38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 38:35

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

اس نے دعا کی، میرے رب ! مجھے معاف فرما دے اور مجھے ایسی سلطنت بخش جو میرے سوا کسی کے لئے زیبا نہیں۔ تو بڑا ہی بخشنے والا ہے۔

حضرت سلیمان کی دعا اور اس کا صحیح مدعا قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لایبغی لاحد من بعدی انک انت الوہاب اس دعا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تو مجھے ایسی بادشاہی دے جیسی بادشاہی میرے بعد کسی اور کون ہملے بلکہ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ اگرچہ میں اپنے گناہ کے سبب سے کسی حکومت کا اہل تو نہیں رہ گیا ہوں، تاہم تو اپنے فضل سے مجھے ایسی بادشاہی دے جس کا سزاوار نہ میں ہوں نہ میرے بعد کوئی اور ہوگا۔ انک انت الوہاب یعنی تو بڑا بخشنے الا یہ۔ اس وجہ سے میں بھی، اپنی غلطیوں کے باوجود، امیدوار ہوں کہ تو مجھے محروم نہیں فرمائے گا۔ اس دعا میں اصل زور بادشاہی کی بےمثال عظمت و شوکت پر نہیں بلکہ بلا استحقاق بادشاہی دیئے جانے پر ہے کہ مجھے میرے گناہوں کے باوجود بادشاہی دے جب کہ میرے بعد کوئی اور اس کا سزا وار نہیں ٹھہرے گا اس دعا میں اپنے گناہ کا جو شدید احساس ہے وہ حضرت سلیمان ؑ کی غایت خشیت وانابت کی دلیل ہے۔ خدا ترس حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے ملک میں آنے اولی ہر آفت کو اپنی ہی کوتاہیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ حضرت عمر کے متعلق روایتوں میں آتا ہے کہ ان کے زمانہ حکومت میں ایک مرتبہ قحط پڑا، جو عام الرمادہ کے نام سے مشہور ہے، تو حضرت عمر کا پورے زمانہ قحط میں یہ حال رہا کہ شب کی نمازوں میں روتے روتے اپنی ڈاڑھی تر کرلیتے اور دعا فرماتے کہ اے رب ! امت محمد میرے ہاتھوں تباہ نہ ہو !
Ayah 38:36

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

تو ہم نے اس کی خدمت میں لگا دیا ہوا کو جو اس کے حکم سے سازگار ہو کر چلتی جہاں کہیں کا وہ قصد کرتا

فسخرنالہ الریح تجری بامرہ رخآء بعیث اصاب (36) اس آیت کا اسلوب بیان اشارہ کر رہا ہے کہ مذکورہ بالا امتحان کے بعد حضرت سلیمان ؑ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہوا کہ اس نے ہوا پر بھی ان کو ایسا تصرف بخشا جو ان سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ سورة انبیاء اور بعض دوسری سورتوں کی تفسیر میں ہم واضح کر آئے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی بحری قوت ان کے زمانہ کی سب سے بڑی بحری قوت اور ان کا بحری بیڑا اپنے زمانہ کا سب سے زیادہ طاقتور بیڑا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہوا کو کنٹرول کرنے کے لئے بادبانی نظام کو انہوں نے اتنی ترقی دی کہ ان کے جہازات ہر قسم کے سمندروں میں لمبے لمبے سفر کرتے اور ان کے سفر میں نہ ہوا کی کمی سے کوئی خلل پڑتا نہ اس کی شدت سے وہ سخت سے سخت طوفانی ہوائوں کا بھی نہایت کامیابی سے مقابلہ کرتے اور موافق ہوا نہ ہونے کے باوجود اپنے سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھتے۔ لوہے کی صنعت میں ترقی کر کے جس طرح حضرت دائود ؑ نے اپنی بریقوت ناقابل تسخیر بنا لی تھی اسی طرح بادبانی ستم کو ترقی دے کر حضرت سلیمان ؑ نے اپنی بحری قوت میں بےمثال اضافہ کرلیا تھا۔ حضرت سلیمان کا ہوا پر کنٹرول تجری بامرہ رخآء حیث اصاب اصاب، یہاں ہدف ٹھہرانے کے مفہوم میں ہے، جس طرح اصاب الھم کا محاورہ ہے یعنی اپنے جہاز بھیجنے کے لئے جس مقام کو وہ اپنا ہدف بناتے وہ بےروک ٹوک، فصل و موسم کا انتظار کئے بغیر، وہاں کے لئے روانہ ہوجاتے، اس لئے کہ ہوا ان کے کٹنرول میں تھی۔ وہ اپنے سفر کے لئے اس کو جب چاہتے ساز گار بنا لیتے۔
Ayahs 38:37–38

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور سرکش جنوں کو بھی اس کے لئے مسخر کردیا۔ نہایت ماہر معماروں اور غوطہ خوروں کو

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور دوسرے جنوں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے رہتے۔

والسطین کل بنآء وغراص، واخرین مقربین فی الاصنعاد (38-37) تسخیر جنات کا علم ہوا کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کو ایک ایسا علم بھی دیا تھا جس سے وہ شریر جنوں کو مسخر کر کے ان کو اپنی تعمیرات کے کاموں میں بھی لگاتے اور سمندری دولت سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان سے غوطہ خوری بھی کرتاے۔ شیاطین سے مراد یہاں شیاطین جن ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان ؑ صرف شریر جنوں ہی کو مسخر کرتے، صالحین سے تعرض نہیں کرتے تھے۔ کل نبآء و عواض میں لفظ کل میرے نزدیک صفت کی تاکید کے لئے ہے۔ یعنی وہ نہایت ماہر معماروں اور غوطہ خوروں کو مسخر کئے ہوئے تیھ۔ واخرین مقرنین فی الاصفاد یعنی جنوں کی ایک پارٹی ریزرو فورس کی حیثیت سے بھی زنجیروں میں قید، ان کے پاس موجود تھی کہ عند الضرورت ان سے کام لیا جاسکے۔
Ayahs 38:39–40

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

یہ ہماری بےحساب بخشش ہے تو چاہو اس کو بخشو یا روکو۔

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بیشک اس کے لئے ہمارے پاس خاص قرب اور بہترین مرجع ہے

ھذا عطآء نا فامنن اوامک بغیر حساب (29) بغیر حساب کا تعلق ھذا عطائونا سے ہے۔ یعنی یہ عظیم نعمتیں تمہعارے قیاس و گمان اور تمہاری امیدوں اور توقعات سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں۔ تم خاب و خیال میں بھی ان کا تصور نہیں کرسکتے تھے۔ اہل تاویل کی ایک غلط فہمی فامنن اوملک یہ ان کے اس اختیار کا بیان ہے جو ہعر مالک کو اس کی ملکیت اور ہر بادشاہ کو اس کی مملکت میں حاصل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم چاہو تو اس کو لوگوں پر خرچ کرو اور چار ہو تو اس پر مار گنج بن کر بیٹھ رہو، تم کو دونوں کا حق حاصل ہے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ آزادی اور اختیارات تمہیں دونوں بالوں کے لئے حاصل ہے لیکن فیاضی کرو گے تو اس کا حق ادا کرو گے اور اس کا صلہ پائو گے او اگر خزانے کے سانپ بن کر اس پر مسلط ہو جائو گے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں، جس نے یہ سب کچھ تمہیں بخشا ہے، اپنا انجام دیکھو گے۔ یہ بالکل وہی بات حضرت سلیمان علیہ السلم کو مخاطب کر کے فرمائی گئی جو ذوالقرنین کو مخاطب کر کے ان الفاظ میں فرمائی گئی۔ قلنا یذا القرننی اما ان تعذب فامآ ان تتجدفیھم حسناً (الھف 86) ہم نے کہا، اے ذوالقرنین ! (ہم نے ان کو تمہایر اختیار میں دے دیا تو) اب چاہو ان کو سزا دو اور چاہو ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ جن لوگوں نے اس آیت کا یہ مطلب لای ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کو اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دے کر لائسنس دے دیا تھا کہ وہ چاہیں کریں ان سے کوئی حساب کتاب نہیں ہو گ، انہوں نے بالکل غلط سمجھا یہ۔ دوسری باتوں سے قطع نظر اوپر آیت 26 میں حضرت دائود ؑ کو جو ہدایت ہوئی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے، پھر غور فرمایئے کہ باپ کو یہ ہدیات دینے کے بعد بیٹے کو یہ کھلی چھٹی کس طرح دی جاسکتی ہے !
Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب کہ اس نے اپنے رب سے فریاد کی کہ شیطان نے مجھے سخت دکھ اور آزاد میں مبتلا کر رکھا ہے۔

6۔ آگے کا مضمون۔ آیات 64-41 آگے نبی ﷺ کی تسلی کے لئے پہلے چند انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا ہے جن کو بڑی بڑی آزمائش پیش آئیں لیکن وہ ان سے دلبرداشتہ اور میاوس نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے حالات کا صبر و عزیمت سے مقابلہ کیا، اپنی تکالیف میں اپنے رب ہی سے رجوع کیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام تکلیفیں دور فرما دیں اور ان کو اپنے فضل و انعام سے نوازا۔ پھر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ٹھکانا اس کے منفی بندوں ہی کے لئے ہے۔ اس کے بعد متقیوں اور طاغیوں کے انجام کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت کیجیے۔ 7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حضرت ایوب کا ابتلاء واذکر عبدنآ ایوب اذ نادی ربہ انی متنی الشیطن بنصبر عذاب (41) حضرت ایوب کے ابتلاء کی تفصیل سورة انبیاء کی تفسیر میں ہم پیش کرچکے ہیں۔ یہاں صرف انہی چیزوں سے تعرض کریں گے جو خاص اس سورة سے متعلق ہیں۔ بندے کو جو آزمائشیں پیش آتی ہیں وہ پیش تو اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے آتی ہیں لیکن ان کے پیش آنے میں ایک اہم عامل شیطان بھی ہوا کرتا ہے اس وجہ سے مشیت وقدرت کے پہلو سے وہ خدا کی طرف منسوب ہوتی ہیں اور سبب کے پہلو سے شیطان کی طرف۔ اسی پہلو سے حضرت ایوب ؑ نے اپنے دکھ اور آزاد کو شیطان کی طرف منسوب کیا سفر ایوب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب کو بڑی دولت و حشمت حاصل تھی لیکن اس کے باوجود وہ نہایت خدا ترس اور عبادت گزار بندے تھے۔ ان کی اس حالت پر شیطان اور اس کے ایجنٹوں کو بڑا حسد ہوا اور انہوں نے ان کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ اگر ایوب دن رات خدا کی عبادت ہی میں لگے رہتے ہیں تو یہ کیا کمال ہوا خدا نے جب اتنا مال و اسباب دے رکھا ہے تو عبادت نہ کریں تو اور کیا کریں، ہم تو جب جانیں جب خدا یہ ساری چیزیں ان سے چھین لے اور پھر بھی وہ اس کے عبادت گزار ہیں ! بالآخر اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے ان کو محروم کردیا نہ ان کے پاس مال کے قسم کی کوئی چیز باقی رہ گئی اور نہ اولاد و احقاد اور خدم و حشم باقی رہ گئے لیکن وہ اس عظیم مصیبت سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ اپنے رب کے حضور سجدے میں گر پڑے اور فرمایا کہ میں اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا پیدا ہوا تھا اور اب ننگا ہی اپنے رب کے پاس جائوں گا۔ سفر ایوب میں ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شیطان سے کہا کہ تو نے میرے بندے کو دیکھ لیا کہ سب کچھ چھن جانے کے بعد بھی وہ میرا ہی ہے۔ اس پر شیطان نے کہا کہ یہ مال و اولاد کا معاملہ تھا اس وجہ سے وہ صبر کر گیا، میں تو جب جانوں جب تو اس کو شدید قسم کے جسمانی آزاروں میں مبتلا کرے اور پھر بھی وہ تیرا عبادت گزار رہ جائے ! چناچہ اس کے بعد وہ ایسے شدید قسم کے جسمانی آزاد میں مبتلا ہوئے کہ سفر ایوب میں اس کی تفصیل پڑھیے تو دل کا نپ جاتا ہے لیکن اس کے بعد ان کی انابت اللہ کی طرف اور بڑھ گئی اور اس آزمائش میں بھی انہوں نے شیطان کو شکست دے دی۔ شیطان کی اس شکست کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کو اس سے کہیں زیادہ بخشا جو ان سے چھینا گیا تھا۔ یہ تفصیل سفر ایوب کی روشنی میں ہم نے اس لئے پیش کی ہے کہ حضرت ایوب کی فریاد مستی الشیطن بنصب و عذاب کا صحیح پہلو سمجھ میں آسکے کہ اس دنیا میں اپنے رب کے ساتھ اپنی وفا داری کا ثبوت دینے کے لئے شیطان کے ہاتھوں ان کو کیا کیا دکھ جھیلنے پڑے ہیں اور کیسی شدید لڑائی انہوں نے اس کے ساتھ لڑی یہ۔ نصب کے معنی تکان دکھ اور مصیبت کے ہیں اور عذاب سے مراد وہ اذیتیں ہیں جو جسمانی مرانس کی نوعیت کی ان کو پہنچیں ان دونوں لفظوں نے ان تمام مصائب کو سمیٹ لیا ہے جن میں وہ مبتلا ہوئے۔
Ayah 38:42

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

ہم نے اس کو ہدایت کی کہ زمین پر اپنا پائوں مارا۔ یہ نہانے کا بھی ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا بھی

اراکعن برجبلک ج ھذا مغتسل بارد وشراب (42) امتحان کے بعد حضرت ایوب پر اللہ تعالیٰ کا فضل اللہ تعالیٰ ایک خاص حد سے زیادہ اپنے بندے کو آزمائش میں نہیں ڈالتا۔ چناچہ جب حضرت ایوب کا امتحان پورا ہوگیا تو ان کی دعا بلاتاخیر قبول ہوگئی۔ ان کو کسی خاص جگہ کی طرف اشارہ کر کے ہدایت ہوئی کہ فلاں جگہ اپنے پائوں سے ٹھوکر ماور، وہیں ایک چشمہ جاری ہوجائے گا جو تمہارے نہان کے لئے بھی نہایت ٹھنڈا ہے اور پینے کے لئے بھی یہ ان کو علاج بتایا گیا ان جلدی امراض کا جن میں وہ مبتلا ہوگئے تھے اور جن کے سبب سے ان کا یہ حال تھا کہ دن رات راکھ کے ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ٹھیکروں سے اپنا سارا بدن کھجلاتے رہتے۔ پائوں کی ٹھوکر سے اس طرح کسی چشمے کا جاری ہوجانا کوئی مستبعد بات نہیں ہے۔ ندیوں اور نالوں کے کنارے زمین کی بالائی سطح کے ذرا نیچے پانی کے سوتے دبے ہوتے ہیں جو ہاتھ یا پائوں سے کریدنے پر فوراً جاری ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح کے کسی سوتے کو حضرت ایوب کے لئے شفا کا ذریعہ بنا دیا۔
Ayah 38:43

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو بخشے اس کے اہل و عیال اور ان کے مانند ان کے ساتھ اور بھی اپنا فضل کرنے اور اہل عقل کی یاد دہانی کے لئے

ووھبنالہ اھلہ ومتلھم معھم رحمۃ مناد ذکری الاولی الالباب (43) جسمانی آزاروں سے نجات دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل و عیال بھی ان کو پھر دیے اور ان کے ساتھ انہی کے برابر خدم و حشم بھی۔ اس ابتلاء کے دور میں ان کے آل و اولاد اور اقرباء میں سے کچھ تو بچھڑ گئے تھے، کچھ وفات پا گئے تھے۔ غلام اور خدام بھی سب تتر بتر ہوگئے تھے۔ آزمائش کا دور ختم ہونے کے بعد بچھڑے ہوئے اعزہ پھر مجتمع ہوئے جو وفات پا چکے اللہ نے ان کے بدل عنایت فرمائے اور مال کے ساتھ ساتھ خدم و حشم بھی ان کو پھر مل گئے۔ رحمۃ منا وذکری لاولی الالباب یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ اپنے ایک راستباز اور کامل العیار بندے پر اپنا فضل فرمائے اور اس لئے بھی کہ اللہ کا یہ معاملہ اہل عقل کے لئے یاد دہانی ہو۔ اہل عقل کی یاد دہانی کے اس میں کئی پہلو ہیں۔ مثلاً : …یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی وفاداری کا امحتان کرتا ہے اور اس کے ہاں کامیابی انہی کو حاصل ہوتی ہے جو اس کے امحتان میں ثابت قدم رہتے ہیں۔ …اس امتحان کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک حد مقرر ہے جس سے یہ متجاوز نہیں ہونے پاتا۔ … اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور انابت ہی اس امتحان میں وسیلہ ظفر ہے۔
Ayahs 38:44–45

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ میں سینکوں کا ایک مٹھالے اور اس سے اپنے کو مارلے اور اپنی قسم میں حانث نہ ہو۔ ہم نے اس کو نہایت صابر پایا۔ خوب بندہ ! بیشک وہ بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہی، اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت و بصیرت رکھنے والے تھے۔

وخذبیدک ضعثا فاصرب بہ ولاتحنث، انا وجدنہ صابراً نعم العبد انہ اداب (44) حضرت ایوب کی ایک قسم اور اس کی ذمہ داری سے بریت اس دور ابتلاء میں معلوم ہوتا ہے حضرت ایوب کے دل میں کوئی ایسا خیال گزرا جو صبر اور انابت الی اللہ کے منافی تھا اس پر اپنے نفس کو سزا دینے کے لئے انہوں نے یہ قسم کھائی کہ میں اپنے آپ کو اتنے کوڑے ماروں گا کوڑوں کی تعداد مذکورہ نہیں ہے۔ حضرت ایوب کا یہ عہد اگرچہ ان کی خشیت اور محبت الٰہی کا نتیجہ تھا لیکن بندوں کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی ن اورا مصیبت میں ڈالیں اگرچہ وہ خدا کی خونشودی ہی کے لئے ہو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی ذمہ داری سے ان کو بری قرار دے دیا لیکن قسم کا معاملہ چونکہ دین میں بڑی اہمیت رکھتا ہے، اسی پر تمام عہد و پیمان کی بنیاد ہے اس وجہ سے ان کو یہ ہدایت ہوئی کہ جتنے کوڑے مارنے کی قسم کھائی ہے اتنے سینکوں کا ایک مٹھالے کر اپنے کو مار لیں ات کہ رسمی طور پر قسم پوری ہوجائے اور دل پر قسم توڑنے کا بار نہ رہے۔ دین میں اسی چیز کا اہتمام ہے کہ اگر کسی حکم کی تعمیل اس کی اصلی صورت میں متعذر ہو تو اس کی تعمیل شبہی صورت میں ضرور کی جائے تاکہ اس کی یاد قائم رہے۔ وضو نہ کرسکنے کی صورت میں تمیم رکوع اور سجدہ نہ کرسکنے کی صورت میں اشارہ پر کفایت کرنے کی ہدایت اسی اصل پر مبنی ہے کسی کفارہ کی ہدایت بھی ان کو ہو سکتی تھی لیکن اس وقت حضرت ایوب ؑ نے کوئی مالی کفارہ ادا کرنے کے قابل تھے نہ جسمانی مال سے وہ بالکل محروم ہوچکے تھے اور بیماری نے اس طرح چور کردیا تھا کہ روزے رکھنے کے قابل بھی نہیں رہ گئے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ خاص رعایت فرمائی۔ مفسرین نے عام طور پر یہ سمجھا ہے کہ قسم انہوں نے اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی کھائی تھی لیکن قرار میں اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے اور قرینہ بھی اس کے خلاف ہے اس لئے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور ابتلاء میں صرف ان کی بیوی ہی کی اکیلی ذات تھی جس نے رات دن حضرت ایوب کی خدمت کی۔ ایسی وفا داری بیوی پر یہ عتاب بعید از عقل ہے۔ فقہاء نے اس سے حیلہ شرعی کا جواز بھی نکالنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ موضوع ایک مستقل موضوع ہے۔ اس پر ہم انشاء اللہ کے محل میں گفتگو کریں گے۔ یہاں بحث صرف آیت کے سیاق وسباق تک محدود رکھیے۔ انا وجدنہ صابراً سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جس وسوسہ پر انہوں نے مذکورہ بالا قسم کھائی اس میں شیطان نے ان کے بعد ہی کو متزلزل کرنے کی کوشش کیت ھی لیکن وہ صبر کی چٹان پر جمے رہے۔ نعم العبد انہ اواب بعینہ یہی الفاظ اوپر حضرت سلیمان ؑ کی تعریف میں بھی وارد ہوئے ہیں۔ اس سے ان تمام واقعات کے اشتراک مقصد پر بھی روشنی پڑتی ہے اور یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں اچھا بندہ بننے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی کے دل کے اندر کسی گناہ کا خطور نہ ہو بلکہ یہ کافی ہے کہ آدمی جب کسی لغزش کا احساس کرے تو فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور حق پر ثابت قدم رہے۔
Ayahs 38:46–47

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے ان کو ایک خاص متن … آخرت کی یاد دہانی … پر امور کیا تھا

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور وہ ہمارے ہاں برگزیدہ اور بہتر بندوں میں سے ہیں۔

(آیت) حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق و حضرت یعقوب (علیہم السلام) کا خاص مشن یہ حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) کی یاد دہانی فرمائی۔ یہ اسرائیلی سلسلہ رشد و ہدایت کے اصل عمائد ہیں۔ ان لوگوں کو پدر سرا نہ قسم کی سرداری بھی حاصل رہی اور روحانی بصیرت بھی۔ اس وجہ سے ان کی صفت اولوالایدی والابصار آئی ہے یعنی ان کو قوت اور بصیرت دونوں نعمتوں سے اللہ تعالیٰ نے نواز تھا۔ اگر قوت کے ساتھ بصیرت نہ ہو تو آدمی ایک نہایت خطرناک جانو بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ ان کو ہم نے آخرت کی یاد دہانی کے خاص مشن پر مامور کیا تھا اور وہ ہمارے خاص برگزیدہ اخبار میں سے تھے۔ ذکری الدار، خالصۃ سے بدل واقع ہے اور دار وار آخرت کے مفہوم میں ہے اس لیء کہ اصلی گھر وہی ہے۔ یہ دنیا محض ایک سرائے فانی ہے۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا اصلی کام درحقیقت آخرت کی یاد دہانی ہی ہے اس لئے کہ آخرت کی یاد ہی تمام صلاح و فلاح کی کلید ہے۔ اگر انسان اس سے غافل ہوجائے تو وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ اور اگر اس کی یاد اس کے اندر زندہ رہے تو وہ لغزشوں کے باوجود صراط مستقیم پر گامزن رہتا ہے۔
Ayah 38:48

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیل، یسعیا اور ذوالکفل کو یاد کرو اور ان میں سے ہر ایک اخیار میں سے ہے۔

واذاکرا اسمعیل والیسع وذا لکفل وکل من الاخیار (48) ذو اکفل کا ذکر سورة انبیاء آیت 85 میں گزر چکا ہے۔ وہاں ان کا ذکر حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہما السلام) کے ساتھ آیا ہے اور ان تمام انبیاء کا مشترک وصف صبر مذکور ہوا ہے۔ یہاں حضرت اور دین کی جگہ، لیسع کا نام ہے۔ السیع سے ملتے جلتے تو رات میں دو نبیوں کے نام ہیں۔ ایک الشیع جن کا زمانہ 713 قبل مسیح باتیا جاتا ہے، دوسرے ایسیاہ جن کا زمانہ 620 قبل مسیح مذکو رہے۔ ذو الکفل سے متعلق ہم سورة انبیاء میں اپنیی رائے عرض کر چیک ہیں۔ سیاق کلام یہاں بھی صبری کے ذکر کا ہے یہ وصف یوں تو تمام انبیاء (علیہم السلام) کا مشترک وصف ہے لیکن یہ انبیاء اس میں امتیازی مقام رکھتے ہیں۔
Ayahs 38:49–51

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ یاد دہانی ہے اور بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے اچھا ٹھکانا ہے۔

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھولے ہوئے ہوں گے۔

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

وہ اس میں ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے اور بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے

ھذا ذکر وان للمتقین لحن ماب (49) خلاصہ بحث یہ مذکورہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات سنانے کے بعد خلاصہ بحث سامنے کے دیا ہے۔ فرمایا کہ یہ یاد دہانی ہے، یعنی یہ محض ماضی کے قصے نہیں ہیں بلکہ تمہارے لئے بھی یہ درس موظت اور عظیم درس موعظت ہے اور یہ یاد رکھو کہ خدا کے ہاں اچھا ٹھکانا خا سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے، ان لوگوں کے لئے وہاں ذلت کی مار ہے جو خدا کی پر نصیحت کتاب کی باتیں سن کر اکڑتے اور اس کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں کلام کے تسلسل کو سمجھنے کے لئے پہلی آیت کے مضمون پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ آیت متقیوں کا صلہ یہ اس بہترین ٹھکانے کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت ہیں حسن ماب کے الفاظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن کے دروازے ان کے لئے پہلے سے کھولے ہوئے ہوں گے۔ جس طرح کسی معزز مہمن کی آمد کے موقع پر پھاٹک کھول کر پہلے سے اس کا انتظار کیا جاتا ہے اسی طرح ان کے خیر مقدم کے لئے جنت کے پاسبان ان کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ شراب سے مراد مشروبات ہیں۔ وہ اس میں تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور اپنے خدام سے ہر قسم کے میوے اور مختلف قسم کے مشروبات طلب کر رہے ہوں گے۔
Ayah 38:52

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن حوریں ہوں گی۔

وعندھم قصرت الطرف اتراب قصرت الطرف باحیا اور شرمیلی نازنینوں کو کہتے ہیں۔ عرب اور دنیا کے تمام شرفاء میں عورت کی سب سے اعلیٰ صفت یہی سمجھی گئی ہے۔ اتراب ع کے معنی ہم سن کے ہیں یعنی ان کی تکمیل مسرت کے لئے ان کے پہلو بہ پہلو شرمیلی اور ہم سن نازنین بھی ہوں گی۔ ھذا ماتوعدون … الایۃ یعنی یہ نعمتیں دے کر انکو باتیا جائے گا کہ جن نعمتوں کی بشارت آج کے دن کے لئے آپ لوگوں کو دی گئی تھی وہ یہ حاض رہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔ جو کچھ آپ لوگوں کو ملا ہے اس میں برابر اضافہ ہوتا رہے گا۔ اس کے ختم ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں۔
Ayahs 38:53–55

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ ہے وہ چیز جس کی حساب کے دن کے لئے تم کو بشارت دی جاتی ھتی۔

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

ایک طرف یہ ہے اور (دوسری طرف) سرکشوں کے لئے نہایت برا ٹھکانا ہوگا۔

ھذا وان للطغین لشرماب (55) لاغیوں کی سزا یعنی ایک طرف متقیوں کے لئے یہ نعمتیں اور نوازشیں ہوں گی اور دوسری طرف طاغیوں اور سرکشوں کے لئے نہایت برا ٹھکانا ہوگا۔ طاغیوں سے مراد ہی لوگ ہیں جن کا ذکر شروع سورة میں ببل الذین کفروافی عذۃ و شقاق سے ہوا ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ کی یاد دہانی سے خدا کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے اور اللہ کے رسول سے جھگڑتے ہیں۔
Ayah 38:56

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

یعنی جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے۔ پس کیا ہی بری جگہ ہے !

جھنم یصلونھا فبئس المھاد (56) یہ اس مشرماب کی تفصیل ہے یعنی یہ برا ٹھکانا جہنم ہے یصلونھا یعنی اس جہنم کی ان کو دو دور سے سیر نہیں کرائی جائے گی بلکہ ان کو اس میں داخل ہونا پڑے گا اور کیا ہی برا ٹھکانا ہے جس میں یہ داخل ہوں گے !
Ayahs 38:57–58

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ ہے۔ پس یہ لوگ اس کو چکھیں

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی قبیل کی دوسری اور چیزیں بھی ہوں گی۔

ھذا ولیذوقوہ حمیم وعاق واخرمن شکلۃ ازواج (58-57) ھذا ط فلیذوقوہ حمیم وغاق حمیم گرم کھولتے پانی کو کہتے ہیں اور غساق کے معنی پیپ کے ہیں یعنی انکو اشارے سے بتا دیا جائے گا کہ یہ چیزیں ہیں ان کو چکھیں اسکے بعد ان نفرت انگیز چیزوں میں سے دو کا ذکر کر کے یہ فرما دیا کہ اسی قبیل کی دوسری مختلف النوع نفرت انگیز چیزیں بھی ہوں گی جو ذکر کے لالئق نہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ چیزیں ان دوزخیوں کو نزل یعنی اولین سامان ضیافت کے طور پر ملیں ی۔ اصل عذاب کا دور اس کے بعد شروع ہوگا۔
Ayah 38:59

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ بھیڑ بھی تمہارے ساتھ ہی جہنم میں پڑنے والی ہے۔ ان پر خدا کی مار ! یہ تو دوزخ میں پڑنے والے ہیں۔

ھذا فوج مفتحم معکم لا مرحبا بھم انھم صالوا النار (59) اہل دوزخ کی توتکار اوپر کی آیت میں لفظ طاغین دلیل ہے کہ یہ کفر کے سرغنوں اور لیڈروں کا بیان ہے اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے پیروئوں کی بھیڑ بھی ان کے سامنے لائی جائے گی اور ان کو خبر دی جائے گی کہ یہ لوگ بھی تمہارے ساتھ ہی جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ وہ فوراً کہیں گے کہ یہ دفع ہوں، آخر یہ بھی تو جہنم ہی میں پڑنے والے بنے !
Ayah 38:60

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے بلکہ تم، تم پر خدا کی مار ! تمہی نے ہمارے لئے یہ سامان کیا۔ پس کیا ہی برا ٹھکانا ہوگا !

قالوا بل انتم لامرحبا بکم ط انتم قد ممتموہ لا فبئس القرار (60) پیرو غصہ سے دانت پیس کر جواب دیں گے کہ یہ تم، تم پر خدا کی مار ہو، تم ہو جس نے ہمارے لئے اس عذاب کا سامان کیا۔ اس فقرے میں مبتداء کے اعادے اور دونوں مبتدائوں کے بیچ میں جملہ معترضہ پر نگاہ رہے۔ ایک ایک لفظ سے غصہ اہل رہا ہے فبئس القرار بطور حسرت ان کی زبان سے نکلے گا کہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے جس کا تم نے ہمارے لئے سامان کیا ! ویسے یہ جملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور استدراک بھی ہوسکتا یہ۔ لیکن مفہوم میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوگا۔
Ayah 38:61

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! جن لوگوں نے ہمارے لئے اس کا سامان کیا ان کو دگنا عذاب دیجیو، جہنم میں

قالو ربنا من قدم لنا ھذا فزدہ عذاباً ضعفا فی النار (61) اس کے بعد وہ اپنے رب سے درخواست کریں گے کہ اے رب ! جن لوگوں نے ہمار یلئے اس عذاب کا سامان کیا اور ہمیں گمراہ کر کے اس منزل تک لائے ان کو دوزخ میں دونا عذاب دیجیو۔
Ayahs 38:62–63

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے، کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو یہاں جنہیں دیکھ رہے ہیں جن کو ہم اشرار میں سے شمار کرتے تھے۔

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کو محض مذاق بنایا تھا ای ان سے نگاہیں چوک رہی ہیں

وقالو مالنا لا نری رجالا کنا نعدھم من الاشرار، اتخدنھم سخریا ام فاحث عنھم الاصبار (63-62) پھر یہ سوال ان کے اندر پیدا ہوگا کہ آخر وہ لوگ کہاں ہیں جن کو ہم اشرار میں شمار کرتے تھے کہ یہ آبائی کے دشمن، ہمارے دیوتائوں کی توہین کرنے والے اور ہماری قومی وحدت پر ضرب لگانے والے ہیں ڈ کیا ہم نے محض شرارت سے ان کا مذاق اڑایا اور ان کو مفسد ٹھہرایا درآحالی کہ وہ صالحین میں سے تھے یا وہ بھی یہاں موجود ہیں لیجن ہم کو وہ نظر نہیں آ رہے ہیں ؟ یہ سوال غالباً وہ لوگ کریں گے جو اس دنیا میں جانتے تھے کہ جن مسلمانوں کو ہمارے لیڈر ہدف مطاعن بنائے ہوئے ہیں وہ اچھے لوگ ہیں لیکن وہ اپنے لیڈروں سے مرعوب ہونے کی باعث ان کے حق میں کوئی کلمہ خیر کنے کی جرأت نہ کرسکے۔
Ayah 38:64

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بیشک اہل دوزخ کی یہ باہمی توتکار ایک امر واقعی ہے

ان ذلک لحق تخاصم اھل النار (64) ذلک کا اشرہ تخاصم اھل النار کی طرف ہے، تخاصم کے معنی باہمی توتکار اور جھگڑے کے ہیں۔ فرمایا کہ اہل دوزخ کی جس توتکار کا ذکر ہوا یہ ایک امر واقعی ہے اس کو کوئی خواب و خیال نہ سمجھے۔ آج جو لوگ حق کی مخالفت میں ایک دوسرے کے لیڈر اور پیرو بنے ہوئے ہیں وہ جو کچھ کریں اس انجام کو سامنے رکھ کر کریں۔
Ayah 38:65

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو بس ایک آگاہ کردینے والا ہوں اور اللہ واحد وقہار کے سوا کوئی معبود نہیں

-8 آگے کا مضمون آیات 88-65 آگے ختامہ سورة کی آیات ہیں۔ پہلے نبی ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا ہے کہ میں ایک منذر ہوں اور ایک ہولناک دن سے لوگوں کو آگاہ کر رہا ہوں جب وہ دن آجائے گا تو اللہ واحد کے سوا کوئی دوسرا کام آنے والا نہیں بنے گا۔ میرا کام انذار ہے وہ میں نے کردیا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں ایمان اتار دینا میری ذمہ داری نہیں ہے۔ جو لوگ غرور اور استکبار کے سبب سے مجھ سے جھگڑ رہیع ہیں وہ یاد رکھیں کہ یہ روش انبیاء اور صالحین کی روش نہیں ہے بلکہ ابلیس اور اس کے پیروئوں کی روش ہے اور وہ اسی انجام سے دوش رہوں گے جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے روز اول سے کر رکھا ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -9 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت قل انما اما منذر وما من الہ الا اللہ الواحد القھار (65) منکروں کو انذار یعنی تم ان کو آگاہ کردو کہ میں تو آنے والے وقت سے تم کو ایک ہوشیار کرنے والا ہوں۔ اس سے زیادہ میری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر تم اپنی ضد پر اڑے رہ گئے تو اس کا انجام خود دیکھو گے اگر تم دوسرے دیویوں دیوتائوں کی شفاعت کے بل پر اس دن سے بےپروا ہو تو کان کھول کر سن لو کہ ایک خدا نے قہار کے سوا اور کوئی خدا نہیں ہے۔ لفظ قھار کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ اس کے معنی ہیں سب کو اپنے کنٹرول میں رکھنے والا یعنی اس نے اپنی پوری خدائی اپنے کنٹرول میں رکھی ہے وہ کوئی بےبسی نہیں ہے کہ اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے تمہارے دیوتائوں کا محتاج ہو۔
Ayah 38:66

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

وہی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا خداوند ہے، غالب اور بخشنے والا

رب السموت والارض وما بینھما العزیز الغفار (66) خدا کے ہاں سفارشیوں کی کوئی گنجائش نہیں یہ صفت قھار کی وضاحت ہے کہ وہی آسمانوں او زمین میں اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا مالک ہے اور وہ عزیز و غفار بھی ہے۔ عزیز یعنی ہر چیز پر غالب اور مقتدر، مجال نہیں کہ کوئی اس کی گرفت سے باہر نکل سکے۔ ساتھ ہی وہ غفار بھی ہے۔ اس وجہ سے جو اس کی رحمت و مغفرت کے حقدار ہوں گے ان کو بڑا بخشنے والا بھی ہے۔ اس کی طرف سے کسی ظلم یا ناانصافی کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ تمہارے مفروضہ سفارشویں کی ضرورت پیش آئے۔
Ayahs 38:67–68

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

کہہ دو کہ وہ ایک عظیم خبر ہے ،

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

تم اس سے اعراض کئے ہوئے ہو !

قل ھو بنوآء عظیم، انتم عنہ معرضون (68-67) یعنی ان کو آگاہ کر دو کہ جس چیز سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ بڑا ہی اہم حادثہ ہے لیکن تم اس سے بےپروا ہو اور میرے انذار کا مذاق اڑا رہے ہو۔
Ayahs 38:69–70

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھے عالم بالا کی باتوں کی کچھ خبر نہ تھی جب کہ وہ گجھڑ رہے ہوں گے۔

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

یہ تو بس اس وجہ سے مجھے وحی کی جاتی ہے کہ میں ایک نذیر مبین ہوں۔

(آیت) یعنی اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ میں یوں ہی تم پر دھونس جمانے کے لئے ایک نذیر مبین بن بیٹھا ہوں اور تمہیں مرعوب کرنے کے لئے اہل دوزخ کی باہمی توتکار کا افسانہ سنا رہا ہوں۔ بھلا عالم بالا کی ان باتوں کی مجھے کیا خبر ہو سکتی تھی ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ اپنی وحی کے ذریعہ سے مجھے اس لئے آگاہ فرما رہا ہے کہ میں ایک کملے ہوئے ڈرانے والے کی طرح اس پیش آنے والے دن کی ہولناکی سے آگاہ کر دوں۔ ورنہ میں کوئی غیب دان نہیں ہوں، میں تو بس ایک نذیر مبین ہں۔ نذیر مبین کی وضاحت اس کے محل میں ہو کوئی غیب دان نہیں ہوں میں تو بس ایک نذیر مبین ہوں۔ نذیر مبین کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مستقبل کے پردوں میں چھپے ہوئے ان احوال سے مجھے اس لئے آگاہ فرمایا کہ ہے کہ میں تمہیں اس طرح ان سے ڈرائوں کہ گویا وہ میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔
Ayahs 38:71–74

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

اس وقت کو یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

تو جب میں اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک لوں تو اس کے آگے سجدے میں گرجائیو۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

تو تمام فرشتوں نے اس کو سجدہ کیا

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

بجزابلیس کے اس نے گھمنڈ کیا اور انکار کرنے والوں میں سے بن گیا۔

آیات استکبار کا شجرہ نسب یہ حضرت آدم ؑ اور ابلیس کا وہ ماجرا بیان ہو رہا ہے جو پیچھے متعدد سورتوں میں جستہ جستہ بیان ہوا ہے اور ہم اس کے تمام پہلوئوں پر مفصل بحث کرچکے ہیں۔ خاص طور پر اچھی طرح وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں اس ماجرے کا حوالہ اس استکبار کا شجرہ نسب بیان کرنے کے لئے آیا ہے جس کا ذکر اس سورة کی ابتدا میں بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق کے ال فاظ سے ہوا ہے اور جس پر اس پوری سورة میں رب لگائی گئی ہے۔ گویا قریش کو اس ائٓینہ میں دکھایا گیا ہے کہ وہ جس گھمنڈ اور استکبار میں مبتلا ہو کر قرآن کی دعوت کو جھٹلا رہے ہیں یہ صالحین کی نہیں بلکہ ابلیس کی وراثت ہے۔ اس میں مبتلا ہو کر اس نے آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا جس کی پاداش میں وہ ملعون ہوا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اس کی سنت زندہ کرنا چاہتے ہیں تو اس انجام کے لئے بھی تیار ہیں جو ابلیس اور اس کی پیروی کرنے والوں کا ہوگا۔