Ayah 35:11۔ الفاط کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 1
یاد ہوگا، پچھلی سورة کا آغاز الحمد اللہ ہی سے ہوا ہے۔ اس سے دونوں سورتوں کے مزاج کی مناسبت واضح ہوتی ہے۔ دین کی بنیاد توحید پر اور توحید کی حقیقت اللہ ہی کی شکر گزاری ہے اس لئے کہ آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا اللہ ہی ہے اور بندوں کو جو ظاہری و باطنی نعمتیں بھی حاصل ہے سب اللہ ہی کا عطیہ ہیں۔
’ جاعل الملئکۃ رسلا والی اجنحہ مثنی وثلث وربع۔ جاعل الملئکۃ بدل ہے ’ فاطر السموت ‘ سے۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذر اس کی اہمیت کے پہلو سے فرمایا کہ جو اللہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اسی نے فرشتوں کو بھی پیغام رسانی کے مقصد سے وجود بخشا ہے۔ فرشتوں کے خاص طور پر ذکر کی وجہ یہ ہے عربوں کی میتھالوجی (Mythology) میں سب سے زیادہ اہمیت فرشتوں ہی کا حاصل تھی۔ وہ ان کو خدا کی چہیتی بیٹیوں کا درجہ دیتے اور اسی حیثیت سے ان کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا تصور یہ تھا کہ اگر یہ خوش رہیں تو ان کے واسطے سے سب کچھ حاصل ہوسکتا ہے۔ اس عقیدے نے ان کے ہاں خدا کے وجود کو بالکل معطل کردیا تھا۔ وہ خدا کو رسمی طور پر مانتے تو تھے لیکن ان کی تمام شکرگزاری اور عبادت کے مرکز ان کے وہ اصنام ہی تھے جو انہوں نے اپنے زعم کے مطابق فرشتوں کے نام پر بنا رکھے تھے۔ یہاں ان کے اسی زعم باطل کی تردید کے لئے ارشادہوا کہ شکر کا سزاوار اللہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ اسی نے فرشتوں کو بھی پیغام بری کی ڈیوٹی پر مقرر فرمایا ہے۔ یعنی یہ فرشتے نہ آسمان و زمین کی تخلیق میں کسی نوع سے شریک ہیں اور نہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ ہے بلکہ یہ صرف خدا کے پیغام رساں ہیں جن کے ذریعے سے خدا پنے رسولوں کو اپنے احکام سے آگاہ کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا جن لوگوں نے ان قاصدوں کا اور نامہ بروں کو محبوب کا درجہ دے کر انہی پرستش شروع کر رکھی ہے انہوں نے نہ خد ا کی پدر پہچانی، نہ ان قاصدوں کی اور نہ اپنی ہی۔
’ اولو اجنحۃ ‘ صفت ہے ’ رسلا ‘ کہ۔ اجنعحہ جمع ہے ’ جناح ‘ کی۔ ’ جناح ‘ آدمیوں کے بازئوں کے لئے بھی آتا ہے او پرندوں کے پروں کے لئے بھی جن سے وہ اڑتے ہیں۔ یہاں یہ لفظ فرشتوں کے لئے استعمال ہوا ہے اس وجہ سے اس کو نوعیت متشابہات کی ہے یعنی ان کی اصل حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ مقصود اس سے یہاں ہم کو صرف اس حقیقت کا علم دنیا ہے کہ سب فرشتے ایک ہی درجے کے نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ن ان کو اپنی مصلحتوں کے تحت مختلف درجے کی قوتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کسی کی قوت پرواز کم ہے کسی کو زیادہ۔ کچھ دو پروں کی قوت سے اڑتے ہیں، کچھ تین کی، کچھ چار کی۔
یہ پر فرشتوں کے ہیں اس وجہ سے ان کی قوت پرواز کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور یہ چار تک کا ذکر بھی تحدید کے مفہوم میں نہیں ہے۔ مقصود یہاں صرف ان کے مراتب و منازل کے تفاوت کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ اس وجہ سے اگر اللہ تعالیٰ کے پاس ایسے فرشتے بھی ہوں جن کی قوت پرواز اس سے زیادہ ہو تو اس آیت سے اس کی نفی نہیں ہوتی۔ چناچہ بعض حدیثوں میں حضرت جبریل کے پروں کی تعداد اس سے زیادہ مذکور ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوت پرواز اور رسائی تمام فرشتوں سے زیادہ ہے۔ مقصود یہاں صرف یہ واضح کرنا ہے کہ جن نادانوں نے فرشتوں کو الوہیت کے زمرے میں داخل کر رکھا ہے ان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ و بلند کا پتہ نہیں ہے۔ خدائی میں شریک ہونا تو درکنار اس کے قاصد اور سفیر ہونے میں بھی ان سب کا درجہ و مرتبہ ایک نہیں ہے بلکہ کسی کی رسائی کسی منزل تک ہے اور کسی کی پہنچ کسی مقام تک۔ اسی حقیقت کا اعتراف سورة صافات میں حضرت جبرئیل امین کی زبان سے یوں منقول ہے۔
وما منا الا لہ مقام معلوم۔ وانا لنحن الصافون۔ وانا لنحن المسبحون (164۔ 166)
اور ہم میں سے ہر ایک کے لئے بس ایک معین مقام ہے اور ہم ہر وقت صف بستہ رہنے والے ہیں اور ہم ہر وقت تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔
’ یزید فی الخلق ما یشاء ان اللہ علی کل شئی قدیر۔ ‘ یعنی اللہ تعالیٰ جن صلاحیتوں اور قوتوں کی مخلوق چاہے پیدا کرسکتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس نے فرشتوں کو اگر اپنی پیغام بری کے لئے پیدا کیا تو یہ بھی اس کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے۔ اگر ان کے درجات میں تفاوت رکھا تو یہ بھی اسی کی قدرت کی ایک شان ہے کہ اگر وہ اپنی خلق یا اس کی صلاحیتوں میں کوئی اضافہ کرنا چاہے تو اس پر بھی وہ قادر ہے۔ صفات اور صلاحیتوں میں کمی بیشی کرنا اللہ کے اختیار میں ہے۔ اگر کسی کی صفات اور قوتوں میں اس نے افزونی عطا فرمانی ہے تو اس کے بھی معین حدود ہیں۔ اس کی بنا پر نہ کسی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ خدا کی خدائی میں شریک ہونے کا مدعی بن جائے نہ یہ جائز ہے کہ دوسرے اس کو خدائی میں شریک بنا دیں۔
Ayah 35:2آیت 2
یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں خدا ہی شکر کا سزاوار ہے۔ فرمایا کہ اللہ تمہارے لئے جس فضل و رحمت کا بھی دروازہ کھولنا چاہیے وہ اس کو کھول سکتا ہے، کوئی اس کے فضل و رحمت کو روک نہیں سکتا۔ اسی طرح اگر وہ کسی رحمت سے محروم کرنا چاہیے تو کسی کی طاقت نہیں کہ وہ تمہیں اس سے بہرہ مند کرسکے۔ یہی مضمون سورة زمر میں یوں بیان ہوا ہے۔
قل افراء یتم ما تدعون من دون اللہ انی ارادنی اللہ بضر ھل من لشفت ضرہ اواردنی برحمتہ ھل عن ممسکت رحمتہ (الزمر : 38)
اللہ کے سوا جن معبودوں کو تم پکارتے ہو کبھی تم نے ان پر غور کیا ہے۔ اگر اللہ مجھے کوئی ضرور پہنچانا چاہے تو کیا وہ اس کے دفع کرنے والے بن سکتے ہیں ! یا اللہ مجھے کسی رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں !
مقصد یہ ہے کہ جب اصل حقیقت یہ ہے تو فرشتوں اور جنوں کو تم نافع وضار سمجھ کر ان کی عبادت جو کرتے ہو یہ محض تمہاری حماقت ہے۔ نفع و ضرر تمام تر خدا ہی کے اختیار میں ہے اس وہ سے لشکر اور عبادت کا حق دار اتنہاوہی ہے۔
آیت میں ایک ہی چیز (رحمت) کے لئے ضمیر پہلے مونث آئی، پھر اسی کے لئے مذکور آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک جگہ، لفظ کا لحاظ ہے دوسری جگہ مفہوم کا۔ اس کی متعدد نظریں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔
’ من بعدہ یعنی من بعد امسا کہ۔ آگے اسی سورة میں فرمایا ہے۔ ولئن زالتا ان امھما من احد من بعدہ (41) (اگر وہ دونوں (آسمان و زمین) اپنی جگہ سے ٹل جائیں تو خدا کے بعد کوئی ان کو تھامنے والا نہیں بن سکتا)۔
’ وھو العزیز الحکیم ‘۔ یعنی اصل غالب و مقتدر وہی ہے۔ وہ کھولتا اور وہی روکتا ہے اور یہ کھولنا اور باندھنا تمام تر اس کی حکمت کے تقاضوں کے تحت ہوتا ہے اس لئے کہ وہ حکیم بھی ہے۔
Ayah 35:3آیت 3
اوپر کی آیات میں جو مضمون اصولی طور پر بیان ہوا ہے اسی مضمون کو اتمامِ حجت کے انداز میں، لوگوں کو مخاطب کرکے، فرمایا کہ لوگو، اللہ کی جو نعمتیں تم کو حاصل ہیں ان میں سے ایک ایک کا دھیان کرو اور ان پر غور کرو۔ لفظ ’ نعمت ‘ یہاں جنس نعمت کے مفہوم میں ہے۔ غور کرنے کے لئے ان کے سامنے مسئلہ کو سوال کی صورت میں رکھا کہ یہ آسمان و زمین میں سے جو تمہیں روزی مل رہی ہے، آسمان سے پانی برستا ہے اور زمین سے تمہاری معاش و معیشت کی گوناگوں چیزیں پیدا ہوتی ہیں، کیا تم کہہ سکتے ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں یہ چیزیں بخشتا ہے۔
’ لا الہ الا ھوا ‘۔ ان کی طرف سے کسی جواب کا انتظار کیے بغیر خود اس کا جواب دیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ خود جواب دینے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس سوال کا صحیح جواب اس کے سوا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ دوسری یہ کہ مشرکین عرب، جو یہاں مخاطب ہیں، اس سوال کا یہی جواب، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہے، دیتے بھی تھے۔ فرمایا کہ جب اصل حقیقت یہ ہے اور تم کو بھی اس سے نکار نہیں ہے تو پھر کہاں تمہاری عقل الٹ گئی ہے کہ دوسری چیزوں کو تم معبود بنائے بیٹھے ہو !
Ayah 35:4آیت 4
یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر ایسے سر پھرے لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی تعجب یا غم کی بات نہیں ہے، تم سے پہلے جو رسول آئے اس طرح کے لوگوں نے ان کی بھی تکذیب کی۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں تمہاری تقصیر کو دخل نہیں ہے بلکہ تمام تر دخل اس میں ان کی مکذبیں کی مخصوص ذہنیت کو ہے۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اپنی پیش رو قوموں کی روش پر چل رہے ہیں تو اس روش کا جو انجام ان کے سامنے آیا وہی ان کے سامنے بھی آئے گا۔
’ والی اللہ ترجع الامور ‘۔ سارے امور خدا کی طرف لوٹے ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے۔ یعنی خدا اس معاملہ میں غیر جانبدار یا غیر متعلق نہیں ہے بلکہ ہر چیز اس کے سامنے آرہی ہے اور آگے گی اور آخری فیصلہ اسی کا ہوگا تو اسی کے بھروسہ پر اپنے کام میں لگے رہو اور ان کے معامل کو اللہ پر چھوڑو۔ اس میں اشارہ بھی ہے کہ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو مولیٰ و مرجع بنائے بیٹھے ہیں ایک دن اپنی اس طمع خام کا انجام خود دیکھ لیں گے۔
Ayah 35:5آیت 5
آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے بعد مخالفین کو دھمکی دی کہ تم کو پچھلی قوموں کے انجام سے جو ڈرایا جا رہا ہے اس کو ہوائی بات نہ سمجھو۔ اللہ کی یہ وعید شدنی ہے۔ اس وقت تمہیں دنیا کی زندگی کی جو رفاہیت حاصل ہے وہ تمہیں دھوکے میں نہ رکھے۔ تم اپنی موجودہ رفاہیت کو اپنے رویہ کی صحت کی دلیل گمان کرتے ہو اور پیغمبر ﷺ کی وعید اڑاتے ہو کہ بھلا تم پر عزاب کیوں اور کدھر سے آجائے گا لیکن جب اللہ کے وعدے کے ظہور کا وقت آئے گا تو تم دیکھ لو گے کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا تھا وہ بالکل تمہارے سامنے ہی موجود تھی۔
’ ولا یغرتکم باللہ الغرور ‘ ’ غرور ‘ کے معنی فریب کار کے ہیں اور یہاں سے مراد شیطان ہے اس لئے کہ سب سے بڑا فریب کار شیطان ہی ہے۔ فرمایا کہ خدا کے باب میں فریب کار شیطان تمہیں دھوکے، میں نہ رکھے۔ خدا بڑا رحیم و کریم بھی ہے اور بڑا ہی متتقیم وقہار بھی۔ تمہارے تمام طغیان و فساد کے باوجود اس نے تمہیں جو ڈھیل دے رکھی ہے تو اس سے اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تم اس کی گرفت سے باہر ہو یا تمہارے مزعومہ شرکاء نے تم کو بچا رکھا ہے یا وہ تم کو اس کی پکڑ سے بچالیں گے۔ اللہ کا نہ کوئی شریک ہے نہ کوئی اس کی پکڑ سے بچانے والا بن سکتا۔ شیطان نے تم کو اس فریبِ نفس میں اس لئے مبتلا کیا ہے کہ اس طرح وہ تم کو سیدھے جہنم میں لے جا اتارے۔ یہ امیریہاں ملحوظ رہے کہ خدا کی صفات کے باب میں گمراہی دراصل تمام گمراہیوں کی جڑ ہے اس وجہ سے شیطان یہیں سے انسان پر گھات لگاتا ہے۔ اسی خطرے سے آیت ’ وما غرک بربک الکریم (الانفطار : 6) میں آگاہ فرمایا گیا ہے۔
Ayah 35:6آیت 6
یعنی شیطان تمہارا دشمن اور کھلا ہوا دشمن ہے تو اپنے دشمن کو دشمن ہی سمجھو اور اس کی چالوں سے بچ کے رہو۔ یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ وہ تو تمہارا دشمن ہے لیکن تم نے اس کو اپنا مرشد سمجھ کر اپنی باگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے ! اگر اپنی باگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے تو اس کا انجام سن لو کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ اس کی پارٹی میں شامل ہوجائیں وہ ان سب کو جہنم کے گھاٹ پر لے جا اتارے۔
Ayah 35:7آیت 7
یہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ شدنی کے وضاحت ہے جس کا ذکر اوپر آیت 5 میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے باب میں کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ دنیا نیکی اور بدی، خیر اور شر میں کسی امتیاز کے بغیر یوں ہی چلتی رہے گی۔ جنہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے ان کو شیطان نے خدا کی صفات کے باب میں سخت دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ ایک ایسادن لازماً آنے والا ہے جس دن وہ لوگ عذاب شدید سے دو چار ہوں گے جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور جن لوگوں نے ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاری ہوگی وہ مغفرت اور اجرِ عظیم کے حق دار ٹھہریں گے۔
Ayah 35:8آیت 8
یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اسمیں تمہاری کسی تقصیر کو دخل نہیں ہے بلکہ یہ قانونِ الٰہی کی زد میں آئے ہوئے لوگ ہیں تو ان کے غم میں اپنے کو ہلکان نہ کرو۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے تو جب وہ باخبر ہے تو ان کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔
’ افمن زین لہ سوء عملہ فراہ حسنا ‘ کے بعد جواب بر بنائے قرینہ مخذوف ہے۔ اگر اس حذف کو کھول دیجئے تو پوری بات یوں ہوگی۔ کیا وہ جس کی نگاہوں میں اس کی بدعملی کھپا دی گئی ہے اور وہ اپنی بدی کو نیکی سمجھنے لگا ہے، تم اس کو ہدایت دینے والے بن سکتے ہو ؟ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ہدایت پانا سنت الٰہی کے خلاف ہے تو ایسے لوگوں کی فکر میں اپنے کو گھلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرنا چاہیے۔ سورة زمر کے آیت 19 میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔
افمن حق علیہ کلمۃ العذاب افانت تنقذمن فی النار۔
کیا وہ جس پر عذاب کی بات پوری ہوچکی ہے ! کیا تم اس کو بچانے والے بن سکو گے جو دوزخ میں پڑچکا۔
اسی ٹکڑے سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کسی برائی کے ارتکاب کی ایک حالت تو وہ ہے کہ آدمی اس کا ارتکاب کرتا ہے لیکن اس کے اندر اس کے برائی ہونے کا احساس زندہ رہتا ہے، دوسری حالت یہ ہے کہ اس کی برائی اس کی نگاہوں میں اس طرح کھپا دی جاتی ہے کہ وہ اسی کو ہنر، اسی کو فیشن، اسی کو ترقی کا زینہ اور اسی کو تہذیب وتعلیم کا مقتضیٰ سمجھنے لگتا ہے۔ پہلی حالت میں یہ توقع رہتی ہے کہ اس کو اگر تذکیر و تنبیہ کی جائے تو وہ سنبھل جائے گا لیکن دوسری حالت دل کے مسخ اور عقل کے مائوف ہوجانے کی علامت ہے جس کو قرآن نے ختم قلوب یا دین سے تعبیر فرمایا ہے۔ جو اس بیماری میں مبتلا ہوا، وہ خدا کے قانون کی زد میں آچکا، اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
’ جان اللہ یضل من یشاء ویھدی من یشاء۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے اور جس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آرہے ہیں۔ آگے اسی سورة میں اس کی مزید وضاحت آرہی ہے۔
فلا تذھب نفسک علیھم حسرت ان اللہ علیم بما یصنعون۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے غم میں ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے خود عقلی و روحانی خودکشی کی ہے، اگر یہ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری دعوت میں کوئی کسری ہے بلکہ ان کے دلوں پر مہر ہوچکی ہے تو ان کا غم کھانے کے بجائے ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ وہ ان کی ساری کارستانیاں دیکھ رہا ہے، ان کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے یہ سزاوار ہوں گے۔
’ حسرت ‘ حال بھی ہوسکتا ہے اور مفعول لہ بھی۔ کلامِ عرب میں دونوں کی نظیریں ملتی ہیں۔ اور ’ علیھم ‘ کا تعلق میرے نزدیک ’ حسرت ‘ سے ہے جس طرح یحسرۃ علی العباد میں ہے۔ اس کا جمع کی صورت میں آنا فرطِ غم کے اظہار کے لئے ہے۔
Ayah 35:92۔ آگے کا مضمون۔ آیات 9۔ 18
آگے اس وعدہ شدنی کی، جس کا ذکراوپر آیت 5 میں ہوا ہے، بطور تمہید پہلے دلیل بیان فرمائی ہے، پھر بتایا ہے کہ جس کو خدا کا تقرب اور اس کی بارگاہ میں سرخ روئی مطلوب ہو وہ جھوٹے معبودوں کو تقریب کا ذریعہ بنانے کے بجائے اس کا صحیح طریقہ اختیار کرے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی ایمان اور عمل صالح کی راہ پر چلے۔ ایمان خدا کی طرف صعود کرنے والی چیز ہے اور عمل ِ صالح اس کو سہارا دیتا ہے اور رفعت بخشتا ہے۔ اس کے سوا خدا کے تقریب کی کوئی اور راہ نہیں ہے۔ جن لوگوں نے یہ راہ چھوڑ کر دوسری راہیں نکالی ہی اور اصل راہ سے لوگوں کو ہٹانے کے لئے رات دن طرح طرح کی سازشوں میں سرگرم ہیں ان کی ساری سازشوں کے تار وپودایک دن بکھر جائیں گے۔
پھر یہ واضح فرمایا کہ مال و اولاد میں بڑھوتری، عمر میں کمی بیشی اور اس طرح کی تمام باتیں اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں، فرشتوں یا جنوں یا دوسرے فرضی معبودوں کو ان میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اس کائنات کے اضداد میں جو ثوافق ہے وہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اس کے اندر صرف ایک ہی خدائے قادر وقیوم کا ارادہ کارفرما ہے۔ اس کے سوا کسی کو ذرہ برابر بھی کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔
اس کے بعد لوگوں کو متنبہ کہ یہ دعوت جو تمہیں دی جا رہی ہے تمہارے ہی نفع کے لئے دی جا رہی ہے۔ خدا کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ تمہی خدا کے محتاج ہو۔ یہ دعوت قبول کرو گے تو اپنی دنیا و عاقب سنواروگے اور اگر نہ کرو گے تو اپنے ہی کو تباہ کرو گے۔ ساتھ ہی نبی ﷺ کو تسلی دی کہ کس مزاج کے لوگ اس دعوت کو قبول کریں گے اور کس طرح کے لوگ اس سے محروم رہیں گے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
3۔ الفاط کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 9
اوپر آیت 5 میں جس وعدہ، شدنی کی یاددہانی فرمائی ہے کائنات کے مشاہدات سے یہ اس کی دلیل پیش کی ہے کہ اس کو مستبعد نہ سمجھو۔ مرنے کے بعد لوگوں کو قبروں سے اٹھا کھڑا کرنا، اللہ کے لئے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ تم اس دنیا میں برابر دیکھتے ہو کہ زمین بالکل خشک پڑی ہوتی ہے، اس میں سبزہ اور روئیدگی کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ہوتا کہ اللہ کسی طرف سے ہوائوں کو بھیجتا ہے۔ وہ تمہارے دیکھتے دیکھتے بادلوں کو ابھارتی اور جمع کرتی ہیں۔ پھر ہم ان کو اس مردہ زمین کی طرف ہانک کے لے جاتے اور اس کو سیراب کردیتے ہیں جس سے اس کے سرگوشے میں ازسر نو زندگی نمودار ہوجاتی ہے۔ فرمایا کہ کذلک النشور، اسی طرح قیامت کے دن لوگوں کا ازسر نوجی کو اٹھنا ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ مرنے اور مرنے کے بعد زندہ ہونے کا مشاہدہ قوم کو اس دنیا میں اللہ برابر کرا رہا ہے تو تم قیامت کو ناممکن کیوں خیال کیے بیٹھے ہو !…یہ حقیقت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم واضح کرتے آرہے ہیں کہ یہ دنیا اپنے وجود میں ان تمام حقائق کی تعلیم کے لئے ایک بہترین تعلیم گاہ ہے جن کی قرآن تعلیم دے رہا ہے۔ اگر انسان عقل و بصیرت سے کام لے تو قرآن کے ہر دعوے کی دلیل اس کو اپنے دہنے بائیں سے مل سکتی ہے۔
اس آیت میں اسلوب کلام بھی قابل توجہ ہے۔ پہلے ماضی کا صیغہ ’ ارسل ‘ استعمال ہوا ہے۔ پھر مضارع تثیر آگیا۔ اس کے بعد ’ سقنا ‘ اور احیینا ‘ متکلم کے صیغے آگئے۔ اسلوب کا یہ تنوع اپنے اندر گوناگوں خوبیاں رکھتا ہے جن کی تفصیل کا یہ محل نہیں ہے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ ماضی تو صرف بیان واقعہ کے لئے آتا ہے۔ مضارع میں تصویرِ حال کا پہلو بھی ہوتا ہے اور متکلم کا صیغہ التفات و عنایات خاص پر دلیل ہوتا ہے۔
Ayah 35:10آیت 10
مطلب یہ ہے کہ قیامت تو بہرحال شدنی ہے اور ہر ایک کو اللہ کے حضور میں پیش ہونا ہے۔ رہایہ سوال کہ خدا کے ہاں کن کو عزت و سرخروئی حاصل ہوگی اور کن کو ذلت و نامرادی سے دو چار ہونا پڑے گا تو جن کو اس سوال کا صحیح جواب مطلوب ہے وہ یاد رکھیں کہ عزت تمام تر اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اس وجہ سے جس کو بھی یہ حاصل ہوگی اسی کے تعلق اور اسی کی عزت بخشی سے حاصل ہوگی۔
’ الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ ‘ یہ اس عزت کے حاصل کرنے کا طریقہ ارشاد ہوا کہ بندوں کی طرف سے اللہ کی طرف صعود کرنے والی چیز کلمہ طیب، یعنی کلمہ ایمان ہے۔ اس کے سوا دوسری کوئی چیز نہیں جو خدا سے توسل اور قربت کا ذریعہ بن سکے۔ اس کلمہ ٔ ایمان کو جو چیز سہارا دیتی اور رفعت بخشتی ہے وہ عمل صالح ہے۔ عمل صالح کے بغیر کلمہ ٔ ایمان مرجھا کے رہ جاتا ہے۔ گویا کلمہ ایمان کی مثال انگور کی بیل کی ہوئی جو ہے تو بجائے خود نہایت ثمر بار لیکن اس کی شادابی و ثمر باری کا تمام تر انحصار اس امر پر ہے کہ اس کو کوئی سہارا ملے جس پر وہ چڑھے، پھیلے اور پھولے پھلے۔ یہ سہارا اس کو عمل صالح سے حاصل ہوتا ہے۔ عملِ صالح اس کو پروان چڑھاتا اور مثمر و بار آور بناتا ہے۔ ورنہ جس طرح انگور کی بیل سہارے کے بغیر سکڑ کے رہ جاتی ہے اسی طرح ایمان بھی عمل صالح کے بدون مرجھا کے رہ جاتا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے ’ الکلم الطیب ‘ سے کلہ ایمان ہی مراد لیا ہے اور یہاں اس کے پہلو بہ پہلو عمل صالح کا ذکر خود اس بات کی شہادت ہے کہ اس سے کلمہ ایمان ہی مراد ہے۔ لفط طیب اس کلمہ کی زرخیزی و ثمرباری کی طرف اشارہ کر رہا ہے اس لئے کہ فلسفہ دین کے نقطہ نظر سے یہی کلمہ تمام علم و حکمت کی جڑ ہے۔ جس نے اس کو پالیا اس نے تمام علم و حکمت کے خزانے کی کلید پالی اور یہ حقیقت بھی مسلم ہے کہ ایمان و عمل صالح دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ جس طرح ایمان کے بغیر عمل کی کوئی بنیاد نہیں اسی طرح عمل کے بغیر ایمان ایک بےجان شے ہے۔ اس حقیقت کو اچھ طرح ذہن نشین کرنے کے لئے سورة ابراہیم کی آیات 24۔ 26 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر ڈال لیجئے۔
یہ بات یہاں مشرکین پر یہ حقیقت واضح کرنے کے لئے فرمائی گئی ہے کہ تم اپنے معبود ملائکہ کو خدا کے ہاں عزت و سرفرازی کا واسطہ سمجھ بیٹھے ہو حالانکہ عزت صرف اللہ کے لئے ہے اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کا واحد ذریعہ وہ ایمان ہے جس کے ساتھ عمل صالح کی تائید موجود ہو۔ قرآن میں مشرکین کی نسبت یہ بات جگہ جگہ نقل ہوئی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو خدا کے ہاں عزت و سرخروئی کا ذریعہ خیال کرتے تھے۔ مثلاً
ما نعبد ھم الا لیقربو نا الی اللہ زلفی (الزمر : 3)
ہم ان کو صرف اس لئے پوجتے ہیں کہ وہ ہم کو خدا سے قریب تر کردیں۔
دوسری جگہ ہے۔
واتخزوا من دون اللہ الھۃ لیکونوا لھم عزا (مریم : 81)
اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے عزت کا ذریعہ بن سکیں۔
ان کے اسی واہمہ پر یہاں ضرب لگائی ہے کہ اس جنت الحمقاء سے نکلو اور خدا کے ہاں عزت کے طالب ہو تو اس کے لئے ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرو۔
’ والذین یمکرون السیات لھم عذاب شدید۔ یعنی جو لوگ اس حقیقت کا مواجب کرنے کے بجائے اپنے پندار کے تحفظ اور اللہ کے دین اور اس کے رسول کو زک پہنچانے کے لئے طرح طرح کی بری چالیں چل رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ اس طرح ان کو عزت نہیں حاصل ہوگی بلکہ وہ اپنے لئے ایک سخت عذاب کا سامان کر رہے ہیں۔
اس ٹکڑے میں ’ سیاٰت ‘ کا نصب کچھ بیگانہ سا محسوس ہوتا ہے اس لئے کہ فعل ’ مکر ‘ اس طرح متعدی نہیں ہوتا۔ صاحبِ کشاف نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ ’ سیاتٍ ‘ یہاں مصدر کی صفت ہے۔ یعنی ’ یمکرون المکرات السیاٰت ‘ یہ توجیہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ آگے آیت 43 میں اس کی نظیر موجود ہے۔
’ ومکر اولئک ھو یبور ‘ یعنی جو لوگ اس فریبِ نفس میں خود بھی مبتلا اور دوسروں کو بھی مبتلا رکھنے کے لئے رات دن جوڑ توڑ میں سرگرم میں وہ یاد رکھیں کہ ایک دن ان کی یہ ساری سازشیں اور سرگرمیاں نابود ہوجائیں گی۔ یہاں مبتداء کے اعادے سے کلام میں نہ زور پیدا ہوگیا ہے کہ ان لوگوں کی ان ساری سازشوں سے کسی دوسرے کا کچھ نہیں بگڑے گا بلکہ تباہی ان کی سازشوں ہی پر آئے گی اور وہ انہی کی خرابی کا باعث ہوں گی۔ آگے اس مضمون کو کھول دیا ہے۔ فرمایا ہے ولا یحیق المکراسلسی الا باھلہ (اور بری چالیں انہی کو تباہ کرتی ہیں جو بری چالیں چلتے ہیں) اس لئے کہ حق ایک متاع مشترک اور سب کی فلاح کا ذریعہ ہے۔ اگر کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے تو خود اپنی ہی آنکھیں پھوڑتا اور اپنے ہی پائوں پر کلہاڑی مارتا ہے۔
Ayah 35:11آیت 11
یعنی اولاد اور عمر میں جو کمی بیشی بھی ہوتی ہے وہ اللہ کے علم اور اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ ان چیزوں میں بھی تمہارے ان دیویوں دیوتائوں کو کوئی دخل نہیں ہے۔ اس وجہ سے ان کے لئے بھی تمہیں خدا ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اس کے سوا کسی دوسرے کا سہارا نہیں ڈھونڈنا چاہیے۔ یہ امریہاں ملحوظ رہے کہ مال و اولاد اور صحت و زندگی اور اس قبیل کی دوسری مطلوبات ہمیشہ شرک کے عوامل میں سے رہی ہیں۔ جن کے ہاں اولاد نہیں ہوتی، یا ہوتی ہے لیکن زندہ نہیں رہتی، یا صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں، اولاد نرینہ ہیں پیدا ہوتی، اس طرح کے لوگ اگر وہمی ہوتے ہیں تو شیطان بڑی آسانی سے ان کا رخ تھانوں، استھانوں، قبروں اور مزاروں کی طرف موڑ دیتا ہے۔ مشرکین عرب کے شرک میں بھی اس عامل کو بڑا دخل رہا ہے۔ وہ اپنے معبودوں کو آسمان و زمین کا خالق تو نہیں سمجھتے تھے لیکن رزق اور مال و اولاد وغیرہ کے معاملات میں ان کو۔ خاص طور پر فرشتوں کو۔ بہت دخیل سمجھتے تھے۔ اسی طرح بیماری اور موت وغیرہ کے معاملے میں وہ جنوں کو متصرف خیال کرکے ان کی پوجا کرتے۔ ہم سورة انعام کی تفسیر میں ذکر کر آئے ہیں کہ بعض جنوں کو وہ اتنا خطرناک سمجھتے تھے کہ ان کے لئے اپنی اولاد تک کی قربانی کرتے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر کسی بیٹے یا بیٹی کی قربانی دے کر ان کو راضی نہ رکھا جائے تو یہ ساری اولاد چٹ کر جاتے ہیں۔ اسی طرح جو لگ کسی بیماری میں مبتلا ہوتے وہ بھی ان دیویوں دیوتائوں کی طرف رجوع کرتے اور ان سے صحت اور طول عمر کی دعا کرتے۔ اس آیت میں انہی اوہام پر ضرب لگائی ہے۔
’ واللہ خلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم جعلکم ازواجا۔ یہ ٹکڑا آگے مضمون کے لئے بطور تمہید ہے۔ اس میں اس مسلم حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جس نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے ان کی نسل چلائی پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا۔ مطلب یہ ہے کہ سارا گھر بنایا اور بسایا تو خدا نے اور یہ ایسی حقیقت ہے جس سے تمہین بھی انکار نہیں ہے تو اس گھر کو بسا کر آخر خدا کو کیا مشکل پیش آئی کہ وہ اس کے رزق، اولاد اور عمر وغیرہ کے معاملات دوسروں کے سپرد کرنے پر مجبور ہوگیا ؟ کیا جو تمہیں مٹی سے بنا سکتا ہے، پانی کی ایک بوند سے تمہاری نسل چلا سکتا ہے، تمہیں میاں بیوی کی صورت میں آباد کرسکتا ہے، وہ تمہارے رزق، تمہاری اولاد اور تمہاری عمر کے معاملات کو سرانجام دینے سے قاصر ہے کہ ان کے لئے تمہیں دوسرے آستانوں کا محتاج بنائے !
وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ۔ یہ اوپر والی تمہید کے لازمی نتیجہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس نے آدم ؑ کا یہ کنبہ بسایا ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کون عورت کب حاملہ ہوئی اور اس کے پیٹ میں لڑکا ہے لڑکی اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کب اس کو جنے گی اور کس شکل میں جنے گی !۔ یہاں علم کا حوالہ خاص طور پر اس وجہ سے دیا کہ مشرکین عرب خدا کے خالق ہونے کے منکر نہیں تھے، ان کو دہم تھا تو یہ تھا کہا اتنی وسیع و عریض دنیا کے ہر معاملے کی خبر خدا کو کس طرح ہوسکتی ہے اس وجہ سے بہت سے معاملات، جو رزق و عمر اور اولاد وغیرہ سے متعلق ہیں، اس نے اپنے شرکاء کے حوالے کردیے ہیں۔ قرآن نے الا بعلمہ کے لفظ سے ان کے اسی واہمہ پر ضرب لگائی ہے کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا واقعہ بھی، اس دنیا میں ایسا نہیں ہوتا جو اس کے خالق کے دائرہ علم سے باہر ہو۔
’ وما یعلمون من معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتب لفظ ’ معمر ‘ یہاں طویل العمر کے مفہوم میں نہیں بلکہ اس سے مراد وہ شخص سے جس کو کوئی عمر ملتی ہے خواہ طویل یا قصیر صاحب کشاف نے اس کا یہی مفہوم لیا ہے اور ہمارے نزدیک یہ صحیح ہے۔
یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ جس کو بھی کوئی عمر نصیب ہوتی ہے اور پھر اس عمر میں سے جو گھنٹے اور دن کم ہوتے ہیں اور وہ خدا کے حکم اور علم سے ہوتے ہیَ ’ الا فی کتب ‘ یہ اوپر کے الفاظ ’ الا بعلمہ ‘ کی جگہ پر ہے اور اس سے اوپر والا مضمون مزید محکم و موثق ہوگیا ہے۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ خدا ان ساری باتوں کو جانتا ہے بلکہ ان میں سے ہر چیز ایک عظیم کتاب میں مندرج ہے۔ اس وہم میں نہ رہو کہ خدا کسی چیز کو بھول جائے گا۔
’ ان ذلک علی اللہ یسیرا۔ یہ اسی شبہ کا ازالہ ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ اہل عرب اس وہم میں مبتلا تھے کہ بملا خدا تن تنہا تمام جزئیات امور کا حاطہ کس طرح کرسکتا ہے۔ اس وہم کے تحت انہوں نے خدا کی مدد کے لئے شرکاء و اعوان ایجاد کیے اور پھر ان کی عبادت میں اس طرح لگے کہ خدا ان کے ہاں ایک وجودِ متعطل ہو کے رہ گیا۔ یہ ان کے اسی واہمہ کی تردید ہے کہ خدا کے لئے ان کاموں میں سے کوئی کام بھی مشکل نہیں ہے کہ وہ کسی شریک و مددگار کا محتاج ہو۔
Ayahs 35:12–13آیت 12۔ 13
یہ ایک دوسرے پہلو سے شرک اور شرکاء کی تردید فرمائی گئی۔ اس کائنات میں اضداد کا جو تصادم ہے یہ بھی شرک کے نہایت اہم عوامل میں سے ہے۔ قرآن نے مختلف پہلوئوں سے اس کی تردید فرمائی ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آرہے ہیں۔ یہاں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں اضداد کا وجود اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کے اندر مختلف ارادے کارفرما ہیں اس لئے کہ اس کے اضداد ظاہری تضاد کے ساتھ ساتھ نہایت گہری سازگاری بھی پائی جاتی ہے جس سے اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ کوئی بالاتر اور ہمہ گیر وہمہ جہت قوت قاہرہ ان تمام اضداد پر حاوی ہے جو ان کو اپنی حکمت کے تحت اس کائنات کی مجموعی بہبود کے لئے استعمال کر رہی ہے۔
’ وما یستوی بالبحران۔ الایۃ ‘۔ یعنی دیکھو، دو سمندر ہیں اور دونوں اپنی ظاہری خصوصیات وصفات میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک کا پانی شیریں، پیاس بجھانے والا اور خوشگوار ہے، دوسرے کا کھاری، کڑوا۔ یہ دونوں آپس میں ٹکراتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ کھاری سمندر میٹھے سمندر پر غالب ہو کر اس کو کھاری بنادے یا شیریں سمندر کھاری کے مزاج کو بدل دے بلکہ ایک بالاتر قوت نے ان دونوں کو ٹکرانے کے باوجود ان کے حدود کا پابند کر رکھا ہے۔ سورة رحمان میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ مرض البحرین یلتقیان بینھما برزخ لا یبغیان (الرحمان : 19۔ 20) (اس نے چھوڑے دو دریا، دونوں باہم دگر ٹکراتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان ایک اوٹ ہوتی ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے)۔
پھر یہ دیکھو کہ کس طرح یہ اپنے تضاد و اختلاف کے باوجود اپنے سے بالاتر مقصد کی خدمت بجا لاتے ہیں کہ تم دونوں ہی سے اپنے لمبے لمبے بحری سفروں میں جہاں تازہ گوشت حاصل کرنا ناممکن ہوتا، ان سے تازہ گوشت حاصل کرلیتے ہو اور غذا کے ساتھ اپنی زینت کے لئے ان سے قیمتی موتی بھی نکالتے ہو۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ ہی تمہارے لئے اس طرح مسخر ہیں کہ تمہارے جہازات ان کے سینے پر سے موجوں کو پھاڑتے ہوئے چلتے ہیں تاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کرکے تم اللہ کے رزق و فضل کے طالب بنو اور اس کے شکر گزار رہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کے ظاہری تضاد میں گم ہو کے نہ رہ جائے بلکہ ان ضداد کے باہمی تو افق پر بھی نگاہ ڈالو تو یہ حقیقت روشن ہوجائے گی کہ ایک ہی خدائے قادر وقیوم نے اس دنیا کو وجود بخشا ہے اور اسی نے اپنی قدرت و حکمت سے اس کے تمام اجزائے مختلفہ کو انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے تاکہ انسان اپنے پروردگار کا شکر گزار رہے۔
’ یولج الیل فیالنھار الایہ۔ یہ اسی حقیقت کی طرف ایک دوسری مثال سے توہج دلائی ہے۔ کہ یہی حال تمہارے سامنے روز آنے والے رات اور روز ظاہر ہونے والے دن کا بھی ہے۔ وہ بھی بظاہر ضدین کی نسبت رکھتے ہیں لیکن ان کے درمیان بالکل زوجین کا توافق پایا جاتا ہے۔ دونوں ہی اس دنیا کے بقا اور تمہاری راحت و معشیت کے لئے ضروری ہیں۔ یہی حال سورج اور چاند کا بھی ہے۔ نادانوں نے ان کو معبود بنا کر پوجا حالانکہ وہ اپنے وجود سے شہادت دیتے ہیں کہ خدا نے ان کو اپنی خلق کی خدمت کے لئے مسخر کر رکھا ہے۔ چناچہ دونوں اپنے معین نظام اوقات کے ساتھ برابر تمہاری خدمت میں سرگرم رہتے ہیں۔ ’ ذلکم اللہ ربکم لہ الملک۔ ‘ یہ خلاصہ ہے اوپر کی ساری بحث کا یہی اللہ، جس کی یہ شانیں، قدرتیں اور حکمتیں دیکھتے ہو، تمہارا رب ہے اور اسی کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔
’ والذین تدعون من دونہ ما یملکون من قطمیز۔ ’ قطمیر ‘ اس باریک غلاف کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے۔
یہ وہی بات منفی اسلوب سے فرمائی کہ رہے وہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے اور پوجتے ہو تو وہ اس دنیا کے خلق و تدبیر میں ذرہ برابر بھی دخل نہیں رکھتے۔
Ayah 35:14آیت 14
’ استجاب لہ ‘ کے معنی ہیں اس کا جواب دیا یا اس کی فریاد رسی کی۔
یہ ان کے مزعومہ دیوتائوں کے بےبسی اور بےحقیقی واضح فرمائی ہے کہ اگر تم اپنی کسی مشکل میں ان کو مدد کے لئے پکارو گے تو اول تو وہ تمہاری فریاد سنیں گے نہیں اور سن بھی لیں تو وہ تمہاری کوئی فریاد رسی نہیں کریں گے۔ ان کی یہ بےبسی اس دنیا میں بھی واضح ہے اور آخرت میں یہ مزید ہوجائے گی۔ مشرکین جن چیزوں کو پوجتے تھے اول تو ان کا کوئی مسمی موجودہی نہیں تھا اس وجہ سے ان کے سننے یا فریاد رسی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر کچھ ایسی ہستیوں کو پوجتے تھے جن کا کوئی وجود ہے تو اول تو وہ آخرت میں اپنی بیخبر ی کا اظہار کریں گی کہ ہمیں علم نہیں کہ ہماری عبادت کرتے رہے ہیں۔ ثانیاً ان میں سے جو صالحین ہوں گے مثلاً ملائکہ اور انبیاء وہ تو صاف الفاظ میں اعلان براءت کریں گے۔ اور جو اشرار ہوں گے مثلاً جنات و شیاطین تو وہ ان فریاد کرنے والوں کو جواب دیں گے کہ یہ تمہاری بدبختی تھی کہ ہم نے ہماری پرستش کی، اب اس کا انجام بھگتو۔ اب نہ تم ہمارے کچھ کام آسکتے اور نہ ہم تمہاری کوئی فریاد رسی کرسکتے ہیں۔
’ ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم ‘۔ یعنی اس دنیا میں تو وہ تمہاری فریاد سے بیخبر اور تمہاری فریاد رسی سے بےبس ہیں اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کریں گے۔ چناچہ فرشتوں کے انکار کی تفصیل سورة سبا میں بدیں الفاط گزر چکی ہے۔
ویوم یحشرھم جمیعا ثم یقول للملئکۃ اھولاء ایاکم کانوا یعبدون۔ قالوا سبحنک انت وللینا من دونھم بل کونوا یعبدون الجن (سبا : 40۔ 41)
اور اس دن کا دھیان کرو جس دن وہ ان سب کو اکھٹا کرے گا، پھر فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری پرستش کرتے رہے ہیں ؟ وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے ان کے مقابل میں تو ہمارا کارساز ہے بلکہ یہ جنوں کو پوجا کرتے رہے ہیں۔
ولا ینبئک مثل خبیر۔ یہ آخر میں تنبیہ اور نہایت ہی زور دار اور بلیغ تنبیہ ہے۔ خبیر کی تنکیر تفخیم شان کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان باتوں کو سن لو اور اچھی طرح سن لو، اس لئے کہ غیب کے پردوں میں کیا ہے اور کل کیا کچھ تمہارے سامنے آنے والا ہے اس کو ایک حقیقی باخبر ہی جانتا ہے۔ اس سے بڑھ کر تمہیں ان حقائق سے کوئی دوسرا باخبر نہیں کرسکتا۔ تمہاری بدقسمتی ہوگی اگر تم نے اس کی قدر نہ کی اور جھوٹی آرزوئوں میں پھنسے رہ گئے !
Ayahs 35:15–17آیت 15۔ 17
یہ اسی تنبیہ پر اضافہ اور نہایت زور دار اضافہ ہے۔ خطاب میں ’ یایھا الناس ‘ کے الفاظ سے ہے کہ سب کان کھول کر سن لیں کہ تعلیم وتذکیر کا یہ سارا اہتمام جو کیا گیا ہے، اور خدا کا رسول لوگوں کو جگانے اور جھنجوڑنے کے لئے اپنے رات دن جو ایک کیے ہوئے ہے تو اس لئے نہیں کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے سے خدا کا کوئی کام اٹکا ہوا ہے، خدا تو بالکل بےنیاز اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے، البتہ تم لوگ خود خدا کے محتاج ہو، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ خدا کی بےنیازی کا تو یہ عالم ہے کہ وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک دوسری نئی مخلوق لا بسائے۔ اگر وہ یہ کرنا چاہے تو یہ کام ذرا بھی اس کے لئے مشکل نہیں ہے۔ یہ محض تمہارے اوپر اس کی رحمت و عنایت ہے کے تمہاری ان ناقدریوں اور ناشکریوں کے باوجود تمہیں مہلت دیے جا رہا ہے۔ بہتر ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھائو ورنہ یاد رکھو کہ نہ خدا کا کچھ بگاڑو گے نہ اس کے رسول کا بلکہ اپنے ہی کو تباہ کرو گے۔
’ ھو الغنی الحمید ‘ کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں کہ خدا اپنی ذات میں کامل ہے۔ اس کا یہ کمال اس کی ذات سے خارج کی کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ ساتھ ہی وہ حمید یعنی تمام صفات حمد سے متصف بھی ہے۔ خلق کے ساتھ اس کا تعلق کسی احتیاج پر نہیں بلکہ تمام تر اس کی رحمت و عنایت پر مبنی ہے۔
من نہ کردم خلق تو سود کنم
بلکہ کردم خلق تاجود کنم
Ayah 35:18آیت 18
’ ان تدع مثقلۃ الی حملھا لا یحمل منہ شئی ولو کان ذا قربی۔ ’ مثقلۃ ‘ سے پہلے موصوف مخدوف ہے۔ یعنی نفس مثقلۃ (اپنے بار گناہ کے نیچے دبی ہوئی جان)۔ اسی طرح ’ الیٰ حملھا ‘ میں ’ حمل ‘ سے پہلے مضاف مخذوف ہے اور ’ کان ‘ کے بعد اس کا اسم ’ المدعو ‘ مخدوف ہے۔ یہ تمام مخدوفات اعلیٰ عربیت کے معروف قواعد کے مطابق ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے گناہوں سے بوجھل جان کسی کا پکارے گی کہ ذرا وہ اس کے بوجھ کے اٹھانے میں اس کو سہارا دے دے تو کوئی اسی کا ہاتھ بٹانے والا نہیں بنے گا اگرچہ جس کو وہ مدد کے لئے پکارے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ نیک تو اس لئے اس کا ہاتھ نہیں بٹائیں گے کہ جب وہ دنیا میں اس کے گناہوں میں اس کے ساتھی نہ بنے تو وہ آخرت میں اس کے ساتھی کیوں بنیں اور جو بد ہوں گے وہ خود اپنے بوجھ کے تلے دبے ہوں گے وہ کسی دوسرے کا کیا سہارا دے سکیں گے !
’ ان تنذر الذین یحشون ربھم بالغیب واقامو الصلوۃ۔ ‘ یہ پیغمبر ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ تم ان حقائق سے لوگوں کو باخبر دو۔ اگر یہ متنبہ ہوتے ہیں تو فبہا۔ نہیں ہوتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ تمہارا انداز صرف انہیں لوگوں پر کارگر ہوسکتا ہے جو اپنی عقل اور سمع و بصر و فواد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں اور غیب میں رہتے اپنے رب سے ڈریں اور نماز کا اہتمام کریں۔ رہے وہ لوگ جو سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ماننا چاہتے تو ان کا علاج تمہارے پاس نہیں ہے۔ ان کا معاملہ ہمارے اوپر چھوڑو۔
’ واقام الصلوۃ ‘ کا ذکر یہاں ایمان کے اولین ثمرہ اور خشیت رب بالغیب کی علامت کے طور پر ہوا ہے۔ جو شخص غیب میں خدا سے ڈرتا ہے وہ لازماً نماز کا اہتمام کرتا ہے۔ جو نماز سی بےپروا ہے وہ خدا سے بےپروا ہے اگرچہ وہ زبان سے ایمان کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کرے۔
’ ومن تزکی فانما یتزکی لنفسہ، والی اللہ المصیر ‘ یہ نماز کے فائدے کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو شخص گناہوں کے بوجھ سے سبکدوش اور پاکیزہ ہونا چاہتا ہو وہ جھوٹے سہاروں پر اعتمار کرنے کے بجائے نماز کا اہتمام کرے۔ یہ چیز اس کو گناہوں سے پاک کرے گی، اور جس نے پاکیزگی حاصل کی وہ اپنا ہی بھلا کرے گا اس لئے کہ اللہ کسی کی عبادت و اطاعت کا محتاج نہیں ہے بلکہ بندے خود ہی اس کے محتاج ہیں اور سب کی واپسی بہرحال اسی کی طرف ہونی ہے۔
Ayah 35:194۔ آگے کا مضمون۔ آیت 19۔ 28
آگے یہ حقیقت واضح فرمائی کہ کس طرح کے لوگ ایمان لائیں گے اور کس قسم کے لوگ اس نعمت سے محروم رہیں گے۔ اس حقیقت کو سمجھانے کے لئے اس کائنات کے اندر اضداد کے وجود کی طرف توجہ دلائی کہ دیکھتے ہو کہ اس کے اندر روشنی بھی ہے اور تاریکی بھی، گرمی بھی ہے اور سردی بھی۔ اسی طرح زمین میں زرخیز قطعات بھی ہیں جو بارش کا چھینٹا پڑتے ہی لہلہا اٹھتے ہیں اور بنجر علاقے بھی ہیں جو ہزار بارش ہو لیکن ویران ہی پڑے رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح اشخاص و افراد کے اندر بھی مختلف قسم کی صلاحیتیں رکھنے والے ہیں۔ جن کی صلاحیتیں زندہ ہیں وہ اس رحمت کی بارش سے، جو قرآن کی صورت میں نازل ہوئی ہے، فائدہ اٹھائیں گے اور جن کی صلاحیتیں مردہ ہوچکی ہیں وہ اس کے فیض سے محروم رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح روشنی و تاریکی اور سردی و گرمی کو اس کائنات کی مجموعی مصلحت کے لئے پیدا کیا ہے اسی طرح اس کے اندر حق کے طالبوں کی طرح باطل کے پسند کرنے والوں کو بھی مہلت دی ہے اس لئے کہ حق و باطل کے اس تصادم ہی کے اندر اہل حق کے جو ہر نکھرتے ہیں اور اہل باطل پر اللہ کی حجت تمام ہوتی ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 19
’ اعمی ‘ سے مراد یہاں عقل و دل کے اندھے ہیں اور بصیر سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی عقل و دل کی صلاحیتیں زندہ ہیں اور وہ ان سے کام لیتے ہیں۔ یہ نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری دعوت قبول کرنے کے معاملے میں ہر ایک کا حال یکساں نہیں ہوگا۔ جن لوگوں نے اپنی عقل کی آنکھیں پھوڑ لی ہیں اور جن کے دل بےنور ہوچکے ہیں وہ لوگ تمہاری دعوت قبول کرنے والے نہیں بنیں گے خواہ تم کتنے ہی جتن کرو۔ تمہاری روشنی سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جن کے اندر بصیرت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ اس کی بخشی ہوئی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھتے اور ان کی قدر کرتے ہیں ان کی بصیرت و ہدایت میں وہ اضافہ فرماتا ہے اور جو لوگ ان صلاحیتوں کی قدر نہیں کرتے ان کو مزید عطا ہونا تو درکنار، ان سے وہ بھی سلب کرلی جاتی ہیں جو ان کو عطا ہوئی ہوتی ہیں۔ سورة نمل میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
انک لا تسمیع الموتی ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرین وما انت بھدی العمی عن ضللتھم ان تسمع الا من یومن بایتینا (النمل : 80۔ 81)
تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو سنا سکتے جب کہ وہ پیٹھ پھیر کے بھاگے جا رہے ہوں۔ اور تم اندھوں کو بھنی ان کی ضلالت سے موڑ کر ہدایت پر نہیں لاسکتے۔ تم تو بس انہیں کو سنا سکتے جو ہمارے آیات پر ایمان رکھنے والے ہوں۔
Ayahs 35:20–21آیت 20۔ 21
فرمایا کہ جس طرح اس دنیا میں تاریکی بھی ہے اور روشنی بھی، سایہ بھی ہے اور گرمی بھی۔ اور یہ دونوں یکساں نہیں ہوسکتے، اسی طرح یہ دونوں قسم کے لوگ جن کا ذکر اوپرہوا یکساں نہیں ہوسکتے۔ تاہم جس طرح تاریکی اور روشنی، سایہ اور گرمی دونوں میں اس دنیا کی مصلحت مضمر ہے، اسی طرح اس قسم کے لوگوں کے وجود میں بھی قدرت کی مصلحت ہے۔ اس مصلحت کا ذکر قرآن کے دوسرے مقامات میں ہوا ہے۔ وہاں واضح فرمایا ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسان کے اختیار کے امتحان کے لئے پیدا کی ہے اس وجہ سے اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس میں ایک خاص حد تک ان لوگوں کو بھی مہلت ملے جو اس کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کی قدر نہیں کرتے اور حق کی جگہ باطل ہی کے پرستار بن کے زندگی گزارتے ہیں۔
اس میں دوسرے ’ لا ‘ کے اعادے کو بعض اہل ادب نے زائد مانا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ زائد نہیں بلکہ تاکید کے لیے ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں۔
Ayahs 35:22–24آیت 22
یہ وہی مضمون دوسرے الفاظ اور دوسرے اسلوب میں بیان ہوا ہے۔ اس دور میں نبی ﷺ کو اپنی قوم کو بیزاری سے بڑی پریشانی تھی۔ آپ کو اندیشہ تھا کہ مبادا اس میں آپ ﷺ ہی کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ آپ ﷺ کی یہ پریشانی دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف اسلوبوں سے تسلی دی کہ تمہارا کام زندوں کو سنانا ہے، مردوں کو جگانا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ جن کی صلاحیتوں زندہ ہیں وہ تمہاری بات سن رہے ہیں اور مان رہے ہیں۔ رہے وہ جو عقلی و روحانی اعتبار سے بالکل مردہ ہوچکے ہیں اگر تم چاہتے ہو کہ یہ تمہاری بات سننے والے بن جائیں تو یہ ہونے سے رہا۔
’ ان اللہ یسمع من یشاء۔ ’ اسماع ‘ یہاں بات کو سننے اور ماننے کی توفیق دینے کے مفہوم میں ہے۔ یعنی یہ اللہ ہی ہے جو سچی سننے اور اس کو ماننے کی، جس کو چاہتا ہے، توفیق دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر چاہنا اس کی حکمت کے تحت ہے۔ اس معاملے میں اس کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ اس کی بخشی ہوئی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھتے ہیں ان کو تو وہ مزید سننے سمجھنے اور ماننے کی توفیق بخشتا ہے اور جو لوگ اپنی فطری ہدایت کی قدر نہیں کرتے وہ اخلاقی اعتبار سے مردوں کے حکم ہیں ان کو زندہ کرنا خدا کے سوا کسی کے امکان میں نہیں۔
یہ تبلیغ و دعوت کے معاملے میں نبی ﷺ کی ذمہ داری کی صدا واضح فرمادی کہ تم بس لوگوں کو آنے والے خطرے سے آگاہ کردینے والے ہو۔ یہ ذمہ داری تمہارے اوپر نہیں ہے کہ لوگ تمہاری بات مان بھی لیں۔ تم کو خدا نے حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ جن باتوں کی تم خبر دے رہے ہو ان میں سے ہر بات شدنی ہے۔ پس تمہارا کام یہ ہے کہ جو لوگ تمہاری باتوں پر کان دھریں ان کو ان کے مبارک انجام کی خوش خبری سنا دو۔ اور جو لوگ تمہاری باتوں سے منہ موڑیں ان کو ان کے انجام ِ بد سے آگاہ کردو۔ اس سے زیادہ تمہاری کوئی ذمہ داری ہے۔ اس وجہ سے تمہیں ان کے لئے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
’ وان من امۃ الا خلا فیھا نذیر۔ ‘ یعنی تم دنیا میں پہلے نذیر نہیں ہو، بلکہ ماضی میں جو قومیں گزری ہیں ان میں بھی اللہ نے اپنے نذیر بھیجے تو ان کر سرگزشت میں تمہارے لئے بھی سبق ہے اور تمہاری قوم کے لئے بھی درس عبرت ہے۔ تمہارے ساتھ اللہ وہی معاملہ کرے گا جو اس نے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا اور تمہاری قوم کے ساتھ بھی لازما ً وہی معاملہ کرے گا جو پچھلی قوموں کے ساتھ اس نے کیا۔
Ayahs 35:25–26آیت 25۔ 26
یہ اسی اجمال کی وضاحت ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان سے پہلے جو قومیں کی وضاحت ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں اسی طرح انہوں نے بھی اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ روایت پہلے سے چلی آرہی ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ پہلی بار تمہاری ہی قوم نے تمہارے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہا گریہ صورت حال پہلی بار پیش آئی ہوتی تب تو تمہارے لئے یہ وجہ تشویش ہوسکتی تھی کہ مباد اس میں تمہاری کسی کوتاہی کو دخل ہو لیکن جب ہر رسول کے ساتھ اس کی قوم نے یہی سلوک کیا ہے تو معلوم ہوا کہ رسولوں کے ساتھ ان کی قوموں کی روش ہمیشہ سے یہی رہی ہے۔
’ جاھ تھم رسلھم بالبینتالایۃ ‘۔ یعنی یہ بات بھی نہیں تھی کہ ان کے رسول خالی ہاتھ آئے ہوں۔ بلکہ وہ نہایت واضح دلائل و معجزات، صحیفوں اور روشن کتاب کے ساتھ آئے لیکن ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ان کو قائل کرنے والی نہ بن سکی۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے مخالفوں سے بھی تم یہ توقع نہ رکھو کہ اگر ان کی طلب کے مطابق ان کو کوئی نشانی دکھا دی جائے تو یہ ایمان لانے والے بن جائیں گے۔ اس قسم کے لوگوں کے لئے ساری نشانیاں، سارے صحیفے اور تمام کتابیں بےوسود ہیں۔
’ بینت اور زبرتو عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کو ان سے مسلح کرکے بھیجا۔ ’ کتاب منیر ‘ سے اشارہ تورات کی طرف ہے۔ قرآن مجید سے پہلے ’ کتاب منیر ‘ کی حیثیت اسی کو حاصل رہی۔
’ ثم اخذت الذین کفروا۔ ‘ قوموں نے و روش اختیار کی وہ اوپر مذکور ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جو معاملہ کیا یہ اس کا بیان ہے۔ فرمایا کہ جب انہوں نے رسول کی تکذیب کردی تو ہم نے ان کو پکڑا اور جب پکڑا تو دیکھو کس طرح پکڑا اور کیسی عبرت انگیز سزا ان کو دی ! مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری قوم بھی اپنی اسی روش پر جمی رہی تو اس کے ساتھ بھی ہم یہی معاملہ کریں گے۔ ہمارا قانون سب کے لئے ایک ہی ہے۔
Ayah 35:27آیت 27
وہی حقیقت جو آیات 20۔ 22 میں سجھائی گئی ہے اس کائنات کی دوسری مثالوں کی روشنی میں سمجھائی جا رہی ہے۔ گویا آیت 23۔ 26 بیچ میں بطور التفاف آگئی تھیں۔ ان کے ختم ہونے کے بعد کلام پھر اپنے اصل سلسلہ سے مربوط ہوگیا۔ فرمایا کہ دیکھتے ہی نہیں کہ اللہ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے تو اس سے ایک ہی قسم کی چیز نہیں اگتی بلکہ طرح طرح کی مختلف النوع اور مختلف الالوان چیزیں اگ پڑتی ہیں۔ اسی سے خوش نماء خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں والی چیزیں بھی اگتی ہیں اور اسی سے ناقص زمینوں میں جھاڑ جھنکار بھی اگتے ہیں۔ یہی حال اس قرآنی بارش کا بھی ہے۔ اس سے بھی صالح طبیعتوں کی صلاحیتیں بھی ابھریں گی اور جن کے اندر کھوٹ اور فساد ہے وہ بھی ابھر کر سامنے آئے گا۔ اس لئے کہ شیطان اسکو ٹھندے پیٹوں نہیں برداشت کرے گا بلکہ وہ بھی اپنی ذریات کو اس کے مقابلے کے لئے ابھارے گا۔ لفظ ’ الوان ‘ عربی میں صرف رنگوں ہی کے مفہوم میں نہیں آتا بلکہ انواع و اقسام کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ آگے بھی اسی آیت میں یہ لفظ مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
سورة اعراف میں بارش کے اثرات کے اس پہلو کی طرف ان الفاظ میں توجہ دلانی ہے۔
والبلد الطیب یخرج نباتہ باذن ربہ وزی خبث لا یخرج الا تکندا۔ (الاعرا : 57)
اور جو زمین زرخیز ہوتی ہے تو اس کے رب کے حکم سے اس کی نباتات بھی اچھی اگتی ہیں اور جو ناقص ہوتی ہے تو اس کی نباتات بھی ناقص ہی اگتی ہیں۔
اس آیت کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں، اس مقام کی وضاحت کے لئے ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجئے۔
’ ومن الجبا جدد بیض وحمر مختلف الوانھا وغرابیب سود۔ ‘۔ جدد ‘ جمع ہے ’ جدۃ ‘ کی۔ یہ لفظ اصلاً تو ہر نوں اور خچروں کی پیٹھوں پر مختلف رنگوں کو جو دھاریاں ہوتی ہیں ان کے لئے آتا ہے لیکن یہاں یہ ان مختلف الالوان سلوں اور چٹانوں کے لئے آیا ہے جن کی دھاریاں یا قطاریں پہاڑوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔
’ غرابیت ‘ جمع ہے ’ غربیب ‘ کی۔ اسکے معنی ہیں کالا بھجنگ۔ یہ لفط عام طور پر ’ اسود ‘ کی تاکید کے لئے آتا ہے۔ مثلاً کہیں گے، اسود غربیب ‘۔ فلاں چیز کالی بھجنگ ہے۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں یہ ’ سود ‘ سے پہلے کیوں آیا، تاکید کا مقدم آنا بلاغت کے خلاف ہے ؟ اس سوال کے جواب مختلف اہل ادب نے مختلف دیے ہیں۔ بعض نے اس کو بدل کے مفہوم میں لیا ہے جو وضاحت کے طور پر آیا ہے۔ اگر یہ توجیہ مانلی جائے تو یہ اس پہلو سے صحیح ہے کہ جو بدل وضاحت کے طور پر آتا ہے وہ در حقیقت تاکید ہی کے لئے آتا ہے۔ اس صورت میں متکلم گویا اپنی بات سادہ الفاظ میں پھر مخاطب کے سامنے دھرا دیتا ہے کہ اچھی طرح اس کے ذہن نشین ہوجائے۔ یہاں سیاہ قسم کے پتھروں کی طرف اس وضاحت کے ساتھ توجہ دلانے کی وجہ یہ ہے کہ مقصودیہ سمجھانا ہے کہ جس طرح پہاڑوں میں سیاہ پتھر ہوتے ہیں اسی طرح لوگوں کے اندر سیاہ قلب افراد ہوتے ہیں اور جس طرح سفید و سرخ اور سیاہ پتھروں کا الگ الگ مصرف ہے۔ اسی طرح سیاہقلب افراد کا بھی ایک محل اور مصرف ہے جس کے لئیقدرت نے ان کو اس دنیا میں مہلت دی ہے۔