Ayah 39:69آیت 69
نئی زمین کے نئے قوانین
الارض سے مراد وہ زمین ہے جو نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ قیامت کے دن ظہور میں آئے گی۔ آیت یوم تبدل الارض غیر الارض (ابراہیم 48) میں اسی کا ذکر یہع ہماری یہ زمین سورج کی روشنی سے روشن ہوتی ہے اس وجہ سے اس میں ہمارا مشاہدہ صرف محسوسات و مرئیات تک محدود ہے لیکن وہ زمین اللہ کے نور سے روشن ہوگی اس وجہ سے اس میں تمام معافی و حقائق بھی لوگوں کے سامنے آجائیں گے۔ اس نور کی حقیقت و نوعیت یہاں واضح نہیں فرمائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی کمیت و کیفیت کی تعبیر سے ہماری زبان قاضر ہے۔ لیکن اس کے اثرات کی طرف قرآن نے جگہ جگہ اشارہ فرمایا ہے۔ مثلاً سورة ق میں ہے : لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک عطآءک فبصرک الیوم حدید (22) تم اس سے غفلت میں پڑے رہے تو ہم نے تمہارے سامنے سے پردہ ہٹا دیا تو آج تمہاری نظر بہت تیز ہے اس سے معلوم ہوا کہ آج جن حقائق کے مشاہدہ سے لوگوں کی نگاہیں قاصر ہیں اس زمین میں ان کے مشاہدہ کے لئے بھی تمام حجابات دور ہوجائیں گے۔ اسی طرح دوسرے مقام میں فرمایا یہ۔ واخرجت الارض اتقالھا وقال الانسان مالھا یومئذ تحدث احبالھا، بان ربک اوحی لھا، (الزلزال 5-2) اور زمین اپنے سارے بوجھ ظاہر کر دے گی اور انسان کہے گا ارے ! اس کیا ہوگا ! اس دن وہ اپنی ساری سرگزشتیں سنائے گی بوجہ اس کے کہ اس کے رب نے اس کو وحی کی ہوگی اگرچہ یہ حقائق آج بھی اہل بصیرت یس مخفی نہیں ہیں لیکن جن آکھوں پر پٹیاں بندھی ہئی ہیں وہ ان کی نہیں دیکھ سکتیں لیکن اس دن اللہ تعالیٰ کی روشنی سے وہ اس طرح جگمگا اٹھیں گے کہ وہ لوگ بھی ان کو دیکھ اور سن لیں گے جو آج ان سے اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں۔
ووضع ایکتب وجآی ممالنبین والشھدآء وقضی بینھم بالحق وھم لایطلمون یہ اسی نور رب کے ظہور کے اثرات کی طرف اشارہ ہے کہ جس جزا اور سزا سے لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے، لیکن لوگوں کی سمجھ میں بات نہیں آرہی ہے، اس دن اس حقیقت سے پردہ اٹھ جائے گا کتاب سامنے رکھی جائے گی، کتاب سے مراد قریضہ دلیل ہے کہ لوگوں کے اعمال کا دفتر ہے۔ انبیاء اور گواہوں کی پیشی کا ذکر قرآن کے دور سے مقامتا میں تفصیل سے ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) سے اس دن ان کی امتوں کے مقابل میں گواہی دلوائے گا کہ انہوں نے لوگوں کو کیا تعلیم دی اور لوگوں نے اس کا کیا جواب دیا۔ سورة مائدہ میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ لفظ شھداء میں وسعت و عمومیت ہے۔ یعنی وہ لوگ بھی طلب ہوں گے جو کسی معاملے میں گواہی دینے کی پوزیشن میں ہوں گے خواہ و ہانسانوں میں سے ہوں یا فرشتوں میں سے اس امت کی حیثیت چونکہ شھداء اللہ فی الارض کی ہے اس وجہ سے اس کے مجددین و صدیقین بھی طلب ہوں گے اور ان سے پوجھا جائے گا کہ انہوں نے لوگوں کو کیا بتایا اور سکھایا اور لوگوں نے اس کا کیا جواب دیا ؟ اس عدالت و شہادت اور اس طلبی و روبکاری کے بعد لوگوں کے درمیان بالکل انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور کسی کے ساتھ ذرا بھی ناانصافی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 39:70ووفیت کل نفس ماعملت وھوا علم بما یفعلون 70
یہ وھم لایظلموکن کی وضاحت ہے کہ ہر ایک کو وہی دیا جائے گا جو اس نے کیا ہوگا اور پورا پورا دیا جائے گا۔ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی اس وجہ سے کسی ناانصافی کا کوئی سوال نہیں ہے۔ ہر ایک اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کاٹے گا اور اپنے ہی لگائے ہوئے درخت کا پھل چکھے گا۔ وھواعلم بما یفعلون اور اس کا بھی کوئی امکان نہی ہے کہ خدا کسی کا کوئی عمل بھول جائے۔ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس سے اچھی طرح واقف ہے اور ہر چیز اس کے واضح رجسٹر میں درج ہے۔
اس ساری تفصیل سے مدعا مشرکین کی آنکھیں کھولنا ہے کہ وہ کیا آرزوئیں لئے بیٹھے ہیں اور اصل حقیقت کیا ہے جس سے سب کو لازماً دوچار ہونا ہے۔
Ayah 39:71آیت 71
الذین کفروا سے مراد ہی مشرکین ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ شرک جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں۔ کفر ہے۔ اس لئے خدا کو ماننا صرف وہ معتبر ہے جو توحید خالص کے ساتھ ہو اگر اس میں شرک کی آمیزش ہوجائے تو پھر یہ کفر ہی کے حکم میں داخل ہے۔
عدالت و شہادت کے بعد کفار کا انجام
اوپر کی آیت میں جس عدالت و شہادت کا ذکر ہوا ہے یہ اس کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ اس کے بعد وہ سارے لوگ جنہوں نے کفر کیا ہوگا گر وہ درگروہ جہنم کی طرف ہانک کرلے جائے جائیں گے۔ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے جائیں گے۔ دوسرے مقام میں یہ تصریح ہے کہ اس کے ساتھ دروازے ہوں گے اور ہر دروازے سے دخل ہونے والے اپنے جرائم کی حیثیت و نوعیت کے اعتبار سے الگ الگ حصوں میں تقسیم ہوں گے۔
وقال لھم خزنتھا … الایۃ ان شامت زدوں کو دیکھ کر جہنم کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو کیا تم کو اس دن کی ہلنا کی سے آگاہ کرنے کے لئے تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے کہ تم نے یہ شامت بالئی ! وہ اپنے جرم کا اقرار کریں گے کہ رسول آئے تو ضرور لیکن ہماری بدبختی کے سبب سے اللہ کا فیصلہ عذاب جو کافروں کے باب میں ہوچکا تھا، وہ پورا ہو کے رہا کلمۃ العذاب سے مراد، جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہوچکی ہے، اللہ تعالیٰ کا وہ کلی فیصلہ ہے جو اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں اس کو سنا دیا تھا کہ جو تیری پر یوی کریں گے میں تجھ کو اور ان سب کو جہنم میں بھر دوں گا۔ یہاں صرف اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا حوالہ ہے۔ دوسرے مقامات میں یہ تفصیل بھی ہے کہ وہ نہایت واضح الفاظ میں اپنے جرم کا اقرار بھی کریں گے۔ سورة ملک میں ہے۔
آیت 100-8
(جب جب ان کی کوئی بھیڑ جہنم میں جھونکی جائے گی، اس کے داروغے ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک آگاہ کرنے والے آیا تو سہی لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز بھی نہیں اتاری ہے، تم لوگ بس ایک بہت بڑی گمراہی میں ہوا اور وہ اعتراف کریں گے کہ اگر ہم سننے اور سمجھنے والے ہو تو تو دوزخ والوں میں سے نہ بنتے)
Ayah 39:72قبل ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبرین (72)
ان کے اس جواب کے بعد ان سے کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جائو اور یہ داخل ہونا ابدی ہے۔
فئس متوی المتکبرین، متکبرین سے ظاہر ہے کہ وہی لوگ مراد ہیں جن کا ذکر چلا آ رہا ہے۔ اس صفت سے ان کے اصل سبب اعراض و افکار پر روشنی پڑتی ہے کہ انہوں نے محض بربتائے تکبر حق سے اعراض کیا اور اس ٹھکانے کے سزا وار ٹھہرے جو متکبرین کے لئے خاص ہے۔
Ayah 39:73آیت 73
متفقین کا انجام
لفظ سوق کسی چیز کو کسی چیز کی طرف ہانک کرلے جانے کے معنی میں آتا ہے۔ یہ اچھے اور برے دونوں محل میں استعمال ہوسکتا ہے۔ سازگار ہوائیں ابر رحمت کو مرغزاروں اور چمنستانوں کی طرف لے جاتی ہیں تو اس کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور اہل دوزخ جہنم کی طرف جو ہانک کرلے جائے جائیں گے اس کے لئے بھی یہ اوپر والی آیت میں استعمال ہوا ہے اس آیت میں یہ اچھے معنوں میں استعمال ہا ہے۔ اس لئے کہ ان کے آگے اور پیچھے اور دہنے بائیں ہر طرف سے خدا کے فرشتے ہوں گے جو اپنے جلو اور اپنی رہنمائی و حفاظت میں ان کو جنت کی طرف لے جائیں گے۔
اس آیت میں جواب شرط محذوف ہے۔ اس کی مثال سورة صافات کی آیات 105-103 میں گزر چکی ہے۔ وہاں ہم نے اس کے موقع پر محل اور اس کی بالغت پر گفتگو کی ہے۔ بعض اوقات جواب شرط کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ الفاظ اس کی تعبیر سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع میں اس کو حذف کردیتے ہیں کہ
ع خموشی معنی دارد کہ در گفتن نمی آید
طتم خیر مقدم کے کلمات میں سے ہے جس طرح ہم کہتے ہیں خوش رہو، شاد و آباد رہو، پھلو پھولو !
الذین اتقوا یہاں الذین کفروا کے مقابل میں استعمال ہوا ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ انکے اندر تقوی موجودت ھا اس وجہ سے یہ تکبر میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ اللہ کے رسولوں کی بات انہوں نے سنی اور مانی فرمایا کہ یہ لوگ ملائکہ کے جلو میں جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اس کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے پاسبان ان کا سلام و تحیت کے ساتھ خیر مقدم کریں … تب ان کو جو کچھ حاصل ہوگا اس کا اندازہ آج کون کرسکتا ہے ! لاتعلم نفس ماخفی لھم من قرۃ اعین !
Ayah 39:74آیت 74
جنت کی وراثت
الارض سے مراد یہاں وہی ارض جنت ہے جس کا ذکر اوپر آیت 69 میں گزر چکا ہے۔ اس آیت میں اس کے ارض جنت ہونے کی تصریح ہوگئی ہے۔ اہل جنت جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے سے جو وعدے کئے تھے وہ ایک ایک کر کے سب پورے کردیے تو ان کی زبان پر بےساختہ کلمہ شکر جاری ہوجائے گا کہ اس اللہ کے لئے شکر ہے جس نے ہم سے اپنے تمام وعدے پورے کئے اور ہم کو ارض جنت کا وارث بنایا، ہم اس میں جہاں چاہیں فروکش ہوں۔ وارث بنانے میں ایک لطیف تلمیح اس بات کی طرف ہے کہ یہ جنت ہمارے باپ آدم کو ملی تھی لیکن شیطان نے ان کو ورغلا کر اس سے محورم کردیا تھا اور اس کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ شرط ٹھہرائی تھی کہ اولاد آدم دنیا میں جا کر شیطان سے مقابلہ کرے تو جو شیطان سے جیت جائیں گے وہ اس جنت کے وارث ٹھہریں گے اور جو شیطان کے فتنوں میں پھنس جائیں گے وہ شیطان کے ساتھ دوزخ میں پڑیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس امحتان میں ہم کو کامیابی حاصل ہوئی اور ہم نے اپنے باپ کی کھوئی ہوئی جنت پھر حاصل کرلی۔
فتبوا من الجنۃ حیث تشآء اہل جنت کے باب میں جس طرح پیچھے یہ بات گزر چکی ہے کہ ان کو وہ سب کچھ حاصل ہوگا جو وہ چاہیں گے، اسی طرح یہ بات بھی ان کے باب میں ارشاد ہوئی ہے کہ وہ جنت میں جہاں چاہیں گے پورے اختیار و اقتدار کے ساتھ فروکش ہوں گے اس سے معلوم ہوا کہ وہاں کسی کی خواہشوں اور ارادوں میں مزاحم ہونے والی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جس کا اس جہان میں کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی حقیقت اسی وقت سمجھ میں آئے گی جب وہ نیا جہان نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ اور انسان اپنی نئی قوتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ ظہور میں آئے گا اور یہ زمین سورج کے بجائے اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔
فنعم جزالعمین یہ ٹکڑا بالکل فبئس مثویا لمتکبرین کے مقابل میں ہے۔ اس تقابل کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہاں خاشعین یا متقین یا اسکے ہم معنی کوئی لفظ ہوتا لیکن اس سے صرف تقابل کا حق ادا ہوتا، معنی میں کوئی خاص اضافہ نہ ہوتا، لفظ عاملین سے معنی میں یہ اضافہ ہوگیا ہے کہ جنت کے حصول کے لئے اصل شے عمل ہے، جو لوگ قرضی سفارشوں کے بل پر جنت کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ جنت الحمقاء میں بس رہے ہیں۔
Ayah 39:75آیت 75
قیامت ہوا میں فرشتوں کا حال
قرنیہ دلیل ہے کہ یہ آیت اوپر آیت 69 واشرقت الارض بنوددبھا … الایۃ سے متصل ہے اور ملائکہ سے مراد حاملین عرش اور ان کے زمرہ کے ملائکہ ہیں، جیسا کہ حآفین من حول بعرش کے الفاظ سے نمایاں ہوتا ہے۔ ان کا ذکر آگے والی سورة … سورة مومن … میں ان الفاظ سے آیا ہے۔ الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمدربھم ویومنون بہ ویستغفرون اللذین امنوا ربنا وسعت کل شیء رحمۃ وعلما فاغفر للذین قابوا وا تبعوا سبیک وقھم عذاب الجحیم (7) (جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے اردگرد ہیں وہ اپنے رب کی، اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار، تیرا علم اور تیری رحمت ہر چیز کو محیطہ ہے تو ان لوگوں کی مغفرت فرما جنہوں نے توبہ کرلی ہے اور تیری راہ کے پیرو بن گئے ہیں اور ان کو عذاب جہنم سے بچا)
اس شادت و عدالت کے دن فرشتوں کا جو حال ہوگا یہ اس کا ذکر ہے تاکہ مشرکین پر، جن کا سارا اعتماد فرشتوں کی سفارش ہی پر ہے۔ یہ واضح ہوجائے کہ اس دن کے ہول سے وہ بھی ہراساں اور عرش کے پاس کٹے ہوئے اپنے رب کی تسبیح ہوں گے۔ واضح رہے کہ یہ حال ان فرشتوں کا بیان ہو رہا ہے جن کی حیثیت حاملین عرش الٰہی کی ہے۔ پھر ان عام فرشتوں کا کیا حال ہوگا جن کا یہ مرتبہ نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بڑے سے بڑے فرشتوں کو بھی اس دن اپنی پڑی ہوگی وہ دوسروں کے قضیے بھلا کیا نبڑیں گے !
وقضی بینھم باحق یعنی لوگوں کے درمیان بالکل حق و عدل کے مطابق فیصہل کردیا جائے گا، نہ کسی کی مدالخت و سفارش کی نوبت آئے گی اور نہ کوئی مداخلت کی جرأت کرسکے گا۔
وقیل الحمد للہ رب العلمین یعنی اس کامل عدل و رحمت کے ظہور کے بعد ہر گوشے سے یہ صدا بلند ہوگی کہ شکر کا سزاوار ہے اللہ، عالم کا خداوند ! یعنی اہل ایمان بھی یہ صدا بلند کریں گے اور حاملین عرش ملائکہ بھی ان کی ہم نوائی کریں گے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو جو چیز سزا وار حمد و شکر بناتی ہے وہ اس کا عدل اور نیک و بد کے درمیان اس کا فرق و امتیاز ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو یہ دنیا ایک اندھیری نگری ہے اور ایک اندھیری نگری کے خالق کو کوئی حمد و شکر کا سزاوار نہیں مان سکتا۔ قیامت کے دن جب اس کے کامل عدل اور اس کی کامل رحمت کا ظہور ہوگا تب ہر ایک کا تردد دور ہوجائے گا اور ہر گوشے سے اس کی حمد کا ترانہ بلند ہوگا۔ گویا جس صبح حمد کے لوگ انتظار میں تھے وہ طلوع ہوگئی اور یہ جہان خدا کے نور سے جگمگا اٹھا !
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر اللہ تعالیٰ کی عنایت سے تمام ہوئی۔ فالحمد للہ رب العالمین
رحمن آباد
24 جون 1975 ء