکہ اس کے شریک ٹھہرانے والے تھے لیکن قرآن نے ان کے اس شرک کو کفر (ائنکم لتکفرون) سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کو ماننا معتبر صرف وہ ہے جو اس کی تمام صفات اور ان کے تمام حقوق و مقتضیات کے ساتھ ہو۔ اگر کوئی شخص خدا کو مانے لیکن اس طرح مانے کہ اس سے خدا کی کل یا بعض صفات کی نفی ہو رہی ہو تو یہ ماننا دین میں معتبر نہیں ہے بلکہ یہ درحقیقت کفر ہی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے شرک کو جگہ جگہ کفر سے تعبیر اور مشرکین کو صریح الفاظ میں یایھا الکفرون سے خطاب فرمایا ہے۔ اوپر ہم نے مشرکین کے منکر قیامت ہونے کی جو توجیہ کی ہے اس کو بھی پیش نظر رکھیے۔ یہ دونوں باتیں درحقیقت ایک ہی اصول پر مبنی ہیں۔
خدائی ایام ہمارے دنوں سے مختلف ہیں
’ فی یومین ‘ میں دو دنوں سے مراد یہ ہمارے دن نہیں ہیں بلکہ، جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، اس سے خدائی دن مراد ہی جو ہمارے شمار سے ہزار سال بلکہ بعض صورتوں میں پچاس ہزار سال کے برابر بھی ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو ادوار کے مفہوم میں لینا چاہئے۔
آسمانوں اور زمین کی خلقت کی تفصیل
قرآن کے دوسرے مقامات میں آسمان و زمین اور ان کے متعلقات کی خلقت چھ دنوں میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں اس مجموعی تعداد کی تفصیل بیان ہو رہی ہے کہ کس چیز کی خلقت پر کتنے دن صرف ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین دو دنوں میں پیدا کی۔ اس کے اس کام میں کوئی اس کا ساجھی اور شریک و مددگار نہیں ہوا لیکن تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو ! حالانکہ جو اس کا خالق ہے وہی اس زمین اور تمام عالم کا خداوند بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہی خداوند ہے بھی اور اسی کو ہونا چاہئے بھی اس لئے کہ وہی خالق ہے لیکن تمہاری خرد باختگی کا یہ حال ہے کہ تم نے عقل و فطرت کے بالکل خلاف اور بالکل بےدلیل اس کے شریک اور مدمقابل بنا رکھے ہیں ! یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین عرب آسمان و زمین بلکہ تمام چیزوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے لیکن اس کے باوجود اس کے شریک بھی ٹھہراتے تھے یہاں ان کے اسی مسلمہ پر دلیل قائم فرمائی ہے اور انداز ملامت کا ہے۔
Ayah 41:10زمین اور اس کے بعض آثار
یہ زمین کی برکات کی تفصیل بیان ہو رہی ہے کہ اللہ ہی نے اس کے اندر پہاڑ گاڑے۔ ان پہاڑوں کے گاڑنے کی ایک حکمت دوسرے مقام میں بیان فرمائی ہے کہ یہ زمین کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں ورنہ اندیشہ ہے کہ یہ تمام مخلوقات سمیت کسی طرف کو لڑھک جائے۔ ’ من فوقھا ‘ کے الفاظ سے مقصود ان کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یہ نشانیاں کچھ ڈھکی چھپی نہیں ہیں بلکہ یہ زمین کے اوپر ہی موجود ہیں جن کو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ سورة غاشیہ میں بھی پہاڑوں کی طرف اسی پہلو سے توجہ دلائی گئی ہے : ’ افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت وقف والی السماء کیف رفعت وقف قوالی الجبال کیف نصبت وقف والی الارض کیف سطحت (الغاشیۃ : 17۔ 20) (کیا وہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ان کی خلقت ہوئی ہے اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح اس کو بلند کیا گیا ہے اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح وہ گاڑے گئے ہیں اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح وہ مطح کی گئی ہے ! !)
’ وبارک فیھا و قدرنیھا اقواتھا ‘ یعنی اس میں برکتیں رکھیں اور اس میں تمام قسم کے غذائی ذخیرے ودیعت کئے۔
زمین اور اس کی برکات
اسی برکت کا کرشمہ ہے کہ یہ ہر قسم کی نباتات اگاتی ہے جن کے پھل اور پھول انسان اور دوسری مخلوقات کے کام آتے ہیں، یہ اسی کا فیض ہے کہ ایک دانہ انسان بوتا ہے اور زمین سینکڑوں دانوں کی شکل میں اس کا حاصل اس کو واپس کرتی ہے۔ ایک گٹھلی یا ایک قلم آدمی زمین میں لگاتا ہے اور ایک مدت دراز تک اس کا پھل وہ اور اس کے اخلاف کھاتے ہیں۔ علاوہ بریں یہ اسی برکت کا ثمرہ ہے کہ انسان اپنی سائنس کے ذریعہ سے اس کے جتنے پرت الٹتا جاتا ہے اتنے ہی اس کے اندر سے خزانے پر خزانے نکلتے آ رہے ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ انسان کی سائنس تھک جائے گی لیکن زمین کے خزانے کم ہونے والے نہیں ہیں۔
’ وقدر فیھا اقواتھا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کی آغوش میں جتنی مخلوقات ڈالی ہیں یا ڈالے گا اسی حساب سے اس کے اندر غذائی ذخائر بھی مقدر کردیئے ہیں۔ یہ ذخائر قیامت تک انسان کی سعی و تدبیر سے برآمد ہوتے رہیں گے۔ ہر مخلوق جو اس زمین پر پیدا ہوگی اس کے حصے کا رزق اللہ تعالیٰ نے زمین کو تحویل میں دے رکھا ہے اور اس کے برآمد کرنے کی تدبیر بھی انسان کو الہام کر رکھی ہے۔
ایام کی مجموعی تعداد جو آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں لگے
’ فی اربعۃ ایام ‘۔ یہ سارے کام چار دنوں میں انجام پائے۔ یعنی زمین کی خلقت کے دن اور اس کے اندر پہاڑ گاڑنے اور تقدیر اقوات کے دن سب ملا کر چار دن ہوئے۔ مذکورہ کاموں میں جتنے دن صرف ہوئے۔ یہ آخر میں ان سب کو جمع کردیا ہے۔
اللہ نے ہر قسم کی مخلوقات کے لئے ان کے جبلی تقاضوں کے مطابق غذا فراہم کی ہے
’ سوآء للسائلین ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنی قسم کی مخلوقات پیدا کی ہیں اور ان کی بقا کے لئے جس قسم کی غذا کی احتیاج ان کے اندر رکھی ہے، ان سب کی جبلی احتیاج کے اعتبار سے یہ غذائی ذخیرے ودیعت فرمائے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ کچھ مخلوقات تو وجود میں آگئی ہوں لیکن ان کی پرورش کے لئے جس غذا کی ضرورت ہے وہ وجود میں نہ آئی ہو۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر، زمین کی تہوں میں، سمندروں کی تاریکیوں میں، جہاں کہیں بھی کوئی چھوٹی یا بڑی مخلوق موجود ہے اس کے گرد و پیش میں اس کا طبعی رزق موجود ہے۔ ایک بکری گھاس کھا کر زندہ رہتی ہے اس کے لئے اللہ نے گھاس پیدا کی ہے۔ ایک شیر گوشت سے زندہ رہتا ہے اس کو اللہ نے شکار کے اسلحہ بھی دیئے ہیں اور شکار کے لئے جانور بھی پیدا کئے ہیں۔ اور یہ بات بھی صاف نظر آتی ہے کہ کسی کو بھی اپنی ماکیتاج سے زبردستی مناسبت نہیں پیدا کرنی پڑی ہے بلکہ جس کو جو کچھ بھی ملا ہے اس کے جبلی تقاضوں کے مطابق ملا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کہ یہ اللہ ہی کی شان ہو سکتی ہے کہ وہ اتنی بیشمار قسم کی مخلوقات پیدا کرے اور پھر ہر جنس دنوع کے جبلی تقاضوں کے متعلق ان کے لئے غذا فراہم کرے۔ خدا کے سوا اور کون ہے جو اس پر قادر ہو سکے ؟
لفظ ’ سوال ‘ ایک خاص مفہوم میں
لفظ ’ سوال ‘ یہاں اسی معنی میں ہے جس معنی میں سورة ابراہیم کی آیت 37 میں ہے : واٰتکم من کل ما سالتموہ ‘ (اور تم کو ان سب میں سے دیا جن کے تم محتاج ہوئے) یعنی تمہارے اندر اس نے جن چیزوں کی احتیاج رکھی وہ چیزیں بھی مہیا فرمائیں۔
اشتراکیت پسندوں کا ایک بےبنیاد استدلال
زیر بحث ٹکڑے سے اشتراکی حضرات نے غذائی مساوات کا ثبوت فراہم کرنے کی جو کوشش کی ہے اس کی تردید کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے آیت کی صحیح تاویل واضح کردی اور یہی ہماری ذمہ داری ہے۔ لوگوں کے اندر صحیح بات سمجھنے اور اس کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کردینا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔
Ayah 41:11پہلے آسمان پیدا ہوا یا زمین ؟
’ استوی الی الشیء ‘ کے معنی ہیں اس کی طرف توجہ کی۔ ’ اس کا قصد فرمایا ‘ اس کا ارادہ کیا۔ فرمایا کہ تخلیق زمین کے ان مراحل کے بعد آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور اس وقت وہ دھوئیں کی شکل میں تھا۔ دھوئیں، سے مراد غبار ہے یا سائنسدانوں کی اصطلاح میں اس کو نیبولا (NEBULA) یا سحابیے کہہ لیجیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا۔ اس کی یہ شکل ظاہر ہے کہ انہی دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہوگی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا ہے اس وجہ سے اس ’ استعاد ‘ سے مقصود وہ توجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کے لئے فرمائی۔ چناچہ آگے کی آیات سے واضح ہے کہ اس مرحلہ میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کو سات آسمانوں کی صورت میں مشکل کیا اور نظام کائنات میں ہر آسمان کا جو فریضہ ہے اس کا اس کو پابند کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین دونوں کی خلقت کا آغاز تو ایک ہی ساتھ ہوا ہے لیکن جس طرح ایک وسیع الاطراف عمارت کے مختلف حصوں میں تعمیر کے مصالح کے تحت کبھی اس کے کسی گوشہ میں کام ہوتا ہے کبھی کسی گوشہ میں اسی طرح آسمان و زمین کی تعمیر کا کام بھی ہوا ہے اس وجہ سے یہ سوال غیر ضروری ہے کہ پہلے زمین پیدا ہوئی ہے یا آسمان ؟ ایک مکان کی پلاننگ لازماً ایک ہی وقت میں ہوتی ہے۔ اس کے ہر حصہ کی تعمیر کے لئے ضروری میٹریل بھی فراہم کرلیا جاتا ہے۔ کام کا آغاز اگرچہ بنیادوں اور دیواروں سے ہوتا ہے لیکن ابھی ان کی تکمیل کا مرحلہ باقی ہی ہوتا ہے کہ چھت کا کام شروع ہوجاتا ہے۔ چھت سے متعلق ابھی کچھ مزید کام باقی ہی رہتے ہیں کہ دیواروں کے پلاستر کا کام سامنے آجاتا ہے۔ اس سے فارغ ہوئے کہ چھت کا بقیہ کام تکمیل کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس سے فراغت حاصل ہوئی تو فرش کی تکمیل کی طرف توجہ ہوئی۔ غرض ایک مکان کی تعمیر کا معاملہ ایک مرکب اور مجموعی نوعیت رکھتا ہے اور اسی حیثیت سے اس پر غور کرنا پڑتا ہے۔
اگرچہ اس چھوٹی سی مثال کو آسمان و زمین سے کوئی نسبت نہیں ہے لیکن بات کو سمجھنے کے لئے اسی پر آسمان و زمین کو بھی قیاس کرنا پڑے گا اس لئے کہ قرآن نے ان دونوں کا ذکر ایک مکان ہی کی نوعیت سے کیا ہے۔ کبھی آسمان کا ذکر مقدم کیا ہے کہیں زمین کا۔ کہیں یہ خیال گزرتا ہے کہ چھت پہلے بنی ہے اور کہیں یہ شبہ دل میں پیدا ہوتا ہے کہ چھت سے پہلے فرش کی تکمیل ہوئی ہے حالانکہ اس قسم کے شبہات محض اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ آسمان و زمین دونوں کو ایک مجموعہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ان کو الگ الگ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں ان اشارات پر قناعت کیجیے۔ انشاء اللہ سورة نازعات کی آیات 30۔ 33 کے تحت ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے۔
اس کائنات کی ہر چیز اپنی جبلت کے اعتبار سے مسلم ہے
’ فقال لھاد للارض ائتیا طوعا اوکرھا ط قالت اتینا طآئعین ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین دونوں کو وجود بخشنے کے بعد یہ ہدایت فرمائی کہ تم دونوں کو بہرحال میری اطاعت کرنی ہے، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم رضامندانہ اطاعت کے لئے حاضر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کائنات کی جو چیزیں جبلی طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہیں ان کی اطاعت بھی مجبورانہ نہیں بلکہ رضامندانہ ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی جبلت اسلام ہی کے سانچہ پر بنائی ہے۔ گویا اس کائنات کی ہر چیز اپنی جبلت کے لحاظ سے مسلم ہے۔ فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی جو نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کی فرمانبرداری پر مجبور ہیں بلکہ ان کی فطرت اللہ تعالیٰ نے اسلام کے رنگ میں اس طرح رنگی ہے کہ ان سے کبھی اس کی خلاف ورزی صادر نہیں ہو سکتی۔
’ ائتیا طوعا ‘ اسی طرح کا اسلوب ہے جس طرح حضرت سلیمان ؑ نے ملکہ سباکو اپنے نامہ میں لکھا تھا کہ ’ واتونی مسلمین ‘ جن لوگوں نے اس کے معنی اس سے الگ لئے ہیں انہوں نے اسلوب زبان سے ناواقفیت کے باعث بالکل غلط معنی لئے ہیں۔
جمادات بھی اپنے رب کے احکام کے سمجھنے اور ان کی تعمیل کے معاملہ میں عاقل ہیں
اس آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کائنات کی جن چیزوں کو ہم لایعقل جمادات کے درجہ میں رکھتے ہیں وہ بھی اپنے رب کے حکموں کو سمجھنے، اس کی باتوں کا جواب دینے، اس کے ارشادات کی تعمیل کرنے اور اس کی تحمید و تسبیح کے معاملہ میں پوری طرح عاقل ہیں۔ چناچہ یہاں آسمان و زمین کی زبان سے جو قول نقل ہوا ہے اس میں بھی لفظ ’ طآئعین ‘ آیا ہے جو ذوی العقول اور ذی ارادہ چیزوں ہی کے لئے موزوں ہے۔ اگر ہم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے یا ان کو خطاب نہیں کرسکتے تو اس کی بنا پر ہم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم ان کو بالکل لایعقل خیال کریں بلکہ یہ محض ہمارے علم کی نارسائی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کائنات کے ایک ایک ذرے کی تحمید و تسبیح کو سمجھتا ہے، اور ہر ذرہ اس کے حکموں کو سمجھ کر اس کی تعمیل کرتا ہے۔
Ayah 41:12ساتوں آسمانوں کی تکمیل
اس سے معلوم ہوا کہ جس وقت آسمان کی طرف توجہ فرمائی ہے اس قت ساتوں آسمانوں کا ہیولیٰ تو موجود تھا اگرچہ ابھی وہ تکمیل عمل (INISNING TOUCH) کا محتاج تھا۔ اس کا اشارہ جمع کی ضمیر اور بعد کے قرائن سے نکلتا ہے۔ فرمایا کہ بس ان کا فیصلہ فرما دیا کہ وہ سات آسمان بن جائیں۔
’ وادحی فی کل سماء امرھا ‘ اور ان میں سے ہر آسمان کی اس کائنات کے مجموعی نظام میں جو ڈیوٹی ہے وہ اس کو وحی فرمائی۔
’ وزینا السمآء الدنیا بمصابیع ‘ اور آسمان زیریں کو ستاروں کے قمقموں سے سجایا۔ یہاں اسلوب کی یہ تبدیلی ملحوظ رہے کہ اوپر کی باتیں غائب کے اسلوب میں ہیں اور یہ بات متکلم کے اسلوب میں۔ اسلوب کی اس تبدیلی کی بلاغت کی طرف اس کے محل میں ہم اشارہ کرچکے ہیں۔
’ وحفظا ‘ یہ مصدر فعل کی تاکید کے لئے ہے یعنی اس آسمان زیریں کو شیاطین جن کی در اندازیوں سے اچھی طرح محفوظ کیا۔ اس کی وضاحت اس کتاب کے متعدد مقامات میں ہوچکی ہے اور آگے سورة جن کی تفسیر میں اس کی مزید تفصیل انشاء اللہ آئے۔ یہ سارے کام دونوں میں تکمیل کو پہنچے اور مجموعی طور پر یہ کل چھ دن ہوئے۔ یہ اس اجمال کی تفصیل ہوگئی جو آسمان و زمین کی خلقت سے متعلق قرآن کے دوسرے مقامات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔
ساری تفصیل کا خلاصہ
’ ذلک تقدیر العزیز العلیم ‘۔ یہ ساری تفصیل کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ جو شخص اس کارخانہ کائنات پر غور کرے گا وہ پکار اٹھے گا کہ یہ ایک عزیز وعلیم کی منصوبہ بندی کا کرشمہ ہے۔ یعنی یہ کوئی اتفاقی حادثہ کے طور پر ظہور میں آجانے والی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے اندر نہایت حکیمانہ پلاننگ ہے اور یہ پلاننگ ایک ایسی ہستی کی ہوئی ہے جو ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے حیطہ اقتدار سے باہر نہیں ہے۔ ساتھ ہی اس کا علم محیط کل ہے کہ اس کائنات کے بعید سے بعید گوشوں کی ہر چیز سے بھی وہ باخبر، اس کی ضروریات سے واقف اور اس کائنات کے مجموعی نظام میں اس کا جو مصرف ہے اس سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ اس خلاصہ کو سامنے رکھتے ہوئے اب ابتداء کے سوال ائنکم لتکفرون بالذی… الآیۃ، کو اس کے ساتھ ملائیے تو گویا پوری بات یوں ہوگی کہ یہ کائنات اپنے وجود سے تو اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ یہ ایک عزیز وعلیم کی بنائی ہوئی اور اسی کے تصرف میں ہے لیکن تمہاری جہالت کا یہ عالم ہے کہ بہت سے فرضی دیویوں دیوتائوں کو اس کا شریک مان کر تم اس کا انکار کر رہے ہو۔ اس بات کو سوال کی صورت میں تعجب و کراہیت کے اظہار کے لئے رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی حماقت کے لئے کوئی وجہ جواز تو نہیں ہے لیکن جب عقل الٹ جاتی ہے تو انسان سے کوئی حماقت بھی بعید نہیں رہ جاتی۔
ان آیات کی تعلیم
ان آیات سے جو تعلیم نکلتی ہے اگرچہ آیات کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی طرف ہم اشارہ کرتے آ رہے ہیں لیکن چونکہ اس کا تعلق دین کی بنیادی حکمت سے ہے اس وجہ سے آخر میں ہم اس کی پھر یاد دہانی کئے دیتے ہیں۔
پہلی بات یہ نکلتی ہے کہ یہ دنیا نہایت تدریج و اہتمام کے ساتھ ایک طے کردہ پروگرام کے مطابق وجود میں آئی ہے۔ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ اس کو کسی نے بس یوں ہی کھیل تماشے کے طور پر بنایا ہے اور یہ یوں ہی چلتی رہے گی یا یوں ہی ختم ہوجائے گی۔ یہ اہتمام اس کے بامقصد و باغایت ہونے کی ناقابل انکار دلیل ہے اور اس بات کا باغایت و بامقصد ہونا لازماً آخرت کو مقتضی ہے۔
دوسری یہ کہ اس کا خالق بےنہایت قدرت اور غیر محدود علم کا مالک ہے اس وجہ سے اس کام میں نہ اس کو کسی کی مدد کی ضرورت ہوئی اور نہ کوئی اس کی مدد کرسکنے کا اہل ہے۔
تیسری یہ کہ آسمان و زمین دونوں نے مل کر ایک مکان کی شکل اختیار کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو فروکش کیا ہے اس وجہ سے یہ خیال بالبداہت غلط ہے کہ اس کی چھت پر کسی اور کا تصرف ہے اور اس کے فرش کا کوئی اور مالک ہے بلکہ آسمان و زمین دونوں کی سازگاری اس بات کی دلیل ہے کہ جس عزیز وعلیم نے ان کو پیدا کیا ہے وہی ان پر متصرف بھی ہے۔
چوتھی یہ کہ اس دنیا میں ربوبیت کا جو ہمہ گیر نظام ہے۔ وہ اس بات پر شاہد ہے کہ یہ خدائے عزیز وعلیم ہی کا قائم کیا ہوا ہے، کوئی دوسرا اس نظام کو قائم کرنے پر قادر نہیں ہے اس وجہ سے بندوں کو چاہئے کہ اسی کے آگے دست سوال دراز کریں اس لئے کہ حقیقی نافع و ضار وہی ہے۔
پانچویں یہ کہ ربوبیت کا یہ وسیع نظام اس بات کا مقتضی ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں لوگ اپنے منعم حقیقی کے روبرو حاضر ہوں۔ ان سے نعمتوں کے حق سے متعلق پرسش ہو۔ جنہوں نے ان کا حق پہچانا ہو وہ اس کا صلہ پائیں اور جنہوں نے ناشکری کی ہو وہ اس کی سزا بھگتیں۔
Ayah 41:132۔ آگے کا مضمون… آیات : 13۔ 24
آگے قریش کی تنبیہ کے لئے اس رسوا کن انجام کی بعض تاریخی مثالوں کا ذکر فرمایا ہے جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً سابقہ پیش آنا ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
قریش کے اعراض کا ذکر اوپر آیات 4۔ 5 میں گزر چکا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اعراض ہی کا فیصلہ کرلیا ہے تو ان کو آگاہ کر دو کہ اگر تمہارا فیصلہ یہی ہے تو میں تم کو اسی طرح کے کڑکے کے عذاب سے ڈراتا ہوں جس طرح کا عذاب عاد اور ثمور اور ان کی ہم مشرب دوسری قوموں پر آیا۔ یہاں اسلوب بیان سے واضح ہے کہ عاد اور ثمور کا ذکر محض بطور مثال بیان ہوا ہے۔ مقصود ان تمام قوموں کے انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے جو رسولوں کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک ہوئیں اور جن کا ذکر پچھلی سورتوں میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
’ صاعقۃ ‘ کا ذکر بطور عذاب کی ایک نمایاں علامت کے
’ صاعقۃ ‘ کا ذکر اس عذاب کی ایک نمایاں علامت کے طور پر ہوا ہے جس سے یہ قومیں ہلاک ہوئیں۔ دوسرے مقام میں ہم تفصیل سے واضح کرچکے ہیں کہ ان قوموں پر جو عذاب آیا وہ شمال کی باد تند، ژالہ باری اور ہولناک رعد و برق کا مجموعہ تھا۔ چناچہ قرآن میں اس کی تعبیر مختلف الفاظ سے ہوئی ہے۔ یہاں اس کے ایک نمایاں وصف ’ صاعقۃ ‘ سے اس کا ذکر فرمایا لیکن مقصود اس کے ان تمام لوازم کی طرف اشارہ کرنا ہے جو دوسرے مقامات میں مذکور ہوئے ہیں اور ان میں بعض کا ذکر یہاں بھی آگے آ رہا ہے۔
Ayah 41:14لفظ ’ رسل ‘ کے جمع لانے کی علت
ان قوموں کی طرف اگرچہ دو ہی رسولوں…حضرت ہود اور حضرت صالح علیہما السلام… کا مبعوث ہونا قرآن میں مذکور ہوا ہے لیکن یہاں لفظ ’ رسل ‘ بصورت جمع استعمال ہونے کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ ان قوموں کا ذکر یہاں بطور مثال ہوا ہے۔ مقصود ان تمام قوموں کی طرف اشارہ کرنا ہے جنہوں نے ان کی روش بد کی پیروی اور اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
رسولوں کی ہمہ جہت جدوجہد کی تعبیر
’ من بین ایدیھم و من خلفھم الا تعبدوآ الا اللہ ‘۔ یہ ان رسولوں کی اس انتھک، ہمہ جہت اور شبانہ روز جانفشانی کی تعبیر ہے جو انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو دعوت توحید پہنچانے میں صرف کی۔ ابلیس نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لئے جو چیلنج دیا تھا اس کے الفاظ ہیں : ’ لا یتیھم من بین ایدیھم و من خلفھم ‘(الاعراف : 17) (میں ان پر ان کے آگے اور پیچھے سے گھیرے ڈالوں گا) قرآن نے یہاں رسولوں کا یہ وصف بیان کر کے گویا یہ واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کو ابلیس کے فتنوں سے بچانے کے لئے اپنے رسول بھی ایسے بھیجے جنہوں نے ان کو ہر جہت سے سمجھانے میں اپنے رات دن ایک کردیئے۔
قوموں کی طرف سے رسولوں کو جواب
’ قالوا لو اشاء…الآیۃ ‘ لیکن رسولوں کی اس ساری تگ و دو کی انہوں نے قدر کی تو یہ کہ ان کی رسالت کی تکذیب کردی کہ اللہ تعالیٰ ہماری طرف رسول بھیجنے والا ہوتا تو فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجتا نہ کہ ہمارے ہی جیسے آدمیوں کو اور تم چونکہ ہمارے ہی جیسے آدمی ہو اس وجہ سے ہم تمہاری رسالت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ پس جو پیغام (اشارہ پیغام توحید کی طرف ہے) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم کو اس کے قبول کرنے سے صاف انکار ہے۔ ’ فانا بما ارسلتم بہ ‘ کے اسلوب میں جو طنز ہے وہ اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ آپ لوگ بزعم خویش جس پیغام کے حامل بن کر آئے ہیں ہمیں اس سے صاف انکار ہے یعنی نہ ہم آپ لوگوں کو رسول مانتے اور نہ آپ لوگوں کے پیغام کو پیغام۔ اس وجہ سے ہم پر اس قسم کی کوئی دھونس جمانے کی کوشش نہ کی جائے۔
Ayah 41:15عاد کا رویہ
یہ ان کے اس رویہ کی کسی قدر وضاحت ہے جو انہوں نے اپنے رسولوں کے انذار کے مقابل میں اختیار کیا۔ پہلے زمانی تقدم کی بنا پر عاد کو لیا ہے۔ فرمایا کہ عاد کو جو قوت و شوکت اللہ تعالیٰ نے بخشی اس کو پا کر خدا کے شکر گزار ہونے کے بجائے وہ خدا کی زمین میں اکڑنے والے بن گئے۔ ان کے اس ’ استکبار ‘ کو ’ بغیر الحق ‘ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ اس کے محل میں ہم اشارہ کرچکے ہیں، یہ ہے کہ تکبر صرف اس کے لئے زیبا ہے جو اس تمام کائنات کا خالق ومالک ہے اس کے سوا اور کسی کے لئے بھی یہ جائز نہیں ہے۔
’ وقالوا من اشد منا قوۃ ‘۔ یہ ان کے اسی تکبر کی وضاحت ہے کہ جب اللہ کے رسول نے ان کو ڈرایا کہ اگر وہ اپنی سرکشی کی اس روش پر جمے رہے تو جلد اللہ کی پکڑ میں آجائیں گے تو اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ اگر ہماری روش تباہی کی روش ہوتی تو کیا اس کا نتیجہ یہی ہونا تھا کہ آج اس سرزمین پر ہم قوت و شوکت میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ! اس وجہ سے ہمارا خیال تو یہ ہے کہ ہم تباہی کے راستہ پر نہیں جا رہے ہیں۔ بلکہ وہ لوگ دماغی خرابی میں مبتلا ہیں جو ہمیں عذاب سے ڈرا رہے ہیں۔
’ اولم یروا… الآیۃ ‘ یہ ان کے مذکورہ احمقانہ چیلنج کا جواب ہے کہ اگر وہ ذرا بھی عقل سے کام لیتے تو وہ یہ بات آسانی سے سمجھ سکتے تھے کہ جس خدا نے ان کو اور اس ساری کائنات کو وجود بخشا ہے وہ زور و قوت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ وہ جب چاہے اور جہاں سے چاہے ان کو پکڑ سکتا ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس سے مزاحم ہو سکے۔
’ وکانوابایتنا یجعدون ‘۔ اس کا تعلق اصل سلسلہ کلام سے ہے۔ بیچ میں اولم یروا…الآۃ ‘ کا ٹکڑا ان کے چیلنج کے فوری جواب کے طور پر آگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے استکبار کے سبب سے کوئی بات بھی سننے سمجھنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اللہ کے رسول نے ان کو جو آیتیں سنائیں یا جو نشانیاں دکھائیں وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ ان کا انکار کرتے رہے۔
Ayah 41:16عاد پر عذاب
’ ریع صرصر ‘ سے مراد وہ باد تند ہے جو عرب میں شدید سردیوں کے زمانے میں شمال سے چلتی ہے اور جس کے ساتھ سرما کے بادل بھی ہوتے ہیں اور گرج چمک بھی۔
’ ایام نحسات ‘ سخت سردی کے ان دنوں کو بھی کہتے ہیں جن میں سردی کی شدت کے سبب سے ہر چیز پر اداسی، افسردگی، خشکی اور ایک قسم کی نحوست چھا جاتی ہے۔
فرمایا کہ چونکہ انہوں نے استکبار اور حق سے اعراض کی روش اختیار کرلی اس وجہ سے ہم نے ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھانے کے لئے، ان پر سرما کی نحوست کے ایام میں، باد صر صر مسلط کردی جس نے ان کو بالکل تاراج کر کے رکھ دیا۔ اس طرح وہ ان لوگوں کی نگاہوں میں بھی ذلیل ہوئے جن کے انذار کے جواب میں وہ ’ من اشد منا قوۃ ‘ کا نعرہ لگاتے تھے اور اپنی دوسری ہم چشم قوموں کی نگاہوں میں بھی ایک نمونہ عبرت بن کر رہ گئے اور اس عذاب دنیا کے بعد ان کو عذاب آخرت سے بھی سابق پیش آنا ہے جو اس عذاب سے بھی زیادہ رسوا کن ہوگا اس لئے کہ اس کی رسوائی ابدی اور تمام خلائق کے سامنے ہوگی۔
’ وھم لا ینصرون ‘۔ اور اس دن کسی طرف سے بھی ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی۔ نہ ان کی وہ قوت و جمعیت ان کے کچھ کام آئے گی جس پر وہ نازاں رہے اور نہ ان کے وہ دیوی دیوتا کچھ کام آئیں گے جن کی حمایت میں انہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔
Ayah 41:17ثمود کا رویہ اور ان پر عذاب
فرمایا کہ یہی حال عاد کے بعد ثمود کا بھی ہوا۔ ہم نے ان کے لئے بھی ہدایت کی راہ کھولی لیکن انہوں نے ہماری ہدایت پر اپنی ضلالت ہی کو ترجیح دی بالآخر ان کے اعمال کی پاداش میں ہم نے ان کو بھی ذلت کے عذاب میں پکڑا اور وہ بالکل پامال و ذلیل ہو کر رہ گئے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ ان کے عذاب کی نوعیت بھی کم و بیش وہی تھی جس کی وضاحت قوم عاد کے عذاب کے سلسلہ میں ہوچکی ہے۔ نظائر قرآن کی روشنی میں اس کی تفصیل اس کے محل میں ہم پیش کرچکے ہیں۔
Ayah 41:18ونجینا الذین امنوا و کانوایتقون (18)
یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان عذابوں سے نجات دی۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جو لوگ رسولوں پر ایمان لائے اور انذار سے متنبہ ہو کر انہوں نے تقویٰ کی زندگی اختیار کرلی اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب سے بچا لیا۔ اس آیت میں اشارہ عاد اور ثمود دونوں قوموں کے مومنین کی طرف ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں تفصیل ہے کہ ان قوموں میں سے جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ نے رسول کے ساتھ ان کو بھی عذاب سے محفوظ رکھا۔
Ayah 41:19’ ویوم یحشرا عدآعا اللہ الی النار فھم یوزعون (19)
دنیا کے عذاب کے بعد آخرت کی رسوائی
دنیا کے عذاب کے بعد اب یہ ان کی اس رسوائی اور عذاب کا ذکر آ رہا ہے جس سے ان کو قیامت کے دن سابقہ پیش آئے گا۔
’ یحشر ‘ کے بعد ’ الی ‘ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں یہ لفظ ’ یساقون ‘ یا اس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضمن ہے۔ ’ یوزعون ‘ کی وضاحت سورة نمل کی آیت 17 کے تحت ہوچکی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ان کی درجہ بندی کی جائے گی، شاہ عبد القادر صاحب ؒ نے اپنے ترجمہ میں لفظ کے اس مفہوم کا لحاظ رکھا ہے۔
فرمایا کہ اس دن کا بھی دھیان کرو جس دن اللہ کے یہ سارے دشمن ہانک کر جہنم کے پاس اکٹھے کئے جائیں گے اور وہاں ان کی درجہ بندی ہوگی۔ جو جہنم کے جس طبقہ کے سزاوار ٹھہریں گے وہ اپنے مخصوص دروازے سے اس طبقہ میں داخل ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ الگ الگ مجرمین کے ساتھ، ان کے اعمال کے اعتبار سے، الگ الگ معاملہ ہوگا۔
Ayah 41:20فرمایا کہ جب دوزخ کے پاس سب اکٹھے ہو لیں گے تو یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کون کس درجہ کا مجرم اور جنم کے کس طبقہ کا سزا وار ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی زحمت پیش نہیں آئے گی اس لئے کہ اس دن کئی اپنے کسی عمل کو چھپا نہیں سکے گا۔ آدمی کے کان، آنکھ، بلکہ اس کے جسم کے رونگٹے تک اس کے تمام اعمال کی گواہی دیں گے۔
لفظ ’ جلود ‘ یہاں خاص کے بعد عام کی حیثیت سے آیا ہے۔ ’ سمع ‘ اور ’ بصر ‘ کا خاص گواہ ہونا تو واضح ہے کہ ہر چیز کے سننے اور دیکھنے والے یہی ہیں لیکن آدمی کے پاس اور بھی اعضا وجوارح ہیں جن سے وہ بدی یا نیکی میں کام لیتا ہے۔ لفظ ’ جلود ‘ نے ان سب کا احاطہ کرلیا ہے۔ گویا اس دن آدمی کے بدن کارواں دواں گوای کے لئے زبان بن جائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ لفظ ’ جلود ‘ قرآن مجید میں رونگٹوں کے مفہوم میں آیا ہے۔ آیت تتشعر منہ حلود الذین… الآیۃ (الزمر : 23) کے تحت لفظ کے اس مفہوم پر ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔
Ayah 41:21آدمی کے اعضاء کی گواہی خود اس کے خلاف
اپنے اعضاء کی گواہی خود اپنے خالق سن کر وہ اپنے سر پیٹ لیں گے اور ان کو ملامت کریں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ وہ جواب دیں گے کہ آج تو ہر چیز ناطق بن گئی ہے تو جس نے ہر چیز کو آج ناطق بنا دیا ہے اسی نے ہم کو بھی ناطق بنا دیا ہے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے دن ہر چیز اپنی ساری سرگزشت سنا دے گی۔ مثلاً فرمایا ہے : اذا زلزلت الارض زلزالھا۔ واخرجت الارض اتقالھا۔ وقال الانسان مالھا ج یومئذ تعدث اخبارھا ‘ (الزلزال : 1۔ 4) (جب کہ زمین پوری شدت کے ساتھ ہلا دی جائے گی اور زمین اپنے سارے بار بوجھ نکال پھینکے گی اور انسان پکار اٹھے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ! !…اس دن وہ اپنی سرگزشت سنا ڈالے گی)
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز ناطق تو آج بھی ہے اس لئے کہ ہر چیز اللہ کی نشانی ہے اور اس کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت کی گواہ بن کر وہ انسان پر حجت قائم کر رہی ہے لیکن آج ان کی گواہی کو صرف وہی لوگ سن رہے ہیں جن کے دل بیدار ہیں۔ البتہ قیامت کے دن ان کی گواہی سب سنیں گے اور سب ان کی تصدیق کریں گے اس لئے کہ جو حجابات آج حائل ہیں وہ اس دن در ہوجائیں گے۔
’ وھو خلقکم اول مرۃ والیہ ترجعون ‘ اگرچہ یہ بات بھی اسی بات کا ایک حصہ ہو سکتی ہے جو ’ جلود ‘ کی زبان سے نقل ہوئی ہے لیکن میرے نزدیک اس کا عطف اصل سلسلہ کلام پر ہے۔ ’ جلود ‘ سے سوال اور ان کے جواب کا ذکر بیچ میں بطور جملہ معترضہ آگیا ہے۔ اصل بات جو اوپر فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس دن ان کے کان، آنکھ اور ان کے دوسرے تمام اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے اور مقصود اس سے اس حقیقت کی وضاحت ہے کہ جب صورت حال یہ ہے کہ آدمی کے اپنے ہی اعضاء اس کے سارے راز کھول دینے کے لئے ناطق ہوجائیں گے تو کسی اور کی گواہی اور شہادت و شفاعت اس کے لئے کیا نافع ہو سکے گی ؟ مدعی کی اپنی گواہی تو لاکھوں کی گواہی پر بھاری ہو سکتی ہے۔ اسی پر عطف کرتے ہوئے فرمایا کہ اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ اسی نے تم کو اول بار پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے۔ یعنی اگر تم نے یہ امید باندھ رکھی ہے کہ تمہاری واپسی تمہارے ان مزعومہ دیویوں دیوتائوں میں سے کسی کی طرف ہوگی جن کی تم پرستش کرتے ہو تو یہ خیال محض وہم پر مبنی ہے۔ جن کو خلق و تدبیر میں کوئی دخل نہیں ہے۔ آخر وہ مولیٰ و مرجع کس طرح بن جائیں گے !
Ayahs 41:22–24’ تسترون کا مفہوم
تسترون کی تاویل بعض اہل تاویل نے تخافون سے کی ہے۔ ان کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے کان، آنکھ اور دوسرے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ میرے نزدیک لفظ کی یہ تعبیر صحیح ہے۔ یہ لازم سے ملزوم پر استدلال کی نوعیت کی ایک چیز ہے جس کی مثالیں ہر زبان میں مل سکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ یہ اندیشہ رکھتے ہوتے تو کوئی برا کام کرتے ہوئے ان سے چھپتے لیکن جب ان سے وہ نہیں چھپتے تھے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ ان سے کوئی اس نوعیت کا اندیشہ نہیں رکھتے تھے۔
’ ولکن ظننتم…الآیۃ ‘۔ ’ لکن ‘ یہاں ’ بل ‘ کے مفہوم میں ہے یعنی اعضا کی گواہی کا اندیشہ تو درکنار تمہاری بلادت کا تو یہ عالم رہا ہے کہ تم خدا کے متعلق بھی اس گمان میں مبتلا رہے ہو کہ اس کو بھی تمہارے بہت سے اعمال کی خبر نہیں ہوتی۔
Ayah 41:254۔ آگے کا مضمون … آیات : 5 2۔ 36
قیامت کے دن کفر کے سرغنوں اور ان کے پیروئوں کا جو حال ہوگا پہلے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آج تو قرآن کی مخالفت کے لئے انہوں نے آپس میں بڑا گٹھ جوڑ کر رکھا ہے لیکن جب اس کا انجام سامنے آئے گا۔ تو وہ ایک دوسرے کے ایسے جانی دشمن بن جائیں گے کہ عوام اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ ان کے لیڈران کو دکھا دیئے جائیں کہ وہ ان کو اپنے قدموں سے روند ڈالیں۔
اس کے بعد ان لوگوں کا حال بیان ہوا ہے جو ان تمام غوغا آرائیوں کے علی الرغم توحید پر ثابت قدم رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ ان کے پاس بشارت لے کر آئیں گے کہ اب آپ کی آزمائشوں کا دور ختم ہوگیا۔ آگے اب آپ لوگوں کے لئے ابدی بادشاہی کی جنت ہے۔
اسی ذیل میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ سب سے زیادہ مبارک دعوت تم لے کر آئے ہو۔ اگر تمہارے نادان مخالفین اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں، اس کو گوش دل سے سننے کے بجائے، اس میں گڑبڑ پیدا کرنی چاہتے ہیں تو تم ان کی ان بدتمیزیوں کا مقابلہ عفو و درگزر سے کرو۔ تمہاری یہی کریمانہ روش تمہاری دعوت کے لئے موجب خیر و برکت ہو گی… آیات کی تلاوت کیجیے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
وقیضتا لھم قرنآء فزینوالھم مابین ایدیھم وما خلفھم و حق علیھم القول فی امم قدخلت من قبلھم من الجن والانسج انھم کانوا خسرین (25)
اللہ کی یاددہانی سے اعراض کا انجام
یعنی ان لوگوں کے اس انجام سے دوچار ہونے کا سبب یہ ہوا کہ انہوں نے اللہ کی یاددہانی سے اعراض کیا اور اس کے رسولوں کی تعلیم پر کان دھرنے کے بجائے اس کی ناقدری کی۔ اس کی سزا اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دی کہ ان پر نہایت برے لیڈر مسلط کردیئے جنہوں نے ان کو خوب خوب سبز باغ دکھائے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ عذاب ان کے بارے میں بھی پورا ہو کے رہا جو ان سے پہلے گزرنے والے نافرمانی قوموں پر پورا ہوا۔
’ وقیضنا لھم قرناء ‘ میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة زخرف میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے۔ ومن یعش عن ذکر الرحمن نقبض لہ شیطنا فھولہ قرین (الخروف :26) (اور جو اللہ کی تذکیر سے آنکھیں بند کرلیتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں پس وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے) یہ شیطان جنوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی اور جب کوئی قوم اپنی خدا فراموشی کے سبب سے ایسے شیطانوں کو اپنے اوپر مسلط کرلیتی ہے تو پھر یہ شیاطین اس کی جان اس وقت تک نہیں چھوڑتے جب تک اس کو عذاب الٰہی میں گرفتار نہ کرا لیں۔
فزینوا لھم مابین ایدیھم وما خلفھم یعنی وہ قوم کے ماضی و حاضر کو اس طرح مزین کر کے اس کے آگے پیش کرتے ہیں کہ اس کو اپنے اعمال و کردار اور عقائد و نظریات میں کسی پہول سے کوئی خلا نظر نہ آئے تاکہ انبیاء اور مصلحین کی تذکیر و تنبیہ سے بالکل بےپروا ہو کر وہ اسی راہ پر چلتی رہے جس پر وہ اس کو چلانا چاہتے ہیں۔
وحق علیھم القول میں القول سے مراد عذاب الٰہی کی وہ دھمکی ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کو دی اور جو ان تمام قوموں پر پوری ہوئی جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی۔ ان میں سے قوموں کے عذاب کا اجمالی حوالہ اوپر اس سورة میں بھی گزر چکا ہے۔
Ayah 41:26وقال الذین کفروا لاتسمعوالھذا القرآن و الغوافیہ لعلکم تغلبون (26)
حق سے روکنے کے لئے گنڈوں کا ہتھیار
الذین کفروا اگرچہ لفظاً عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد کفر کے وہ سرغنے ہیں جو مشرکین عرب پر مسلط تھے اور جن کے رویہ پر اوپر والی آیت میں اجمالی تبصرہ ہوا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ قرآن کی دعوت سے لوگوں کو روکنے کے لئے اپنے گنڈوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ جب دیکھو کہ محمد ﷺ لوگوں کو قرآن سنا رہے ہیں تو نہ اس کو خود سنو اور نہ دوسروں کو سننے دو بلکہ اپنے شور و شغب اور اپنی ہوٹنگ سے ایسا گھپلا پیدا کرو کہ محمد ﷺ کی بات بالکل دب جائے اور تمہاری بات اونچی رہے۔
Ayah 41:27فلنذیقن الذین کفروا عذاباً شدیدا ولنجزینھم اسوا الذین کانوا یعملون (27)
فرمایا کہ یہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرلیں ہم بھی ان کی ان حرکتوں کی پاداش میں ایک عذاب شدید کا مزا ان کو چکھائیں گے۔ اور ان کے اعمال کا وہ بدترین پہلو ان کے سامنے لائیں گے جن کا ان کو ابھی کوئی اندازہ نہیں ہے۔
اعمال کے اثرات کا صحیح اندازہ آخرت ہی میں ہو گا
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس دنیا میں انسان اپنے اعمال کے اثرات و نتائج کا صحیح ادنازہ نہیں کرسکتا۔ انسان کا ہر عمل، خواہ وہ نیک ہو یا بد، اپنے اندر متعدی اثرات رکھتا ہے۔ اپنی اس صفت کے سبب سے بعض حالات میں انسان کی ایک چھوٹی سی نیکی بڑھتے بڑھتے احد پہاڑ کے برابر بن جاتی ہے۔ اسی طرح ایک بڑائی جو اپنے ابتدائی مرحلے میں معمولی نظر آتی ہے آہستہ آہستہ ایک خوفناک جنگل بن جاتی ہے۔ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے قتل ناحق کی جو طرح ڈالی وہ ایک ایسی متعدی برائی نکلی کہ دنیا کے ہر قتل ناحق میں سے ایک حصہ برابر اس کے کھاتے میں بھی جمع ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب قیامت میں ہر شخص کے سامنے اس کے اعمال کے نتائج آئیں گے تب ہی وہ صحیح صحیح اندازہ کرسکے گا کہ اس کی فلاں برائی کس درجہ کی برائی تھی۔ اسی حقیقت کی طرف ہیاں ولمجزینھم اسوالذین کانوا یعملون کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے کہ ابھی ان نادانوں کو اندازہ نہیں ہے کہ قرآن سے لوگوں کو روک کر اور اس میں گھپلا پیدا کر کے یہ اپنے لیے کیسی بس بھری فصل تیار کر رہے ہیں جب اس کا پورا حاصل ان کے سامنے آئے گا تب وہ اس کا بدترین پہلو (اسواء) دیکھیں گے اور اس وقت انہیں اندازہ ہوگا کہ اپنی تباہی کا کیا سامان کر کے وہ آئے ہیں۔
Ayah 41:28ذلک جزآء عدآء اللہ النار، لھم فیھا دارالخلد ط جزآء بما کانوا بایتنا یعجدون (28)
ذلک کا اشارہ اسی بدترین جزاء (جزاء اسواء) کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ اعدآء اللہ، سے مراد یہاں قرینہ دلیل ہے کہ قریش کے وہی لیڈر ہیں جو اپنے گنڈوں کے ذریعہ سے قرآن کی دعوت دبا دینے کے در پے تھے۔ النار مستقل جملہ ہے۔ خبر پر زور دینے کے لئے اس میں مبتداء کو حذف کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جزا جو بیان ہوئی ہے ان لوگوں کے سامنے آئے گی جو آج اللہ اور اس کے دین کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور اس بات کو خوب سمجھ لو کہ اس سے مراد دوزخ ہے۔ اسی میں ان کفر کے سرغنوں کے گھر ہوں گے جن میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ یہ سزا ان کو اس جرم میں ملے گی کہ وہ برابر اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے۔ نہ خود ان کی طرف توجہ کی اور نہ دوسروں کو ان کی طرف متوجہ ہونے دیا۔
Ayah 41:29وقال الذین کفروا ربنا ارنا الذین اضلنا من الجن والانس نجعلھما تحت اقدامنا لیکونا من السلمین (29)
عوام کا غصہ اپنے لیڈروں کے لخاف
یہاں بھی الذین کفروا اگرچہ لفظ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہ عوام ہیں جو اپنے لیڈروں کے ورغلانے سے گمراہ ہوئے۔ ضامنوں نے خود قرآن کی طرف توجہ کی اور نہ دوسروں کو، جہاں تک ان کا بس چلا، اس کی طرف متوجہ ہونے دیا۔ فرمایا کہ جو عوام آج اس وفاداری کے ساتھ اپنے لیڈروں کی پیروی کر رہے ہیں جب وہ دیکھیں گے کہ ان کے لیڈروں نے ان کو کس گھاٹ میں لا کر اتارا ہے تو وہ غصہ سے دانت پیسیں گے اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ اب رب ! جن انسانوں اور جنوں نے ہم کو یہ راہ دکھائی ہے ایک نظر تو ان کو ہمی دکھا دے کہ ہم ان کو اپنے قدموں کے نیچے روند کر ان کے استکبار اور ان کی لیڈری کا مزا ان کو چکھا دیں اور ان کو ذلیل کر کے اپنا کلیجہ ٹھنڈا کرلیں۔
Ayah 41:30ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملٓئکۃ الاتخافوا ولا تخزنوا و ابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون (30)
ایمان پر ثابت قدم رہنے والوں کو بشارت
قیامت کے دن مخالفین حق کا جو حشر ہوگا اس کو سنانے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے جنہوں نے رسول کی دعوت قبول کرلی اور پھر تمام مخالفتوں سے بےپروا ہہو کر پوری یکسوئی و دلجمعی کے ساتھ، اس پر جم گئے۔ فرمایا کہ قیامت کے دن فیصلہ امور سے پہلے ان کی دلداری و تسلی کے لئے ان کے پاس اللہ کے فرشتے آئیں گے جو ان کو اطمینان دلائیں گے کہ بس اب آپ لوگوں کی آزمائش کا دور ختم ہوا، اب آپ کے لئے نہ کوئی خوف ہے نہ کوئی غم، اب آپ لوگ اس جنت کی بشارت قبول کریں جس کا نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے دنیا میں آپ لوگوں سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔
Ayah 41:31نحن اولیآء کم فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون (31)
اہل امیان کو اس دنیا میں بھی فرشتوں کی میت حاصل ہوتی ہے
یعنی کفار کے ساتھی تو شیاطین جن و انس بنے رہے اور انہوں نے بالآخر جہنم کے گھاٹ پر ان کو لا اتارا لیکن آپ کے ساتھی دنیا میں بھی ہم رہے ہیں اور آخرت میں بھی ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ اب جو جنت آپ لوگوں کو ملنے والی ہے اس میں آپ کے لئے وہ سب کچھ ہے جن کو آپ کا جی چاہے گا اور مزید وہ چیزیں بھی آپ کو ملیں گی جو آپ طلب کریں گے۔ یہ امر یہاں واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس دنیا میں بھی اہل ایمان کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ ان کو نیکی کی راہ میں سجھاتے ہیں اور اس راہ میں جو مشکلیں پیش آتی ہیں ان میں ہمت بھی بند ھاتے ہیں۔ ان کی مدد سے انسان اسی وقت محروم ہوتا ہے جب وہ ان کی رہنمائی و حوصلہ افزائی کی قدر کرنے کے بجائے اپنی باگ کلیتہ شیطان کے ہاتھ میں پکڑا دیتا ہے۔ فرشتوں کی مدد و معیت پر سورة انفال کی تفسیر میں ہم وضاحت سے لکھ چکے ہیں۔
Ayah 41:32نزلاً من غفور رحیم (32)
نزل مہمان کی ابتدائی ضیافت کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تو جو کچھ آپ لوگوں کو ملے گا کس حیثیت ابتدائی ضیافت کی ہے۔ آگے جو کچھ ملنے والا ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔