Ayah 39:29(آیت 29)
توحید اور شرک کی تمثیل
یہ توحید اور شرک کی حقیقت ایک تمثیل سے سمجھائی ہے کہ مشرک کی مثال ایک ایسے غلام کی ہے جو بیک وقت متعدد مختلف الاغراض آقائوں کی غلامی میں ہے اور موحد کی مثال ایک ایسے غلام کی ہے جو ایک ہی آقا کی غلامی میں ہے۔ اس کے بعد سوال کیا ہے کہ غور کرو کہ کیا دونوں غلاموں کا حال یکساں ہوگا ؟ مطلب یہ ہے کہ کوئی غلام بھی اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ ایک آقا کی غلامی کی جگہ اس کو ایک سے زیادہ مختلف الاغراض اور برسر نزاع آقائوں کی غلامی کرنی پڑے۔ انسانی فطرت ایک خدا کی غلامی پر تو اس وجہ سے راضی و مطمئن ہے کہ اس کے اندر جو افتقار و احتیاج ہے خدا کو مانے بغیر اس کا کوئی حل نہیں ملتا۔ اس کی دلیل اس کے باطن میں بھی موجود ہے اور اس کے باہر بھی رہے دوسرے اصنم و آلہہ تو ایک خدا سے جب اس کی احتیاج پوری ہوگئی تو وہ ان کی غلامی کا پٹہ اپنی گردن میں کیوں ڈالے ! اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو وہ اپنی فطرت سے بغاوت کرتا ہے اور اپنے آپ کو ایک ایسے مخمصہ میں پھنساتا ہے جس میں پھنسنے پر کوئی ذی ہوش بھی راضی نہیں ہوتا۔
الحمد اللہ یہ اس سوال کا جواب ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے دے دیا ہے کہ سزا وار شکر صرف اللہ ہے تمام نعمتیں اسی کی عطا کردہ ہیں تو اسی کے شکر گزار ہو اور اس کی بندگی و اطاعت کرو جب اس نے اپنے شریک کی حیثیت سے کسی کی بندگی کا حکم نہیں دیا تو تم اپنے جی سے دوسروں کی بندگی کا پھندا اپنی گردنوں میں کیوں ڈالتے ہو !
بل اکترھم لایعلمون یعنی یہ حقیقت ہے تو بالکل واضح لیکن لوگوں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ ان کی مسجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے۔
توحید کی انفسی دلیل
یہ توحید کی نفسیای دلیل ہے جس کی پوری وضاحت ہم نے اپنے رسالہ حقیقت توحید میں کی ہے انسان پانی فطرت کے اعتبار سے نہایت بنلد حوصلہ مخلوق ہے۔ وہ کسی کی غلامی پر کبھی راضی ہنے والا نہیں ہے۔ ایک خدا کی غلامی تو جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا وہ اس وجہ سے کرتا ہے کہ اس کی غلامی اس کی فطرت کے اندر ودیعت ہے اور وہ اپنی گوناگوں ناتوانیوں کے اندر اس سہارے کے بدون طمانیت نہیں پاتا۔ دوسروں کی غلامی کے لئے اس کے اندر اس طرح کا نہ صرف یہ کہ کوئی تقاضا نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف ایک شدید بیزاری موجود ہے بشرطیکہ اس کی فطرت بگڑ نہ چکی ہو۔
آیت میں لفظ تشاکس بھی ایک اہم نفسیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ تشاکس کے معنی تخالف کے ہیں۔ شرکآء متشاکون کے معنی ہوں گے ایسے شرکاء جو مختلف الاغراض اور باہمدگر نبرد آزما ہوں۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ مشرکین اپنے دیوتائوں کی نسبت یہ تصور بھی رکھتے رہے ہیں کہ ان کے درمیان برابر چشمک اور رقابت رہتی ہے جس کے سبب سے وہ کبھی کبھی ایک دوسرے سے اس طرح ٹکا جاتے ہیں کہ مدتوں ان کی جنگ ختم نہیں ہوتی۔ آخر کس کی شامت آئی ہوئی ہے کہ وہ بیک وقت ایسے بہت سے دیوتائوں کا غلام بننے پر راضی ہوگا ! انسانی فطرت اس مصیبت و ذلت کو گوارا کرنے پر راضی نہیں ہو سکتی لیکن مشرک اس کو گوارا کرت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انسانیت کے شعور اور اپنے شرف کے صحیح احساس سے بالکل محروم ہوتا ہے۔
Ayahs 39:30–31(آیت 31-30)
آنحضرت صلعم کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے وعید
یہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے تہدید و وعید ہے کہ توحید اور شرک کا یہ قضیہ آج چھڑا ہوا ہے ایک دن خدا کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم بھی مرنے والے ہو اور یہ تمہارے مخالفین بھی ایک دن مریں گے پھر تم اور وہ دو فریقوں کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں پیش ہوں گے۔ تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ان کو کیا بتایا اور سکھایا۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اس کا کیا جواب دیا۔ پھر حقیقی اور آخری فیصلہ وہاں ہوگا کہ کون حق پہ تھا اور کون ناحق پر مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی کٹ حجتی اور ہٹ دھرمی پر غم کھانے کی ضرورت نہیں۔ اس دنیا میں شیاطن کو بھی فرصت ملی ہوئی ہے اس وجہ سے اس کا کام بھی جاری ہے اور حکمت الٰہی کا تقاضا یہی ہے کہ دن سے مہلت ختم ہونے والی ہے اور یہ سارا معاملہ اللہ کی عدالت میں پیش ہوگا۔ اس دن غالب اور فائز المرام وہی ہوں گے جو حق پر ہیں۔
Ayahs 39:32–33(آیات 30-32)
عذاب الٰہی کا فیصلہ
وہاں جو فیصلہ ہوگا اس کی یہ پیشگی خبر دے دی ہے کہ اس وقت ان سے بڑھ کر محروم القسمت اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والا کون ہوگا جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور پھر جب اس جھوٹ کی اصالح کے لئے اللہ نے سچی چیز اتاری تو اس کی تکذیب کردی اللہ پر جھوٹ باندھنے سے مراد شرک ہے اس لئے کہ مشرکین اپنے مزعومہ شرکاء کے متعلق بالکل جھوٹ موٹ یہ دعیٰ کرتے ہیں کہ خدا نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے حالانکہ خدا نے ان کے باب میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔ صدق سے مراد یہاں قرآن ہے اس لئے کہ ہر باب میں اس نے اختلاف رفع کر کے حق بات سامنے رکھ دی ہے۔
اذ جآء کی قید سے مقصود اتمام حجت کے پہلو کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اگر کسی سچائی میں کوئی خفا ہو اور آدمی اس سے محروم رہ جائے تو اس کے لئے کچھ عذر ہوسکتا ہے لیکن جو سچائی سامنے آن کھڑی ہو اور کوئی ہٹ دھرم اس کو جھٹلاتا ہے رہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ نصف النہار کے سورج کے وجود سے انکار کر رہا ہے۔
الیس فی جھنم مثوی تدکفرین فرمایا کہ کی ایسے کٹر کافروں کا ٹھکانا بھی جہنم میں نہ ہوگا ! یعنی جس کے اندر ذرا بھی معقولیت ہے وہ تسلیم کرے گا کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی میں ہونا چاہئے۔ چناچہ اس دن ایسا ہی ہوگا۔ اس قسم کے تمام کفار جہنم میں بھر دیئے جائیں گے۔
والذی جآء بالصدق وصدق بہ اولئک ھم المتقون وصدق بہ سے پہلے من محذوف ہے اور لفظ متقون یہاں عذاب و دوزخ سے محفوظ رہنے والوں کے مفہوم میں ہے۔
یہ دوسرے فریق یعنی قرآن کے لانے والے اور اس کی تصدیق کرنے والوں کا صلہ بیان ہوا ہے کہ اس دن دوزخ سے صرف وہ محفوظ رہے گا جو سچائی کو لایا یعنی پیغمبر ﷺ اور وہ لوگ جنہوں نے اس سچائی کی تصدیق کی صدق کے بعد ب کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ صدق دل سے اس پر ایمان لائے۔
Ayah 39:34لھم مایشآئون عند ربھم ط ذلک جزاوا المحسنین (34)
یہ نہایت جامع الفاظ میں ان کا صلہ بیان فرما دیا کہ ان کے لئے وہ سب کچھ ان کے رب کے پاس ہوگا جو وہ چاہیں گے ان کی خواہشوں اور چاہتوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی ہر آرزو پوری کر دے گا۔ عندربھم کے الفاظ سے یہ بات نکلی کہ بندوں کے لئے سب سے اونچا متربہ خدا کا قرب ہے نہ کہ اس کی ذات میں ضم ہوجانا جیسا کہ صوفیوں کے ایک گروہ نے سمجھا ہے۔
ذلک جزوء المحسنین یہ ایک تنبیہ ہے کہ یہ صلہ جو بیان ہوا ہے خوب کاروں کے لئے ہے۔ قرآن پر ایمان کا ہر مدعی اس کا حق نہیں ہوگا۔ اس کے حق دار صرف وہی ہوں گے جو ایمان کے ساتھ احسان کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔
Ayah 39:35آیت 35
روز جزا کی غایت
یہ غایت بیان ہئوی ہے اس روز جزا کی جس کا ذکر اوپر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دن اس لئے مقرر فرمایا ہے کہ اپنے خوب کار بندوں کے دامن سے ان کے اعمال کے بدتر اثرات کو جھاڑ دے اور ان اعمال کا جو خوب تر صلہ ہے اس سے ان کو نوازے یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ اس دنیا میں آدمی نہ اپنے برے اعمال کے اثرات و نتائج ہی سے کما حقہ آگا ہو سکتا نہ اپنے اچھے اعمال کے صلہ کے قدر و یمت ہی سے یہ دنیا چند روزہ ہے اور اس جزا یا سزا کا تعلق ایک ایسی دنیا سے ہے جس کی سزا بھی ابدی ہے اور جزا بھی اسی وجہ سے آیت میں اسرا اور احسن کے الفاظ استعمال ہوئے مدعا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ روز جزا اسی لئے مقرر فرمایا ہے کہ اس کے جو بندے ایمان و عمل کی روش اختیار کریں ان کو وہ ان کے اعمال کے تاریک تر پہولو کے اثرات سے بچائے اور ان کے اعمال کا جو سب سے اعلیٰ پہلو ہے اس کی برکتوں سے نوازے۔ گویا اس میں یہ رہنمائی بھی دے دی گئی کہ آدمی اپنے عمل کے صرف فوری اثرات و نتائج ہی پر نگاہ نہ رکھے بلکہ ان اثرات و نتائج پر نگاہ رکھے جو ایک ابدی زندگی میں ان پر مترتب ہونے والے ہیں۔
Ayahs 39:36–376۔ آگے کا مضمون آیات 52-36
آگے نبی ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جو لوگ تمہیں اپنے دیویوں دیوتائوں سے ڈرا رہے ہیں ان کو بتا دو کہ اس رب کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے کوئی بھی مجھے نہ نفع پہنچا سکتا نہ نقصان وہ جو کچھ کرسکتے ہیں، ان سے کہو کہ وہ کر دیکھیں تم اپنا کام بےخوف و خطر کئے چلے جائو تمہارے اوپر صرف تمہارے فرض کی ذمہ داری ہے ان کے کفر و ایمان کی کوئی ذمہ داری متہارے اوپر نہیں ہے۔ اگر ان لوگوں و مزعومہ شفاعت پر بھروسہ ہے تو اس کی حقیقت بھی ان پر واضح کردو اور اگر ان کو اپنی موجودہ دنیوی کامیابیوں کا غرہ ہے تو اس کے بےثباتی بھی ان کو بتا دو … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 37-36
بندے کے لئے اللہ کی حفاظت کافی ہے
یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلیل ہے کہ یہ مشرکین تمہاری دعوت توحید پر تم کو اپنے اصنام و آلہہ کے قہر و غضب سے ڈراتے ہیں کہ تم نے ان کی مخالفت جاری رکھی تو وہ کسی مصیبت میں پھنسا دیں گے۔ کیا ان نادانوں کے نزدیک اللہ اپنے بندے کی حفاظت و کفالت کے لئے کافی نہیں یہع کہ ان کے اصنام و آلہہ اس کو خطرے میں ڈال دیں گے ! جو بندہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ اس کی حفاظت کے لئے کافی ہے۔ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی چیز بھی اس کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتے۔ اگر کوئی اس اندیشہ میں مبتلا ہے کہ کوئی چیز اس کو اللہ تعالیٰ کے علی الرغم نقصان پہنچا سکتی ہے تو وہ خدا کو اپنی حفاظت و کفالت کے لئے کافی نہیں سمجھتا اور یہ چیز بالبداہت کفر و شرک ہے۔
ومن یضل اللہ … الایۃ یہ ان شرک پرستوں کی اس جہالت پر ملامت ہے کہ یہ لوگ جو ایسی سفاہت کی باتیں کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی شامت اعمال کے سبب سے ان پر خدا کی مار پڑچکی ہے۔ یہ اللہ کے قانون کی زد میں آتے ہوئے لوگ ہیں اس وجہ سے اللہ نے ان کو گمراہ کردیا ہے اور جن کو خدا نے گمراہ کردی، ان کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں اس کا حالہ یہاں آنحضرت ﷺ کے پہلو سے دیا گیا ہے کہ ایسے اور پھر سے لوگوں کی باتوں کی پروا نہ کرو۔ ایسے لوگوں کی راہ راست پر لانے والا کوئی بھی نہیں بن سکتا۔
الیس اللہ بعزیز ذی انتقام یعنی اگر خدا اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ عزیز نہیں ہے حالانکہ وہ عزیز ہے اس لئے کہ جو عزیز نہیں ہے خدا نہیں ہوسکتا ساتھ ہی وہ ذی انتقام بھی ہے یعنی نہ وہ اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈلانے والوں کو چھوڑنے والا ہے اور نہ اپنے بندوں پر تعدی کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔ بلکہ وہ ایک ایک چیز کا بدلہ لینے والا ہے۔ اس بات کو سوالیہ اسلوب میں اس لئے پیش کیا ہے کہ یہ صفتیں خدا کی بالکل بدیہی صفتیں ہیں۔ ان کے بغیر خدا کا تصور نہیں کیا جاسکتا تو جب خدا عزیز و مقتدر بھی ہے اور صاحب عدل و انتقام بھی تو اس کے بندوں کو اس پر پورا بھروسہ رکھنا چاہئے وہ ہر خطرے سے ان کی حفاظت کرے گا۔
Ayah 39:38آیت 38
مشرکین کا تضاد فکر
یعنی یہ لوگ تضاد فکر میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف تو ان کا حال یہ ہے کہ ان سے سوال کرو کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو اس کا جواب دیں گے کہ اللہ ! دوسری طرف یہ اللہ کے سوا دوسروں کو اللہ کی خدائی میں شریک بنائے بیٹھے ہیں اور ان سے تم کو بھی ڈرا رہے ہیں۔ گویا ان کے خیال میں خدا خالق تو ہے لیکن اپنی پیدا کی ہوئی دنیا کا مالک اور اس میں تمصرف نہیں ہے۔ ان نادانوں سے پوچھو کہ خدا مجھے کوئی گزند پہنچانا چ ہے تو کیا تمہارے یہ فرضی دیوی دیوات مجھے اس سے بچالیں گے ؟ اسی طرح اگر وہ مجھے اپنے کسی فضل سے نوازنا چاہے تو کیا تمہاری اینٹ پتھر کی یہ مورتیاں اس کا ہاتھ پکڑ لیں گی۔ لفظ افرایتم پر دوسری جگہ ہم بحث کرچکے ہیں کہ اس سیاق وسباق میں جب یہ آتا ہے تو تحقیر اور اظہار تعجب کے لئے آتا ہے۔
قل حسبی اللہ علیہ یتوکل المتوکلون فرمایا کہ ان نادانوں کو بات دو کہ میرے لئے اللہ کافی ہے نہ اس کے سوا مجھے کسی کا ڈر ہے نہ اس کے سوا مجھے کسی سے امید ہے۔ میری ہر ضرورت کا وہی کفیل ہے اس وجہ سے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں جو اس کی جگہ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں ان کی امیدوں کی ساری عمارت ریت پر قائم ہے۔
Ayahs 39:39–40آیت 40-39
مشرکین سے برأت کا اعلان
انی عامل کے بعد علی مکانتی کے الفاظ تکرار سے بچنے کے لئے حذف کر یدئے گئے ہیں۔
یہ نبی ﷺ کی زبان سے اعلان برأت کرایا ہے کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم لوگ میری بات سننے کے لئے تیار نہیں ہو تو تم اپنی جگہ اور اپنے طریقہ پر کام کرو، میں اپنے طریقہ پر کام کرتا رہوں گا تم عنقریب دیکھ لو گے کن پر وہ عذاب آتا ہے جو ان کو رسوا کر کے رکھ دیتا ہے اور کن پردہ قہر نازل ہوتا ہے جو ٹک کے رہ جات اے ! مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنی روش سے باز آنے والے نہیں ہو تو میں بھی اپنی دعوت سے باز آنے والا نہیں ہوں۔ اب مستقبل فیصلہ کرے گا کہ کون رسوا ہوتا ہے اور کون سرفراز کون ہمیشہ کے لئے پامال ہوتا ہے اور کس کو اللہ برقرار رکھتا ہے ! رسوا کرنے والے عذاب کا ذکر مخالفین کے استکبار کے پہلو سے ہے اور عذاب مقیم سے مراد وہ عذاب ہے جو قوم پر نازل ہوتا ہے تو گویا وہیں ڈیرے ڈال دیتا اور اس کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیتا ہے ہم دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں کہ قوموں پر دو سم کے عذاب آتے ہیں۔ ایک تو وہ عذاب جو محض تنبیہ و تذکیر کے لئے آتا ہے۔ اس طرح کا عذاب ایک جھونکے کی طرح آتا ہے اور تنبیہ کر کے گزر جاتا ہے دوسرا عذاب وہ ہوتا ہے جو قوم کی ہستی ہی فنا کردیتا ہے۔ رسول کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اس کی قوم پر جو عذاب آت ہے اس کی نوعیت یہی ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے لئے عذاب مقیم کے الفاظ استعمال ہوئے۔
Ayah 39:41آیت 41
رسول پر ذمہ داری صرف اتمام حجت کی ہے
اعلان برأت کرانے کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دی کہ تمہارے اوپر جو ذمہ داری تھی وہ تم نے ادا کردی اب ان کا غم کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ فرمایا ہم نے لوگوں کی ہدایت کے لئے تمہارے اوپر کتاب اتاری حق کے ساتھ یعنی اس کتاب کے ذریعے سے ہم نے دین کے معاملے میں حق و باطل کو بالکل ممیز کردیا۔ اب جو لوگ اس کو قبول کریں گے وہ اپنی دنیا اور عاقب سنواریں گے اور جو اس کی تکذیب کریں گے وہ خود اپنے آپ کو گمراہیوں میں مبتلا کریں گے تمہارا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ تمہارے اوپر ذمہ داری صرف ان کو اس حق کی دعوت دینے کی تھی، یہ ذمہ داری نہیں تھی کہ تم ان کو لازماً ایمان و اسلام کے راستہ پر لاکھڑا کرو تم اپنے فرض سے سبکدوش ہوئے اب ذمہ داری ان کی ہے اس وجہ سے ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔
Ayah 39:42آیت 42
والتی لم تمت کے بعد لفظ یتوفھا بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔
اوپر کے حقائق کے ثبوت میں بعض نشانیوں کی طرف اشارہ
یعنی انسان کی زندگی اور موت تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ جس کی اجل مقرر پوری ہوجاتی ہے اللہ ہی اس کی روح قبض کرتا ہے اور جس کی موت نہیں آئی ہوتی ہے اس کو بھی وہ ہر روز موت اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا مشاہدہ کراتا رہتا ہے۔ شب میں جب وہ سوتا ہے تو یہ گویا اللہ تعالیٰ اس کو موت کا مشاہدہ کراتا ہے اور صبح کو جب وہ اٹھ بیٹھتا ہے تو یہ اس کو بعث و نشر کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے۔ اس طرح گویا ہر شخص کو ہر روز یہ دکھایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو زندگی کو زندگی جاوید سمجھے بلکہ یہ حقیقت پیش نظر رکھے کہ خدا نے ایک وقت معین تک کے لئے اس کو مہلت دی ہے اس کی جان ہر وقت خدا کی مٹھی میں ہے۔ وہ جب چاہے اس کو قبض کرسکتا ہے۔
ان فی ذلک لایت یقوم یتف کرون فرمایا کہ اس میں غور کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔
اس میں پہلی نشانی تو اس بات کی ہے کہ جس طرح خلق و تدبیر تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے اسی طرح زندگی اور موت بھی تمام تراسی کے اختیار میں ہے۔ پھر اس سے یہ بات بھی نکلی کہ جب موت اور زندگی کے معاملے میں کسی اور کا کوئی دخل نہیں ہے تو مرنے کے بعد کوئی اور کس طرح مولیٰ و مرجع بن جائے گا ؟ اس وجہ سے بھروسہ کے لائق ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اسی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہئے۔
دوسری نشانی اس میں یہ ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا ذرا بھی مستعد نہیں ہے۔ اس دنیا میں ہر روز موت اور موت کے بعد اٹھنے کا ریہرسل ہر شخص کے سامنے ہو رہا ہے بشرطیکہ آدمی اس کو دیکھنے کے لئے دیدہ بینا رکھتا ہو۔ صبح کو سو کر اٹھنے کے بعد ومن یہ دعا جو پڑھتا ہے کہ الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور یہ اس کی اسی عبرت نگاہی کی تعبیر ہے۔
تیسری نشانی اس میں یہ ہے کہ یہ کائنات اپنے وجود میں ان تمام حقائق کی تعلیم کے لئے ایک بہترین تربیت گاہ ہے جن پر انسانی زندگی کی صالح و فلاح کا انحصار ہے اور جن کی قرآن دعوت دے رہا ہے۔
Ayah 39:43آیت 43
مشرکین کی حماقت پر تعجب
یہ سوال استعجاب و ملامت کی نوعیت کا ہے کہ کیا ان نادان لوگوں نے ان تمام واضح حقائق کے باوجو داللہ کے مقابل میں اپنے لئے سفارشی بنا لئے ہیں کہ اگر خدا نے ان پر ہاتھ ڈالا تو وہ ان کو اس کی پکڑ سے بچا لیں گے ! فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ اگرچہ نہ وہ کسی چیز پر کوئی اختیار رکھتے ہوں اور نہ کسی بات کا ان کو علم و شعور رہو جب بھی ان کو امید ہے کہ وہ خدا کے حضور ان کے سفارشی بنیں گے ! مطلب یہ ہے کہ جہاں تک اختیار کا تعلق ہے وہ تو اللہ کے سوا کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ رہا علم و شعور تو اس اعتبار سے بھی کسی کا یہ درجہ نہیں کہ وہ کسی کے باب میں اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی اضافہ کرسکے۔ بالخصوص یہ مورتیاں جن کی سفارش پر یہ تکیہ کئے بیٹھے ہیں۔ ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے چہ جائیکہ یہ کسی چیز کا علم و شعور رکھتی ہوں۔
Ayah 39:44(آیت 44)
شفاعت کے باب میں قیود و شرائط
فرمایا کہ ان نادانوں کو بتا دو کہ شفاعت تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے اس کے حضور میں کوئی اس کے ازن کے بددن کسی کی سفارش کی جرأت نہیں کر سے گا اذن کے بعد جو زبان کھولے گا وہ صرف اس کے لئے زبان کھولے گا جس کے لئے اس کو اجازت دی گئی ہے۔ پھر وہ وہی بات کہے گا جو بالکل حق ہوگی خدا کے آگے کوئی غلط بات کہنے کی کسی کے لئے گنجائش نہیں ہوگی۔ سفارش کے لئے یہ تمام قیدیں اور شرطیں نہایت تفصیل سے خود قرآن میں بیان ہوئی ہیں اور ان کی وضاحت ان کے محل میں ہم کرتے آ رے ہیں۔ وہی حقیقت جامع الفاظ میں یہاں فرمائی گی ہے کہ شفاعت تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو لوگ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ خواہ ان کے اعمال کچھ ہی ہوں ان کے معبود ان کو بہرحال خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ وہ اپنی اس طمع خام کا انجام قیامت کے دن دیکھیں گے۔
لہ ملک السموت والارض ثم الیہ ترجعون یعنی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے اختیار میں ہے اور سب کی پیشی اسی کے حضور ہونی ہے۔ نہ اس بادشاہی میں کسی اور کا سرمو دخل ہے اور نہ کوئی دوسرا مولیٰ و مرجع بننے والا ہے۔
Ayah 39:45آیت 45
شفاعت باطل کا عقیدہ آخرت کی باز پرس یس فرار کے لئے ایک چور دروازہ ہے
یہ شرک و شفاعت کے وجود میں آنے کے ایک بہت بڑے سبب کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ آخرت خدا کے عدل کامل اور جزاء و سزا کے ظہور کا دن ہے اور اس کے ماننے سے انسان پر نہایت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں اس وجہ سے جو لوگ ان ذمہ داریوں سے گریز اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ شرک و شفاعت کی آڑ لیتے ہیں وہ ایمان و عمل کے تقاضے پورے کرنے کا نہ حوصلہ رکھتے اور نہ اپنے نفس کی خواہشوں پر کوئی پابندی ہی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں اس وجہ سے اول تو وہ آخرت کو مانتے ہی نہیں اور اگر مانتے بھی ہیں تو شرک و شفاعت کا عقیدہ ایجاد کر کے اس کے تمام خطرات سے اپنے زعم کے مطابق وہ اپنے آپ کو محفوظ کرلیتے ہیں ان لوگوں کا سارا اعتماد اپنے مزعومہ شفعاء کی شفاعت پر ہوتا ہے اس وجہ سے اگر ان کے سامنے توحید کا ذکر آئے تو ان کے دل بھینچنے لگتے ہیں اس لئے کہ پھر آخرت ان کے سامنے اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ آن کھڑی ہوتی ہے۔ البتہ جب ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء کا ذکر ہو تب وہ اطمینان کا سانس لیتے ہیں اس لئے کہ اس صورت میں ان کو آخرت سے بےقید زندگی گزارنے کا لائسنس مل جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شفاعت باطل کا عقیدہ درحقیقت آخرت کی ذمہ داریوں سے گریز کے لئے ایک چور دروازہ ہے۔
Ayah 39:46آیت 46
نبی صلعم کو منکرین آخرت سے اعراض اور آخرت کی تیاری کی تلقین
یہ نبی ﷺ کو دعا تلقین فرمائی گی ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اب ان لوگوں کا معاملہ حقیقت کا مواجہہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ اسی میں جئیں اور اسی میں مریں گے البتہ تم دعا کرو کہ اے آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والے اور غائب و حاضر کے جاننے والے تو ایک دن ان تمام اختلافات کا فیصہل فرمائے گا جن میں تیرے بندے اختلاف کر رہے ہیں یعنی ایک ایسا دن تو ضرور لائے گا جس میں تیرے کامل عدل کا ظہور ہوگا۔ چونکہ اسی عدل کامل کے ظہور پر اس دنیا کے باغایت ہونے کا انحصار ہے اور اسی کے ظہور سے خدا کا ایک عادل اور حکیم خدا ہونا ثابت ہوگا اس وجہ سے اس کے لئے دعا کی تلقین فرمائی گئی۔
Ayah 39:47آیت 47
مشرکین کو ایک اہم تنبیہ
یعنی ان مشرکوں نے اس دنیا کے عشق میں آخرت سے گریز کے لئے یہ چور دروازے پیدا کئے ہیں حالانکہ جب قیامت کے دن کے ہولناک عذاب سے سابقہ پیش آئے گا تو اس وقت ان کا یہ حال ہوگا کہ زمین کے اندر جو کچھ ہے اگر وہ سب ان کو حاصل ہوجائے اور اسی کے برابر اور بھی تو وہ اس عذاب سے چھوٹنے کے لئے فدیہ میں دے چھوڑیں۔
وبدالھم من اللہ مالم یکونوا یحتسبون انسان اول تو اپنی خواہشوں کو الائونس دینے ہی میں بڑا فیاض ہوتا ہے۔ پھر وہ اس دنیا میں دیکھتا ہے کہ برابر وہ بڑے سے بڑا جرم کرتا چلا جاتا ہے لیکن اس کی کوئی پکڑ نہیں ہوتی اس وجہ سے وہ آخرت کی فکر ہی سے بالکل بےپروا ہوجاتا ہے اور اگر کبھی کوئی اس کو اس کی طرف توجہ دلائے اور خدا کے عدل و اتنقام کے تقاضے سمجھانے کی کوشش کرے تو وہ اس کو محض واہگہ کی خلاقی پر محمول کرتا اور یہ گمان کرتا ہے کہ اگر آخرت ہے بھی تو بھلا ہم جیسے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس طرح کا معاملہ کیسے کرسکتا ہے جس سے یہ قرآن ہمیں ڈرتا ا ہے ! یہ ایک عام فتنہ ہے جس میں لوگوں کی اکثریت مبتلا ہے۔ اس طرح کے لوگوں کو متنبہ کرنے کے لئے فرمایا کہ جب وہ روز حساب آئے گا تو اس طرح کے لذیذ خواب دیکھنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے وہ باتیں ظاہر ہوں گی جن کا وہ آج تصور بھی نہیں کرسکتے۔ آج وہ اس کی کریمی سے دھوکے میں پڑ ہوئے ہیں لیکن جب وہ اس کے عدل و انتقام کی شان دیکھیں گے تب ان کی آنکھیں کھلیں گی اور انہیں نظر ائٓے گا کہ خدا جتنا بڑا کریم ہے اتنا ہی بڑا عادل اور مستقم وقہار بھی ہے۔
Ayah 39:48ویدالھم سیات ماکسبوا وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزئون (48)
ایک اور اہم تنبیہ
اسی طرح انسان پر اس کے برے اعمال کے نتائج کی سنگینی بھی اس دنیا میں اس کے سامنے واضح نہیں ہوتی۔ وہ یہ اندازہ یہاں نہیں کر پاتا کہ اس نے فلاں عمل بدیا فکر بد کی جو فصل بوئی تھی وہ کس رنگ میں انچی اور کس نوع کے اور کتنے زہریلے برگ و بارلائی آخرت میں اس کے تمام افکار و اعمال کے نتائج اپنی اصلی شکل و صورت میں اس کے سامنے آجائیں گے اور وہ دیکھ لے گا کہ جن چیزوں کو اس نے حقیر سمجھا اور ان کا مذاق اڑایا آج وہ پوری طرح ان کے گھیرے میں آگیا۔
Ayah 39:49آیت 49
ایک مہلک مغالطہ
اس سورة کی آیت 8 کے تحت اس کی وضاحت ہوچکی یہ۔ انسان کی یہ عجیب کمزوری ہے کہ جب اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تب تو وہ خدا سے فریاد کرتا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت دور کر کے اس کو اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو وہ خدا اور اپنی مصیبت دونوں کو بھول جاتا ہے اور اس نعمت کو یا تو اس کو اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو وہ خدا اور اپنی مصیبت دونوں کو بھول جاتا ہے اور اس نعمت کو یا تو دوسروں کی طرف منسوب کرتا ہے کہ فلاں اور فلاں کی برکت اور بخشش سے یہ چیز مجھے حاصل ہوئی جیسا کہ آیت 8 میں ذکر ہے یا اس کو اپنی تدبیر اور اپنی حکمت و سائنس کا کرشمہ قرار دیتا ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے یعنی وہ اس نعمت کا منبع یا تو خدا کے سوا دوسروں کو قرار دیتا ہے یا اپنی ذات کو اور یہ دونوں ہی صورتیں شرک کی ہیں اس لئے کہ بندے کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے خدا ہی سے حاصل ہوتی ہے اور دوسروں کی حیثیت اس میں ایک ذریعہ اور واسطہ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ اس کی سائنس اور قابلیت بھی اللہ ہی کا عطیہ ہے اگر وہ کسی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے تو خدا ہی کی رہنمائی سے بنتی ہے بل ھی فتنہ ولکن اکثرھم لایعلمون یعنی کوئی نعمت بھی کسی کو نہ غیر اللہ سے ملتی اور نہ وہ اس کے علم و قابلیت اور اس کے استحقاق کا نتیجہ ہوتی بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سیم لتی ہے اور اس کے ذریعے سے وہ بندے کا امحتان کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر گزار رہتا ہے یا اس کو پاک کر استکبار و طغیان میں مبتلا ہوجاتا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس حقیقت سے نا آشنا ہوتی ہے اور یہ چیز ان کو شرک اور فساد میں مبتلا کردیتی ہے۔ سورة قصص میں ق اورن کا جو کرو اور یان ہوا ہے اس میں یہ حقیقت نہایت واضح الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔
آیت 78-76
ق اور نموسیٰ کی قوم میں سے تھا تو اس نے ان کے مقابل میں سرکشی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور پارٹی سے اٹھتی تھیں۔ اس وقت کو یاد کرو جب اس کو قوم نے اس سے کہا کہ اترامت، اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا اور جو کچھ خدا نے تجھے دیا ہے اس میں اور آخرت کا طالب بن اور دنیا میں سے اپنا حصہ نو بھول اور اللہ نے جس طرح تم پر احسان فرمایا ہے تم بھی لوگوں پر احسان کرو اور زمین میں فساد کے طالب نہ بنو۔ اللہ فاسد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس نے جواب دیا کہ یہ دولت تو مھے میرے علم کی بدولت حاصل ہوئی ہے۔ کیا اس کو نہیں معلوم کہ اس سے پہلے ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کر چھوڑیں جو قوت میں اس سے بڑھ چڑھ کر اور جمعیت میں اس سے زیادہ تھیں !
Ayah 39:50قدقا لھا الذین من قبلھم فما اغنی عنھم ماکانوا یکسبون 50
یعنی یہ بات ان سے پہلے والوں نے بھی کہی۔ اشارہ انما اونیثہ علی علم والی بات کی طرف ہے کہ قریش کے ان متردین سے پہلے بھی یہ دعوے کنے والے گزر چکے ہیں جن میں سے ایک مدعی … ق اورن کے قول کا حوالہ اوپر گزرا فرمایا کہ اس غرور میں جو بھی مبتلاہئوے جب وہ خدا کی پکڑ میں آگئے تو وہ چیزیں ان کے کچھ بھی کام آنے والی نہیں بن سکیں جو بزعم خویش انہوں نے اپنی قابلیت اور سائنس کے ذریعہ سے حاصل کی تھیں۔ چناچہ ق اورن کی مثال خود قرآن میں بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو تجارت اور مالیات کا بڑا ماہ رسمجھتا تھا لیکن خدا نے اس کا سارا خزانہ اس کے سمیت زمین میں دھنسا رہا اور اس وقت اس کی کوئی تدبیر اس کے کچھ کام نہ آسکی۔
Ayah 39:51فاصابھم سیات ماکسبوا ط والذین ظلموا من ھولآء سیصیتم سیات ماکسبوا وما ھم بمعجزین 51
یعنی جو لوگ اس قسم کے خبط میں مبتلا ہوئے بالآخر ان کے اعمال کے برے نتائج ان کے سامنے آئے۔ فرمایا کہ ان لوگوں یعنی قریش کے لوگوں میں سے بھی جن لوگوں نے اس ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کے آگے بھی ان کے برے اعمال اور ان کی بری کمائی کے نتائج آ کے رہیں گے اور جب ہم ان کو پکڑیں گے تو وہ ہمارے قابو سے باہر نہ نکل سکیں گے۔
Ayah 39:52آیت 52
رزق و فضل اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے
بعینیہ یہی مضمون سورة روم آیت 37 میں بھی گزر چکا ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ وہاں المریروا کے الفاظ ہیں اور یہاں اولم یعلموا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص آنکھیں رکھنے والا اور عقل سے کام لینے والا ہو تو اس امر میں اس کے لئے کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے کہ رزق و فضل کا تعلق انسان کے علم و اختیار نہیں بلکہ تمام تر اللہ تعالیٰ کی مشیت و حکمت سے ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے۔ کتنے ہیں جو بغیر سعی و تدبیر کے چاندی کا چمچہ منہ میں لے کر اس دنیا میں پیدا ہوتے ہیں اور کتنے ہیں جو رات دن دنیا ہی کی فکر میں سر کھپاتے ہیں اور دنیا کمانے کا علم بھی رکھتے ہیں لیکن پاتے اتنا ہی ہیں جتنا اللہ نے ان کی تقدیر میں لکھ رکھا ہے۔ یہ مشاہدہ بھی آئے دن اس دنیا میں ہوتا رہتا ہے کہ ایک شخص آج کروڑ پتی یا ارب پتی بلکہ تخت و تاج کا مالک ہے اور دور سے دن وہ بالکل دیوالیہ یا کسی جیل کی شخص آج کروڑ پتی یا ارب پتی بلکہ تخت و تاج کا مالک ہے اور دوسرے دن وہ بالکل دیوالیہ یا کسی جیل کی شخص آج کروڑ پتی یا ارب پتی بلکہ تخت و تاج کا مالک ہے اور دوسرے دن وہ بالکل دیوالیہ یا کسی جیل کی شخص آج کروڑ پتی یا ارب پتی بلکہ خت و تاج کا مالک ہے اور دوسرے دن وہ بالک دیوالیہ یا کسی جیل کی شخص آج کروڑ پتی یا ارب پتی بلکہ تخت و تاج کا مالک ہے اور دوسرے دن وہ بالکل دیوالیہ یا کسی جیل کی شخص آج کروڑ پتی یا ارب پتی بلکہ تخت و تاج کا مالک ہے اور دوسرے دن وہ بالکل دیوالیہ یا کسی جیل کی کوٹھڑی میں بند ہے۔ ان کھلے ہوئے مشاہدات کے باوجود اگر کوئی شخص اپنے ملا و جاہ کے متعلق انما اوتیتہ علی علم کے گھمنڈ میں مبتلا ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ اس کی عقل میں کچھ فتور ہے۔
ان فی ذلک لا یت تقوم یومنون یعنی رزق و فضل کے معاملہ میں اس بط و تقدیر کا جو مشاہدہ کرتا ہے اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی صفات سے متعلق بہت سی حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔ مثلاً
یہ کہ اس کائنات کی بادشاہی خدا ہی کے اختیار میں ہے وہی جس کو چاہے بخشتا ہے جس سے چ ہے چھین لیتا ہے کسی اور کی اس میں کوئی حصہ داری نہیں اس وجہ سے بھروسہہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پر کرنا چاہئے لیتا ہے۔ کسی اور کی اس میں کوئی حصہ داری نہیں ہے اس وجہ سے بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پر کرنا چاہئے۔
یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام اس کی رحمت اور حکمت کے تحت ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی کو اس دنیا میں سے زیادہ دیتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ اگر کم دیتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے۔ وہ ایک کو زیداہ دے کر اس کے شکر کو جانچتا ہے اور دوسرے کو کم دے کر اس کے صبر کا امتحان کرتا ہے اور یہ فصلہ قیامت کو ہوگا کہ ان میں سے کون کامیاب رہا اور کون نامراد ہوا۔
یہ کہ یہ دنیا والا امتحان ہے دارالانعام نہیں ہے اس میں ہر شخص کا امحتان ہو رہا ہے اور اس امحتان کے نتائج کے ظہور کے لئے قیامت کا آنا لازمی ہے۔
لقویم یومنون میں فعل میرے نزدیک ارادہ فعل کے مفہوم میں ہے جس کی بہت سی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو اس دنیا میں گمراہی جو پیش آتی ہے اس میں زیادہ دخل اس بات کو نہیں ہے کہ حقائق مخفی ہیں بلکہ بیشتر یہ ہوتا ہے کہ حقائق واضح ہوت یہیں لیکن انسان ان کو قبول کرنے کے لئے ارادہ نہیں کرتا۔ اس کے متعدد وجوہ ہوتے ہیں جن کی تفصیل اس کے محل میں گزر چکی ہے۔
Ayah 39:538۔ آگے کا مضمون آیات 63-52
آگے مشرکین کو دعوت دی ہے کہ تم نے خدا سے بدگمان اور مایوس ہو کر شرک و شفاعت کے جو چور دروازے پیدا کئے ہیں، یہ تمہاری نجات کی راہ نہیں کھولیں گے بلکہ تمہاری نامرادی میں اضافہ کا سبب ہوں گے فلاح کی راہ یہ ہے کہ صدق دل کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو اور اس بہترین کتاب کی پیروی کرو جو اللہ نے تمہاری ہدایت کے لئے اتاری ہے ورنہ یاد رکھو کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنی نالائقی پر سر پیٹو گے لیکن اس وقت تمہارا پچھتانا تمہارے لئے کچھ سود مند نہیں ہوگا۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
9۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 54
مشرکین کے ایک اہم کا ازالہ
شرک و شفاعت کے عوامل میں سے ایک بڑا عامل خدا سے مایوسی یا بدگمانی بھی ہے۔ اس مایوسی و بدگمانی کے متعدد پہلو ہیں جن کی وضاحت ان کے محل میں ہوچکی یہ۔ ازآنججملہ یہ بھی ہے کہ مشرک کو خدا کی رحمت و مغفرت پر بھروسہ نہیں ہوتا اس وجہ سے وہ اپنے تصور کے مطابق خدا کے کچھ فرضی مقربین تراشتا ہے اور ان کی عبادت کر کے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ خدا کے ہاں اس کے سفارشی بن کر اس کی مغفرت کرا دیں گے اس وہم میں جو لوگ مبتلا ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعے سے یہ پیغام دلوایا کہ ان سے کہو کہ اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر گناہ یا شرک کر کے زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے مایوس ہو کر تم دوسروں کا سہارا نہ پکڑو اور اسی سے مغفرت کے طالب بنو، اللہ بڑا ہی غفور رحیم ہے۔ اس کے جو بندے اس کی طرف اخلاص کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں وہ ان کے ہر قسم کے گناہ معاف کردیتا یہ۔
اس آیت کے لب و لہجہ دلیل ہے کہ مخاطب وہ لوگ ہیں جو فی الواقع اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ نہ ہر شخص خدا تک رسائی کا اہل ہوتا اور نہ ہر شخص کی بات کو خدا لائق التفات سمجھتا اس غلط فہمی کے سیپ سے وہ دوسرے وسائل و وسائط کا سہارا لیتے ہیں حالانکہ خدا کے متعلق اس قسم کا خیال اس سے مایوسی اور بدگمانی کے ہم معنی ہے جو کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے۔
Ayah 39:54آیت 54
اللہ تعالیٰ رحمت کے طالبوں کے لئے صحیح راستہ
یہ اس طریقہ کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کے طالبوں کو اختیار کرنا چاہئے
فرمایا کہ دوسرے مزعومہ وسائط و وسائل سے کٹ کر اپنے رب کی طرف رجوع کرو، گناہوں سے توبہ کر کے اس کی رحمت و مغفرت کے طلب بنو اور خدا کے عذاب کے ظہور سے پہلے بالکلیہ اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کر دو۔ یعنی عبادت اور اطاعت دونوں بلاشرکت غیرے اسی کی کرو۔
من قبل ان یاتیکو العذاب سے عذاب آخرت بھی مراد ہوسکتا ہے لیکن یہاں قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو رسول کے اتمام حجت کے بعد اس کے مکذبین پر لازماً آتا ہے۔ اس عذاب کے ظہور کے بعد نہ کسی کے لئے ایمان ہی کی گنجائش باقی رہ جاتی اور نہ ایسے لوگوں کی کسی کی طرف سے کوئی مدد ہی ہوتی۔ مطلب یہ ہے کہ اس عذاب کے متمنی اور طالب نہ بنو۔ بلکہ اپنی بھلائی چاہتے ہو تو اس سے پہلے پہلے توبہ اور اصلاح کی فکر کو۔
Ayah 39:55آیت 55
قرآن میں اتمام حجت کے پہلو
یہ اسی اوپر والے مضمون کی وضاحت ہے کہ تمہارے لئے صحیح راہ یہ ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چزی تمہاری طرف اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو بہترین چیز سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے جس کے احسن الحدیث ہونے کا ذکر آیت 23 میں گزر چکا ہے دور سے آسمانی صحیفوں کے مقابل میں قرآن کی جو فضیلت حاصل ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ مثلاً یہ کہ قرآن خدا کی آخری اور کامل کتاب ہے۔
یہ تحریف کے تمام شوانب سے محفوظ ہے۔
یہ دنی فطرت کا داعی ہے اس وجہ سے پچھلی شریعتوں کے تشدد ات سے پاک ہے۔
خاص عربوں کے نقطہ نظر سے بھی اس کے چند پہلو قابل لحاظ ہیں۔ مثلاً
یہ نہایت فصیح وبلیغ عربی میں ہے جس کی نظری پیش کرین سے دور سے قاصر ہیں اور یہ اہل عرب پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے اپنی آخری کتاب عربی میں اتاری۔
یہ کتاب متشابہ اور سبع مثانی کی صورت میں نازل ہا ہے جس سے اس کی افادیت دور سے صحیفوں کے مقابل میں وہ چند ہوگئی ہے (وضاحت اس کی پیچھے ہوچکی ہے)
یہ عربوں کے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم ؑ کی ملت کا داعی ہے اس وجہ سے اس کی دعوت اہل عرب کے لئے ایک مانوس چیز ہے۔
فرمایا کہ ان تمام خوبیوں کا تقاضا ہے کہ تم اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لو اور اس کو حرز جاں بنئاو۔ اگر تم نے اس کی قدر نہ کی تو یاد رکھو کہ اس کی تکذیب کی صورت میں تم پر ایک ایسا عذاب آدھمکے گا جس کا تم کو گمان بھی نہ ہوگا۔
Ayahs 39:56–57آیت 56
ان سے پہلے مضاف یہاں محذوف ہے اس کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے یہ سارا اہتمام اس لئے فرمایا ہے کہ مباد محاسبہ کا وقت آجائے اور جو لوگ غافل ہیں ان کو پچھتانا پڑے کہ ان سے خدا کے باب میں بڑی کتواہی ہوئی کہ دنیا کی خود فراوشیوں میں گم ہو کر انہوں نے روز آخرت کو بھلائے رکھا اور مزید ظلم یہ کیا کہ جن لوگوں نے اس کی یاد دہانی کی ان کا مذاق اڑانے والے بنے رہے !
Ayah 39:58آیت 58
یا یہ عذر کریں کہ اگر اللہ نے ہم کو ہدایت دی ہوتی تو ہم اس سے ڈرنے والوں میں سے بنتے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے عذرات کا سدباب کرنے کے لئے اللہ نے اپنی ہدایت نازل فرما دی ہے۔ اب جو لوگ اس سے اعراض کریں گے ان کی گمراہی کی ذمہ داری تمام تر انہی پر ہوگی۔
Ayah 39:59آیت 59
یہ اس عذر کا جواب ہے جو آیت 57 میں مذکور ہے کہ اس دن یہ عذر پیش کرنے والوں کو یہ جواب دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کے لئے اپنی آیتیں اتاری تو تھیں لیکن تم نے ان کو جھٹلایا تکبر کیا اور کا دوں میں سے بنے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہدایت دینے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ اس کہ لوگوں کے دلوں میں زبردستی اتار دے بلکہ وہ اپنی تعلیمات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کا سامان فرمت ایہ اور یہ چیز وہ لوگوں پر چھوڑتا ہے کہ وہ اس کو اختیار کرتے ہیں یا رو سو یہ کام اللہ نے کردیا تھا لیکن تم نے اپنے تکبر کے سبب سے اس کی قدر نہیں کی۔
Ayah 39:60آیت 60
مشرکین کا انجام
کذبوا علی اللہ سے مراد شرک ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ بولیں کہ خدا نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا ہے اور جب اللہ کی طرف سے ان کو تنبیہ کی گئی کہ خدا کا کوئی شریک و سبیہم نہیں ہے تو بالکل بےدلیل محض اپنے غرور کی بنا پر اپنی بات کی پیچ کی، قیامت کے دن ان کے چہرے ان کے اس غرور کی پاداش میں سیاہ ہوں گے۔
الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین یہ سوال کیا ہے کہ کیا ان متکبروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا ؟ مطلب یہ ہے کہ ایسے خود سروں کا سزا وار جہنم ہونا تو ایک ایسی واضح بات ہے جس میں کسی کے لئے بھی اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔ چناچہ یہ متکبرین سب جہعنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔
Ayah 39:61آیت 61
اللہ سے ڈرنے والوں کو صلہ
متکبرین کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ سے ڈرنے والے بنے رہے۔ فرمایا کہ اللہ غرور سے پاک بندوں کو ان کے امن میں پناہ دے گا۔ بمفازۃ میں ب ظرفیہ اور مفازۃ کے معنی مامن اور مفلح کے ہیں جس سے مراد جنت ہے۔ یعنی اس ہوں کے دن میں یہ لوگ ایسے ٹھکانوں میں پہنچا دیئے جائیں گے جہاں نہ ان کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ان کو کسی بات کا غم ہوگا۔ وہ ماضی کے تمام پچھتا دوں اور مستقبل کے تمام اندیشوں سے بالکل محفوظ ہوں گے۔
Ayahs 39:62–63آیت 63-62
خلاصہ بحث
یہ اپور کی ساری بحث کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ اپنی دنیا پیدا کر کے اس کو چھوڑ نہیں بیٹھا ہے بلکہ وہی ہر چیز کا نگہبان بھی ہے اس وجہ سے بندوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے آسمانوں اور زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ بندوں کو جو کچھ بھی آسمان اور زمین سے حاصل ہوتا ہے سب اسی کی بخشش سے حاصل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی جو کچھ حاصل ہوگا اسی کی عنایت سے حاصل ہوگا۔ جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور اپنے شرک پر جمے ہوتے ہیں وہی خسارے میں پڑنے والے ہیں۔ ان کی اس حماقت کا وبال انہی پر پڑے گا۔ کسی دوسرے پر نہیں پڑے گا۔
Ayah 39:64-10 آگے کا مضمون آیات 75-64
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں ﷺ کی زبان سے پہلے اعلان کرایا ہے کہ نادانوں کیا ان واضح حقائق کے بعد بھی تم مجھے اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کا حکم دیتے ہو۔ حالانکہ اللہ نے تمام نبیوں پر یہی وحی نازل فرمائی ہے کہ جو اللہ کا شریک بنائے گا اس کے تمام اعمال حبط ہوجائیں گے۔ اس کے بعد یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ ان جاہلوں نے خدا کی شان بالکل نہیں سمجھی کہ ایسی چیزوں کو اس کی خدائی میں شریک بنائے بیٹھے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور ان کے بل پر آخرت سے باطل نچنت ہیں۔ خدا کی عظمت کا حال تو یہ ہے کہ وہ ایک دن آسمان و زمین سب کی بساط اپنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور جب اس کا صور پھونکا جائے گا تو آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب بےہوش ہوجائیں گے اور پھر جب دوسری بار صور پھونک جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور زمین خدا کے نور سے چمک اٹھے گی اس وقت لوگوں کے اعمال کا دفتر کھلے گا۔ نبیوں اور گواہوں کی طلبی ہوگی اور لوگوں کے درمیان بالکل انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس کے بعد اہل جنت اور اہل دوزخ کے احوال کی تفصیل سنائی ہے تاکہ جو لوگ اپنے شرکا و شفاء کے بل پر لذیذ خواب دیکھ رہے ہیں ان کی آنکھیں کھلیں … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
11۔ الفاظ کی تحقیق اور ٓیات کی وضاحت
قل افغیر اللہ تامرونی ابعدایھا الجھلون (64)
بانداز اعلان برأت ایک سوال
جاھل اس کو کہتے ہیں جو علم اور عقل کے بجائے جذبات اور خواہشوں کی پیروی کرتا ہے۔ فرمایا کہ ان جاہلوں سے پوچھو کہ تمام دلائل و شواہد تو اس بات کے حق میں ہیں کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور اسی کے قبضہ میں تمام آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں تو کیا پھر بھی تم لوگ مجھ سے اس بات کے لئے ضد کرتے رہو گے کہ میں اللہ کے سوا دوسری چیزوں کی عبادت کروں ؟ اوپر یہ بات گزر چکی ہے کہ مشرکین آنحضرت ﷺ کو اپنے معبودوں سے ڈراتے تھے کہ اگر آپ نے دین آبائی کی مخالفت نہ چھوڑی تو ان کے معبودوں کے عتاب میں آجائیں گے۔ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے بانداز اعلان برأت سوال کیا گیا یہ کہ کیا ان واضح حقائق کے بعد بھی تم لوگ مجھ سے یہ مطالبہ کرتے رہو گے کہ میں تمہارے بتوں کا پجاری بن جائوں ؟
Ayahs 39:65–66آیت 66-65
شرک سے تمام اعمال حبط ہوجاتے ہیں
یہ ان لوگوں کو جواب دیا ہے اور چونکہ ان کی بات بالکل جاہلوں کی بات تھی اس وجہ سے ان کو خطاب نہیں کیا بلکہ اپنے پیغمبر کو خطاب کر کے ان کو بات سنا دی فرمایا کہ یہ جاہل لوگ تم سے شرک کے لئے ضد کر رہے ہیں حالانکہ تمہاری طرف بھی اور تم سے پہلے بھی جو نبی و رسول گزرے ہیں ان سب کی طرف یہ وحی ہوچکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہایر عمل حبط ہوجائیں گے اور تم نامرادوں میں سے ہو کر رہ جائو گے۔ فلاں کی راہ صرف یہ ہے کہ اللہ ہی کی بندگی کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے بنو۔
حبط عمل سے مراد یہ ہے کہ شرک کے ساتھ جو عمل اللہ کے لئے بھی کئے جاتے ہیں وہ بھی سب ضائع اور لاحاصل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی مشرک کے عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ وہ صرف اپنے ان بندوں کی نیکیاں قبول فرماتا ہے جو کسی کو اس کا شریک نہیں بناتے۔
بل اللہ فاعبدوکن من الشکرین یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کا جو حق اس کے ہر بندے پر واجب ہے وہ صرف اسی صورت میں ادا ہوتا ہے جب بندہ صرف اللہ ہی کی بندگی کرتا ہے۔ اگر اس بندگی میں وہ کسی اور کو بھی ساجھی بنا دیتا ہے تو وہ اپنے رب کا شکر گزار نہیں رہ جاتا بلکہ ناشکرا بن جاتا ہے اور اس کی ساری دینداری کی بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے۔
Ayah 39:67آیت 67
خدا کی شان سے بیخبر ی
یعنی ان جاہلوں نے اپنے مزعومہ شریکوں کو جو خدا کے برابر لا بٹھایا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خدا کی شان او اس کی عظمت بالکل نہیں پہچانی ہے۔ انہوں نے خدا کو اپنے محدود پیمانوں سے ناپا ہے اس وجہ سے ذرہ اور آفتاب، قطرہ اور سمندر میں وہ امتیاز نہ کرسکے۔ ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری زمین یا مت کے دن خدا کی مٹھی میں ایک مشت خاک کے برابر اور تمام آسمانوں کی بساط اس کے ہاتھ میں لپٹی ہوئی ہوگی ایسی عظیم ہستی کے ساتھ ان کی ان دیویوں دیوتائوں کا کیا جوڑ کہ یہ اس کی کائنات میں شریک وسہیم بن جائیں اور وہ ان کی مدد کا محتاج ہو قبضۃ اتنی چیز کو کہتے ہیں جو ایک ابر میں مٹھی میں اٹھالی جائے۔
سبحنہ وتعالیٰ عما یشرکون یعنی اللہ تعالیٰ کی عظیم ذات ان چیزوں سے پاک اور بلند ہے جن کو یہ جاہل لوگ اس کا شریک بنائے ہوئے ہیں۔ یہ نسبتیں اس کی پاکی و تقدس کے بھی منافی ہیں اور اس کی عظمت وکبریائی کے بھی۔
Ayah 39:68آیت 68
قیامت کے دن کی بےبسی
یہ اسی مضمون کی مزید توسیع ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں سے متعلق یہ فرض کئے ہوئے بیٹھے ہیں کہ ان کو اللہ کے ہاں بڑا تقرب حاصل ہے، وہ اپنے پجاریوں کے لئے یہ کریں گے اور خدا نے ان پر ہاتھ ڈالا تو اپنے زور و اثر سے ان کو چھڑا لیں گے حالانکہ قیامت کے دن ساری خدائی کا یہ حال ہوگا کہ جب پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے۔ صرف وہی لوگ اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھنا چاہے گا پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور وہ حیرت سے تاکتے ہوں گے … مطلب یہ ہے کہ جس دن کی ہولناکی کا یہ عالم ہے اس دن کس کی مجال ہے کہ خدا کے آگے ناز و تدلل کے ساتھ بڑھ کر کسی کی وکالت یا سفارش کرسکے اور جس خدا کی عظمت کا یہ حال ہے کہ اس کے ایک نفخہ صور سے ساری خدائی بےہوش اور پھر ساری خدائی بیدار ہوگی، کون ہے جو اس کا ہم سربننے کا مدعی ہو سکے !
الا من شآء اللہ کے استثناء سے یہ بات نکلتی ہے کہ کچھ لوگ اس دن اس عام بےہوشی سے محفوظ رہیں گے۔ یہ کون لوگ ہوں گے ؟ اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ البتہ آگے کی آیت 75 سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جو ملائکہ عرش الٰہی کے اردگرد اس کی حمد و تسبیح میں مصروف ہوں گے وہ اس سے محفوظ رہیں گے۔ یہ محض ایک اشارہ ہے اس پر مجھے جزم نہیں یہ۔ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اس اشارے کے بعض قرائن کی طرف توجہ دلائوں گا۔