39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا ۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق یہ سورة سابق سورة … سورة ص … کے مثنیٰ کی حیثیت رکتھی ہے۔ جس مضمون پر سابق سورة ختم ہوئی ہے اسی مضموکن سے اس کا آغاز ہا ہے۔ سورة ص کے آخر میں فرمایا ہے کہ یہ قرآن دنیا والوں کے لئے ایک عظیم یاد دہانی ہے، لوگوں کو یاد دلا رہا ہے کہ آخرت شدنی ہے اور سب کی ایک ہی رب حقیقی کے آگے پیش ہونا ہے تو جو لوگ آج اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ بہت جلد اس کی صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اب اس سورة کی تلاوت کیجیے تو اس کا آغاز بھی اسی مضموکن سے ہوتا ہے کہ خدائے عزیز و حکیم نے یہ کتاب نہایت اہتمام سے اس لئے اتاری ہے کہ لوگوں نے اللہ کی توحید کے بارے میں جو اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ان کا فیصلہ کر دے تاکہ حق واضح ہوجائے اور جو لوگ اپنے فرضی دیویوں دیوتائوں کے بل پر آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں وہ چاہیں تو وقت آنے سے پہلے اپنی عاقبت کی فکر کرلیں۔ اسی پہلو سے اس میں توحید کے دلائل بھی بیان ہوئے ہیں، شرک اور شرکاء کی تردید بھی فرمائی گی ہے اور قایمت کے دن مشرکین کا جو حشر ہوگا اس کی تصویر بھی کھینچی گئی ہے۔ سورة کی بنیاد توحید پر ہے اور اسی تعلق سے اس میں قیامت کا بھی بیان ہوا ہے۔ یہ سورة اس گروپ کی ان سورتوں میں سے ہے جو کشمکش حق و باطل کے اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب ہجرت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے۔ چناچہ بعد کی سورتوں میں یہ مضمون باللہ ریج واضح ہوتا گیا ہے۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (4-1) خدائے عزیز و حکیم نے یہ کتاب توحید و شرک کے قضیہ کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک قول فیصل کی حیثیت سے اتاری ہے تو لوگ اللہ واحد ہی کی عبادت و اطاعت کریں۔ عبادت و اطاعت کا حقیقی سزا وار وہی ہے۔ جو لوگ دوسرے معبودوں کو خدا کے تقرب کا ذریعہ بنائے بیٹھے ہیں اگر وہ اس کتاب پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا اور وہ یاد رکھیں کہ اللہ جھوٹوں اور ناشکروں کو بامراد نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے ارفع ہے کہ وہ اپنے لئے بیٹے بیٹیاں بنئاے۔ وہ بالکل یکتا اور ساری کائنات کو کنٹرول کرنے کے لئے کافی ہے۔ (٥-٨) یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے غایت اور حکمت کے ساتھ پیدا کی ہے۔ رات اور دن کی آمد و شد، سورج اور چاند کی گردش اس کے حکم سے ہے۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسی نے اس کی پرورش کا سامان کیا ہے، وہی خالق وہی رب اور وہی اپنی تمام کائنات کا علم رکھنے والا او اس کا مالک ہے تو لوگ اس کو چھوڑ کر کہاں بھٹکے جا رہے عیں ! لوگ یاد رکھیں کہ اللہ لوگوں کی بندگی اور شکر گزاری کا محتاج نہیں ہے بلکہ لوگ ہی اس کے محتاج ہیں۔ سب کی واپسی خدا ہی کی طرف ہوتی ہے اور اس دن کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ خدا سب کے بھیدوں سے خود واقف ہے اور وہ سب کا کچاچٹھا ان کے سامنے رکھ دے گا۔ لوگوں کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو خدا کو پکارتے ہیں لیکن جب وہ مصیبت دور کردیتا ہے تو اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں گویا کبھی اس سے کوئی واسطہ تھا ہی نہیں۔ (21-9) اللہ کے بجو بندے توحید پر ایمان لانے کے جرم میں اپنی قوم کے اشرار کے ہاتھوں ظلم و ستم کا ہدف بنے ہوئے تھے ان کو فوز و فالح کی بشارت اور یہ پیغام اپنے ایمان پر جمے رہو۔ اگر یہ زمین تمہارے اوپر تنگ کردی گئی تو اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے۔ اپنی راہ میں ثابت قدم رہنے والوں کو اللہ بےحساب اجر دیتا ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے شرک اور مشرکین سے برأت کا اعلان۔ مشرکین کو عذاب کی وعید اور توحید پر قائم رہنے والوں کو کامیابی کی بشارت۔ آخر میں ان لوگوں کو تنبیہ جو اپنی دنیوی زندگی کے غرور میں قرآن اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلا رہے تھے۔ (٢٢-٣٥) پغیمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی کہ اس قرآن کی دعوت پر وہی لوگ ایمان لائیں گے جن کی فطرت کا نور زندہ ہے۔ جن کے دل سخت ہوچکے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ وہ اسی انجام سے دوچار ہوں گے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قومیں دوچار ہئیں۔ قرآن نے ہر پہلو سے توحید اور شرک کی حقیقت نہایت واضح طور پر بیان کردی ہے۔ جو لوگ اب بھی اپنی منہ پر اڑے ہوئے ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ (٣٦-٥٢) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اطمینان دہانی کہ اگر یہ لوگ تم کو اپنے معبودوں سے ڈرا رہے ہیں تو ان کو بتا دو کہ میری حفاظت کے لئے اللہ کافی ہے وہ جس رحمت سے مجھے بہرہ مند کرنا چاہے گا کوئی مجھے اس سے محروم نہیں کرسکتا اور اگ روہ کوئی ضرر پہنچانا چاہے گا تو کوئی دوسرا اس سے مجھے بچا نہیں سکتا۔ پس تم اپنی جگہ کا مکرو، میں اپنی جگہ کام کرت اہوں۔ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس امر کی وضاحت کہ زندگی اور موت تمام تر اللہ ہی کے قبضے میں ہے تو جو لوگ باطل شفاعت کی امید پر جی رہے ہیں انہیں بتا دو کہ شفاعت اللہ کے اختیار میں ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالے کر دو ۔ اس کے لئے دعا کی تلقین ان کی تدبیر ان کے کچھ کام نہ آسکی۔ یہی حشر انکا بھی ہوتا ہے۔ رزق و فضل سب اللہ کا عطیہ ہے اس وجہ سے ہر ایک پر اللہ ہی کا شکر واجب اور یہی توحید کا تقاضا ہے۔ (61-53) لوگوں کو یہ تذکیر کہ خدا سے مایوس ہو کر دوسرے شرکاء و شفعار کا دامن پکڑنا جائز نہیں ہے بلکہ ہر حالت میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہئے، وہ بڑا ہی غفور رحیم ہے۔ پس خدا کی پکڑ سے پہلے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں اور اس بہترین کتاب پر ایمان لائیں جو اللہ نے اپنے فضل سے ان کی ہدایت کے لئے اتاری ہے ورنہ ایک دن وہ ایمان کی حسرت کریں گے اور اپنی محرومی پر اپنے سرپیٹیں گے لیکن وقت گزر جانے کے بعد ان کے لئے یہ چیز کچھ نافع نہیں ہوگی۔ (٦٢-٧٥) خاتمہ سورة جس میں پہلے یہ وضاحت فرمائی گئی ہے کہ عبادت کا حقدار صرف اللہ تعالیٰ ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے اور اسی کے اختیار میں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے مشرکین کو خطاب کر کے یہ اعلان فرما رہے کہ تم لوگ مجھے غیر اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہو حالانکہ میری طرف اور مجھ سے پہلے تمام نبیوں کی طرف یہی وحی آئی ہے کہ جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا اس کے تمام عمل حبط ہوجائیں گے۔ اس کے بعد مشرکین کو ملامت کہ ان لوگوں نے خدا کی شان بالکل نہیں پہچانی۔ یہ فرضی معبودوں کی شفاعت کے بل پر جی رہے ہیں حالانکہ جس وقت صور پھونکا جائے گا سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے اور پھر جب دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہوں گے۔ زمین خدا کے نور سے چمک اٹھے گی۔ دفتر کھولا جائے گا، نبیوں اور گواہوں کی طلبی ہوگی اور لوگوں کے درمیان بالکل انصاف کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس کے بعد اہل دوزخ اور اہل جنت کے حالات کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

یہ کتاب نہایت اہتمام سے خدائے عزیز و حکیم کی طرف سے اتاری گئی ہے

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم (1) آنحضرت صلعم کے لئے تسلی اور منکرین کے لئے تہدید لفظ تنزیل کی واضحت اس کے عمل میں ہم کرچکے ہیں کہ اس کے معنی صرف اتارنے کے نہیں بلکہ اتہمام کے ساتھ اتارنے کے لئے ہیں۔ یہ تمہیدی آیت اپنے اندر آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی بھی رکھتی ہے اور قرآن کے مکذبین کے لئے تہدید و وعید بھی۔ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی کا پہلو ہے کہ تم نے یہ کتاب نہ خود تصنیف کی ہے نہ خدا سے مانگ کے لئے اپنے اوپر اتروائی ہے بلکہ تمہارے رب نے خود تمہاے اوپر نہایت اہتمام کے ساتھ درجہ بدرجہ اتاری ہے اور اتار رہا ہے تو تم اطمینان رکھو کہ وہی اس کی صداقتیں ظاہر کرے گا اور وہی اس کے لئے راہ ہموار کرے گا۔ جس خدا نے یہ کتاب اتاری ہے وہ کوئی بےبس ہستی نہیں بلکہ عزیز یعنی غالب و مقتدر ہے۔ وہ جو چاہے کرسکتا ہے کوئی اس کے ارادے میں مزاحم نہیں ہوسکتا۔ لیکن عزیز ہونے کے ساتھ وہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے اگر راہ میں کچھ مزاحمتیں پیش آرہی ہیں یا آئندہ آئیں تو ان کو خدا کی حکمت پر محمول کرو۔ کوئی باتخ دا کے حکم کے بغیر نہیں ہوتی اور اس کا ہر کام حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے منکرین کے لئے تہدید کا پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ نہایت اہتمام و تدریج کے ساتھ لوگوں کی ہدایت کے لئے اتار رہا ہے۔ اس کا حق یہ ہے کہ لوگ اس نعمت کی قدر اور اس سے ہدایت و روشنی حاصل کریں۔ اگر انہوں نے اس کے برعکس ای تکذیب کی راہ اختیار کی تو یاد رکھیں کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خدائے عزیز و حکیم کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ وہ جو چایہ کرسکتا ہے۔ اگر اس کے باوجود وہ تکذیب کرنے والوں کو ڈھیل دے رہا ہے تو یہ محض اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت دے رہا ہے۔
Ayah 39:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے یہ کاتب تمہاری طرف قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے تو تم اللہ ہی کی بندگی کرو ،

(آیت) حق کے معنی یہاں قول فیصل کے اور دین کے معنی اطاعت کے ہیں۔ ان الفاظ کے مختلف معانی کی وضاحت ان کے محل میں ہوچکی ہے۔ توحید اور شرک کے باب میں قول فیصل یہ آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے۔ اللہ کی توحید کے بارے میں مبتدعین و مشرکین نے جو اختلافات پیدا کردیئے تھے اس کتاب نے انکا فیصلہ کردیا تو تم اللہ کی بندگی اس کی خالص اطاعت کے ساتھ کرو۔ اطاعت خالص کا سزا وار اللہ ہی ہے وہی سب کا خالق اور پروردگار ہے تو وہی سب کی عبادت کا بھی حقدار ہے اور جو عبادت کا حق دار ہے وہی اطاعت کا بھی حق دار ہے۔ یہ بالکل بےتکی بات ہے کہ عبادت کا حق دار کوئی ہو، اطاعت کا حقدار کوئی اور بن جائے اور جس طرح عبادت کا خالص ہونا ضروری ہے، اسی طرح اطاعت بھی بےآمیز ہونی ضروری ہے۔ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے خلاف جائز نہیں ہے۔ پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے یہ بات فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کے نازل ہوجانے کے بعد تمہاری راہ معین ہوگئی۔ تم اسی راہ پر چلو اگر دوسرے تمہارا ساتھ دیتے ہیں تو فبہا نہیں دیتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ تمہایر اوپر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ یاد رکھو کہ اطاعت خالص کا سزا اور اللہ ہی ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو خدا سے قریب تر کردیں، اللہ ان کے درمیان سا بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ اللہ ان لوگوں کو بامراد نہیں کرے گا جو جھوٹے اور ناشکرے ہیں۔

والذین اتخذوا … الایۃ یعنی یہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسرے کار ساز بنائے بیٹھے ہیں اور ان کے حق میں انہوں نے یہ فلسفہ ایجاد کیا ہے کہ ان کو وہ خدا سمجھ کر نہیں بلکہ خدا کے تقریب کا ذریعہ سمجھ کر پوج رہے ہیں اگر اس کتاب کے فیصلہ کو وہ نہیں مان رہے ہیں تو اللہ ان کے اختالف کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا۔ ان اللہ لایھدی من ھوکذب کنار ھدی یھدی کسی مقصد میں بامراد کرنے کے مفہم کے لئے بھی قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ قیامت کے دن ان لوگوں کا جو فیصلہ ہوگا اس کے متعلق یہ اصولی حقیقت واضح فرما دی کہ جو لوگ جھوٹے اور ناشکرے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بامراد نہیں کرے گا۔ جھوٹے سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا پر یہ جھوٹ باندھا ہے اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا ہے درآنحالیکہ خدا نے ان کے باب میں کوئی دلیل یا شہادت نہیں اتاری اور ناشکرے سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو نعمتیں تو سب خدا نے بخشیں لیکن انہوں نے کن دوسروں کے گائے۔ یہ دونوں صفتیں مشرکین کی ہیں اور یہ دونوں بیک وقت ہر مشرک میں لازماً پائی جاتی ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اس گھمنڈ میں قرآن اور پیغمبر کو جھٹلا رہے ہیں کہ قیامت ہوئی تو وہ اپنے معبودوں کی بدولت خدا کے مقرب بن جائیں گے حالانکہ ایسے جھوٹوں اور ناشکروں کی کوئی امید بھی خدا کے ہاں بر آنے والی نہیں ہے۔
Ayah 39:4

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ اولاد ہی بناین کا ارادہ کرتا تو وہ چھانٹ لیتا ان چیزوں میں سے جو وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا۔ وہ پاک او ارفع ہے۔ وہ اللہ واحد ہے سب پر قابو رکھنے والا۔

لواراد اللہ ان یتخذ ولد الاصطفی مما یخلق ما یشآء سبحنہ ھو اللہ الی حد القھار (4) مشرکین کے عقیدے پر تعریض یہ مشرکین عرب کے عقیدے پر تعریض ہے کہ انہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مان کر ان کو معبود بنا رکھا ہے اور ان کو خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کم عقلوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ اگر خدا اپنے لئے اولاد ہی بنانے کا ارادہ کرتا تو وہ بیٹیاں کیوں بناتا، وہ اپنی مخلوقات میں سے جس بہتر سے بہتر چیز کو چاہتا اپنے لئے منتخب کرنا ! سبحنہ وہ ایسی نسبتوں اور ایسی ضرورتوں سے ارفع منزہ اور بالکل پاک ہے۔ اس کو کسی بیٹے بیٹی یا کسی شریک و مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بالکل یکہ و تنہا اور اپنی پوری کائنات کو اپنے قابو میں رکھنے والا ہے۔
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو غایت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ہو رات کو دن پر ڈھانکتا ہے اور دن کو رات پر اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک وقت مقرر کی پابندی کے ساتھ گردش کر رہا ہے سن رکھو کہ غالب اور بخشنے والا وہی ہے۔

خلق السموت والارض بالحق یکورالیل علی النھار ویکورا النھار علی الیل و سخر الشمس و القمر کل تجزی لا جل مسمی الا ھو العزیز الغفار (5) شرک و شفاعت کا عقیدہ اس دنیا کے بالحق ہونے کے منافی ہے اس نے آسمان و زمین بےمقصد وغایت نہیں پیدا کیے ہیں کہ نیکی و بدی اور حق و باطل کا اس میں کوئی امتیاز ہی نہ ہو۔ جو چاہے سفارشوں کے بل پر، اپنے لئے اونچے سے اونچے مرتبے خدا کی ہاں محفوظ کرا لئے، خواہ اس کے اعمال و عقائد کچھ ہی ہوں۔ اگر ایسا ہو تو یہ دنیا ایک بالکل باطل کارخانہ بن جاتی ہے اور ایک حکیم و عادل خالق کی شان کے بالکل خلاف ہے کہ وہ کوئی باطل کام کرے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا سے بےتعلق نہیں ہے یکورالیل علی النھار …الایۃ یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ خدا دنیا کو پیدا کر کے کسی گوشے میں ایک تماشائی یا نونکار بن کر بیٹھ رہا ہے بلکہ وہی برابر رات کو دن پر ڈھنکتا اور دن کو رات پر اڑھاتا ہے۔ اسی نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے اور یہ سب اپنے مقررہ نظام الاوقات کے مطابق گردش کر رہے ہیں۔ مجال نہیں ہے کہ ان کی پابندی اوقات میں منت اور سیکنڈ کا بھی فرق پیدا ہوجائے۔ الاھوا العزیز الغفار یعنی کان کھول کر اچھی طرح سن لو کہ خدا عزیز بھی ہے اور غفار بھی ہے۔ وہ عزیز ہے اس وجہ سے کوئی اس کے اذن کے بغیر نہ اس کے ہاں رسائی حاصل کرسکتا نہ کسی کے لئے کوئی سفارش کرسکتا اور غفار ہے اس وجہ سے ہو ان لوگوں کو خود بخشنے والا ہے جو اپنے لئے مغفرت کا حق پیدا کرلیں گے۔ ان کو کسی سفارشی کی سفارش کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے پیدا کیا تم کو ایک ہی جان سے، پھر پیدا کیا اسی کی جنس سے اس کا جوڑ اور تمہارے لئے (نر مادہ) چوپایوں کی آٹھ قسمیں اتاریں۔ وہ تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں میں پدیا کرتا ہے، ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت میں، تین تاریکیوں کے اندر وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم کہاں بھٹکا دیئے جاتے ہو

(آیت) اللہ تعالیٰ ہی خالق و رازق ہے تو وہی رب بھی ہے یہ اسی اوپر والی بات کی مزید وضاحت ہے کہ خدا ہی خالق ہے، اس نے پر وشر کا اتنظام لوگ یہ تمام بدیہی حقائق تسلیم کرتے ہیں آخر ان کی عقل کہاں لاٹ جاتی ہے کہ وہ دوسروں کو اس کی بادشاہی میں ساجھی بناتے ہیں ! خلقکم من نفس واجدۃ ثم جعل منھا زوجھا یعنی خدا ہی نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا، پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تمام انسان ایک ہی آدم کی نسل سے ہیں اور سب کا خالق خدا ہی ہے، پھر خدا ہی ہے جس نے آدم ہی کی جنس سے اس کے جوڑے … عورت … کو وجود بخشا کہ جب سب کا خالق اللہ ہی ہے اور اس حقیقت سے تمہیں بھی انکار نہیں ہے تو خدا کے سوا دوسرے معبودوں کے لئے کہاں سے گنجائش پیدا ہوئی ! وانزل لکم من الانعام ثمانیۃ اواج یعنی جس خدا نے تم کو پیدا کیا اسی نے تمہاری پرورش کا سامان بھی کیا۔ یہ نہیں کہ تمہیں پیدار کے اس نے تمہاری پر وشر کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی ہو۔ یہ مختلف قسم کے چوپائے جن پر تمہاری معاش و معیشت کا انحصار ہے۔ خدا ہی کے پیدا کئے ہیں کسی اور نے ان کو نہیں پیدا کیا ہے۔ یہاں چوپایوں کے لئے انزل لکم کے الفاظ اسی طرح اسعتمال ہوئے ہیں جس طرح انزلنا الجدید کے ا لفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن میں یہ اسلوب بیان اکثر چیزوں کے لئے استعمال ہوا ہے اور اس سے مقصود لوگوں کو ہر چیز کے اصل منبع کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ہر چیز کا نازل کرنے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی اسی نے چوپائے اتارے تو وہ انسان کی معاش و معیشت کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے زمین میں پھسل گئے یہی حقیقت بینی انسان کے اندر صحیح جذبہ شکر گزاری پیدا کرتی ہے ورنہ انسان کی نظر ہر نعمت کے سبب قریب کے ساتھ اٹک کے رہ جاتی ہے اور وہ اپنے حقیقی پروردگار کو بھول جاتا ہے۔ ثماتیۃ ازواج لفظ زوج جوڑے کے لئے بھی آتا ہے اور جوڑے کے ایک فرد کے لئے بھی یہاں یہ اسی دوسرے معنی میں استعمال ہا ہے۔ عرب میں پالتو چوپایوں میں سے چار معروف تھے۔ چھوٹے چوپایوں میں بھیڑ بکری، بڑے چوپایوں میں اونٹ اور گائے۔ لفظ انعام انہی کے لئے بولا جاتا ہے۔ ان کے نر و مادہ دونوں کو ملا کر گنیے تو یہ آٹھ بن جائیں گے۔ عرب میں معاش و معیشت کا انحصار زیادہ تر انہی پر تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی یاد دہانی کے لئے ان کا خاص طور پر حوالہ دیا۔ اس مضمون کی تفصیل مطلوب ہو تو انعام کی آیات 144-142 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یختقکم فی بطون امھتکم خلقاً من بعد خلق فی ظلمت ثلث خلق اور ربوبیت کی یاد دہانی کے بعد یہ اپنی قدرت، کاریگری اور اپنے احاطہ علم کی طرف توجہ دلائی کہ وہی خدا تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں میں، تین تینخ تاریکیوں کے اندر، تخلیق کے مختلف اطوار و مراحل سے گزرتا ہے۔ ان مختلف مراحل کی تفصیل سورة مومنوں میں یوں فرمائی ہے۔ ثم خلقنا النطفۃ علقۃ فخلقنا العلقۃ مضفۃ فخلقنا المضغۃ عظماً فکسونا العظم لحمان ثم انشاناہ خلقا اخرط (المومنون :14) پھر ہم نطفہ کو خون کی پھٹکی کی شکل میں کردیتے ہیں اور خون کی پھٹکی کو گوشت کا لوتھڑا بنا دیتے ہیں۔ پھر لوتھڑے میں ہڈیں پیدا کردیتے ہیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیتے ہیں۔ پھر اس کو ایک نئی خلقت میں کردیتے ہیں۔ تین تاریکیوں سے اشارہ مشیمہ، رحم اور پیٹ کی تہ بہ تہہ تاریکیاں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قدرت کا دست صناع اور موقلم یہ صناعی سورج یا بجلی کی روشنی میں نہیں کرتا بلکہ تین تین پردوں کے اندر کرتا ہے۔ یہ بات کی شہادت ہے کہ اس کا علم ہر جلی و خفی کو محیط ہے۔ ذبکم اللہ ربکم لہ الملک … الایۃ یعنی جس خدا کے تمہارے اوپر یہ احسانات ہیں وہی تمہارا آقا اور مالک بھی ہے۔ ہر چیز اسی کی ملکیت اور تمام آسمان و زمین میں اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں، پھر تمہاری عقل کس طرح الٹ جاتی ہے کہ تم سیدھی راہ سے ہٹا کر ایک بالکل غلط سمت میں موڑ دیئے جاتے ہو ! تصرمون مجہول کا صیغہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ان واضح حقائق فطرت کے بعد کسی غلط سمت میں بھٹکنے کی گنجائش تو نہیں تھی لیکن تم نے معلوم نہیں کس شیطان کے ہاتھ میں اپنی باگ پکڑا دی ہے جو تمہیں گمراہی کی ودیوں میں گردش کرا رہا ہے۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےنیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری کا رویہ پسند نہیں کرتا اور اگر تم اس کے شکر گزار ہو گے تو اس کو پسند کرے گا اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھئاے گی۔ پھر تمہارے رب ہی کی طرف تمہاری واپسی ہے تو وہ تمہیں ان کاموں سے آگاہ کرے گا جو تم کرتے رہو وہ سینوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے

(آیت) اللہ تعالیٰ لوگوں کے کفر و ایمان سے بالکل بےنیاز ہے لفظ کفسر یہاں ناشکری اور کفران نعمت کے مفہوم میں آیا ہے۔ اس کے مقابل میں ان تشکروا ہے جس سے اس مفہم کی وضاحت ہو رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے پیدا کرنے اور تمہارے پرورش میں تو خدا کے سوا کسی اور کوئی دخل ہے نہیں۔ اگر اس کے باوجود تم دوسروں کو خدا کا شریک بنا کر اس کی ناشکری کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ تم خدا کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہو۔ خدا تمہارے کفر اور شکر دونوں سے بےنیاز ہے۔ وہ تمہارا محتاج نہیں ہے بلکہ تمہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم اس کے شکر گزار رہو گے تو وہ اس کو پسند فرمائے گا۔ دنیا میں بھی تمہاری نعمتوں میں برکت ہوگی اور آخرت میں بھی اس کا بھرپور صلہ پائو گے اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھو کہ خدا اپنے بندوں کی طرف سے ناشکری کے رویہ کو پسند نہیں فرماتا تو لازماً اس کا نتیجہ بھی ان کے سامنے آئے گا۔ ولاتزروازرۃ وزر اخریٰ …الایۃ اور یہ حقیقت بھی یاد رکھو کہ خدا کے ہاں ہر نفس کی ذمہ داری خود اسی کے اوپر ہے۔ کوئی دوسرا اس کی طرف سے جواب دہی کرنے والا نہیں بنے گا۔ اگر تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ تمہارے یہ دیوی دیوتا تمہاری وکالت و شفاعت کر کے تم کو خد کی پکڑ سے بچا لیں گے تو یہ آرزئوے باطل پوری ہونے والی نہیں ہے۔ سب کی واپسی خدا ہی کی طرف ہونی ہے۔ کوئی اور مولی و مرکع نہیں بنے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے سامنے اس کے اعمال کا پورا دفتر رکھ دے گا۔ وہ لوگوں کے دلوں کے بھیدوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔ نہ اس کو کسی کے بارے میں کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہے اور نہ کوئی اس کے آگے یہ کہنے والا بنے گا کہ فلاں کے بارے میں اس کی معلومات میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو خدا کے علم میں نہیں ہیں۔
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس کی طرف متوجہ ہو کر، پھر جب وہ اپنی طرف سے اس کو فضل بخش دیتا ہے تو وہ اس چیز کو بھول جاتا ہے جس کے لئے پہلے پکارتا رہا تھا اور اللہ کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے کہ اس کی راہ سے لوگوں کو گمراہ کرے۔ کہہ دو ، اپنے کفر کے ساتھ کچھ دنوں بہرہ مند ہو لو، تم دوزخ والوں میں سے بننے والے ہو۔

واذا من الانسان ضرد عادیہ منیباً الیہ ثم اذا اخولہ نعمۃ منہ نسی ماکان یدعوآ الیہ من قبل وجعل للہ انداد بیضل عن سبیدہ قل تمتع بکفرک قلیلاً انک من اصحاب النار (8) انسان کی ناشکری پر تعجب اور افسوس یہ انسان کی اس ناشکری کے رویہ پر تعجب اور فاسوس کا اظہار ہے کہ اس کا عجیب حال ہے کہ جب اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تب تو وہ بڑے تضرع اور بڑی انات کے ساتھ خدا سے فریاد کرتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت دور کر کے اس کو اپنے فضل سے بہرہ مند کردیتا ہے تو وہ اپنی مصیبت کو بھول جاتا ہے اور خدا کے بخشے ہوئے فضل کو دوسرے شریکوں کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے اور اس طرح خود بھی خدا کی راہ سے برگشتہ ہوتا ہے، دوسروں کو بھی اس سے برگشتہ کرتا ہے یہاں چونکہ کفر کے سرغنوں کا رویہ زیر بحث ہے اس وجہ سے فعل لیضل متعدی استعمال فرمایا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ اس کے اندر گمراہ ہونے کا مفہم خود شامل ہے۔ یہی مضمون آگے اسی سورة میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ فاذا من الانسان ضر دعانا ثم اذا خولنہ یغمۃ منا قال انا اوتینہ علی علم (الزمر :49) جب انسان کو کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تب تو وہ ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرے علم و قابلیت کا ثمرہ ہے۔ انسان کی فطرت کے اندر ایک خدا کے سوا کسی اور الہ کا کوئی شعور نہیں ہے اس وجہ سے جب اس پر کسی حقیقی افتقار کی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ اسی کی طرف متوجہ ہوتا اور اس سے دعا و فریاد کرتا ہے لیکن جب اس کی مصیبت دور ہوجاتی ہے تو وہ مصیبت کو بھی بھول جاتا ہے اور خدا سے بھی بےنیاز ہوجاتا ہے اور خدا کی بخشی ہوئی نعمت کو یا تو اپنی یفرضی دیویوں دیوتائوں سے منسوب کرتا ہے یا اپنی تدبیر اور اپنی قابلیت و ذہانت کا ثمرہ قرار دیتا ہے اور اس طرح خود شریک خدا بن جاتا ہے۔ قل تمتع بکفرک قلیلاً انک من اصحب النار اوپر کی بات اگرچہ عام صیغے سے فرمائی گئی ہے لیکن مقصود مخاطب گروہ کی حالت ہی پر توجہ دلانا تھا اس وجہ سے پیغمبر ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ ان سے کہہ دو کہ اپنی اس ناشکری اور اپنے اس کفر کے باوجود اللہ کی نعمتوں سے کچھ دن بہرہ مند ہو لو، بالآخر تو تم جہنم کے ایندھن بننے والے ہی ہو، وہ ساری کسر پوری کر دے گی۔
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

کیا وہ جو عاجزانہ شب کے اوقات میں اپنے رب کے آگے سجود و قیام میں آخرت سے اندیشہ ناک اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے (اور دوسرے جو ان صفات سے عاری ہیں یکساں ہوجائیں گے ؟) پوچھو، کیا علم و بصیرت رکھنے والے اور وہ جو علم و بصیرت نہیں رکھتے دونوں برابر ہوں گے ؟ یاد دہانی تو اہل عقل ہی حاصل کرتے ہیں

2۔ آگے کا مضمون آیات 20-9 پہلے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی جن لوگوں نے شرک و شفاعت کا عقیدہ ایجاد کیا ہے انہوں نے اپنے زعم میں خدا کے نزدیک نیک اور بد دونوں کو بالکل یکساں کردیا ہے۔ حالانکہ یہ چیز بالبداہت غلط ہے۔ بصیرت و معرفت رکھنے والے اور اپنی عقلوں کو اپنی خواہشوں کی لونڈی بنا دینے والے زونوں خدا کے ہاں یکساں نہیں ہو سکتے۔ پھر مسلمانوں کو، جو اس دور میں ہر قسم کے مظالم کے ہدف بنے ہوئے تھے۔ تسلی دی کہ تم اللہ کی توحید کردی گئی تو اطمینان رکھو کہ خدا کی زمین تنگ نہیں ہے۔ پھر نبی ﷺ کی زبان سے شرک اور شرکاء سے نہایت آشکارا طور پر اعلان برأت کرایا ہے تاکہ کفار پر حقیقت واضح ہوجائے کہ جبر و ظلم کے ذریعہ سے وہ اللہ کے بندوں کو شرک کے آگے نہیں جھکا سکتے۔ آخر میں مسلمانوں کو فوز و فلاح کی بشارت اور نبی ﷺ کو تسلی دی ہے کہ تمہارے دعوت انہی لوگوں کو پایل کرے گی جن کے اندر عقل ہے، جو اپنی شامت اعمال سے جہنم کے ایندھن بن چکے ہیں ان کو ہدایت کی راہ پر لانا تمہارا کام نہیں ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (آیت) عربیت کا ایک اصلوب یہ وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے کہ اس قسم کے سوالیہ جملوں میں کلام کا ایک جزو محذوف ہوتا ہے جو متکلم کے زور بیان سے واضح ہوجاتا ہے۔ آگے آیت 22 میں بھی اس کی مثال آرہی ہے۔ یہ اسلوب متکلم کی شدت یقین پر بھی دلیل ہوتا ہے اور اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس سوال کے جواب میں مخاطب کے لئے کسی اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔ مزید برآں بات کا ایک حصہ بغیر اظہار کے ظاہر ہوجاتا ہے۔ کے اوقات میں، اپنے رب کے آگے کبھی سجدہ میں ہے کبھی قیام میں، وہ آخرت سے درتا اور اپنے رب کی کہ کسی رحمت کی کوئی بردا ہے دونوں یکساں ہوجائیں گے۔ شفاعت باطل کا عقیدہ حق و باطل دونوں کو یکساں کردیتا ہے اس سوال سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ یہ دونوں خدا کے نزدیک یکساں نہیں ہو سکتے اور یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے کہ اس سے مخاطب کے لئے بھی انکار کی گنجائش نہیں تھی لیکن اس کے باوجود نادانوں نے شرکت و شفاعت کا عقیدہ ایجاد کیر کے دونوں کو بالکل یکساں کردیا تھا۔ اس لئے جب نجات کا انحصار ایمان و عمل صالح کے بجائے دیویوں دیوتائوں کی سفارش پر ہوا تو نہ خدا کے عدل کا کوئی اندیشہ باقی رہا نہ ایمان و عمل صالح کی کوئی ضرورت رہی۔ آیت کے اسلوب اور اس کے موقع پر محل کو سمجھ لینے کے بعد اب اس کے اجزاء پر نگاہ ڈلایے۔ قنوت کا اصل مفہوم اللہ تعالیٰ کے لئے تواضح فروتنی اور نیاز مندی ہے۔ یہ ایک قلبی حالت ہے جس کا بہترین اظہار نماز، بالخصوص شب کی نمازوں سے ہوتا ہے۔ انا الیل کی قید خاص طور پر اس وجہ سے لگائی ہے کہ شب کی نماز ریا کے شائبہ سے پاک ہوتی ہے اس وجہ سے جو لوگ اس کا اہتمام کرتے ہیں اللہ کے لئے انکی نیاز مندی شبہ سے بالاتر ہے۔ ساجدا وقائما ان کی نماز کی تصویر ہے کہ کبھی سجید میں پڑے ہوئے ہیں، کبھی حالت قیام میں ہیں۔ اس سے ان کی بےچینی کا اظہار ہو رہا ہے جب دوسرے اپنے نرم بستروں میں پڑے ہوئے غافل کر رہے ہوتے ہیں وہ اپنے رب کی رضا کی طلب میں سجود قیام میں ہوتے ہیں۔ یحذرا الاخرۃ ویرجوا رحمۃ ربہ یہ ان کی نماز کے باطن کا بیان ہے کہ آخرت کے خوف اور اس کی رحمت کی امید نے ان کے اندر یہ بےقرار پیدا کی ہے کہ وہ اپنے بستروں سے الگ ہو کر کبھی سجدے میں ہیں کبھی قیام میں۔ خدا کے ساتھ بندے کے تعلق کے متوازن ہونے کی شرط یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خدا کے ساتھ بندے کا تعلق متوازن اسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ خوف اور جادونوں کے بین بین رہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک کا بھی زیادہ غلبہ ہوجائے تو توازن بگڑ جاتا ہے۔ اگر رجائیت غالب ہوجائے تو خدا کے عدل سے انسان بےپروا ہوجاتا ہے ج س سے مرجیت بلکہ اباحیت کے دروازے آدمی اپنے لئے کھول لیات ہے۔ اگر خوف کا غلبہ ہوجائے تو اس سے اس کے اندر مایوسی اور قنوطیت راہ پاتی ہے اور یہ چیز بھی فتنے پیدا کرتی ہے۔ سابق ادیان کے پیروئوں میں اس عدم توازن سے جو خرابیاں پیدا ہوئیں ان کی تفصیل بہت طویل ہے۔ قرآن نے اس کی طرف اشارات کئے ہیں اور ہم ان کی طرف توجہ دلاتے آ رہے ہیں۔ قرآن کے نزدیک حقیقی اہل علم ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون اس سے اس محذوف پر روشنی پڑ رہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ یعنی یہ کس طرح ممکن ہے کہ اہل علم اور غیر اہل علم دونوں اللہ کے نزدیک یکساں ہوجائیں ؟ اس سے یہ بات آپ نکلی کہ قرآن کے نزدیک اہل علم وہی ہیں جن کی تعریف امن ھو قانب انا الیل ساجداً وقآئما یحذرا الاخرۃ و یرجوا رحمۃ ربہ کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔ جن کے اندر یہ صفت موجود نہیں ہے وہ قرآن کے نزدیک علم سے عاری ہیں اگرچہ وہ چاند اور مریخ تک سفر کر آئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زند گی کی رہنمائی کے لئے اصلی علم یہ ہے کہ انسان کو یہ پتہ ہو کہ یہ دنیا کہاں سے آئی ہے کہاں منتہی ہوگی، اس کے خالق کی صفات کیا ہیں اور اس کے ساتھ انسان کے تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ اگر اس علم کی کلید اس کے ہاتھ آگئی تو وہ اپنی زندگی کا مقصد و منتہا سمجھ جائے گا اور اگر یہ علم حاصل نہ ہوسکا تو وہ ادنھیرے ہمیں ہے اگرچہ وہ آسمان و زمین کا طول و عرض ناپ ڈالے۔ اور اگر یہ علم حاصل نہ ہوسکا تو وہ ادنھیرے میں یہع اگرچہ وہ آسمان و زمین کا طول و عرض ناپ ڈالے۔ انما یتذکروالوالباب یعنی یہ حقائق ہیں تو بالکل واضح لیکن بات کو تسلیم کرنے کے لئے صرف اس کا واضح ہونا کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ مخاطب عقل والے ہوں اور ان حقائق کو سننے اور سمجھنے کے لئے اپنی عقل استعمال بھی کریں۔ جن لوگوں کے اندر نہ علم ہے نہ عقل وہ لوگ واضح سے واضح بات سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔ اس میں ضمناً آنحضرت ﷺ کو یہ تسلی بھی دے دی گئی کہ اگر یہ لوگ قرآن کی ان یاد دہانیوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں تو اس میں قصور نہ تمہارا ہے نہ قرآن کا بلکہ یہ لوگ خود ہی بالکل بلید اور کو دن ہیں۔
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے میرے بندو، جو ایمان لائے ہو تم اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ جو لوگ اس دنیا میں نیکی کریں گے ان کے لئے آخرت میں نیک صلہ ہے اور اللہ کی زمین کشادہ ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے، ان کو ان کا صلہ بےحساب پورا کیا جائے گا

(آیت) مظلوم مسلمانوں کے لئے پیام تسلی قریش کے رویہ سے مایوسی کے اظہار کے بعد یہ ان غریب مسلمانوں کو تسلی دی جو قریش کے ہاتھوں ستائے جا رہے تھے۔ پیغمبر ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ میرے ان بندوں کو یہ بات پہنچا دو کہ تم اپنے رب سے ڈرتے رہ۔ یعنی بیوقوف لوگوں نے تو شرک و شفاعت کی راہیں نکال کر خدا کے عدل اور اس کی جزاء و سزا کو بالکل بےمعنی کردیا ہے لیکن تم اپنے رب کے عدل سے برابر ڈرتے رہو۔ ان لوگوں کے لئے خدا کے ہاں اچھا صلہ ہے جو اس دنیا میں نیکی اور بھلائی کی زندگی بسر کریں گے۔ رہے وہ لوگ جو جھوٹی شفاعتوں کے بل پر جنت الحمقاء میں زندگی گزار رہے ہیں وہ اپنی اس حماقت کا انجام دیکھ لیں گے۔ وارض اللہ واسعۃ یعنی اس راہ میں جو مصائب وشدائد تمہارے دشمنوں کی طرف سے پیش آ رہے ہیں یا آئندہ آئیں ان کو عزم و ہمت کے ساتھ بردشات کرو۔ اگر دیکھو کہ تمہارے وطن کی زمین تمہارے اوپر تنگ کردی گئی ہے جب بھی بددل و مایوس نہ ہونا، خدا کی زمین بڑی وسیع ہے۔ اگر شہر میں تمہارے لئے اللہ کے دین پر قائم رہنا ناممکن بنا دیا گیا تو اللہ تمہاری رہنمائی کسی اور سر زمین کی طرف فرمائے گا جہاں تم بےخوف و خطر اپنے رب کی عبادت کرسکو گے۔ اس آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سورة کشمکش حق و باطل کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب مہ کی سر زمین مسلمانوں پر تنگ ہو رہی تھی اور مسلمان اپنے مستقبل کے مسئلہ پر سوچنے لگ گئے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ اطمینان دلایا کہ اگر اس شہر کے بشندوں نے تمہیں نکالا تو اطمینان رکھو کہ کوئی اور سر زمین تمہارا خیر مقدم کرے گی۔ بعینہ یہی مضمون، اسی سیاق و سبقا کے ساتھ، سورة عنکبوت میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے۔ یعبادی الذین امنوآ ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون (العنکبوت 561) انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب اے میرے بندو، جو ایمان لائے ہو، میری زمین بڑی کشادہ ہے تو میری ہی بندگی پر جمے رہو۔ یعنی یہ راہ ہے تو بڑی سخت آزمائشوں کی لیکن اطمینان رکھو کہ میرے جو بندے ان آزمائشوں میں ثابت قدم رہیں گے ان کو اس کا صلہ بھی ان کی توقعات اور ان کے اندازوں اور قیاسوں سے کہیں ڑھ چڑھ کر ملے گا۔ آج وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
Ayahs 39:11–12

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں۔

(آیت) مخالفوں سے بےتعلقی کا اعلان مسلمانوں کو بشارت دینے کے بعد یہ مخالفوں سے بےنیازی و بےتعلقی کا اعلان ہے۔ پیغمبر ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ اب زیادہ ان کی ناز برداری کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کو واضح طور پر بتا دو کہ مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں ؟ اس کی خالص اطاعت کے لئے اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ میں پہلا اسلام لانے والا بنوں، قطع نظر اس سے کہ دوسرے کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ حکم قرآن میں جگہ جگہ نبی ﷺ کو دیا گیا ہے بلکہ نبوت کے روز اول ہی سے یہ حکم آپ کو مل چکا تھا۔ اس سورة کے شروع میں بھی یہ نہایت واضح الفاظ میں مذکور ہے فرمایا ہے۔ انا انزلنا الیک الکتب بالحق فاعبد اللہ مخلصاً لہ الدیر الا اللہ الذین الخالص (3-2) (ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے قول فیصل کے ساتھ تو اللہ ہی کی بندگی کرو اس کی بےآمیز اطاعت کے ساتھ یاد رکھو کہ اطاعت خالص کا سزا وار اللہ ہی ہے) یہاں دونوں آیتوں میں دو حکم مذکور ہوئے ہیں۔ ایک اللہ ہی کی عبادت کا دوسرا سب سے پہلا مسلم بننے کا یعنی ایمان اور اسلام دونوں ہی باتوں کا مجھے حکم مل چاک ہے اور یہ ہدایت ہوئی ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں۔ اس وجہ سے میں نے تو اپنے رب کی اطاعت کا قلا وہ اپنی گردن میں ڈال لیا ہے۔ اب جس کا جی چاہے میرا ساتھ دے ورنہ اپنا انجام دیکھے۔ یہ امر واضح رہے کہ نبی کے عین فریضہ منصبی کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ وہ جس ایمان و اسلام کی خلق کو دعوت دیتا ہے اس کو سب سے پہلا قبول کرنے والا وہ خود بنتا ہے اس وجہ سے اس کا درجہ اول المومنین اور اول المسلمین کا ہوتا ہے۔
Ayah 39:13

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم (13) یعنی ان کو بتا دو کہ مجھے تو جو حکم مل چکا ہے میں اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یہی حکم میرے واسطہ سے تمہیں بھی ملا ہے اور میں نے دو تم کو پہنچا دیا ہے۔ اگر تم اپنے رب کی نافرمانی اور قیامت کے عذاب سے بےپروا ہو تو جو چاہو کرو۔ میں نہ تمہارا ہاتھ پکڑ سکتا اور نہ تمہارے ایمان کا ذمہ دار ہوں۔
Ayahs 39:14–15

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

سو تم اس کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو۔ کہہ دو کہ حقیقی خسارے میں پڑنے والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا۔

(آیت) 15-14) اعلان برأت یہ نبی ﷺ کی زبان سے نہایت واضح الفاظ میں اعلان برأت و بےتعلقی ہے کہ میں تو اس حکم کے مطاسبق جو مجھے میرے رب کی طرف سیم لا ہے اپنے رب ہی کی بندگی اور اسی کی بلاشرکت وغیرے اطاعت کرتا ہوں اور اسی کی دعوت تم کو بھی دے رہا ہوں۔ اگر تم میری یہ بات نہیں مانتے تو تم خدا کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو۔ میں تمہارے اس فعل سے بری ہوں۔ فرمایا کہ ان کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کر دو کہ اصلی خسارے میں وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن کے خسارے میں مبتلا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اور جتنے بھی خسارے ہیں وہ سب آنی اور وقتی ہیں اور ان کی تلافی ممکن ہے لیکن قیامت کے دن کا خسارہ ابدی اور دائمی ہے اس وجہ سے بدقسمت ہیں وہ جو اس دنیا کے چند روزہ عیش کے پیچھے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی آخرت برباد کر رہے ہیں۔ ہر شخص اس کے اہل و عیال کی بھی مسئولیت ہے انفسھم کے ساتھ اھلیھم کے اضافہ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ ہر شخص پر اس کے اپنے نفس کے ساتھ اس کے اہل و عیال کی مسئولیت بھی ہے۔ کلو راع وکلم مسئول عن رعیتہ والی حدیث میں نبی ﷺ نے یہ حقیقت واضح فرما دی ہے اس مسئولیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص نہ صرف اپنی نجات کی فکر کرے بلکہ اپنے اہل و عیال کی نجات کی بھی فکر کرے۔ اگر کسی شخص نے اپنے غلط طرز عمل سے اپنے اہل و عیال کے لئے غلط مثال چھوڑ ییا اپنے زور و اثر سے ان کو غلط راہ پر ڈالا تو اس نے صرف اپنی ہی تباہی کا سامان نہیں کیا بلکہ ان کو بھی ایک ابدی ہلاکت میں ڈالا۔ اصلی خسارہ آخرت کا خسارہ ہے الا ذلک ھو الخسران المبعین یعنی اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ کھلا ہوا خسارہ وہی ہے جس سے آخرت میں سابقہ پیش آئے گا۔ مطلب یہ ہے کہ تم آج اس دعوت حق سے بدک رہے ہو کہ اس کے قبول کرنے کے بعد تمہیں بہت سے مفادات دنیوی سے دستکش ہونا پڑے گا۔ حالانکہ یہ کوئی خسارہ نہیں ہے بلکہ اصلی خسارہ وہ ہے جس کا نتیجہ ابدی محرومی ہے۔ لائق قبول عبادت وہی ہے جس کے ساتھ مخلصانہ اطاعت بھی ہو مخلصالہ دینی میں جو حقیقت بیان ہوئی ہے اس کی وضاحت ہم پیچھے کر آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول عبادت وہی ہے جس کے ساتھ اس کی خالص اطاعت بھی ہو۔ اگر عبدت اللہ کی ہوا اور اطاعت اللہ کے احکام کے خلاف دوسروں کی تو اس عبادت کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی قیمت نہیں ہے۔ اسی طرح اساعت میں بھی الخصا ضروری ہے۔ اگر اللہ کی اطاعت محض دکھاوے۔ نمائش کسی غرض دنیوی کے لئے کی جائے تو اس قسم کی منافقانہ اطاعت بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں درخور اعتناء نہیں ہے۔ یہاں ایک بات قرأت سے متعلق بھی قابل گزارش ہے۔ وہ یہ کہ لفظ دینی کی قرأت اسی طرح کرنی چاہئے جس طرح لکم دینکم ولی دین میں کی جاتی ہے اس لئے کہ یہ امر ثابت ہے کہ نبی ﷺ آیات پر وقف فرماتے تھے۔ سیبویہ کی یہ رائے ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے کہ اس قسم کا حذف صرف شعر کے ساتھ مخصوص ہے۔ قرآن میں اس قسم کے حذف کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

یاد رکھو کہ کھلا ہوا خسارہ وہی ہے۔ ان کے لئے ان کے اوپر سے بھی آگ کے پردے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی یہ چیز ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے۔ اے میرے بندو، پس مجھ سے ڈرو

(آیت 16) ظل جمع ہے ظلۃ کی اس کے اصل معنی غاشیۃ یعنی ڈھانک لینے والی چیز کے ہیں یہ انجام بیان ہوا ہے ان حاسدین کا جن کا اوپر والی آیت میں ذکر ہوا۔ فرمایا کہ ان کے لئے آگ ہی کا اوڑھنا اور اسی کا بچھونا ہوگا۔ اوپر سے بھی ان کو آگ تہ بہ تہ ڈھانک لے گی اور نیچے سے بھی فرمایا کہ یہ چیز ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے یعنی یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے جو ہنسی مسخری میں ٹالی جاسکے۔ اس کے بعد نہایت پر سوز انداز میں فرمایا کہ میرے بندو، یہ بڑی ہی سخت چیز ہے تو میرے اس عذاب سے بچو !
Ayahs 39:17–18

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت میں ملوث ہونے سے احتراز کیا اور اللہ کی طرف متوجہ ہے، انکے لئے خوش خبری ہے تو میرے ان بندوں کو خوش خبری پہنچا دو

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو توجہ سے سنتے اور اس میں سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں

(آیات 18-17) لفظ طاغوت کی تحقیق بقرہ : 256 اور نساء :51 کے تحت بیان ہوچکی۔ یہ غیر اللہ کی تعبیر کے لئے ایک جامع لفظ ہے، خواہ اصنام والہہ ہیں یا جنات و شیاطین اور اللہ کی بندگی و اطاعت سے برگشتہ کرنے والے لیڈر۔ فلاح پانے والوں کی صفات اور ان کو بشارت یہ خاسدین کے مقابل میں مفلحین کا ذکر ہے ان کو ابدی فوز و فلاح کی بشارت بھی دی گی اور ان کی ان صفات کی تحسین بھی فرمائی گئی ہے جن کی بدولت وہ اس بشارت کے اہل ٹھہرے فرمایا کہ ہمارے جو بندے غیر اللہ کی پسرتش سے بچتے ہیں اور وہ پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف جھک پڑے ان کے لئے بشارت ہے تو تم میرے ان بندوں کو ابدی فوز و فلاح کی خوش خبری دے دو۔ الذین یستبعون القول فیتبعون احسنۃ …الایۃ یہ ان کی اس سلیم الطبی کا بیان ہے جس کی بدولت وہ خدا کی ہدایت اور اس کی بشارت کے مستحق ھٹہرے فرمایا کہ ان لوگوں کا حال یہ نہیں رہا ہے کہ جب کوئی بات ان کے سامنے پیش کی جائے تو اس کو سننے اور سمجھنے سے پہلے ہی کہعنے والے سے لڑنے اور اس کا منہ نو چلینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں بلکہ یہ بات کو توجہ سے سنتے اور ہر اچھی بات کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ اولئک الذین ھدھم اللہ ان کی اس سلیم الطبعی اور حق پسندی کا صلہ ان کو یہ ملا کہ قرآن کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے خلق کے لئے جو ہدایت اتاری اسکی انہوں نے قدر کی اور اللہ نے اس ہدایت سے ان کو بہرہ مند کیا۔ واولئک ھم اولواللباب فرمایا کہ یہی لوگ عاقل ہیں اور عاقل ہی خدا کی یاد دہانی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ وہی بات ہے جو اوپر آیت 8 میں گزر چکی ہے۔ انما یتذکر اولو الباب (یا دہانی تو صرف اہل عقل حاصل کرتے ہیں) اور یہی بات سورة ص میں یوں بیان ہوئی ہے۔ کتب انزلنہ الیک مبارک لیدبروآ ایتہ ویتذکر اولوالباب (29) (یہ ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور تاکہ اہل عقل اس سے یاد دہانی حاصل کریں۔)
Ayah 39:19

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

کیا جس پر عذاب کا قانون پورا ہوچکا اور وہ دوزخ میں ہے) تو تم اس کو نجات دینے والے بنو گے جو دوزخ میں ہے۔

افمن حق علیہ کلمۃ العذاب ط افانت تنقد من فی النار (19) ان کا بیان جو خدا کے قانون کی زد میں آ چکے یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی کہ جن کو خدا کی ہدایت نصیب ہوتی ہے ان کی صفات وہ ہیں جو اپور بیان ہوئیں۔ رہے وہ لوگ جو خدا کے قانون عذاب کی زد میں آ چکے ہیں وہ گویا جہنم میں پڑچکے تو کیا تم ان لوگوں کو دوزخ سے نجات دینا چاہتے ہو جو عذاب میں گرفتار ہوچکے کلمۃ العذاب ہے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ کلی فیصلہ ہے جو اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرما دیا تھا کہ جو لوگ تیری پیروی کریں گے۔ خواہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، تیرے سمیت میں ان کو جہنم میں بھر دوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کلی فیصلہ صادر ہو چا ہے اور یہ بالکل قطعی اور اٹل ہے میں ان کو جہنم میں بھر دوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کلی فیصلہ صادر ہوچکا ہے اور یہ بالکل قطعی اور اٹل ہے تو جو لوگ اس کی زد میں آ چکے وہ تو اب لازماً دوزخی ہیں ان کا نجات دینے والا کون بن سکتا ہے !
Ayah 39:20

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

البتہ جو اپنے رب سے ڈرے ان کے لئے بالاخانے اور بالاخانوں کے اوپر بھی آراستہ بالاخانے ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔

(آیت 20) نکن یہاں استدراک کے لئے ہے اس وجہ سے اس کا موزوں ترجمہ البتہ ہوگا۔ مبینۃ یہاں آراستہ و پیراستہ (Furnished) کے مفہوم میں ہے۔ عربی میں بنی الدار جس طرح مکان بنانے کے مفہوم میں آتا ہے اسی طرح مکان آرساتہ کرنے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ مفسرین نے اس معنی کی طرف توجہ نہیں کی ہے لیکن قرآن اور کلام عرب میں اس کے شواہد موجود ہیں۔ آگے کسی موزوں مقام پر اس کی تحقیق آئے گی۔ وعد اللہ فعل محذوف سے منصوب اور اس کی تاکید کے لئے ہے۔ اوپر کفار کے لئے جو عذاب لھم من فوقھم ظل من النار ومن تحتھم ظلل کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ اس کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اپنے رب سے ڈرتے اور شرک سے بچتے رہے۔ فرمایا کہ ان کے لئے آرساتہ بالا خانے ہوں گے اور ان بالا خانوں کے اوپر بھی آراستہ بالاخانے ہوں گے۔ ان بالا خانوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی اتارتا ہے آسمان سے پانی پس اس کے چشمے جاری کردیتا ہے زمین میں پھر اس سے پیدا کرتا ہے کھیتیاں مختلف قسموں کی پھر وہ خشک ہونے لگتی ہیں اور تم ان کو زرد دیکھتے ہو۔ پھر وہ ان کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے۔ بیشک اس کے اندر اہل عقل کے لئے بڑی یاد دہانی ہے

4۔ آگے کا مضمون آیات 35-21 آگے قرآن سے اعرضا کرنے والوں کے سبب اعراض پر ضرب لگای ہے کہ اس دنیائے فائی کی محبت نے ان کے دل سخت کردیئے ہیں جس کے سبب سے وہ حق سے بیزار ہیں ورنہ قرآن ایک عظیم نعمت ہے جن کے اندر صلاحیت ہے اس کی آیتیں سن کر ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ البتہ جن کے دل پتھر ہوچکے ہیں وہ اس سے محروم رہیں گے اور اسی عذاب سے دوچار ہوں گے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی پچھلی قومیں تباہ ہوچکی ہیں۔ اس قرآن نے تمام حقائق بہتر سے بہتر انداز میں بیان کردیئے ہیں۔ جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں، ان کی شامت ہی ہے۔ مبارک ہیں وہ جو اس صداقت کو قبول کر رہے ہیں۔ وہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور ان کے لئے بہترین صلہ ہے … آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 5۔ ال فاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت آیت 21 مکذبین قرآن کو یاد دہانی یہ قرآن کے مکذبین کو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آج تم کو جس انجام سے قرآن اور پیغمبر ڈرا رہے ہیں وہ تم کو بہت مستبعد معلوم ہوتا ہے اپنی موجودہ کامیابیوں کے نشہ میں تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ تمہارے اس اقتدار پر زوال کدھر سے آجائے گا، حالانکہ تم برابر دیکھ رہے ہو کہ اس دنیا کی ہر چیز وقتی اور فانی ہے۔ بارش ہوتی ہے، جس سے زمین میں پانی کے چشمے جاری ہوجاتے ہیں، پھر اس سے طرح طرح کی نباتات اور کھیتیاں اگ پڑتی ہیں۔ پھر وہ خشک ہونی شروع ہوتی ہیں، پھر وہ زرد پڑجاتی ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے۔ لفظ الوات اقاسم و انواع کئے معنی میں بھی آتا ہے اس کی تحقیق اس کے محل ہوچکی ہے۔ ماج البقل کے معنی ہوں گے اخذ فی الیس سبزی خشک ہونے لگی۔ ان فی ذلک لذکری لاولی الالباب یعنی جو عقل رکھنے والے ہیں اس مشاہدے میں ان کے لئے بڑی عبرت ہے۔ اس میں سب سے بڑی یاد دہانی تو اس حقیقت کی ہے کہ اس دنیا کی تمام رونقیں اور شانیں بالکل عارضی اور وقتی ہیں اس وجہ سے ان پر یرجھنے کے بجائے عاقل کو اس ذات کی طرف متوجہ رہنا چاہئے جو ان تمام چیزوں کو وجود میں لانے والی اور مستقل بالذات ہے۔ دوسری یا دہانی اس میں یہ ہے کہ جس پروردگار نے اپنے بندوں کی پرورش کے لئے اس دنیا میں یہ اتنظام فرمایا ہے اس کی اس پروردگاری کا فطری تقاضا یہ ہے کہ بندے اسی کے شکر گزار ہیں اس کے سوا کسی اور کو اس شکر گزاری میں شریک نہ کریں۔ تیسری یہ کہ جس خدا نے پروردگاری کا یہ انتظام فرمایا ہے اور آسمان سے زمین تک ہر چیز کو جس نے انسان کی خدمت میں سرگرم کر رکھا ہے وہ لوگوں کو یوں ہی نہیں چھوڑ دے گا بلکہ ایک ایسا دن بھی لازماً آنا ہے جس میں وہ ہر شخص سے اس کی نیکیوں اور بدیوں کا حساب کرے گا اور انصاف کے مطابق اس کو جزا یا سزا دے گا۔ یہاں یہ چند باتیں کلام کے سیاق وسباق کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔ اس مثال کے اندر جو دوسرے پہلو ہیں ان کی وضاحت ان کے محل میں ہوچکی ہے اور ایک خاص پہلو کی وضاحت آگے کی آیت سے ہوجائے گی۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

کیا وہ جن کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہیں (اور وہ جن کے دل سخت ہوچکے ہیں یکساں ہوں گے ؟) تو ہلاکی ہے ان کے لئے جن کے دل اللہ کی یاد دہانی قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہوچکے ہیں ! یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں

آیت 22) فیض و است پہنچتا یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی ہے کہ فیض ہمیشہ بقدر استعداد و صلاحیت پہنچتا یہ۔ اللہ تعالیٰ کا ابر کرم یوں تو ہر خشک و تر پر برستا ہے لیکن ہر زمین اس سے یکساں مستقید نہیں ہوتی جس زمین میں صاحلیت ہوتی ہے وہ تو اس سے لہلہا اٹھتی ہے لیکن جو بنجر ہوتی ہے وہ یوں ہی ویران پر ملسی رہ جاتی ہے۔ اسی طرح قرآن کی صورت میں جو بارش ہوئی ہے اس کا فیض بھی ہر شخص کو یکساں نہیں پہنچے گا بلکہ جنہوں نے اپنی فطری صلاحیتیں زندہ رکھی ہیں اللہ اس کے ذریعے سے ان کے سینے اسلام کے لئے کھول دے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنی فطری صلاحیتیں ضائع کر کے اپنے دل پتھر بنا لئے ہیں وہ اس کے فیض سے محروم ہی رہیں گے اور ایسے سنگدلوں کے لئے، جو اللہ کی تذکیر کے بعد بھی پتھر بنے رہ گئے، صرف ہلاکی ہے۔ ایسے لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں اس لئے کہ انہوں نے رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ پورے دن کی روشنی میں خدا کی رہنمائی کے باوجود اپنی راہ کھوئی ہے۔ اس سوالیہ جملہ میں بھی خبر محذوف ہے جس کو ترجمہ میں ہم نے کھول دیا۔ من ذکر اللہ یہاں من تذکر اللہ ایاھم کے مفہوم میں ہے یعنی جن کے دل خدا کی طرف سے یاد دہانی کے باوجود پتھر بنے رہے۔
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ہم رنگ کتاب کی شکل میں، جس کی سورتیں) جوڑے جوڑے ہیں اس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف جھک پڑتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ ہدایت بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جس کو خدا گمراہ کر دے اس کو کوئی ہدیات دینے والا نہیں بن سکتا۔

آیت 23 قرآن کی صفت اور اس کی تاثیر کتبا متابھا قرآن کی صفت ہے اس لئے کہ اس کا ہر جزو ایک دوسرے سے مشابہ اور ہم آہنگ و ہم رنگ ہے اس کو جہاں سے بھی کھول کر پڑھیے اس کی تمام بنیادی تعلیمات آپ کے ذہن میں تازہ ہوجائیں گی۔ اس کے ہر گروپ بلکہ ہر سورة کا رنگ اور اسلوب بیان الگ الگ ہے۔ عمود بھی مختلف ہیں لیکن اس اختلاف کے ساتھ ساتھ اس میں ایسی ہمہ گیر وحدت ہے کہ آپ جہاں سے بھی دیکھیں گے قرآن کا اصلی جمال آپ کی نگاہ کے سامنے آجائے گا۔ ہم نے سورتوں کے مختلف گروپوں کی جو تفسیر پیش کی ہے اس پر ایک نظر ڈالنے سے ہمارے اس دعوے کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ قرآن کا اس شکل میں نازل ہونا تعلیم کے پہلو سے اپنے اندر ایک عظیم افادیت رکھتا ہے۔ اس طرح گویا قاری کو ان تمام حقائق کا مختلف زاویں سے مشاہدہ کرا دیا جاتا ہے جن کی قرآن دعوت دیتا ہے۔ مثانی کی تحقیق سورة حجر کی آیت 87 کے تحت گزر چیک ہے۔ یہ قرآن کی سورتوں کے جوڑے جوڑے ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ جن لوگوں نے اس کے معنی بار بار دہرانی ہوئی چیز کے لئے ہیں ان کی رائے لغت اور نظائر قرآن کے خلاف ہے۔ سورتوں کے جوڑے جوڑے ہونے کی تعلیم کے پہلو ہے جو قدر و قیمت ہے اس کی وضاحت ہم نے مقدے میں بھی کی ہے اور سوروہ حجر کی مذکورہ بالا آیت کے تحت بھی۔ لفظ جلود اس آیت میں جسم کے رونگٹوں کے معنی میں بھی آیا ہے اور پورے جسم کے معنی میں بھی عربی زبان میں کل بول کر جزو بھی مراد لیتے ہیں اور جزو بول کر کل بھی۔ تلین یہاں تمیل کے مضمون پر متضمن ہے اس وجہ سے اس کے بعد صلہ الی آیا ہے۔ الفاظ و اسالیب کو سمجھ لینے کے بعد آیت کے مضمون پر غور فرمایئے۔ فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کی صورت میں بہترین کلام اتارا ہے جس کا ہر جزو ایک دوسرے سے بالکل ہم آہگن و ہم رنگ ہے اور اس کی تمام سورتیں جوڑے جوڑے بنائی ہیں تاکہ اس کی ہر بات سامع اور قاری کے ذہن نشین ہوجائے۔ وہ جس زاویے سے بھی اس کو دیکھے اصل حقیقت اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ یہاں یہ امر محلوظ رہے کہ تورات کا حال قرآن سے بالکل مختلف ہے۔ قرآن کا حال تو یہ ہے کہ اگر بقرہ کے بعد آل عمران کی تلاوت کیجیے تو گو دونوں کے عمود مخاطب نہج استدلال اور طرز بیان میں بڑا فرق ہے لیکن آل عمران میں بھی وہ ساری حقیقتیں از سر نو نگاہوں کے سامنے آجائیں گی جو بقرہ میں گزر چکی ہیں۔ برعکس اس کے ورتات کا حال یہ ہے کہ اگر پیدائش کے بعد خروج، حبار یا گنتی کو پڑھیے تو آپ کھیل تمام کتابوں سے بالکل بےتعلق ہوجائیں گے۔ یہود نے تورات کو جو بھلایا اس میں تحریفیں کیں اس میں بڑا دخل تورات کے اجزائے مختلفہ کی اس بےتعلقی کو بھی تھا۔ تقشعرمنہ جلود الذین یغشور ربھم فرمایا کہ اس قرآن کی تاثیر کا حال یہ ہے کہ جن کے دلوں میں خدا کی خشیت ہے اس کی تذکیر سے ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی اس سے اثر پذیر نہیں ہوتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا دل خدا کے نور سے بالکل خالی ہے اور وہ پتھر کی طرح سخت بن چکا ہے۔ ثم قلین جلودھم وقلوبھم انی ذکر اللہ یعنی یہ قرآن دلوں میں جو گداز پیدا کرتا ہے اس کے اثر سے ان کے جسم اور ان کے دل دونوں نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف جھک پڑتے ہیں۔ دلوں کا نرم ہونا تو واضح ہے جسموں کے نرم ہونے سے مراد یہ ہے کہ ان کے اندر کبرو غرور کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہ جاتا … آدمی کے اندر کبر و غرور ہو تو اس کی گردن تنی ہوئی جسم اکڑا ہوا رہتا ہے اور وہ زمین پر پائوں دھمکتے ہوئے چلات ہے۔ برعکس اس کے جن کے اندر خدا کا خوف ہو ان کے اندر فروتنی و تواضع ہوتی ہے جس کا اثر ان کی چال ڈھال اور ان کے جسم کی ایک ایک ادا سے نمایاں ہوتا ہے۔ ذلک ھدی اللہ یھدی بہ من یشآء ذلک کا اشارہ قرآن کی طرف ہے یعنی یہ قرآن اللہ کی تاری ہوئی ہدایت ہے اس کے ذریعے سے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے مطلب یہ ہے کہ اس ہدایت کے لئے اس نے ایک خاص سنت ٹھہرا دی ہے۔ اس سنت کے بموجب جو ہدایت کے مستحق ہوتے ہیں وہ اس سے ہدایت پاتے ہیں اور جو مستحق نہیں ہوتے وہ اس سے محروم رہتے ہیں۔ اس سنت کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں۔ ومن یضل اللہ فمالہ من ھاد یعنی اس سنتالٰہی کے بموجب جو شخص گمراہی کا مستحق ہے اس کو کوئی ہدایتن ہیں دے سکتا۔ اس میں پیغمبر ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ ایسے لوگوں کا غم کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

کیا وہ جو اپنے چہرے کو عذاب بد کی سپر بنائے گا (اور وہ جو اس سے محفوظ ہوگا، دونوں یکساں ہوں گے) اور ایسے ظالموں کو حکم ہوگا کہ جو کمائی تم نے کی ہے اس کا مزا چکھو

آیت 24) قیامت کے ان متکبرین کی بےبسی اس سوالیہ جملے میں بھی خبر محذوف ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اس کی وضاحت کردی ہے۔ یہ ان متکبرین کی بےبسی کی تصویر ہے کہ جس جزا و سزا کی انہوں نے اس دنیا میں نہایت رعونت کے ساتھ تکذیب کی ایک دن آئے گا کہ اس کا انجام ایسی ہولناک شکل میں ان پر مسلط ہوگا کہ وہ اس سے بچنے کے لئے اپنے چہروں کو ڈھال بنانے کی کوشش کریں گے۔ آدمی کا سب سے زیادہ عزیز و اشرف حصہ اس کا چہرہ ہی ہوتا ہے۔ وہ ہر آفت سے اس کو محفوظ رکھنے کے لئے سب سے پہلے کوشش کرتا ہے اور کسی طرح بھی اس کو کوئی گزند پہنچنے نہیں دینا چاہتا لیکن آخرت کے عذاب کا یہ حال ہوگا کہ اس دن متکبرین کے پاس کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہوگی جس کو وہ سپر بنا سکیں اس وجہ سے وہ اپنے وہی چہرے اس کے آگے کرنے پر مجبور ہوں گے جن سے وہ ان لوگوں کے آگے اکڑتے رہے تھے جو ان کو اس سے ڈراتے تھے۔ وقیل للظلمین ذوقواما ما کنتم تکسبون ظالمین سے ہی تمکبرین مراد ہیں اسلئے کہ وہ قرآن کی تکذیب کرکے اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ فرمایا کہ ان کی اس بےبسی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ اس وقت ان پر کوئی رحم نہیں فرمائے گا بلکہ ان سے کہا جائے گا کہ یہ جو کچھ تمہارے سامنے آیا ہے یہ تمہاری اپنی ہی کمائی ہے اس وجہ سے اب اس کا مزا چکھو۔
Ayahs 39:25–26

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا تو ان پر عذاب وہاں سے آدھمکا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

تو اللہ نے ان کو دنیا میں بھی رسوائی کا مزا چکھایا اور عذاب آخرت تو بڑی چیز ہیچ کاش یہ لوگ اس بات کو سمجھتے

یت 26-25) قریش کو تنبیہ یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ ان کو جس عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اس کو مذاق نہ سمجھیں۔ آج حالات سازگار ہیں اس وجہ سے ان کی مسجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ عذاب کدھر سے آجائے گا۔ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں وہ بھی اسی طرح کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اپنے رسولوں کو جھٹلاتی رہیں۔ بالآخر ان پر عذاب وہاں سے آدھمکا جہاں سے ان کو کوئی وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ فاذا قھم اللہ الخزی فی الحیوہ الدنیا رسوائی کا عذاب ان قوموں پر اس وجہ سے آیا کہ اللہ کے رسولوں کے مقابل میں انہوں نے استکبار کا اظہار کیا اور پوری طرح اتمام حجت ہوجانے کے باوجود انہوں نے حق کی تکذیب کی۔ رسولوں کے باب میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا حالہ ہم بار بار دے چکے ہیں کہ جو قوم رسول کی تکذیب پر اڑ جاتی ہے اللہ تعالیٰ تمام حجت کی مہلت گزر جانے کے بعد اس کو لازماً تباہ کردیتا ہے۔ اس عذاب دنیا کے بعد اس کو آخرت کے عذاب سے بھی دوچار ہونا پڑے گا اور وہ بڑی ہی سخت چیز ہے۔
Ayahs 39:27–28

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی تذکیر کے لئے ہر قسم کی تمثیلیں بیان کردی ہیں تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کیں۔

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

ایک عربی قرآن کی صورت میں جس کے اندر کوئی کجی نہیں تاکہ وہ عذاب سے بچیں۔

(آیت 28-27) قرآن کی ایک خاص صفت ضرب مثل کے معنی حکمت و موعظت کی باتیں تمثیل کے اسلوب میں پیش کرنا ہے۔ تمثیل کا اسلوب حقائق کی تعلیم و تفہیم کے لئے سب سے زیادہ مئوثر ہوتا ہے، بالخصوص ان حقائق کی تعلیم کے لئے جن کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہو۔ اس وجہ سے انبیاء (علیہم السلام) اس صفت کلام سے بہت زیادہ کام لیتے ہیں۔ تورات، انجیل زبور سب امثال سے معمور ہیں اور حضرت سلیمان ؑ کے صحیفہ حکمت کا تو نام ہی امثال ہے۔ اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے ضرب مثل کا محاورہ مجرد حکمت کی بات کہنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہونے لگا عام اس سے کہ وہ تمثیل کی صورت میں ہو یا عام اسلوب میں اس کی تحقیق اس کے محل میں بیان ہوچکی ہے۔ قرانا عربیا عیر ذی عوج یہ قرآن کی اس صفت کا بیان ہے جس کا تعلق خاص اہل عرب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی میں نازل فرمایا اور اس میں کوئی ہیچ پیچ اور اس میں کوئی ہیچ پیچ نہیں رکھا بلکہ نہایت فصیح وبلیغ زبان اور نہایت سادہ و دل پذیر اسلوب میں وہ ساری باتیں لوگوں کو سمجھا دی ہیں جو دنیا و آخرت کی فلاح کے لئے ضروی ہیں۔ اگر لوگوں نے اس کی قدر نہ کی تو گویا انہوں نے اللہ کے سب سے بڑے احسان اور اس کی سب سے بڑی عزت بخشی کی ناقدری کی اور اس تمام حجت کے بعد اگر وہ اللہ کے عذاب کی زد میں ائٓیں تو وہ اسی کے سزا وار ہیں۔ پہلی آیت میں لعلم یتذرون ہے، دوسری آیت میں لعلھم یتفون یعنی قرآن کو اس اہتمام کے ساتھ نازل کرنے کا اولین مقصد تو یہ ہے کہ جو لو غفلت میں سرمست ہیں وہ یاد دہانی حاصل کریں اور آخری مقصد ہے کہ اس عذاب سے بچیں جو اس غفلت اور لا ابالی پن کا لازمی نتیجہ ہے او جو اس دنیا میں بھی لازماً پیش آئے اگا اگر لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے اور آخرت میں بھی اس نے دوچار ہونا پڑے گا۔