Ayahs 37:119–122وترکنا علیھما فی الاخرین سلم علی موسیٰ وھرون انا کذلک نجزی المحسنین و انھما عن عبادنا المومنین (122-119)
یہ اسیمضمون کی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکا ہے اور جس کے ہر جزو کی وضاحت ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں رسولوں کا طریقہ بھی ان کے بعد قائم رہا۔ ان پر اللہ کی طرف سے برکت و سلامتی نازل ہوئی اور ان کے دشمن ذلیل و نامراد ہوئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے خوب کار وفا شعار بندوں کو اسی طرح صلہ دیا کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج بھی جو لوگ خدا اور اس کے دین کے لئے اس صدق و الخصا کا ثبوت دیں گے اسی طرح وہ بھی خدا کی رحمت و برکت کے مستحق ٹھہریں گے، اللہ تعالیٰ ان کے کام کو پائیداری بخشے گا ان کی دعوت کے حامل پیدا ہوں گے اور تاریخ میں ان کا نام روشن رہے گا۔
بعض انبیاء کا ذکر اجمال کے ساتھ حضرت الیاس
یہاں تک تاریخ کے جلیل القدر انبیاء اور ان کے کارناموں کا حوالہ تھا اور ان کے ذکر میں ترتیب بالکل تاریخی ہے۔ آگے اجمال کے ساتھ حضرت الیاس، حضرت لوط اور حضرت یونس (علیہم السلام) کی طرف اشارہ ہے۔
الیاس سے مراد وہی ہیں جن کا ذکر تورات میں ایلیا کے نام سے ہوا ہے اور جن کا زمانہ 789 ء قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔ سورة انعام آیت 85 میں ان کا نام حضرت زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کے ساتھ آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صفات کے اعتبار سے یہ انہی انبیاء کے زمرہ کے بنی ہیں۔ بعض لوگوں نے ان سے حضرت ادریس کو مراد لیا ہے لیکن یہ خیال غلط ہے۔ حضرت ادریس کا ذکر قرآن میں ان کے نام سے موجود ہے۔ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے رشتہ دار، ان کے ہم عصر اور انہی کے تربیت کردہ ہیں حضرت یونس ؑ کا ذکر سورة یونس اور سوہ انبیاء میں تفصیل سے ہوچکا ہے کہ یہ غیرت حق کے جوش سے مغلوب ہو کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلے ہی ہجرت فرما گئے تھے جس پر ان کو عتاب ہوا اور وہ قوم کی طرف پھر واپس کئے گئے اور ان کی دعوت سے پوری قوم ایمان لائی۔
ان انبیاء کے ذکر سے مقصود
مقصود ان انبیاء کے ذکر سے بھی اسی حقیقت کو واضح کرنا ہے جو اوپر کے انبیاء عظام کے ذکر میں اضح فرمائی گئی ہے کہ ہرچند انبیاء کو وہ قوت و جمعیت حاصل نہیں ہوئی جو نوح، ابراہیم اور موسیٰ کو حاصل ہوئی اور انہیں اپنے ماحول سے بالکل بیگانہ ماحول میں کام کرنا پڑا تاہم اللہ تعالیٰ نے ان کے کام کو بھی فروغ دیا اور ان کے بعد ان کی دعوت اور ان کی ملت بھی باقی رہی۔ سب سے آخر میں حضرت یونس کے ذکر کی یہ اہمیت ہے کہ دعوت حق کے کام میں عجلت، اگرچہ حمیت حق کے تقاضے ہی سے ہو، جائز نہیں ہے بلکہ صبر و استقلال کے ساتھ نبی کو اپنے کام میں گے رہنا چاہئے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کب تک کسی قوم میں زندگی کی رمق باقی ہے اور کب اس کا پیمانہ لبریز ہوا۔
Ayahs 37:123–126وان الیاس لمن المرسلین، اذ قال لقومہ الاتتقون اتدعون یعلا وتذرون احسن الغا یقین اللہ ربکم و رب ابآئکم الاولین (126-123)
حضرت الیاس کی دعوت
بعل اس دیوتا کا نام ہے جس کو حضرت الیاس کی قوم پوجتی تھی، فرینہ دلیل ہے کہ شہر بعلبک کا نام اسی دیوتا کی نسبت سے پڑا ہے اس لئے کہ بک مخفف ہے بکہ کا جس کے معنی شہر کے ہیں۔ انہوں نے اپنی قوم کو دعوت دی کہ بدبختو ! بہترین خالق اللہ کو چھوڑ کر جو تمہارا اور تمہارے تمام اگلوں کا رب ہے، تم بغل کو پوجتے ہو ! بہترین خالق سے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ صرق خالق ہی نہیں بلکہ بہترین خالق ہے۔ اسی نے پیدا کیا، اسی نے تمام ظاہری و باطنی صلاحیتیں بخشیں وہی پرورش کر رہا ہے اور رہی تم سب کا اور تمہارے تمام اگلوں کا رب ہے تو آخر اس کو چھوڑ کر بعل کو پوجنے کا کیا تک ہے ؟ تمہاری خلقت اور ربوبیت میں اس کا کیا دخل ہے ؟
Ayahs 37:127–128فکذبوہ فانھم المحضرون، الاعباد اللہ المخلصین (128-127)
فرمایا کہ ان کی قوم کے لوگوں نے ان کی تکذیب کردی جس کی پاداش میں تمام مکذبین اللہ تعالیٰ کے حضور میں مجرموں کی طرف پیش ہوں گے۔ صرف وہی لوگ اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ نے اپنی بندگی کے لئے خاص کرلیا اور وہ حضرت الیاس پر ایمان لائے۔
Ayah 37:129وترکنا علیہ فی الاخرین (129)
یہ وہی ترجیح ہے جو اوپر کی سرگزشتوں کے سلسلہ میں گزر چکی ہے یعنی جن لوگوں نے الیاس کی مخالفت کی ان کا تو کوئی نام لویا باقی نہیں رہا لیکن الیاس کے نام اور اس کے کام کو اللہ نے باقی رکھا۔
Ayahs 37:130–132سلم علی ال یاسین، انا ذلک نجزی المحسنین وانہ من عبادنا المومنین (132-130)
ال یاسین میرے نزدیک الیاس کی جمع ہے اور اس سے مراد ان کے تمام آل و اتباع ہیں۔ عربی میں اس طرح جب کسی اسم کی جمع آتی ہے تو اس سے اس کے تمام اجزاء و فروع مراد ہوتے ہیں۔ قرآن میں طور سنین طور کی جمع اسی اصول پر استعمال ہوئی ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ نبی پر جو برکت و سلامتی نازل ہوتی ہے اس میں اس کے تمام جاں نثار ساتھی بھی شامل ہوتے ہیں۔
انا کذلک … الایۃ اس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔ مقصود اس کے بار بار اعادہ سے یہ ہے کہ یہ ایک سنت الٰہی ہے۔ جو لوگ اس طرح اپنے ایمان و احسان کا مظاہرہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے نام کو زندہ رکھتا ہے اور جو لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں ان کا کوئی نام لیوا باقی نہیں رہتا۔
Ayahs 37:133–138آیت
حضرت لوط کی دعوت
یہ حضرت لوط ؑ اور ان کی قوم کی سرگزشت کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ وہ بھی ہمارے رسولوں میں سے تھا۔ اس کی قوم نے بھی اس کی تکذیب کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اس کو اس کے تمام باایمان اہل عیان کے ساتھ اپنے عذاب سے نجات دی اور بقیہ ساری قوم کو تباہ کردیا۔ اس کے اہل میں سے ایک بڑھیا … حضرت لوط کی بیوی … ایمان سے محروم رہ جانے کے باعث پیچھے رہ جانے والوں میں سے بنی چناچہ وہ بھی تباہ ہونے والوں کے ساتھ تباہ ہوئی۔ اس لئے کہ نبی کے ساتھ مجرور رشتہ داری کسی کے کام آنے الی چیز نہیں ہے بلکہ کام آنے والی چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔
قریش کو ایک برمحل تنبیہ
آخر میں اس ترجیح کے بجائے جو اوپر کے تمام سرگزشتوں کے ساتھ آئی ہے یہاں قریش کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم ان کی بستیوں پر سے اپنے تجارتی سفروں میں برابر دن میں بھی گزرتے ہو اور رات میں بھی تو آخر اس بات کو کیوں نہیں سوچتے کہ جس خدا نی اپنے رسولوں کے مکذبین کے ساتھ ہمیشہ یہ معاملہ کیا ہے تمہارے باب میں اس کی سنت کیوں بدل جائے گی ! گویا ترجیح والی بات تو یہاں از خود واضح تھی اس وجہ سے اس کی جگہ ایک مزید برمحل تنبیہ مخاطبوں کے کان میں ڈال دی گئی جس کے لئے قوط لوط کے محل وقوع نے ایک نہایت مناسب تقریب پیدا کردی تھی۔
Ayahs 37:139–140فان یونس لمن المرسلین، اذا بق الی الفلک المشحون (140-139)
حضرت یونس کی سرگزشت
حضرت یونس ؑ کی سرگزشت سورة یونس اور سورة انبیاء وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ اس سرگزشت میں تورات کے راویوں نے جو خلط مبحث کردیا ہے اس پر اس کے محل میں ہم مفصل گفتگو کرچکے ہیں۔ یہ اہل نینوا کی طرف رسوال بنا کر بھیجے گئے تھے۔ ان کی قوم نے ان کی دعوت کی ناقدری کی تو یہ غیرق حق کے جوش میں قوم کو چھوڑ کر ایک ایسے جہاز پر سوار ہوگئے جو کسی مقام کے سفر کے لئے بالکل تیار کھڑا تھا۔ راستے میں جہاز طوفان میں گھر گیا۔ جہاز رانوں نے اپنی روایت کے مطابق یہ فیصلہ کیا کہ جہاز میں کوئی ایسا شخص سوار ہوگیا ہے جو مجرم ہے اور جب تک وہ الگ کر کے دریا میں نہیں ڈالا جائے گا جہاز اس ورطہ ہلاکت سے باہر نہیں نکل سکتا۔ بالآخر مجرم کو متعین کرنے کے لئے قرعہ کی نوبت آئی، قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور وہ دریا میں پھینک دیئے گئے۔ دریا میں ان کی غالباً کسی شارک نے نگل لیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تسبیح کی بدلوت ان کو بچایا اور مچھلی نے ان کو ساحل کی ریت پر اگل دیا۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے ساحل کی شدید تمازت آفتاب سے ان کو بچانے کے لئے کدو کی ایک بیل اگا دی جس کے سایہ نے اس کمزوری کی حالت میں ان کی حفاظت کی بالآخر جب ان کے اوسان بجا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر قوم کے پاس جانے اور اس کو دعوت دینے کی ہدایت فرمائی۔ اب کے انہوں نے دعوت دی دی تو اہل نینوا کی پوری آبادی جس کی تعداد ایک بلکہ ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ تھی ایمان لائی۔
یہ سرگزشت نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو اس غرض سے سنائیگئی ہے کہ وہ بھی قوم کے رویہ سے بد دل نہ ہوں بلکہ دعوت کے کام میں لیگ رہیں۔ نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق و باطل کی کشمکش کے ایکم حاذ پر امور ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ خدا کے حکم کے بغیر اس محاذ سے ہٹے اگرچہ اس کا محرک کوئی نیک جذبہ ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جو آزمائشیں اپنے رسول کے لئے لکھی ہیں اس کو ان سے بہرحال گزرنا ہے اگر وہ آزمائش سے گھبرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ ایک آزمائش سے بچنے کی کوشش میں کسی دوسری اس سے بڑی آزمائش میں گرفاتر ہوجائے۔ اسی طرح قوم کو جو مہلت اتمام حجت کے لئے ملنی چاہئے وہ بھی سنت الٰہی کے مطابق ضروری ہے اور یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی قوم پر کب اللہ کی حجت پوری ہوئی۔ حضرت یونس ؑ نے اپنے گمان کے مطابق یہ فصلہ کرلیا کہ اہل نینوا ایمان لانے والے نہیں ہیں حالانکہ واقعات نے ثابت کردیا کہ پوری قوم میں ایمان لانے کی صلاحیت موجود تھی۔
حضرت یونس کی لغزش کی نوعیت
اذا ابی الی الفلک المسحون ابنق سے اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جب حضرت یونس قوم کو چھوڑ کر کسی دوسرے مقام کو چلے جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ حضرات انبیاء نفس کی پیروی میں تو کبھی ٹھوکر نہیں کھاتے لیکن اتباع حق کے جوش میں کبھی کبھی وہ بھی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ چیز بجائے خود بری نہیں ہے بلکہ پسندیدہ ہے لیکن حضرات انبیاء چونکہ حق کی کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اس پہلو میں بھی اگر ان سے کوئی بےاعتدالی ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر بھی ان کی گرفت فرماتا ہے۔ حضرت یونس ؑ سے اسی طرح کی لغزش صادر ہوئی۔ ان کی قوم نے جب ان کی دعوت کی ناقدری کی تو وہ آزردہ ہو کر وہاں سے چل کھڑے ہوئے کہ ایسے ناقدروں کے آگے موتیوں کے پھینکنے سے کیا حاصل معلوم ہوتا ہے کہ واں سے کہیں جانے کا فصلہ کیا تو فوراً ہی کسی مقام کے سفر کے لئے کوئی جہاز بھی لدا پھندا تیار مل گیا مشعون کے معنی ہیں لدی اور بھری ہوئی کشتی۔ اس لفظ کے لانے سے مقصود یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ وہ قوم سے بزیار ہو کر کہیں چلے جانا چاہتے تھے، ان کی تمنا کے مطابق ان کو جہاز بھی تیار مل گیا اور وہ بےدنگ اس پر سوار ہوگئے۔ مسئلہ کے تمام پہلوئوں پر ان کو غور کرنے کا اچھی طرح موقع نہیں ملا۔
Ayah 37:141قاھم فکان من المد حضین (141)
معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کے مطابق جس کی طرف ہم نے تمہید میں اشارہ کیا، جب قرضہ ڈلانے کی نوبت آئی تو یہ خدمت انجام دینے کے لئے جہاز والوں نے حضرت یونس ہی کا انتخاب کیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی ہوگی کہ جہاز میں سب سے زیادہ ثقہ اور باوقار ہی نظر آئے ہوں گے اور قرعہ کا کام ایک ثقہ آدمی ہی کے لئے موزوں تھا لیکن قدرت کی نیرنگی دیکھیے کہ قعہ حضرت یونس ؑ کے نام کا نکلا اور وہ اس فیصلہ غلیبی کے مطابق دریا میں لڑھکا دیے گئے یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ عبدابق مفرور علام کو کہتے ہیں جو اپنے آقا کی مفوضہ ڈیوٹی چھوڑ کر بھاگا ہو گویا حضرت یونس ؑ ایک مفرور غلام قرار پائے اور جہاز راتوں کی طرف سے اس جرم کی سزا میں دریا میں ڈال دیئے گئے۔
Ayah 37:142فالتقمہ الحوث وھو سلیم (142)
حوت سے مراد کوئی بڑی قسم کی سمندری مچھلی ہے۔ سمندر میں وہیل اور شارک کے قسم کی مچھلیاں ہوتی ہیں جو آدمی کو سمو چانگل سکتی ہیں۔ اسی قسم کی کسی مچھلی نے حضرت یونس کو نگل لیا۔ وھو ملیم یعنی یہ افتاد جو ان کو پیش آئی تو وہ اس کے سزا وار تھے اس لئے کہ ان سے ایک ایسا فعل سر زد ہوا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مستحق تنبیہ ٹھہرایا۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ اگر حضرت یونس نے جو اقدام کیا تھا وہ ایک نیک جذبہ سے کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے اذن کے بدون کیا تھا اس وجہ سے اس پر ان کی گرفت ہوئی اور گرفت آدمی کے درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے ہوتی ہے اس وجہ سے گرفت سخت ہوئی۔
Ayahs 37:143–144فلولا انہ کان من المستجین، للبث فی بطہ الی یوم یبعثون (144-143)
مسیحین میں جس تسبیح کی طرف اشارہ ہے اس کی وضاحت دوسرے محل میں ہوچکی ہے کہ اس سے مراد لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین کا درد ہے۔ یہ اپنی غلطی کے اعتراف اور اللہ تعالیٰ کے استغفار کا بہترین کلمہ ہے جو حضرت یونس ؑ کی زبان پر جاری ہوگیا اور اس کلمہ نے ان کو اس پکڑ سے چھڑا لیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ جونہی حضرت یونس ؑ پر یہ حادثہ گزراں ان کو متنبہ ہوگیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عتاب ہوا ہے اور وہ پورے دل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوگئے اس کلمہ کی شان اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اسی نے ان کو بچا لیا ورنہ جس مچھلی نے ان کو نگلا تھا اسی کا پیٹ قیامت تک کے لئے ان کا مدفن بن جاتا۔
Ayahs 37:145–146فنبذنہ بالعمرآء وھو سقم، وانبتنا علیہ شجرہ ۃ من یقطین (146-145)
اللہ تعالیٰ کے حکم سے بالآخر مچھلی نے دریا کی کسی ریتی پر ان کو اگل دیا۔ ظاہر ہے کہ اس وقت وہ بالکل ہی مضمحل اور نڈھال ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہاں کدو کے قسم کے کسی بیل کا سامان کردیا جس کے سایہ نے ان کو دریا کے کنارے کی سخت دھوپ سے بچایا اور کچھ عرصہ کے بعد ان کے اوسان بجا ہوئے۔
Ayahs 37:147–148وارسلنم الی مائۃ الف اویزیدون، فامنوا فمتعنھم الی حین (148-147)
جب ان کے اوسان بجا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر ان کی قوم کے پاس دعوت کے لئے بھیجا جس کی تعداد ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی زیاہ تھی اور یہ سارے لوگ اسلام لائے اور اللہ تعالیٰ نے انکو عذاب سے بچایا اور ان کی مہلت مقررہ تک کے لئے ان کو کھانے پینے کا موقع دیا۔ اوبل کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تورات کے صحیفوں سے معلم ہوتا ہے کہ ایمان لانے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔
Ayah 37:149-6 آگے کا مضمون آیات 182-149
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ سورة کا خاتہم اسی مضمون پر ہوا ہے جس سے اس کا آغاز ہا ہے اور قرآن کے اسلوب بیان کی اس خصوصیت کی طرف متعدد سورتوں میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ جس مضمون سے سورة کا آغاز ہوا ہے اسی پر اس کا اختتام بھی ہوا ہے۔
اس سورة کا آغاز اس کی ابتدائی آیات پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجیے، ملائکہ کی الوہیت اور جنات کی غیب دانی کے ابطال سے ہوا ہے۔ اس کے بعد قریش کی تنبیہ کے لئے حضرات انبیاء کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تمام انبیاء نے اسی بات کی دعوت دی ہے جس کی دعوت آج ان کو دی جا رہی ہے اور ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح کی گئی ہے کہ جن لوگوں نیح رسولوں کی تکذیب کی وہ تباہی سے دوچار ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے ساتھیوں پر اپنی برکت و رحمت نازل فرمائی۔ دنیا میں بھی ان کے نام اور کام کو زت و پائیداری حاصل ہوئی اور آخری میں بھی ان کے لئے ابدی بادشاہی کی بشارت ہے۔ بعینیہ یہی مضمون آخر میں ایک نئے اسلوب سے آیا ہے۔ پہلے مشرکین قریش کو چیلنج کیا ہے کہ تم فرشتوں کو خدا کی بٹیاں مان کر ان کی جو پرستش کرتے ہو اور جنات اور خدا کے درمانی تم نے جو رشتہ جوڑ رکھا ہے اگر تمہایر پاس اس کو کوئی عقلی یا نفلی دلیل ہے تو اس کو پیش کرو، ورنہ خدا کے غضب سے ڈرو پھر خدا کے حضور میں ملائکہ کی جو اصل پوزیشن ہے حضرت جبرئیل کی زبانی اس کی وضاحت کرائی ہے تاکہ جو لوگ فرشتوں کو خدا کی بٹیاں بنائے بیٹھے اور ان کی پوجا کر رہے ہیں ان کے سامنے ملائکہ کے سب سے بڑے فرد کی زبان سے ان کی حماقت پر ضرب لگا دی جائے کہ فرشتے خود اپنا درجہ و مقام کیا بتاتے ہیں اور ان کے احمق پرستار ان کو کیا سمجھتے ہیں۔ آخر میں نبی ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اللہ کے رسولوں کے لئے فتح و نصرت کا جو وعدہ ہوچکا ہے وہ تمہارے لئے بھی پورا ہوگا اس وجہ سے صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو تمہارے مخالفین عنقریب اپنا انجام دیکھ لیں گے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
فاستقتھم الربک البنات ولھم البنون (149)
اس کلام کا حلف سورة کے ابتدائی مضمون پر ہے
اس کلام کا عطف، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ابتدائے سورة کے مضمون پر ہے۔ اگرچہ کلام کے دونوں حصوں کے درمیان باعتبار الفاظ بعد نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بعض محض ظاہری ہے، حقیقت کے اعتبار سے کلام بالکل مربوط ہے۔ شروع میں ملاکئہ اور جنات کی الوہیت کی تردید کے بعد بعینیہ اس فاستفتھم کے لفظ سے آیت 11 میں کلام کا رخ قریش کے لئے تہدید و عید اور پیغمبر ﷺ کے لئے تسلی کی طرف مڑ گیا تھا اور وہی مضمون یہاں تک پورے تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ اس کے ختم ہونے کے بعد اسی فاستفتھم پر عطف کر کے اصل مسئلہ کو پھر لے لیا اور فرمایا کہ ان لوگوں سے، جو فرشتوں کو خدا کی بٹیاں مان کر ان کی پوجا کر رے ہیں، پوچھو کہ تم اپنے لئے تو بیٹے پسند کرتے ہو تو تیرے رب کے لئے انہوں نے بیٹیاں کیوں پسند کی ہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ اول تو خدا کی طرف بیٹوں اور بیٹیوں کی نسبت ہی ایک شدید قسم کی جہالت ہے لیکن انہوں نے جہالت پر جہالت یہ کی ہے کہ خدا کے لئے انہوں نے وہ چیز پسند کی ہے جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں۔ حالانکہ عقل و فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ خدا کی طرف اس کی شایان شان صفات منسوب کی جائیں اور انہوں نے صرف یہی ظلم نہیں کیا ہے کہ اس کی طرف اس کی شان کے منافی صفت منسوب کی ہے بلکہ ایک واپسی صفت منسوب کی ہے جس کو خود اپنے لئے بھی باعث ننگ خیال کرتے ہیں۔
Ayah 37:150ام خلقنا الملٓئکۃ انا تاوھم شھدون (150)
یعنی اس اعتماد کے ساتھ یہ لوگ جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ فرشتے خدا کی بٹیاں ہیں تو آخر یہ بات کس دلیل کی بنا پر یہ کہہ رہے ہیں ؟ کیا جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تو یہ لوگ وہاں موجود تھے ! سو رہ زخرف میں یہی بات الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ وجعل الملٓئکۃ الذین ھم عبدالرحمٰن انثا اتھدوا خلقھم متکتب شھد تھم ویسئلون (19) (کیا انہوں نے فرشتوں کو جو اللہ کے بندے ہیں، عورتیں بنا دیا ! کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے ! ان کا یہ بیان لکھ رکھا جائے گا اور ان سے اس کی پرسش ہوگی۔)
Ayahs 37:151–152الا انھم من افکھم لیقولون، ولد اللہ فرانھم لکذبون (152-51)
یعنی دلیل ان کے پاس نہ کوئی عقلی ہے نہ نقلی اور نہ انہوں نے اس کا کوئی مشاہدہ کیا ہے بس اپنے جی سے گھر گھڑ کے یہ دعویٰ کے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ خدا کے اولاد ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔
Ayahs 37:153–155اصطعی البنات علی النین، مالکم کیف تحکمون افلاتذکرون (155-153)
یعنی اگر اسے اولاد ہی کا شوق تھا تو سوچنے کی بات ہے کہ اس نے بیٹوں پر بیٹیوں کو کیوں ترجیح دی۔ وہ جب بیٹھے بھی پیدا کرسکتا تھا تو آخر اس نے اپنے لئے وہ چیز کیوں گوارا کی جس کو تم اپنے لیے بادل نخواستہ ہی گوارا کرتے ہو۔ مالکم کیف تحکمن تمہاری عقل کو کیا ہوگیا ہے کہ تم ایسا الٹا فیصلہ کرتے ہو۔ فلا تذکرون یعنی تمہاری یہ بات صاف شہادت دے رہی ہے کہ تم ذرا بھی ہوش و گوش سے کام لینے والے لوگ نہیں ہو ورنہ آخر خدا کے لئے وہ بات کس طرح پسند کرتے ہو جو اپنے لئے پسند کرنے پر تیار نہیں ہو مطلب یہ ہے کہ یہ بات اپنی صداقت کے ثبوت کے لئے کسی حجت و استدلال کی محتاج نہیں بلکہ صرف تذکر یعنی چیتنے اور دھیان کرنے کی محتاج ہے۔ اگر کوئی شخص بالکل ہی بلیدیالا، بالی نہ ہو تو وہ بادنی توجہ اس کو سمجھ سکتا ہے۔
Ayahs 37:156–158ام تکم سلطن مبین فاتا یکتا بکم ان کنتم صدقین (157-156)
فرمایا کہ اگر تمہارے پاس اس کی کوئی واضح حجت ہو تو اس کو پیش کرو۔ واضح حجت کی وضاحت یہاں کتاب کے لفظ سے فرما دی ہے کہ اگر تمہارے پاس کسی آسمانی کتاب کی شادت تمہارے اس دعوے کے حق میں موجود ہو تو اس کو پیش کرو۔ خدا کے باب میں کسی کو کوئی بات من گھڑت طور پر کہنے کا حق نہیں ہے۔ بلکہ صرف دلیل وبرہان کی بنیاد پر کہنے کا حق ہے اور سب سے زیادہ واضح برہان اس کی کتاب ہو سکتی ہے جو اس نے لوگوں کی تعلیم و ہدایت کے لئے اماری ہو۔