Ayahs 37:159–160وجعلوا بینہ و بین الجنۃ نسبتاً ولقد علمت الجنۃ انھم لمحضرون، سبحن اللہ عما یصفون الا عباد اللہ المخلصین (160-159)
فرشتوں کے علاوہ جنوں کو بھی انہوں نے خدا کے ساتھ بٹور رکھا ہے
ان آیات میں سبحن اللہ عما یصفون بطور جملہ معترضہ ہے اور الا عباد اللہ المخلصین کا تعلق ولقد علت الجنۃ انھم لمحضرون سے ہے۔ قرآن میں متعدد نظریں موجود ہیں کہ جب کسی بات کی فوری تردید کی ضرورت ہوتی ہے تو تردید اصل سلسلہ کلام کے بیچ میں آجاتی ہے۔ اس سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ بات ایسی گھونی ہے کہ متکلم کو اس کی تردید کے معاملہ میں اتنا توقف بھی گوارا نہیں کہ اس کی بات پوری ہو لے۔
آیات کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے صرف یہی غضب نہیں کیا ہے کہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بنایا ہے بلکہ اس سے بھی بڑا سم یہ کیا ہے کہ جنوں اور خدا کے درمیان بھی انہوں نے رشتہ جوڑ رکھا ہے فرشتوں کو انہوں نے خدا کی ذات میں شریک بنایا ہے اور جنات کو خدا کے حقوق اور اس کی صفات میں عبادت خاص اللہ تعالیٰ کا حق ہے لیکن یہ بدقسمت لوگ جنوں کو نافع وفتار اور علم غیب کے حصل کا ذریعہ مانتے اور اس وہم کی بنیاد پر ان کی عبادت کرتے اور ان کے لئیقربانیاں اور چڑھاوے کا ذریعہ مانتے اور اس وہم کی بنیاد پر ان کی عبادت کرتے اور ان کے لئے قربانیاں اور چڑھا وے پیش کرتے ہیں۔
ولقد علمت الینہ انھم لمحصرون یعنی یہ بالکل مدعی سست اور گواہ چست، والی بات ہے۔ جنات کو تو اچھی طرح علم ہے کہ وہ خدا کی مخلوق ہیں اور ان کو اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے ایک دن اپنے رب کے حضور میں حاضر ہوتا ہے اور جوان میں مجرم ہوں گے وہ اپنے جرم کی پاداش میں مبتلائے عذاب ہوں گے۔ لیکن ان لال بجھکڑوں نے ان کو خدائی میں شریک مان کر ان کی پوجا شروع کررکھی ہے۔
ایک جملہ مقرض
سبحن اللہ عما یبصرون یہ بات نہایت گھنائونی تھی کہ جنات کو خدا کے ساتھ جوڑ دیا جائے اس وجہ سے بلا توقف اس کی تردید فرما دی کہ خدا کی ذات والا صفات اس قسم کی تمام نسبتوں سے پاک ہے۔ نہ کوئی اس کی ذات میں شریک ہے۔ نہ صفات میں وہ اپنی ذات وصفات میں بالکل وحدہ لاشریک ہے اس وجہ سے وہ اپنے حقوق میں بھی بالکل یکتا اور لاشریک ہے۔
الا عباد اللہ المخلصین ! یہ استثناء انھم لمحصرون سے ہے چونکہ محصرون کے اندر یہ مفہوم موجود ہے کہ خدا کے حضور سب مجرموں کی طرح گرفتار کر کے حاضر کئے جائیں گے اس وجہ سے اس استثناء کے ذریعہ سے یہ بات واضح فرما دی کہ اس سے صرف وہی بچیں گے جن کو اللہ اپنی توفیق بخشی ہے اپنی سنت کے مطابق اپنی بندگی و اطاعت کے لئے خاص کرلے اور وہ شیطان کے فتنوں سے محفوظ رہ جائیں۔
زافحشری کو معلوم نہیں کیا مغالطہ پیش آیا کہ یہاں انہوں نے جنوں سے فرشتوں کو مراد لیا ہے۔ ہم نے آیات کی صحیح تاویل واضح کردی ہے۔ اس وجہ سے اس کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ قرآن ملا کہ درجنات کا ذکر دو بالکل مختلف الجنس اور مختلف الصفات مخلوقات کی حیثیت سے ہوا ہے۔ ان دونوں کو ایک قرار دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بس زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ جنات اپنی خلقت کے اعتبار سے انسان کے بالمقابل ملائکہ سے قریب تر ہیں اس لئے کہ جنات کی خلقت نار سے ہوئی ہے فرشتوں کے نور سے اور انسان کی مٹی ہے۔
Ayahs 37:161–163فانکم وماتعبدون ماانتم علیہ بقتنین والا ھو صال الجحیم (163-161)
اللہ تعالیٰ کی آزمائشیں صرف امتحان کے لئے ہیں
بعض اہل تاویل نے علیہ بفتنین میں علی کو خلاف کے مفہوم میں لیا ہے اور ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے۔ مجھے اس پر جزم نہیں ہے لیکن اگر یہ توجیہ قبول کرلی جائے تو ان آیات میں جنات پرستوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ تم اور تمہارے یہ معبود دونوں مل کر، اپنے اس فتنے کے ذریعے سے جو تم نے کھڑا کیا ہے۔ خدا سے صرف انہی لوگوں کو برگشتہ کرسکتے ہو جو اپنی بد اعمالیوں کے باعث خود جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ گویا جو بات ابلیس کے چیلنج کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی کہتیرا زور صرف انہی پر چلے گا جو تیرے پیروی کرنے والے بنیں گے میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا وہی بات یہاں دوسرے الفاظ میں فرما دی گئی ہے اور مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے نظام میں یہ آزمائش جو رکھی ہیں یہ لوگوں کو گمراہی میں ڈالنے کے لئے نہیں بلکہ محض امتحان کے لئے ہیں۔ اللہ کے جو بندے اس امحتان میں پورے اترنے کی کوشش کریں گے، شیطان اور اس کے پرستار ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
ضمیر محروہ کے مرجع سے متعلق قریشی کی رائے
استاذ امام ؒ کے نزدیک ضمیر مجرور کا مرجع ماتعبدون ہے۔ ان کے نزدیک تاویل یہ ہے کہ تم اپنے ان معبودوں پر صرف انہی لوگوں کو مفتون بنا سکتے ہو جو خود جہنم ہی میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس تاویل پر بھی مجھے پورا جزم نہیں ہے۔ میں نے اس کا حالہ صرف اس لئے دے دیا ہے کہ جو اصحاب علم ان آیات پر غرو کرنا چاہیں وہ اس کو بھی سامنے رکھیں۔
فرشتوں کی حیثیت سے متعلق حضرت جبرئیل کا بیان
آیت
فرشتوں کی حیثیت سے متعلق اوپر جو باتیں بیان ہوئی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اب ان آیات میں فرشتوں کے گل سرسبد، حضرت جبریل امین اللہ تعالیٰ کے حم سے براہ راست اپنی اور تمام ملائکہ کی حیثیت واضح فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں ان کا مرتبہ و مقام کیا ہے اور اس کی بارگاہ میں وہ کن اعمال و اشغال میں مشغول رہتے ہیں۔ مقصود اس سے ان لوگوں کو تفضیح ہے جو فرشتوں کو خدائی میں شریک مان کر ان کی پرستش کر رہے تھے کہ وہ سن لیں کہ تمام فرشتوں کے سردار کا بیان کیا ہے اور یہ احمق لوگ فرشتوں کو کیا بنائے بیٹھے ہیں۔
یہ امر یہاں ملحوق رہے کہ قرآن میں متعدد نہایت واضح مثالیں اس کی موجود ہیں اثنائے کلام میں کوئی بات براہ راست حضرت جبریل کی زبانی کہلا دی گئی ہے۔ اس کی نظیر مطلوب ہو تو سورة مریم کی آیات 65-64 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہ طریقہ ان مواقع میں اختیار کیا گیا ہے جہاں بات حضرت جبرئیل کی زبان سے کئے جانے کے باعث زیادہ موثر اور بلیغ ہوگئی یہ۔ یہ موقع اسی قسم کا ہے۔ جو لوگ فرشتوں کے شریک خدا ہونے کے وہم میں مبتلا تھے ان کے وہم پر ضرب لگانے کے لئے سب سے زیادہ مئوثر چیز یہی ہو سکتی تھی کہ خود حضرت جبرئیل ان کے آگے اپنی اور پورے زمرہ ملائکہ کی حیثیت واضح کردیں۔ اس مقصد کے لئے حضرت جبرئیل ؑ کی شہادت سے بڑی شہادت کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ اب دیکھیے کہ حضرت جبرئیل کیا فرماتے ہیں۔
Ayah 37:164وما منا الا لہ مقام معلوم وہ پہلی بات یہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کا دائرہ کار متعین اور اس کی رسائی محدود ہے۔ ہو اپنی نسبت بھی یہی بیان دیتے ہیں کہ ان کی رسائی کی بھی ایک خاص حد ہے اس سے باہر وہ بھی نہیں جاسکتے اس مسئلہ پر سورة فاطر کی آیت 1 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اسپر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کی حیثیت خدا کے محکوم وتابعدار اہلکاروں کی ہے۔ ورنہ اپنے حدود سے باہر پر مار سکتے، نہ کسی امر میں خدا کے اذن کے بغیر دخل دے سکتے نہ کوئی کام بطور خود کرنے کی جرأت کرسکتے۔ اب کتنے احمق ہیں وہ لوگ جو خدا کے ان فکوم بندوں کو شریک خدائی مان کر ان سے یہ توقع لیے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کے لئے جو چاہیں کرسکتے ہیں یہاں تک کہ خدا بھی اگر ان پر ہاتھ ڈالنا چاہے گا تو وہ اس سے بھی ان کو بچا لیں گے۔
Ayahs 37:165–166وانا لنحن الصآقون وانا لنحن السیحون دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ ہم ہر وقت اس کے حضور میں صف بستہ رہین والے اور اس کی تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔ فرشتوں کی صف بستگی کا ذکر اس سورة کی پہلی ہی آیت میں ہوا ہے اور اس کے تحت ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ مستحون سے مقصود وہی چیز ہے جو سورة کے شروع میں تالیت ذکرا کے الفاظ سے بیان ہونی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ عرش الٰہی کے اردگرد فرشتوں کی نماز ہے جو عبدیت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ ہاں اس کو ذکر سے تعبیر فرمایا ہے یہاں تسبیح سے اور قرآن میں نماز کی تعبیران دونوں ہی لفظوں سے ہوئی ہے یہ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے یعنی خدا کو ان تمام باتوں سے ارفع و منزہ قرار دینا جو اس کی شان کے منافی ہیں۔ حضرت جبریل نے یہ لفظ استعمال کر کے گویا یہ بات واضح فرمائی کہ خدا کے شرک بننا تو درکنار ہم تو برابر خدا کر ان تمام خلاف شان باتوں سے پاک قرار دینے میں سرگرم رہتے ہیں۔
Ayahs 37:167–169وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکراً من الاولین تکنا عباد اللہ المخلصین، فکفروا بہ فسوف یعلمون (170-167)
قریش کی ایک تعلق
یہ مضمون پیچھے سورة فاطر کی آیت 42 میں بھی گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ قریش کے سامنے جب یہ بات آتی کہ یہود اور دوسری قوموں نے اپنے اپنے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کی تو دو بانداز تعلی کہتے کہ بڑے ہی بدقسمت تھے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی، اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی تعلیم ہوتی یا ہمارے پاس اللہ کا کوئی رسول آتا تو ہم یہ رویہ نہ اختیار کرتے بلکہ ہم اس کی تعلیم کی پیروی کرتے اور خدا کے نہایت خاص بندے بن کر دکھا دیتے آدمی کو جو چیز حاصل نہ ہو اس کے متعلق وہ یہی دعویٰ کرتا ہے کہ اگر مجھے یہ چیز حاصل ہوجائے تو میں یہ کارنامے کر کے دکھادوں گا یکن جب وہ اس کو حاصل ہوجاتی ہے تو اکثر حالات میں وہ اگلے نالائقوں سے بھی بڑھ کر نالائق ثابت ہوتا ہے آج کتنے لوگ ہیں جو بڑے طنطنہ کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ میں حکومت کی باگ پکڑا دی جائے تو وہ دنیا کو خلافت فاروقی کا جلوہ از سر نو دکھا دیں گے لیکن جب ان کا امتحان ہوتا ہے تو وہ پہلے ہی قدم پر بالکل نالائق خائن اور چور ثابت ہوتے ہیں ایسے لوگ بہت کم نکلتے ہیں جو اس ذمہ داری کے اہل ثابت ہوں اور ان لوگوں کے اندر تو ایک بھی اہل نہیں نکلتا جو بڑے بلند بانگ و عادی کے ساتھ اس کے مدعی بن کر اٹھتے ہیں۔ اس دنیا کی پوری تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے۔
Ayahs 37:170–172فکفروا بہ فسوف یعلمون فرمایا کہ یہ لوگ جس چیز کے متمنی اور مدعی تھے جب وہ آئی تو انہوں نے اس کا انکار کردیا اور اس کی تکذیب کے لئے طرح طرح کے بانے تلاش کر رے ہیں تو یہ عنقریب جان لیں گے کہ ان کی اس تکذیب کا کیا انجام ان کے سامنے آتا ہے۔
(آیت)
یہ اس انجام کی طرف اشارہ ہے جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً دوچار ہونا پڑتا ہے اور مقصود اس سے قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو وہی سنت الٰہی ان کے باب میں بھی ظاہر ہوگی جو اس سے پہلے دوسرے مکذبین کے لئے ظاہر ہوچکی ہے۔
کلمۃ سے مراد یہاں وہ سنت الٰہی ہے جو اپنے رسولوں سے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جگہ جگہ واضح فرما دی ہے۔ مثلاً
کتب اللہ لا فلبن انا ورسلی ان اللہ قبوی عزیز المجادلۃ (21) اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، بیشک اللہ قوی اور غالب ہے۔) انا لننصررسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشھاد (المومن 51)
اور ہم لازماً اپنے رسولوں کی اور اہل ایمان کی مدد کریں گے دنیا کی زندگی میں بھی اور اس دن بھی جس دن گواہ گواہی دینے کو اٹھیں گے۔
ہم اس کتاب میں جگہ جگ وضاحت کرچکے ہیں کہ جس قوم پر اللہ تعالیٰ اپنے کسی رسول کے ذریعے سے حجت تمام کی اگر وہ ایمان نہیں لائی ہے تو لازماً تباہ کردی گئی ہے۔ رسول اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہوتا ہے اس وجہ سے اس کا ظہور قوم کے لئے خدا کی عدالت کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا ہوتی ہے وہ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے غلبہ اور اس کے مخالفوں کی تباہی پر منتہی ہوتی ہے۔ ہم نے اس سنت کے تمام مراحل کی وضاحت اس کے محل میں کردی ہے۔ یہاں نبی اور رسول کے اس فرق کو بھی محلوظ رکھیے جس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔
Ayah 37:173فانا جندنا لھم الغلبون رسول اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کا لشکر بھی ہوتا ہے اور جن کے ساتھ خدا کے فرشتوں کا لکشر ہو دنیا کی کوئی قوت ان کو شکست نہیں دے سکتی۔ اس لشکر کو امتحان کے طور پر آزمائشیں تو پیش آت ہیں لیکن فتح بالآخر اسی کو حاصل ہوتی ہے۔
Ayahs 37:174–175فتول عنھم حتی حین وابصرھم فموف یبصرون (175-174)
نبی صلعم کو تلقین صبر
یہ نبی ﷺ کو تسلی اور صبر و انتظار کی تلقین ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے ان کی زیادتیوں س اعراض کرو تاکہ اللہ کی حجت ان پر تمام ہوجائے اور یہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں۔ تم ان کو کچھ عرصے تک دیکھو کہ یہ کیا بنا رہے ہیں، یہ کبھی عنقریب دیکھ لیں گے کہ انہوں نے کیا بنایا اور اس کا انجام کسی شکل میں ان کے سامنے آیا !
Ayahs 37:176–179آیت
یعنی رسول کی تکذیب کی صورت میں ان کو جس عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اگر وہ اس کے لئے جلدی مچاتے ہوئے اور کہتے ہیں کہ جب تک وہ عذاب یا اس کا کوئی نمونہ ان کو دکھا نہ دیا جائے گا وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں تو ان کو آگاہ کردو کہ وہ عذاب کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ وہ جب ان کے صحنوں اور میدانوں میں اترے گا تو جن کو اس سے آگاہ کیا جا چکا ہے ان کے لئے وہ وقت نہایت برا ہوگا رسولوں کے انذار کے بعد جو عذاب آیا کرتا ہے وہ اس قوم کو ہمیشہ کے لئے پامال کردیتا ہے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ عرب میں غارتگری کا اصلی قوت صبح کا وقت وتا تھا اس وجہ سے لفظ صباح غارت گر اور جملہ کے مفہوم میں بھی آتا ہے اور واصبا حا کے نعرے میں اس کا یہی مفہوم ہے۔
اس کے بعد پھر اسی تسلی اور عید کے ممضون کا اعادہ فرمایا جو اوپر آیات 175-174 میں گزر چکا ہے۔ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی کہ ابھی کچھ دنوں اور ان کی ان ژاژ خائیوں کو نظر انداز اور انتظار کرو اور کفار کو دھمکی دی کہ جلد وہ وقت آ رہا ہے جب وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔
Ayah 37:180سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون (180)
یعنی تمہارا رب جو تمام عزت و اقتدار کا حقیقی مالک ہے وہ تمام باتوں سے ارفع اور پاک ہے جو یہ مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس نے ان کو ان خرافات سے آگاہ اور ان کے نتائج سے باخبر کردیا۔ اگر وہ اب بھی ان باتوں سے باز نہیں آتے تو اس کا انجام دیکھیں گے۔
Ayah 37:181وسلام علی المرسلین (181)
اوپر دوسرے رسولوں کے سلسلہ میں جس طرح سلامتی کی یہ بشارت وارد ہوئی ہے اسی طرح آخر میں یہ رسول اللہ ﷺ کے لئے بشارت ہے کہ جو سنت الٰہی تمام رسولوں کے لئے ظاہر ہوئی وہی تمہارے لئے ہے۔ اللہ کے رسولوں کے لئے سلامتی ہے۔ تباہی ان کے لئے دشمنوں کے لئے ہے۔
Ayah 37:182والحمد اللہ رب العلمین (182)
اور اللہ حمد و شکر کا سزا وار ہے اس وجہ سے وہ اس کشمکش حق و باطل میں لازماً حق کا بول بالا کرے گا اور باطل کو شکست دے گا وہ عالم کا پروردگار ہے اس کی اس پروردگاری کا لازمی تقاضا ہے کہ اس دنیا میں بھی اس کا عدل ظاہر ہو اور آخرت میں بھی اس کے عدل کامل کا ظہور ہو۔ یہی اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے اور اسی بنیاد پر وہ دنیا اور آخرت دونوں میں سزا وار حمد ہے۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ رب العلمین
رحمان آباد …29 اپریل 1975 ء