38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 38:75

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

پوچھا، اے ابلیس اس چیز کو سجدہ کرنے سے تجھے کیا چیز مانع ہوئی جو میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کی ؟ یہ تو نے تکبر کیا یا تو کوئی برتر ہستی ہے !

قال یا بلیس مامنعک ان تسجدبما خلقت بیدی استکبرت ام کنت من العالین (75) انسان قدرت کا ایک شاہکار ہے ابلیس کے سجدہ نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ نے اس سے بانداز عتاب سوال فرمایا کہ جس چیز کو میں نے خاص اپنے اتھ سے پیدا کیا آخر اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کیا چیز مانع ہوئی، کیا یہ محض تیرا غرور ہے یا تو کوئی برتر مخلوق ہے ! خلقت بیدی سے اس خاص اہتمام کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے لئے فرمایا۔ انسان اپنی صالحیتوں کے اعتبار سے قدرت کا ایک شاہکار ہے۔ اگر یہ اپنی صلاحیتیں صحیح طور پر استعمال کرے تو جنوں کو مسخر کرلینا تو معمولی بات ہے، یہ فرشتوں سے بھی بازی لے جاتا ہے۔ تمام جہان اس کے لئے مسخر ہے لیکن وہ اپنے رب کے سوا کسی کا بھی محکوم نہیں بنایا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ اس اہتمام و عنایت کے ساتھ پیدا کی ہوئی مخلوق کو جب کہ خود خدا نے اس کے سجدہ کا حکم دیا آخر کس بنیاد پر تو نے سجدہ کرنے سے انکار کیا ؟ اعتبار تو صفات و صلاحیتوں کا ہے نہ کہ مٹی اور آگ کا، اگر قدرت کے دست تصرف نے مٹی کے ایک لوندے ہی سے اپنا ایک شاہکار تیار کردیا تو کی اس بنیاد پر اس کے حسن و کمال کا انکار کیا آئے گا کہ وہ مٹی سے تیار ہوا ہے ! فرمایا کہ تیری یہ حرکت محض اندھے بہرے غرور کا نتیجہ یا تو اپنے زعم میں کوئی برتر ہستی ہے !
Ayah 38:76

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

اس نے جواب دیا، میں اس سے برتر ہں۔ تو نے مجھے آگ سے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا۔

قال انا خیر منہ ط خلقتنی من نار وخلقتہ من طین (76) فضیلت کی بنیاد نسب پر رکھنا شیطان کی ایجادات میں سے ہے ابلیس نے اس کا جواب دیا کہ میں اس سے برتر ہوں اور اس کی دلیل یہ دی کہ مجھ کو تو نے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے یعنی اس نے اپنی برتری کا دعویٰ کیا اور اس کے ثبوت میں اس نے یہ چیز پیش کی کہ اس کی خلقت ایک برتر عنصر سے ہوئی ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ اس نے فضیلت کی بنیاد صفات پر نہیں بلکہ صرف نسب اور خاندان پر رکھی۔ یہ وہی منطق ہے جو قریش کے لیڈر آنحضرت ﷺ اور آپ کے غریب ساتھیوں کے مقابل میں پیش کرتے تھے، جس کا ذکر اس سورة میں پیچھے گزر چکا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو کوئی کاتب اتارنی ہی ہوتی تو ہم میں سے کسی پر اتارتا نہ ان کے جیسے بےمایہ آدمی پر جن کے ساتھی انہی جیسے نادار اور غریب لوگ ہیں۔
Ayahs 38:77–78

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

حکم ہوا تو یہاں سے نکل کیونکہ تو راندہ درگاہ ہوا

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور تجھ پر میری لعنت ہے جزا کے دن تک

شیطان کا چیلنج اور اس کا جواب قال ماخرج منھا فانک وجیم وان علیک لعنتی انی یوم الدین (78-77) منھا میں ضمیر کا مرجع جنت ہے۔ اس لئے کہ یہ ماجرلو جیسا کہ دوسرے مقامات میں وضاحت ہے، جنت ہی میں پیش آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سرکشی کے بعد اس کو ملعون قرار دے کر جنت سے نکل جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میری یہ لعنت تیرے اوپر قیامت کے دن تک کے لئے ہے۔ اس دن تو اپنے اس جرم کی سزا بھگتے گا۔
Ayahs 38:79–81

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

اس نے کہا، اے میرے رب ! مجھے مہلت دے اس دن تک کے لئے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

اشراد ہا، تجھ کو مہلت دی گئی

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 38:81 in the Quran reader

وقت معین تک کے لئے

قال رب فالظرنی الی یوم یبعثون قال فانک من المنظرین الی یوم الوقت المعلوم (81-79) اللہ تعالیٰ کی اس لعنت سے ابلیس نے گمان کیا کہ شاید اس کی مہلت عمل ختم کی جا رہی ہے اور اس کو انسان کے خلاف زور آزمائی کا موقع اب نہیں دیا جائے گا اس وجہ سے اس نے درخواست کی کہ اس کو اس دن تک کے لئے مہلت دی جانے جس دن لوگوں اپنے اعمال کے حساب کے لئے اٹھائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ مہلت دے دی۔
Ayahs 38:82–83

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 38:82 in the Quran reader

اس نے کہا، تیری عظمت کی قسم ! میں ان سب کو گمراہ کر کے رہوں گا ،

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 38:83 in the Quran reader

بجیز تیرے ان بندوں کے جن کو تو نے خاص کرلیا ہو۔

قال فبعزتک لاغرینھم اجمعین، الا عبادک منھم المخلین (83-82) جب اس کو یہ مہلت مل گئی تو اس نے بڑے طنطنہ کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت کی قسم کھا کر کہا کہ اب میں ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا اور ان میں سے بجز ان کے جن کو تو نے اپنی بندگی کے لئے خاص کرلیا ہو، سب میرے فتراک ضلالت کے پیغمبر ہو کے رہیں گے۔ یعنی میں یہ بابت کر دوں گا کہ اس انسان کو تو نے جس عزت و شرف کا اہل سمجھا ہے یہ ہرگز اس کا اہل نہیں ہے اور میں اس کو سجدہ نہ کرنے میں بالکل بجانب حق ہوں۔
Ayahs 38:84–85

قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ Open ayah 38:84 in the Quran reader

ارشاد ہوا پس حق یہ ہے اور میں حق ہی کہتا ہں

لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 38:85 in the Quran reader

کہ میں تجھ سے اور ان تمام لوگوں سے، جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے، جہنم کو بھر دوں گا۔

(آیت) شیطا ننے بڑے طنطنہ سے چینلج کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھی پورے جلال اور کامل بےنیازی سے دیا۔ فرمایا کہ اگر تو سب کو گمراہ کر کے چھوڑے گا تو میری بھی یہ حق بات سن لے اور میں ہمیشہ حق ہی کہتا ہوں کہ میں بھی تجھ سے اور ان لوگوں سے جہنم کو بھردوں گا جو تیری پیروی کریں گے۔ یہ ماجرا قریش کے لیڈروں اور آنکھیں بند کر کے ان کی پیروی کرنے والوں کو سنایا گیا ہے کہ وہ بھی اگر دیدہ بینا اور گوش شنوار رکھتے ہیں تو اس حکایت میں اپنا حشر دیکھ اور سن لیں۔
Ayahs 38:86–88

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ Open ayah 38:86 in the Quran reader

کہہ دو ، نہ میں اس پر تم سے کسی عوض کا طالب ہوں اور نہ میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 38:87 in the Quran reader

یہ تو بس دنیا ولاوں کے لئے ایک یاد دہانی ہے

وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ Open ayah 38:88 in the Quran reader

اور تم جلد اس کی دی ہوئی خبر کو جان لو گے۔

(آیت) تنبیہ بانداز و عظت یہ آخر میں ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا ہے کہ میں یہ قرآن جو تم کو سنا رہا ہوں تو اس پر تم سے کسی صلہ کا طالب نہیں ہوں کہ تم نے اس کی قدر نہ کی تو میں صلہ سے محروم رہ جائوں گا۔ میں نے یہ بارگراں خود اپنی خواہش سے نہیں اٹھایا ہے بلکہ یہ خدا کی ڈالی ہوئی ایک ذمہ داری ہے اس لئے اس کا اجر بھی اسی کے پاس ہے اور اس کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں بھی وہی میری مدد اور رہنمائی بھی فرمائے گا۔ اگر تم اس کو رد کرو گے تو یاد رکھو کہ یہ رب العالمین کی طرف سے دنیا والوں کے لئے ایک عظیم یاد دہانی ہے اور یہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ تمہارے سامنے ظاہر ہوجائے گی۔ ان سطور پر اس سورة کی تفسیر بتوفیقی ایزدی تمام کو پہنچی۔ واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمینر حمان آباد 21 مئی 1975 ء