Ayah 38:1-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ص و القران ذی الذکر (1)
ص حروف مقطعات میں سے ہے۔ یہ اس سورة کا قرآنی نام ہے ان حرف پر جامع بحث بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ محض تکلف ہے۔
قرآن کے مذکر سے موسوم ہونے کے بعض پہلو
والقرآن ذی الذکر جس طرح قرآن کی قسم سورة یٰسین میں حکیم کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی ہے اسی طرح یہاں ذی الذکر کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ ذکر کا اصل مفہم یاد دہانی کرنا ہے۔ قرآن سر تا سریا دوہائی ہے۔ اس وجہ سے اس کا نام بھی جگہ جگہ ذکر آیا ہے۔ آگے آیت 8 میں اس کا یہی نام آیا ہے۔ اس کے اس نام اور اس صفت سے موسوم و موصوف ہونے کے کئی پہلو ہیں۔
…یہ ان تمام حقائق کی یاد دہانی کرتا ہے جو انسان کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں لیکن انسان ان کو بھولا ہوا ہے۔
… اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے خلق کے لئے جو ہدایت نازل فرمائی اور جس کو لو گبھلا بیٹھے تھے، یہ اس کی بھی یاد دہانی کرتا ہے۔
…رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو جس انجام سے دوچار ہونا پڑا، یہ ان سے بھی باخبر کرتا ہے۔
…اس دنیا کی زندگی کے بعد جس مرحلہ حساب و کتاب اور جزاء و سزا سے لوگوں کو سابقہ پیش آتا ہے۔ یہ اس کو بھی یاد دلاتا ہے۔
یہ سارے پہلو اس کی صفت ذی الذکر کے اندر موجود ہیں۔ آگے اسی سورة کی آیات 17-8، 49-46 اور 86 کے تحت ان کی وضاحت آرہی ہے۔
مقسم پر قسم کے اندر مضمر ہے
اس قسم کا مقسم علیہ یہاں الفاظ میں مذکور نہیں ہے بلکہ وہ قسم کے اندر ہی مضمر ہے۔ یہ طریقہ ان مواقع میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں قسم کی نوعیت ایسی ہو کہ مقسم علیہ ذکر کے بغیر اس سے واضح ہو رہا ہو یہاں یہی صورت ہے مقصد یہ ہے کہ قرآن جن یاد دہانیوں سے مملو ہے وہ اس بات پر شاید ہیں کہ آج قریش کو جن باتوں کی تذکیر کی جا رہی ہے وہ بالکل ناقابل انکار ہیں۔ اگر وہ ان کو نہیں مان رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کے اندر کسی ریپ و شک کی گنجائش ہے بلکہ اس کا سببمحض ان کی انانیت اور مخاصمت ہے۔
Ayah 38:2بل الذین کفروانی عزۃ وسقاق (3)
قرآن کی مخالف کی اصل علت
الذین کفروا سے مراد یہاں خاص طور پر قریش ہیں۔ فرمایا کہ ان کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کی تذکیر میں کوئی کسر ہے بلکہ یہ گھمنڈ اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔ ان کے اس گھمنڈ اور ضد کی وضاحت آگے کی آیات میں آرہی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ خرابی قرآن میں نہیں بلکہ خود ان لوگوں کے اپنے اندر یہ قرآن ہر پہلو سے نہایت مدلل، دلنشیں اور مئوثر یاد دہانی کر رہا ہے لیکن جن لوگوں نے انانیت اور مخالفت کی روش اختیار کر رکھی ہو ان پر اس کی تذکیر کیا کارگر ہو سکتی ہے۔ !
Ayah 38:3کم اھلکنا من قبلھم من قرن فنا دواولات حسین مناص (3)
ماضی کی قوموں کی طرف ایک اشارہ
یعنی ان کی انانیت پر یہ بات بہت شاق گزر رہی ہے کہ انہیں ڈرایا جا رہا ہے کہ اگر وہ قرآن کی تکذیب پر اڑے رہے تو خدا کے عذاب کی زد میں آجائیں گے۔ حالانکہ تاریخ کی کتنی مثالیں ان کی بنائی جا چکی ہیں کہ جن قوموں نے ان کی طرح ضد کی ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ جب وہ خدا کی پکڑ میں آگئیں تو انہوں نے بہت ہائے پکارا اور توبہ و ایمان کی منا دی کی۔ لیکن اس وقت ان کے لئے کوئی مضر باقی نہیں رہا تھا اس لئے کہ ظہور عذاب کے بعد توبہ اور ایمان کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
لاث
لاثاصل میں لا ہے البتہ اس کے ساتھ ت کا اضافہ ہوگیا ہے اسی طرح کا اضافہ ثم اور دب کے ساتھ بھی ہوجاتا ہے۔ البتہ اس صرت میں یہ وقت کی نفی کے لئے خاص ہوجاتا ہے جس طرح یہاں ہے۔
Ayah 38:4وعجبوآ ان جآء ھم منذرمنھم وقال الکفرون ھذا سخر کذاب (4)
مکذبین کا غرور
یعنی ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ انہی کے اندر کا ایک شخص ان کے لئے خدا کا منذربن کر آیا۔ خدا کو کوئی منذر ہی بھیجنا ہوتا تو کسی مافوق بشر ہستی کو منذر بناتا، انہی جیسے ایک انسان کو منذر بنانے کے کیا معنی ! اور اگر انسان ہی کو منذر بنانا تھا تو آخر خدا کی نظر ایک غریب آدمی پر کیوں پڑی، مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو اس مقصد کے لئے اس نے کیوں نہیں انتخاب کیا ؟ گویا پیغمبر کی بشریت بھی ان کے لئے وجہ انکار بنی اور ان کی غربت و ناداری بھی۔ اس آیت میں پہلی وجہ انکار کی طرف اشارہ ہے۔ آگے آیت 8 میں دوسری وجہ انکار کا ذکر آ رہا ہے اور یہ دونوں ہی باتیں غرور اور گھمنڈ میں داخل ہیں جس کا ذکر اوپر لفظ عزت سے ہوا ہے۔
قرآن سے عوام کو برگشتہ کرنے کے لئے قریش کے لیڈروں کا ایک اشغلا
وقال الکفرون ھذا ساحر کذاب یعنی اپنے اس عجب و استکبار کی بنا پر ان کافروں نے ہمارے پیغمبر کو ساحر اور کذاب قرار دیا۔ آنحضرت ﷺ کو ساحر اور قرآن کو سحر کہنے کی وجہ واضح کرچکے ہیں کہ قریش کے لئے قرآن کی معجزانہ فصاحت و بلاغت سے تو انکاری کی کوئی گنجائش نہیں تھی لیکن وہ اپنے عوام پر یہ اثر نہیں پڑنے دیتا چاہتے تھے کہ وہ اس فصاحت و بلاغت سے مسحور ہو کہ اس کو کلام الٰہی مان لیں۔ اس چیز سے لوگوں کو بچانے کے لئے وہ قرآن کو سحر اور آنحضرت ﷺ کو ساحر کہتے اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ اس شخص کے کلام میں جو تاثیر و تسخیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس پر آسمان سے وحی آتی ہے بلکہ یہ کلام کا جادو گر ہے اس وجہ سے اس کی باتیں دلوں پر اثر کرتی ہیں۔ قرآن کو شعر اور آنحضرت ﷺ کو شاعر کہنے کی وجہ بھی یہی تھی۔
کذاب کے معنی ہیں جھوٹا، لپاٹیا او لاف زن یہ لفظ وہ آنحضرت ﷺ کے دعوائے نبوت کی تردید کے جوش میں کہتے یعنی ہے تو یہ شخص کلام کا جادوگر لیکن عوام پر اپنی دھونس جمانے کے لئے دعویٰ یہ کرتا ہے کہ وہ جو کچھ لوگوں کو سنا رہا ہے وہ خدا کی طرف سے اس پر وحی ہوتا ہے اور وہ خدا کا منذر ہو کر آیا ہے۔ چونکہ ان کو اصل چڑ آنحضرت ﷺ کے دعوائے نبوت ہی سے تھی اس وجہ سے اس کی تردید میں وہ نہایت سخت تھے جس کا اظہار اس لفظ سے بھی ہو رہا ہے۔
اس آیت کا اسلوب بیان شاہد ہے کہ اس میں ان محروم القسمت لوگوں کے حال پر اظہار حسرت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان کی تنبیہ و تذکیر کے لئے ان کے اندر ایک منذر بھیجا، ان کے لئے ایک یاد دہانی کرنے والی کتاب نازل فرمائی لین وہ غرور کے سبب سے اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ انہی جیسا ایک بشر ان کے پاس انذار کے ئے ائے اس رعونت میں ان کافروں نے اللہ کے رسول کو ساحر اور کذاب بنا ڈالا۔
Ayah 38:5اجعل الا لھۃ الھا واجب ان ھذا بشیء عجاب (5)
قریش کا زہریلا پروپیگنڈا
آنحضرت ﷺ کے دعوائے نبوت کے ساتھ دوسری چیز جس سے قریش کے لیڈروں کو سب سے زیادہ چڑ تھی وہ آپ کی دعوت توحید تھی۔ اس کی آڑے کر وہ اپنے عوام کو آپ کے خلاف خوب بھڑکاتے چونکہ قبیلہ قبیلہ کے بت جدا جدا تھے اور ہر قبیلہ اپنے بت کے ساتھ اندھی بہری عقیدت رکھتا تھا اس وجہ سے وہ قبائل کی عصبیت بھڑکانے کے لئے یہ زہریلا پروپیگنڈا کرتے کہ اس شخص نے تمام معبودوں کو ختم کر کے ایک معبود بنا ڈالا، اس سے زیادہ عجیب بات اور کیا ہو سکتی ہے ! اس فقرے کے اندر غور کیجیے تو دو زہر چھپے ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس شخص نے اس معبود کے سوا جس کو یہ خود معبود مانتا ہے دوسرے تمام معبودوں کی خدائی ختم کردی۔ دوسرا یہ کہ یہ اس نے ایسی حرکت کی ہے جو ایک نہایت انوکھی حرکت ہے جس کی کوئی مثال ہم اپنے آباء و اجداد کی تاریخ میں نہیں پاتے۔ لفظ عجاب کے اندر عجیب کے مقابل میں مبالغہ کا مفہم پایا جاتا ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ پروپیگناڈا پوری قوم عرب کو آنحضرت ﷺ کے خلاف مشتعل کردینے کے لئے کافی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے اپنے پیغمبر کو محفوظ رکھا۔
Ayah 38:6وانطلق السلا منھم ان امنوا وا صبروا علی الھتکم ان ھذا لشی ویراد (6)
لیڈروں کے طرز عمل کی تصویر
یہ تصویر ہے اس رویے کی جو آنحضرت ﷺ کی دعوت توحید سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کے لئے قریش کے لیڈر اختیار کرتے۔ اگر وہ کبھی دیکھتے کہ لوگ آنحضرت ﷺ کی دعوت توحید سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کے لئے قریش کے لیڈر اختیار کرتے۔ اگر وہ کبھی دیکھتے کہ لوگ آنحضرت ﷺ کی بات سے متاثر ہو رہے ہیں تو یہ واں سے چل کھڑے ہوتے اور دوسروں کو بھی اکساتے کہ یاں سے چلو، اس شخص کی باتیں نہ سنو بلکہ اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔
ان ھذا الشیء یراد یعنی کرنے کا اصلی کام یہ ہے یہ شخص جو عظ تمہیں سنا رہا ہے یہ تمہارے دین آبائی سے تم کو پھیرنے کی کوشش ہے۔ اس کے برعکس کرنے کا کام، جو ہم میں سے ہر شخص کا مطلوب ہونا چاہئے یہ ہے کہ ہم اس کی تمام کوششوں کے علی الرغم اپنے معبودوں کی عبادت پر آخر تک جمے ہیں۔
Ayahs 38:7–8ماسمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ ان ھذا الا احتلق (7)
عرب کی تاریخ سے متعلق قرآن اور قریش کے نقطہ نظر کا اختلاف
یہ قریش کی طرف سے اس تاریخ کی تردید ہے جو آنحضرت ﷺ ملت عرب کی بیان فرماتے۔ آپ نے حضرت نوح ؑ سے لے کر سیدنا حضرت ابراہیم ؑ اور بعد کے انبیاء کی تاریخ سے یہ واضح فرما دیا تھا کہ ان تمام انبیاء نے توحید خالص کی تعلیم دی، خاص کر حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیم دعوت اور حضرت اسماعیل اور بیت اللہ کی جو تاریخ قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے اس کا مقصد عربوں پر اسی حقیقت کو اضح کرنا تھا کہ ان کی ملت کی اصل تاریخ حضرت ابراہیم ابراہیم ؑ و حضرت اسماعیل سے شروع ہوتی ہے اور ان بزرگ نبیوں نے اپنی اولاد کو اس سر زمین میں اسلام کی خدمت اور توحید خالص کی دعوت کے لئے بسایا تھا اور اسی مقصد کے لئے اس گھر کی تعمیر فرمائی تھی جس کے آج قریش متولی بنے ہوئے ہیں اور جس کے کونے کونے میں انہوں نے بتوں کو لا بسایا ہے۔ یہ تاریخ قریش کے تمام مزعومات پر ایک ضرب کاری تھی لیکن یہ اس قدر واضح اور دل نشین تھی جو لوگوں کو اپیل کرسکے لیکن وہ اپنے گھمنڈ اور اپنی مکابرت کے سبب سے اس کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے اس وجہ سے کہتے کہ یہ توحید کی بات ہم نے اپنی ملت کے دور آخر میں تو سنی نہیں اس وجہ سے یہ ساری داساتن جو توحید کے حق میں ہم کو سنائی جاتی ہے بالکل من گھڑت ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر ملت عرب کی تاریخ یہ ہوتی جو قرآن میں بیان کی جا رہی ہے اور جس کو محمد ﷺ اس تحدی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں تو آخر اس کی کچھ صدائے بازگشت اس ملت کے دور آخر میں بھی تو ہونی چاہئے تھی ! لیکن ہم نے اپنے آبائو و اجداد سے تو اس طرح کی کوئی بات نہیں سنی۔ ہم نے یہی دین ان سے پایا۔ اسی پر چل رہے ہیں اور اسی پر چلتے رہیں گے۔
بعض لوگوں نے ملت آخرہ سے ملت عیسوی کو مراد لیا ہے لیکن اس کا کوئی قرینہ یہاں نہیں ہے۔ ملت عیسوی کا حالہ تو اس شکل میں ان کے لئے معتبر و مئوثر ہوتا جب وہ اور ان کے عوام اس کے معتقد ہوتے یا آنحضرت ﷺ نے توحید کی دعوت ملت عیسوی کی بنیاد پر دی ہوتی۔
آیت
قریش کے پندار سیات پر ضرب
یعنی وہ اپنی ریاست و امارت کے غرور میں کہت یہیں کہ اگر خدا کو کوئی کتاب کسی بشر پر اتارنی ہی پڑتی تو کیا اس کے لئے ہمارے اندر سے اس کو یہی (محمد ﷺ ملے ! اللہ تعالیٰ اگر یہ کام کرنا چاہتا تو اس کے لئے وہ مکہ یا طائف کے زئیسوں میں سے کسی کا انتخاب کرتا نہ کہ ان کے جیسے ایک مفلس و انادار آدمی کا اس نے تمام سرفرازیاں تو ہم کو بخشیں تو اس عزت کے ئے وہ ان کا انتخاب کیوں کرتا ؟ یہ ان کے اس پندار کا بیان ہے جس کا ذکر آیت 2 میں فی عزۃ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ ان کے اس پندار پر ضرب لگانے کے لئے فرمایا کہ بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب، کہ ان کی یہ تمام مشیخت مآبیاں اس وجہ سے ہیں کہ ان کو اس قرآن کے ذریعے جس عذاب کی یاد دہانی کی جا رہی اس کی طرف سے ابھی وہ شک میں ہیں، یہ اس کو محض ہوائی بات سمجھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک وہ ان کے سامنے آیا نہیں اور یہ لوگ مجرو باتوں سے قائل ہونے والے آسامی نہیں ہیں بلکہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ماننے والے لوگ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی تو ان کو دلیلوں سے سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اگر یہ دلیلوں سے نہ سمجھے تو بالاخر عذاب کا تازیانہ بھی ان کے لئے نمودار ہوجائے گا۔
Ayah 38:9امرعندعم خزن رحمۃ ربک العزیز الوھاب (9)
رعونت کا جواب
یہ ان کی اس رعونت کا جواب ہے جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہے کہ یہ اپنے سوا خدا کے کسی فضل و رحمت کا حقدار کسی کو نہیں سمجھتے، گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام خزانوں کی کنجیاں انہی کو پکڑا دی ہیں کہ یہ جس کو چاہیں دیں اور جس جو چاہیں محروم رکھیں۔ چناچہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ ان کے دائرہ سے باہر اللہ تعالیٰ کسی کو نبوت و رسالت اور قرآن و کتاب کا حامل کس طرح بنا سکتا ہے ! انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ عزیز اور وہاب یعنی اپنے تمام خزانوں کا بلا شرکت غیرے مالک و مصرف اور بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ وہ اپنے ان بندوں کو بھی بڑی فیاضی سے بخشتا ہے جو ان کی نظروں میں اگرچہ کسی چیز کے اہل نہیں ہیں لیکن خدا کی نظروں میں ان کا بڑا متربہ ہے چناچہ اس نے اگر ان کو اس زمین کے کچھ خوفریزے دیئے ہیں لیکن خدا کی نظروں میں ان کا بڑا مرتبہ ہے چناچہ اس نے اگر ان کو اس زمین کے کچھ خزف ریزیے دیئے ہیں جن پر یہ اترا رہے ہیں تو اس نے جس کو چاہا ہے نبوت و رسالت اور علم و حکمت کی بادشاہی بخش دی ہے جس سے بڑے منصب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سورة طہ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے امر عندھم خزائٓن ربک ام ھم المصسیطرون (37) (کیا تیرے رب کے خزانے اس کے پاس ہیں یا یہ داروغے مقرر کردیئے گئے ہیں۔ (1)
Ayah 38:10ام لھم ملک السموت والارض وما بینھما فلیرتقوا فی الاسباب (10)
یہ اسی اوپر والی بات کی مزید تفصیل ہے۔ یعنی اگر ان کا زعم یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ان کے اتھ میں ہے تو آسمانوں پر چڑھ جائیں اور اس رحمت کو روک دیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر نازل فرما رہا ہے۔
اسباب سے مراد اسباب السموات ہے۔ یہ لفظ کسی چیز کے اطراف اور متعلقات کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی یہ۔
Ayah 38:11ندما ھنالک مھزوم من الاحزاب (11)
عذاب الٰہی کا مقابلہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت ھی نہیں کر سکتی
ھنالک کا اشارہ اسی عذاب کی طرف ہے جس کا ذکر آیت 8 میں لمایذوقوا عذاب کے الفاظ سے گزرا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس قرآن کی تصدیق کے لئے عذاب الٰہی کے ظہور کے منتظر ہیں تو یاد رکھیں کہ جب وہ عذاب آجائے گا تو کوئی بڑے سے بڑا لشکر بھی خاہ کسی بھی قوم کا ہو، اس کے مقابل میں نہیں ٹک سکے گا۔ بلکہ وہ لازماً شکست کھائے گا۔ جند کی تنکیر یہاں تفخیم شان کے لئے اور ما اس تنکیر کی تاکید کے لئے ہے۔ یعنی کوئی شکر بھی ہو اور وہ کتنی ہی قوت وصولت رکھتا ہو، عذاب الٰہی کے مقابل میں وہ نہیں ٹک سکتا۔
Ayahs 38:12–13آیت
ذوالاوتادا
ذوالاوتاد کا لفظی ترجمہ ہوگا میخوں والا لیکن عربی میں میخوں سے خیموں کو تعبیر کرتے ہیں اور پھر خیموں سے بطریق کنایہ فوجیں مراد لیتے ہیں۔ یہ اسی طرح کا کنایہ ہے جس طرح قدور راسیات سے کسی شخص کی فیاضی کو تعبیر کرتے ہیں، چناچہ قرآن میں حضرت سلیمان ؑ کی فیاضی کی تعبیر کے لئے یہ کنایہ آیا ہے۔ یہاں ذوالاوتاد سے فرعون کی کثیر فوجوں کی طرف اشارہ ہے جو خیموں میں رہتی ھتیں۔ فرعون کی فوجوں کی کثرت کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے اور یہ تمام فوجیں اس کے ساتھ عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر سمندر میں غرق ہوئیں۔
اصحب المئیکۃ سے مراد اصحاب مدین ہیں۔ ایکۃ کے معنی جنگل کے ہیں۔ معلم ہوتا ہے مدین کے پاس کوئی جنگل بھی تھا اس وجہ سے یہ لوگ اس نام سے بھی معروف تھے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔
اوپر آیت 8 میں یہ بات جو فرمائی ہے کہ جب عذاب الٰہی آجائے گا تو کسی جماعت یا قوم کی قوت و حمیت کتنی ہی ہ، وہ اس کے مقابل میں نہیں ٹک سکے گی، یہ اسی بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ ان تمام قوموں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور جب اس کی پاداش میں ان پر اللہ کا ع ذاب آیا تو ان میں سے کوئی بھی اس کے مقابل میں نہ ٹک سکی۔
اولئک الاحزاب میں خبر حذف کردی گئی ہے۔ اس لئے کہ موقع پو محل سے یہ خود واضح ہے اور بعد کا ٹکڑا اس کو مزید واضح کر رہا ہے۔ یعنی دیکھ لو یہ بڑی نامی گرامی قومیں تھیں لیکن ان کو حشر کیا ہوا ! جب اللہ کا عذاب آیا تو یہ سب خس و خاشاک کی طرح اڑ گئیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے اگر تم نے بھی انہی کی روش اختیار کی۔
Ayahs 38:14–15ان کل الاکذب الرسل فحق عقاب یعنی ان میں سے ہر ایک کا اصلی جرم یہی تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور اسی جرم کے مرتکب تم بھی ہو رہے ہیں۔ فحق عذاب اصل میں حق عقابی کے قافیہ کی رعایت سے یہ گر گئی ہے جس طرح لمایذوقوا عذاب میں گر گئی ہے۔
آیت
فسواق کے عمنی وقفہ اور مہلت کے ہیں۔
قط حصہ اور نصیب کے معنی میں آتا ہے۔
مطالبہ عذاب اور اس کا جواب
اشارہ قریش کی طرف ہے کہ یہ لوگ بڑے طنطنہ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لئے انہوں نے کوئی ناقابل تسخیر دفاعی لائن تعمیر کرلی ہے حالانکہ ان کو پامال کردینے کے لئے خدا کی ایک ہی ڈانٹ کافی ہوگی، دوسری کی نوبت بھی نہیں آنے پائے گی اور اس کو پکڑ ایسی ہوگی کہ پھر ایک لمحہ کے لئے بھی ان کو فرصت نصیب نہیں ہوگی۔
Ayah 38:16وقالوا ربنا … الایۃ یہ مطالبہ عذاب کے معاملے میں ان کی رعونت کا بیان ہے کہ یہ پیغمبر ﷺ کی تکذیب کے جوش میں یہاں تک کہہ گزرے کہ اے رب ! اگر یہ شخص اپنے اس دعوے میں سچا ہے کہ ہم نے اس کی تکذیب کی تو ہم پر کوئی عذاب آجائے گا تو وہ عذاب قیامت سے پہلے ہی ہم پر آجائے تاکہ اس کی سچائی ثابت ہوجائے۔ اگر یہ سچا ہے اور (نعوذ باللہ) اس کا جھوٹ ثابت ہوجائے اگر یہ جھوٹا ہے جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ قریش کے اس مطالبہ کا ذکر سورة انفال میں بھی بدیں الفاظ گزر چکا ہے۔
وذ قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوئتنا بعذاب الیم (32)
اور جب کہ انہوں نے کہا، اے اللہ، اگر یہی حق ہو تیرے پاس سے تو ہم پر پتھر برسا دے آسمان سے یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر نازل کر۔
روایات میں ابوجہل سے متعلق بھی یہ بات منقول ہے کہ بدر کے موقع پر اس نے یہ دعا کی تھی کہ اے خدا جو ہمارے اندر سے اس قطع رحم کا باعث ہوا ہے کہ قریش کی تلوار خود قرش ہی کے مقابل میں بےنیام ہے، اس کو توکل کچل دیجیو !
Ayah 38:17-2 آگے کا مضمون آیات 29-17
آگے نبی ﷺ کو یہ ہدایت ہوئی کہ تم مخالفوں کی اس تمام مخالفت کے باوجود اپنے موقف حق پر ڈٹے رہو اور حضرت دائود ؑ کی سرگزشت سے خود بھی سبق حاصل کرو اور ان لوگوں کو بھی ان کے حالات منائو کہ اللہ نے ان کو جو دولت و حشمت دی اس کا عشر عشیر بھی قریش کو حاصل نہیں ہے لیکن وہ یہ سب کچھ پاکر ان کی طرح غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ جتنا ہی ان پر اللہ کا انعام بڑھتا گیا اتنی ہی ان کی شکر گزاری اور توجہ الی اللہ میں اضافہ ہوتا گیا۔ وہ لوگوں کے مقدمات بڑے صبر و حلم سے سنتے اور عدل کے مطابق ان کے فیصلے کتے اور اگر ان مقدمات کے اثناء میں کوئی بات ان کے سامنے ایسی آجاتی جو خود ان کے لئے سبق آموز ہوتی تو فوراً اپنے رب کے آگے توبہ و استغفار کے لئے سجدے میں گر پڑتے۔ اللہ نے ان کو عظیم حکومت دی وہ انہوں نے اللہ کے احکام کے مطابق چلائی۔ اسکتبار میں مبتلا ہو کر اپنی خواہشوں کی پیروی نہیں کی۔ وہ اس حقیقت سے واقف تھے کہ جو لوگ زمین میں اقتدار پا کر خدا کے اقتدار اور آخرت کے محاسبہ کو بھول جائیں گے وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچیں گے۔ اس لئے کہ یہ دنیا اس کے خالق نے بازیچہ اطفال نہیں بناتی ہے بلکہ اس کے بعد ایک ایسا دن لازماً آنا ہے جس میں وہ ان لوگوں کو صلہ دے جو اس زمین میں اس کی خلافت کا حق ادا کریں اور وہ لوگ کیفر کردار کو پہنچیں جو استکبار میں مبتلا ہو کر اس میں دھاندلی مچائیں … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
اصبر علی مایقولون و اذکر عبدنا دائود ذالایہ انہ اواب (17)
حضرت دائود کی زندگی کا نمونہ پیغمبر کے لئے بھی اور قریش کے لئے بھی
حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہا السلام) کے نہایت مئوثر واقعات زندگی انبیاء نمل اور سبا میں بھی گزر چکے ہیں۔ یہاں کچھ نئے واقعات ان کی زندگی کے سنائے گئے ہیں جو نبی ﷺ کے لئے بھی موجب تسلی ہیں اور قریش کے لیڈروں کے لئے بھی نہایت سبق آموز ہیں، اگر وہ ان سے فائدہاٹھائیں۔ لفظ اذکر یہاں اپنے اور دو پہلے رکھتا ہے۔ ایک کا تعلق آنحضرت ﷺ سے ہے کہ اپنے مخالفوں کی ان دل آزار باتوں پر صبر اور ہمارے بندے دائود کے حالات زندگی سے تسلی حاصل کرو کہ وہ طاقت و قوت رکھنے کے باوجود کس حلم و تحمل کے ساتھ لوگوں کے ناگوار رویے کو برداشت کرتے، نہایت عدل و مہربانی کے ساتھ ان کے معاملات کے فیصلے فرماتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنی زندگی کے لئے سبق حاصل کرتے۔
دوسرے کا تعلق قریش کے ان متمر دین سے ہے جن کا ذکر اوپر چلا آ رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہمارے صاحب قوت و جمعیت بندے دائود کے حالات زندگی سنائو کہ باوجود یکہ ان کو ان سے کہیں زیادہ دولت و حشمت حاصل تھی لیکن اس چیز نے ان کی طرح کسی غرور و استکبار میں ان کو مبتلا نہیں کیا بلکہ وہ اپنے رب کی طرف برابر متوجہ رہنے والے بندے تھے۔ ان کے واقعات زندگی شاہد ہیں کہ وہ دوسروں کے واقعات سے اپنی فروگزاشتوں پر متنبہ ہو کر اپنے رب کے آگے توبہ و استغفار کے لئے گر پڑتے۔
قوت، نعمت اس وقت ہے جب اس کے ساتھ ادابیت ہو
انہ اواب یعنی وہ اپنے رب کی طرف بڑے رجوع ہونے والے بندے تھے۔ یہاں اگٓے جو واقعات بیان ہوئے ہیں وہ حضرت دائود ؑ کے اسی وصف کو نمایاں کرنے والے ہیں۔ دوسری سورتوں شفاق کے الفاظ سے ہوا ہے۔
یہ امر یہاں محلوظ رکھیے کہ انسان فرشتہ نہیں ہے کہ اس سے کسی غلطی کا صدور ہی نہ ہو۔ انسان جب اختیار کی نعمت سے نوازا گیا ہے اور اس کے اس اختیار کی آزمائش بھی ہو رہی ہے تو ہر قدم پر اس سے غلطی کا امکان ہے لیکن یہ غلطی کا امکان اللہ تعالیٰ اور اس کے اس اختیار کی آزمائش بھی ہو رہی ہے تو ہر قدم پر اس سے غلطی کا امکان ہے لیکن یہ غلطی کا امکان اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہلاکت کے لئے نہیں رکھا ہے بلکہ یہ بھی اس کے لئے سب سے بڑی سعادت کے حصول کا ذریعہ ہے اگر وہ اپنی غلطی کے بعد اپنے رب کی طرف رجوع ہونا اور توبہ و استغفار کرنا سکیھ جائے۔ انسان کی شامت اس وقت آتی ہے جب وہ جرم پر جرم کئے چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے جرائم اس طرح اس پر مسلط ہوجاتے ہیں کہ خود متنبہ ہونا تو الگ رہا اگر کوئی اللہ کا بندہ اس کو متنبہ کرتا ہے تو وہ کبر و غرور کے سبب سے اس کے بھی در پے آزاد ہوجاتا ہے۔ قرآن نے یہاں ذوالاید، اور اداب دونوں صنعتوں کو ایک ساتھ ذکر کر کے یہ دکھایا ہے کہ کوئی صاحب قوت و حکومت شخص اللہ تعالیٰ کا منظور نظر بندہ اس وقت بنتا ہے جب قوت و شوکت کے ساتھ اس کے اندر اوابیت کی صفت پائی جائے۔ اگر قوت وصولت اس کے اندر عزت و شقاق کی رعونت پیدا کر دے تو یہ نمردویت اور فرعونیت ہے جو اللہ کے نزدیک معلون و مبغوض ہے۔
Ayahs 38:18–19آیت)
حضرت دائود کی ادابیت
یہ حضرت دائود ؑ کی ادابیت کی وضاحت ہے کہ وہ شام و صبح دامن کوہ میں بیٹھ کر اپنے رب کی تسبیح کرتے اور جب وہ اپنے خاص لحن میں زبور کے منظوم نغمے چھیڑتے تو پہاڑ بھی ان کی ہمنوائی کرتے اور پرندے بھی جھنڈ کے جھنڈ جمع ہو کر انکے سر میں اپنے سر ملاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی پر سوز لحن اور ان کے درد مند دل میں ایسی تاثیر و تسخیر رکھی تھی کہ ان کے اردگرد کی پوری فضا ان کے صدائے بازگشت سے گونج اٹھتی اور دشت و جبل، چرند و پرند سب توبہ و مناجات کے لئے ان کے شریک بزم بن جاتے … اس حقیقت کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن ہم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے لیکن ہمارے نہ سمجھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی بھی ان کو نہیں سمجھتا حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح پہاڑوں کو موم کردینے والا اور پرندوں کو جذب کر لنیے والا سزو و لحن بخشا تھا اسی طرح ان کو وہ گوش شنوا بھی عطا فرمایا تھا کہ وہ ان کی تسبیح و مناجات کو سمجھ سکیں پچھلی سورتوں میں ان باتوں کی وضاحت ہوچکی ہے اس وجہ سے یہاں ہم اشارہ پر کفایت کرتے ہیں۔
Ayah 38:20وشددنا مکلہ وا تینہ الحکمۃ و فصل الخطاب (20)
حضرت دائود کی قوت و صولت
یہ حضرت دائود ؑ کی قوت و صولت کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر ذوالاید کے لفظ سے ہوا ہے شدونا ملکہ یعنی ہم نے اس کی حکومت اچھی طرح مستحکم کی تھی اور اس کو مستحکم رکھنے کے لئے اس کو حکمت اور فصل خطاب کی صلاحت سے نوازا تھا۔ حکمت کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی فصل خطاب سے مراد فیصلہ نزاعات کی صلاحیت ہے۔ لفظ خطاب آگے آیت 23 میں بحث و نزاع کے مفہوم میں آیا بھی ہے۔ حکومت کے استحکام کے لئے دل سے فیصلہ معاملات کی صلاحیت سے بھرپور ہوں۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو حکومت کی بنیاد ریت پر ہے اگرچہ اس کے پاس دوسرے اسباب و وسائل کی کتنی ہی وافر مقدار موجود ہو۔ یہ حکمت اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعق سے حاصل اور اپنے ساتھ اپنی پوری قوم کی تباہی کے اسباب فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں حکومت کی طاقت کا ہونا ویسا ہی ہے جیسے نادان کے ہاتھ میں تلوار ہو۔
Ayah 38:21ومل اتک نبوا الخصم مراذ ت سورة المحراب (21)
حضرات دائود کے فصل خطاب کی ایک مثال
یہ ان کی حکمت و دانش، ان کے عدل یا قرآن کے الفاظ میں ان کے فصل خطاب کی ایک مثال بیان ہو رہی ہے جس سے چند باتیں نہایت واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔
ایک یہ کہ عدل کے معاملے میں ان کے نزدیک امیر اور غریب دونوں یکساں تھے۔ ان کی حکومت میں کوئی غریب سے غریب شخص بھی اپنا حق کسی بڑے سے بڑے آدمی سے نہایت آسانی سے وصول کر لیا تھا۔
دوسری یہ کہ ان کی رعایا کو ان پر پورا اطمینان تھا۔ لوگ اپنے معاملات کے فیصلہ کے لئے بےجھجک ان کے پاس پہنچ جاتے یہاں تک کہ اگر کسی سبب سے پہرے دار مانع ہوتے تو بعض اوقات لوگ دیوار پھاند کر ان کے پاس جا پہنچتے۔ اپنے معاملات نہایت جرأت کے ساتھ پیش کرتے اور وہ نہایت تحمل کے ساتھ ان کے قضیوں کا فیصلہ کرتے اور اس بات سے مطلق کبیدہ خاطر نہ ہوتے کہ لوگوں نے ان کے آرام میں خلل ڈالا، یا ان کو خطاب کرنے میں ان کے ادب کو ملحوظ نہیں رکھا، یا ان کے حاجیوں اور پہرہ داروں کو کئی پروا نہیں کی۔
تیسری یہ کہ وہ جن قانون عدل کی روشنی میں دوسروں کے معاملات کے فیصلے کرتے اسی کی روشنی میں خد اپنے معاملات کا بھی برابر جائزہ لیتے رہتے۔ اگر کسی گوشے میں کوئی خفیف سے خفیف انحراف بھی ان کو محسوس ہوتا تو وہ فوراً اپنے رب سے استغفار اور اس غلطی کی اصلاں کرتے … یہ اصولی باتیں سامنے رکھتے ہوئے اب اصل واقعہ کے اجزاء پر غور کیجیے۔
ھل اتک کے اسلوب خطاب سے واقعہ کی اہمیت کا بھی اظہار ہو رہا ہے اور اس میں مخاطب کے لئے فی الجملہ تشویق و ترغیب بھی ہے۔ مخاطب ضروری نہیں کہ آنحضرت ﷺ ہی ہوں بلکہ واحد کا خطاب، جیسا کہ وضاحت ہوچکی ہے جمع کے لئے بھی آتا ہے۔
لفظ خصم کسی مقدمہ کے فریقوں کے لئے آتا ہے۔ یہ واحد دونوں کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے۔
اذ تسوروا المحراب تسورا کے معنی دیوار پر چڑھنے کے ہیں۔ یہاں عربیت کے قاعدے کے مطابق یہ لفظ دخلوا کے مفہوم پر متصمن ہے۔ یعنی تسوروا الجددود خلوا المحراب محراب سے حضرت دائودعلیہ السلام کے محل کا کوئی کمرہ بھی مراد ہوسکتا ہے اور خود محل بھی عربی میں بسا اوقات جزو بولتے اور اس سے کل مراد لیتے ہیں۔
واقعہ کی نوعیت
واقعہ کی نوعیت یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک جھگڑے کے دونوں فریقوں نے، اپنے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کسی ایسے وقت میں حضرت دائود ؑ کی خدمت میں فیصلہ کے لئے حاضر ہونے کی کوشش کی جو ان کے فصل مقدمات کا نہیں بلکہ آرام یا عبارت کا وقت تھا۔ صدر دروازے پر پہرہ داروں نے ان کو ناوقت محل کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دی ہوگی لیکن وہ اس سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ پہرہ داروں کی نظر بچا کر کسی دوسری طرف سے چار دیواری پھاند کر محل میں جا گھسے۔ ایک عظیم حکمران کے محل میں اس طرح جا گھسنا اگرچہ ایک نہایت سنین اقدام تھا، جس کی سزا عام حالات میں نہایت سخت ہے، لیکن انہیں چونکہ حضرت دائود ؑ کے حلم پر پورا بھروسہ تھا اس وجہ سے وہ یہ جسارت کر گزرے۔
Ayah 38:22آیت
ان کے اس طرزح داخل ہونے سے حضرت دائود ؑ پر گھبراہٹ طاری ہونا ایک امر فطری تھا۔ چناچہ وہ گھبرائے کہ شاید ڈاکو یا ان کے دشمن، پہرہ داروں کی نظریں بچا کر، محل کے اندر گھس آئے ہیں لیکن داخل ہونے الوں نے ان کو اطمینان دلایا کہ ہم دشمن نہیں ہیں اس وجہ سے آپ کوئی اندیشہ نہ کریں بلکہ ہم ایک مقدمہ کے دونوں فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر تعدی کی ہے تو آپ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیجیے اور فیصلہ میں کوئی طرفداری اور ناانصافی نہ کیجیے بلکہ ہماری رہنمائی عدل کی صراط مستقیم کی طرف کیجیے۔
اگرچہ ان لوگوں کی مداخلت بالکل ناوقف تھی اور اس کے لئے انہوں نے جو طریقہ اختیار کیا وہ بھی نہایت بھونڈا اختیار کیا، گفتگو کا انداز بھی جیسا کہ لاتشطط کے لفظ سے ظاہر ہے، نہایت ناشائستہ تھا لیکن وہ اپنے حکمران کے مزاج سے اچھی طرح آشنا تھے۔ وہ جانتے تھے کہ خواہ کنتے ہی غلط طریقہ سے اور کتنے ہی ناوقت ہم حضرت دائود ؑ کے پاس پہنچیں، لیکن ہم پہنچ گئے اور ان کے علم میں یہ بات آگئی کہ ہم طلب انصاف کے لیء آئے ہیں تو وہ ہماری جسارتوں سے درگزر کرتے ہوئے اسی وقت ہمارے جھگڑے کا فیصلہ کردیں گے۔ چناچہ ان کی یہ توقع سوفیصد پوری ہوئی۔ حضرت دائود ؑ کو جب اطمینان ہوگیا کہ یہ لوگ مقدمہ لے کے آئے ہیں تو وہ اسی وقت اس کے فیصلہ کی طرف متوجہ ہوگئے اور ان کی ان جسارتوں کا انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے۔
حضرت دائود ؑ اور حضرت عمر ؓ
حضرت عمر کے حالات زندگی پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ ٹھیک یہی حال ان کا بھی تھا۔ ان کا دروازہ حاجتمندوں کے لئے کسی وقت بھی بند نہیں تھا۔ راستہ چلتے ہوئے معمولی معمولی لوگ ان کا ہاتھ پکڑ لیتے، نہایت بیباکی بلکہ بعض اوقات گستاخی کے ساتھ ان کے سامنے اپنی ضرورتیں پیش کرتے، وہ ان کی باتیں نہایت حلم اور توجہ کے ساتھ سنتے اور بلاتاخیر ان کی حاجت برآری کرتے۔
Ayah 38:23(آیت)
اصل قضیہ کی تفصیل
یہ اصل جھگڑے کی تفصیل ہے جو مظلوم فریق نے پیش کی۔ اس نے دوسرے فریق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میرا بھائی ہے جس کے پاس ننانوے و نبی اں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ میں اپنی دنبی بھی اس کے حوالے کر دوں۔ اس کے لئے یہ مجھ سے جھگڑتا ہے اور جھگڑے میں یہ مجھ پر غالب آگیا ہے۔
یہاں یہ امر محلوظ رہے کہ اس زمانے میں اسی علاقہ کی اصلی دولت بھیڑوں اور دنبیوں ہی سے عباتر تھی۔ حضرت دائود ؑ کی زندگی بھی بادشاہی سے پہلے بھیڑ سالے اور بھیڑوں کے چرانے ہی میں گزری ہے۔ تاریخوں سے یہاں تک پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے سکہ پر تصور بھی دنبی کی تھی اور اس کو نعجمہ کہتے بھی تھے۔ یہ بات اگر صحیح نہ بھی ہو جب بھی ملکیت اور ماں کی تعبیر کے لئے یہ لفظ اس زمانے میں معروف رہا ہے۔
عزنی فی الخطاب میں لفظ خطاب بحث وجدال کے مفہوم میں ہے۔ چونکہ وہ دولتمند آدمی تھا اور دولت مند کو حامی بڑی آسانی سے مل جاتے ہیں اس وجہ سے اس نے دوسروں کو ہم خیال بنا کر غریب آدمی کو دبا لیا ہوگا۔
Ayah 38:24(آیت)
لفظ سوال یہاں مطالبہ کے مفہوم میں ہے۔ اس مفہم کے لئے اس کا استعمال معروف ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہ چکی ہے۔ اس کے بعد الی کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ لفظ یہاں ضم یا خلط کے مفہوم و متضمن ہے۔
حضرت دائود ؑ کا فیصلہ
حضرت دائود ؑ نے مقدمہ کی رو داد سنتے ہی اندازہ فرما لیا کہ زیادتی دولتمند کی ہے اور پھر بےرو رعایت یہ فیصلہ سنا دیا کہ اس شخص نے تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملا لینے کا مطالبہ کر کے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے اور ساتھ ہی یہ ریمارک بھی دے دیا کہ اکثر شرکائے معاملہ اپنے ننانوے کو سو بنانے کی فکر میں اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ زیادتیاں کرتے رہتے ہیں۔ صرف وہی لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو ایمان اور عمل صالح کی روش پر گامزن ہیں اور اس طرح کے لوگ بہت ہی تھوڑے ہیں۔ قلیل کے ساتھ ما کے اضافہ نے اس کے اندر مبالغہ کا مفہم پیدا کردیا یہ۔
حضرت دائود ؑ کا تنبہ
وظن دائود نما فتنہ فاستغفرربہ و خررائت واناب اب یہ حضرت دائود ؑ کی خاص صفت ادابیت اور انابت کی طرف توجہ دلائی کہ وہ ایک بادشاہ ہونے کے باوجود دنیا داروں کی طرح کسی گھمنڈ اور استکبار میں مبتلا نہیں تھے بلکہ اپنے رب سے ڈرنے والے بندے تھے اس وجہ سے اس واقعہ کی روشنی میں انہوں نے خود اپنے حالات کا فوراً جائزہ لیا اور اپنی ایک کمزوری پر شرمسار ہو کر اپنے رب کے آگے استغفار و توبہ کے لئے سجدے میں گر پڑے۔
یہ کمزوری کیا تھی ؟ قرآن نے اس کی کوئی تصریح نہیں کی ہے۔ یہ معاملہ حضرت دائود ؑ اور ان کے رب کے درمیان کا ایک راز ہے اس وجہ سے کسی کو اس کی کھوج کرید کا حق بھی نہیں ہے۔ انما فتنہ کے الفاظ سے صرف یہ اشارہ نکلتا ہے کہ مقدمہ کا فیصلہ کرن کے ساتھ ہی حضرت دائود ؑ چوکتے ہوئے کہ اس سے ملتے جلتے ہوئے امتحان میں وہ خود بھی مبتلا ہیں۔ اگر کوئی شخص اس امتحان کو کسی واقعہ کی شکل دینے پر مصر ہی ہو تو حضرت دائود ؑ کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے وہ چاہے تو یہ فرض کرسکتا ہے کہ جس طرح بادشاہوں کو کسی شخص یا اجتماعی ضرورت سے دوسروں کی کسی ملکیت سے تعرض کرنے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے اسی طرح کی کوئی ضرورت حضرت دائود کو بھی پیش آئی عام بادشاہ تو اس طرح کے معاملات میں کس کی کوئی پروا نہیں کرتے۔ وہ اپنے قصر و ایوان کی سڑک سیدھی رکھنے کے لئے بےدریغ غریبوں کے جھونپڑوں پر بل ڈوز پھروا دے سکتے ہیں لیکن حضرت دائود ؑ ایک خدا ترس بادشاہ تھے وہ اس طرح کا کوئی اقدام نہیں کرسکتے تھے اور اگر ان کے دل میں کسی کی ملکیت سے تعرض کرنے کی کوئی خواہش رہی ہوگی تو اس واقعہ سے متنبہ ہو کر اس سے بھی تائب ہوگئے اور ایک صحیح الفطرت انسان کی اصلی خوبی یہی ہے کہ وہ دوسروں کے واقعات سے خود اپنے لئے سبق حاصل کرے اور اگر اس کے اندر کوئی غلط خواہش پیدا ہوئی ہے تو اپنے رب سے معافی مانگے۔ قرآن کے الفاظ سے جو بات نکلتی ہے وہ تو زیادہ سے زیادہ اسی حد تک جاتی ہے سے وہ مزخوف قصے جو تفسیر کی بعض کتابوں میں نقل ہوئے ہیں تو ان کی نسبت ہماری دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو معاف کرے جو اپنی کتابوں میں ان کو نقل کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔
وخزراکعا و اناب میں رکوع اور سجدہ دونوں مراد ہیں۔ رکوع کا ذکر تصریح کے ساتھ موجود ہی ہے اور لفظ حز سجدہ پر دلیل ہے۔ اناب دل کے رجوع کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ رکوع اور سجدہ خدا کی طرف انابت کی طرف صرف ظاہری دلیل ہیں۔ ان کے اندر اصلی روح دل کی انابت سے پیدا ہوتی ہے۔
Ayah 38:25فغفرنا لہ ذلک ط وان لہ عند مالزلفی وحسن ماب (25)
توبہ آدمی کے مرتبہ کو اور بڑھا دیتی ہے
اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ؑ کے اس تنبہ او استغفار کے بعد ان کی غلطی معاف فرما دی اور چونکہ ہر سچی توبہ آدمی کے مرتبہ کو پہلے سے زیادہ بڑھا دیتی ہے اور ہر رجوع الی اللہ سے اس کو مزید قرب حاصل ہوتا ہے اس وجہ سے ان کے مراتب میں اللہ کے ہاں اضافہ ہوا۔
Ayah 38:26(آیت)
حضرت دائود ؑ کو ہدایت
مذکورہ بالا تنبیہ اور حضرت دائود ؑ کے توبہ و استغفار کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت واضح الفاظ میں یہ ہدایت فرمائی کہ اے دائود ؑ میں نے اپنی طرف سے کچھ اختیار و اقتدار دے کر تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے تو اس خلافت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس اختیار و اقتدار کو اپنے مختلف کی مرضی کے مطابق استعمال کرو اور لوگوں کے درمیان حق و عدل کے ساتھ فیصلہ کرو اور کبھی اپنی خواہشوں کے پیچھے نہ لگو ورنہ وہ تمہیں حق و عدل کی راہ سے ہٹا دیں گی۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھو کہ جو لوگ اللہ کے راستہ سے ہٹ جائیں گے وہ آخرت فراموشی کے جرم میں شدید عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
یہ ہدایت جو حضرت دائود ؑ کی فرمائی گئی یہی ہدایت دنیا کے تمام حکمرانوں بلکہ تمام انسانوں کے لئے ہے۔ جس کو بھی کوئی اختیار و اقتدار ملتا ہے وہ خدا ہی کے دیے ملتا ہے اور اس کی بابت ہر شخص قیامت کے دن جوابدہ ہوگا کہ اس نے اس کو خدا کی مرضی کے مطابق استعمال کیا یا اپنی خواہشوں کی پیروی کی۔ پھر جس نے بھی اس روز حساب کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہوگی وہ اس انجام سے دوچار ہوگا جو اوپر مذکور ہوا۔
Ayah 38:27وما خلقنا السمآء والارض وما بینھما باطلا ط ذلک ظن الذین کفروا، فویل للذین کفروا من النار (27)
روز حساب کی ضرورت
حضرت دائود ؑ کی سرگزشت ختم کرنے کے بعد یہ مخاطبوں کی طرفالتفات ہے۔ ان کے سامنے یہ حقیقت واضح فرمائی گی کہ یہ کیوں ضرویر ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں ہر شخص اپنے رب کے سامنے مسئول ہو کہ اس نے خدا کے بخشے ہوئے اختیار کو صحیح استعمال کیا یا غلط ؟ فرمایا کہ ہم نے اس دنیا کو باطل نہیں پیدا کیا ہے بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس حق کے ظہور کے لئے قیامت کے دن مقرر کیا ہے جس میں ہر شخص اپنی نیکی کا صلہ پائے گا اور جس نے بدی کی کمائی کی ہوگی وہ اس کی سزا بھگتے گا۔
ذلک ظن الذین کفروا، یعنی اس دنیا کو بازیچہ اطفال وہ سمجھتے ہیں جو آخرت کے منکر ہیں۔ ان کے نزدیک یہ دنیا ہی سب کچھ ہے اور اس دنیا میں چونکہ لازم نہیں کہ باطل پر سزا ملے یا نیکی پر انعام اس وجہ سے وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اس کے خالق کے نزدیک نیکی اور بدی میں سرے سے کوئی امتیاز ہی نہیں ہے۔ فویل للذین کفروا من النار، فرمایا کہ جو لوگ آخرت کے منکر اور جزا و سزا سے بےپروا ہیں اور دوزخ کی ہلاکی سے دوچار ہوں گے۔
Ayah 38:28ام نجعل الذین امنوا و عملوا الصلحت کا لمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کا لفجار (28)
یہ سوال بانداز تعجب ہے کہ جو لوگ آخرت اور جزا و سزا کو نہیں مانتے ہیں کیا ان کا گمان یہ ہے کہ ہم ایمان و عمل صالح کی روش اختیار کرنے والوں اور زمین میں فساد برپا کرنے الوں کو برابر کردیں گے یا خدا سے ڈرنے والوں اور نافرمانوں کے ساتھ ہمارا معاملہ یکساں ہوگا ؟ یعنی آخرت کو نہ ماننے کا بدیہی نتیجہ یہی سامنے آتا ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کا ایک حکیم و رحیم اور قادر و عزیز خدا کے متعلق تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہی حقیقت سیدنا مسیح ؑ نے تاکستان والی تمثیلوں میں مختلف اسلوبوں سے سمجھائی ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک آقا اپنے تاکستان کی نگرانی پر اپنے غلاموں کو مقرر کرے جن میں سے بعض تو اس کے تاکستان کے اندر دھاندلی مچائیں اور کچھ ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض بجا لائیں اور آقا دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے ؟ اگر کوئی آقا ایسا کرے تو ماننا پڑے گا کہ وہ یا تو بالکل بےبس اور بیخبر ہے یا نہایت ہی احمق اور ناانصاف … اور یہ دونوں ہی باتیں ایسی ہیں جن سے اللہ جل شانہ بالکل پاک ہے۔
Ayah 38:29کتب انزلنہ الیک صبرک لیدبروآ ایتہ ولیتذکراولوالالباب (29)
قرآن کا مقصد
یہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ انہی حقائق کی یاد دہانی کے لیء ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب اتاری ہے اور یہ ایک مبارک کتاب ہے جو دلوں کے لئے زندگی بخش ہے اور اس کے اتارنے کا مقصد یہ ہے کہ جن کے اندر عقل ہے وہ اس کی آیات پر غور کریں اور ان سے یاد دہانی حاصل کریں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے جو اس نے لوگوں پر فرمایا ہے بشرطیکہ و گھمنڈ اور مخاصمت کی روش ترک کر کے اس نعمت کی قدر کریں۔ یہ اسی مضمون کا دوسرے الفاظ میں اعادہ ہے جو پہلی آیت میں گزر چکا ہے۔
Ayah 38:304۔ آگے کا مضمون آیات 30-40
آگے حضرت دائود ؑ کے نامور فرزند حضرت سلیمان کے بعض واقعات زندگی کا حوالہ دے کر واضح فرمایا ہے کہ وہ بھی ٹھیک ٹھیک اپنے باپ ہی کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بےمثال عظمت و شوکت عطا فرمائی لیکن وہ کبر و غرور میں مبتلا ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے والے نہیں بنے بلکہ جو قدم بھی وہ اٹھاتے اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اٹھاتے اور اگر کوئی ادنیٰ فروگزاشت بھی ہوجاتی تو فوراً توبہ و استغفار کے لئے اپنے رب کے آگے گر پڑتے۔ یہ واقعات بھی قریش کے لیڈروں کو تذکیر و تنبیہ کے لئے سنائے گئے ہیں … آیات کی تلاوت فرمایئے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ووھبنا لدائود سلیمن ط نعم العبد انہ اواب (30)
حضرت سلیمان ؑ کا ذکر حضرت دائود ؑ کی طرف انتساب کے ساتھ، اس طرح یہاں آیا ہے گویا وہ نض
کی طرف سے حضرت دائود ؑ کو ان کی نیکیوں کے انعام کے طور پر ملے ہوں۔
بندہ کا اصل کمال اس کی جدیت ہے
نعم العبد یہ اس عظیم فرزند کی سب سے بڑی خوبی بیان ہوئی کہ وہ خوب بندہ تھا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے ان تمام خوارق و عجائب میں سے جن سے کتابیں بھیر پڑی ہیں، کسی چیز کا ذکر یہاں نہیں ہوا اگر ذکر ہوا تو ان کے کمال عبدیت کا ذکر ہوا۔ بندے کی اصلی خوبی یہی ہے کہ وہ اپنے رب کا ایسا بندہ بن جائے کہ اس کا رب بھی شہادت دے کہ خوب بندہ ہے ! اگر یہ کمال اس کو حاصل ہے تو دوسرے تمام کمالات اسی کو برکات میں سے ہیں اور اگر یہ چیز حاصل نہیں تو کسی کو خاتم سلیمان بھی حاصل ہوجائے تو اس کی عند اللہ کوئی قیمت نہیں۔
عبدیت کا اصلی جمال ادابیت ہے
انہ اوبہ یہی صفت بعینہ حضرت دائود ؑ کے لئے بھی اوپر بیان ہوچکی ہے۔ یعنی اس صفت میں بیٹا اپنے باپ کا ہو بہو عکس تھا۔ عبدیت کا اصلی جمال اوابیت میں ہے یعنی بندے کا دل ہر وقت خدا کی طرف متوجہ رہے اور اگر کبھی کسی سبب سے ذرا بھی غفلت ہوجائے تو اس طرح ٹوٹ کر اپنے رب کی طرف گرے کہ برسوں کی منزل منٹوں میں طے کرے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی یہی اداسب سے زیادہ پسند ہے۔ گناہ سے آدمی جتنا کھوتا ہے اس سے کہیں زیادہ وہ اس سے پا لیتا ہے اگر وہ سچے دل سے گناہ کے بعد توبہ کرلیتا ہے۔
Ayah 38:31(آیت)
حضرت سلیمان کی ادابیت کی ایک مثال
جس طرح اوپر حضرت دائود ؑ کی اوابیت کی مثال بیان ہوئی ہے اسی طرح یہ حضرت سلیمان کی اوابیت کی مثال بیان ہو رہی ہے۔ پہلے واقعہ کی اصلی صورت سادہ الفاظ میں سمجھ لیجیے، اس کے بعد اجزائے کلام پر تحقیقی نگاہ ڈالیے۔
الفاظ قرآن کی روشنی میں واقعہ کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی دن سہ پہر میں حضرت سلیمان ؑ کے اصیل گھوڑوں کا دستہ پریڈ کی شکل میں، ان کے ملاحظہ کے لئے پیش کیا گیا۔ گھوڑے زیادہ تھے اور کام دلچسپ تھا اس وجہ سے وہ اس میں اس طرح منہمک ہوگئے کہ سورج چھپ گیا اور عصر کی نماز رہ گئی۔ جب ان کو نماز کا خیال آیا تو اس حادثہ کا ان کو اتنا شدید قلق ہا کہ یا رائے ضبط نہیں رہا۔ ان کو خیال ہوا کہ یہ دنیا کی محبت تھی جس میں پڑ کر انہوں نے خدا کی یاد سے غفلت کی اور پھر غلبہ حال سے اس طرح مغلوب ہوگئے کہ فوراً گھوڑوں کو دوبارہ طلب فرمایا اور ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر تلوار مارنے لگے کہ انہی کی محبت ان کے لئے خدا سے غفلت کا باعث ہوئی
یہ ایک غلبہ حال کی صورت ہے جس میں محرک نہایت اعلیٰ ہے اس وجہ سے بجائے خود یہ قابل تعریف چیز ہے لیکن اس طرح کے غلبہ حال میں شریعت کے صحیح نقطہ اعتدال سے چونکہ آدمی متجاوز ہوسکتا ہے اس جہ سے دین میں یہ چیز مستند نہیں ہے۔ یہ اسی طرح کی ایک خاص حالت ہے جس طرح کی حالت میں آنحضرت ﷺ کی وفات کی خبر سن کر حضرت عمر مبتلا ہوگئے تھے۔ چناچہ جب حضرت ابوبکر نے آیات قرآن کے حوالہ سے انہیں متنبہ کیا تب وہ متنبہ ہوئے۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ بھی از خود متنبہ ہوگئے ہوں یا اللہ تعالیٰ نے ان کو متنبہ فرما دیا ہو اگرچہ قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہاں ان کے اس اقدام کا ذکر ان کے جوش انابت اور غلبہ اوابیت کے اظہار کے لئے ہوا ہے۔ اور اس پہلو سے بلاشبہ یہ ایک شادنار واقعہ ہے۔
اذ عرض علیہ بالعشی الصفنت الجیاد، صافنات ایک خاص اصیل نسل کے گھوڑوں کو کہتے ہیں اور جیاد اچھے گھوڑوں کی عام صفت کے طور پر آتا یہ۔ یعنی یہ گھوڑے اپنی نسل کے اعتبار سے بھی اچھے تھے اور اپنی صفات کے اعتبار سے بھی۔ تورات میں حضرت سلیمان ؑ کے ان گھوڑوں کی تفصیل موجود ہے۔
فقال انی احببت حب الخسیرعن ذکر ربی حتی توارت بالحجاب احببت یہاں اعراض یا غفلت کے مضمون پر متضمن ہے اور حرف عن اس کا قرینہ ہے۔
توارت کا فاعل الشمس یہاں محذوف ہے۔ عربی میں معروف و مشہور چیزوں کے لئے فعل بھی اس طرح لاتے ہیں اور ضمیریں بھی۔ فاعل یا مرجع کو قرینہ سمجھ سے لیتے ہیں۔ یہاں لفظ عشی کی وجہ سے قرینہ واضح تھا اس وجہ سے فاعل کے اظہار کو چنداں ضرورت نہیں تھی۔
دین میں نماز کی اہمیت
فقال سے پہلے یہاں اتنی بات بربنائے قرینہ محذوف ہے کہ وہ اس پریڈ کے ملاحظہ میں ایسے مستغرق ہوئے کہ عصر کی نماز جاتی رہی۔ پھر جب متنبہ ہوئے تو کہا کہ میں نے مال کی محبت کو اپنے رب کے ذکر پر ترجیح دی یہاں تک کہ سورج چھپ گیا اور نماز عصر سے میں محروم رہ گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ کلمہ انہوں نے اظہار رنج و غم کے طور پر فرمایا۔ اگرچہ یہ گھوڑے جنگ و جہاد کے گھوڑے تھے اور جس کام میں وہ مصروف رہے وہ بھی جہاد ہی کے سلسلہ کا ایک کام تھا لیکن نماز چونکہ دین میں اصل الاصول کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے مجبوری کے سوا کوئی اور چیز اس سے غفلت کے لئے عذر نہیں بن سکتی۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔
عصر کیی نماز یہود کے ہاں بھی تھی
ذکررب سے مراد قرینہ دلیل ہے کہ عصر کی نماز ہے۔ اس لئے کہ عشی یعنی سہ پہر میں غروب آفاتب سے پہلے عصر ہی کی نماز ہو سکتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ کیا یہود کے ہاں بھی عصر کی نماز تھی ؟ تو اس آیت یس تو یہ بات نکلتی ہے کہ سہ پہر میں غروب آفتاب سے پہلے پہلے ان کے ہاں بھی کوئی نماز تھی۔ اگر تورات میں اس کی تفصیل نہیں ملتی تو اس سے کچھ فرق نہیں پیدا ہوتا اس لئے کہ قرآن نے صریح الفاظ میں ان کو اس جرم کا مجرم ٹھہرایا ہے کہ انہوں نے نماز برباد کردی۔ نماز کے یہ اوقات جو اسلام نے مقرر کئے ہیں ایسے فطری اور عقلی ہیں کہ دل گواہی دیتا ہے کہ نماز کے یہی اوقات دوسرے ادیان میں بھی تھے، لیکن امتوں نے ان میں اختلاف کر کے ان کو ضائع کردیا۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ عصر ہی کی نماز کے معاملے میں آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو غزوہ خندق کے موقع پر آزمائش پیش آئی۔ صلوہ وسطی کے تحت ہم نماز عصر کی اہمیت کے بعض پہلوئوں کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔
ردوھا علی فطفق مسحا با لسوق والاعتاق ضمیر مفعول کا مرجع الصافنات الجیاد، یعنی گھوڑے ہیں۔ لفظ مسح قتل کرنے کے معنی میں بھی معروف ہے اور مسحا فعل محذوف کی تاکید کے لئے ہے یعنی یمسح مسحاً
غلبہ حال کے واقعات دوسروں کے لئے سند نہیں ہوتے
یہ حضرت سلیمان ؑ کے اس اقدام کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے اس شدید تاثر اور مغلوبیت کی حالت میں کیا۔ انہوں نے فوراً حکم دیا کہ یہ گھوڑے پھر ان کے سامنے حاضر کئے جائیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ گھوڑے جب اپنے تھانوں واپس جا چکے تھے تب حضرت سلیمان ؑ پر اس احساس کا غلبہ ہوا کہ یہی گھوڑے ان کے لئے خدا سے غفلت کا باعث ہوئے۔ چناچہ ان کو پھر واپس لانے کا حکم دیا اور ان کی پنڈلیوں اور گرد نوں پر تلوار مارنے لگے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک غلبہ حال کی صورت ہے۔ لفظ طعق اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ آیت سے صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے کچھ ہاتھ چلائے، یہ نہیں معلوم ہوتا کہ انہوں نے تمام گھوڑوں کو ختم کردیا اور ایسا کرنا ممکن بھی نہیں تھا اس لئے کہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ گھوڑے ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ غالباً انہوں نے کچھ ہاتھ چلائے اور پھر متنبہ ہو کر اس سے باز آگئے ہوں گے … چونکہ یہ واقعہ ان کی انابت اور اوابیت کا ایک یادگار واقعہ ہے اس وجہ سے قرآن نے اس کا ذکر کیا۔ ویسے یہ اقعہ ہے اسی نوعیت کا جس کا صدور حضرت عمر فاورق سے ہوا جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے۔ غلبہ حال کے واقعات دوسروں کے لئے سند نہیں ہوتے اس وجہ سے جن صوفویں نے اس سے گریبان تار تار کرنے کا جواز نکالا ہے انہوں نے محض صوفیانہ نکتہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
Ayah 38:32(آیت)
حضرت سلیمان کی انابت کا ایک دوسرا اقعہ
یہ حضرت سلیمان کی انابت کا دوسرا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ اس واقعہ کی شکل بھی تفسیر کی کتابوں میں چونکہ بہت بدنما بنا دی گئی ہے اس وجہ سے اس کو بھی پہلے سادہ الفاظ میں سمجھ لیجیے، اس کے بعد الفاظ قرآن پر غور فرمایئے۔
تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ کو یہ سخت امتحان پیش آیا کہ دشمنوں نے یورش کر کے ان کے بیشتر علاقے چھین لئے اور باقی علاقوں میں بھی ایسی گڑ بڑ پھلا دی کہ نظم حکومت عملاً بالکل درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ ان کی تاخت سے صرف مرکز بچا جس میں حضرت سلیمان ؑ بالکل مجبور و محصور ہو کر رہ گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان تھا لیکن حضرت سلیمان ؑ ایک خدا ترس بادشاہ تھا اس وجہ سے انہوں نے یہ گمان فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کسی غلطی کی سزا دی ہے۔ اس احساس نے ان کے غم کو دوبالا کردیا اور وہ اس غم اور بےبسی کی حالت میں اپنے تخت حکومت پر ایک جسد بےجان ہو کر رہ گئے۔ اس وقت انہوں نے نہایت تضرع کے ساتھ اپنے رب سے دعا کی کہ اے رب، میرے گناہ معاف کر اور اگرچہ میں تیرے فضل و انعام کا حق دار نہیں رہ گیا ہوں لیکن تو بڑا بخشنے والا ہے، اس وجہ سے میرے عدم استحقاق کے باوجود مجھے ایسی بادشاہی دے جس کے سزا وار اس طرح کے گناہ کے ساتھ دوسرے نہ ہوتے ہیں، نہ ہوں گے۔
Ayah 38:33حضرت سلیمان کا امتحان
ولقد فتنا سلیمن یعنی ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا۔ یہ امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ ضروری نہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کسی جرم ہی کی سزا کے طور پر امتحان میں ڈالے گئے ہوں۔ امتحان تمام نبیوں اور رسولوں کو پیش آئے ہیں جس سے ان کے صبر یا شکر کی آزمائش ہوئی ہے۔ اسی طرح کے ایک امتحان میں حضرت سلیمان ؑ بھی ڈالے گئے اور چونکہ وہ ایک بادشاہ تھے اس وجہ سے ان کو یہ امتحان ان کی بادشاہ کی راہ سے پیش آیا۔
Ayah 38:34حضرت سلیمان کی غم والم اور ان کی بےبسی کی تصویر
والقینا علی کرسیہ جسداً یہ نہایت مختصر لیکن نہایت مختصر لیکن نہایت جامع لفظوں میں اس امتحان کا بیان ہے کہ کہاں تو وہ ایک وسیع الاطراف حکومت کے نہایت طاقتور اور صاحب اقتدار بادشاہ تھے یا ہم نے ان کو ان کے تخت پر ایک بالکل جسد بےجان بنا کر ڈال دیا۔ لفظ جسد یہاں بطور کنایہ حضرت سلیمان ؑ کی بےبسی اور ان کے غم و الم کی تصویر کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی حکومت سمٹ سمٹا کر مرکز تک محدود رہ گئی اور حالات نے ان کو اس قدر بےبس اور غم زدہ بنا دیا کہ گویا صرف جسم رہ گیا، روح غائب ہوگئی۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ایک بےبس اور غمزدہ بادشاہ کی، جو اپنے مرکز میں محصور ہو کر رہ گیا ہو، اس سے بہتر تصویر نہیں ہو سکتی۔
ثم اناب یعنی حضرت سلیمان ؑ ایسے حالات میں بھی اپنے رب سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ ان کو احساس ہوا کہ یہ ان کی کسی غلطی پر ان کی پکڑ ہوئی ہے۔ چناچہ وہ اسی کی طرف توبہ و استغفار کے لئے متوجہ ہوئے۔