Ayah 37:41اولئک لھم رزق معلوم (41)
رزق معلوم کا مفہوم
فرمایا کہ بیشک یہ لوگ ہیں جن کے لئے خدا کے ہاں معلوم و متعارف رزق ہو گ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے کھانے پینے کے اوقات کا پروگرام بھی ان کے منشاء کے مطابق معین ہوگا اور جو چیزیں ان کے سامنے پیش کی جانے والی ہوں گی وہ بھی ان کی پسند اور ان کے انتخاب کے موافق ہوں گی۔ دوزخیوں کا حال تو یہ ہوگا کہ دوزخ کے داروغے ان کے آگے، جب ان کے جی میں آئے گا، کچھ پھینک ماریں گے اور جو چیزیں بھی پھینکیں گے وہ بالکل اجنبی اور ایک سے ایک بڑھ کر بری ہوں گی لیکن اہل جنت کے سامنے جو چیزیں بھی پیش کی جائیں گی ان کی طلب، ان کی پسند اور ان کے پروگرام کے مطابق پیش کی جائیں گی۔ وہ چیزیں ان کے لئے ایمان نہیں ہوں گی کہ ان کو دیکھ کر انقباض یا وحشت ہو بلکہ ہر چیز جانی پہچانی ہوئی ہوگی البتہ معیار ہر چیز کا وہ ہوگا جو جنت اور اہل جنت کے لئے خاص ہوگا۔ کلما رزقوا منھا من ثمرۃ رزقا، قالوا ھذا الذی رزقنا من قبل و اتوابہ متشابھاً ، (البقرہ 25) (جب جب ان کے سامنے اس جنت کے پھولوں میں سے کچھ پیش کیا جائے گا وہ کہیں گے یہ تو وہی چیز ہمارے سامنے لائی گئی جو پہلے دی گئی اور وہ اس سے ملتی جلتی چیز دیئے جائیں گے۔) اس آیت کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس مقام کو سمجھنے کے لئے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayahs 37:42–44فواکہ، وھم مکرمون فی جنت النعیم، علی سرر متقملین (44-42)
یعنی ان کے سامنے میوے پیش کئے جائیں گے اور ان کے ساتھ نہایت اعزازو اکرام کا معاملہ ہوگا۔ اہل دوزخ کے متعلق تو آیت 18 میں گزر چکا ہے کہ نہایت ذلت کے ساتھ وہ دوزخ کے باڑے میں بھر دیئے جائیں گے اور آگے آیات 67-62 میں آ رہا ہے کہ زقوم ان کو کھانے کے لئے اور کھولتا پانی پینے کو دیا جائے گا۔ اس کے برعکس اہل جنت کو کھانے کے لئے میوے ملیں گے اور ان کے ساتھ نہایت عزت کا سلوک ہوگا۔
فی جنت النعیم سے ان کے متقل مستقر کا پتہ دے دیا کہ وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے اس وجہ سے ان کو تمام نعمتیں بھی جو وہ چاہیں گے اور جتنی چاہیں گے، حاصل ہوں گی۔
اہل جنت کی باہمی محبت و خوش دلی
علی سرر متقبلین سے ان کی باہمی محبت و خوش دلی کا اظہار ہو رہا ہے کہ وہ تختوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ یہ امر واضح رہے کہ جب دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف رنجش و کدورت ہو تو آدمی ایک دوسرے سے منہ پھیر کر بیٹھتا ہے۔ اہل جنت کے دل چونکہ ایک دور سے سے بالکل صاف ہوں گے اس وج ہ سے ایک دوسرے کی طرف رخ کر ک کے بیٹھیں گے۔ اوپر اہل دوزخ کی باہمی توتکار کی تفصیل گزر چکی ہے۔ اس کے مقابل میں یہ اہل جنت کی تصویر پیش کی جا رہی ہے۔
Ayahs 37:45–47یطاف علیھم بک اس من معین، بیضآء لذۃ للشربین، لافیھا غول ولا ھم عنھا ینزقون (47-45)
اہل جنت کی شراب
کاس عربی میں ظرف اور مظروف یعنی پیالہ اور شراب دونوں کے لئے آتا ہے۔ معین خالص اور بےآمیز کو کہتے ہیں۔ سورة ملک آیت 30 میں اس معنی کے لئے نظیر موجود ہے غرل خفیہ طور پر ہلاک کرنے کے معنی میں آتا ہے اور یہیں سے یہ کسی مخفی ضرر کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ینزقون نڈھال ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے اور تعطل عقل کے معنی میں بھی یہاں یہ دونوں معنی بنتے ہیں۔ شراب کا ردعمل خمار، اعضاء شکنی اور شدید اضمحلال کی شکل میں بھی ظاہر ہوتا ہے اور تعطل عقل کی صورت میں بھی پہلی صورت جسمانی اذیت کی ہے اور دوسری صورت اخلاقی فساد کی۔ اہل جنت کی شراب ان دونوں آفتوں سے پاک ہوگی۔ آیات کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے لئے شراب خالص کے جام گردش میں ہوں گے یہ شراب ہر غل و غش سے پاک، نہایت صاف شفاف اور پینے والوں کے لئے سراپا لذت و سرور ہوگی اس میں نہ تو کوئی مخفی ضرر ہوگا اور نہ اس کے پینے سے عقل معطل ہوگی … یعنی اس میں وہ خوبیاں تو تمام ہوں گی جو اعلیٰ سے اعلیٰ شراب میں ہونی چاہئیں اور ساتھ ہی وہ ہراس خربای سے پاک ہوگی جو اس دنیا کی بہتر سے بہتر شراب میں بھی لازماً ہوتی ہیں۔
Ayahs 37:48–49وعندھم قصرت الطرف عین، کا نھن بیض مکنون (49-48)
اہل جنت کی حوریں
انسان کی کوئی لذت و خوشی بھی عورت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی اس وجہ سے جنت کی نعمتوں کے بعد یہ ان حوروں کا ذکر ہوا جو اہل جنت کو ملیں گی۔ جنت کے ذکر میں آپ نے دیکھا کہ عربوں کے خاص ذوق کا لحاظ ہے اس لئے کہ وہی قرآن کے مخاطب اول تھے اسی طرح حوروں کے ذکر میں بھی تشبیہ و تعریف کے وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو شعرائے عرب کنواریوں اور نازنینوں کے لئے استعمال کرتے تھے۔ قصرت الطرف کے اصل معنی ہیں نگاہیں نیچی رکھنے والیاں یہ ان کے باحیا ہونے کی تعبیر ہے۔ اہل عرب عورت کا سب سے بڑا حسن اس کی حیا کو قرار دیتے تھے۔ عین جمع ہے اعین کی یعنی وہ بڑی آنکھوں والیاں غزال چشم ہوں گی۔
کانھن بیض مکنون بیض مکنون سے شتر مرغ کے انڈے مراد ہیں۔ کلام عرب میں نازنینوں کی تشبیہ شتر مرغ کے انڈوں سے بکثرت ملتی ہے اور غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس تشبیہ میں عفت، صیانت اور رنگ تینوں چیزوں کا لحاظ رکھتے ہیں۔ مکنون سے ان کے اچھوتے ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جس طرح اہل عرب کنواریوں کی حفاظت میں بڑے غیور و حساس تھے اسی طرح شتر مرغ بھی اپنے انڈوں کی حفاظت میں جان لڑا دیتا ہے۔ تشبیہ میں یہاں سنہرے رنگ کے انڈے مراد ہیں۔ نازنینوں کے سنہرے رنگ کا شعرائے عرب بہت ذکر کرتے ہیں۔ مشرقہ کے لئے و صفراء کی صفت ان کے ہاں بہت معروف ہے۔ میں ان تمام باتوں کی تائید میں کلام عرب کے حوالے پیش کرسکتا ہوں لیکن غیر ضروری طوالت سے بچنا چاہتا ہوں۔
Ayahs 37:50–53فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون (50)
اہل جنت کا ایک مکاملہ
اب آگے آیت 59 تک اہل جنت کے ایک باہمی مکاملے کا حالہ ہے جو اس وقت ان کے مابین ہوگا جب وہ تختوں پر ٹیک لگائے جنت میں بیٹھے ہوں گے۔ اس دنیا میں حق کی خاطر مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے میں انہوں نے جو کامیابیاں حاصل کی ہوں گی ان پر ان کو جو خوشی ہوگی اس کا بھی اس مکاملہ سے اندازہ ہوتا ہے اور اس لئے خودی کا بھی جو اس تصور سے ان پر طاری ہوگی کہ اب موت، اور عذاب کے اندیشوں سے ان کو ہمیشہ کے لئے رہائی حاصل ہوگئی۔
(آیت)
اصحاب جنت میں سے ایک صاحب اپنے پاس بیٹھے ہوئے دوسرے ساتھیوں کو اپنے ماضی کی ایک سرگزشت سنائیں گے کہ میرا ایک ملنے والا تھا جو بڑے تعجب سے مھ سے سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تم بھی ان لوگوں میں سے ہو جو قیامت کو مانتے ہیں ! کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو اپنے اعمال کی جزا و سزا بھگتنے کے لئے دوبارہ اٹھائے جائیں گے ! !
Ayah 37:54قال ھل انتم مطلعون اس کے بعد وہ ساتھیوں سے کہیں گے ذرا دیکھو تو سہی اس کا کیا بنا ! یہ اسلوب کلام، عربی میں کسی کو کسی کام پر ابھارنے کے لئے آتا ہے جس طرح ہم کہتے ہیں ذرا معلوم تو کرو بھلا ! ذرا جھانک کے دیکھو تو سہی ! مطلب یہ کہ جس سزا کے دن کو وہ اتنا مستعبد سمجھتا تھا کہ اس کے خلاف روز مجھ سے لڑتا تھا وہ دن تو آگیا، اب ذرا اس کا پتہ کرو کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے !
Ayah 37:55فاطلع فراہ فی سوآء نجیم، یہ کہتے ہوئے وہ خود ہعی جھانک کے دیکھیں گے تو وہ ان کو جہنم کے بیچ میں نظر آئے گا۔ سوآء کے معنی وسط کے ہیں … اس سے اہل جنت کی قوتوں اور صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے تخت پر بیٹھے بیٹھے جس شخص کو چاہیں گے دیکھ لیں گے اگرچہ وہ کتنا ہی دور ہعو اور اس سے بات بھی کرلیں گے۔
Ayahs 37:56–57قال تاللہ … لکنت من المخضرین اس کے بعد وہ اس کو لتاڑیں گے کہ ظالم تو مجھے بھی لے ڈوبا تھا، یہ تو اللہ کا فضل ہوا کہ تمہارے فریب سے میں محفوظ رہا۔ ورنہ آج جس طرح تم اس عذاب میں گرفتار ہو اسی طرح میں بھی گرفتار ہوتا !
Ayahs 37:58–59افما نحن بمتیتین … وما نحن بمعذبین اس کا یہ انجام اور اپنی یہ کامیابی دیکھ کر گویا وہ خوشی سے اچھل ڑیں گے اور اپنے ساتھیوں سے کہیں گے، کیا یہ واقعہ ہے کہ اب ہم موت کے پنجے سے ہمیشہ کے لئے محفوظ اور عذاب کے اندیشہ سے ہمیشہ کے لئے نچنت ہوگئے ! ! مطلب یہ ہے کہ اگر یہ بازی ہم نے جیت لی تو سب سے بڑی بازی جیت لی، اسلوب کلام پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کی کامیابی ان کی توقعات سے اتنی زیادہ ہوگی کہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی انہیں اپنے اوپر اعتبار نہیں ہوگا اور وہ اپنے ساتھیوں سے اس کی تصدیق چاہیں گے۔
Ayahs 37:60–63ان ھذا لھوا لغور العظیم، بمثل ھذا فلیعمل الغلمون (61-60)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی بات پر استدراک ہے کہ اصل کامیابی یہ ہے جو اللہ کے ان بندوں کو حاصل ہوگی جو آخرت کو پیش نظر رکھ کر زندگی گزاریں گے تو جس کو بازی کھیلنی ہو اس کے لئے بازی کھیلے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ رات دن دنیا کے عشق ہی میں سرگرم ہیں اگر انہوں نے کوئی کامیابی حاصل بھی کرلی تو کتنے دنوں کے لئے بالآخر مرنا اور ایک دن دزاء و سزا کے لئے خدا کے حضور پیش ہونا ہے تو اس حیات چند روزہ کی خاطر اپنی تمام مساعی برباد کرنے کے بجائے ابدی کامیابی کے لئے کمر ہمت کیوں نہ باندھیں !
(آیت)
اہل دوزخ کا حشر
اہل جنت کے بعد اب یہ اہل دوزخ کے ضیافت کا بیان ہے۔ اس کا آغاز اس سوال سے کیا ہے کہ اہل جنت کو جو کچھ حاصل ہوگا اس کا ذکر تو سن چکے اب یہ بتائو کہ یہ ضیافت ہبرت ہے یا زقوم والی ضیافت جس سے اہل دوزخ کو سابقہ پیش آنا ہے !
انا جھلنھا الایۃ فرمایا کہ اس درخت کو ان ظالموں کے لئے ہم نے ایک فتنہ بنایا ہے جس کی آڑ لے کر انہوں نے دوزخ کا خوب خوب مذاق اڑایا ہے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جیان کو قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ دوزخ میں ان کو کھانے کو زقوم ملے گا تو انہوں نے اس سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے اس پر فقرے چست کئے کہ خوب ہے یہ دوزخ کہ اس میں آگ بھی ہوگی، درخت بھی ہوں گے اور پانی بھی ! فرمایا کہ یہ درخت ان کے لئے فتنہ بن گیا اور اس کے پردے میں انہوں نے ایک ایسی حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کی جس سے بہرحال انہیں سابقہ پیش آنا ہے۔
Ayah 37:64انھا شجرۃ الایۃ فرمایا کہ ان کو تعجب ہے کہ آگ میں درخت کس طرح ہوگا ! اور اس درخت کی فطرت یہ ہے کہ اس کے اگنے کا اصلی علاقہ قعر و دوزخ ہی ہے یہ اسی میں پھلتا پھولتا ہے۔
Ayah 37:65ایک بلیغ تشبیہ
طلعھا کا نہ رء وس الشیطین یہ تشبیہ نہایت بلیغ ہے بعض مرتبہ تشبیہ کسی خیالی چیز سے دی جاتی ہے لیکن وہ مرئی و شاہد چیزوں سے زیادہ ذہنوں سے قریب ہوتی ہے۔ مثلاً آپ کسی پراگندہ حال و پراگندہ بال شخص کو کہیں کیا بھوت کی سی شکل بنا رکھی ہیچ بھوت اگرچہ ایک خیالی چیز ہے لیکن اس کا ایک تصور ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے اس وجہ سے یہ تشبیہ اس شخص کو جس خوبی کے ساتھ مصور کرے گی کوئی دوسری تشبیہ مشکل ہی سے کرسکے گی۔ اسی طرح یہاں دوزخ کے زقوم کے پتوں اور کانٹوں کو شیاطین کے سروں سے تشبیہ دی ہے، گویا بہت سے شیاطین ننگے سر کھڑے ہوں۔ ہرچند یہ تشبیہ ہے خیالی لیکن ذہنوں میں شیاطین کا ایک خوفناک تصور موجود ہے اس وجہ سے اکو سن کر دل پر ایک کپکصپی طاری ہوجاتی ہے۔
Ayahs 37:66–67فانھم لاکلون … من خمیم فرمایا کہ یہ زقوم ان کی غذا بنے گا اور یہ اس کے کھانے پر اس طرح مضطر ہوں گے کہ اسی سے اپنے پیٹ بھریں گے اور پھر اس کو حلق سے اتارنے اور ہضم کرنے کے لئے اس کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی پئیں گے۔
Ayah 37:68ثم ان مرجمھم لابی الجحیم (68)
یہ زقوم اہل دوزخ کو بطور تزل کے ملے گا جیسا کہ آیت 62 میں تصریح ہے۔ نزل اس چیز کو کہتے ہیں جو اولین ضیافت کے طور پر مہمان کے سامنے پیش کی جائے۔ فرمایا کہ ان کی اولین ضیافت تو اس زقوم اور کھولتے پانی سے ہوگی۔ پھر اس کے بعد ان کا اصل ٹھکانا جہنم بنے گی جہاں ان کے سارے اعمال کے نتائج ان کے سامنے آئیں گے۔
Ayahs 37:69–70انھم القوابآء ھم ضاتین، فھم علی ثرھم یھرعوکن (70-69)
گمراہی کی اصل علت
یہ ان کی تمام گمراہی کی اصل علت کا پتہ دیا ہے کہ انہوں نے اپنی عقل و بصیرت سے کام نہیں لیا بلکہ آنکھیں بند کر کے اپنے باپ دادا کے طریقہ کی پیروی کی۔ ان کے باپ دادا گمراہ تھے، انہی کی گمراہی انہوں نے اختیار کرلی اور جب اللہ کے رسولوں نے ان کو عقل سے کام لینے اور حق و باطل میں امتیاز کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے نہایت غرور سے یہ کہہ کے ان کی دعوت رد کردی کہ بھلا ایک خبطی شاعر کے کہنے سے ہم اپنے ان معبودوں کو چھوڑ دیں گے جن کی پوجا ہمارے باپ دادا کرتے آئے ! … اس سے معلوم ہوا کہ اندھی تقلید گمراہی کے سب سے بڑے عوامل میں سے ہے۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ انسان کی عقل اور اس کے ارادہ کا امتحان کر رہا ہے اس وجہ سے جو شخص اپنی عقل اور اپنے ارادے کو معطل رکھے گا وہ خدا کے امتحان میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 37:71–74ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین، ولقد ارسلنا فیھم منذرین، فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین، الاعباد اللہ المخلصین (74-71)
قبلھم میں ضمیر کا مرجع قریش ہیں۔ اب یہاں سے کلام کا رخ تاریخی دلائل کی طرف مڑ رہا ہے۔ فرمایا کہ جس طرح کی گمراہی میں یہ (قریش) مبتلا ہیں اسی طرح کی گمراہی میں ان سے پہلے اکثر قومیں مبتلا ہو کر کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔ یہ اشارہ ان قوموں کی طرف ہے جن کا ذکر تفصیل سے پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے اور وہ اس سورة میں بھی آگے آ رہا ہے۔ فرمایا کہ ان کی اصلاح کے لئے ہم نے ان کے اندر اپنے مذر بھیجے کہ وہ ان کی غلط روش کے انجام سے ان کو آگاہ کردیں لیکن انہوں نے انہی کی طرح باپ دادا کی تقلید کے جنون میں ان منذروں کی بات رد کردی بالآخر ان کے سامنے وہی انجام آیا جو انذار کے بعد لازماً ہر قوم کے سامنے آتا ہے۔ صرف اللہ کے وہی بندے اس سے محفوظ رہے جن کو اللہ نے اپنی رحمت کے لئے خاص کرلیا … مطلب یہ ہے کہ یہی کچھ ان کے سامنے بھی آنے والا ہے تو تم صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو اور ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔
Ayah 37:75-4 آگے کا مضمون۔ آیات 148-75
آگے اختصار کے ساتھ حضرت نوح، حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت موسیٰ ، حضرت ہ اورن، حضرت الیاس، حضرت لوط اور حضرت یونس علیہوم السلام کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں اور ہر سرگزشت کے آخر میں اس مضمون کی ترجیح ہے کہ اللہ نے اپنے یغمبر کو رحمت و سلامتی سے نوازا، اس کی دعوت کو فروغ بخشا اور اپنے خوب کار بندوں کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسی طرح صلہ دیتا ہے۔ یہی ترجیح درحقیقت ان سرگزشتوں کا لب لباب ہے۔
پیغمبروں کے ذکر میں ترتیب حضرت ہ اورن ؑ تک تو تاریخی ہے اس کے بعد ترتیب صفاتی ہوگئی ہے۔ اس کی وضاحت آیات کی تفسیر کے ذیل میں آئے گی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-5 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ولقد نا دینا نوح فلینعم المجیون، ونجینہ واعلہ من الکرب العظیم (76-75)
حضرت نوح کی فریاد اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا جواب
یہ حضرت نوح ؑ کی اس فریاد کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے اپنے رب کے سامنے اس وقت کی ہے جب وہ ایک طویل مدت تک اپنی قوم کو دعوت دینے کے بعد اس کے ایمان سے کلیتاً مایوس ہوگئے ہیں اور جس کا ذکر سورة شعرآء آیات 118, 117 میں گزر چکا ہے۔ سورة نوح میں ان کی یہ فریاد تفصیل سے نقل ہوئی ہے، جس کے آخری الفاظ یہ ہیں۔
وقال نوح رب الاتذر علی الارض من الکفرین دیاراً انک ان تذرھم یضلوا عبادک ولا یلدوا الا ناچرا کفاراً (27-26)
اور نوح نے اپنے رب سے دعا کی، اے میرے رب ! زمین پر تو کافروں میں سے کسی کو چلتا پھرتا نہ چھوڑ۔ اگر تو ان کو چھوڑے رکھے گا تو وہ صرف نابکاروں اور ناشکروں ہی کو جنم دیں گے۔
یہ فریاد حضرت نوح ؑ نے اس وقت کی جب وہ اپنی طاقت کا آخری قطرہ بھی نچوڑ چکے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی فریاد فوراً سنی۔ چناچہ ان لوگوں کے سوا جو حضرت نوح پر ایمان لائے بقیہ سارے لوگ غرق کردیئے گئے۔ سورة نوح میں ان کی قوم کے نابکاروں کا انجام ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
مما خطیتھم اغرقوا فادخلوا نارا، فلم یجیدوالھم من دون اللہ ابصاراً (نوح 25)
وہ اپنے جرائم کی پاداش میں غرق کردیئے گئے پھر آگ میں داخل کئے گئے اور انہوں نے اللہ کے مقابل میں اپنے لئے کوئی مددگار نہیں پایا۔
یہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کو تسلی دی گئی ہے کہ صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ دعائوں اور جاں فشانیوں سے بیخبر نہیں ہے۔ جب قوم پر حجت تمام ہوجائے گی تو تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی نصرت کس طرح ظاہر ہوتی ہے اور تمہارے دشمن کس طرح نامراد و پامال ہوتے ہیں۔
Ayahs 37:76–77ونجینہ ودحلہ من الکرب العظیم، وجعلنا ذریتہ ھم الباقین (77-76)
فرمایا کہ ہم نے نوح اور اس کے ساتھیوں کو اس عظیم آفت سے محفوظ رکھا جس میں نوح کی پوری قوم مبتلا ہوئی۔ اھل سے مراد ان کے تمام باایمان اہل و عیال ہیں اگرچہ اس لفظ کا اطلاق جیسا ہے اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، کسی شخص کے اتباع پر بھی ہوتا ہے لیکن حضرت نوح ؑ پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ذریت ہی کے کچھ لوگ ایمان لائے اور وہی لوگ باقی رہنے والے بنے جن سے از سر نو یہ دنیا آباد ہوئی۔ باقی سارے لوگ اپنی سرکشی کی پاداش میں غرق کردیئے گئے۔
Ayah 37:78وشرکنا علیہ فی الاخسرین (78)
دعوت کے فرغ کی بشارت
اس ٹکڑے میں ایک مضاف اور ترکنا کا مفعول عربیت کے معرو قاعدے کے مطابق محذوف ہیں یہ محذوفات کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ ہم نے اس کی ملت پر پچھلوں میں سے ایک گروہ کو قائم رکھا یہ ان کی دعوت کی کامیابی کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے دشمنوں کی تمام مخالفت کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے ان کی دعوت کو فروغ دیا۔ اخلاف میں ان کے حاملین پیدا ہوئے اور ان کے دشمن نیست و نابود ہوئے۔ اس میں بھی آنحضرت ﷺ کے لئے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری دعوت کو فروغ دے گا، آنے والی نسلوں میں یہ قائم و دائم رہے گی اور جو لوگ آج تمہاری مخالفت میں سرگرم ہیں ان کا کوئی نام لینے والا بھی بای نہیں رہے گا۔