40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ا۔ سورة کا عمود گروپ کی پچھلی سورتوں کی طرح اس سورة کی بنیاد بھی توحید پر ہی ہے۔ قرآن کے دوسرے اصولی مطالب بھی اس میں زیر بحث آئے ہیں لیکن اصلاً نہیں بلکہ ضمناً توحید کے لوازم و مقتضیات کی حیثیت سے آئے ہیں۔ اس کا قرآنی نام حٰمٓ ہے اور یہی نام اس کے بعد کی چھ سورتوں کا بھی ہے۔ یہ ساتوں حوا میم کے نام سے مشہور ہیں اور اپنے ناموں کی طرح اپنے مطالب میں بھی مشترک ہیں۔ یہ تمام سورتیں دعوت کے اس دور سے تعلق رکھنے والی ہیں جب توحید و شرک کی بحث نے اتنی شدت اختیار کرلی تھی کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں پر مکہ میں عرصہ ٔ حیات تنگ ہونے لگا تھا۔ ہجرت کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے۔ اب اس میں اور آگے کی سورتوں میں وقت کے یہ حالات بالتدریج نمایاں ہوتے جائیں گے اور ان کے تقاضے سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ٔ نصرت و حمایت بھی بالکل واضح ہوتا جائے گا۔ جو مسلمان اس وقت حالات سے نبرد آزما تھے ان کی اس میں حوصلہ افزائی کی گئی ہے، جو خطرات میں تھے ان کو تسلی دی گئی ہے اور جو دعوت کے ساتھ ہمدردی رکھنے کے باوجود کسی مصلحت سے، اب تک کھل کر اس کی حمایت کے لئے میدان میں نہیں اترے تھے ان کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ مصلحتوں سے بےپروا ہو کر وہ کلمہ ٔ حق کی سربلندی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں، اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہوگا۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (١۔ ٦) اس کتاب کی تنزیل اس خدا کی طرف سے ہے جو غالب و مقتدر بھ ہے اور علیم بھی۔ گناہوں کو بخشنے والا، توبہ کو قبول کرنے والا بھی ہے اور سخت پاداش والا اور صاحب قدرت و اختیار بھی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹنا اور اسی کے آگے سب کو پیش ہونا ہے۔ اس قرآن کی مخالفت میں کج بحثی وہی لوگ کر رہے ہیں جو جزا و سزا کے منکر ہیں۔ اس وقت اس ملک میں یہ لوگ جو دندنا رہے ہیں اس سے کسی کو غلط فہمی نہ ہو۔ ان سے پہلے جو تو میں گزر چکی ہیں ان کی تاریخ سبق آموزی کے لئے کافی ہے۔ ان قوموں نے بھی اسی طرح اپنی کج بحثیوں سے حق کو پسپا کرنے اور رسولوں کو شکست دینے کی کوشش کی لیکن قبل اس کے کہ وہ اللہ کے رسول پر ہاتھ ڈالیں ان کو عذاب نے آپکڑا۔ اسی طرح ان متمردین پر بھی اللہ کا قانون عذاب صادق ہوچکا ہے اور یہ اپنے طغیان و فساد کی پاداش میں جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔ (٧۔ ٩) جو لوگ فرشتوں کی سفارش کے بل پر خدا اور اس کے روز جزا سے بےپروا بیٹھے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کے مقرب فرشتے خدا کے باغیوں کے سفارشی نہیں ہیں بلکہ وہ ہر وقت خدا کی حمد و تسبیح میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے اور ان اہل ایمان کے لئے برابر استغفار کرتے رہتے ہیں جو اپن گمراہیوں سے توبہ کر کے خدا کے راستہ کی پیروی کریں۔ (١٠۔ ١٢) قیامت کے دن مشرکین جس طرح اپنے جرم کا اقرار اور خدا سے فریاد کریں گے اور ان کی فریاد کے جواب میں خدا کی طرف سے ان پر جو پھٹکار ہوگی، اس کی طرف اجمالی اشارہ۔ (١٣۔ ٢٠) تمام رحمت اور نقمت اللہ ہی کے اختیار میں ہے اس وجہ سے بندگی اور اطاعت کا حق دار وہی ہے۔ وہ بہت بلند رتبہ اور عالی مقام ہے۔ اس کے بھیدوں سے کوئی واقف نہیں ہوسکتا۔ قیامت کے دن تنہا وہی مالک ہوگا اور مشرکوں کی سفارش کوئی نہیں کرسکے گا۔ (٢١۔ ٢٢) تاریخ کی شہادت کہ جن قوموں نے توحید کی دعوت دینے والے رسولوں کو جھٹلایا ان پر اللہ کا عذاب آیا اور جب ان پر عذاب آیا تو ان کے مزعومہ شرکاء ان کے کچھ کام نہ آسکے۔ قریش کو تنبیۃ کہ یہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے اگر تم نے انہی کی روش اختیار کی۔ (٢٣۔ ٥٥) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت کا ایک خاص حصہ جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) اور قریش کو مندرجہ ذیل امور کی یاددہانی کی گئی ہے۔ o قریش کو یہ تنبیہ کہ قوت و صولت میں فرعون اور اس کی قوم کے لوگ تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے، لیکن جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی تکذیب کی پاداش میں ان پر عذاب آیاتو کوئی چیز بھی ان کے کام آنے والی نہ بن سکی۔ ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو یہ یاد دہانی کہ دعوت حق کے مخالفین کے ہاتھوں جو آزمائشیں پیش آرہی ہیں، صبر و عزیمت کے ساتھ، ان کو برداشت کرو۔ اگر تم اپنے موقف حق پر ڈٹے رہے تو بالآخر کامیابی تمہی کو حاصل ہوگی۔ ۔ اس سرگزشت کے ذیل میں خاندان فرعون کے ایک مرد مومن کا کردار بھی بیان ہوا ہے، جو قریش کے لیڈروں کے لئے بھی نہایت سبق آموز ہے اور ان لوگوں کے لئے بھی نہایت ہمت افزا ہے جو دعوت حق سے ہمدردی رکھنے کے باوجود اب تک اس کے اظہار و اعلان میں ہچکچا رہے تھے۔ (٥٦۔ ٨٥) توحید اور قیامت کے آفاقی و انفسی دلائل کا حوالہ۔ قریش کو نہایت کھلے الفاظ میں انداز اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) سے نہایت قطعی الفاظ میں فتح و نصرت کا وعدہ۔

Ayahs 40:1–3

حٰمٓۚ Open ayah 40:1 in the Quran reader

یہ حٰمٓ ہے۔

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کی تنزیل خدائے عزیز وعلیم کی طرف سے ہے ،

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

جو گناہوں کو بخشنے والا، توبہ کو قبول کرنے والا، سخت پاداش اور بڑی قدرت والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حم۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم۔ غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول ط لا الہ الا ھو ط الیہ المصیر (1۔ 3) تمام حوا میم نام کی طرح مزاج میں بھی بالکل یکساں ہیں حٰمٓ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ حروف مقطعات پر مفصل بحث سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بس اتنی بات یہاں یاد رکھئے کہ یہ سورة اور اس کے بعد کی تمام مکی سورتیں، جو اس گروپ میں شامل ہیں، سب اسی نام سے موسوم بھی ہیں اور سب کا مزاج بھی بالکل یکساں ہے۔ مخالفین پر امتنان اور ان کو تنبیہ تنزیل الکتب … الآیۃ، یہ قرآن کے مخالفین پر امتنان بھی ہے اور ان کو تنبیہ بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب نہایت اہتمام سے جو اتاری ہے تو اس لئے اتاری ہے کہ لوگ اس کی قدر کریں، اس سے ہدایت حاصل کریں اور اپنے رب کے اس اہتمام کے شکر گزار ہوں جو ان کی ہدایت کے لئے اس نے کیا ورنہ یاد رکھیں کہ جس نے یہ کتاب اتاری ہے وہ ’ عزیز“ بھی ہے اور علیم بھی۔ ’ عزیز ‘ ہے اس وجہ سے وہ ہر چیز پر قدرت و اختیار رکھتا ہے۔ وہ مخالفت کرنے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں، ہر سزا دے سکتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں بن سکتا۔ ’ عزیز ‘ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علیم بھی ہے اس وجہ سے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کتاب کی تنزیل سے جو کشمکش برپا ہوئی ہے وہ کس مرحلہ میں ہے، اس کے پیش کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے اور اس کی مخالفت کرنے میں جو لوگ پیش پیش ہیں ان کے ارادے کیا ہیں، وہ کہاں تک پہنچ چکے ہیں اور کب ان کا ہاتھ پکڑا جانا ضروری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے بلکہ خدائے عزیز وعلیم کا اتارا ہوا صحیفہ ٔ ہدایت ہے اس وجہ سے اس کی موافقت بھی بڑی اہمیت رکھنے والی بات ہے اور اس کی مخالفت کے نتائج بھی نہایت سنگین اور دور رس ہیں۔ ’ غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول۔ الآیۃ ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مزید صفات بیان فرمائیں کہ وہ گناہوں کو بخشنے والا اور توبہ کو قبول کرنے والا بھی ہے اور سخت پاداش والا اور بڑی قدرت والا بھی۔ ’ طول ‘ کے معنی فضل، غنی، قدرت اور بخشش کے ہیں۔ یہاں تقابل کے اصول کو پیش نظر رھ کر میں نے قدرت کے معنی کو ترجیح دی ہے۔ فیصلہ کن مرحلہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں قسم کی صفات سے متصف اور دونوں طرح کے اختیارات کا مالک ہے تو اس کتاب کی تنزیل کے بعد ہر شخص کے لئے راہ کھلی ہوئی ہے کہ وہ یا تو اس کو قبول کر کے خدا کی رحمت و مغفرت کا امیدوار بن جائے یا اس کی مخالفت کر کے اس کے عذاب اور اس کی قدرت کی شان کے ظہور کا انتظار کرے۔ لا الہ الا ھو ط الیہ البصیر۔ یعنی اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے تو وہ اپنی اس غلط فہمی کی اصلاح کرے۔ خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے۔ قیامت کے دن سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے اور سب کے معاملات کا فیصلہ وہی فرمائے گا، نہ کسی اور کی طرف لوٹنا ہوگا نہ کوئی اور خدا کے اذن کے بغیر کسی کے لئے سفارش کرسکے گا۔
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ کی ان آیات میں وہی لوگ کج بحثیاں کر رہے ہیں جو جزا کے منکر ہیں۔ تو ملک میں ان کا دندنانا تمہیں کسی مغالطہ میں نہ ڈالے۔

ما یجادل فی اٰیت اللہ الا الذین کفروا فلا یغدرک تقلبھم فی البلاد (4) ’ آیت اللہ ‘ سے مراد اس کتاب کی آیات ہیں جس کی تنزیل کا ذکر اوپر آیت 2 میں ہوا ہے۔ یہاں اس کو ’ ایت اللہ ‘ سے تعبیر کر کے اس کے دلیل حجت ہونے کے پہلو کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ’ الذین کفروا ‘ سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو اس عذاب کے منکر تھے جس سے قرآن آگاہ کر رہا تھا۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسولوں نے جب اپنی قوموں کو خدا کے عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے اس کو بالکل جھوٹ جانا اور اپنی دنیوی کامیابیوں کو دلیل بنا کر رسول کے اس انذار کی تکذیب کی اور اس کا مذاق اڑایا۔ انذار کی تکذیب کرنے والوں کو تنبیہ اس آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے واسطہ سے مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ آج قرآن کی مخالفت میں جو کج بحثیاں کر رہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو اس کے انذارِ عذاب کے منکر ہیں۔ ان کے کبر پر یہ چیز بہت شاق گزر رہی ہے کہ انہوں نے اس کتاب اور اس کے لانے والے کا انکار کیا تو ان پر کوئی عذاب آجائے گا۔ وہ یہ بات اپنی رعونت کے سبب سے ماننی نہیں چاہتے اور ظاہری حالات کے اعتبار سے وہ اپنے کو کامیاب و خوش حال دیکھ رہے ہیں س وجہ سے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن ان کی موجودہ خوش حالی سے کسی کو مغالطہ نہ ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی قوموں کو عین ان کے دور عروج و اقبال میں پکڑ لیا اور وہ اس کی پکڑ سے اپنے کو بچا نہ سکیں۔ ’ فلا یغدرک تقلبھم فی البلاد ‘ میں خطاب اگرچہ، ظاہر الفاظ کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اس میں جو زجر و عتاب ہے اس کا رخ قریش کے متکبرین کی طرف ہے جو اپنے اقتدار اور اپنی سیادت و امارت کے گھمنڈ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے کہ ان پر کوئی عذاب آنے والا ہے۔ وہ قرآن کی بار بار کی تنبیہ پر حیران تھے کہ بھلا ان پر عذاب کیوں اور کدھر سے آئے گا ! ’ تقلب ‘ کے معنی چلت پھرت اور آزادانہ آمد و شد کے ہیں۔ موقع و محل سے اس کے اندر غرور وتکبر کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھنے کی میں نے کوشش کی ہے۔
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے تکذیب کی اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی اور ہر امت نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا اور باطل کے ذریعہ سے کج بحثیاں کیں تاکہ اس سے حق کو پسپا کردیں تو میں نے ان کو دھر لیا تو دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا !

کذبت قبلھم قوم نوح والاحزاب من بعدھم وھمت کل امۃ، برسولھم لیاخذوہ و جادلوا بالباطل لیدحضوا بہ الحق فاخذتھم قف فکیف کان عقاب (5) مذکورہ وعدے پر تاریخ سے دلیل یہ اوپر والی بات ’ فلا یغدرک تقلبھم فی البلاد ‘ کی دلیل تاریخ سے پیش کی گئی ہے کہ ان سے (قریش سے) پہلے قوم نوح اور ان کے بعد آنے والی قوموں (اشارہ عاد و ثمور وغیرہ کی طرف ہے) نے بھی اسی طرح اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور ہر قوم نے اپنے رسول کو پکڑ لینا چاہا اور اپنی کٹ حجتیوں سے اس کے حق کو پسپا کرنے کی کوشش کی لیکن قبل اس کے کہ وہ رسول پر ہاتھ ڈالیں اللہ نے انہیں کو پکڑ لیا، پھر دیکھو کہ خدا نے ان کے عمل کی پاداش میں ان کو کیسا سخت پکڑا ! اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ’ شدید العقاب ‘ جو بیان فرمائی ہے یہ اس کی شہادت پیش کی گئی ہے اور عذاب کے لئے لفظ ’ عقاب ‘ جو یہاں آیا ہے اس سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے متمردین پر جو عذاب بھیجتا ہے وہ ان کے اعمال کا قدرتی ردعمل ہوتا ہے۔ وہ ہرگز ان کے اوپر کوئی ظلم نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے ان کے انجام سے عبرت تو پکڑنی چاہئے لیکن وہ ہمدردی کے مستحق ہرگز نہیں ہوتے۔ قریش کو ایک بروقت تنبیہ اس آیت سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ سورة اس دور میں نازل ہوئی ہے جب قریش کے لیڈر آنحضرت ﷺ پر ہاتھ ڈالنے کے لئے مشورے کرنے لگے تھے۔ قرآن نے ان کو آگاہی دے دی کہ اگر وہ اس قسم کا کوئی اقدام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے نتائج پر دور تک نگاہ ڈالیں ! اس میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ کے لئے جو تسلی ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر پوری ہوچکی ہے جنہوں نے کفر کیا ہے۔ یہ لوگ دوزخ میں پڑنے والے ہیں۔

وکذلک حقت کلمت ربک علی الذین کفروا انھم اصحب النار (6) ’ کلمۃ رب ‘ سے وہی کلمۃ العذاب مراد ہے جس کا ذکر سورة زمر کی آیت 71 میں گزر چکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ کلی فیصلہ جس سے اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں آگاہ فرما دیا تھا کہ جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کریں گے، اللہ ان سب کو جہنم میں بھر دے گا۔ فرمایا کہ تیرے رب کا یہ فیصلہ جس طرح پچھلی قوموں پر صادق آیا اسی طرح ان کافروں (کفار قریش) پر بھی صادق آچکا ہے اور یہ بھی انہی کی طرح جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنا فرض انجام دو۔ ان کے لئے جو انجام مقدر ہوچکا ہے یہ اس سے دوچار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب چونکہ جہنم کا دیباچہ ہے اس وجہ سے عذاب کو تعبیر جہنم سے کیا۔
Ayahs 40:7–9

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے اردگرد ہیں وہ اپنے رب کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اس کی حمد کے ساتھ، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں جو ایمان لائے ہیں۔ اے ہمارے رب، تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو ان لوگوں کی مغفرت فرما جو توبہ کریں اور تیرے راستہ کی پیروی کریں اور ان کو عذاب جہنم سے بچا۔

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اور اے ہمارے رب ! ان کو ہمیشگی کے ان باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ اور ان کو بھی جوان کے آباء اور ازواج و ذریات میں سے جنت کے لائق ٹھہریں۔ بیشک عزیز و حکیم تو ہی ہے۔

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور ان کو برے نتائج اعمال سے بچا اور جن کو تو نے اس دن برے نتائج سے بچایا تو وہی ہیں جن پر تو نے رحم فرمایا۔ اور یہی درحقیقت بڑی کامیابی ہے۔

فرشتوں کی حیثیت کی وضاحت اب یہ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کو فرشتوں کی سفارش اور ان کی مدد پر بھروسہ ہے اور ان کے بل پر یہ پیغمبر کے انذار کی تکذیب کر رہے ہیں تو ان کا حال یہ لوگ کان کھول کر سن لیں کہ عام فرشتے تو درکنار، خدا کے جو خاص مقرب فرشتے ہیں یعنی حاملین عرش اور ان کے زمرہ سے تعلق رکھنے والے، وہ بھی برابر خدا کی خشیت سے لرزاں و ترساں اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔ ”ویومنون بہ ‘ وہ الوہیت کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ خدا کے بندوں کی طرح اس پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ ویستغفرون للذین اٰمنوا۔ اور ان لوگوں کے لئے جو خدا پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت دونوں کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ گویا یہی استغفار ان کی سفارش ہے اور یہ اہل ایمان کے لئے مخصوص ہے۔ فرشتوں کی اس خشیت اور اہل ایمان کے لئے ان کے استغفار کا ذکر سابق سورة کی آخری آیت میں بھی گزر چکا ہے اور سورة شوریٰ میں بھی بدیں الفاظ آیا ہے۔ عر بی (شوریٰ : 5) اور خدا کی خشیت و جلال سے قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح اور زمین والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ فرشتوں کی اس خشیت کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں نے ان کی نسبت یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ خدا کے اتنے چہیتے اور اس پر اتنا زورو اثر رکھنے والے ہیں کہ اپنے پجاریوں پر وہ کسی حال میں بھی خدا کو ہاتھ ڈالنے نہیں دیں گے وہ اس حقیقت سے باخبر ہوجائیں کہ فرشتے اس قسم کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ وہ ہر وقت خدا کے آگے سرفگندہ اور اس کے قہر و غضب سے پناہ مانگتے رہنے والے ہیں۔ فرشتوں کی سفارش کی نوعیت ’ ربنا وسعت کل شیء رحمۃ و علما نا غفر للذین شابدا و اتبعوا سبیلا و قھم عذاب الجحیم ‘ یہ فرشتوں کے استغفار کی وضاحت ہے کہ وہ کوئی بات اپنے رب سے ناز و تدلل کے ساتھ نہیں کرتے بلکہ وہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے علم ہی کے حوالہ کرتے ہیں کہ تیری رحمت بھی ہر چیز پر حاوی ہے اور تیرا علم بھی ہر چیز کو محیط ہے اس وجہ سے تو ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جو تیری رحمت اور علم کے تقاضوں کے مطابق ہوگا۔ اس عقیدے کے ساتھ وہ ان لوگوں کے لئے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں جو اپنی غلطیوں سے توبہ کرلیں اور ان کے اصلاح کر کے اللہ کے رستہ کے پیرو بن جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتے دعا اور سفارش تو برابر کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی دعا اور سفارش ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنی جاہلیت کی بدعقیدگی و بدعملی سے توبہ کر کے اللہ کے رستہ کے پیرو بن جائیں نہ کہ ان لوگوں کے لئے جو اس کے رسول اور اس کے دین کے دشمن ہیں۔ فرشتے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جنت توبہ اور اصلاح سے حاصل ہو گی ’ ربنا وادخلھم جنت عدن ن التی وعدتھم دمن صلح من ابائھم وازواجہم و ذریتھم ط انک انت العزیز العظیم۔ یہ اسی استغفار کی مزید تفصیل ہے کہ وہ ان لوگوں کے لئے جنت کی دعا کرتے ہیں جو توبہ اور اصلاح کر کے اس کا حق پیدا کرلیتے ہیں اور جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ نیز وہ ان کے آباء، ازواج اور ذریات میں سے بھی صرف ان لوگوں کے لئے دعا کرتے ہیں جو توبہ و اصلاح سے اس کے لئے استحقاق پیدا کرلیں۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتے اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ مجرد کسی کے طفیل اور کسی کے نسب و خاندان کی بنا پر کسی کو جنت حاصل ہونے والی نہیں ہے بلکہ جس کو بھی حاصل ہوگی اس کے استحقاق اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوگی۔ ’ انک انت العزیز الحکیم ‘ یہ بعینہ وہی کلمہ ٔ شفاعت ہے جو مائدہ کی آیت 120 میں حضرت مسیح ؑ کی زبان سے نقل ہوا ہے۔ وہاں اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یہ تفویض الی اللہ کا کلمہ ہے یعنی تو جو چاہے کرسکتا ہے لیکن ساتھ ہی تو حکیم بھی ہے اس وجہ سے وہی کرے گا جو عدل و حکمت پر مبنی ہوگا۔ فرشتوں کا یہی استغفار درحقیقت اہل زمین کے لئے سفارش ہے اور اس کی نوعیت یہی ہے جو قرآن نے بیان فرمائی ہے تاکہ وہ جو جاہلوں نے سمجھی ہے۔ ”وقھم السیات ط و من تق السیات یومئذ فقد رحمتہ ط و ذلک ھو الفوز العظیم ‘ لفظ سیات، یہاں نتائج سیات کے معنی میں ہے۔ عمل اور نتیجہ کے لروز کو ظاہر کرنے کے لئے بعض اوقات فعل نتیجہ ٔ فعل کے مفہوم میں بولتے ہیں یعنی فرشتے اہل ایمان کے لئے یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے رب، تو ان کو بدیوں کے نتائج سے محفوظ رکھ۔ یعنی ان کے گناہوں کو جھاڑ دے کہ وہ ان کے شر سے محفوظ رہیں۔ ’ ومن تق السیات…الآیۃ ‘ فرشتوں کے اس فقرے سے روز حساب و کتاب کی ہو لنا کی کا اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کی نگاہوں میں اصلی خوش قسمت وہ ہے جس کو اللہ نے اس دن اس کے گناہوں کے نتائج سے محفوظ رکھا۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی یہی ہے اور اصل خوش بخت وہی ہے جس نے یہ کامیابی حاصل کی۔ فرشتوں کے اس استغفار کے بیان سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ واضح کرنا ہے کہ فرشتے اہل زمین کے لئے سفارش تو ہر وقت کر رہے ہیں لیکن اس کی سفارش کی نوعیت یہ ہے جو بیان ہوئی ہے نہ کہ وہ جس کے بل پر لوگ آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں۔ اور جب ان کو اصل حقیقت کی یاددہانی کی جاتی ہے تو مناظرہ و مجادلہ کے لئے آستینیں چڑھا لیتے ہیں۔
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ان کو منادی کی جائے گی کہ خدا کی بیزاری تم سے اس کی نسبت سے کہیں زیادہ رہی ہے جتنی تم کو اس وقت اپنے سے ہے جب کہ تم کو ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے۔

اصل صورت حال جس سے جھوٹی شفاعت پر تکیہ کرنے والوں کو سابقہ پیش آئے گا یعنی یہ لوگ تو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے سفارشی ان کو اللہ کے ہاں اونچے سے اونچے درجے دلوائیں گے لیکن وہاں ان کو منادی کے ذریعہ سے یہ آگاہی دی جائے گی کہ آج جتنا غم و غصہ تم کو اپنی بدبختی و محرومی اور اپنے لیڈروں کی کج اندیشی و ضلالت پر ہے اس سے زیادہ تمہارے حال پر غصہ و غضب خدا کو اس وقت تھا جب کہ تم کو رسول کے ذریعہ سے ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم نہایت رعونت کے ساتھ دعوت کو ٹھکراتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اب اپنی اس رعونت اور خدا کے اس غصہ و غضب کا انجام بھگتو اور اپنی بدبختی پر اپنے سر پیٹو۔ اب یہاں کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے۔ یہ جو کچھ تمہارے سامنے آیا ہے اللہ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آیا ہے اس وجہ سے تم اسی کے سزاوار ہو۔ ’ اذ تدعون الی الایمان ‘ ظرف ہے ’ لمقت اللہ اکبر ‘ کا۔ ’ ایمان ‘ سے خاص طور پر توحید پر ایمان مراد ہے۔ اس لئے کہ خدا کے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جو توحید کے ساتھ ہو۔ سورة زمر آیت 45 میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ منکرین آخرت کو سب سے زیادہ چڑ توحید کی دعوت سے ہے۔ یہاں بھی آگے والی آیت میں وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ غصہ ان پر اس وجہ سے ہوگا کہ جب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی تو اس سے بد کتے اور شرک کو بڑی خوش دلی سے قبول کرتے۔ ذلکم بانہ اذا دعی اللہ وحدہ کفرتم ج وان یشرک بہ تومنوا ط فالحکم للہ العلی الکبیر ‘ (82) (یہ سب تمہیں اس وجہ سے پیش آیا کہ جب اللہ واحد کی دعوت دی جاتی تو تم اس کا انکار کرتے اور جب اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے تو اب تو فیصلہ خدائے بلندو عظیم ہی کے اختیار میں ہے)۔
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! تو نے ہم کو دو بار موت دی اور دو بار زندگی دی تو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا تو کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے !

اقرار بعد از وقت اس وقت یہ لوگ بڑی سعادت مندی اور بڑی صفائی کے ساتھ کہیں گے کہ اے رب، اب ہم اپنے تمام جرائم کا اقرار کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ناممکن تھا اس وجہ سے ہم تیرے مواخذہ و محاسبہ سے بےخوف ہو کر تیرے رسول اور اس کی دعوت کا مذاق اڑاتے رہے لیکن اب تو نے ہمیں دو بار موت اور دو بار زندگی دے کر موت کے بعد کی زندگی کا اچھی طرح مشاہدہ کرا دیا تو کیا اب اس کی بھی کوئی سبیل ہے کہ اس دوزخ سے ہمیں نکلنا نصیب ہو کہ ہم ازسرنو دنیا میں جا کر ایمان اور عمل صالح کی زندگی بسر کریں ! دو بار موت، سے ایک تو وہ حالت موت مراد ہے جو اس دنیا میں وجود پذیر ہونے سے پہلے انسان پر طاری ہوتی ہے اور دوسری وہ موت ہے جس سے ہر زندہ کو لازماً دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اسی طرح زندگی ایک تو وہ ہے جو اس دنیا میں حاصل ہوتی ہے اور دوسری وہ جو قیامت کو حاصل ہوگی۔
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ انجام تمہارے سامنے اس وجہ سے آیا کہ جب اللہ واحد کی دعوت دی جاتی تو تم اس کا انکار کرتے اور اگر اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے۔ تو اب فیصلہ خدائے بلندو عظیم ہی کے اختیار میں ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو جواب دلوایا جائے گا کہ یہ جو کچھ تمہیں پیش آیا تمہاری اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ تمہیں توحید کی دعوت دی جاتی تو تم اس سے بدکتے اور شرک کے تم بڑے حامی بنے رہے تو اب فیصلہ خدائے برتر وعظیم ہی کے اختیار میں ہے اور اس کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہے جس سے تم دوچار ہو۔
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ اور یاددہانی نہیں حاصل کرتے مگر وہی جو متوجہ ہونے والے ہیں۔

رحمت اور عذاب دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہے یعنی رحمت اور نقمت دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اس وجہ سے ڈرنا بھی اسی سے چاہئے اور امید بھی اسی سے رکھنی چاہئے۔ وہ اپنی ان دونوں شانوں کا برابر مشاہدہ کراتا رہتا ہے۔ وہی آسمان سے رعد و برق اور صاعقہ کا بھی مشاہدہ کراتا رہتا ہے اور وہی بارش بھی نازل کرتا ہے جو زمین کے تمام رزق و فضل کے دروازے کھولتی ہے۔ یہ اس بات کا صاف ثبوت ہے کہ آسمان اور زمین دونوں ایک ہی خدا کے تصرف میں ہیں اور اس کے ہاتھ میں صاعقہ ٔ عذاب بھی ہے اور رزق و فضل کے خزانے بھی۔ نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اصل شے توحید ہے ’ وما یتذکر الا من ینیب ‘ یعنی خدا کی یہ شانیں لوگوں کو تعلیم و تذکیر کے لئے ظاہر تو برابر ہوتی رہتی ہیں لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آدمی کے اندر متوجہ ہونے اور سوچنے سمجھنے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ اگر اپنی خواہشوں کے پیچھے کوئی ایسا اندھا بن جائے کہ ان سے ہٹ کر کسی اور چیز کی طرف دیکھنے اور اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا کوئی حوصلہ اس کے اندر پایا ہی نہ جاتا ہو تو ایسے شخص کی آنکھیں کوئی بڑی سے بڑی نشانی بھی نہیں کھول سکتی۔
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

تو اللہ ہی کو پکارو اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ، کافروں کے علی الرغم۔

اہل ایمان کو دعوت عزم یہ خطاب مسلمانوں سے ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ مشرکین آنکھیں کھولنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور تمہاری دعوت توحید سے یہ چڑتے اور تم سے لڑتے ہیں تو اب ان کی کوئی پروا نہ کرو بلکہ ان کے علی الرغم تم اپنے رب ہی کو بلاشرکت غیرے پکارو اور خالص اطاعت کے ساتھ اس کی بندگی کرو۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ بلند درجوں والا اور عرش کا مالک ہے۔ وہ ڈالتا ہے روح، جو اس کے امر میں سے ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو روز ملاقات سے آگاہ کر دے۔

یعنی اللہ تعالیٰ بڑے بلند درجات والا اور تمام کائنات کے عرش حکومت کا مالک ہے۔ اس تک کسی کی رسائی نہیں ہے۔ یہ مشرکین جن کو اس کا شریک وسہیم اور اس کا مقرب بنائے بیٹھے ہیں، یہ سب ان کے خود تراشیدہ مقربین ہیں، خدا کی بارگاہ بلند سب کی پہنچ سے بالا ہے۔ خدا کی رضیات کے علم کا واحد ذریعہ وحی ہے یلقی الروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ ‘ ’ روح ‘ سے مراد یہاں ’ وحی ‘ ہے۔ وحی کو ’ روح ‘ سے تعبیر کرنے کی وجہ واضح ہے کہ جس طرح روح سے جسم کو زندگی حاصل ہوتی ہے اسی طرح وحی سے انسان کی عقل اور اس کے دل کو زندگی، حرارت اور روشنی حاصل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح ؑ نے اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے کہ ”انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ س کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے“ ’ منامرہ ‘ کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ یہ وحی امور الٰہیہ میں سے ہے جس کی پوری کیفیت و ماہیت ہر شخص نہیں سمجھ سکتا، اس کی کیفیت وہی سمجھتا ہے جو اس کو نازل کرتا ہے یا پھر وہ سمجھتا ہے جس کو اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہی حقیقت دوسرے مقام میں یوں واضح فرمائی ہے کہ ’ ویسئلونک عن الروح ط قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا (الاسرآء : 85) وہ تم سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، کہہ دو ، روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تم کو علم نہیں دیا گیا ہے مگر تھوڑا) سورة اسرآء کی مذکورہ آیت کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہاں اس ٹکڑے کے لانے سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ خدا کی بارگاہ بلند تک کسی جن و بشر کی رسائی نہیں ہے کہ وہ اس کے غیب سے واقف ہو سکے۔ اس کی مرضیات جاننے کا واحد ذریعہ صرف وہ وحی ہے جو وہ اپنے بندوں میں سے اس پر نازل فرماتا ہے جس کو اس کار خاص کے لئے انتخاب فرماتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین نے اپنے زعم کے مطابق غیب کے جاننے کے جو ذرائع ایجاد کر رکھے ہیں وہ بالکل لا یعنی ہیں۔ خدا کی پسند و ناپسند جاننے کا ذریعہ بس وحی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر نازل فرماتا ہے لیکن یہ شامت زدہ لوگ قرآن اور اس کے لانے والے کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کو زعم ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنانے والا ہوتا تو ان میں سے کسی کو رسول بناتا۔ ان کو پتہ نہیں ہے کہ اس منصب کے لئے اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے اور وہ جس کو منتخب فرماتا ہے وہی اس کا اہل ہوتا ہے، ہر مدعی اس کا اہل نہیں ہوتا۔ لینذر یوم التلاق۔ ’ یوم التلاق ‘ سے مراد روز قیامت ہے اس لئے کہ اس دن سب کی پیشی خدا کے آگے ہونی ہے۔ وحی اور رسالت کا مقصود دراصل اسی دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ اصل مسئلہ جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے یہی ہے۔ اگر یہ سمجھ میں آجائے تو دوسرے تمام مسائل کو سمجھنے کے لئے راہ کھل جاتی ہے۔ اگر یہ سمجھ میں نہ آئے تو انسان کا کوئی قدم بھی صحیح سمت میں نہیں اٹھ سکتا۔ اس وجہ سے انبیاء کرام کا اصل مشن اسی منزل کی رہنمائی رہا ہے۔
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن وہ خدا کے آگے بالکل بےنقاب ہوں گے۔ ان کی کوئی چیز بھی خدا سے مخفی نہیں ہوگی۔ آج کی بادشاہی کس کے اختیار میں ہے ! خدائے مواحد وقہار کے اختیار میں !

نہ خدا سے کوئی چیز مخفی ہوگی اور نہ کوئی اس کے قابو سے باہر ہو گا اس دن ہر شخص کا سارا ظاہر و باطن خدا کے آگے بالکل بےنقاب ہوگا۔ کسی کی کوئی بات بھی اس سے ڈھکی چھپی نہیں ہوگی کہ کسی گواہی و ثبوت کی ضرورت پیش آئے یا کوئی غلط بیانی کرسکے یا اس کی کوئی غلط تاویل کرسکے یا کوئی اس کے باب میں کوئی جھوٹی سفارش کرسکے۔ ’ لمن الملک الیم ‘ یعنی اس وقت جب کہ ہر شخص خدا کے آگے بالکل بےنقاب اور بےبس ہوگا مجرموں سے خطاب کر کے پوچھا جائے گا کہ اب بولو، آج بادشاہی کس کی ہے ؟ تم جن کو خدا کا شریک وسہیم بنائے بیٹھے تھے اور یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ تم کو خدا سے بچا لیں گے، وہ کہاں گئے ؟ ’ للہ الواحد القھار ‘ چونکہ اس وقت کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوگا اس وجہ سے خود ہی جواب دیا کہ آج کے دن بادشاہی صرف خدائے واحد وقہار کی ہے۔ یہاں نہ کوئی کسی کا یاورد ناصر بن سکے گا اور نہ کوئی خدا کے کسی فیصلہ کو بدلوا سکے گا۔ لفظ ’ قھار ‘ کی تحقیق اس کے محل میں بیان ہوچکی ہے۔
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج ہر جان کو اس کے کئے کا بدلہ ملے گا۔ آج کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ بیشک اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے۔

یعنی آج کا دن خدا کے عدل کامل کے ظہور کا دن ہے۔ آج ہر شخص کو اس کے اپنے عمل کا بدلہ ملے گا۔ کسی کی کوئی حق تلفی یا کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی اور یہ سارا کام چشم زدن میں ہوگا۔ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس میں بڑ مدت صرف ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکا دینے والا ہے۔
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور ان کو قریب آ لگنے والی آفت سے ڈرا جب کہ دل حلق میں آ پھنسیں گے اور وہ غم سے گھٹے ہوئے ہوں گے۔ اس دن ظالموں کا نہ کوئی ہمدرد ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی جس کی بات سنی جائے۔

لفظ ’ ازفۃ ‘ کا مفہوم ’ انزفۃ ‘ کے معنی وہ چیز جو قریب آ لگی ہو۔ یہاں یہ لفظ قیامت کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس صفت کے استعمال سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ قیامت کو بہت بعید نہ سمجھو، وہ بالکل پاس ہی کھڑی ہے۔ من مات فقد قامت قیامت ہٗ (جو مرا اس کی قیامت آگئی) قیامت کے دن اس فاصلہ کا کسی کو بھی احساس نہیں ہوگا جو اس کے اور قیامت کے درمیان حائل ہے، بلکہ ہر شخص یہی سمجھے گا کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر شخص کی قیامت میں بس اتنے ہی دن باقی ہیں جتنے دن اس دنیا میں اس کی زندگی کے باقی ہیں۔ جس طرح ہر شخص کی موت اس کے پہلو میں کھڑی ہے اسی طرح قیامت بھی اس کے بغل میں موجود ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب کسی قوم کی طرف رسول کی بعثت ہوتی ہے تو وہ رسول اس کے لئے خدا کی عدالت کی منزلت میں ہوتا ہے۔ اگر قوم رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو لازماً تباہ کردی جاتی ہے۔ یہ اس قوم کے لئے گویا قیامت صغریٰ ہوتی ہے جو تمہید ہوتی ہے قیامت کبریٰ کی۔ اس لفظ (ازفۃ) کے استعمال سے مقصود قریش کو یہ تنبیہ ہے کہ وہ قیامت کو بعید نہ سمجھیں۔ ان کی عدالت کا وقت اب آچکا ہے۔ ایک عدالت ان کے لئے قائم ہوچکی ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ آخرت کی عدالت کا انتظار کریں جو سارے معاملات کا آخری فیصلہ کر دے گی۔ ’ اذا القلوب لدی الحنا جرکظمین۔ ما للظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع ‘۔ یہ اس قیامت کی ہولناکی کی تصویر ہے کہ اس دن مجرموں کے دل گویا حلق میں آئے ہوئے ہونگے اور وہ غم والم سے گھٹے ہوئے ہوں گے۔ نہ اس دن کسی کے اپنے حلق سے اپنی مدافعت میں کوئی آواز نکلے گی اور نہ ان کا کوئی ہمدرد یا سفارشی ہوگا جو ان کی حمایت یا سفارش میں اپنی زبان کھولے۔ ’ شفیع ‘ کے ساتھ ’ بطاع ‘ کی صفت مشرکین کے اس دہم پر ضرب لگانے کے لئے ہے کہ وہ اپنے معبودوں کے متعلق یہ تصور رکھتے ہیں کہ یہ خدا کے ایسے لاڈلے اور چہیتے ہیں کہ خدا ان کی ناز برداری میں ان کی ہر بات لازماً مانے گا۔ فرمایا کہ خدا کے ہاں ان کا کوئی سفارشی ایسا نہیں ہوگا جس کی کوئی شنوائی ہو۔
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ نگاہوں کی چوری بھی جانتا ہے اور ان بھیدوں کو بھی جو سینے چھپائے ہوئے ہیں۔

یعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور (19) سفارش کے خلاف ایک دلیل کسی کے باب میں کسی کی سفارش تو اس کے ہاں کچھ کارگر ہو سکتی ہے جو ساری صورت حال سے خود واقف نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تو ہر شخص کی ہر چھوٹی بڑی بات سے خود واقف ہے۔ وہ و نگاہ کی خیانتوں اور سینوں میں چھپے ہوئے رازوں سے بھی پوری طرح باخبر ہے تو اس کے آگے کسی کی کوئی سفارش کیا کارگر ہو سکے گی !
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کریں گے۔ اللہ ہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔

وہی یہ بات کہ کوئی اپنی سفارش سے حق کو باطل اور باطل کو حق بنا سکے تو اس کا بھی امکان نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ حق کے مطابق ہوگا اور کوئی اپنی سفارش سے اس کے فیصلہ ٔ حق کو باطل سے نہیں بدلوا سکتا۔ ’ والذین یدعون من دونہ لا یقضون بشیء ‘ رہے ان مشرکین کے معبود ان باطل تو ان کے اختیار میں سرے سے کسی امر کا فیصلہ ہی نہ ہوگا کہ وہ کسی کی حمایت یا مخالفت میں کچھ کرسکیں۔ ’ ان اللہ ھو السمیع البصیر ‘۔ یہ اوپر کی بات کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ حقیقی دیکھنے والا اور سننے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس کے سوا حق کسے ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کرے اور جب وہ دیکھنے والا اور سننے والا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی اپنی سفارش سے اس کو دھوکا دے کر غلط فیصلے کرا سکے اور یہ معبودان باطل جو نہ دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں آخر کس بنا پر ان کے متعلق یہ تصور کیا گیا ہے کہ یہ بھی کسی کے معاملہ کا فیصلہ کرنے والے بنیں گے !
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جوان سے پہلے گزرے ہیں ! وہ ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے قوت میں بھی اور ان آثار کے اعتبار سے بھی جو انہوں نے زمین میں چھوڑے۔

قریش کو صاف الفاظ میں تہدید یہ قریش کو صاف الفاظ میں تہدید ہے کہ اس جسارت کے ساتھ رسول کے انذار کی جو وہ تکذیب کر رہے ہیں تو کیا کبھی اس ملک کی سیاحت انہوں نے اس قصد سے نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے ان قوموں کا کیا حشر ہوچکا ہے جو اپنی قوت و جمعیت میں ان سے بڑھ کر اور تعمیر و تمدن کے آثار کے اعتبار سے ان پر کہیں فوقیت رکھنے والی تھیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کے جرموں کی پاداش میں ان کو پکڑا تو نہ ان کی قوت و جمعیت ان کے کچھ کام آسکی، نہ ان کی تعمیری و تمدنی ترقیاں آڑے آسکیں اور نہ ان کے وہ اقسام و الٰہہ ہی ان کی حفاظت کرسکے جن کو وہ اپنا حامی و ناصر سمجھتے تھے۔ یہ اشارہ عاد وثمود اور اہل مدین وغیرہ کی طرف ہے جن کی قوت و جمعیت اور تمدنی و تعمیری ترقیوں کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ لفظ ’ اشد ‘ یہاں ’ اعظم و اکثر ‘ کے مفہوم پر بھی متضمن ہے اس وجہ سے ’ قوۃ ‘ کے ساتھ ’ اثاراً ‘ کا ذکر بالکل موزوں ہے۔ ’ اٰثار ‘ سے مراد تمدنی و تعمیری ترقیوں کے آثار ہیں۔ دنیا میں انہی آثار کو ہمیشہ قوموں کی عظمت و شوکت کی دلیل سمجھا گیا ہے۔ لیکن قرآن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اگر قوم ایمان سے عاری ہو تو یہ آثار اس کے زوال کی نشانی ہیں اور بالآخر یہی اس کے قومی وجود کے لئے مقبروں کی صورت میں تبدیل ہو کے رہتے ہیں۔
Ayah 40:22

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

پس اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو پکڑا اور کوئی ان کو اللہ کی پکڑ سے بچانے الا نہ بنا۔ یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آتے تھے تو انہوں نے انکار کیا پس اللہ نے ان کو پکڑ لیا، بیشک وہ طاقتور اور سخت پاداش والا ہے۔

یہ ان قوموں کی تباہی کا سبب بیان فرمایا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے لیکن انہوں نے اپنی قوت و جمعیت اور اپنی دنیوی ترقیوں کے زعم میں رسولوں کے انذار کی کوئی پروانہ کی بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑا اور جب پکڑا تو وہ اس کی پکڑ سے چھوٹ نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ قوی اور سخت پاداش والا ہے۔ جب وہ پکڑتا ہے تو کوئی سائنس اس سے چھڑا نہیں سکتی۔
Ayah 40:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا موسیٰ ؑ کو، اپنی نشانیوں اور ایک واضح سند کے ساتھ ،

2۔ آگے کا مضمون …آیات : 23۔ 55 آگے حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی سرگزشت آرہی ہے جس سے اصل مقصود تو اس دعوے کی دلیل پیش کرنا ہے جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوا ہے کہ جب کسی قوم کی طرف رسول کی بعثت ہوتی ہے اور قوم اس کی تکذیب کردیتی ہے تو وہ لازماً تباہ کردی جاتی ہے اگرچہ قوت و شوکت اور تعمیر و تمدن کے اعتبار سے وہ کتنی ہی برتر قوم ہو۔ یہ سرگزشت سنا کر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو، یہی حشر قریش کے ان فراعنہ کا بھی ہونا ہے اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی۔ ساتھ ہی اس سرگزشت کے ضمن میں خاندان فرعون کے ایک مرد مومن کی داستان بیان ہوئی ہے جو ایک مدت تک تو، بربنائے مصلحت، اپنے ایمان کو چھپائے رہے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی دعوت کے لئے آخری خطرہ پیش آگیا ہے تو کھل کر میدان میں آگئے اور حضرت موسیٰ ؑ کی حمایت میں اپنی جان بڑا دی۔ اس مرد مومن کی سرگزشت میں جو سبق مضمر ہیں ان کی وضاحت تو آیات کی تفسیر کے ذیل میں آئے گی، یہاں اس کے چند نمایاں پہلو پیش نظر رکھئے۔ قریش کے لیڈروں کو یہ اس پہلو سے سنائی گئی ہے کہ اپنی قوم کی حقیقی خیر خواہی یہ ہے جو اس بندہ مومن نے کی نہ کہ وہ جو اپنے زعم کے مطابق تم کر رہے ہو۔ اس مرد مومن نے جب دیکھا کہ اس کی قوم تباہی کے راستہ پر چل پڑی ہے تو اپنے تمام مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اس نے اس کو اس خطرناک اقدام سے روکنے کے لئے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیا اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنا سارا زور و زر اپنی قوم کو عذاب الٰہی کی طرف دھکیلنے میں صرف کر رہے ہو۔ جو لوگ کسی مصلحت سے اب تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے ان کو اس سرگزشت کے ذریعہ سے یہ سبق دیا گیا ہے کہ ایمان کے معاملے میں مصلحت کا لحاظ اسی وقت تک جائز ہے جب تک اس سے مقصود ایمان کی حفاظت اور اہل ایمان کی بہبود ہو۔ اگر ایمان اور اہل ایمان کے لئے آخری خطرہ پیش آجائے تو تمام مصالح کو بالائے طاق رکھ کے اس مرد مومن کی طرح ہر شخص کو میدان میں آجانا چاہئے۔ کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو اس سرگزشت کے ذریعہ سے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جو لوگ کلمہ ٔ حق کی سربلندی کے لئے اس مرد مومن کی طرح بازی کھیلتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کا یاور وناصر ہوتا ہے۔ اسی روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ’ آیت ‘ سے مراد وہ احکام و ہدایات ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس لے کر آئے اور سلطن مبین سے اشارہ یہاں معجزہ ٔ عصا کی طرف ہے جس کی نوعیت ایک خدائی سند کی تھی جو حضرت موسیٰ ؑ کو عطا ہوئی تھی کہ فرعون اور اس کے اعیان کو ان کے خدائی سفیر ہونے کے باب میں کسی شک کی گنجائش نہ رہے۔ لفظ ’ سلطان ‘ قرآن میں سند، اختیار نامہ، پروانہ اور اتھارٹی کے مفہوم میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ مزید وضاحت سورة رحمان میں لاتنفذون الا بسلطن ‘ کے تحت آئے گی۔
Ayah 40:24

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون، ہامان اور قارون کی طرف۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک جادوگر لپاٹیا ہے۔

فرعون اور اس کے دو بڑے لیڈروں کا ذکر یہاں فرعون کے ساتھ اس کے ان دو بڑے لیڈروں کا بھی ذکر کیا ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کی مخالفت میں سب سے زیادہ سرگرم تھے۔ ان دونوں کا ذکر پچھلی سورتوں میں بھی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ ان میں سے ایک…قارون… نسلاً اسرائیلی تھا لیکن اس نے فرعونی حکومت کے زیر سایہ بیشمار دولت اکٹھی کرلی تھی اور یہی دولت اس کے لئے حضرت موسیٰ ؑ کی مخالفت کا سب سے بڑا سبب بنی۔ اس کا ذکر سورة قصص میں ہوچکا ہے اور وہاں ہم نے یہ اشارہ کیا ہے کہ اس کے حالات اور ابولہب کے حالات میں بڑی مشابہت ہے۔ یہاں فرعون کے ان لیڈروں کا ذکر کر کے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح تمہاری مخالفت میں قریش کے لیڈر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اسی طرح موسیٰ ؑ کی مخالفت میں فرعون اور اس کی قوم کے لیڈر اٹھے تھے، لیکن خدا نے ان کو ذلیل و پامال کیا۔ وہی حشر قریش کے ان لیڈروں کا بھی ہوگا، اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے۔ ’ فقالوا سحر کذاب ‘ یعنی انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کے معجزہ کو تو سحر پر محمول کیا اور ان کے اس دعوے کو کہ خدا نے ان کو رسول بنا کر بھیجا ہے بالکل جھوٹ قرار دیا۔
Ayah 40:25

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

پس جب وہ آیا ان کے پاس، ہمارے پاس سے حق لے کر، انہوں نے کہا ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو، اور ان کافروں کی چال بالکل رائیگاں گئی۔

حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کا فرعونیوں پر الٹا اثر یعنی حضرت موسیٰ ؑ ان کے پاس جو پیغام حق لے کر آئے تھے اس کا حق تو یہ تھا کہ اس کو مانتے اور اپنے رویے کی اصلاح کرتے لیکن اس کا اثر ان کے اوپر اس کے بالکل برعکس پڑا۔ انہوں نے یہ محسوس کر کے حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم کو ایک منظم اور طاقتور قوم بنانا چاہتے ہیں بنی اسرائیل کے ذکور کو قتل کرنے اور عورتوں کو لونڈیاں بنانے کے لئے زندہ رکھنے کی اس پالیسی پر پوری شدت کے ساتھ عمل کرنے کے احکام جاری کردیئے جو حضرت موسیٰ ؑ کی ولادت سے بہت پہلے سے چل رہی تھی ’ وما کید الکفرین الا فی ضلل ‘ بنی اسرائیل کے ذکور کو قتل کرنے کی یہ پالیسی، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں، اس مقصد سے اختیار کی گئی تھی کہ بنی اسرائیل کی تعداد کنٹرول میں رکھی جائے کہ وہ زیادہ ہولر قبطیوں کے اقتدار کے لئے خطرہ نہ بن جائیں، لیکن اس کو نافذ کرنے کے لئے جتنی تدبیریں اختیار کی گئیں وہ سب ناکام رہیں، بنی اسرائیل کی تعداد میں، جیسا کہ اس کے محل میں اہم حوالے نقل کر کے ہیں، روز افزوں ترقی ہوتی گئی، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ ؑ اپنے کھلے ہوئے چیلنج کے ساتھ میدان میں آگئے اور فرعونیوں کو جس بات کا اندیشہ تھا وہ ایک حقیقت بن کر سامنے نظر آنے لگی۔
Ayah 40:26

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا، مجھے چھوڑو، میں موسیٰ کو قتل کئے دیتا ہوں اور وہ اپنے رب کو پکارے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں بغاوت نہ پھیلا دے۔

فرعون اور اس کے اعیان کی بدحواسی اپنی اسکیم کی ناکامی اور حضرت موسیٰ ؑ کے اس مطالبہ سے فرعون اور اس کے اعیان بالکل حواس باختہ ہوگئے۔ اس حواس باختگی کے عالم میں فرعون نے اپنے درباریوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ آپ لوگ مجھے اجازت دیجئے کہ میں موسیٰ ؑ کو قتل کر دوں۔ اگر اس کا کوئی خدا ہے جس نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے تو وہ اپنی مدد کے لئے اس کو بلائے۔ اپنی اس تجویز کی تائید میں اس نے دلیل یہ پیش کی کہ اگر اب موسیٰ ؑ کو مزید مہلت دی گئی تو مجھے ڈر ہے کہ وہ یا تو آپ لوگوں کے دین کو بدل کے رکھ دے گا یا ملک میں بغاوت کرا دے گا۔ یہ امر واضح رہے کہ فرعون اپنی قوم والوں کے نزدیک سورج دیوتا کا مظہر سمجھا جاتا تھا اور اس کی حیثیت ایک اوتار بادشاہ کی تھی۔ اس وجہ سے حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت توحید کی زد براہ راست اس کی خدائی پر پڑتی تھی۔ اگر قبطی اس کو قبول کرلیتے تو ان کا دین بدلتا اور اگر نہ قبول کرتے اور بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کی قیادت میں منظم ہوجاتے تو اس کا لازمی نتیجہ (فرعون کے خیال کے مطابق) یہ تھا کہ ملک میں بغاوت پھوٹ پڑے گی۔ ان خطرات کی بنا پر اس نے قوم کے اعیان سے حضرت موسیٰ ؑ کے قتل کی اجازت مانگی۔ لفظ ذرونی سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی دعوت نے اس دور میں اتنی قوت حاصل کرلی تھی کہ فرعون جیسے مطلق العنان کے لئے بھی اپنے اعیان کی تائید کے بغیر ان پر ہاتھ ڈالنا ممکن نہیں رہ گیا تھا۔
Ayah 40:27

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لی ہر اس متکبر کے شر سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔

حضرت موسیٰ کا رویہ حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے اس ارادہ کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے اپنا معاملہ اپنے رب کے حوالے کیا کہ میں ہر اس متکبر کے شر سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ تمہارے رب، کے الفاظ یہاں بطور تذکیر و تنبیہ ہیں یعنی یاد رکھو کہ وہی تمہارا بھی رب ہے، اس کے سوا کوئی اور رب نہیں ہے جس کے بل پر کوئی کچھ کرسکے۔ ’ من کل متکبر لا یومن بیوم الحساب ‘۔ تکبر درحقیقت حق سے اعراض کا نام ہے جو نتیجہ ہے انانیت و خود پرستی کا اور یہ چیز پیدا ہوتی ہے آخرت پر ایمان نہ ہونے سے۔ جو شخص آخرت کو نہیں مانتا وہ ایک مطلق العنان ہے۔ وہ جو کچھ بھی کر گزرے اس سے بعید نہیں۔
Ayah 40:28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور آل فرعون میں سے ایک مرد مومن نے، جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا، کہا، کیا تم لوگ ایک شخص کو اس بنا پر قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے درآنحالیکہ وہ تمہارے رب کی جانب سے نہایت واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے ! اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور اگر وہ سچا ہوا تو اس کا کوئی حصہ تم کو پہنچ کے رہے گا جس کی وہ تم کو وعید سنا رہا ہے۔ اللہ اس کو بامراد نہیں کرے گا جو حد سے گزرنے والا لپاٹیا ہوگا۔

ایک مرد مومن کی سرگزشت یہاں سے ایک بندہ مومن کی سرگزشت شروع ہو رہی ہے۔ یہ تھے تو فرعون کے خاندان شاہی سے لیکن نہایت حق پسند اور خدا ترس آدمی تھے اس وجہ سے ان کی تمام ہمدردیاں شروع ہی سے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ تھیں۔ ان کا ذکر سورة قصص میں بھی گزر چکا ہے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھوں ایک قبطی کے قتل کا اتفاقی واقعہ پیش آگیا اور اعیان حکومت نے ان کے قتل کے مشورے شروع کردیئے تو انہی نے حضرت موسیٰ کہ اعیان حکومت کے اس ارادے سے باخبر کیا اور ان کو مصر سے کہیں باہر جانے کا مشورہ دیا، جس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ مدین چلے گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت سے پہلے بھی ان کو حضرت موسیٰ ؑ کی اصلاحی سرگرمیوں سے پوری ہمدردی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے مدین سے واپسی کے بعد جب نبوت کا اعلان کیا تو یہ ان کی دعوت پر ایمان لائے لیکن اپنے ایمان کو انہوں نے ایک عرصہ تک پوشیدہ رکھا۔ انہوں نے غالباً یہ محسوس فرمایا کہ اس دور میں ایمان کو پوشیدہ رکھ کر حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی دعوت کی جو خدمت وہ کرسکتے ہیں وہ خدمت علانیہ نہیں کرسکتے۔ وہ شاہی خاندان کے ایک فرد اور تمام شاہی حقوق و مراعات سے بہرہ مند تھے۔ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا کہ وہ فرعون کے دارالامراء کے رکن بھی تھے۔ اگر اسی مرحلہ میں وہ اپنے ایمان کا اعلان کردیتے تو فرعونی فوراً ان کے اوپر قومی غدار ہونے کا الزام لگا کر پوری قوم میں ان کو نکو بنا دیتے۔ دین کے معاملہ میں مصلحت کا لحاظ صرف اس وقت تک جائز ہے جب تک وہ دین کے لئے نافع ہو لیکن دین و ایمان کے معاملے میں مصلحت کے لحاظ اسی وقت تک جائز ہے جب تک اس سے دین کو نفع پہنچنے کی توقع ہو۔ اگر معاملہ اس مرحلے سے گزر جائے اور دین کو کوئی فیصلہ کن خطرہ پیش آجائے تو اس وقت اپنے ایمان کو چھپانا منافقت بن جاتا ہے۔ چناچہ اس بندہ ٔ مومن نے بھی اس وقت تک تو اپنے ایمان کو پردے میں رکھا جب تک اس کے چھپانے میں دین کی مصلحت دیکھی۔ لیکن جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی ہی خطرے میں پڑگئی ہے تو انہوں نے مصلحت کی نقاب اتار کر پھینک دی اور خم ٹھونک کر فرعون کے بھرے دربار میں حضرت موسیٰ ؑ کی حمایت بھی کی اور اپنے ایمان کا علیٰ روس الاشہاد اعلان بھی کردیا۔ یہ واقعہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، آنحضرت ﷺ کی دعوت کے اس نازک مرحلہ میں اس لئے سنایا گیا کہ جو لوگ کسی مصلحت یا کسی اندیشہ کی بنا پر اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے ان پر یہ حقیقت واضح کردی جائے کہ جب اعداء کی طرف سے پیغمبر ﷺ کے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں تو اب کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے ایمان کو چھپائے بلکہ اس بندہ ٔ مومن کی طرح ہر شخص کو سربکف ہو کر میدان میں آجانا چاہئے۔ مرد مومن کے ایک فقرے کے مضمرات ’ اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ وقد جآئکم بالبینت من ربکم ‘۔ یہ امر واضح رہے کہ یہ بات اس مرد مومن نے فرعون اور اس کے تمام درباریوں کو مخاطب کر کے کہی ہے۔ فرمایا کہ کیا تم لوگ ایک شخص کو اس بنا پر قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے نہایت واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اس ایک ہی فقرے میں انہوں نے فرعون اور اس کے اعیان کے سامنے کئی حقیقتیں رکھ دیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ ہی کو اپنا رب مانتا ایک ایسی واضح حقیقت ہے کہ اس میں کسی اختلاف کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے تو وہ ایک نہایت روشن حق کا اظہار کر رہا ہے جس پر وہ تائید و تحسین کا سردار رہے نہ کہ قتل کا۔ بڑے ہی ظالم ٹھہریں گے وہ لوگ جو ایسے شخص کے قتل کی جسارت کریں گے۔ دوسری یہ کہ جو نشانیاں لے کر آئے ہیں وہ ان کے فرستادہ الٰہی ہونے کی نہایت واضح دلیل ہیں۔ صرف اندھے ہی ان کے خدائی ہونے سے انکار کرسکتے ہیں۔ تیسری یہ کہ جس رب کے رسول کی حیثیت سے وہ اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں وہ تمہارا بھی رب ہے۔ یہ تمہاری جہالت ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کو رب بنائے بیٹھے ہو۔ ایک تنبیہ ’ وان یک کاذبا نعلیہ کسذ بہ ؟ وان یک صادقا یصبکم بعض الذی یعدکم ‘ یہ انہوں نے ان کے اقدام قتل کے نتیجہ سے بھی آگاہ کردیا کہ اگر وہ اپنے دعوائے رسالت میں جھوٹے ہوئے، جیسا کہ تم سمجھتے ہو، تو اس کا وبال ان کے اوپر ہوگا اور اگر وہ سچے ہوئے (جیسا کہ فی الحقیقت ہے) تو یاد رکھو کہ جس عذاب کی وہ تم کو وعید سنا رہے ہیں اس کا کوئی حصہ تم پر نازل ہو کے رہے گا۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسولوں کے مکذبین یا ان کے قتل کا ارادہ کرنے والوں کے لئے مقرر ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جذبات سے اندھے ہو کر معاملہ کے ایک ہی پہلو کو نہ دیکھو، بلکہ اس کے دوسرے پہلو کو بھی نگاہ میں رکھو جو بڑا ہی سنگین ہے۔ تم نے ان کو جھوٹا فرض کر رکھا ہے اس وجہ سے ان کے قتل کردینے کو ایک سہل بازی سمجھے ہوئے ہو، تمہیں کیا معلوم کہ وہ جھوٹے ہیں، اگر وہ سچے ہوئے تو پھر سمجھ رکھو کہ تمہارا یہ اقدام بڑا مہنگا پڑجائے گا۔ اس وجہ سے سلامتی اسی میں ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ قتل کی جسارت کر کے اپنی تباہی کا سامان نہ کرو۔ زبان کا ایک اسلوب ’ وان یک کاذبا ‘ کے الفاظ انہوں نے مخاطب کے خیال کو سامنے رکھ کر فرمائے۔ جس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ شرط کے اسلوب میں جس شک کا اظہار ہوتا ہے وہ شک کے مفہوم کے لئے صریح نہیں ہوا کرتا بلکہ اس سے شک کا صرف وہم ہوتا ہے۔ اس میں اصلی فیصلہ کا انحصار موقع و محل اور سیاق وسباق پر ہوتا ہے۔ زبان کے اس اسلوب کو سامنے رکھنا ضروری ہے اس سے دوسری بعض آیتوں کے سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ فرعون پر ایک بلیغ تعریض ’ ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف کذاب۔ ھدی یھدی ‘ کے مختلف معانی پر اس کے محل میں بحث ہوچکی ہے۔ یہاں یہ کسی کو اس کی جدوجہد اور مقصد میں بامراد کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ یہ نہایت بلیغ فقرہ ہے۔ بظاہر تو یہ ایک حکیمانہ کلیہ ہے کہ جو حدود سے تجاوز کرنے والا اور جھوٹا ہوگا اللہ اس کو بامراد نہیں کرے گا، لیکن غور کیجئے تو اس میں فرعون پر نہایت بلیغ تعریض ہے جو انہوں نے عین اس کے منہ پر اس کے بھرے دربار میں اس پر کی۔
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم کے لوگو، آج تمہارے ہاتھ میں اقتدار ہے، تم ملک میں غالب ہو، تو اللہ کے عذاب کے مقابل میں ہماری مدد کون کرے گا اگر وہ ہم پر آگیا ! فرعون بولا کہ میں تم کو اپنی سوچی سمجھی رائے بتا رہا ہوں اور میں تمہاری رہنمائی ٹھیک سیدھی راہ کی طرف کر رہا ہوں۔

مرد مومن کی تقریر بالتدریج واضح ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے قوم کے اعیان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج آپ لوگوں کو ملک میں اقتدار حاصل ہے۔ آپ لوگ جو چاہیں کرسکتے ہیں، کوئی آپ کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے۔ لیکن اس سوال پر سنجیدگی سے غور کر لیجیے کہ اگر اس کے نتیجہ میں ہم پر خدا کا عذاب آ دھمکا تو خدا کی پکڑ سے ہم کو بچانے والا کون بنے گا۔ فرعون کی ایک بےمحل مداخلت ’ قال فرعون ما اریکم الا ما اری وما اھدیکم الا سبیل الرشاد ‘۔ مرد مومن کی یہ تقریر بھرے دربار میں، فرعون کے سامنے، ہو رہی تھی اس وجہ سے فرعون نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جو تجویز (درباب قتل موسیٰ ؑ آپ لوگوں کے سامنے رکھی ہے وہ میری سوچی سمجھی ہوئی رائے ہے اور یہ میں بالکل صحیح پالیسی کی طرف آپ لوگوں کی راہ نمائی کر رہا ہوں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کوئی یہ نہ گمان کرے کہ میں نے محض جذبہ سے مغلوب ہو کر عاجلانہ طور پر یہ تجویز رکھ دی ہے بلکہ خوب اچھی طرح اس کے نتائج و عواقب پر دور تک سوچ لیا ہے اور یہی پالیسی صحیح ہے۔ اگر یہ فوراً نہ اختیار کی گئی تو اس کے نتائج اس ملک کے حق میں نہایت مہلک ہوں گے۔ ’ ظھرین یہاں لکم ‘ کی ضمیر مجرور سے حال پڑا ہوا ہے۔ ضمیر مجرور سے حال پڑنے کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ فرعون کی اس بےمحل مداخلت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے یہ اندازہ کرلیا تھا کہ اس مرد مومن کی تقریربغیر کسی مداخلت کے جاری رہی تو اس سے اس کے بہت سے درباری متاثرہو جائیں گے اس وجہ سے ہوشیار سیاسی لیڈروں کی طرح اس نے اپنی نیک نیتی، اصابت رائے اور مصلحت اندیشی کی دھونس جمانے کی کوشش کی۔
Ayahs 40:30–31

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور جو ایمان لایا تھا اس نے کہا، اے میر ہم قومو ! میں تم پر اسی طرح کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں جس طرح کا عذاب گروہوں پر آیا۔

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

مثلاً وہ عذاب جو قوم نوح، اور عاد اور ثمود اور ان لوگوں پر آیا جو ان کے بعد ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰ بندوں پر کسی طرح کا ظلم نہیں چاہتا…

مرد مومن کی تقریر جاری رہی مرد مومن نے فرعون کی اس مداخلت کی کوئی پرا کئے بغیر اپنی تقریر جاری رکھی۔ فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو، میں آپ کو آگاہ کئے دیتا ہوں کہ اگر موسیٰ ؑ کو گزند پہنچانے کی کوشش کی گئی تو آپ لوگوں پر اسی طرح عذاب آدھمکے گا جس طرح پچھلی قوموں یعنی قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد کی قوموں پر آیا۔ ان قوموں نے اپنے رسولوں کو گزند پہنچانے کی کوشش کی تو اس کے نتیجہ میں تباہ ہوئیں، اسی طرح آپ لوگ بھی تباہ ہو کر رہیں گے اگر انہی کے نقش قدم کی پیروی کریں گے۔ ’ وما اللہ یرید ظلما للعبا ‘۔ اور یہ بات بھی یاد رکھئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی رحیم ہے۔ اس وجہ سے کوئی عذاب بھیجنے سے پہلے آپ لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے اس نے اپنا رسول بھیج دیا ہے تاکہ جو لوگ توبہ و اصلاح کرنی چاہیں وہ توبہ و اصلاح کرلیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی اس رحمت و عنایت کی قدر کرنے کے بجائے اس کے رسول کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ لوگوں پر حجت تمام ہوگئی اور آپ لوگوں نے اپنی شامت خود بلائی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ فرعون عاد و ثمور وغیرہ کے بعد ہوا ہے اور یہ قومیں اس کے پاس پڑوس کی قومیں تھیں جن کے حالات اس طرح معلوم و معروف تھے کہ ان کو اس عہد کے لوگوں کے سامنے تذکیر و تنبیہ کے لئے پیش کیا جاسکتا تھا۔
Ayah 40:32

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اے میرے ہم قومو، میں تم پر ہانک پکار کے دن کا اندیشہ رکھتا ہوں۔

یوم التناد کا مفہوم ’ یوم التناد ‘ کے لغوی معنی ہیں ’ ہانک پکار کا دن ‘ یہ اس یوم عذاب کی تعبیر کے لئے آیا ہے جس سے لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔ جب کوئی بڑی ہلچل برپا ہوتی ہے تو دوڑو، بھاگو، لیجیو، چلیو کا ہر طرف شور ہوتا ہے اس وجہ سے یوم عذاب کی تعبیر کے لئے یہ نہایت موزوں لفظ ہے۔ اس میں اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ابھی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت ملی ہوئی ہے۔ اس وجہ سے آپ لوگ اللہ اور اس کے رسول پر حملہ آور ہونے کے منصوبے بنا رہے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حملہ ہوگا تو تولون مدبرین۔ ما لکم من اللہ من عاصم ‘ اس وقت پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے لیکن یہ بھاگنا بالکل بےسود ہوگا اس لئے کہ خدا کی پکڑ سے کوئی پناہ دینے والا نہیں بنے گا۔ اس وقت آپ لوگ ہانک پکار کریں گے لیکن یہ صدا بصحرا ہوگی۔ ’ ومن یضلل اللہ فما لہ من ھاد ‘ یعنی میرا کام آپ کو نیک و بد سے آگاہ کرنا ہے وہ میں کر رہا ہوں۔ میری نصیحت ماننا نہ ماننا آپ کے اختیار میں ہے۔ اگر آپ لوگوں نے وہی اقدام کیا جس کا ارادہ کر رہے ہیں تو میں اس کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو اللہ گمراہ کر دے ان کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس پر اس کتاب میں جگہ جگہ گفتگو ہوچکی ہے۔
Ayahs 40:33–34

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور تم کو خدا سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اور جس کو خدا گمراہ کر دے تو اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں بن سکتا۔

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور یوسف اس سے پہلے واضح تعلیمات کے ساتھ آئے تو تم ان کی لائی ہوئی باتوں کی طرف سے برابر شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم نے سمجھا کہ اب اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ان لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے جو حدود سے تجاوز کرنے والے اور شبہات میں پڑے رہنے والے ہوتے ہیں۔

قوم کی ضلالت کی تاریخ اور اس کا فلسفہ یہ قوم کی ضلالت کی انہوں نے تاریخ بیان فرمائی ہے کہ اس سے پہلے حضرت یوسف ؑ بھی، نہایت واضح دلائل کے ساتھ، آپ لوگوں کے پاس آئے لیکن ان کی تعلیمات و ہدایات کے باب میں بھی آپ لوگ برابر شک ہی میں رہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بادشاہ وقت کی غیر معمولی عقیدت کے سبب سے۔ جو اس کو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ تھی، ان کے معاملے میں کوئی معاندانہ رویہ تو نہیں اختیار کیا گیا لیکن جن باتوں کی انہوں نے تعلیم دی ان کی کوئی خاص قدر بھی نہیں کی گئی۔ بلکہ ان کی تعلیمات کو نفس کی خواہشوں کے خلاف پا کر ان کے باب میں آپ لوگ بےپروائی اور شک میں مبتلا رہے۔ ’ حتی اذا ھلک قلتم من یبعث اللہ من بعدہ رسولا ‘ یعنی ان کو اور ان کی تعلیمات کو اللہ کی رحمت سمجھنے کے بجائے قوم کے لوگوں نے ایک بوجھ خیال کیا۔ یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو لوگوں نے ٹھنڈا سانس لیا کہ یہ بوجھ اترا اور مطمئن ہوگئے کہ اب اللہ کوئی اور رسول نہیں بھیجے گا جو ان کی طرح آپ لوگوں کی خواہشوں کو لگام لگانے کی کوشش کرے گا۔ ’ کذلک یضل اللہ من ھو مسرف مرتاب ‘ یعنی آپ لوگوں کی موجودہ گمراہی اسی پچھلی گمراہی کا مولود فساد ہے۔ جو لوگ محض نفس کی خواہشوں کی پیروی میں اللہ کے حدود کو توڑنے والے اور اتباع نفس کے جنون میں علم و یقین کے بجائے شک کی راہ اختیار کرنے والے بن جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ان کی پسند کردہ ضلالت ہی کی ڈگر پر ہانک دیتا ہے۔ پھر ان کو کبھی ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ جس اصول پر مبنی ہے اس کی طرف اس کتاب میں جگہ جگہ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ وہ چاہتا ہے کہ لوگوں کو خیر و شر کی جو معرفت اور عقل و فہم کی جو نعمت اس نے بخشی ہے، لوگ اس کی قدر کریں۔ جو لوگ ان کی قدر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے ہدایت و معرفت کی مزید راہیں کھولتا ہے۔ جو اس کی قدر نہیں کرتے بلکہ اپنے نفس کی خواہشوں سے مغلوب ہو کر واضح سے واضح حق کو بھی مشتبہ بنانے کی کوشش کرتے اور اسی مقصد کے لئے اپنی ساری ذہانت صرف کرتے ہیں ان کو مزید ہدایت دینا تو الگ رہا ان کی اس ناقدری کی پاداش میں اللہ تعالیٰ ان کا وہ نور بھی سلب کرلیتا ہے جو ہر انسان کی فطرت میں ودیعت ہوتا ہے۔ یہاں اس بندہ مومن نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور یہ چیز ان لوگوں کے لئے خاص طور پر قابل توجہ ہے جو اس زمانے میں نہایت واضح حقائق کو مشتبہ بنانے کے لئے رات دن خاکبازی کر رہے ہیں۔