Ayah 37:11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیت کی وضاحت
آیت 1
’ و ‘ قسم کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو قسمیں کھائی ہیں یہ تعظیم کے لئے نہیں بلکہ مقسم علیہ پر شہادت کے لئے ہیں۔ استاذ امام ؒ نے اپنے رسالہ الامعان فی اقسام القرآن ‘ میں اس مسئلہ پر مفصل بحث کی ہے۔ ہمارے قلم سے اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔ قسم کے اس مفہوم کی روشنی میں ’ والصفت صفا ‘ کا ترجمہ ‘ شاہد ہیں صفیں باندھے ہوئے حاضر رہنے والے فرشتے۔ کیا جائے تو یہ قسم کی مفہوم کی بالکل ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والا ہوگا۔
’ صافات ‘ یہاں فرشتوں کی صفت کے طور پر آیا ہے اور اس کی وضاحت اسی سورة میں خود حضرت جبرئیل ؑ کی زبانی ہوگئی ہے۔ ان کا ارشد نقل ہوا ہے۔ ’ وما منا الا الہ مقام معلوم وانا لنحن الصافون وان النحن المسبحون (164۔۔۔ 16) (اور ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک معین مقام ہے اور ہم تو صف بستہ رہنے والے ہیں اور ہم تو تسبیح کرتے رہنے والے ہیں)۔
قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان فرشتوں کا ذکر ہے جو ملاء ’ علی ‘ کے زمرے سے تعلق رکھتے اور عرس الٰہی کے ارد گرد صف بستہ رہتے ہیں۔ سورة زمر میں ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے : وتری الملئکۃ حافین من حول العرش یسبحون بحمد ربھم (75) (اور تم دیکھو گے فرشتوں کو گھیرے ہوئے عرش کے ارد گرد اپنے رب کی تسبیح کرتے ہوئے، اس کی حمد کے ساتھ)۔
Ayah 37:2آیت 2
’ زجر ‘ کے معنی جھڑکنے، ڈانٹنے اور دھتکارنے کے ہیں۔ یہ انہی فرشتوں کی دوسری صفت بیان ہوئی ہے کہ اگر شیاطین ملاء اعلیٰ کے قریب پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان کا دھتکارتے ہیں۔ شیاطین کو ملاء اعلیٰ سے دور رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص انتظام بھی فرمایا ہے جس کی تفصیل آگے آہی ہے۔
Ayah 37:3آیت 3
یہ ان فرشتوں کی تیسری صفت ہے۔ تلاوتِ ذکر سے مراد وہی چیز ہے جو سورة زمر میں یسبحون بحمد ربھم ‘ کے الفاط سے اور اس سورة میں وانا النحن المسبحون ‘ کے الفاظ سے مذکور ہوئی ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حمدو تسبیح کرتے ہیں۔
یہاں عربی زبان کا یہ قاعدہ پیش نظر رہے کہ جب صفات کا بیان اس طرح ’‘ کے ساتھ ہو جس طرح یہاں ہے تو یہ دو باتوں پر دلیل ہوتا ہے۔ ایک اس بات پر کہ یہ تمام صفات ایک ہی چیز کی ہیں اس وجہ سے جن لوگوں نے ان صفات کے الگ الگ موصوف قرار دیے ہیں ان کی رائے ہمارے نزدیک عربیت کے خلاف ہے۔ دوسری اس بات پر کہ ان صفات میں ایک تدریجی ترتیب ہے۔ ہم نے جو تاویل کی ہے اس سے پہلی تو بالکل واضح ہے کہ یہ تمام صفات ملائکہ کی ہیں۔ رہی دوسری بات تو غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان صفات میں اسی طرح کی ترتیب ہے جس طرح کی ترتیب ہماری نمازوں میں ہوتی ہے۔ جس طرح ہم خدا کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر شیطان سے تعوذ کرتے ہیں۔ پھر اپنے رب کی حمدو تسبیح کرتے ہیں۔ اسی طرح ملائکہ عرشِ الٰہی کے ارد گرد صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر شیاطین کو زجر کرتے ہیں، پھر اپنے رب کی حمد و تسیبح کرتے ہیں۔
Ayah 37:4آیت 4
یہ اس قسم کا مقسم علیہ ہے۔ فرشتوں کی اس بندگی اور اس حمد و تسبیح کی شہادت میں پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ تمہارا رب ایک ہی ہے۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جن لوگوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مان کر ان کو خدائی میں شریک کر رکھا ہے اور ان کی شفاعت کی امید پر ان کو پوجا کر رہے ہیں وہ بالکل حماقت میں مبتلا ہیں۔ فرشتوں کا خود اپنا طرز عمل ان نادانوں پر ایک کھلی ہوئی نکیر ہے۔ اس لئے کہ وہ برابر خدا کی بندگی اور اس کی حمدو تسبیح میں سرگرم ہیں اور یہ احمق لوگ ان کو شریک خدا بنا کر ان کی پوجا میں لگے ہوئے ہیں۔
Ayah 37:5آیت 5
یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔ یعنی وہی اللہ واحد تمام آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا خداوند ہے اور وہی تمام مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس نے اپنی ناپیداکنار مملکت کے دور دراز گوشوں کا انتظام اپنے دوسرے شریکوں کے سپرد کررکھا ہے۔ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنی کائنات کے ہر گوشے اور کونے کا مالک خود ہے، اور خود ہی اپنے احکام کے تحت اس کا انتظام فرماتا ہے۔ اس کائنات میں فرشتوں کا اگر کوئی دخل ہے تو خدا کے شریک کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے فرمانبردار سفیروں اور کارندوں کی حیثیت سے ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے رب کے احکام کی تعمیل میں کرتے ہیں۔
’ رب الشارق ‘ میں ’ مشارق ‘ جمع اپنے اطراف کی وسعت کے اعتبار سے ہے۔ سوہ اعراف میں لفظ ’ اعراف تحت ہم بیان کر آئے ہیں کہ جمع بعض مرتبہ کسی شے کی وسعت اور اس کے طول کو ظاہر کرنے کے لئے بھی آتی ہے۔ قرآن میں ’ مشارق ‘ اور ’ مغارب ‘ کے الفاط اسی اعتبار سے آئے ہیں۔ اسی طرح جہاں مقصود کسی شے کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کرنا ہو وہ ان اس کو بعض اوقات مثنیٰ کی شکل میں لاتے ہیں۔ چناچہ قرآن میں ’ مشرقین ‘ اور ’ مغربین ‘ بھی استعمال ہوئے۔ رب المشارق ‘ کے بعد ’ رب المغارب ‘ بربنائے وضاھت قرینہ خدف ہے۔ اس لئے کہ ’ معارب ‘ ’ مشارق ‘ کے تحت ہیں۔ جب اصل کا ذکر آگیا تو فرع کا ذکر گویا خود بخود ہوگیا۔ بعض جگہ اس کو واضح بھی فرمادیا ہے۔ مثلا : فلا اقسم برب المثارق المغرانب انا لقدرون (المعارج : 40) (پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشارق اور مغارب کے رب کی کہ بیشک ہم قادر ہیں)۔ ’ مشارق ‘ کے خاص اہتمام کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ دنیا میں مشرکوں نے سب سے زیادہ پرستش سورج کی کی ہے جو مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔
Ayahs 37:6–7آیت 6۔ 7
اوپر کی آیت میں ملائکہ کا ذکر ہوا ہے کہ نادانوں نے تو ان کی و خدائی کا درجہ دے رکھا ہے اور ان کے ملاء اعلیٰ تک کا حال یہ ہے کہ وہ برابر اپنے رب کے آگے صفہ بستہ اور اس کی حمدوتسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔ اب آگے کی آیات میں شیاطین جن کا ذکر آرہا ہے کہ نادانوں نے ان کی نسبت یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہے اور وہ وہاں سے غیب کی خبریں حاصل کرتے ہیں چناچہ اسی توقع پر ان کی پرستش کی جاتی ہے کہ یہ علم غیب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ حالانکہ ملاء اعلیٰ تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہے۔ اگر کوئی شریر جن وہاں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔
’ حفظا ‘ فعل مخدوف کی تاکید ہے۔ یعنی ’ وحفظنھا حفظا ‘ اس وجہ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آسمان کو ہم نے شیاطین کی دراندازی سے اچھی طرح محفوظ کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ستارے ایک طرف تو آسمانِ زیریں کی زینت ہیں، دوسری طرف قدرت ان سے یہ کام بھی لیتی ہے کہ جو شیاطین ملاء اعلیٰ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو انہی ستاروں کے ذریعے سے سرزنش کی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے۔ مثلاً ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح وجعلنھا رجوما للشیطین (الملک : 5) (اور ہم نے سماء دنیا کو تاروں سے سجایا ہے اور ان کو شیاطین کے سنگسار کرنے کے لئے بھی بنایا ہے) دوسرے مقام میں ہے : ولقد جعلنا فی السماء بروجا وزینھا للناظرین وحفظنھا من کل شیطن رجیم۔ الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین (الحجر : 16۔ 18) (اور ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور اس کو دیکھنے والوں کے لئے ستاروں سے مزین کیا ہے اور اس کر ہر شیطان رجیم سے محفوظ کیا ہے اور اگر کوئی چھپ کے ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کی کوشش کرتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے)۔
Ayahs 37:8–9لا یسمعون الی الملا الاعلی ویقذفون من کل جانب۔ وحرورا ولھم عذاب واصب (8۔ 9)
’ لا یسمعون یہ نفی فعل، نفی فائدہ فعل کے پہلو سے ہے۔ یعنی شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کی کوشش کرتے تو ہیں لیکن وہ کان لگانے پاتے نہیں۔ جب وہ یہ کرنا چاہتے ہیں تو ہر جانب سے ان پر سنگ باری ہوتی ہے۔ ’ دحور ‘ کے معنی دھتکارنے اور کھدیڑ کے ہیں اور ’ واصب ‘ کے معنی دائم کے۔ یعنی اس دنیا میں تو وہ اس طرح ملعون و مرجوم رہیں گے اور آخرت میں ان کے لئے ایک دائمی عذاب ہے۔
Ayah 37:10آیت 10
یعنی قدرت کے اس محکم انتظام کے بعد اس بات کا تو امکان ہے نہیں کہ کوئی شیطان ملاء اعلیٰ تک پہنچ سکے یا ان کی باتیں سن سکے۔ کوئی شریر جن اگر کچھ کرسکتا ہے تو یہ کرسکتا ہے کہ اچکوں کی طرح کوئی بات اچکنے کی کوشش کرے۔ سو اس کے سدِ باب کے لئے بھی یہ انتظام ہے کہ آسمان کی برجیوں سے ایک دہکتا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔
اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ نہ فرشتوں کو خدا کی خدائی میں کوئی دخل ہے اور نہ جنات کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہے کہ وہاں سے وہ غیب کی کوئی خبر معلوم کرسکیں اس وجہ سے جو لوگ فرشتوں کو خدا کی چہیتی بیٹیاں سمجھ کر پوج رہے ہیں وہ بھی احمق اور جو جناب کو علم غیب کا وسیلہ سمجھ کر ان سے تعلق و توصل پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی احمق۔ یہ امریہاں ملحوظ رہے کہ عربوں کے شرک اور ان کی کہانت کی تمام گرم بازاری انہی دو مذکورہ تصورات پر تھی۔ قرآن نے یہاں جنوں اور فرشتوں دونوں کی حقیقت واضح کرکے ان کی ضلالت کے اس سارے کاروبار کو ختم کردیا۔
Ayah 37:112۔ آگے کا مضمون۔ آیات۔ 11۔ 74
آگے احوال ِ قیامت کی تفصیل ہے اور مقصود اس سے یہ دکھانا ہے کہ جو لوگ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو پرستش کر رہے ہیں قیامت کے دن ان کا اور ان کے معبودں کا کیا حال ہونا ہے۔ شرک کے علم بردار لیڈر اور ان کے پیرو کس طرح ایک دوسرے پر لعنت کریں گے ! اور اہل ایمان، جو تمام مخالفتوں کے علی الرغم توحید اور قیامت کے عقیدے پر جمے رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو کس فوزِ عظیم سے نوازے گا۔ آیت کی تلاوت فرمائیے۔
ارکان قیامت کی ایک واضح دلیل
فاستفتھم اھم اشد خلقاً امر من خلقناً ط انا خلقنھم من طین لازیب (11)
احوال قیامت کے باین کے لئے پہلے بطور تمہید اس کے امکان کے سوال کو لیا ہے کہ اگر یہ لوگ تمہایر انذار قیامت کو اس بنا پر جھٹلاتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جانا ان کے نزدیک مس بعد ہے تو ان سے پوچھو کہ یہ آسمان و زمین یہ دریا اور پہاڑ یہ سورج اور چاند جو خدا نے پیدا کئے ہیں ان کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آدمیوں کو ؟ تو جو خدا یہ عظیم چیزیں عدم سے وجود میں لانے پر قادر ہے وہ انسان جیسی حقیر چیز کو دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں اجز رہے گاڈ یہی مضمون سورة مومن میں یوں بیان ہوا ہے۔ لخاق السموت والارض اکبر من خلق الناس ولکن اکثر الناس لا یعلمون (57) (آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے زیادہ شکل ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے) یہی سوال دوسرے مقام میں یوں اٹھایا ہے : انتم اشد خلقا ام السمآء بنھا النزاعت :27) (کیا تمہارا پیدا کیا جانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا جس کو بنایا۔)
انا خلقنھم من طین لازب، طین لازب چپکنے والی مٹی کو کہتے ہیں مطل یہ ہے کہ ان کو تو ہم نے چپکنے والی مٹی سے بناڈالا۔ ہمیں ان کے بنانے کے لئے کوئی خاص سروسامان فراہم نہیں کرنا پ ڑا تھا کہ دوبارہ اس کو فراہم کرنا ہمارے لئے مشکل ہوجائے۔ جس مٹی سے ہم نے ان کو بنایا کس کی بہت بڑی مقدار ہمارے پاس موجود ہے۔ ہم جب چاہیں گے ان کو پھر بنا دیں گے۔ جب پہلی بار ہمیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو دوبارہ ہمارے لئے یہ کام کیوں مشکل ہوجائے گا !
یہاں ام من خلقنا میں من کے استعمال سے ذہن اس طرف بھی جاتا ہے کہ مقابلہ ملائکہ اور جناب کی خلقت سے کیا جا رہا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان سے پوچھو کہ ان کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا دوسری مخلوقتا جو ہم نے پیدا کی ہیں (مثلاً جنات اور ملائکہ ان کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے۔ ان کو تو ہم نے مٹی سے پیدا کیا ہے اور ملائکہ اور جنوں کو تو نور اور نار سے پیدا کیا ہے تو اگر ہم ان کے پیدا کرنے پر قادر ہوگئے تو ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں قاصر رہ جائیں گے !
Ayah 37:12بل عجبت ویسخرون (12)
متکلم اور منا میں بعداد المشرقین
یعنی تمہارے لئے ان کا انکار تعجب انگیز ہے اور ان کے لئے تمہارا یہ دعویٰ وجہ تمسخر ہے۔ تم حیران ہو رہے ہو کہ بھلائی کو عاقل ایسی واضح حقیقت کو کس طرح جھٹلا سکتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ مذاق اڑا رہے ہیں کہ کوئی شخص عقل و ہوش رکھتے ہوئے اس طرح کی بات کس طرح کہہ سکتا ہے ! مطلب یہ ہے کہ تمہایر اور ان کے درمیان بع دالمشرقین ہے اور تم ان کی اس دوری کا صحیح اندازہ نہیں کر رہے ہو اس وجہ سے ان کا رویہ تمہارے لئے وجہ پریشانی ہے۔
Ayah 37:13واذا ذکروا لایذکرون (13)
یہ اس بعد ذہنی کا لازمی بیان ہوا ہے کہ جب ان کے سوچنے کا انداز اتنا مختلف ہے کہ جو چیز تمہارے نزدیک بدیہی ہے وہ ان کے نزدیک ایک مذاق ہے تو تمہاری ساری تذکیر و تنبیہ ان کے لئے بالکل بےسود ہے۔ ان کو جو نصیحت بھی کی جاتی ہے وہ سب ہوا میں اڑ جاتی ہے کوئی دلیل بھی ان پر کارگر نہیں ہوتی۔
Ayahs 37:14–15واذا رادایۃ یستخرون وقالوآ ان ھذا الا سحرمبین (17-14)
فرمایا کہ اس طرح کے لوگ کسی بڑے سے بڑے معجزہ سے بھی قائل نہیں ہوتے۔ زچ کرنے کے لئے اس کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن جب کوئی نشانی ان کے سامنے آتی ہے تو اس کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے۔
Ayahs 37:16–17ء اذا مننا وکناتراباً و عظماً انا لمبعوثون اوآ بآء نا الالون (17-16)
یہ تعبیر ہے ان کے مذاق کی۔ فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ بھلا جب ہم مر جائیں گے اور سڑگل کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو اس کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائیں جائیں گے ؟ اور تعجب پر تعجب ان کو یہ ہے کہ کیا ان کے آباء اجداد بھی اٹھائے جائیں گے ! یہ باتیں ان کو عقل سے بالکل بعید معلوم ہوتی ہیں اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ اس چیز سے ان کو ڈراتے ہیں وہ دیوانے ہیں۔
Ayah 37:18قل لعلم و انتم واخرون (18)
چونکہ ان کا سوال بانداز مذاق ہے اس وجہ سے اس کا جواب بھی نہایت تیکھے انداز میں دیا ہے۔ فرمایا کہ جی ہاں، آپ لوگ اٹھائے بھی جائو گے اور اس وقت نہایت ذلیل بھی ہو گے !
Ayah 37:19فانما من زجرۃ واحدۃ فا ذا ھم ینظرون (19)
ظہور قیامت کے وقت منکرین کی حواس باختگی
یعنی یہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو کوئی خاص اہتمام وا نتظام کرنا پڑے گا۔ یہ کام صرف ایک ڈانٹ میں انجام پائے گا۔ ایک ہی ڈانٹ میں وہ دفعتہ اٹھ کرتاکنے لگیں گے۔ سورة نازعات میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے فانما ھی زجرۃ واحدۃ اٹھ فاذا اھم بالساھرۃ (14-13) (بس وہ ایک ہی ڈانٹ ہوگی کہ وہ دفعتہ بیداری کی حالت میں آجائیں گے۔) اس اسلوب بشیان میں سراسیمگی اور دہشت زدگی کا جو مضمون ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔
Ayah 37:20وقالوا یویلنا ھذا یوم الدین (20)
یعنی جس قیامت کا آج اس رعونت کے ساتھ انکار کر رہے ہیں اس وقت پکار اٹھیں گے کہ ہائے ہماری شامت ! یہ تو وہی جزاء و سزا کا دن آگیا جس کو ہم جھٹلاتے رہے تھے۔
Ayah 37:21ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبون (21)
ان کی اس بات پر فرشتے کہیں گے کہ جی ہاں ! یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلاتے رہے تھے !
Ayahs 37:22–23احشروالذین ظلموا و ازواجھم وما کانوا یعبدون، من دون اللہ فاھدوھم الی صراط الجحیم (23-22)
الذین ظلموا سے مراد مشرکین ہیں۔ اس لئے کہ سب سے بڑا ظلم شرک ہی ہے۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اشارہ خاص طور پر ائمہ شرک کی طرف ہے۔
لفظ ازواج یہاں ہم مشریوں، اتباع اور پیرو کاروں کے لئے استعمال ہوا ہے۔
ماکانوا یعبدون سے مراد ان کے شرکائے جن اور وہ اصنام و احجار ہیں جن کی وہ پرستش کرتے رہے تھے۔
قیامت کے دن ان سب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان سب کو اکٹھا کر کے ان کو جہنم کا رستہ دکھائو۔
Ayahs 37:24–25وقفوھم انھم مسئولون مالکم لاتناصرون بل ھم الیوم مستسلمون (26-24)
یہ اس دن ان کی ذلت اور بےبسی کی تصویر ہے۔
منکرین کی ذلت و بےبسی
مالکم لاتناصرون یہ وہ بات ہے جس کو پوچھنے کے لئے ان کو روکا جائے گا۔ ارشاد ہوگا کیا وجہ ہے آج تم لوگ ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے ہو ؟ دنیا میں تو تم ایک دوسرے کے جھنڈے اٹھائے پھرے لیکن آج نہ لیڈر پیروئوں کی کوئی مدد کر رہے ہیں اور نہ پیرو لیڈروں کی، نہ معبود عابدوں کے لئے کچھ کرتے نظر آ رہے ہیں اور نہ عابد معبودوں کے لئے کسی جوش فدویت کا اظہار کر رہے ہیں۔ آخر ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت کیوں طاری ہے۔ ایک دوسرے کے لئے اصلی جاں نثاری کا وقت تو اب آیا ہے لیکن اس وقت تو ہر ایک کو صرف اپنی پڑی ہوئی ہے ! !
Ayah 37:26بل ھم الیوم مستلمون استسلام کے معنی حوالے کردینے اور مطیع بن جانے کے ہیں۔ فرمایا کہ آج تو یہ لوگ بڑے ہی مطیع و نیاز مند بنے ہوئے ہیں ! کل تک تو ان کی رعونت کا یہ عالم تھا کہ پٹھے پر ہاتھ نہیں رکھنے دیتے تھے لیکن آج سب نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں !
Ayah 37:27واقیل بعضھم علی بعض یتسآء لون (27)
تساء ل یہاں باہم سوال و جواب کے مفہوم میں ہے اور آگے تفصیل آرہی ہے اس تو تکار کی جو اسی دن لیڈروں اور اس کے پیروئوں میں ہوگی۔
لیڈروں و پیروئوں کی توتکا
Ayahs 37:28–29قالو انکم کنتم تانوننا عن الیمین قالوا بل لم تکونوا مومنین (29-28)
قرینہ دلیل ہے کہ پہلے قالوا کے فاعل عوام ہیں اور دوسرے کے ان کے لیڈر یعنی اس دن عوام اپنے لیڈروں سے کہیں گے کہ یہ آپ ہی لوگوں کی لائی ہوئی شامت ہے۔ آپ ہی لوگ دبنے اور بائیں سے ہر وقت بم کو گھیرے رہتے تھے کہ ہم پیغمبر کی بات نہ سنیں۔ اگر آپ لوگ ہماری راہ میں اڑنگے نہ ڈالتے تو ہم ضرور ایمان لانے والے بنتے۔ لیڈر ان کی بات کاٹ کر فوراً ان کو جواب دیں گے کہ تمہارا یہ الزام بالکل جھوٹ ہے۔ تم لوگ خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے۔
Ayah 37:30وما کان لنا علیکم من سلطن ج بل کنتم قوماً طغین (30)
سلطان کے معنی زور اور انتیار کے ہیں۔ یعنی ہمارا تمہارے دلوں پر کوئی زور و اختیار تو تھا نہیں کہ تم اپنا قصور ہمارے سر تھوپتے ہو تم خود نافرمان اور سرکش لوگ تھے کہ حق کے واضح طور پر سامنے آجانے کے بعد تم نے اس کی پیروی کرنے کے بجائے ہماری بات مانی۔
ایک نادر اسلوب
قالوتنا عن الیمین کے ٹکڑے کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات اسلوب کلام کی اس ندرت کو نہیں سمجھ سکے جو یہاں ملحوظ ہے۔ قرآن میں اہل دوزخ کے باہمی سوال و جواب کے سلسلے میں یہ بلیغ اسلوب جگہ جگہ استعمال ہوا ہے کہ متکلم کی بات شروع ہوتے ہی مخاطب اس کو کاٹ کر اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اس کے لگائے ہوئے الزام سے اپنے کو بچا لے جائے۔ پچھلی سورتوں میں اس کی بعض مثالوں کا ذکر ہم کرچکے ہیں۔ آگے بھی خاص طور پر آخری گروپ کی سورتوں میں اس کی نہایت بلیغ مثالیں آئیں گی۔
یہاں بھی وہی اسلوب ہے۔ عوام جو نہی اپنے لیڈروں کو ملامت کرنا چاہیں گے اور ان کی زبان یہ کلمہ نکلے گا کہ آپ ہی لوگ ہمارے پاس آتے تھے دبنے سے … تو ان کے لیڈر سمجھ جائیں گے کہ یہ لوگ کہنا چاہتے ہیں کہ تم ہی لوگ ہمارے دہنے بائیں سے آ کر ہمیں پیغمبر کی بات سننے سے روکتے رہے ہو چناچہ جونہی ان کی زبان سے لفظ عن الیمین نکلے گا وہ فوراً سبقت کر کے ان کی بات کاٹ دیں گے اور اپنا دفاع شروع کردیں گے۔ ان کی اس مداخلت اور اس قطع کلام کو ظاہر کرنے کے لئے قرآن نے بات عن الیمین ہی پر ختم کردی ہے تاکہ اسلوب کلام ہی سے یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ آج جو لوگ آنکھ بند کر کے اپنے لیڈروں کی پیروی کر رہے ہیں ایک دن آئے گا کہ ان کے لیڈران کو بات بھی پوری نہیں کہنے دیں گے بلکہ بیچ ہی سے بات کاٹ کر اپنی برأت کا اعلان شروع کردیں گے۔ سورة سبا کی آیات 33-31 کے تحت لیڈروں اور عوام کی توتکار کی تفصیل گزر چکی ہے۔ اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayahs 37:31–32فعس علینا قول ربنا ترانا لذا آئفون فاغوینکم انا کناغوین (32-31)
یہ بھی لیڈروں ہی کی بات نقل ہوئی ہے کہ اب ایک دوسرے پر الزام تھوپنے سے کچھ حاصل نہیں۔ مجرم ہم بھی ہیں اور تم بھی ہو اس وجہ سے خدا کی وہ بات جو اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرمائی تھی کہ میں تجھ کو اور تیری پیروی کرنے والوں کو جہنم میں بھر دوں گا ہم دونوں پر پوری ہوچکی ہے۔ اب ہم کو لازماً وہ عذاب چکھنا ہے جو ہمارے جیسے امت زوروں کے لئے مقدر ہے فاغوبنکم انا کنا محسوین یعنی ہم سزا اور ملامت اس صورت میں ہوتے جب ہم خود نیک ہوتے اور تم کو بد بنانے کی کوشش کرتے۔ ہم جو کچھ خود تھے وہی ہم نے تم کو بنانے کی کوشش کی۔ یہ تمہاری بےبصیرتی تھی کہ تم نے ہماری پیروی کی اور اس سے بڑی بےبصیرتی یہ ہے کہ ہمارے پیروی کا جو انجام سامنے آیا ہے اس کے لئے مورد الزام ہم کو ٹھہراتے ہو ! آخر اندرائن سے تم نے سیب کھانے کی توقع کیوں کی ؟
Ayah 37:33فانھم یومئذ فی العذاب متبرکون (33)
لیڈر اور پیرو دونوں جہنم میں
مطلب یہ ہے کہ اس دن عوام کا یہ عذر کچھ کام نہیں آئے گا کہ ان کی گمراہی کے ذمہ دار دوسروں میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو اتنی عقل دی ہے کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کرسکے، بالخصوص جب کہ باطل کے مقابلے میں حق کی دعوت دینے والے بھی موجود ہوں۔ اس وجہ سے ایسے عوام اور ایسے لیڈر دونوں عذاب میں حصہ دار ہوں گے۔
Ayahs 37:34–36انا کذلک نفعل بالمجرمین، انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون، وقولون اینا لتارکوآ ایھتینا لشاء مجنون (36-34)
مجرمین قریش کا انجام
آخرت میں پیش آنے والا ماجرن سکر اب یہ کلام کو مطابق حال کردیا کہ یہ صرف دوسروں ہی کی سرگزشت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ تمام مجرموں کے ساتھ ہوگا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ جب ان کو دعوت دی جاتی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو وہ غرور سے اکڑتے اور کہتے کہ بھلا ہم ایک خبطی شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں ! تو جب یہی بات آج کے لوگ اپنے رسول کو کہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ یہی صورت ان کو پیش نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو تمام مجرموں کیساتھ ایک ہی ہوگا۔
Ayah 37:37بل جآء بالحق و صدق المرسلین (37)
قریش کو جواب
یہ قریش کو جواب دیا گیا ہے کہ جو شخص تمہیں توحید کی دعوت دے رہا اور خدا کے عذاب سے ڈرا رہا ہے یہ کوئی دیوانہ یا شاعر نہیں ہے بلکہ وہ تم کو ایک امرشدنی کی خبر دے رہا ہے اس کے رسول برحق ہونے کی نہایت واضح دلیل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ سے لے کر حضرت مسیح تک تمام رسولوں نے اس کی پیشین گوئی کی اور اس کی بعثت سے ان کی پیشین گوئیوں اور ان کی تعلیمات کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ شخص تمہارے اندر نہ کوئی اجنبی ہے اور نہ اس کی تعلیمات تمہارے لئے انوکھی ہیں۔ اس کی خبر پچھلے رسولوں نے دی اور اس کی تعلیمات کی تصدیق پچھلے صحیفوں سے ہو رہی ہے۔ اگر تم اس بات سے بیخبر ہو تو اہل کتاب سے پوچھو، ان میں جو ایمان دار ہوں گے وہ اس بات کی تصدیق کریں گے یہ ساری باتیں پچھلی سورتوں میں تفصیل سے زیر بحث آچکی ہیں اس وجہ سے ہم یہاں اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں۔
Ayahs 37:38–39انکم لذآئقوا لعذاب الادیم، وما تجزون الا ما کنتم تعملون (39-38)
یعنی اللہ کا رسول تمہیں جس عذاب کی خبر دے رہا ہے اس کو خبط و جنون پر محمول نہ کرو بلکہ وہ ایک حقیقت ہے۔ اگر تم نے اس کی تکذیب کردی تو تمہیں لازماً اس درد ناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا اور یہ تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی بلکہ یہ ٹھیک ٹھیک تمہارے اعمال کا بدلہ ہوگا جو تمہارے سامنے آئے گا۔
Ayah 37:40الا عباد اللہ المخلصین (40)
عذاب سے محفوظ رہنے والے
استثناء یہاں منقطع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس انجام سے ہر ایک کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اللہ کے وہی بندے اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ نے اپنی رحمت کے لئے خاص کرلیا ہو۔ یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت کے لئے انہی بندوں کو خاص کرتا ہے جو اپنے ایمان و عمل سے اس کا استقحقا پیدا کرتے ہیں۔ لفظ مخلص صرف اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے کہ جس کو جو کچھ بھی ملے گا خدا ہی کے فضل و رحمت سے ملے گا، کسی دوسرے کے امکان میں یہ نہیں ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے دلا سکے جیسا کہ مشرکین نے گمان کر رکھا ہے۔