37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 37:79–82

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

نوح پر سلامتی ہے دنیا والوں میں !

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

ہم خوب کاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے باایمان بندوں میں سے تھا۔

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو غرق کردیا۔

سلم علی نوح فی العلمین انا کذلک نجزی المحسنین انہ من عباد نا الامومنین ثم اغرقنا الاخرین (82-78) یہ حضرت نوح ؑ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین و آفرین اور دنیا و آخرت دونوں میں برکت و سلامتی کی بشارت ہے کہ اس دنیا میں جو مقام اس کو حاصل ہوا وہ اس سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ تمام خلق میں یہ بازی اسی نے جیتی۔ خوب کاربندوں کے لئے اباری بشارت انا کذلک … الایۃ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ یہ معاملہ صرف حضرت نوح ؑ ہی کے لئے خاص نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خوب کار بندوں کے ساتھ ہمیشہ یہی معاملہ کیا ہے اور آئندہ بھی وہ اپنے مخلص بندوں کے ساتھ یہی کرے گا۔ یہ فضیلت کسی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ صافت کے ساتھ مخصوص ہے۔ جو لوگ اپنے انداز احسان کی صفت پیدا کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو اسی طرح صلہ دے گا۔ لفظ احسان کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ اس کی اصل حقیقت پورے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری ہے۔ انہ من عبادنا المومنین یہاں لفظ مومن اپنے کامل معنی میں ہے۔ یہ فقرہ بھی حضرت نوح کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین و آفرین کے مفہوم میں ہے کہ ”بیشک وہ ہمارے راسخ الایمان بندوں میں سے تھا نہ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ اور اس کی دعوت لے کر اٹھے ہیں ان کو اپنے سامنے یہ اسوہ رکھنا چاہئے۔ ایمان کا حقیقی مقتضا یہی ہے۔ جو لوگ اس طرح ایمان کا حق ادا کرتے ہیں وہی لوگ مرتبہ احسان پر فائز ہوتے ہیں اور انہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ فضیلت ہے جو نوح کو حاصل ہوئی۔ ثم اغرقنا الاخسرین یعنی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو چھانٹ لیا جن کے اندر صلاحیت تھی۔ باقی سارے لوگوں کو غرق کردیا۔ یہی اس دنیا کی خلقت کی غایت ہے۔ اس کے اندر سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو چھانٹ لے گا جو اپنے اندر صلاحیت کا ثبوت دیں گے۔ باقی سارے لوگوں کو خسک و خاشاک کی طرح جہنم میں جھونک دے گا۔
Ayahs 37:83–84

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور اسی کی جماعت میں سے ابراہیم بھی تھا۔

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب کہ وہ حاضر ہوا اپنے رب کے حضور میں قلب سلیم کے ساتھ

وان من شیعتہ الابراہیم (83) حضرت ابراہیم اور ان کی دعوت حضرت نوح ؑ کے بعد سب سے زیادہ جلیل القدر نبی و رسول حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔ ان کی نسبت فرمایا کہ یہ بھی انہی کے زمرہ اور گروہ میں سے ہیں۔ جو دعوت خلق کو انہوں نے دی وہی دعوت انہوں نے بھی دی اور اللہ کی راہ میں جس ایمان و احسان کا مظاہرہ انہوں نے کیا اسی صدق و اخلاص کا مظاہرہ انہوں نے بھی کیا۔ اوپر آیت 78 میں یہ بات جو فرمائی ہے کہ نوح کی ملت پر ہم نے پچھلوں میں سے ایک گروہ کو قائم رکھا یہ اسی کے تسلسل کی طرف اشارہ ہے کہ جس ملت کے داعی حضرت نوح تھے اسی ملت کے داعی بن کر حضرت ابراہیم ؑ اٹھے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ تمام انبیاء کی ملت اصلاً ایک ہی ہے اور وہ ہے ملت اسلام ! اس مسئلہ پر مفصل بحث اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ تاطور سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی تربیت حضرت نوح ؑ نے فرمائی ہے۔ اگرچہ اس روایت پر میں مطمئن نہیں ہوں لیکن اس کی صحت اگر باور کرلی جائے تو حضرت ابراہیم ؑ کے حضرت نوح ؑ کے زمرے میں سے ہہونے کا ایک اور پہلو بھی نکل آتا ہے۔ یہ تعبیر حضرت ابراہیم ؑ کی کامل حنیفیت، اللہ کی طرف ان کی پوری یکسوئی اور ان کے کمال صدق و اخلاص کی۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک و نفاحی کے امراض سے بالکل محفوظ پاک ہو۔ سورة شعراء میں یہ۔ یوم لا ینفع مال ولاینون الا من اتی اللہ بقلب سلیم (89-81) اس دن کو یاد رکھو جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد صرف وہ لوگ فیروز مند ہوں گے جو خدا کے حضور میں قلب سلیم لے کر حاضر ہوں گے) یہ یعنی نہ تو ان کے دلوں کے اندر شرک و نفاق کا کوئی روگ ہوگا اور نہ ان کی وفا داری منقسم ہوگی بلکہ ان کے دل پر آلائش سے پاک ہوں گے اور ان کی محبت و اطاعت تمام تر اللہ واحد کے لئے ہوگی۔
Ayahs 37:85–86

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب کہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھلا تم لوگ کس چیز کو پوجتے ہو

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا اللہ کے سوا دوسرے من گھڑت معبودوں کے طالب ہو !

اذ قال لائیہ وقومہ ماذا تعبدون، ائفکا الھۃ دون اللہ تریدون (86-85) یہ حضرت ابراہیم ؑ کی حنیفیت اور ان کے کمال اخلاص و توحی کے بیان کے لئے ان کی اس وحوت کا حوالہ ہے جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو دی۔ ما ذا تعبدون کے الفاظ تحقیر پر دلیل ہیں۔ یعنی انہوں نے ان کو ملامت فرمائی کہ بھلا یہ کیا بےحقیقت چیزیں ہیں جن کو تم لوگ پوج رہے ہو ! افک کے معنی جھوٹ اور بےحقیقت بات کے ہیں۔ یعنی کیا محض جھوٹ موٹ، اپنے جی سے گھڑ کر خدا کے سوا تم دوسرے معبودوں کے طالب بنے ہو !
Ayah 37:87

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

تو خداوند عالم کے باب میں تمہارا کیا گمان ہے

فما ظنکم برب العلمین (87) یہ جملہ الفاظ کے لحاظ سے جتنا مختصر ہے معافی کے اعتبار سے اتنا ہی وسیع ہے۔ مططلب یہ ہے کہ اگر تم خدا کے سوا دوسرے معبودوں کے طالب بنے ہو تو خدائے رب العلمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ! کیا تم اس بدگمانی میں مبتلا ہو کہ یہ تنہا تمہاری ضروریات کی کفالت اور تمہاری حفاظت سے قاصر ہے ؟ کیا وہ اکیلا اس دنیا کے انتظام سے عاجز ہے اس وجہ سے تم نے اس کے لئے مددگار تلاش کئے ہیں ؟ کیا تم اس وہم میں مبتلا ہو کر وہ اس دنیا کے سرگوشے اور ہر فرد کے حالات سے باخبر نہیں ہو سکتا اس وجہ سے اس کو باخبر کرنے کے لئے دوسرے وسائل و وسایط کی ضرورت ہے ؟ کیا تم اس کے عدل و رحم سے مایوس ہو کر اس کی رمت حاصل کرنے کے لئے تم نے اپنے جی سے اس کے دربار کے لئے سفارشی ٹھہرائے ہیں ؟ مطلب یہ ہوا کہ جب تک خداوند کریم کے بارے میں اس قسم کی کوئی بدگمانی کسی کو نہ ہو اس وقت تک وہ اس کے سوا کسی کو اپنا معبود بنانے کا تنگ گوار نہ کرے گا ! اور اگر کوئی شخص اپنے رب سے اس قسم کا کوئی سوء ظن رکھتا ہے تو اسے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اعلیاذ باللہ خدا کوئی بےحمیت و بےغیرت ہستی نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنی مملکت میں ہر ایک کی شرکت و مداخلت گوارا کرے بلکہ وہ عزیز و جبار اور غیور و متکبر ہے اس وجہ سے وہ ایسے تمام لوگوں کو جہنم میں جھونک دے گا جو اس کی خائی میں شریک بننے کے مدعی ہوں گے یا دوسروں کو شریک بنائیں گے۔
Ayahs 37:88–94

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پس اس نے ایک نظر ستاروں پر ڈالی۔

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

پس کہا، میں نے ماندہ ہو رہا ہوں۔

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

پس وہ لوگ اس کو چھوڑ کر چلے گئے

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

پس وہ نظر بچا کے ان کے دیوتائوں کی طرف گیا۔ بولا آپ لوگ نوش نہیں کرتے !

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

کیا بات ہے کچھ بولتے نہیں !

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر مار ان کو بھرپور ہاتھ۔

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

پس لوگ آئے اس کی طرف بھاگے ہوئے۔

فنظر نظرۃ فی النجوم فقال انی سقم فتولوا عنہ مدبرین فراغ الی الھتم فقال الا تاکلون، مالکم لاتنطقون، فراغ علیھم ضرابط بالیمین (93-88) قوم کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی کی وضاحت مذکورہ بالا تقریر حضرت ابراہیم ؑ نے معلوم ہوتا ہے، معبد میں یا کسی تقریب کے موقع پر کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ اسکیم بنائی کہ اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی اچھی طرح واضح کردیں۔ اس کے لئے یہ طریقہ انہوں نے اختیار کیا کہ شب میں تقریب سے فارغ ہو کر جب لوگ وہاں سے رخصت ہونے لگے تو انہوں نے ایک نظر اس طرح ستاروں پر ڈالی گویا وقت کا اندازہ کرنا چاہتے ہوں اور لوگوں کے کانوں میں بات ڈالتے ہوئے فرمایا کہ میں اس وقت ماندہ ہو رہا ہوں۔ لوگوں نے یہ سمجھا کہ رات زیادہ گزر چکی ہے اور یہ نوجوان دن بھر کا تھکا ہوا ہے اس وجہ سے اس وقت گھر نہیں جانا چاہتا بلکہ یہیں معبد میں رات گزارنی چاہتا ہے۔ یہ ایک معمولی بات تھی اس وجہ سے لوگ ان کو وہاں چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کو سدھار رہے حضرت ابراہیم ؑ کو جب تنہائی ملی تو وہ نظر بچا کے بت خانے میں جا گھسے پہلے بتوں پر کچھ طنز یہ فقرے چست کئے کہ آخر آپ لوگوں کے سامنے یہ بھوجن جو رکھا ہوا ہے اس کو نوش کیوں نہیں فرماتے اور اس درجہ خاموشی کیوں ہے، کچھ بولتے کیوں نہیں ! ! اس کے بعد چند بھرپور ہاتھ ایسے مارے کہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔ دوسرے مقام میں ہے کہ تمام چھوٹے بتوں کو توڑ دیا صرف بڑے بت کو ایک خاص مصلحت سے، جس کی وضاحت سورة انبیاء میں ہوچکی ہے، چھوڑ دیا۔ مفسرین کی ایک غلط فہمی کا ازالہ یہ اصل واقعی کی سیدھی سادی شکل ہے جو الفاظ قرآن سے سامنے آتی ہے لیکن مفسرین نے معلوم نہیں کس طرح اس کے تحت ایسی روایتیں نقل کردی ہیں جن سے یہو بات نکلتی ہے کہ نعوذ باللہ حضرت ابراہیم ؑ نے اس موقع پر غلط بیانی کی اور وہ ساتروں کے مئوثر ہونے پر عیدہ رکھتے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ستاروں پر جو نظر ڈالی تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ ستارہ پرستوں کی طرح ان کے کسی تاثیر کے قائل تھے بلکہ وہ محض وقت کا اندازہ کرنا چاہتے تھے۔ جب تک گھڑیوں کا رواج نہیں ہوا تھا لوگ شب میں، وقت کا اندازہ کرنا ہوتا تو، ستاروں کو دیکھتے اور دن میں سورج ک، اس زمانے میں جس طرح وقت معلوم کرنے کے لئے ہر شخص کی نگاہ کلائی کی گھڑی کی طرف جاتی ہے بددیانہ زندگی میں اس مقصد کے لئے ہر شخص کی نظر بےساختہ آسمان کی طرف اٹھتی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے بھی بالکل اسی مقصد سے ستاروں پر ایک نظر ڈالی۔ اس کا کوئی تعلق نہ ستارہ پرستوں کے اوہام سے تھا اور نہ کواکب کی تاثیر سے۔ اسی طرح انہوں نے یہ جو فرمایا کہ انی سقیم یہ بھی انہوں نے کوئی غلط بیانی نہیں کی۔ سقیم عربی زبان میں میرض، ماندہ، مضمحل، نڈھال اور ضعیف و ناتواں سب کے لئے آتا ہے۔ جس کلام کے در و بست میں چستی نہ ہو اس کو بھی سقیم کہتے ہیں۔ اسی سورة میں اگے حضرت یونس کے ذکر میں ہے کہ فتبدنہ بالعرآء وھو سقیم (145) ظاہر ہے کہ یہ لفظ یہاں ضعیف و کمزوری کے معنی میں استعمال ہا ہے۔ اوپر ہم یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ موقع معبد میں کسی میلے کا تھا۔ ایسے موقع پر ایک حد تک ماندہ مضحمل تو ہر شخص ہوجاتا ہے۔ اسی کیفیت کا احساس حضرت ابراہیم ؑ نے بھی فرمایا اور چونکہ وہ معبد کے اندر ہی رات گزارنے کا ارادہ رکھتے تھے اس وجہ سے انہوں نے آسمان پر ایک نظر ڈال کر اور یہ فقرہ فرما کر معبد کے ذمہ داروں اور محافظوں کو یہ تصور دے دیا کہ گویا وہ تکان وا ضمحلال اور زیارات گزر جانے کے سبب سے اس وقت گھر جانا نہی چاہتے بلکہ یہیں پڑ رہنا چاہتے ہیں۔ اس طرح اگرچہ معبد کے اندر قیام کے لئے انہوں نے ایک توریہ کیا جس سے معبد کے محافظ مغالطہ میں پڑگئے لیکن اس توریہ کے لئے حضرت ابراہیم ؑ نے جو طریقہ اختیار فرمایا اور جو الفاظ زبان سے نکالے اس میں نہ کسی جھوٹ کی آمیزشن تھی نہ کسی بدعقیدگی کی بلکہ یہ اسی طرح کا ایک پاکیزہ توریہ تھا جس کی بعض نہایت عمدہ مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ فتولوا عنہ مدبرین حضرت ابراہیم کے توریہ سے معبدہ کے پیروئوں کو مغالطہ یہ رویہ بیان ہوا ہے ہے معبد کے پہرہ داروں اور ذمہ داروں کا انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے انداز اور ان کے فقرے سے یہ گمان کیا کہ یہ نوجوان تکان محسوس کر رہا ہے اور رات چونکہ زیادہ گزر چکی ہے اس وجہ سے اس وقت گھر جانا نہیں چاہتا۔ حضرت ابراہیم ؑ کا یہ ارادہ ان کو بالکل بےضرر محسوس ہوا اس وجہ سے انہوں نے اس میں مخل ہونا پسند نہیں کیا بلکہ ان کو چھوڑ کر وہ اپنے اپنے ٹھکانوں کو چلے گئے۔ فراغ الی الھتھم لفظ روغان عربی میں نظر بچا کر کترا کر اور کا والگا کر کہیں جانے یا پہنچنے کے لئے آتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے بتوں تک پہنچنے کے لئے یہ اہتمام اس وقت کیا ہے جب ان کو اندازہ ہوگیا کہ پہرے دار سو چکے ہیں۔ اس وقت وہ چپکے سے اٹھے اور دبے پائوں سب کی نگاہیں بچا کر معبد کے اس حصے میں پنچ گئے جہاں بت رکھے ہوئے تھے۔ فعال الاتاکلون مالکم لاتنطقون پہلے انہوں نے ان پر کچھ طنزیہ فقرے چست کئے۔ فریاد کہ یہ لذیذ کھانے اور حلوے جو آپ کے پجاریوں نے آپ لوگوں کے سامنے پیش کئے ہیں ان کو آخر تناول کیوں نہیں فرماتے ! اور یہ آپ لوگ چپ چپ سے کیوں ہیں، کچھ گفتگو کیوں نہیں کرتے ! ان طنزیہ فقروں سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جس وقت یہ اقدام کیا ان پر کسی گھبراہٹ کا کوئی اثر نہیں تھا، بلکہ وہ نہایت خوشگوار موڈ میں تھے کہ ان کو اپنی اسکیم کے مطابق ان خداوندوں کی تواضع کرنے کا نہایت عمدہ موقع ہاتھ آگیا اور ان کی تدبیر بالکل کامیاب رہی۔ فراغ علیھم ضرباً بالیمین، اس جملہ کی اصل ترکیب کلام یوں ہے۔ فراغ علیھم بضربھم ضرباً بالیمین، اس وجہ سے اس کا صحیح مفہم یہ ہوگا کہ پس وہ ان پر پل پڑا، مارتے ہوئے بھرپور ہاتھ لفظ یمین دہنے ہاتھ کے لئے آتا ہے اور دہنے ہاتھ کی ضرب چونکہ بھرپور ہوتی ہے اس وجہ سے یہاں یہ بھرپور ہاتھ مارنے کے مفہوم میں استعمال ہا ہے۔ پہرے داروں کا رویہ حضرت ابراہیم کے ساتھ یہاں سرگزشت کا کچھ حصہ حذف ہے جس کی وضاحت سو رہ انبیاء سے ہوتی ہے۔ جس وقت حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑا ہے اس وقت تو کسی کو خبر نہیں ہوئی۔ بعد میں جب پہرے داروں کو اس حادثہ کی اطلاع ہوئی اور یہ سوال پیدا ہوا کہ یہ کس کی کارستانی ہو سکتی ہے تو حضرت ابراہیم ؑ چونکہ بتوں کی ہجو کرتے رہے تھے اور انہوں نے دھمکی بھی دے رکھی تھی کہ وہ ان بتوں کے ساتھ ایک چال کرنے والے ہیں اس وجہ سے معبد کے ذمہ داروں کی رائے یہی قرار پائی کہ ہو نہ ہو یہ انہی کی کارروائی ہے چناچہ سارے لوگ بھاگے ہوئے ان کے پاس پہنچے اور ان سیپ وچھ گچھ شروع کردی۔ پہلے تو انہوں نے لوگوں کا مذداق اڑایا اور بڑے بت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے توڑا ہوگا اور ساتھ ہی ان کی حماقت کی طرف توجہ دلانے کے لئے فرمایا کہ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو، اپنے ان معبودوں ہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے جن پر یہ مصیبت گزری ہے ! اگر یہ اپنے سر پر آنی ہوئی مصیبت کو نہ خود دفع کرسکتے اور نہ اس کو بیان ہی کرسکتے ہیں تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں کہ تم ان کی پوجا کر رہے ہو ! حضرت ابراہیم ؑ کے اس معارضہ سے اول اول تو وہ بہت شرمائے لیکن پھر حمیت جاہلیت ان پر غالب آگئی اور بولے کہ بھلا ان سے ہم کس طرح پوچھیں، یہ تو تمویں معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں ؟ ان کے اس اعتراف کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو اچھی طرح لتاڑا جس سے برہم ہو کر انہوں نے ان کو آگ میں جلا دینے کی سازش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ سازش ناکام بنا دی۔
Ayahs 37:95–96

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

اس نے کہا کیا تم لوگ اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو !

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تم کو بھی اور ان چیزوں کو بھی جن کو تم بناتے ہو

قال اتعبدون ماتنحتون واللہ خلقکم وما تعملون (96-95) اتمام حجت کے بعد قوم کو ملامت حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو یہ ملامت اس وقت کی ہے جب انہوں نے ان پر، جیسا کہ م نے اشارہ کیا، حجت تمام کرلی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ شامت زودو ! تم اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی، لکڑی اور پتھر کی مورتوں کی پجاک رتے ہو ! اللہ کی پوجا تو اس لئے کی جاتی ہے کہ اس نے ہم کو پیدا کیا ہے لیکن تمہاری عقل اس طرح ماری گئی ہے کہ تم جن کو خود اپنے ہاتھوں تراشتے ہو انہی کی پوجا کرتے ہو۔ گویا اپنے خالقوں کے خالق تم خود ہو یاد رکھو کہ اللہ ہی ہے جس نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان لکڑیوں اور پتھروں و بھی پیدا کیا ہے جن سے تم اپنے معبودوں کو تراشتے ہو اور ان جنات و ملائکہ کو بھی پیدا کیا ہے جن کے تم پیکر تراشتے ہو … بعض متکلمین نے وما تعملون سے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کے افعال و اعمال کا بھی خالق ہے۔ اس آیت سے یہ استدلال ہمارے نزدیک بالکل بےمحل ہے۔ ہم نے اس کی صحیح تاویل واضح کردی ہے اس وجہ سے اس کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
Ayahs 37:97–98

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

انہوں نے کہا اس کے لئے ایک مکان بنائو پس اس کو آگ میں جھونک دو

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

پس انہوں نے اس کے ساتھ چال کرنی چاہی تو ہم نے انہی کو نیچا دکھایا

قالوا ابنوالہ بنیانا فالقرہ فی الجحیم، فارادویہ کیداً فجعلنھم الاسفلین (98-97) حضرت ابرایہم کو آگ میں ڈالنے کی سازشوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت حضرت ابراہیم ؑ کی اس واضح مخالفت کے بعد معبد کے ذمہ داروں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ان کو آگ میں جلا دیں لیکن یہ کام انہوں نے علانیہ کرنے کے بجائے ایک خفیہ چال کے ذریعے سے کرنا چاہا۔ یہ بات فارادوبہ کیداً (پس انہوں نے اس کے ساتھ ایک چال کرنی چاہی) سے واضح ہوتی ہے کید کی شکل اختیار کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت ابراہیم قابو سے باہر نہ نکل سکیں اور اس کا بھی امکان ہے کہ کسی علانیہ اقدام کی صورت میں حضرت ابراہیم ؑ کے خاندان کی طرف سے کسی مزاحمت کا اندیشہ رہا ہ۔ بدویانہ دور زندگی میں خاندانی عصبیت بڑی اہمیت رکھنے الی چیز تھی۔ چناچہ قریش آنحضرت ﷺ کے خلاف ایک مدت تک کوئی علانیہ اقدام کرنے سے اسی اندیشہ کے سب سے ہچکچاتے رہے۔ یہ سوال کہ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈالنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی ایک مشکل سوال ہے۔ قرآن اور تورات میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کی روشنی میں اس سوال کا قطعی جواب دیا جاسکے۔ زیر بحث آیات سے صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ بت خانے کے پروہتوں نے یہ اسکیم بنائی کہ ایک آتشکدہ بنا کر اس میں حضرت ابراہیم کو کسی بہانے لے جایا جائے اور پھر ان کو آگ میں جھونک دیا جائے۔ قرآن کے دوسرے مقام سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان کو آگ میں ڈالا بھی گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و رحمت سے ان کو آگ کے ضرر سے محفوظ رکھا اور دشمنوں کی چال ناکام ہوئی۔
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور اس نے کہا، میں اپنے رب کی طرف جا رہ اہوں۔ وہ میری رہنمائی فرمائے گا۔

وقال انی ذاھب انی ربی سیھدین (99) حضرت ابراہیم کی جرت اس واقعہ کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر وہاں سے ہجرت کا ارادہ فرما لیا۔ ہجرت کا فیصلہ ایک بڑا اہم فیصلہ ہے۔ نبی اپنے ماحول سے کٹ کر ایک بالکل نئے ماحول میں داخل ہونے کا ارادہ کرتا ہے اور کچھ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ نیا ماحول اس کے لئے سازگار ثابت ہوگا یا نا سازگار اس وجہ سے اس راہ میں اس کا تمام تر اعتماد اللہ تعالیٰ ہی کی دستگیری و رہنمائی پر ہوتا ہے۔ یہاں سیھدین کے لفظ سے اسی اعتماد کا اظہار ہو رہا ہے کہ اگرچہ حالات بالکل پردے میں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ س۔ امید ہے کہ وہ رہنمائی فرمائے گا۔ اس کا وعدہ یہ کہ جو لوگ اس کی راہ میں جدوجہد کریں گے وہ ان کے لئے راہ کھولے گا۔
Ayah 37:100

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے میرے رب، مجھے اولاد صالح عطا فرما۔

رب ھب لی من الصلحین (100) اپنے ساتھیوں کی تمنا اپنے خویش و اقارب اور خاندان و قبیلہ سے کٹنے کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے وہ اچھے ساتھی ہیں چناچہ ہجرت کے ساتھ ہی حضرت ابراہیم ؑ نے یہ دعا فرمائی کہ اے رب ! ان برے لوگوں کی جگہ تو مجھے اچھے ساتھی دے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی یہ دعا میرے نزدیک صرف صالح اولاد ہی کے لئے نہیں بلکہ اچھے رفیقوں اور مددگاروں کے لئے بھی تھی جن میں صالح اولاد بدرجہ اولیٰ شامل ہے۔
Ayah 37:101

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو ایک برد بار فرزند کی بشارت دی

فبشرنہ بغلام حلیم (101) دعا کی قبولیت اور حضرت اسمعیل کی ولادت کی بشارت یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور ان کو ایک فرزند کی ولادت کی خوش خبری دی گئی اس فرزند سے ظاہر ہے کہ حضرت اسماعیل مراد ہیں۔ اس کے بعض وجوہ بالکل واضح ہیں۔ -1 اس کی اول وجہ یہ ہے کہ یہی حضرت ابراہیم کی اس وقت اکلوتی اولاد تھے جس کے لئے انہوں نے دعا فرمائی تھی۔ حضرت اسحاق کے متعلق اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ان کے لئے دعا نہیں فرمائی تھی، بلکہ وہ حضرت اسماعیل کی قربانی کے انعام کے طور پر ان کو عطا ہوئے۔ -2 دوسری وجہ یہ ہے کہ اگٓے ان کی قربانی کا ذکر آ رہا ہے اور حضرت ابراہیم نے قربان حضرت اسماعیل کو کیا نہ کہ حضرت اسحاق کو اس واقعہ میں یہود نے جو تحریفات کی ہیں ان کا پردہ استاذ امام ؒ نے رسالہ ذبیح میں پوری طرح چاک کردیا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کا مطالعہ فرمائیں۔ -3 تیسری وجہ ی ہے کہ اس فرزند کی صفت یہاں حلیم آئی ہے۔ یہ صفت ان کی اس عزیمت و استقامت کی تعبیر ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے باپ کی چھری کے نیچے کیا اور جس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو صادق الوعد، صابر اور حلیم کے القاب سے نوازا۔ یہ امر یہاں محلوظ ہے کہ بعینہ یہی صفت حلیم قرآن میں حضرت ابراہیم کے لئے بھی آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل اپنے باپ کی صفات کے سب سے زیادہ نمایاں مظہر تھے۔
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پس جب وہ اس کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ اس نے کہا، اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تم کو ذبح کر رہا ہوں تو غور کرلو تمہاری کیا رائے ہے ! اس نے جواب دیا کہ اے میرے باپ، آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اس کی تعمیل کیجیے۔ آپ انشاء اللہ مھے ثابت قدموں میں پائیں گے۔

فلما بلغ معہ السعی قال یبنی انی اری فی المنام انی ادبحک فدخلوما ذاتری قارا یابت افعل ماتومر ستجد فی ان شآء اللہ من الصبرین (102) حضرت اسمعیل کی قربانی کا واقعہ سعی سے مراد یہاں دوڑنے پھرنے کی عمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فرزند عزیز جب باپ کے ساتھ دوڑنے پھرنے کی عمر کو پہنچا تو حضرت ابراہیم ؑ نے خاب میں دیکھا کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت ہو رہی ہے کہ اس کو اپنے رب کی خاطر قربان کردیں۔ اوپر یہ اشارہ گزر چکا ہے کہ حضرت اسماعیل، حضرت ابراہیم کو ان کی دعا کے نتیجہ میں اس وقت ملے تھے جب وہ اپنے خاندان اور اپنی قوم کو چھوڑ کر ایک دوسرے ملک کو ہجرت فرما چکے تھے اور واحد چیز جو اس غربت میں ان کے لئے دلجمعی کا ذریعہ بن سکتی تھی ان کا یہی اکلوتا فرزند تھا۔ اس فرزند کی عمر اس وقت اتنی ہوچکی تھی کہ وہ باپ کے ساتھ چلنے پھرنے اور اس کے چھوٹے موٹے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹانے لگ گیا تھا۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ان کی عمر 13 برس کی تھی۔ ہر شخص اندازہ کرسکتا ہے کہ اس عمر میں بیٹا باپ کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ غور کیجیے کہ کتنا سخت امتحان ہے جس میں حضرت ابراہیم ؑ ڈالے جاتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی وفاداری میں کوئی شخص اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک اپنی سب سے زیادہ عزیز چیز اس کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار نہ ہوجائے اس وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ اس امتحان میں ڈالے گئے۔ اگرچہ یہ ہدایت خواب میں ہوئی تھی اور خاب کی بات محتاج تاویل و تعبیر ہوتی ہے اس لئے حضرت ابراہیم ؑ چاہتے تو اس کی کوئی تاویل کرلیتے لیکن وہ ایک صداقت شعار اور وفادار بندے تھے اس وجہ سے اس کی کوئی تعبیر نکالنے کے بجائے وہ اس کی من و عن تعمیل کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ قال یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تریٰ اس راہ میں پہلا قدم انہوں نے یہ اٹھایا کہ فرزند کے حوصلہ کا بھی اندازہ کرلینا چاہا۔ فرمایا کہ بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں تو تم بھی غور کرلو کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ اسلوب کلام سے متبار ہوتا ہے کہ یہ خواب حضرت ابراہیم ؑ کو ایک سے زیادہ متربہ نظر آیا۔ اگر ایک ہی بار نظر آیا ہوتا تو اس کے اظہار کے لئے انی رایت فی المنام کا اسلوب زیادہ موزوں رہتا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے یہ بھی ظاہر فرما دی کہ ہرچند یہ خواب ایک سے زیادہ مرتبہ ان کو نظر آیا ہے لیکن ہے بہرحال یہ ایک خاب تاکہ معاملہ کی اصل نوعیت بیٹے پر اچھی طرح واضح ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو بیٹے کی عقل و فہم پر اسی وقت سے بھروسہ تھا۔ ان کو توقع تھی کہ اس معاملے میں اس کی رائے ان کے لئے صحیح فیصلہ کرنے میں مددگار ہوگی۔ قال آیابت افعل ماو ھرز ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین حضرت اسماعیل نے اس خواب کو خراب کے بجائے امر الٰہی سمجھا اور فوراً جواب دیا کہ والد ماجد آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے آپ بےدریغ اس کی تعمیل کیجیے اور میری طرف سے مطمئن رہیے۔ انشاء اللہ آپ مجھے پوری طرح ثابت قدم پائیں گے۔
Ayah 37:103

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

پس جب دونوں اپنے تائیں اپنے رب کے حوالے کردیا اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا

فلما اسلما وثلہ للجئین (103) اصل مرحلہ اب یہ اصل مرحلہ یعنی قربانی کا بیان ہو رہا ہے، اسلام کے معنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردینے کے ہیں۔ یعنی باپ اور بیٹا دونوں امتحان کے لئے آمادہ ہوگئے۔ باپ نے بیٹے کو ذبح کردینے کے لئے چھری نکال لی اور بیٹے نے اپنے آپ کو ذبح کردینے کے لئے حوالے کردیا۔ تلہ للجبین اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا۔ پیشانی کے بل پچھاڑنے کی توجیہ بعض لوگوں نے یہ کی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے چاہا کہ ذبح کے وقت بیٹے کا محبوب چہرہ سامنے نہ ہوتا کہ رقت قلب چھری چلانے میں مانع نہ ہو لیکن یہ توجیہ میرے نزدیک صحیح نہیں ہے جو باپ اس طرح اپنے اکلوتے اور محبوب لخت جگر پر چھری چلانے کے لئے آستینیں چڑھا لے گا وہ اس قسم کی تسلیوں کا محتاج نہیں ہوسکتا۔ میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بیٹے کو سجدہ کی حالت میں قربان کرنا چاہا اس وجہ سے پیشانی کے بل پچھاڑا۔ سجدہ کی ہئیت خدا کے قرب کی سب سے زیادہ محبوب ہئیت اسلام میں بھی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے ”واسجدوا افترب (سجدہ کر اور اپنے رب سے قریب تر ہوجا !) اور اس کی یہ حیثیت قدیم مذاہب میں بھی مسلم رہی ہے۔ یہ امر بھی محلوظ رہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بیت اللہ نہ تو تعمیر ہا تھا اور نہ عبادت کے لئے کوئی متعین قبلہ ہی تھا۔ اگر کوئی متعین قبلہ ہوتا تو ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم بھی بیٹے کو قبلہ رخ لٹاتے جس طرح ہم جانوروں کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخٹ لٹاتے ہیں۔
Ayahs 37:104–105

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو آواز دی، اے ابراہیم

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

بس تم نے خواب کو سچ کر دکھایا ! بیشک ہم خوب کاروں کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔

ونا دینہ ان یابراھیم قد صداقت الرئویا انا کذلک فجزی المحسنین (105-104) امتحان میں حضرت ابراہیم ؑ کی فیروز مندی قریب تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی چھری چل جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو آواز دی کہ اے ابراہیم ! تو نے خواب سچ کر دکھایا اور یہ فیروز مندی جو اس امتحان میں تم نے حاصل کی یہ تمہاری خوب کاری اور تمہارے اخلاص و احسان کا صلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے خوب کار بندوں کو اسی طرح اپنے امتحانوں میں سرفرازی بخشتا ہے۔ قدصداقت الرویا ہم اوپر یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ خواب میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ محتاج تاویل تعبیر ہوتا ہے حضرت ابراہیم ؑ کو یہ خواب جو دکھایا گیا اس کی اصل تعبیر یہ تھی کہ وہ اس بٹے کو خدا کی نذر کردیں۔ یہ مقصود نہیں تھا کہ اس کو ووہ فی الواقع ذبح کردیں۔ چناچہ جب وہ بیٹے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے تو خواب کا جو اصل منشاء تھا وہ پورا ہوگیا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بشارت دے دی کہ خواب کا مقصد پورا ہوچکا اب مزید کسی اقدام کی ضرورت نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم عمل سے پہلے ہی منسوخ کردیا انہوں نے ایک غیر ضروری تکلف کیا ہے۔ صحیح تاویل واضح ہوجانے کے بعد اس کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ کذلک نجزی المحسنین سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کے صدق و اخلصا اور اس کے احکام کی تعمیل کے باب میں احسان کی روش اختیار کرتے ہیں، یعنی ان کی کوششیں یہ ہوتی ہے کہ خدا کے ہر حکم کی تعمی اس طرح کریں جس طرح اس کے کرنے کا حق ہے، ان کو اللہ تعالیٰ یہ صلہ دیتا ہے کہ وہ اس کے بڑے بڑے امتحانوں میں شاندار کامیابیاں حاصل کرتے ہیں اور پھر اس کے صلے میں آخرت کی ابدی بادشاہی کی فیروز مندیاں پاتے ہیں۔ برعکس اس کے جن لوگوں کی روش دین کے معاملے میں فرار پسندانہ رہتی ہے وہ آہستہ آہستہ خدا کی آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے بالکل محروم ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ آخرت کی کامیابیوں کی راہ ان کے لئے بالکل ہی بند ہوجاتی ہے۔
Ayah 37:106

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بیشک یہ کھلا ہوا امتحان تھا

ان ھذا لھوا لبلوا المین (106) حضرت ابراہیم ؑ کو کامیابی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین یہ حضرت ابراہیم ؑ کو اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کی طرف تے تحسین و آفرین ہے کہ یہ کوئی معمولی امتحان نہیں تھا بلکہ بہت بڑا امحتان تھا جس میں ابراہیم ؑ نے بازی جیتی ! جس امتحان کو خود اللہ تعالیٰ بڑا امتحان قرار دے اس کے بڑے ہنے میں کیا شبہ ہوسکتا یہ اور اگر اس میں حضرت ابراہیم ؑ نے ایسی کامیابی حاصل کی جس کی داد خود اللہ تعالیٰ نے قدصدقت الرویا کے شاندار الفاظ سے دی تو اس میں شبہ نہیں کہ اس آسمان کے نیچے نہ اس سے بڑا کوئی امتحان پیش آیا اور نہ اس سے زیادہ شادنار کامیابی کسی نے حاصل کی۔
Ayah 37:107

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ایک عظیم قربانی کے عوض چھڑا لیا

وفدینہ بدیع عظیم (107) اس قربانی کی دائمی یادگار فرمایا کہ ہم نے اسمعیل کو ایک ذبح عظیم کے عوض چھڑا لیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے ابراہیم ؑ کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ اس بیٹے کی جگہ ایک مینڈھے کی قربانی کردیں اور یہ قربانی ایک عظیم قربانی کی شکل میں ہمیشہ ہمیشہ آئندہ نسلوں میں اس واقعہ کی یداگار کی حیثیت سے باقی رہے گی۔ یہی قربانی ہے جو مناسک حج میں شامل ہو کر حضرت ابراہیم ؑ کے وقت سے آج تک برابر چلی آرہی ہے اور قیام قیامت تک باقی رہے گی … یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ قربانی اگرچہ تمام ادیان میں حضرت آدم کے وقت سے چلی آرہی ہے لیکن دنیا میں کسی قربانی نے یہ عظمت و اہمیت اور یہ وسعت و ہمہ گیری نہیں حاصل کی جو حضرت ابراہیم کی اس قربانی نے حاصل کی۔
Ayah 37:108

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور ہم نے اس کی مہلت پر پچھلوں میں ایک گروہ کو چھوڑا

وترکنا علیہ فی الاخرین (108) یہی وہی ترجیح ہے جو اوپر حضرت نوح کی سرگزشت میں گزر چکی ہے۔ اس کی وضاحت ہوچکی کہ پچھلوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایک امت کو اس ملت ابراہیم پر باقی رکھا۔ سورة شعراء آیت 84 میں حضرت ابراہیم کی یہ دعا گزر چکی ہے : واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (اے رب پچھلوں میں میرا پائیدار چرچا قائم رکھ) اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور شہرت دوام کی وہ سرفرازی ان کو بخشی جس کی مثال نہیں مل سکتی۔
Ayah 37:109

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

سلامتی ہو ابراہیم پر !

سلم علی ابراہیم (109) یہ مستقل جملہ ہے۔ یعنی ابراہیم ؑ پر اس کے اس صدق و اخلاص کے صلہ میں، دنیا اور آخرت میں سلامتی اور برکت ہے۔ لفظ سالم کی تنکیر تفخیم شان کے لئے یہ۔
Ayah 37:110

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

اسی طرح ہم خوب کاروں کو صلہ دیتے ہیں۔

کذلک نجزی المحسنین (110) کذلک کا اشارہ اسی سلامتی و برکت کی طرف ہے۔ فرمایا کہ ہم اپنے خوب کار بندوں کو اسی طرح اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازتے ہیں۔
Ayah 37:111

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے باایمان بندوں میں سے تھا

انہ من عبادنا المومنین (111) لفظ مومنین یہاں اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ فرمایا کہ بیشک ابراہیم ؑ ہمارے حقیقی مومن بندوں میں سے تھا۔ اس سے ایمان کی اصل حقیقی ایمان وہ ہے جس کے اندر اخلاص و احسان کی وہ روح ہو جس کی مثال حضرت ابراہیم ؑ نے پیش کی۔ ہر مدعی کا ایمان اللہ کے ہاں درخواعتنا نہیں ہے۔
Ayah 37:112

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اسحاق کی خوشخبری دی، ایک نبی کی زمرہ صالحین میں سے

وبشرنہ باسحق نیتاً من الصلاحین (112) حضرت اسحاق کی ولادت کی خوشخبری اس امتحان میں کامیابی کی صلہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو دوسرے بیٹے حضرت اسحاق کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس خوش خبری کے ساتھ ہی اس امر سے بھی آگاہ فرما دیا کہ وہ صالحین میں سے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو منصب نبوت سے سرفراز فرمائے گا۔ ان صفات کا ذکر بشارت کے ساتھ ہی اس وجہ سے ضروری ہوا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے لئے مجرد ایک فرزند کی ولادت کوئی اہمیت رکھنے والی بات نہیں تھی۔ وہ حضرت اسماعیل کو پا کر اولاد کی طرف سے بالکل مطمئن ہوچکے تھے چناچہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ان کو حضرت اسحاق کی خوشخبری دی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ کاش اسماعیل ہی تریے حضور جیتا رہے ! ! البتہ یہ بات ان کے لئے بشارت ہو سکتی تھی کہ پیدا ہونے والا فرزند صالح اور نبی ہوگا۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ یہود نے حضرت اسحاق کے ذبیح ہونے کی روایات جو گھڑی ہیں وہ بالکل بےاصل ہیں۔ حضرت اسحاق قربانی کے واقعہ کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ وہ قربان ہونے والے فرزند نہیں بلکہ قربانی کا انعام ہیں جو اس دنیا میں حضرت ابراہیم ؑ کو ملا۔
Ayah 37:113

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے اس پر بھی اور اسحاق پر بھی برکتیں نازل کیں اور ان کی ذریت میں سے خوب کار بھی ہیں اور اپنی جانوں پر کھلے ہوئے ظلم ڈھانے والے بھی۔

وبارکنا علیہ علی اسحاق ومن ذرتی تھا محسن وظایم لنفسہ مبین (113) ضمیر مجرور کا مرجع علیہ کی ضمیر مجور کا مرجع حضرت اسماعیل ہیں۔ جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو مرجع قرار دیا ہے ان کی رائے بالکل غلط ہے۔ اگر مرجع حضرت ابراہیم ؑ ہوتے تو اس کے بعد من ذریتھما کی جگہ ومن ذریتہ موزوں رہتا۔ اس لئے کہ حضرت اسحاق حضرت ابراہیم ؑ کے کوئی مدمقابل نہیں بلکہ انہی کی ذات میں سے ہیں۔ حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کے اخلاف کو ایک یاد دہانی فرمایا کہ ہم نے اسماعیل اور اسحاق دونوں کو اس دنیا میں برد مند کیا۔ دونوں کی اولاد خود پھولی پھلی۔ ان کی اولاد میں سے کچھ اپنے صالح باپوں کے نقش قدم پر چلنے والے خوب کار اور مخلص مومن ہیں اور کچھ ان کے طریقہ سے بالکل منحرف ہو کر کفر و شرک میں مبتلا ہیں اور اس طرح اپنی جانوں پر کھلا ہوا ظلم ڈھانے والے بن گئے ہیں۔ یہ گویا دونوں کی اولاد … بنی اسماعیل و بنی اسرائیل … کو ایک برمحل یاد دہانی ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ وہ کن پاکیزہ لوگوں کی اولاد ہیں، ان کو کیا طریقہ اختیار کرنا تھا اور وہ کہاں بھٹک رہے ہیں۔ ایک نحوی سوال کا جواب شروع ہوئی ہے وہ یہاں تک چلی آئی ہے اور یہ نہ معلوم ہوسکا کہ لما کا جاب کیا ہے ؟ اس کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں ہم یہ ذکر کرچکے ہیں کہ بعض اوقات لما اذا اور اس نوع کے دور سے شرطیہ جملوں میں جواب حذف ہوجاتا ہے اور متکلم کا زور کلام اس محذوف کا قائم مقام بن جاتا ہے۔ یہ طریقہ خصوصیت کے ساتھ ان مواقع میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں جواب کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ الفاظ اس کی تعبیر سے قاصر ہتے ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال سورة زمر میں بھی آئے گی۔ وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زمراً حتی اذا جآء وھا وفتحت ابوابھا وقال لھم خزنتھا سلم علیکم طبتم فادخلوھا خلدین (73) (اور جن لوگوں نے اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اس کے دروازے کھرے جائیں گے اور اس کے پاسبان ان کا سلام کے ساتھ خیر مقدم کریں گے کہ مبارک ہو، اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجائیے اور وہ کہیں گے شکر ہے اس اللہ کا جس نے اپنا وعدہ ہم سے پورا کیا) دیکھ لیجیے اس آیت میں بھی اذا کا جواب محذوف ہے جو خود کلام کے زور سے واضح ہو رہا ہے۔ اسی طرح آیت زیر بحث میں بھی جواب محذوف ہے الفاظ اس کی تعبیر سے قاصر ہیں لیکن وہ خود واضح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب باپ اور بیٹے دونوں نے اپنے رب کی رضا جوئی کے لئے یہ اقدام کر ڈالا تو تصور کرو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کیسی عظیم رحمتوں کے مستحق ٹھہرے ہوں گے !
Ayahs 37:114–116

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہ اورن پر اپنا فضل کیا

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور ان کو اور ان کی قوم کو ایک عظیم مصیبت سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی مدد کی تو وہی غالب آنے والے بنے۔

ولقد مننا علی موسیٰ وھرون ونجینما و قومھما من الکرب العظیم ونصرھم فکانوا ھم الغلبین (116-114) حضرت موسیٰ اور ان کی قوم حضرت ابراہیم ؑ کے بعد سب سے زیادہ جلیل القدر رسول حضرت موسیٰ و حضرت ہ اورن (علیہما السلام) ہیں جو ایک جبار دشمن کو شکست دے کر ایک عظیم الشان امت کے بانی ہوئے اور جن کی لائی ہوئی شریعت ایک مدت دراز تک ایک وسیع دنیا پر حکمت ران رہی۔ فرمایا کہ ہم نے موسیٰ اور ہ اورن کو بھی اپنی شریعت و ہدایت کے فضل سے نوازا اور ان کو اور ان کی قوم … بنی اسرائیل … کو ایک بہت بڑی کلفت … فرعونیوں کی غلامی … سے نجات دی اور ان کی مدد کی تو بالآخر وہی غالب رہے۔ نصرنھم میں ان نصرتوں کی طرف بھی اشارہ ہے جو بنی اسرائیل کو من حیث القوم ان کے دشمنوں کے مقابل مصر سے نکلنے کے بعد حاصل ہوئیں۔
Ayahs 37:117–118

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو روشن کتاب عطا فرمائی

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت بخشی

واتینھما الکتب المستبین ھدینھما الصراط المستقیم (118-117) کتاب کی شکل میں تعلیم الٰہی کا آغاز تورات سے ہوا کتاب مستبین اور کتاب مبین دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ اس سے مراد تورات ہے اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کسی امت کو بھی شریعت ایک واضح کتاب کی شکل میں نہیں عطا فرمائی بلکہ لوگوں کو صرف زبانی تعلیم دی گئی تو رات کو یہ خاص امتیاز اصل ہے کہ اس میں شریعت ایک مرتب و روشن کتاب کی شکل میں دی گئی۔ تورات اگرچہ نازل تو ہوئی حضرت موسیٰ پر لیکن حضرت ہ اورن چونکہ باقاعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ ؑ کے شریک رسالت بنائے گئے تھے اس وجہ سے اس کے دیئے جانے کے شرف میں ان کو بھی شریک فرمایا اور ان دونوں ہی کی نسبت فرمایا کہ ہم نے ان کو صراط مستقیم کی ہدایت بخشی اس ٹکڑے سے ضمنا ان اتہامات کی تردید ہوگئی جو یہود نے حضرت ہ اورن ؑ پر لگائے ہیں اور جن کی تردید ان کے محل میں تفصیل کے ساتھ ہوچکی ہے۔