36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة یس ١۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق سورة یس اور گروپ کی پچھلی دونوں سورتوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورتوں میں توحید امعاد اور رسالت کے جو مطالب زیر بحث آئے ہیں انہی پر اس میں بھی بحث ہوئی ہے۔ البتہ تفصیل و اجمال اور نہج استدلال کے اعتبار سے فرق ہے۔ پچھلی سورة بعض مطالب اس میں تاریخی اور فطری دلائل سے اچھی طرح محکم و مدلل کردیے گئے۔ اس کا آغاز اثباتِ رسالت کے اسی مضمون سے ہوا ہے جس پر سابق سورة تمام ہوئی ہے۔ اور فلسفہ دین کے نقطہ نظر سے غور کیجئے تو یہ حقیقت بھی واضح طور پر نظر آئے گی کہ اس کی بنیاد بھی، پچھلی سورتوں کی طرح، شکر اور اس کے مقتضیات ہی پر ہے۔ آگے ہم سورة کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں جس سے اس کا عمود اور نظام انشاء اللہ اچھی طرح واضح ہوجائے گا۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (١۔ ١٢) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اثبات اور آپ کو تسلی کہ یہ پر حکمت قرآن خود اس بات کی سب سے بڑی شہادت ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ یہ قرآن، خدائے عزیز و رحیم کی طرف سے، ان لوگوں پر ایک عظیم احسان ہے جو اب تک خدا کی تعلیم و ہدایت سے بالکل محروم ضلالت میں بھٹک رہے تھے۔ یہ محض ان کی بدقسمتی ہے کہ استکبار کے سبب سے یہ اس کو جھٹلا رہے ہیں۔ ان کی پچھلی روایات اور ان کی مستقبل کی آرزوئیں ان کے لئے حجاب بنی ہوئی ہیں اس وہ سے نہ یہ ماضی سے کوئی سبق لے رہے ہیں اور نہ مستقل کا کچھ دھیان کر رہے ہیں۔ آپ ایسے بےفکروں کے لئے زیادہ پریشان نہ ہوں۔ جو خدا سے ڈریں اور نصیھت کو سنیں ان کو مغفرت اور اجرِ عظیم کی بشارت دیجئے۔ جو یہیں سنتے ان کا معاملہ ہمارے حوالے کیجئے۔ ان کا اگلہ پچھلا سب ہمارے رجسڑ میں درج ہے۔ ہم ان سے نمٹ لیں گے۔ (١٣۔ ٣٢) قریش کی عبرت کے لئے ایک بستی کی مثال جس کے باشندوں کے انداز کے لئے اللہ تعالیٰ نے دو رسول بھیجئے جب انہوں نے ان کی نہیں سنی تو اللہ نے ایک تیسرے بندے کو ان رسولوں کی تائید کے لئے اٹھایا۔ لیکن انہوں نے اس کی بھی کوئی پروا نہیں کی۔ ان کی تنبیہ کے لئے اس دوران میں جو نشانیاں ظاہر ہوئیں لوگوں نے ان کو ان رسولوں کی نحوست قرار دیا اور اس جرم میں ان کو سنگسار کردینے کی دھمکی دی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب سے اس بستی کو ہلاک کردیا۔ (٣٣۔ ٤٤) اس کائنات میں خدا کی قدرت، حکمت، پروردگاری اور رحمت کو جو نشانیاں ہیں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ اور اس امر کا بیان کہ یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کے شکر کو واجب کرتی ہیں جس کا لازمی تقاضا توحید ہے اور ساتھ ہی یہ حشر و نشر اور جزاء و سزا کو مستلزم ہیں۔ (٤٥۔ ٥٠) اس امر کیا بیان کہ جب لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا ہے اور اس سے بچنے کے لئے اللہ کی راہ میں انفاق کی دعوت دی جاتی ہے تو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جن کو خدا نے اپنے فضل سے محروم رکھا ہم اپنا مال ان پر کیوں خرچ کریں ! انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کو جب عذاب لانا ہوگا تو اس کے لئے اسے کوئی تیاری نہیں کرنی پڑے گی بلکہ وہ چشم زدن میں آجائے گا جس کے بعد کسی کو لب ہلانے کی فرصت نصیب نہیں ہوگی۔ (٥١۔ ٦٥) قیامت کی تصویر اور اس دن ایمان لانے والوں اور اس کے جھٹلانے والوں کا جو حال ہوگا اس کی تفصیل۔ (٦٦۔ ٦٨) عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کو یہ تنبیہ کہ سمع و بصر کی جو صلاحیتیں خدا نے بخشی ہیں ان سے فائدہ اٹھائو اور اپنی عقل سے کام لو۔ اگر ان صلاحیتوں سے فائدہ نہ اٹھایا یا تو خدا ان کو مسخ بھی کرسکتا ہے اور یہ کام خد ا کے لئے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ (٦٩۔ ٨٣) خاتمہ سورة جس میں ابتدائے سورة کے مضمون کو ایک نئے اسلوب سے لیا ہے۔ توحید اور قیامت کی بعض نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ تمہارا کام زندوں کو جگانا ہے۔ جو لوگ اخلاقی اعتبار سے مردہ ہوچکے ہیں ان پر تمہارا کلام کارگر نہیں ہوسکتا۔

Ayah 36:1

یٰسٓۚ Open ayah 36:1 in the Quran reader

یہ سورة یس ہے۔

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت یس 1 یہ حروف مقطعات میں سے ہے جن پر ایک جامع بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزر چکی ہے۔ یہ اس سورة کا قرآن نام ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی یایھا الانسان کے لئے ہیں لیکن یہ بات بالکل بےدلیل ہے۔
Ayahs 36:2–3

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

شاہد ہے پُر حکمت قرآن

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

کہ تم رسولوں میں سے ہو۔

والقران الحکیم انک لمن المرسلین (2۔ 3) ’ و ‘ قسم کے مفہوم میں ہے اور قسم عربی میں، جیسا کہ ہمارے استاد مولانا فراہی ؒ نے اپنی کتاب ’ الامعان فی اقسام القرآں ‘ میں وضاحت فرمائی ہے۔ شہادت کے لئے آتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پر حکمت قرآن جو تم لوگوں کو سنا رہے ہو، خود اس بات کی شہادت کے لئے کافی ہے کہ تم رسولوں کے زمرے سے تعلق رکھنے والے ہو۔ رسول کے سوا کوئی دوسرا اس طرح کا حکیمانہ اور معجز کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اعجاز میں اصلی دخل اس کی حکمت، اس کے فلسفہ کو ہے۔ اس کی زبان کی بلاغت و جزالت مزید برآں ہے۔
Ayah 36:4

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

ایک نہایت سیدھی راہ پر۔

علی صراط مستقیم (4) یہ خبر کے بعد دوسرے خبر ہے اور اس کا بغیر حرف عطف کے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن حکیم بیک وقت دونوں باتوں کا شاہد ہے۔ اس بات کا بھی کہ تم اللہ کے رسولوں میں سے ہو اور اس بات کا بھی کہ تم بالکل سیدھی راہ پر ہو اور لوگوں کو سیدھی راہ پر چلنے کی دعوت دے رہے ہو۔ تنکیر یہاں تفخیم شان کے لئے ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ راہ عقل و فطرت اور خدا کی بتائی ہوئی نہایت سیدھی راہ ہے۔ جو لوگ یہ سیدھی راہ اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں انہوں نے اپنی فطرت بگاڑ لی ہے اور اپنی عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے اور اس وجہ سے انہیں سیدھی چیر ٹیڑھی نظر آرہی ہے۔
Ayah 36:5

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

جس کو نہایت اہتمام سے اتارا ہے خدائے عزیز و رحیم نے

تنزیل العزیز الرحیم (5) ’ تنزیل ‘ فعل مخذوف سے منصوب ہے۔ اس کے معنی کی وضاحت دوسرے مقام میں ہم کرچکے ہیں کہ یہ کسی چیز کا درجہ بدرجہ نہایت اہتمام کے ساتھ اتارنے کے لئے بھی آتا ہے۔ یہ قرآن کے ایک دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس کو خدائے عزیز و رحیم نے نہایت اہتمام و تدریج کے ساتھ اتارا ہے کہ لوگ اس پر غور کریں، اس کو سمجھیں اور اس سے صراط مستقیم، کی رہنمائی حاصل کریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی دو صفتوں کے حوالہ ہے۔ ایک ’ عزیز ‘ دوسری ’ رحیم ‘۔ ان میں ایک صفت انداز کے لئے ہے اور دوسری بشارت کے لئے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس کی تکذیب کریں گے وہ یاد رکھیں کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ ایک عزیز و مقتدر کا فرمان واجب الاذعان ہے جو سرکشی کرنے والوں کو لازماً سزا دے گا۔ ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے اور اپنی اس رحمت ہی کے لئے اس نے یہ کتاب اتاری ہے تو جو اللہ کے بندے اس قرآن کی قدر کریں گے ان کو وہ اپنی بےپایاں رحمتوں سے نوازے گا۔
Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

کہ تم ان لوگوں کو آگاہ کرو جن کے اگلوں کو آگاہ نہیں کیا گیا پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

لتنذر قوما ما انذرا اباء ھم فھم غفلون (6) یہ قرآن کے اتارنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ نے اس کو اس اہتمام سے اس لئے اتارا ہے کہ جن کے اندر تم سے پہلے کسی رسول کی بعثت نہیں ہوئی تھی اور غفلت میں پڑے ہوئے تھے ان کو تم زندگی کے انجام سے اچھی طرح آگاہ کردو۔ یہ اشارہ بنی اسماعیل کی طرف ہے اور یہ اس عظیم احسان کا بیان ہے جو حضرت ابراہیم ؑ کی دعا اور حضرت انبیاء (علیہم السلام) کی پشین گوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے امیوں پر کیا۔ اس میں ان کے لئے ترغیب کے ساتھ یہ ترہیب بھی ہے کہ اگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو اپنے لئے سب سے بڑ سعادت کی جگہ سب سے بڑی شقاوت کا سامان کریں گے۔ یہی مضمون دوسرے مقامات میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ لتنذر قوما ما اشھم من نذیر یرمن قبلک (القصص : 46) (تاک تم ان لوگوں کو آگاہ کر دو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا)۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے بہتوں پر ہماری بات پوری ہوچکی ہے تو وہ ایمان لانے والے نہیں بنیں گے۔

لقد حق القول علی اکثرھم فھم لایومنون (7) ’ قول ‘ سے اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف ہے جو اس نے ابلیس کے جواب میں اس وقت فرمایا تھا جب اس نے یہ دھمکی دی تھی کہ میں ذریت آدم کی اکثریت کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ اس وقت، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لا ملتن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین (میں ایسے تمام جنوں اور انسانوں سے جو تیری پیروی کریں گے دوزخ کو بھردوں گا) اسی قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہارا فرض انداز کرنا ہے وہ کرتے رہو لیکن یہ توقع نہ رکھو کہ ان میں سے ہر شخص تمہاری دعوت قبول کرے گہ بلکہ ان میں بہتیرے ایسے ہیں جن پر ہماری بات صادق آچکی کہ وہ ابلیس کی پیروی کے جرم میں جہنم کے ایندھن بنیں گے۔ اس طرح کے لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ ان کے درپے اور ان کے لئے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں پس ان کے سر اٹھے رہ گئے

انا جعلنا فی اعناقھم اغللال فھی الی الازقان فھم مقمحون (8) یہ ان ایمان نہ لانے والوں کے استکبار کی تصویر ہے کہ گویا ان کی گردنوں میں ایسے طوق پڑے ہوئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچتے ہیں جس کے سبب سے ان کے سر اس طرح اٹھے ہوئے رہ گئے ہیں کہ نہ وہ نیچے کی طرف جھک سکتے ہیں اور نہ اوپر ہی کی طرف اٹھ سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ و زمین کی نشانیاں دیکھ سکتے اور نہ آسمان کے عجائب ہی پر نگاہ ڈال سکتے۔ ان کی اس حالت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو ایسا بنا دیا ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ ارشاد کرتے آرہے ہیں، یہ ہے کہ کسی فرد یا گروہ کی یہ حالت اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ہوتی ہے۔ جو لوگ حق سے انحراف و اعراض کی یہ روش دیدہ و دانستہ اختیار کرلیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے آنکھیں بند کرکے زندگی گزارتے ہیں ان کے اوپر اللہ ان کی خواہشیں اور ان کے اعمال اسی طرح مسلط کردیتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر کوئی تعلیم و تذکیر ان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اسی حقیقت کی طرف کلا بلا ران علی قلوبھم ما کانو ایکسبون (المطففین : 14) میں ارشاد فرمایا ہے۔ ’ مقمح ‘ اصل میں اس اونٹ کو کہتے ہیں کہ جس کا سر پیچھے کی جانب اس طرح باندھ دیا گیا ہو کہ اس کی گردن ایک خاص حد سے نہ نیچے ہوسکے اور نہ اوپر۔ بالکل یہی حال اس شخص کا ہوتا ہے جس کے گلے میں آہنی طوق ڈال دیا جائے۔ وہ بھی اپنا سر نہ نیچے کرسکتا ہے نہ اوپر بلکہ ایک خاص زاویہ پر اس کے گردن تنی رہتی ہے۔ یہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، متکبرین کی تصویر ہے۔ اس طرح کے لوگ اپنے اوپر نیچے اور رہنے بائیں کی تمام نشانیوں سے بیخبر ہی رہتے ہیں۔ ان کو اپنی ’ انا ‘ کے سوا اور کسی چیز کی طرف کبھی توجہ نہیں ہوتی۔
Ayah 36:9

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے سے بھی ایک روک کھڑی کردی ہے اور ان کے پیھچے سے بھی ایک روک کھڑی کردی ہے۔ اس طرح ہم نے ان کو ڈھانک دیا ہے پس ان کو سمجھائی نہیں دے رہا ہے۔

وجعلنا من بین ایدیھم سدا ومن خلفھم سدا فاغشینھم فھم لا یبصرون (9) یہ اوپر والے مضمون ہی کی وضاحت ہے کہ اس طرح ہم نے ان کے آگے اور پیچھے دونوں طرف سے اوٹ کھڑی کردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے جس کے سبب سے انہیں کچھ سمجھائی نہیں دے رہا ہے۔ ان کی اسی حالت پر سورة سبا میں اظہارِ تعجب فرمایا ہے : افلم یروا الی مابین ایدھیم وما خلفھم من السماء والارض (9) (کیا ان لوگوں نے ان کے آگے اور پیچھے جو آسمان و زمین ہیں ان پر نگاہ نہیں ڈالی ؟) اس طرح کے متکبرین کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ اپنی پچھلی روایات اور اپنے مستقبل کے مطالع کے غلام ہوتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ان کی راہ میں اس طرح روک بن جاتی ہیں کہ ان سے ہٹ کر وہ کوئی چیز دیکھنے کے قابل رہ ہی نہیں جاتے۔
Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور ان کے لئے یکساں ہے، ان کو ڈرائو یا نہ ڈارئو، وہ ایمان نہیں لانے کے۔

وسواء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون (10) ظاہر ہے کہ اس طرح کے لوگ ایک سخت قسم کی عقلی و اخلاقی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا اصل مقصد کے لحاظ سے بالکل بےسود ہوتا ہے۔ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے۔ ان کو اگر انداز کیا جاتا ہے تو محض اتمام حجت کے لئے قیامت کے دن یہ کوئی عذر نہ پیش کرسکیں۔ سورة بقرہ کے شروع میں ختم قلوب پر جو بحث گزر چکی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تم تو بس انہی کو ڈرا سکتے ہو جو نصیحت پر دھیان کریں اور غیب میں خدائے رحمان سے ڈریں۔ سو ایسے لوگوں کو مغفرت اور باعزت صلہ کی بشارت دو۔

انما تنذر من اتبع الذکر وخشی الرحمن بالغیب، فبشرہ بمغفرہ واجر کریم (11) یعنی تمہاری تعلیم و تذکیر تو بس انہی کے اوپر کار گر ہوسکتی ہے جو تمہاری نصیحت سنیں، اس پر غور کریں اور اپنے دلوں کے دروازے اس کے لئے کھولیں نیز یہ کہ وہ اپنی عقل سے کام لیں، نرے محسوسات کے غلام بن کے زندگی نہ گزاریں کہ جب تک ان کو عذاب نہ دکھا دیا جائے اس وقت تک کوئی بات ماننے ہی کے لئے تیار نہ ہوں۔ ایمان معتبر وہ ہے جو سمع و بصرا اور عقل و دل کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر لایا جاتا ہے نہ کہ حقائق کو آنکھوں سے دیکھ کفر۔ فرمایا کہ جو لوگ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لانا چاہتے ہیں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ البتہ ان لوگوں کو مغفرت اور اجرِ کریم کی بشارت دو جو غیب میں رہتے، خدائے رحمان سے ڈرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہم جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ خدا سے خشیت در حقیقت اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے۔ وہ رحمان ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ نیکیوں کو ان کی نیکی کا صلہ اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دے۔ اسی رحمانیت کے ظہور کے لئے اس نے جزا اور سزا کا دن مقرر کیا ہے جس میں اس کی کامل رحمت اور اس کے کامل عدل کا ظہور ہوگا۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم نوٹ کر رہے ہیں جو کچھ انہوں نے آگے کے لئے بڑھایا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا اور ہم نے ہر چیز ایک واضح کتاب میں محفوط کرلی ہے

آیت 12 یہ اسی روز جزا کی یاد دہانی ہے جو اس کی رحمانیت کا لازمی تقاضا ہے۔ فرمایا کہ ایک دن آئے گا کہ ہم تمام مردوں کو زندہ کریں گے اور اس دنیا میں انہوں نے آگے کے لئے جو کچھ کیا اور پیچھے کے لئے جو کچھ چھوڑا ہے، ہم اس سارے کو قلم بند کر رہے ہیں۔ مقصود اس سے اس کے لازم کو واضح کرنا ہے کہ جب ہم سب کو زندہ بھی کریں گے اور ہر ایک کے اعمال نوٹ بھی کرر ہے ہیں تو لازماً ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق معاملہ بھی کریں گے۔ اس لازمی نتیجہ کی یہاں وضاحت نہیں کی۔ اس کی وجہ اول تو یہ ہے کہ یہ بغیر ذکر کے بھی واضح ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کے باب میں منکرین کا اصلی شبہ صرف دو پہلوئوں سے تھا۔ ایک اس پہلو سے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو مستعبد سمجھتے تھے۔ دوسرا اس پہلو سے کہ اتنی وسیع دنیا کے تمام اعمال و اقوال کون محفوظ رکھ سکتا ہے کہ وہ ایک دن اس سارے کا حساب کرنے بیٹھے ؟ یہ دونوں شبہات یہاں صاف کردیے جس کے بعد اس کا لازمی نتیجہ خود بکود سامنے آگیا۔ ’ وما قدھوا واثارھم ‘ میں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو دوسرے مقام میں ’ ینبا الانسان یومئذ بما قدم وآخر ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس دنیا میں انسان بہت سے کام، اپنے تصور کے مطابق، آخرت کے لئے کرتا ہے اور بہت سے کام اپنی اس دنیا کی زندگی یا اپنے بعد والوں کے لئے کرتا ہے۔ فرمایا کہ ہم اس کے ان دونوں ہی طرح کے کاموں کو نوٹ کر رہے ہیں۔ ’ وکان شئی احصینہ فی امام مبین۔ ‘ امام ‘ کے اصلی معنی رہنما، ہادی، لیڈر اور مرجع کے ہیں۔ ہیں سے یہ لفظ اس کتاب کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو سب کے لئے رہنما اور مرکز و مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ چناچہ ہود آیات 17 اور احقاف آیت 12 میں یہ لفظ تورات کے لئے آیا ہے۔ یہاں یہ اس مرکزی کتاب کے لئے استعمال ہوا ہے جس میں ہر شخص کے اعمال درج ہوں گے اور جس کے مطابق ہر شخص جزا یا سز اپائے گا۔ یہ اوپر والے ٹکڑے کی مزید وضاحت ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ لوگوں کے اعمال و اقوال کی تحریر میں ہم نے کسی غفلت و بےپروائی سے کام لیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بلکہ ہر چیز ایک نہایت واضح دفتر میں ہم نے درج کر رکھی ہے جو سب کے سامنے اس کا سارا کچھ چٹھا پیش کردے گا۔
Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور ان کو بستی والوں کی مثال سنائو، جب کہ ان کے پاس فرستادے آئے۔

2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 13۔ 32 آگے قریش کے سامنے رسولوں کی تکذیب کا انجام واضح کرنے کے لئے ایک بستی کی مثال پیش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں کے انداز کے لئے اپنے دو رسول بھیجے لیکن انہوں نے ان کی تکذیب کردی۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے ایک تیسرے منذر سے اپنے رسولوں کو کمک پہنچائی لیکن بسی والوں نے اس کی بھی کوئی پروا نہ کی۔ ان کی تنبیہ کے لئے جو نشانیاں ظاہر ہوئیں ان کو انہوں نے رسولون کی نحوست پر محمول کیا اور ان کو سنگسار کردینے کی دھمکی دی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک فیصلہ کن عذاب بھیج کر ان کو بالکل پامال کردیا۔ قرآن نے اس بستی کا نام نہیں لیا ہے اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے کون سی بستی مراد ہے ؟ مفسرین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس سے مراد انطاکیہ ہے اور یہاں جن رسولوں کا ذکر ہے وہ اللہ کے رسول نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجے ہوئے سفیر تھے جن کو حضرت ؑ نے اپنے شاگردوں میں سے انتخاب کرکے انطاکیہ والوں کے انذار کے لئے بھیجا تھا۔ میرے سامنے بروقت جو تفسیریں ہیں ان سب میں یہی روایت نقل ہوئی ہے۔ ابن کثیر ؒ نے اس پر متعدد شبہات و ارد کرکے اگرچہ اس کو مجروح کردیا ہے لیکن اس کے سوا کوئی اور قول چونکہ ان کو نہیں ملا اس وجہ سے انہوں نے بھی اختیار اسی کو کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ قول متعدد وجود سے بےبنیاد ہے۔ 1۔ اس کے بےبنیاد ہونے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ یہاں ان رسولوں کا جس طرح ذکر ہوا ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو جس حیثیت سے لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اس سے صاف واضح ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجئے ہوئے رسول نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجئے ہوئے رسول تھے اور اسی حیثیت سے انہوں نے اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ مثلاً فرمایا ہے۔ اذا رسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث فقالو انا الیکم مرسلون۔ (یاد کرو جب کہ ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجئے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا تو ہم نے ایک تیسرے سے ان کو قوت پہنچائی تو انہوں نے لوگوں کے سامنے اعلان کیا کہ ہم تمہاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں) آگے اسی سلسلہ میں یہ بھی آتا ہے کہ جب لوگوں نے اس بنا پر ان کو جھٹلایا کہ وہ انہی کی طرح بشیر ہیں تو انہوں نے قیدقسم کے ساتھ کہا کہ ’ ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون ‘(ہمارا رب گواہ ہے کہ تم تمہاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں)۔ اگر یہ لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجے ہوئے سفیر تھے تو ان کے بھیجنے کو اللہ تعالیٰ نے اس صراحت و تاکید کے ساتھ اپنی طرف کیوں منسوب فرمایا ؟ اور اگر انہوں نے اپنے آپ کوا للہ کے رسول کے بجائے حضرت عیسیٰ ؑ کے سفیر کی حیثیت سے لوگوں کی دعوت دی ہوتی تو لوگ ان کی بشریت کی بنا پر ان کی تکذیب کیوں کرتے ؟ رسولوں کے مکذبین نے ان کی بشریت کو تکذیب کا بہانہ تو اس بنیاد پر بنایا کہ وہ خدا کے رسول ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ اس پر لوگ یہ اعتراض اٹھاتے تھے کہ اگر خدا کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو کیا وہ ہمارے ہی جیسے انسانوں کو رسول بناتا، آخر اس نے اپنے فرشتوں یا کسی اور برتر مخلوق کو اس منصب کے لئے کیوں نہیں انتخاب کیا ؟ 2۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ حضرت عیسیٰ ٰ ؑ کے زمانے میں پیش آیا اور اس کا نتیجہ اہل انطاکیہ کی تباہی کی شکل میں ظاہر ہوا تو یہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ انجیلوں اور بائیبل ہسٹری میں اس کا ذکر ضرورہوتا لیکن نہ تو انجیلوں میں اس کا کوئی ذکر ہے اور نہ تاریخوں ہی میں اس کی طرف کوئی اشارہ ہے۔ بلکہ تاریخوں میں اس کے برعکس یہ اشارہ ملتا ہے کہ اہل انطاکیہ نے حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے میں سبقت کی۔ 3۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ یہاں اس واقعہ کا ذکر قریش کے سامنے ایک معروف واقعہ کی حیثیت سے ہوا ہے۔ چناچہ یہاں قریہ پر الف لام عہد کا داخل ہے۔ ’ اصحابقریۃ ‘ نہیں کہا ہے بلکہ ’ اصحاب القریۃ ‘ فرمایا ہے۔ اور موقع و محل کا تقاضا بھی یہ ہے کہ یہاں کسی معروف واقعہ کا ذکر کیا جائے اس لئے کہ اس سے مقصود قریش کو انداز و تخویف ہے اور یہ مقصد صرف ایک مشہور واقعہ ہی سے حاصل ہوسکتا تھا نہ کہ ایک ایسے واقعہ سے جس سے وہ بالکل بیخبر ہوں۔ 4۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے رسول تھے اس وجہ سے غیر قوموں کو نہ تو انہوں نے خود دعوت دی اور نہ ان کی طرف اپنے شاگردوں ہی کو بھیجا۔ بلکہ انہوں نے غیر قوموں کے پاس جانے سے اپنے شاگردوں کو روکا۔ ان کا ارشاد ہے کہ میں صرف اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں ہی کی تلاش کے لئے آیا ہوں۔ ‘ غیر قوموں کے بارے میں ان کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے کہ میرے پاس جو روٹی ہے وہ صرف بچوں ہی کے لئے ہے، کتوں کے آگے اس کو ڈالنا ٹھیک نہیں ہے۔ ‘ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انطاکیہ میں انہوں نے اپنے شاگردوں کو کن کے پاس بھیجا ؟ غیر قوموں کے پاس تو ظاہر ہے کہ وہ بھیج نہیں سکتے تھے۔ رہے بنی اسرائیل تو بشریت کی بنیاد پر تو انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی بھی تکذیب نہیں کی تو اس بنیاد پر وہ ان کے شاگردوں کی تکذیب کیوں کرتے ؟ وہ جن نبیوں کے معتقد تھے ان کو وہ بشر مانتے تھے اس وجہ سے وہ یہ اعتراض نہیں اٹھا سکتے تھے۔ چناچہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت کے خلاف ہر قسم کے فتنے اٹھائے لیکن یہ اعتراض نہیں اٹھایا کہ آپ بشر ہیں بلکہ قریش نے جب یہ اعتراض اٹھایا تو قرآن نے بنی اسرائیل ہی کو گواہ کی حیثیت سے پیش کیا کہ ان سے پوچھ لو کہ ہم نے جتنے نبی یا رسول بھیجے سب بشر ہی تھے۔ 5۔ پانچویں وجہ یہ ہے کہ آگے مذکور ہے کہ ان رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں ان کے اوپر ایسا فیصلہ کن عذاب آیا کہ وہ بالکل پامال ہو کے رہ گئے۔ ان کا نت الا صیحۃ واحدۃ فاذاھم خمدون (39) ‘ (بس ہماری ایک ڈانٹ ہی تھی کہ وہ چشم زون میں پامال ہو کے رہ گئے)۔ اس قسم کے فیصلہ کن عذاب سے متعلق ہم سنت الٰہی کی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ صرف رسولوں کی تکذیب کے نتجہ میں، کامل اتمامِ حجت کے بعد ہی آیا ہے۔ یہود کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی تکذیب کے نتیجہ میں ان پر اس طرح کا کوئی عذاب نہیں آیا جس طرح کا عذاب سابق رسولوں کے مکذبین پر آیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس جرم میں ان پر قیامت تک کے لئے لعنت کردی۔ لعنت کا عذاب تمام عذابوں سے زیادہ سخت ہے جس کے سبب سے وہ دنیا میں بھی ہمیشہ ذلیل و پامال رہیں گے اور آخرت میں بھی ان کے لئے ذلت و رسوائی ہے۔ اس کی وضاحت سورة اعراف اور سورة بنی اسرائیل کی تفسیر میں ہم کرچکے ہیں۔ اس قول کے ضعف کے یہ وجوہ بالکل واضح ہیں۔ ان کے علاوہ بعض اور وجوہ بھی ہیں جو آگے آیات کی تفسیر کے ذہل میں سامنے آئیں گے۔ ہمارے نزدیک اس قریہ سے اشارہ مصر کی طرف ہے جہاں حضرت موسیٰ و حضرت ہارون (علیہما السلام) اور تیسرے مرد حق کی تکذیب کے نتیجہ میں فرعون اور اس کی قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔ اس کے قراء و دلائل کی تفصیل آیات کی تفسیر کے ذیل میں آئے گی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت واضرب لھم مثلا اصحب القریۃ اذ جاء ھا المرسلون (13) ’ لھم ‘ میں ضمیر کا مرجع قریش ہیں اور ’ اصحت القریۃ میں ’ قریۃ ‘ پر الف لازم اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ بستی مخاطب کے لئے ایک معہود و معلوم بستی تھی۔ آگے کے اشارات دلیل ہیں کہ اس سے مراد مصر ہے جس کی سرگزشت، مختلف اسلوبوں سے، قرآن میں، قریش کی عبرت پذیریت کے لئے بیان ہوئی ہے اور جس کے حالات سے وہ واقف تھے۔ ’ اذجاء ھا المرسلون ‘ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں مقصود مخاطب کو اس وقت کے حالات کی طرف توجہ دلانا ہے جب ان کی طرف رسولوں کی بعثت ہوئی ہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کو اس بستی کی سرگزشت کی طرف توجہ دلائو کہ جو انجام اس بستی والوں کا ہوا وہی حال ان کا بھی ہوگا اگر انہوں نے انہی کی روش اختیار کی۔
Ayah 36:14

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب کہ ہم نے ان کے پاس دو رسول بھیجے تو لوگوں نے ان کی تکذیب کردی تو ہم نے ایک تیسرے سے ان کی تائید کی تو انہوں نے لوگوں سے کہا کہ ہم تمہارے پاس بھیجئے ہوئے آئے ہیں۔

اذارسلنا الیھم اچنین فکذبو ھما افحززنا بثالث فقالوانا الیکم مرسلون (14) یہ ’ ازجاء ھا المرسلون ‘ کے اجمال کی وضاحت ہو رہی ہے کہ پہلے ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے تو، انہوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ پھر ہم نے ایک تیسرے بندے سے ان دونوں رسولوں کو کمک پہنچائی اور انہوں نے ان کو دعوت دی کہ ہم تمہارے پاس خدا کے بھیجئے ہوئے آئے ہیں تو تم لوگ ہماری بات سنو اور مانو۔ ’ اثنین ‘ سے مراد تو ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون علیما السلام ہیں۔ رسولوں کی تاریخ میں یہی ایک مثال ملتی ہے کہ کسی قوم کی طرف بیک وقت دو رسول اللہ تعالیٰ نے بھیجئے۔ اس اہتمام خاص کے وجوہ کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ جب فرعونیوں نے ان کی تکذیب کردی تو اللہ تعالیٰ نے ایک تیسرے بندے کو ان رسولوں کی تائید کے لئے اٹھایا۔ اس تیسرے سے کون مراد ہے ؟ میرے نزدیک اس سے وہ مومن آلِ فرعون مراد ہے جس کی جانبازیوں کا ذکر حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کے ذیل میں یہاں بھی آگے ہوا ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات، بالخصوص سورة مومن، میں بھی ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کی تائید و حمایت میں اس مرد حق نے جو کچھ کیا ہے اور جس بےخوفی و جانبازی کے ساتھ کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی حیثیت حضرت موسیٰ ؑ کی امت میں وہی تھی جو اس امت میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ہے۔ یہ اگرچہ اصطلاحی مفہوم میں رسول نہیں تھے لیکن جہاں تک رسولوں کی تائید و حمایت کا تعلق ہے اس کے لئے انہوں نے جان لڑا دی۔ چناچہ الفاظِ قرآن سے خود یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا ذکر یہاں ایک رسول کی حیثیت سے نہیں بلکہ رسولوں کے ایک خاص مددگار کی حیثیت سے ہوا ہے۔ آگے آیت 20 میں ان کا تفصیل کے ساتھ تعارف بھی قرآن نے کرایا ہے اور ان کی وہ آخرتی یادگار تقریر بھی آرہی ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کی تائید میں انہوں نے کی ہے۔ اس تقریر اور تعارف پر غور کیجئے تو اس سے میرے قیاس کی تائید ہوگی۔ مثلاً یہاں ان کا تعارف اس طرح کرایا ہے۔ ’ وجاء من اقصا المدینۃ رجل یسعی ‘ (اور شہر کے دور کے حصے سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا) بعینہ انہی الفاظ میں ان کا تعارف سورة قصص آیت 20 میں ہوا ہے۔ وجاء رجل من اقصا المدینۃ یسعی قال یموسی ان الملاء یا تمرون بک لیقتلوک فاخرج انی لک من النصعین (اور ایک شخص شہر کے پرلے سرے سے بھاگا ہوا آیا اور اس نے بتایا کہ اے موسیٰ ! اعیان ِ حکومت تمہارے قتل کے مشورے کر رہے ہیں تو تم یہاں سے نکل جائو، میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں)۔ یہ اس موقع کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھوں ایک مصری کے قتل کا واقعہ صادر ہوگیا تھا اور فرعون کے آدمی ان کے قتل کے مشورے کر رہے تھے۔ اس وقت اسی مرد حق نے حضرت موسیٰ ؑ کو دشمنوں کی سازش سے آگاہ کیا اور ان کو کہیں نکل جانے کا مشورہ دیا۔ جس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے مدین کو ہجرت فرمائی۔ ان کی جس تائید و حمایت کا یہاں حوالہ ہے اس کی ایک مثال تو یہیں آگے آرہی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن نے ان کے متعدد کارناموں کا حوالہ دیا ہے۔ سورة مومن کی آیت 28 سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرعون کے خاص شاہی خاندان کے ایک فرد تھے لیکن نہایت حق پرست تھے۔ ان کو حضرت موسیٰ ؑ سے ان کی بعثت سے پہلے بھی نہایت ہمدردی تھی چناچہ اوپر سورة قصص کا جو حوالہ نقل ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انہیں پتہ چلا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی جان کو خطرہ ہے تو وہ چین سے بیٹھے نہیں رہے۔ بلکہ دور سے بھاگے ہوئے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس پہنچے اور ان کو خطرے سے آگاہ کیا۔ اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کے دعوائے نبوت کے بعد جب فرعون اور اس کے اعیان نے حضرت موسیٰ ؑ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو اس مرد حق نے بھرے دربار میں جو تقریر حضرت موسیٰ ؑ کی تائید میں کی وہ قرآن نے سورة مومن میں نقل کی ہے۔ ہم یہ تقریر اپنے الفاط میں پیش کرتے ہیں۔ اس کو پڑھیے تو کچھ اندازہ ہوگا کہ ان کا مرتبہ و مقام کیا تھا اور ان کی اس تائید و حمایت (تعزیز) کی نوعیت کیا تھی جس کا قرآن نے یہاں حوالہ دیا ہے۔ سورة مومن کی آیات 26۔ 45 سامنے رکھ لیجئے۔ ”فرعون نے درباریوں سے کہا کہ تم لوگ مجھے موسیٰ کو قتل کرلینے دو ، اگر وہ سچا ہے تو اپنی مدد کے لئے اپنے رب کو بلائے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا ملک میں فساد برپا کرکے رہے گا۔ موسیٰ نے کہا میں ہر متکبر سے، جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ اور ایک مرد مومن، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اب تک اپنے ایمان کے چھپائے ہوئے تھا، بولا کہ کیا تم لوگ ایک شخص کو محض اس گناہ میں قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے درآنحالیکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نہایت واضح نشانیاں لے کر آیا ہے ! اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے تو اس کا وبال اسی پر آئے گا اور اگر وہ سچا ہے تو یادر رکھو کہ جس چیز سے وہ تم کو ڈرا رہا ہے اس کا کوئی حصہ تم کو پہنچ کے رہے گا۔ اللہ کبھی حد سے تجاوز کرنے والے اور جھوٹے کو بامراد نہیں کرتا۔ اے میری قوم کے لوگو ! آج تم کو اس ملک میں اقتدار حاصل ہے لیکن کل اگر خدا کا عذاب ہم پر آدھمکا تو خدا کے قہر سے ہم کو کون بچائے گا۔ فرعون نے کہا، میں تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو میری سوچی سمجھی ہوئی رائے ہے اور یاد رکھو کہ میں بالکل ٹھیک راہ کی طرف تمہاری رہنمائی کر رہا ہوں۔ مرد مومن نے کہا، اے میری قوم کے لوگو ! میں تم پر اسی طرح کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں جس طرح کا عذاب پچھلی قوموں۔ نوح، عاد، ثمود کی قوموں اور ان کے بعد والوں۔ پر آیا اللہ بندوں کے لئے ظلم کو پسند نہیں کرتا۔ اے میری قوم کے لوگو، میں تم پر ایک بڑی ہلچل کے دن کا اندیشہ رکھتا ہوں جس دن تم پیٹھ پیچھے بھاگو گے۔ اور کوئی تم کو خدا کے غضب سے بچانے والا نہیں ہوگا۔ یادر رکھو کہ جس کو خدا گمراہ کردے اس کو کوئی دوسرا راہ دکھانے والا نہیں بن سکتا۔ اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف کھلی نشانیوں کے ساتھ آئے لیکن تم ان کی دعوت کی طرف سے برابر شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو تم یہ سمجھ بیٹھے کہ اللہ اب کوئی رسول نہ ہیں بھیجے گا۔ اللہ حدود سے تجاوز کرنے والوں اور شکیوں کو اسی طرح گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔ یعنی ان لوگوں کو جو بغیر کسی دلیل کے اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں، ایسے لوگ اللہ اور اہل ایمان کے نزدیک زیادہ مبعوض ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر متکبر و جبار کے دل پر مہر کردیا کرتا ہے۔ فرعون نے ہامان کو مخاطب کرکے کہا، اے ہامان ! میرے لئے ایک محل بنوائو تاکہ میں آسمانوں کے اطراف میں جھانک کر دیکھوں کہ موسیٰ کا رب کہاں ہے ! میں تو اس کو بالکل جھوٹا سمجھتا ہوں… مرد مومن نے کہا، اے میری قوم کے لوگو، میری پیروی کرو، میں تمہیں سیدھی راہ دکھا رہا ہوں۔ اے میری قوم کے لوگو ! یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے، اصلی ٹھکانا تو آخرت ہے۔ جو کسی برائی کا ارتکاب کرے گا تو وہ اسی کے مطابق بدل پائے گا۔ اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، تو یہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر بےحساب فضل ہوگا۔ اے میری قوم کے لوگو ! کیا بات ہے کہ میں تو تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو ! تم مجھے دعوت دے رہے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور ایسی چیزوں کو اس کا شریک ٹھہرائوں جن کے باب میں مجھے کوئی علم نہیں اور میں تمہیں خدائے عزیز و غفار کی طرف دعوت دے رہا ہوں۔ اس میں ذرا شبہ نہیں کہ تم جن کی طرف مجھے دعوت دے رہے ہو ان کی دہائی نہ دنیا میں کچھ نافع نہ آخرت میں۔ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف ہوگا اور حدود سے تجاوز کرنے والے جہنم کے ایندھن بنیں گے۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اس کو بہت جلد تم یاد کرو گے۔ میں اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔ بے شک اللہ اپنے بندوں کا نگرانِ حال ہے۔ تو اللہ نے اس کو لوگوں کی بری سازشوں سے محفوظ رکھا اور آلِ فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔“ اس مرد بزرگ کی یہ پوری تقریر پڑھیے۔ یہ تقریر انہوں نے مصڑ کے دار الامراء (House of Lords) میں اعیانِ حکومت کے سامنے اس وقت کی ہے جب فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کے قتل کی تجویز پیش کی ہے اور اعیانِ حکومت کو اپنی تجویز سے متفق کرنا چاہا ہے۔ اس وقت تک انہوں نے اپنا ایمان پوشیدہ رکھا تھا لیکن جب یہ فیصلہ کن وقت آگیا تو انہوں نے پردہ اٹھا دیا اور پھر حضرت موسیٰ ؑ کی تائید اور حق کی حمایت میں، فرعون اور قوم کے اتمام اعیان و اکابر کے سامنے، انہوں نے جو کچھ کہا ہے، جن دلائل کے ساتھ کہا ہے اور جس جرأت و بےخوفی کے ساتھ کہا ہے، اس کی مثال انبیاء اور صدیقین کی تاریخ کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتی۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھیے کہ یہ کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ خاندان شاہی کے ایک رکن رکین تھے اس وجہ سے ان کی اس نصیھت کو اعیانِ حکومت کسی اسرائیلی عصبیت پر محمول نہیں کرسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون ؑ پر تو انہوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ اسرائیلوں پر محمول نہیں کرسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ و حضرت ہارون ؑ پر تو انہوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ اسرائیلوں کو بغاوت پر ابھارنا چاہتے ہیں لیکن یہ صدائے حق جو انہی کے اندر کے ایک مرد بزرگ کی طرف سے اٹھی، اس کے خلاف وہ اپنے عوام کے اندر کیا بدگمانی پھیلا سکتے تھے !…اس مردِ جلیل کا یہی وہ شاندار اور زندہ جاوید کارنامہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ’ فعززنا بثالث ‘ کے الفاط سے ذکر فرمایا۔ یہ اس معنی میں تو رسول نہیں تھے جس معنی میں حضرت موسیٰ ؑ و حضرت ہارون ؑ رسول تھے لیکن ان کے سب سے زیادہ طاقتور، سب سے زیادہ جان نثار اور سب سے بڑے وفادار و راستبار ساتھی ضرور تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو تین کے تیسرے کا درجہ ید۔ قالوانا الیک مرسلون یہ جمع کے صیغہ سے ان سب کا یہ کنا کہ ’ انا الیکم مرسلون ‘ اس امر کو مستلزم نہیں ہے کہ یہ تینوں حضرات ایک ہی درجہ کے رسول تھے بلکہ یہ بات علی سبیل التغلیب ارشاد ہوئی ہے۔ ایک سفارت کے تمام ارکان ایک ہی درجہ و منصب کے نہیں ہوتے لیکن اصل ذمہ داری میں چونکہ سب شریک ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو اس طرح اپنے کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا حق ہوتا ہے۔ یہ امریہاں ملحوظ رہے کہ اصل رسول کی حیثیت تو صرف حضرت موسیٰ ؑ کو حاصل تھی۔ حضرت ہارون بھی اصل رسول نہیں بلکہ حضرت موسیٰ ؑ کے وزیر تھے۔ اسی طرح اس مرد ثالث کی حیثیت رسول کی نہیں بلکہ ان رسولوں کے سب سے بڑے جاں نثار و مددگار کی تھی لیکن انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے لی تھی اور اپنی قوم کو غلط کار لیڈروں کی پیروی سے روک کر حضرت موسیٰ ؑ و حضرت ہارون ؑ اور اپنی پیروی کی دعوت دے رہے تھے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی زمرے میں شمار فرمایا۔
Ayah 36:15

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

لوگوں نے جواب دیا کہ تم تو بس ہمارے ہی جیسے بشر ہو ! اور خدائے رحمان نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی ہے، تم لوگ بالکل جھوٹ دعویٰ کرتی ہو۔

قالو ما انتتم الا بشر مثلنا وما انزل الرحمن من شئی ان انتم الا تکذبون (15) یہ وہی اعتراض ہے جو ہر رسول کے مکذبین نے اپنے اپنے رسولوں کے خلاف اٹھایا ہے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو تو تم خدا کے رسول کیسے ہوئے ! اگر خدا کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو کسی برتر مخلوق کو رسول بناتا نہ کہ ہمارے ہی جیسے انسانون کو۔ یہ اعتراض قرآن میں رسولوں کے مکذبین کی زبان سے بار بار نقل ہوا ہے۔ فرعون اور اس کے اعیان کو بھی حضرت موسیٰ ؑ پر یہ اعتراض تھا اور یہی اعتراض قریش نے آنحضرت ﷺ کے خلاف بھی اٹھایا تھا۔ ’ وما انزل الرحمن الایۃ ‘۔ یعنی تمہارا یہ دعویٰ کہ خدا نے تم پر کوئی کتاب یا وحی نازل کی ہے، بالکل جھوٹ ہے۔ خدا نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی ہے۔
Ayahs 36:16–17

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہمارا رب گواہ ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

او ہماری ذمہ داری بس واضح طور پر پہنچادینے کی ہے۔

قالو اربنا یعلم انا الیکم لمرسلون۔ ما علینا الا البلغ المبین (16۔ 17) ’ ربنا یعلم ‘ قسم کے مفہوم میں آتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں۔ ان کی تکذیب کے جواب میں انہوں نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ ہم تمہارے پامی خدا کے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ جس طرح آیت 14 میں ’ ھوسلون ‘ علی سبیل التغلیب آیا ہے اسی اسلوب پر یہاں بھی جمع آیا ہے۔ ’ وما علینا الا البلغ المبین ‘۔ یہ ان کی طرف سے لوگوں کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہی کو جھٹلاتے ہو تو جھٹلائو۔ ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم تم کو خدا کی بات نہایت واضح طور پر پہنچا دیں۔ تمہارے دلوں میں اتار دینا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو اس کا انجام خود بھگتو گے۔ ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائیں گے۔
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

لوگوں نے کہا، ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تم کو سنگسار کر چھوڑٰن گے اور تم کو ہمارے ہاتھوں بڑا دکھ پہنچے گا۔

قالوا انا تضیرنا بکم لئن لم تنھوا لنرجمنکم ولیمسنکم منا عذاب لیم (18) لفظ ’ تطیر ‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں یہ بری فال لینے اور کسی کو منحوس سمجھے کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ان رسولوں کی دعوت کے زمانے میں اہل مصر پر جو آفتیں، ان کی تنبیہ کے لئے نازل ہوئیں ان سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے انہوں نے ان کو حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیا اور کہا کہ یہ آفتیں ہمارے اعمال کے سبب سے ہم پر نہیں آرہی ہیں، جیسا کہ موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھ دعویٰ کر رہے ہیں، بلکہ یہ ان کی اس گمراہ کن دعوت کے نتیجہ میں پیش آہی ہیں جس سے ہمارے دیوتا ناراض ہیں۔ ساتھ ہی ان کو دھمکی دی کہ اگر تم لوگ اس بدعقیدگی کی اشاعت سے باز نہ آئے تو ہم اپنے دیوتائوں کی حرمت کی حفاظت کے لے تم کو سنگسار کردیں گے اور اس کے علاوہ بھی بہت سے دکھ تم کو ہمارے ہاتھوں جھیلنے پڑیں گے۔ یہ مضمون سورة اعراف میں بھی گزر چکا ہے۔ فرمایا ہے۔ ’ ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین و نفص من الثمرات لعلھم یذکرون فازا اجاھ تھم الحسنہ قالوا الناھذہ وان تصبھم سیئۃ یطیر وابموسیٰ ومن معہ (130۔ 131) (اور ہم نے قوم فرعون کو قحط اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کیا کہ وہ نصیحت حاصل کریں تو جب ان کے حالات اچھے ہوتے، کہتے کہ یہ تو ہمارا حق ہی ہے اور اگر ان کو کوئی آفت پہنچتی تو اس کو موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے)۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

رسولوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس چیز کو تم نے نحوست سمجھا کہ تمہیں یاد دہانی کی گئی ! بلکہ تم خود حدود سے گزر جانے والے لوگ ہو۔

قالوا طرئیکم معکم این ذکرتھم بل انتم قوم مسرفون (19) لفظ طائر کی تحقیق بھی اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے معنی نحوست کے ہیں۔ یہ ان رسولوں کا جواب ہے کہ تم اپنی بدبختی کے اسباب دوسروں کے اندر ڈھونڈتے ہو حالانکہ تمہاری نحوست خود تمہارے ساتھ ہے۔ یہ جو کچھ پیش آرہا ہے تمہارے اپنے ہی عقائد و اعمال کا نتیجہ ہے اس وجہ سے دوسروں کو ملزم ٹھہرانے کے بجائے اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھو اور اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لو۔ ’ ائن ذکرتم ‘ یعنی تم ہمیں جو منحوس ٹھہرا رہے ہو تو کیا اس گناہ میں کہ ہماری طرف سے تم کو یاددہانی کی گئی اور نیک و بد سے آگاہ کیا گیا ہے ! ’ برانتم قوم مرفون ‘ یعنی یہ تمہاری سرکشی و بدبختی کی انتہا ہے کہ خدا کے حدود کو توڑ کر اپنے لئے خطرات کو دعوت دیتے ہو پھر خدا کے جو بندے تمہیں ان خطرات سے آگاہ کرتے ہیں ان کے شکر گزار ہونے کے بجائے اُلتے انہی کو ان خطرات کا سبب قرار دیتے ہو۔
Ayahs 36:20–21

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا۔ اس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو، رسولوں کی پیروی کرو۔

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ان لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتے اور وہ راہ راست پر بھی ہیں۔

وجاء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعوا المرسلین اتبعوا من لا یسئلکم اجرا وھم مھتدون (20۔ 21) اوپر آیت 4 1 میں جس تیسرے منذر کی طرف اشارہ ہے یہ اس کی تائید حق کی تفصیل ہے۔ اوپر سورة اعراف کی آیت کے حوالہ سے ہم بیان کرچکے ہیں کہ ’ رجل ‘ سے مراد ہی مومن آل فرعون ہے جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ مومن میں ہوا ہے اور جس کی تقریر کا حوالہ ہم اوپر دے چکے ہیں۔ اس کا واضح قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ میں ان کا تعارف یہاں کرایا گیا ہے بعینہ انہی الفاظ میں سورة اعراف میں بھی کرایا گیا ہے۔ ’ جاء من اقصا المدینہ یسعی ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ان کی ہمدردی محض لفظی نہیں بلکہ عملا بھی۔ اپنے خس خانوں میں بیٹھے بیٹھے تو بہت سے لوگ کسی مقصد حق اور مرد حق کی تعریف و تحسین کردیتے ہیں لیکن ایسے افراد، بالخصوص امراء اور اغنیاء کے طبقہ میں بہت کم نکلتے ہیں جو عملاً اس حق کے لئے سرگرمی دکھائیں۔ لیکن اس مرد حق کا حال اس سے مختلف تھا۔ ان کا مکان شہر کے ایک بعید کنارے پر تھا۔ جیسا کہ لفظ اقصی سے واضح ہوتا ہے، لیکن جب کبھی انہوں نے یہ محسوس فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو کوئی خطرہ درپیش ہے تو وہ بھاگ کر جیسا کہ لفظ ’ یسعی ‘ سے واضح ہوتا ہے ‘ وہاں پہنچے ہیں اور اپنے تمام خاندانی مفادات بلکہ اپنی جان تک خطرے میں ڈال کر ان کے لئے سپر بن گئے ہیں۔ اسی طرح کے ایک موقع کا حوالہ قرآن نے یہاں دیا ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہ وہی موقع ہے جب انہوں نے فرعون کے سامنے وہ تقریر فرمائی ہے جو پیچھے ہم نقل کر آئے ہیں۔ آگے کی آیات سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔ ’ قال یقوم اتبعوا المرسلین ‘۔ یہ اس تقریر کا اجمالی حوالہ ہے جو انہوں نے فرعون اور اس کے اعیان کے سامنے کی ہے۔ ’ اتبعو المرسلین ‘ میں مرسلین ‘ سے ان کا اشارہ زمرہ مرسلین کی طرف ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کو بھی اصطلاحی مفہوم میں ایک رسول سمجھتے رہے ہوں۔ ان کے اس ارشاد میں اصلی زور اس بات پر ہے کہ قوم کے لوگوں کو فرعون، ہامان، قارون اور اس قسم کے مفسد لیڈروں کے پیچھے چلنے کے بجائے ان لوگوں کے پیچھے چلنا چاہیے جن کو خدا نے لوگوں کی رہنمائی کے لئے بھیجا ہے یا جو لوگ ان کا ساتھ دے رہے اور ان کی پیروی کر ہے ہیں۔ ’ اتبعوا من لا ئسئلکم الایۃ ‘ یہ رسولوں کی پیروی کے حق میں دو دلیلیں ہیں۔ ایک یہ ہے ان رسولوں کا اس دعوت کے ساتھ کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں ہے بلکہ وہ ہر غرض سے بالا تر ہو کر محض خلق کی ہدایت کے لئے یہ سارے دکھ جھیل رہے ہیں۔ برعکس اس کے دوسرے لیڈر جو اس دعوت حق کی مخالفت کر رہے ہیں وہ محض اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ دوسری دلیل انہوں نے یہ دی کہ ’ وھم مھتدون ‘۔ یہ رسول بےغرض ہونے کے ساتھ ساتھ ہدایت پر بھی ہیں۔ اس دلیل سے یہ بات نکلتی ہے کہ بےغرضی ایک شخص کی نیک نیتی کی شہادت تو ضرورت ہے لیکن مجرد نیک نیتی اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ وہ حق پر بھی ہے۔ اس وجہ سے کسی شخص کی نیک نیتی اور بےغرضی کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس کی بات عقل و منطق کے معیار پر بھی پوری اترتی ہے یا نہیں۔ اگر وہ بےغرض بھی ہے اور اس کی دعوت عقل و مطنق کی رو سے بھی صحیح ہے تو اس کی پیروی نہ کرنا بدبختی ہے۔
Ayahs 36:22–25

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور میں کیوں نہ بندگی کروں اس ذات کی جس نے مجھ کو پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جائو گے !

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اس کے سوا دوسروں کو معبود بناوں ! اگر خدائے رحمان مجھے کوئی تکلیف پہچانی چاہے تو نہ ان کی سفارش میرے کچھ کام آئے گی اور نہ وہ مجھے چھڑا سکیں گے۔

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

بیشک میں اس وقت ایک کھلی ہوئی گمراہی میں ہوں گا۔

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تمہارے رب پر ایمان لایا تو میری بات سنو۔

آیت 22۔ 25 اندازِ کلام دلیل ہے کہ یہ بات انہوں نے قوم کے لیڈروں کی ملامت کے جواب میں فرمائی ہے۔ جب انہوں نے کھلم کھلا لوگوں کو رسولوں کی پیروی کی دعوت دی ہوگی تو ظاہر ہے کہ مفاد پرست لیڈروں نے ان کو قوم اور دین آبائی کا دشمن ٹھہرایا ہوگا۔ ان کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ آخر اس کی بندگی میں کیوں نہ کروں جس نے مجھے وجود بخشا اور جس کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے۔ ’ والیہ ترجعون ‘ میں خطاب کا صیغہ تنبیہ کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج جس رب کی بندگی سے تم لوگ اس شدو مد کے ساتھ مجھے روک رہے ہو، ایک دن پیشی سب کی اسی کے حضور میں ہونی ہے اور تمہیں اس کے آگے جواب دہی کرنی ہے۔ ء اتخذمن دونہ الھۃ الایۃ ‘۔ یعنی یہ کس طرح ممکن ہے کہ میں تمہارے کہنے سے ایسی چیزوں کو معبود بنائوں جن کی بےبسی کا یہ حال ہے کہ اگر خدا مجھے کوئی دکھ پہنچانا چاہے تو نہ ان کی سفارش میرے لئے کچھ نافع ہوسکتی ہے اور نہ وہ بذات خود ہی یہ حیثیت رکھتے کہ مجھے اس دکھ سے نجات دے سکیں ! ’ انی اذا لفی ضلل مبین ‘ یعنی اگر میں ایسا کردوں تو یہ ایسی کھیل ہوئی گمراہی ہوگی جس کے لئے میرے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔ ’ انی امنت بربکم فاسمعون ‘۔ یہ قوم کو فیصلہ کن اور دندان شکن جواب ہے کہ تم لوگ اچھی طرح کان کھول کر میری یہ بات سن لو کہ یہ تمہارے رب پر ایمان لایا۔ مطلب یہ ہے کہ اب مجھے اس راہ سے ہٹانے کی کوشش میں اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ تم خود بھی یہی راہ اختیار کرو جو میں نے اختیار کی ہے اور اسی رب پر ایمان لائو جس پر میں ایمان لایا یوں اس لئے کہ فی الحقیقت وہی تمہارا بھی رب ہے۔ اگر تم اس سے مجھے برگشتہ کرنے کی کوشش کروں گے تو اپنے رہے ہی برگشتہ کرنے کی کوشش کروگے۔
Ayahs 36:26–27

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ جنت میں داخل ہوجائو۔ اس نے کہا کاش ! میری قوم جانتی

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مجھے عزت پانے والوں میں سے بنایا !

قیل ادخل جسۃ قل یلیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی اجع لمنی من السکرمین (26۔۔۔) مذکورہ اعلان کے بعد ظاہر ہے کہ ان کی پوری قوم ان کی دشمن بن کر ان کے خلاف سازشوں میں لگ گئی ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو سازشوں کے شر سے محفوظ رکھا اور احمایتِ حق کی راہ میں انہوں نے یہ بازی جو کھیلی اس کے صلہ میں ان کو جنت کی بشارت دی گئی جس پر انہوں نے اس تمنا کا اظہار فرمایا کہ کاش میری قوم بھی اس بات کی قدروقیمت جانتی جس کے صلہ میں مجھے یہ مغفرت اور سرفرازی حاصل ہوئی۔ یہاں اس بات کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ بشارت ان کو کس موقع پر دی گئی ہے۔ کلام کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے تین امکان سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے اس اعلان کے بعد قوم کے اشرار نے ان کو شہید کردیا اور اس وقت ان کو یہ بشارت دی گئی ہو۔ دوسرا یہ کہ اس کے بعد انہوں نے قوم کے رویہ سے مایوس ہو کر ہجرت فرمائی ہو اور اس وقت ان کو یہ بشارت ملی ہو۔ تیسرا یہ کہ اس کے بعد چونکہ ان کا مشن پورا ہوچکا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے ساتھ ان کو وفات دی ہو۔ ان میں سے پہلا امکان کلام کے سیاق وسباق کی روشنی میں اگرچہ زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے لیکن سورة مومن کے حوالے سے اوپر ہم نے ان کی جو تقریر نقل کی ہے اس کے آخر میں یہ تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قوم کی سازشوں کے شر سے محفوظ رکھا۔ ان کے وداعی کلمات کے بعد ان کی حفاظت کا ذکر یوں ہوا ہے : فستذکرون ما اقول لکم وافومن امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعبادہ وقہ اللہ مسیات ما مکروا وحاق بال فرعون سواء العذاب۔ (المومن : 44۔ 45) (اے میری قوم کے لوگو !) میں جو کچھ تم سے کہہ رہا ہوں اس کو تم عنقریب یاد کرو گے۔ میں اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔ بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات کو دیکھنے والا ہے۔ پس اللہ نے اس کو ان سازشوں کی آفات سے محفوظ رکھا جو لوگوں نے اس کے خلاف کیں اور آلِ فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ اس آیت کی روشنی میں یہ امکان تو خارج از بحث ہوجاتا ہے کہ ان کو قتل کیا گیا ہو البتہ مذکورہ بالا دو امکان باقی رہ جاتے ہیں اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان دو میں سے کون سی صورت پیش آئی۔ اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ بس اتنی بات یقینی ہے کہ حق کی حمایت میں جو جاں بازی انہوں نے دکھائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا انعامل ان کو یہ ملا کہ اسی دنیا میں ’ مبشر بالجنۃ ‘ قرار پائے۔
Ayahs 36:28–29

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور اس کے بعد اس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی فوج نہیں اتاری اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

بس ایک ڈانٹ تھی کہ دفعتہ وہ پامال ہو کے رہ گئے۔

آیت 28۔ 29 ’ من بعدہ ‘۔ میں مذکورہ بالا دو باتوں کا امکان ہے۔ ان کی موت کے بعد یا ان کی ہجرت کے بعد۔ یہ اس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جس سے مکذبین کو لازماً سابقہ پیش آتا ہے جب کہ رسول اور اس کے ساتھ قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر جات ہیں۔ فرمایا کہ اس کے بعد ہمیں اس کی قوم کو پامال کرنے کے لئے آسمان سے کوئی فوج نہیں اتارنی پڑی بلکہ ہماری ایک ہی ڈانٹ میں وہ پامال ہو کے رہ گئے۔ لفظ سیحۃ عذاب کی تعبیر ہے۔ ’ وما کن منزلین ‘ سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ان کے لئے آسمان سے کوئی فوج نہ اتارنے کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے کاموں کے لئے ہم اپنی فوجیں نہیں اتارا کرتے، بس ہماری ایک ڈانٹ ہی کافی ہوجاتی ہے۔ یہ حقیقت بھی نگاہ میں رہے کہ ہرچند یہ عذاب اصلاً موسیٰ ؑ و حضرت ہارون ؑ کی تکذیب کے نتیجہ میں آیا لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کو اس بندہ مومن کی تکذیب کے نتیجہ کی حیثیت سے ذکر فرمایا ہے۔ اس سے رسول کے ساتھیوں کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ان کا یہ درجہ ہوتا ہے کہ ان کی تکذیب رسول کی تکذیب کے ہم معنی بن جاتی ہے اور اس کا وہی انجام ہوتا ہے جو رسول کی تکذیب کا ہوتا ہے۔ ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ حضرت موسیٰ کے مکذبین۔ فرعون اور اس کی قوم۔ پر جو عذاب آیا اس کی شکل تو یہ ہوئی کہ فرعون اپنی تمام فوج سمیت دریا میں غرق کردیا گیا سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان پر بھی کوئی اسی طرح کا عذاب آیا جس طرح کا عذاب عاد وثمود اور دوسری پچھلی قوموں پر آیا جس کا اندیشہ اس مرِ مومن نے اپنی اس تقریر میں ظاہر کیا تھا جو سورة مومن کے حوالے سے اوپر نقل ہوئی ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ فرعون اور اس کی قوم پر دونوں قسم کے عذاب آئے۔ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی فوجوں کو ایک سائیکلونی طوفان کے ذریعے سے سمندر میں غرق کردیا، دوسری طرف، رعدو برق اور زلزلہ کے عذاب نے مصر کی تمام تعمیرات اور اس کے سارے باغ و چمن تاراج کردیے۔ اس دوسرے عذاب کا ذکر تورات میں نہیں ہے لیکن قرآن میں اس کا ذکر نہایت واضح الفاظ میں ہے۔ مثلاً فرمایا ہے : ودمرنا ما کان یصنع فرعون و قومہ وما کانوا یعرشون (الاعراف : 137) اور ہم نے تاراج کردیے وہ سب کچھ جو فرعون اور اس کی قوم کے لوگ بناتے رہے تھے اور ان کے انگوروں کے وہ باغ بھی جن کو وہ ٹیٹیوں پر چڑھاتے تھے۔ یہی بات سنت ِ الٰہی کے مطابق بھی ہے۔ رسول کی تکذیب کے نتیجہ میں جو عذاب کسی قوم پر آیا ہے اس نے قوم کے قومی وجود کی جڑ کاٹ دی ہے۔ یہ بات مجرد فرعون اور اس کی فوجوں کے غرق ہونے سے نہیں پوری ہوسکتی تھی۔ یہ اسی طرح کے کسی عذاب سے پوری ہوسکتی تھی جس کی طرف سورة اعراف کی مذکورہ بالا آیات اشارہ کرر ہی ہے۔ اسی کا ذکر یہاں آیت زیر بحث میں ہے۔
Ayah 36:30

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

افسوس ہے بندوں کے حال پر ! جو رسول بھی ان کے پاس آئے وہ ان کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا

آیت 30 یہ مکذبی رسول کی بدبختی پر اظہارِ افسوس ہے کہ ہمیشہ سے لوگوں کا حال یہی رہا ہے ہے جب اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے کوئی رسول بھیجا تو لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا ہے اور پھر اس کے انجام بد سے دو چار ہوئے ہیں۔ چناچہ جو روش فرعون اور اس کی قوم نے اپنے رسولوں کے ساتھ اختیار کی آج وہی روش قریش نے اپنے رسول اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ اختیار کی ہے او لازماً یہ بھی اسی انجام سے دو چار ہوں گے جس سے ان کے پیشرو دو چار ہوئے۔ رسول۔ خدا کی سب سے بڑی رحمت بن کر آتا ہے لیکن اس کو مذاق۔۔ تو پھر اس سے بڑی نقمت بھی کوئی نہیں ہے۔
Ayahs 36:31–32

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کہ کتنی قومیں ان سے پہلے ہوئی ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا، اب وہ ان کے پاس واپس آنے والی نہیں۔

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

بیشک وہ سب ہمارے ہی حضور میں حاضر کیے جائیں گے۔

آیت 31۔ 32 یہ قریش کو رسولوں کے ساتھ استہزا کا انجام دکھانے کے لئے ماضی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ کھیل جو وہ کھیل رہے ہیں یہ ایک نہایت خطرناک کھیل ہے۔ یہ کھیل کھیلنے والی قومیں اس دنیا سے اس طرح مٹی ہیں کہ اب وہ کبھی واپس آنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ اب ان سب کی حاضری ہمارے ہی سامنے ہونی ہے اور ہم ہی ان کا حساب کریں گے۔ ’ فان کدلما میں ’ لما ‘ اسی طرح کا ہے جس طرح سورة طارق میں ہے۔ ’ ان کل نفس لما علیھا حافظ ‘(بےشک ہر جان پر ایک نگران مامور ہے)۔ یہ ’ ان ‘ مخففہ ہے اور ’ ل ‘ اس کا قرینہ ہے چونکہ جملہ میں کچھ صوتی خلا رہ جاتا ہے اس وجہ سے اس کو بھرنے کے لئے اس کو ’ لما ‘ کردیتے ہیں۔ معنی پر اس کا کچھ اثر نہیں پڑتا۔
Ayahs 36:33–35

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک بہت بڑی نشانی ان کے لئے مردہ زمین ہے۔ اس کو ہم نے زندہ کیا اور اس سے غلے اگائے پس اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور اس میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگائے اور اس میں چشمے جاری کردیے

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

کہ وہ اس کے پھل کھائیں، اور یہ ان کے ہاتھوں کی کارگزاری نہیں ہے تو کیا وہ شکر نہیں کرتے !

4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 33۔ 50 آگے آفاق کی نشانیوں سے رسول کی دعوت اور اس کے انداز کی تائید کی ہے اور ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے جو کائنات کی ان تمام نشانیوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے کسی نئی نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گویا اوپر کی تاریخی شہادت کے بعد کلام ازسر نو تمہید سے متصل ہوگیا ہے جس میں یہ بات فرمائی گئی تھی کہ ان کی اصلی بیماری یہ ہے کہ استکبار ان کو اوپر یا نیچے کی کسی نشانی کی طرف متوجہ نہیں ہونے دے رہا ہے ورنہ ان کے آگے اور پیچھے نشانیوں کی کمی نہیں ہے۔ ان کے اس رویہ اور اس کے انجام کی مثال قوم فرعون سے دینے کے بعد پھر ان کو آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت آیت 33۔ 35 یہ سب سے پہلے زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مردہ زمین کی ازسر نور زندگی سے قیامت، توحید اور آسمانی ہدایت کے نزول پر جن گوناگوں پہلوئوں سے استشہاد کیا ہے اس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ یہاں ربوبیت کے پہلو کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے اور پھر خدا کی شکر گزاری کے حق کا مطالبہ کیا ہے جو بندوں پر لازماً عائد ہوتا ہے۔ اس شکر کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ بندے تنہا اپنے رب ہی کی بندگی کریں اس لئے کہ ان نعمتوں میں سے کوئی نعمت بھی نہ تو انسان کی اپنی سعی و تدبیر سے وجود میں آئی ہے اور نہ کوئی دوسرا ان کو وجود میں لانے والا بنا ہے۔ ’ وایۃ لھم الارض منالمیتتہ ‘ لفظ ایۃ ‘ کی تنکیر تفخیم شان پر دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو اگر کسی نشانی کی طلب ہے تو اس کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے لئے ایک سب سے بڑی نشانی ان کے پائوں کے نیچے بچھی ہوئی یہ زمین ہی ہے۔ یہ بالکل مردہ ہوتی ہے، ہم اپنی بارش بھیج کر اس کو زندہ کرتے اور پھر اس سے غلے پیدا کرتے ہیں اور ان غلوں ہی پر ان کی معاش کا انحصار ہے۔ پھر یہ غور کریں تو ان کو معلوم ہوگا کہ ہم نے ان کی معاش کے لئے صرف غلے ہی کا انتظام نہیں کیا ہے بلکہ ہم نے اس میں ان کے لئے کھجور اور انگور اور دوسرے پھلوں کے باغ بھی اگائے ہیں اور ان باغوں کو شاداب رکھنے کے لئے چشمے بھی جاری کردیے ہیں۔ ’ لیاکلوا من ثمرہ لا وما عملتہ ایدیھم ط افلا یشکرون ‘۔ یہ اس تمام اہتمام ربوبیت کا حق بیان فرمایا ہے کہ یہ سارا اہتمام ہم نے اس لئے کیا کہ بندے ہماری نعمتوں سے بہرہ مند ہوں اور اس امر پر دھیان کریں کہ یہ ان کے ہاتھوں کی کارفرمائی نہیں ہے بلکہ ایک ربِ رحیم و کریم و منعم کی بخشش ہے جس نے ان کو بغیر کسی استحقاق کے ان نعمتوں سے بہرہ مند کیا ہے کہ وہ اس کے شکر گزارو فرمانبردار بنیں۔ لیکن ان کی ناسپاسی کا یہ حال ہے کہ یہ تمام نعمتوں سے فائدہ تو اٹھا رہے ہیں لیکن جب ان کو خدا کی شکر گزاری کی دعوت دی جاتی ہے تو اکڑتے اور نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ’ من ثمرہ ‘ کی ضمیر کے مرجع کے بارے میں اہل تاویل کا اختلاف ہے۔ اکثر لوگوں نے اس کا مرجع اللہ تعالیٰ کو مانا ہے۔ (یعنی لوگ) اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے پھل کھائیں اور اس کے شکر گزار ہیں)۔ اس تاویل میں مجھے تکلف محسوس ہوتا ہے۔ اوپر سے اسلوب کلام متکلم کا چلا آرہا ہے اس وجہ سے اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے یہاں ’ من ثمرہ ‘ کے بجائے ’ من اثمارنا ‘ یا اس کے ہم ملطب کوئی اور اسلوب ہوتا اگرچہ یہ بھی کچھ موزوں نہ ہوتا۔ میرے نزدیک اس ضمیر کا مرجع ’ ارض ‘ ہی ہے جس کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے لیکن اس کے لئے یہاں ضمیر مذکور اس اسلوب پر آئی ہے جس کو اہل ادب ’ علی سبیل لتاویل ‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ عربی زبان میں یہ قاعدہ ہے کہ بعض مرتبہ ضمیر لفظ کے ظاہر کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس کے مفہوم کے اعتبار سے آتی ہے۔ اس کی متعد دمثالیں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ یہاں ’ ارض ‘ کے لئے مذکر ضمیر استعمال کرکے یہ اشارہ فرمادیا کہ اس ’ بلدطیب ‘ مراد ہے۔ اس لئے کہ بارش ہونے کو تو ہر خشک و تر اور ہر بنجر اور زرخیر زمین پر ہوتی ہے لیکن بار آور وہی زمین ہوتی ہے جو زرخیر ہوتی ہے۔ یہ مضمون سورة اعراف میں اس طرح بیان ہوا۔ ’ والبلد الطیب یخرج نباتہ باذن ربہ والذی خبث لا یخرج الا نکدار (اعراف : 87) (اور جو زمین زرخیز ہوتی ہے اس کی نباتات تو اس کے رب کے حکم سے خوب ایچتی ہیں اور جو زمین ناقص ہوتی ہے اس سے ناقص ہی چیز اگتی ہے)۔ ’ وما عملتہ ایدیھم ‘۔ یہ جملہ معترضہ کے محل میں ہے اور یہ ایک نہایت اہم یاددہانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان پھلوں کو کھائیں اور یہ یاد رکھیں کہ ان کو وجود میں لانے والے وہ نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی حقیقت کا تذکر ہی آدمی کے اندر شکر کا جذبہ ابھارتا ہے اور یہی شکر تمام دین کی بنیاد ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے بیخبر ہوتے ہیں وہ اللہ کی نعمتوں کو اپنے استحقاق اور اپنی قابلیت و صلاحیت کا کرشمہ سمجھتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ خدا کے شکر گزار بدے بننے کے بجائے استکبار میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور یہ استکبار اپنی فطرت کے اعتبار سے شرک اور تمام فساد فی الارض کا پیش خیمہ ہے۔