34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة سبا ١۔ سورتوں کا پانچواں گروپ سورة سبا سے سورتوں کا پانچواں گروپ شروع ہو رہا ہے جو سورة حجرات پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں ١٣ سورتی /از سباتا الاحقات… مکی ہیں۔ آخر میں تین سورتیں محمد، الفتح، الحجرات، مدنی ہیں۔ ب۔ گروپ کا جامع عمود۔ مطالب اگرچہ اس گروپ میں مشترک ہیں یعنی قرآن دعوت کی تینوں اساسات، توحید، قیامت، رسالت، پر جس طرح پچھلے گروپوں میں بحث ہوئی ہے اسی طرح اس میں بھی یہ تمام مطالب زیر بحث آئے ہیں ! البتہ نہج استدلال اوعر اسلوبِ بیان مختلف اور جامع عمود اس کا اثبات توحید ہے جو اس مجموعہ کی تمام سورتوں میں نمایاں نظر آئے گا۔ دوسرے مطالب اسی کے تحت اور اسی کے تضمنات کی وضاھت کے طور پر آئے ہیں۔ ج۔ سورة سبا کا عمود اور اس کے مطالب کا تجزیہ اس گروپ کی پہلی سورة ، سورة سبا ہے۔ اس کا عمود اثباتِ توحید و قیامت ہے۔ بنیاد اس کی شکر اور اس کے مقضیات پر ہے اور مخاطب مترفین قریش ہیں۔ ذیل میں ہم بالاجمال اس کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں جس سے اس کے تمام اجزاء کا ربط عمود کے ساتھ واضح ہوجائے گا۔ (١۔ ٩) تمہید، جس میں اللہ تعالیٰ ہی کے سزا اور شکر ہونے کی دعوت ہے۔ اس لئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی تمام اختیار واقتدار اسی کا ہوگا۔ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اس وجہ سے نہ کسی کا کوئی عمل اس سے مخفی رہے گا۔ نہ کوئی کسی کو اپنی باطل سفارش سے چھڑا سکے گا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آخرت نہیں ہے، وہ سخت گمراہی میں ہیں۔ آخرت ایک حقیقت اور خدا کی صفات کا لازمی تقاضا ہے۔ جن کے اندر علم کی رمق ہے وہ جانتے ہیں کہ قرآن جس تو ید و قیامت کی دعوت دے رہا ہے وہ بالکل حق ہے، صرف بےفکرے اور لا ابالی لوگ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کی اصلی بیماری یہ ہے کہ انابت اور عبرت پذیری کی صلاحتی ان کے نادر مفقود ہے۔ اگر یہ صلاحیت ان کے اندر ہوتی تو وہ دیکھ لیتے کہ خدا ان کو جب چاہے اور جہاں سے چاہے پکڑ سکتا ہ۔ (١٠۔ ١٤) مترفین قریش کی تنبیہ کے لئے حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیما السال کی مثال کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام نعمتیں عطا فرمائیں لیکن وہ غرور و استکبار میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ اپنے رب کے شکر گزارو فرمانبردار رہے۔ انہوں نے دنیا کے فتنہ میں مبتلا ہو کر شیاطین کی پیروی نہیں کی بلکہ شیاطین سے بھی اپنی پیروی کرائی۔ جو اپنے رب کی فرمانبرداری کرتے ہیں اللہ تعالیٰ شیاطین کو بھی ان کی غلامی میں دے دیتا ہے اور جو اپے رب کی ناشکری کرتے ہیں شیاطین ان پر مسلط ہوجاتے ہیں اور ان کو شیاطین کی غلامی کرنی پڑتی ہے۔ (١٥۔ ٢١) ملک سبا کی مثال جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خدا کی نعمتیں پا کر جو قومیں خدا کی ناشکر گزاری کے بجائے طغیان و فساد میں مبتلا ہوجاتی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو نہایت عبرت انگیز سزا دیا کرتا ہے۔ اہل سبا نے اپنے بارے میں ابلیس کے گمان کو سچا ثابت کردیا جس کی پاداش میں اللہ نے ان کو اپنے تمام افضال سے محروم کرکے ایک افسانہ پارینہ بنا دیا۔ (٢٢۔ ٢٧) شرک، شرکاء اور شفاعتِ باطل کے عقیدے کی تردید اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ اگر یہ مشرکین بےدلیل، محض اپنی انانیت کے غرور میں، اپنی ضد پر اڑے رہنا چاہتے ہیں تو ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ تم نے اپنی دعوت پہنچا دی۔ اب ان کا فیصلہ اللہ کرے گا۔ وہ ہر چیز سے باخبر اور ہر معاملے کو دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے۔ (٢٨۔ ٣٣) مخالفین کے اس مارضہ کا جواب کہ ہم اس وقت تک اس قرآن ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جب تک وہ عذاب نہ دکھا دیا جائے جس کی ہم کو دھمکی دی جا رہی ہے۔ (٣٤۔ ٣٩) منکرین کے اصل سبب انکار کی طرف اشارہ کہ ان کو اس دنیا میں جو مال و جاہ حاصل ہے اس کو وہ خدا کے منظورِ نظر ہونے کی دلیل بنائے بیٹھے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جس طرح اس دنیا میں وہ کامیاب ہیں اسی طرح آخرت میں بھی (اگر وہ ہوئی) وہی فائز المرام رہیں گے۔ حالانکہ اس دنیا کی نعمتیں اللہ تعالیٰ جس کو دیتا ہے آزمائش کے لے دیتا ہے کہ وہ اس کو پاکر خدا کا شکر گزار بندہ بنتا ہے یا ناشکرا۔ آخرت میں اس کے ساتھ اللہ کا معاملہ اس کے عمل کے مطابق ہوگا۔ ّ ٤٠۔ ٤٣) یہ تنبیہ کہ اپنے جن معبودوں کی حمایت میں یہ لوگ قرآن اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کے لئے آج آستینیں چڑھائے ہوئے ہیں ان میں سے ملائکہ کا حال یہ ہوگا کہ جب خدا قیامت کے دن ان سے سوال کرے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری پوجا کرتے رہے ہیں تو وہ اس سے فوراً اظہار برات کریں گے اور جواب دیں گے کہ یہ جنوں کو پوجتے رہے ہیں۔ ہم اس سے بالکل بری ہیں۔ (٤٤۔ ٥٤) خاتمہ سورة ، جس میں پہلے تو اس عطیم احسان کی طرف توجہ دلائی ہے جو اللہ تالیٰ نے اس کتاب کی صورت میں ان لوگوں پر فرمایا جو اس سے پہلے قرآن و کتاب سے بالکل ناآشنا تھے۔ پھر نہایت ناصحانہ انداز میں ان کو معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرکے فیصلہ کرنے کی دعوت دی اور آخر میں دھمکی دی کہ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر ہمیشہ کے لئے پچھتائو گے لیکن گزرا ہوا وقت ہاتھ میں نہیں آئے گا۔

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

شکر کا حقدار وہ اللہ ہی ہے جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی حمد آخرت ہوتی ہے

ا۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت الحمد اللہ الذی لہ ما فی السموات وما فی الارض ولہ الحمد فی الاخرۃ وھو الحکیم الخبیر (1) اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة کی بنیاد شکر اور اسکے لوازم و مقتضیات پر ہے۔ ا۔ (سورة فاتحہ کی تفسیر میں یہ حقیقت بھی واضح ہوچکی ہے کہ شکر ہی پر توحید اور پھر پورے دین کی عمارت قائم ہے۔ منعم کے شکر کا واجب ہونا انسانی فطرت کی بدیہیات میں سے ہے۔ انسان پر جس کا بھی کوئی احسان ہوتا ہے وہ اس کا ممنون شکر گزا رہوتا ہے۔ اگر کوئی اپنے محسن کا شکر گزار نہ ہو تو وہ لئیم و کمینہ ہے۔ اسی اصل پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آسمان و زمین کی تمام نعمتیں، جن سے انسان ہر لمحہ متمتع ہو رہا ہے اور جن کے اوپر ہی اس کے بقا کا انحصار ہے، کسی کی پیدا کردہ اور کس کے قبضہ قدرت میں ہیں ؟ یہ سورج، یہ چاند، یہ ابر، یہ ہوا، یہ ستارے اور سیارے کس کے بنائے ہوئے ہیں ؟ یہ زمیں، یہ دریا، یہ پہاڑ، یہ چرند وپرند، یہ اشجارو و انہار اور یہ سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ ان سوالوں کا صحیح جواب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کردہ، اسی کی مملوک اور اسی کے دست تصرف میں ہیں۔ پچھلی سورتوں میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ ان سوالوں کا یہی جواب قرآن کے کٹر سے کٹر مخالفین بھی دیتے تھے۔ اس آیت میں قرآن نے اسی بدیہی حقیقت کی یاددہانی کی ہے کہ وہی اللہ جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا خالق ومالک ہے وہی ان تمام مخلوقات کے شکر کا حقیقی سزاوار بھی ہے جو اللہ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں سے متمتعہو رہی ہیں۔ اس شکر کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ کسی دوسرے کو ان چیزوں کے خلق یا ان کی تدبیر میں کوئی دخل نہیں ہے۔ دوسروں سے انسان کو کوئی فیض پہنچتا ہے تو محض ایک واسطہ و ذریعہ کی حیثیت سے پہنچتا ہے۔ اس وجہ سے اگر ان کا کوئی حق انسان پر قائم بھی ہوتا ہے تو وہ خدا کے حق کے تھت ہوتا ہے نہ ک کہ خدا کے حق سے بالاتر یا اس کے برابر۔ ’ ولہ الحمد فی الاخرۃ ‘ اوپر کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کے اس حق کا ذکر تھا جو اس دنیا کی زندگی میں اس کے ہر بندے پر قائم ہوتا ہے۔ اب اس ٹکڑے میں اس کے اس حق کا ذکر ہے جو آخرت میں آشکارا ہوگا۔ فرمایا کہ اسی کی حمد آخرت میں بھی ہوگی۔ اس ٹکڑے سے کئی باتیں واضح ہوئیں۔ ایک یہ کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ربوبیت کو جو اہتمام فرمایا ہے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے بعد آخرت کا ظہور ہو۔ اگر آخرت نہ ہو تو یہ تمام ربوبیت بالکل بےمعنی و بےغایت ہو کے رہ جاتی ہے۔ اس نکتہ کی وضاھت متعدد مقامات میں ہوچکی ہے اس وجہ سے یہاں اشارے پر کفایت کیجئے۔ دوسری یہ کہ یہ اہل ِ یامن کے اس تراجہ حمد کی طرف اشارہ ہے جو آخرت میں تمام حقائق کے ظہور اور اللہ تعالیٰ کے جملہ وعدوں کے ایفاء کے بعد ان کی زبانوں سے بلند ہوگا۔ اس کی طرف سورة یونس میں اشارہ ہے :’ واخردعواھ ان الحمد اللہ رب العلمین (یونس : 10) (اور ان لوگوں کی آخری صدا یہ ہوگی کہ شکر کا حقیقی سزاوار اللہ، عالم کا خداوند ہے)۔ تیسری یہ کہ یہ شرکاء وشفعا کی کلی نفی ہے کہ یہ تما مزعومہ دیوی دیوتا جن کی شفاعت کی امید پر مشرکین نچنت بیٹھے ہیں، آخرت میں سب ہوا ہوجائیں گے۔ ان میں سے کوئی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔ اس دن مشرکین پنے معبودوں پر لعنت کریں گے اور معبود اپنے پجاریوں سے اعلان براءت کریں گے۔ سب کی پیشی اللہ واحد کے حضور میں ہوگی۔ اسی کا فیصلہ ناطق ہوگا اور سب پر یہ حقیقت آشکارا ہوجائے گی کہ سزوارِ حمد صرف اللہ رب العالمین ہے۔ اس حقیقت کی طرف سورة قصص میں یوں اشارہ فرمایا گیا ہے :’ لہ الحمد فی الاولی والاخرۃ ولہ الحکم والیہ ترجعون (القصص : 70) وہی حمد کا حق دار ہے دنیا میں اور اسی کی حمد ہوگی آخرت میں اور اسی کے اختیار میں تمام امور کا فیصلہ ہے اور اسی کے آگے تمہاری پیشی ہونی ہے)۔ ’ وھو الحکیم الخبیر ‘۔ یہ اوپر کے تمام دعا دی کی دلیل اللہ تعالیٰ کی صفات سے پیش کی گئی ہے کہ وہ حکیم وخبیر ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں اپنے شکر گزار بندوں کو ان کی شکرگزاری کا صلہ دے اور ناشکرے اپنی ناسپاہی کی سزا بھگتیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ دنیا ایک بازیچہ اطفال بلکہ ایک نہایت ظالمانہ کھیل بن کے رہ جاتی ہے اور الغیاذ اللہ یہ ماننا پڑے گا کہ اس کا خالق حکیم نہیں بلکہ ایک کھلنڈرا ہے حالانکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ یہ شہادت دے رہا ہے کہ اس کا خالق ایک حکیم ہے۔ اسی طرح اس کے حکیم ہونے کا یہ بھی تقاضا ہے کہ س کے بےلاگ عدل کو سی کی سفارش باطل نہ کرسکے اس لئے کہ اس صورت میں بھی اس کے حکیم ہونے کی نفی ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں وہ خبیر بھی ہے اس لئے کہ جب اس نے ہر چیز پیدا کی ہے تو ضروری ہے کہ وہ اس کے ایک ایک ذرہ اور ایک ایک حرکت و سکون سے باخبر بھی ہو چناچہ فرمایا ’ الا یعلم من خلق (الملک : 14) (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے سب کچھ بنایا ہے) اس کے اس محیط کل علم کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ کسی کے معاملے کا فیصلہ کرتے وقت نہ کسی دوسرے علم و خبر کا متحاج ہو اور نہ کوئی اس کو اپنی جھوٹی سفارش سے فریب دے سکے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ ان تمام باتوں کو حصر کے اسلوب میں فرمایا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جب حقیقی خالق ومالک اور حقیقی حکیم و خبیروہی ہے تو اس کے سوا کوئی دوسرا کا سزا وار کس طرح ہوسکتا ہے۔
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

اور جو اس سے برآمد ہوتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہی رحم فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔

یعلم ما یلض فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا وھو الرحیم الغفور (2) یہ اسی صفت خبیر کی وضاھت ہے کہ اس کا علم اس کائنات کے ایک ایک ذرے اور ایک ایک حرکت و سکون کو محیط ہے۔ جو دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے وہ اس سے بھی باخبر ہوتا ہے اور جو پودا اس سے برآمد ہوتا ہے اس کو بھی وہ جانتا ہے۔ اسی طرح آسمان سے جو خیرو شر نازل ہوتا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہوتا ہے اور جو چیزیں اس میں صعود کرتی ہیں ان سے بھی وہ آگاہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا علم تمام کلیات و جزئیات کو محیط ہے اور وہ ہر چیز کی نگرانی فرما رہا ہے۔ اس کی مملکت میں کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہ تو اس کے دائرہ علم سے باہر ہے اور نہ یہ ممکن ہے کہ اس کے کسی گوشے میں اس کے علم و اذن کے بغیر کوئی کسی قسم کی نقل و حرکت یا دراندازی کرسکے۔ علمِ الٰہی کے اس احاطہ کی وضاحت اس مقصد سے کی گئی ہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل مشرکین کا یہ مغالطہ ہے کہ بھلا اتنی ناپید کنار کائنات کے ہر کونے اور گوشے، ہر ایک کے قول و عمل اور ہر ایک کے دکھ اور درد سے خدا ہر لمحہ کس طرح واقف رہ سکتا ہے ! اس وجہ سے اپنے تصور کے مطابق اس کائنات کے مختلف حصوں کو انہوں نے الگ الگ دیوتائوں میں تقسیم کیا۔ اس کا تقرب حاصل کرنے اور اس کو اپنی ضروریات سے آگاہ کرنے کے لئے وسائل و وسائط ایجاد کیے۔ جنوں کو آسمان کی خبریں لانے والا مان کر ان کی پرستش کی، فرشتوں کو شفاعت کرنے والا سمجھ کر ان کو دیویوں کا درجہ دیا۔ اس آیت نے ان تمام توہمات پر ضب لگائی کہ خدا کا علم ہر چیز کو محیط ہے اس وجہ سے کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ہے۔ وہ اپنی پوری کائنات کے سارے نظام پر خود حاوی اور تنہا کافی ہے۔ ’ وھو الرحیم الغفور ‘ یعنی خدا کوئی ظالم اور غیر منصف بھی نہیں یہ کہ اس کو راضی کرنے یا اس کی آفتوں سے اپنے کو بچانے کے لئے کسی دوسرے کی سعی و سفارش کی ضرورت پیش آئے بلکہ وہ نہایت مہربان اور نہایت بخشنے والا ہے۔ اس کی رحمت کو متوجہ کرنے اور اس کی مغفرت حاصل کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ بندہ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور توجہ و اصلاح کرے۔ یہاں یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک اہم عامل مشرکوں کا یہ مغالطہ بھی ہے کہ انہوں نے خدا کا تصور ایک نہایت ہولناک ہستی کی حیثیت سے کیا اور پھر اس کو راضی رکھنے کے لئے انہوں نے اپنے تصور کے مطابق وسائل و ذرائع ایجاد کیے۔ اس ٹکرے نے اسی واہمہ پر ضرب لگائی ہے۔
Ayah 34:3

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آنے کی۔ کہہ دو ، ہاں میرے خداوند عالم الغیب کی قسم، وہ ضرور تم پر آکے رہے گی ! اس سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے نہ آسمانوں اور نہ زمین میں، اور نہ اس سے کوئی چھوتی چیز اور نہ بڑی۔ مگر وہ ایک واضح کتاب میں مرقوم ہے

وقل الذین کفروا لاتاتینا الساعۃ قل بلی و ربی لتاتینکم علم الغیب لایعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السموات ولا فی الارض ولا اصغر من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین (3) یعنی جب اللہ حکیم وخبیر ہے، اس کا علم ہر چیز کا احاطہ بھی کیے ہوئے ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قیامت ضرور آئے لیکن جو ہٹ دھرم ہیں وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور بڑے غرور کے ساتھ انکار کرتے ہیں کہ قیامت ہر گزر نہیں آئے گی۔ ’ قل بلی وربی لتاتینکم جس طنطنہ کے ساتھ منکرین کا انکار تھا اسی زور کے ساتھ پیغمبر ﷺ کی زبان سے بقید قسم، جواب دلوایا کہ ان کو سنا دو کہ ہاں، میرے رب کی قسم ! وہ تم پر ضرور آ کے رہے گی۔ ’ علم الگیب، لایعزب عنہ الایۃ عالم الغیب ’ ربی ‘ سے بدل واقع ہے یعنی میرے اس رب کی قسم جو تمام غیب سے واقف ہے، جس سے آسمانوں اور زمین میں، ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ بلکہ ہر چیز ایک نہایت واضح رجسڑ میں درج ہے۔ اس آیت میں علم الٰہی کی وسعت کا بیان منکرین کی تہدید کے مقصد سے ہے کہ وہ چوکنے ہوں کہہ اس ڈھٹائی سے وہ قیامت کا جو انکار کر رہے ہیں تاکہ یاد رکھیں کہ نہ صرف یہ کہ وہ آئے گی بلکہ ہر ایک کو اپنے ایک ایک قول و عمل کا ِخواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، حساب بھی دینا ہے۔ ساتھ ہی اس میں ایک مغالطہ کا ازالہ بھی ہے وہ یہ کہ منکرین کے نزدیک قیامت کے استبعاد کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ اتنی وسیع دنیا کے ایک ایک شخص کے ہر قول و فعل کا علم کسے ہوسکتا ہے کہ وہ سب کا حساب کرنے بیٹھے گا ! ان کے اس مغالطہ کو دور کرنے کے لئے یہاں بھی اللہ تالیٰ کے محیظ کل علم کا حوالہ دیا جس طرح اوپر توحید کے سلسلہ میں دیا ہے۔
Ayahs 34:4–5

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

تاکہ وہ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ وہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور رزق کریم ہے۔

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جو ہماری آیات کو زک پہنچانے کی سعی میں سرگرم ہیں وہی ہیں جن کے لئے درد ناک عذاب کا خاص حصہ ہوگا۔

لیجزی الذی امنوا وعملوالصلحت اولئک لھم مغفرۃ ورزق کریم والذین سعو فی ایتنا معجزن اولئک لھم عذبا من رجز الیم (4۔ 5) یہ قیامت کی ضرورت واجح فرمائی کہ اس کا آنا کیوں ضروری ہے۔ فرمایا کہ اس لئے ضروری ہے کہ وہ نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کے نزدیک نیک و بد دونوں یکساں ہیں حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے اس وجہ سے لازمی ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ ایمان و عمل صالح والوں کو ان کی نیکیوں کا صلہ اور جنہوں نے اللہ کی باتوں کو شکست دینے کی کوشش کی ان کو ان کی اس سعئی نامراد کی سزا دے۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ قیامت کا اصل مقصد ایل ایمان کو صلہ دینا بتایا گیا ہے۔ اس لئے کہ اس کا اصل مقصود درحقیقت ہے ہی یہی۔ مجرمین کو سزا دینا اس کے مقاصد میں سے نہیں بلکہ اس کے لوازم و نتائج میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا رحمت کے لئے بنائی ہے اور اس رحمت ہی کے لئے اس نے آخرت کا دن بھی رکھا ہے لیکن اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ جو لوگ اپنے آپ کو اس رحمت کا سزاوار نہیں بنائیں گے وہ اس کی نعمت کی سزاوار ٹھہریں گے۔ اہلِ ایمان کے لے دوچیزوں کا یہاں ذکر فرمایا ہے۔ ایک مغفرت، دوسری، رزق کریم، مغفرت، سے مراد یہ ہے کہ ایمان و عمل صالح کی زندگی بسر کرتے ہوئے ان سے جو کوتاہیوں اور غلطیاں صادر ہوئی ہوں گی اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرمائے گا۔ رزق کریم، ان تمام افضال و غایات کی ایک جامع تعبیر ہے جن کے وہ جنت میں وارث ٹھہریں گے۔ کفار کا ذکر یہاں ’ الذین سعو فی ایتنا معجزین ‘ کی صفت کے ساتھ فرمایا ہے۔ ’ معاجرۃ ‘ کے معنی ایک دوسرے کو شکست دینے کے قصد سے باہم مسابقت کرنا ہے۔ مطلب یہ یہ کہ جن کی تگ و دود رات دن اللہ کی آیات اور اس کی باتوں کو شکست دینے کے لئے وقف رہی ہے ان کو اللہ تعالیٰ ’ رجز الیم ‘ کے عذاب میں سے حصہ دے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ کفر کے سرغنوں کی طرف ہے جن کے لئے عذاب بھی مخصوص ہوگا۔ اسی مخصوص عذاب کو عذاب من رجز الیم ‘ سے تعبیر فرمایا۔ ’ رجز ‘ اس عذاب کو کہتے ہیں جو نہایت ہولناک ہو۔
Ayah 34:6

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن کو علم عطا ہوا ہے وہ، اس چیز کو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے، سجھتے ہیں کہ یہی حق ہے اور وہ خدائے عزیز حمید کے راستہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

ویرہ الذین اوتو العلم الذی انزل الیک من ربک ھوالحق ویھدی الی صراط العزیز الحمید (6) یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جنکو علم حقیقی کی روشنی عطا ہوئی۔ عام اس سے کہ وہ ان اہل کتاب میں سے ہوں جنہوں نے اپنے نبیوں اور صحیفوں کے علم کو محفوظ رکھا یا ان سلیم الفطر لوگوں میں س ہوں جن کے قلوب ان کی سلامت روی کے باعظ قرآن کی روشنی میں متیز ہوئے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اس چیز کو ابالکل حق سمجھتے ہیں جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے۔ یعنی تم جس توحید کی دعوت دے رہے ہو اور جس قیامت سے لوگوں کو ڈرا رہے ہو، وہ اس کی تائید کر رہے ہیں کہ یہی حق ہے اور جو لوگ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر بڑے طنطنہ کے ساتھ توحید اور قیامت کی تکذیب کر رہے ہیں وہ یکسر باطل پر ہیں۔ یہ بات یہاں نبی ﷺ کی تسلی کے لئے فرمائی گئی ہے کہ اگر بےفکرے اور لا ابالی لوگ تمہاری مخالفت کر رہے ہیں تو اس کی پروا نہ کرو، تمہارے اطمینان کے لئے یہ چیز بس کافی ہے کہ جن کے اندر علم و معرفت کی روشنی ہے وہ تمہارے موید ہے۔ آدمی کو پروا عاقلوں کی ہونی چاہے نہ کہ احمقوں اور لاخیروں کی۔ ’ ویھدی الی صراط العزیز الحمید ‘ یعنی یہ اہل علم اس حقیقت کو برملا تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کتاب لاریب کدائے عزیز و حمد کے راستہ کی طرف راہنمائی کرنے والی ہیَ یعنی دوسروں نے جو دین گھڑ رکھے ہیں وہ تو تمام تر ضلالت اور ہلاکت کے کھڈ میں گرانے والے ہیں البتہ یہ کتاب خدا کی راہ دکھانے والی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی دو صفتیں مذکورہوئی ہیں“ ایک ’ عزیز ’ دوسری حمید۔ عزیز سے اس کی عزت وقدرت کا اظہار ہو رہا ہے اور حمید سے دنیا اور آکرت دونوں میں اس کا سزوار حمد ہونا اور یہ دونوں صفتیں توحید اور قیامت کے متلزم ہیں۔ جیسا کہ اوپر کے مباحث سے واضح ہوچکا ہے۔ اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ حقیقی علم، قرآن کی اصطلاح میں، صرف خدا کی معرفت اور آخرت کا علم ہے۔ اگر یہ علم کسی کے اندر نہ ہو تو دوسرے کتنے ہی علوم وہ پڑھ ڈالے اس کا یہ سارا علم اس کے لیے بار اور دوسروں کے لئے خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے علماء صرف انہی کو کہا ہے جن کو خدا اور آخرت کے معرفت حاصل ہو۔ انما یحشی اللہمن عبادہ العلمواء ان اللہ عزیز غفور (فاطر : 28) اللہ سے اس کے بندوں میں سے بس وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں اور بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا، بخشنے والا ہے۔
Ayah 34:7

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تم کو ایک ایسا آدمی دکھائیں جو تم کو یہ خبر دے رہا ہے کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہوجائو گے تو ازسرنو ایک نئی خلقت میں اٹھائے جائو گے ،

وقال الذین کفروا ھل نہ تکبر علی رجل ینتئیکم اذ مزقتم کل ممزق انکم لفی خلق جدید (7) اہل ایمان کی روش کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کی روش بیان ہو رہی ہے جو علم کی روشنی سے محروم، کفر کے اندھیرے میں، بھٹک رہے ہیں۔ فرمایا کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تمہارا اور تمہاری دعوت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ لوگوں سے کہتے ہیں کہ آئو ہم تمہیں ایک ایسا سر پھرا دکھائیں جو خدا کا رسول بن کر یہ منادی کرتا پھر رہا ہے کہ لوگ مر کر جب بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو وہ از سرِ نو زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے ! گویا ان کے نزدیک یہ بات اس قابل بھی نہیں کہ اس کی تردید میں کوئی دلیل دی جائے۔
Ayah 34:8

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس کو کسی قسم کا جنون ہے بلکہ جو لوگ آخرت میں ایمان نہیں رکھتے وہی عذاب اور نہایت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں

افتری علی اللہ کذبا امر بہ جنتہ بل الذین لا یومنون بالاخرہ فی العذاب والضلل البعید (8) یہ ان کے اسی استہزا کی مزید تفصیل اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا برمحل جواب ہے۔ ’ افتری علی اللہ کذبا امہ بہ جنۃ ‘ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اس شخص کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو یہ مانا جائے کہ اس نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے کہ خدا نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس کی طرف سے کہہ رہا ہے یا پھر یہ مانا جائے کہ یہ بھی جنون کی ایک قسم ہے جس میں یہ شخص مبتلا ہوگیا ہے ! مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بیک وقت اس شخص میں موجود ہیں۔ یہ مفتری بھی ہے اور مجنون بھی۔ ’ بل الذین لایومنون بالاخرۃ الایۃ۔ ان متمردین کے اس استہزاء کا جواب قرآن نے فوراً دیا اور دیکھیے کتنا باوقار اور موثر جواب دیا ہے۔ فرمایا کہ ان لال بجھکڑوں نے تشخیص بہت غلط کی۔ خرابی نہ داعی میں ہے نہ دعوت میں بلکہ ساری خرابی خود ان لوگوں کے اندر ہے جو آخرت پر ایمان نہیں لا رہے ہیں۔ وہ عذاب اور نہایت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ یعنی ایک گمراہی تو وہ ہوتی ہے جس سے پلٹ کر آنے اور اصلاح کا امکان باقی رہتا ہے، ہزار خرابی کے بعد سہی۔ لیکن جو آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوا اس کی بازگشت کا پھر کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا۔ اس کے لئے امید کے تمام دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہوجاتے ہں۔ ان لوگوں کے اس انجام کو متبقل کے صیغہ سے بیان کرنے کے بجائے حال کے اسلوب میں بیان فرمایا اس لئے کہ ان کا یہ انجام ان کے رویہ کے اندر ہی مضمر ہے۔ گویا آج ہی وہ اپنے رعونت کے سبب سے اس سے دو چار ہیں۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے آگے اور پیچھے آسمان و زمین پر نظر ڈالی ! اگر ہم چاہیں تو ان کے سمیت زمین کو دھنسا دیں یا ان پر آسمان سے ٹکرے گرادیں ! بیشک اس کے اندر ہر اس بندے کے لئے بہت بڑی نشانی ہے جو متوجہ ہونے والا ہو !

افلم یروا الی مابین ایدھیم وما خلفھم من السماء والارض ان نشا نخف بھم الارضی او نسقط علیھم کسفا من السماء ان فی ذلک لایۃ تکل عبد منیب (9) اس مجموعہ آیات کی پہلی آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے مجموعہ کے آخر میں اسی مضمون کا ایک نئے اسلوب سے اعادہ ہے۔ پہل آیت میں فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے اس وجہ سے دنیا میں بھی شکر کا حقیقی سزاوار وہی ہے اور آخرت میں بھی اسی کی حمد ہوگی۔ یہاں فرمایا کہ کیا ان متکبرین نے اس حقیقت پر کبھی غور نہیں کیا کہ یہ آسمان جو ان کے سروں پر شامیانے کی طرح تنا ہوا ہے اور یہ زمین جو ان کے قدموں کے نیچے فرش کی طرح بچھی ہوئی ہے اور جن کے فوائد و برکات سے یہ متمع ہو رہے ہیں، یہ ان کے تھامے ہوئے نہیں تھمے ہیں بلکہ ان کو اللہ ہی نے تھام رکھا ہے ؟ اگر اللہ نے ان کو نہ تھام رکھا ہوتا تو یہ دونوں ان کے لئے نعمتوں کے بجائے نعمتوں کا ذریعہ بن جاتے۔ فرمایا کہ ہ جب چاہیں ان کے سمتی زمین کو دھنسا دیں اور جب چاہیں اسی آسمان سے ابررحمت برسانے کے بجائے ان پر پتھر برسا دیں۔ اس کائنات کی کوئی چیز بھی انسان کو بالاضطرز نفع نہیں پہنچا رہی ہے بلکہ خدا کے حکم سے پہنچا رہی ہے اور کوئی چیز بھی براہ راست انسان کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ خدا کے حکم سے وہ اس کی نفع رسانی میں سرگرم ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے جو انسان پر واجب کرتی ہے کہ وہ کسی نعمت پر اترائے نہیں بلکہ اپنے اس رب کا شکر گزار رہے جس نے اس کو یہ نعمت بخشی ہے اور اس کو خدا کی نافرمانی اور اس سے بغاوت کا ذریعہ بنانے کے بجائے اس کو اسی کی خوشنودی اور فرمانبرداری میں استعمال کرے۔ یہی مضمون آگے والی سورة … سورة فاطر، میں، جو اس کا مثنی ہے، یوں ارشاد ہوا ہے :۔ ان اللہ یمسک السموات والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسکھمامن احد من بعدہ انہ کان حلیما غفورا (فاطر : 41) بے شک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ لڑھک نہ جائیں اور اگر وہ دونوں لڑھک جائیں تو کسی کی تاب نہیں کہ وہ خدا کے چھوڑ دینے کے بعد ان کو تھام سکے۔ بیشک وہ نہایت بردبار اور بخشنے والا ہے۔ ’ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب ‘ یعنی آسمانوں اور میں کے اس پہلو پر اگر غور کرتے تو اس کے اندر اس بات کی بہت بڑی دلیل موجود ہے جس کی قرآن ان کی دعوت دے رہا ہے لیکن اس دلیل تک رسائی کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر حقیقت کی طلب، عبرت پذیری کی صلاحیت اور متوجہ ہونے والا دل ہو۔ جن کے اندر یہ اوصاف نہ ہوں ان کے لئے کوئی نشانی بھی کارگر نہیں ہوسکتی۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور ہم نے دائود کو اپنے خاص فضل سے نوازا۔ اے پہاڑوِ تم بھی اس کے ساتھ تسبیح میں شرک کرو اور یہی حکم ہم نے پرندوں کو بھی دیا۔ اور ہم نے اس کے لئے لوہے کو نرم کردیا

2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 10۔ 21 آگے تاریخ سے دو مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ پہلی مثال حضرت دائود سلیمان علیما الاسلام کی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے عطیم بادشاہی، عطیم علم وحمت اور آسمان و زمین کی بیشمار نعمتوں سے نوازا اور ہو ان نعمتوں کو پاکر طغیان و فساد میں متبال نہیں ہوئے بلکہ برابر اپنے رب کے شکر گزار اور فرماں بردار رہے۔ ان کی اس شکر گزاری کا صلہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دیا کہ ان کے لئے نعمتوں میں برابر اضافہ پر اجافہ ہوتا رہا۔ دوسری مثال اہل سبا کی ہے۔ ان کو بھی ایک نہایت آباد و زرخیر ملک کی حکومت ملی لیکن وہ اس کو پاکر طغیان و فساد میں مبتلا ہوگئے بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک سیلاب بھیج کر اس طرح ان کو تباہ کردیا کہ وہ ایک داستانِ پارینہ بن کر رہ گئے۔ یہ دونوں مثالیں قریش کے مترفین و متکبرین کے سامنے پیش کی گئی ہیں کہ ان کے سامنے بھی یہ دونوں راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ وہ چاہیں تو حضرت دائود ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کی طرح خدا کے شکر گزار رہ کر اپنے آپ کو خدا کی نعمتوں کا حقدار بنا سکتے ہیں اور چاہیں تو اہل سبا کی روش اخیار کرکے اس کے قہر کو بھی دعوت دے سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اس میں یہ تذکیر بھی ہے کہ جب اس دنیا میں خدا کے قانو مجازات کے ظہور کی یہ مثالیں موجود ہیں تو آخرت میں اس کے ظہور کو کیوں مستبعد خیال کرتے ہو ! اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ولقد اتینا دائود منا فضلا۔ یجبال ادبی معد والطری والنالہ الحدید (10) حضرت دائود ؑ اور حضرت سیلمان ؑ پر اللہ تعالیٰ نے جو فضل خاص فرمایا اس کی تفصیل سورة انبیاء اور سوہ نمل میں گزر چکی ہے۔ یہاں ہم اپنی بحث صرف ضروری حد تک محدود رکھیں گے۔ ’ یجبال اوبی معہ والظیرا۔ ‘ یہ اشارہ ہے اس سوذوگداز کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ؑ کو عطا فرمایا تھا کہ جب وہ پہاڑوں کے دامن میں بیٹھ کر اپنے خاص لاہوتی لحسن میں اپنے رب کی حمد کا ترانہ چھیڑتے اور اپنی منظوم مناجاتیں پڑھتے تو شجر و حجر اور چرند پرند سب جھوم اٹھتے اور ان کی ہم نوائی کرتے۔ ’ تادیب ‘ کے اصل معنی ’ ترجیع ‘ کے ہیں کعنی کسی کے سر میں اپنا سرملانا۔ اس کی آواز کو دہرانا، اس کی ہم آہنگی اور ہم نوائی کرنا۔ یوں تو اس کائنات کی ہر چیز خدا کی ستبیح کرتی ہے اور جب وہ تسبیح کرتی ہے تو لازماً تسبیح کرنے والوں کی ہم نوائی بھی کرتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت دائود کو خاص نوع کا دل گدا ختہ اور خاص قسم کا لحن عطا فرمایا تھا اسی طرح اپنے خاص حخم سے پہاڑوں اور پرندوں کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ جس وقت حضرت دائود اپنے رب کی حمد و تسبیح کریں، وہ بھی ان کے ساتھ اس میں شریک ہوں۔ سورة انبیاء میں یہی مضمون یوں ادا ہوا ہے۔ وسرنا مع دائود الجبال والطیر (79) (اور ہم نے دائود کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا اور پرندوں کو بھی)۔ ’ والنالہ الحدید ‘۔ ان کی بزم کا حال بیان کرنے کے بعد یہ ان کی رزم کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے اس کے لوہے کو نرم کردیا۔ اس کی وضاحت سورة انبیاء میں ہوچکی ہے کہ انہوں نے لوہے کو پگھلانے اور اس سے نہایت باریک کڑیوں کی زرہیں بنانے کے فن کو اتنی ترقی دی کہ لوہے کی زرہیں ایسی ڈھییل ڈھالی بننے لگیں کہ معلوم ہوتا کہ کسی کپڑے سے بنائی گئی ہیں جن کا پہننان نہایت آسان ہوتا اور حفاظت کے پہلوے سے وہ لوہے کا کام دیتیں۔
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

کہ ڈھیلی ڈھالی زرہیں بنائو اور ان کے جوڑ پیوستہ رکھو اور سب نیک عمل کرو، بیشک تم جو کچھ کرتے ہو میں اس کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں۔

ان اعمل سبعت وقدر فی السرد واعملوا صلحا انی بما تعملمون بصیر (11) ’ سبغت ‘ ڈھیلے ڈھالے لباس کو کہتے ہیں جو پورے جسم کو ڈھانک لے۔ یہاں یہ ڈھیلی ڈھالی زر ہوں کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ قدرفی السرد میں سود کے معنی بناوٹ کے اور تقدیر کے معنی بناوٹ میں پورے تناسب کو ملحوظ رکھنے کے ہیںَ لوہے سے ایسا لباس تیار کرلینا جو ڈھیلا ڈھالا بھی ہو اور اس کی کڑیوں میں پورا تناسب بھی ملحوظ رہ سکے بغیر اس کے ممکن نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود پر لوہے کے پگھلانے کی ایسی اعلیٰ سائنس کا انکشاف فرمایا، جس کی اولیت کا سہرا انہی کے سر ہے۔ اپنی اس ایجاد سے انہوں نے دفاعی اسلحہ میں ایک نہایت پیش قیمت اضافہ کیا جس سے ان کی فوجی قوت ان کے حریفوں کے مقابل میں بہت بڑھ گئی۔ واملو صلحا انی بما تعملون بصیرا۔ اوپر کے ٹکرے میں اس فن کو زیادہ سے زیادہ ترقی دیے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے حوصلہ افزائی فرمائی گئی ہے۔ اس ٹکڑے میں اس فن کا اخلاقی تقاضا بیان ہوا ہے کہ اس کو پاکر بہک نہ جانا اور اس کو زمین میں فساد کا ذریعہ نہ بنانا، بلل کہ اس بات کو برابر یادرکھنا کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود اور ان کے تمام آل و تباع کو فرمائی۔ اس کا ذکر بابار زبور اور مثال میں بھی آیا ہے۔ اس زمانے میں انسان نے سائنس میں جو ترقی کی ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سے بڑے بڑے فائدے پہنچے ہیں اور پہنچ سکتے ہں۔ لیکن دو باتیں انسان بھول گیا ہے۔ ایک یہ کہ سائنس کا ہر انکشاف جو ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے ہوا ہے۔ دوسری یہ کہ ہر نعمت اور ہر قوت کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہا نسان اس کو خدا کی امانت سمجھے اور یہ یاد رکھتا ہوا اس کو استعمال کرے کہ جس خدا نے یہ بخشی ہے وہ دیکھ رہا ہے کہ میں اس کو کہاں استعمال کرتا ہوں۔ ان دو حقیقتوں کے فراموش کردینے کی وجہ سے اب سائنس انسان کے لئے ایک عظیم خطرہ بن گئی ہے اور نہیں کہا جاسکتا کہ انسان اپنے ہی ایجاد کیے ہوئے اسلحہ سے کب خود کشی کرلے۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو مسختر کردیا۔ اس کا جانا بھی مہینہ بھر کا ہوتا اور آنا بھی مہینی بھر کا ہوتا اور ہم نے اس کے لئے تانبے کا چشمہ بہادیا اور جنات میں سے بھی اس کے لئے مسخر کردیے جو اس کے رب کے حکم سے اس کے حضور خدمت کرتے (اور ان کے لئے ہمارا حکم یہ تھا کہ) جو ان میں سے ہمارے حکم سے سرتابی کرے گا تو ہم اس کو دوزخ کا عذاب چکھائیں گے۔

ولسلمین الریح عددھا شھر وبدا ھحا شر واسلنا لہ عین القطر، ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ ومن یزغ منھم امرنا نزقہ من عذاب السعیر (12) حضرت دائود ؑ کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوہے کے استعمال کا نہایت اعلیٰ فن تعلیم فرمایا جس سے انہوں نے اپن بری قوت میں بےمثال اضافہ فرمایا اسی طرح حضرت سلیمان ؑ کو ہوا کے کنٹرول کرنے کا فن عطا فرمایا جس سے انہوں نے اپنے بحری بیٹرے کو اس قدر ترقی دی کہ ان کے جہازات مہینوں کا سفر بےروک ٹوک جاری رکھتے۔ سورة انبیاء کی آیت 81 کے تحت ہم ذکر کر آئے ہیں کہ ان کے بادبانی جہازات نہایت دور دور کے ساحل تک سفر کرتے اور ان کے بادبان ایسے سائنٹیفک طریقہ پر بنائے گئے تھے کہ ہوا کی قلتب یا شدت یا مخالفت سے ان کے سفر میں کوئی خلل واقع نہ ہوتا۔ سورة ص میں ہے فسخرنالہ البع تجری بامرہ رخاء حیث اصاب (36) پس ہم نے ہوا کو اس کی خدمت میں لگا دیا تھا وہ نہایت سازگاری کے ساتھ اس کے حکم سے چلتی جہاں وہ پہنچتا) سورة انبیاء میں ہے۔ ولسلیم الریح عاصفۃ تجری بامرہ الی الارض التی برکنا فیھا (81) اور ہم نے سلیمان کے لئے بادِ تند کو بھی مسخر کردیا تھا جو چلتی تھی اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں)۔ آیت زیربحث میں انہی جہازوں کے طول سفر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان کی ایک ایک ٹرپ مہینہ مہینہ بھر کی طویل مدت پر ممتد ہوتی۔ ذکر اگرچہ ہوا کا ہے لیکن مقصود جہازوں ہی کا جانا اور آنا ہے۔ گویا اصل عامل کا ذکر کرکے معمول کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس لئے کہ حضرت سلیمان ؑ کا اصل تصرف ہوائوں ہی میں ظاہر ہوا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ لمبے لمبے سفر اسی صورت میں ممکن تھے جب یہ جہازات نہایت بڑے بڑے بھی ہوں اور ان کے ساتھ ہوا کے کنٹرول کرنے کا نظام اتنا اعلیٰ اور مستحکم ہو کہ وہ ہر قسم کے سمندروں کے اندر ہر نوع کی ہوائوں کا نہایت خوبی کے ساتھ مقابلہ کرسکیں۔ یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ فصیح عری میں ’ عذو ‘ اور رواح کے الفاظ صبح اور شام کی قید سے مجرد ہو کر صرف جانے اور آنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوت ہیں۔ مثلا واذ غدوت من اھلک تبوی المومنین مقاعدہ للقتال (الٰ عمران : 121) اور جب کہ تم نکلے اپنے گھر سے مسلمانوں کو جنگ کے موروں میں مامور کرنے)۔ اسی طرح لفظ ’ رواح ‘ پر صاحب اقرب اموارد نے لکھا ہے کہ ’ وقد یستعمال لبطلب المضی والذھاب ‘(یہ لفظ مطلق آنے اور جانے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے)۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ ہوا کی تسخیر سے مراد مجرد ہوا کی تسخیر نہیں بلکہ جس طرح اوپر حضرت دائود کے لئے لوہے کو نرم کرنے سے مقصود ان کی اسلحہ سازی اور جنگی قوت کی طرف اشارہ ہے، چناچہ دوسرے مقام میں اس کی وضاحت بھی فرما دی ہ۔ وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم (الانبیا : 80 (اور ہم نے اس کو ایسے لباسوں کی صنعت سکھائی جو تمہاری جنگوں میں تمہیں محفوظ رکھے)۔ اسی طرح حضرت سلیمان کے لئے ہوا کی تسخیر مقصود ان کے بحری بیڑے کی قوت و شوکت کی طرف اشارہ مقصود ہے اور ان کے بحری بیڑے کی وسعت کا جو حال تھا اس کی طرف ہم سورة انبیاء کی تفسیر میں اشارہ کرچکے ہیں۔ ’ واسلنا لہ عین القطر۔ ’ قطرُ تانبے کو کہتے ہیں۔ تانبے کو تمدنی ترقی میں جو دخل حاصل ہے وہ محتارج بیان نہیں ہے۔ اس عہد کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے زمانے میں تانبے کی بھی بہت بڑی مقدار برآمد ہوئی اور اس کو انہوں نے اپنی تمدنی و تعمیر ترقیوں میں نہایت خوبی کے ساتھ استعمال کیا۔ آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تانبا سیال شکل میں برآمد ہوتا اور پھر منجمد ہو کر مختلف ضرورتوں میں استعمال ہوتا۔ آگے بڑی بڑی دیگوں اور لگنوں کا ذکر آرہا ہے، ظاہر ہے کہ وہ اسی کی بنتی تھیں۔ ہیکل کی تعمیر میں بھی، جیسا کہ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت سلیمان ؑ نے اس دھات کا بہت استعمال کیا۔ آج عربوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے تیل کے چشمے جاری کردیے ہیں، حضرت سلیمان ؑ کے لئے اس نے تانبے کا چشمہ جاری کردیا تھا۔ زمین کے جتنے خزانے بھی ماضی میں دریافت ہوئے یا آج دریافت ہو رہے ہیں یا مستقبل میں دریافت ہوں گے وہ سب اللہ ہی کی بکشی ہوئی رہنمائی سے دریافت ہوے اور ہوں گے جن کی نگاہیں حقیقت میں ہیں وہ جانتے تہیں کہ ہر چیز کا منبع اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن جن کی نفا ہوں کو سائنس نے خیرہ کر رکھا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کی اپنی کارستانی ہے۔ ’ ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ۔ سورة نمل کی تفسیر میں ذکر ہوچکا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا علم بھی عطا فرمایا تھا جس کے ذریعے سے وہ شریر جنوں کو قابو میں کرکے ان کو اپنے مختلف کاموں میں استعمال کرتے تھے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جن براہ راست حضرت سلیمان علیہ السلا کے تصرف میں نہیں ہوتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ ان کی اطاعت کرتے تھے۔ اور اگر ان سے کوئی عدول حکمی صادر ہوتی تو اللہ تعالیٰ ہی ان کو سزا دیتا تھا۔ ومن یزغ منھم عن امرنانذتہ من عذاب السعیر (ان میں سے جو ہمارے حکم کی سرتابی کرے گا تو ہم اس کو آگ کا عذاب چکھائیں گے) بعض لوگوں نے جنوں سے دیوہیکل اور طاقتور آدمی مراد لیے ہیں لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ سورة نمل میں صاف تصریح ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلا کا لشکر جنوں، انسانوں اور پرندوں سب پر مشتمل تھا۔ ’ وحشر لسلیمان جنودہ من الجن والانس والطیر (17) (اور سلیمان کے ملاحطہ کے لئے اس کا لشکر، جنوں، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل …اکٹھا کیا گیا) اگر جن سے مراد انسان ہی ہوتے تو یہاں جنو کے الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

وہ اس کے لئے بناتے جو وہ چاہتا، محرابیں، مجسمے، حوضوں کے مانند لگن، اور لنگرانداز دیگیں۔ اے آلِ دائود، شکر گزار کے ساتھ عمل کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار تھوڑے ہی ہیں۔

یعوامون لہ ما یشاء من محریب وتماثیل وجفان کالجواب وقدور میت اعملوا الہ دائوم شکراط وقلیل من عبادی الشکور (13) یہ ان کاموں کی تفصیل ہے جن میں حضرت سلیمان ان مسکر جنوں کو استعمال کرتے تھے۔ یہ سارے کام تعمیری تمدنی اور اصلاحی ہیں۔ یہود اپنے دور زوال میں جب علوم سفیلہ میں مبتلا ہوئے تو ان خرافات کو انہوں نے حضرت سلیمان ؑ کی طرف منسوب کیا۔ یہاں قرآن نے واضح فرمایا ہے کہ حضرت سلیمان نے جنات کو جس علم سے مسخر کیا وہ اللہ تعالٰ نے خاص پانے فضل سے ان کو بخشا تھا، اس کو سفلی علوم سے کوئی تعلق نہیں تھا اور جنات سے جو کام انہوں نے لئے وہ سب تعمیری اور تمدنی کام تھے۔ ان کو انہوں نے فاسد اغراض کے لئے استعمال نہیں کیا۔ اس مضمون کی تفصیل سورة بقرہ میں آیت وما کفر سلیمان۔ الایۃ کے تحت گزر چکی ہے۔ ’ من محاریب و تماثیل ‘ یعنی ان جنوں سے حضرت سلیمان ؑ محرابیں اور مجسمے بھی بنواتے تھے۔ ’ محراب ‘ میرے نزدیک اپنے معروف معنی ہی میں یہاں استعمال ہوا ہے اس کے خاص طور پر ذکر کی وجہ یہ ہے کہ کسی عمارت کا سب سے زیادہ نمایاں حصہ اس کی محرابیں ہی ہوتی ہیں جو دیکھنے والوں کو سب سے پہلے نظر آتی ہیں۔ اس وجہ سے تعمیری آرٹ کا سب سے زیادہ مظاہرہ انہی پر ہوتا ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی تعمیر کرائی ہوئی عمارتوں میں سے ہیکل اور ان کے محل کی تعمیر کی تفصیل کتاب سلاطین میں موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی محرابوں پر تعمیری آرٹ کا پورا کمال صرف کیا گیا تھا۔ ان پر نہایت خوبصورت پھولوں کے نقش ابھارے گئے تھے۔ ’ من محاریب و تماثیل ‘ یعنی ان جنوں سے حضرت سلیما ؑ محرابیں اور مجسمے بھی بنواتے تھے۔ ’ محراب ‘ میرے نزدیک اپنے معروف معنی ہی میں یہاں استعمال ہوا ہے اس کے خاص طور پر ذکر کی وجہ یہ ہے کہ کسی عمارت کا سب سے زیادہ نمایاں حصہ اس کی محرابیں ہی ہوتی ہیں جو دیکھنے والوں کو سب سے پہلے نظر آتی ہیں۔ اس وجہ سے تعمیر آرٹ کا سب سے زیادہ مظاہرہ انہی پر ہوتا ہے۔ حضرت سلیمان کی تعمیر کرائی ہوئی عمارتوں میں سے ہیکل اور ان کے محل کی تعمیر کی تفصیل کتاب سلاطین میں موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی محرابوں پر تعمیری آرٹ کا پورا کمال صرف کیا گیا تھا۔ ان پر نہایت خوبصورت پھولوں کے نقش ابھارے گئے تھے۔ ’ تاثیلہ، تمثال کی جمع ہے۔ ’ تمثال ‘ کسی چیز کو مصور یا کندہ کی ہوئی صورت، شبیہ یا اسکے پیکر اور مجمسہ کو کہتے ہیں۔ یہ صورت بےجان چیزوں کو بھی ہوسکتی ہے، مثلا کسی دریا، پہاڑ، درخت، جھاڑی پھول وغیرہ کی اور حقیقی یا فرض جاندار چیزوں کی بھی ہوسکتی ہے۔ مثلا انسان، فرشتے، جنت اور حیوانات وغیرہ کی۔ تورات کی کتاب سلاطین سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے ان دونوں ہی قسموں کی تماثیل بنوائیں۔ مثلاً ان کے محل کے ذکر کے سلسلہ میں۔ ”اور ان حاشیوں پر جو پڑوں کے درمیان تھے شیر اور بیل اور کروبی بنے تھے۔ سلاطین 1 : ب۔ 29 اسی طرح ہیکل کی تعمیر کے بیان میں ہے۔ ”اور الہام گاہ میں اس نے زیتون کی لکڑی کے دو کروبی دس دس ہاتھ اونچے بنائے اور کروبی کا ایک بازو پانچ ہاتھ کا اور دوسرا باز و بھی پانچ ہی ہاتھ کا تھا۔“ ’ اور اس گھر کے اندر دیودار تھا جس پر لٹو اور کھلے ہوئے پھول کندہ کیے گئے تھے۔“ سلاطین : باب 6۔ 8۔ ”اس گھر کی سب دیواروں پر گردا گر، اندر اور باہر کروبیوں اور کھجور کے درختوں اور کھلے ہوئے پھولوں کی صورتیں کندہ رکھیں۔“ سلاطین ب 6۔ 30 جہاں تک بےجان چیزوں کی صورتوں اور مورتوں کا تعلق ہے ان کے جواز میں تو کوئی اختلاف رائے نہیں ہے، لیکن جاندار چیزوں، بالخصوص فرشتوں کی مورتوں کا معاملہ سمجھ میں نہیں آتا کہ حضرت سلیمان ؑ نے اس کو کس طرح جائز سمجھا۔ اگر اس کا جواب یہ دیا جائے، جیسا کہ عام طور پر ہمارے مفسرین نے دیا ہے، کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں یہ چیزیں حرام نہیں تھیں تو یہ جواب تورات سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ تورات میں ان چیزوں کی حرمت نہایت واضح الفاظ میں وارد ہوئی ہے۔ خروج 20 : 2۔ 5 میں ہے :۔ ”خداوند تیر خدا جو تجھے زمینمصر سے، غلامی کے گھر سے، نکال لایا، میں ہوں۔ میرے حضور تیرے لئے دوسرا خدا نہ ہو وے۔ تو اپنے لئے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت، جو اوپر آسمان پر یا نیچیزمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے سے، مت بنا۔ تو ان کے آگے اپنے تئیں مت جھکا اور نہ ان کی عبادت کر کیونکہ میں تیرا خدا غیور خدا ہوں۔“ دیکھ لیجئے اس میں نہایت واضح الفاط میں صورت یا مورت بنانے کی ممانعت ہے۔ اس وجہ سے یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ پچھلی شریعتوں میں یہ چیزیں جائز تھیں، صرف اسلام میں یہ حرام قرار دی گئی ہیں۔ یہ چیزیں پہلے بھی ناجائز تھین اور حضرت سلیمان ؑ کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے تورات کے کسی حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس وجہ سے ہمارا خیال یہ ہے کہ انہوں نے اسی قسم کی تماثیل بنوائی ہوں گی جن کا تعلق مجرد آرٹ سے ہے اور مذہبی تقدس کا جن کے اندر کوئی شائبہ نہیں تھا۔ لیکن جب یہود میں مورت پرستی کا رواج ہوا ہوگا تو اس قسم کی چیزیں ان کے بادشاہوں نے بنوائی ہوں گی اور ان کو سند جواز دینے کے لئے ان کو حضرت سلیمان ؑ کی طرف منسوب کردیا گیا ہوگا۔ آخرت تمام علوم سفلیہ بھی تو حضرت سلیمان ؑ ہی کی طرف یہود نے منسوب کیے جس کی تردید سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ اسی طرح کی خرافات ان کی طرف کتاب سلاطین میں بھی منسوب کردی گئی ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ یہود نے حضرت سلیمان ؑ کو ایک پیغمبر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بالکل دنیا دار بادشاہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور ان کی سیرت ہر پہلو سے انہوں نے داغدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’ وجفان کالجراب وقد ورد سیت ‘۔ جفان ‘ جفنۃ ‘ کی جمع ہے جس کے معنی تھال اور لگن کے ہیں اور جوابی مابیۃ کی جس کے معنی حوض کے ہیں۔ ’ راسیات ‘ پہاڑ کی صفت کے لئے آتا ہے۔ یہاں یہ ان بڑی بڑی دیگوں کے لئے آیا ہے جو اتنی بھاری بھر کم ہوتیں کہ آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کی جاسکتی تھیں۔ وہ ایک ہی جگہ چولہوں پر نصب رہیں اور بیک وقت منوں کے حساب سے ان میں کھانا پکتا۔ اوپر کے ٹکڑے میں سلیمانی تمدن کے آرٹ کے پہلو کو نمایان کیا گیا تھا۔ اس ٹکڑے میں ان کے جودوکرم کو نمایاں کیا گیا ہے کہ جنات حضرت سلیمان ؑ کے لئے بڑے بڑے لگن بناتے جو حوضوں کے مانند ہوتے اور بھاری بھر کم دیگیں بناتے جو ایک ہی جگہ لنگرانداز رہتی تھیں۔ یہ حوضوں کے مانند لگن اور بھاری بھر کم دیگوں کا ذکر حضرت سلیمان ؑ کے جودوکرم کی تعبیر کے لئے ہے۔ اگر آپ کی یہ کہنا ہو کہ فلاں شخص بڑا فیاض ہے، اس کے خوان کرم سے ایک خلق عظیم کی پرورش ہو رہی ہے، تو فصیح عربی میں اس کی تعبیر کے لئے یہ دو حرف کافی ہوں گے کہ ’ لہ قدور دسیت ‘۔ عرب شعرائے حاتم اور اپنے دوسرے فیاضوں کے لئے یہی استعارہ استعمال کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان کے ہاتھوں جو تمدن وجود میں آیا اس میں صرف سائنس، آرٹ اور شوکت کی نمائش ہی نہیں تھی بلکہ اس کے پہلو بہ پہلو اس میں غربا پروری کا نہایت وسیع اور فیاضانہ اہتمام بھی تھا۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس تمدن کی تحسین فرمائی۔ جس تمدن میں یہ دونوں پہلو، پورے توازن کے ساتھ، موجود ہوں وہ مبارک تمدن ہے۔ اس کے برعکس جس تمدن میں آرٹ اور طمطراق کی نمائش تو ہو لیکن غرباء فاقے کریں اور تمدنی شیطانی ہے۔ اعملوا ال دائود شکرا۔ یہ اس فضل وانعام کا حق بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ پر فرمایا۔ ان کو ہدایت ہوئی کہ اس عل و سائنس اور ان ارضی و سماوی برکات کو پا کر بہک نہ جانا بلکہ اپنے رب کی شکرگزاری کے ساتھ ہر چیز اس کے صحیح محل میں برتنا اور ہر قدم صحیح سمت میں اٹھانا۔ یہ نصیحت یوں تو اللہ تعالیٰ کر ہر نعمت زبان حال سے بھی کرتی ہے لیکن حضرت سلیمان ؑ پیغمبر تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے بھی ان کو اس کی ہدایت فرمائی۔ اس کا ذکر زبور اور امثال دونوں میں بار بار آتا ہے۔ یہاں ’ ال دائود ‘ سے خطاب کے اندر حضرت سلیمان ؑ ، انکے آل و اولاد اور ان کے تمام اتباع کے لئے یہ یاد دہانی ہے کہ خدا کی شکرگزاری میں اپنے باپ کے نقش قدم کی پیروی کرنا اس لئے کہ یہ تمام عظمت و حشمت تم نے انہی سے وراثت میں پائی ہے اور ان کو اللہ نے ی سب کچھ ان کی شکر گزاری کے صلہ میں عطا فرمایا تھا۔ ’ وقلیل من عبادی الشکور۔ یہ ایک مزید تنبیہ اور نہایت اہم تبیہ ہے کہ شکر کی راہ کوئی آسان راہ نہیں ہے بلکہ نہایت کٹھن راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بخشتا بہتوں کو ہے لیکن ان کو پا کر ان کا حق ادا کرنے والے بہت تھوڑے نکلتے ہیں۔ زیادہ ایسے ہی نکلتے ہیں جو خدا کے باغی و نافرمان بن جاتے ہیں۔ اس سے حکمت دین کا یہ نکتہ واض ہوا کہ صبر اور شکر میں سے زیادہ مشکل امتحان شکر کا امتحان ہے۔ حضرت مسیح کے ارشادات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ انہوں نے اسی حقیقت کو یوں واضح فرمایا کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا آسان ہے پر دولت مند خدا کی بادشاہی میں نہیں داخل ہوسکتا۔ ‘
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پس جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ نافذ کیا تو ان کو اس کی موت سے نہیں آگاہ کیا مگر زمین کے کیڑے نے جو اس کے عصا کو کھاتا پس جب وہ گرپڑا تب جنوں پر واضح ہوا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑتے رہتے۔

فلما قضینا علیہ الموت مادلھم علی موتہ الا دابۃ الارض تاکل منساتہ فلما خرتیینت الجن ان لو کانو یعلمون الغیب با لبعثوا فی العذاب المھین (14) اوپر کی آیات سے ان لوگوں کی پوری پوری تردید ہوگئی جو اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ حضرت سلیمان ؑ کی ساری کارفرمائیاں نعوذ باللہ جنات کی رہیں احسان تھیں۔ اب آخر میں یہ اشارہ بھی فرمایا دیا کہ جنات کے پاس غیب کے جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ وہ اس سے اسی طرح بیخبر ہیں جس طرح دوسری مخلوقات بیخبر ہیں۔ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے حضرت سلیمان ؑ کی وفات کے واقعہ کا حوالہ دیا ہے کہ جس وقت حضرت سلیمان ؑ کی وفات ہوئی وہ انے مسخر جنوں کے کام کی نگرانی کر رہے تھے لیکن جناتکو ان کی موت کی خبر نہیں ہوئی۔ وہ بدستور اپنی بیگار میں جتے رہے۔ بالآخر ایک طویل وقفہ کے بعد ان کو پتہ چل سکا کہ حضرت سلیمان ؑ کی وفات ہوچکی ہے، تب وہ ان کی غلامی سے رہائی حاصل کرسکے۔ واقعہ کی صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ اپنے اہم کاموں کی نگرانی، خصوصاً جو جنات کے ہاتھوں انجام پاتے، نبضِ نفیس فرماتے۔ چناچہ وہ اپنی عصا کی ٹیک لگائے ہوئے کسی تعمیر کام کی نگرانی کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں ان کی موت کا وقت آگیا اور فرشتہ اجل نے ان کی روح قبض کرلی لیکن وہ جس طرح عصا کے سہارے کھڑتے تھے اسی طرح بدستور قائم رہے اور جنات اس ڈر سے اپنے کام میں لگے رہے کہ حضرت سلیمان ؑ موجود ہیں۔ بالآخر ان پر ایک عرصہ گزر گیا اور اس اثنا میں دیمک نے عصا کو نیچے سے کھالیا، جس کے بعد ان کا جسدِ مبارک زمین پر گرا۔ تب جنات کو یہ احساس ہوا کہ اگر ان کو غیب کا علم ہوتا تو وہ اتنی دیر تک اس بیگار کی ذلت میں میں گرفتارنہ رہتے۔ ’ دابۃ الارض ‘ کا ذکریہاں جن قرائن کے ساتھ ہوا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراددیمک ہے، منساۃ عصا کو کہتے ہیں۔ یہ تصریح تو یہاں نہیں ہے کہ حضرت سلیمان اس حالت میں کتنی دیر کھڑے رہے لیکن نہ اس طرح جسم کا قائم رہنا ذرا مستعبد ہے اور نہ دیمک کا اس طرح عضا کو کھا جانا ذرا مستبعد ہے۔ دیمک بڑی ظالم چیز ہے۔ اگر یہ کسی چیز کو لگ جائے تو بہت جلد اس کو ختم کرکے رکھ دیتی ہے، عصا تو ایک معمولی چیز ہے، بالخصوص ایسی جگہوں میں جہاں یہ زیادہ ہو۔ پھر یہاں تو معاملے کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ تھی کہ حضرت سلیمان ؑ کی موت اس طرح واقع ہو کہ لوگوں پر یہ واضح ہوجائے یہ حضرت سلیمان ؑ جو ہو اور جنات پر تصرف رکھتے تے، وہ بھی اپنے تئیں مرگِ ناگہانی سے نہ بچا سکے اور جنات کے دماغ سے بھی یہ خبط نکل جائے کہ وہ غیب جانتے یا جان سکتے ہیں۔ ان حقائق کو واضح کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی موت کی یہ شکل دی اور اللہ تعالیٰ جس کام کو کرنا چاہیے وہ اس کو جس طرح چاہے کرسکتا ہے۔ ’ تبینت الجن الایۃ ‘ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اشرار جن، غیب کی ٹوہ میں ہمیشہ رہے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ آسمانوں میں بھی، جیسا کہ سورة جن اور قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہے۔ استراقِ سمع کے لئے بیٹھتے رہے ہیں۔ اور اپنے دام فریب میں آئے ہوئے انسانوں پر انہوں نے یہ دھونس بھی جما رکھی تھی کہ ان کے پاس غیب کے اسرار سے واقف ہونے کے ذرائع موجود ہیں۔ لیکن اس واقعہ نے ان کی آنکھیں کھول دیں اور ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ آسمان تو بہت دور رہے، انہیں تو اپنے سر پر کے اتنے بڑے واقعہ کی بھی خبر نہ ہوسکی جس کے باعث انہیں غلامی کے رسوا کن عذاب میں کچھ عرسہ مزید گرفتار رہنا پڑا۔ اس ٹکڑے سے یہ بات بھی معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان ؑ نے اپنی بیگار میں صرف شریر جنوں کو لگایا تھا اور ان کے علم تسخیر کا تعلق صرف انہی سے تھا۔
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

اور اہل ِ سبا کے لئے بھی ان کے مسکن میں بہت بڑی نشانی موجود تھی۔ دہنے بائیں دونوں جانب باغوں کی دو قطاریں۔ اپنے رب کے بخشے ہوئے رزق سے متمتع ہو اور اس کے شکر گزار رہو ! زمین شاداب و زرخیز اور پروردگار بخشنے والا ہے ! !

لقد کان لسبا فی مکسنھم ایۃ جنتان من یمین و شمال کلو امن رزق ربکم واکشرو لہ بلدۃ طیبۃ و رب غفور (15) ’ سبا ‘ کا ذکر سورة نمل کی آیت 22 کے تحت گزر چکا ہے۔ جو علاقہ اب یمن کہلاتا ہے وہی پہلے سبا کا علاقہ تھا۔ یہ نہایت زرخیز و شاداب خطہ تھا۔ اس کی اصل شاہراہ کے دونوں جانب نہایت شاداب باغوں کا سلسلہ تھا جو پورے علاقہ پر پھیلا ہوتا تھا لیکن اس کے باشندوں نے اللہ تالیٰ کے اس فضل کی قدر نہیں کی، جس کی پاداش میں اللہ نے ان پر ایک سیلاب بھیجا جس سے پورا ملک تباہ ہو کر رہ گیا۔ اوپر حضرت دائو و حضرت سلیمان علیما السلام کا کردار شکرگزار بندوں کے کردار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ اب یہ ناشکروں کا کردار اور ان کا انجام پیش کیا جا رہا ہے۔ سورة نحل کی آیت 112۔ 113 میں بھی ان کی مثال سے قریش کو عبرت دلائی گئی ہے۔ لقد کان لسبا فی نکنھم ایۃ۔ ’ سبا ‘ سے مراد یہاں اہل ِسبا ہیں۔ اور ’ مکن ‘ یہاں خطہ اور علاقہ کے مفہوم میں ہے۔ لفظ ایتہ کی تنکیر تفخیم شان کے لئے ہے۔ ملطب یہ ہے کہ اہل سبا کے لئے ان کے علاقے میں خدا کی رحمت و ربوبیت اور اس کے فضل و انعام کی بہت بڑی نشانی موجود تھی لیکن انہوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ اس سے ان کو جو سبق حاصل کرنا تھا وہ سبق انہوں نے حاصل نہیں کیا۔ ’ جنتن عن یمین و شمال ‘ یہ اس نشانی کی وضاحت ہے کہ ان کے دونوں جانب، داہنے اور بائیں باغوں کو دو قطاریں تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقہ کے وسط سے ان کی مرکزی شاہراہ گزرتی تھی اور اس شاہراہ کے دونوں جانب باغوں کی قطاریں تھیں۔ ‘ جنتان ‘ یہاں دو باغوں کے مفہوم میں نہیں بلکہ باغوں کی دو قطاروں کے مفہوم میں ہے۔ مثنیٰ کے اس طریق استعمال کی مثالیں عربی میں موجود ہیں اور یہاں اس کا قرینہ واضح ہے۔ ’ کلو من رزق ربکم واشکرو لہ َ۔ خدا کی اس عظیم نشانی سے جو درس حاصل ہوتا ہے اور جو اہل ِ سبا کو حاصل کرتا تھا۔ یہ اس کا بیان ہے کہ یہ عظیم رحمت ور فاہیت اپنی زبان حال سے ان کو درس دے رہی ہے کہ اپنے رب کے اس عظیم خوان کرم سے بہرومندہوں اور اس کے شکرگزار رہیں۔ ’ بلدۃ طیبۃ ورب غفور طیبہ ‘ یہاں زرخیر شاداب کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ یہ اسی درس کی مزید توسیع ہے کہ اگر وہ کھلی آنکھوں سے اپنے ملک کو دیکھتے تو اس وسیع خوان کرم کو، جس پر اس فیاضی کے ساتھ ان کے لئے نعمتیں چنی گئی تھیں، دیکھ کر ان پر یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی کہ جس نے کہ خوان کرم بچھایا ہے وہ بڑا ہی غفار و ستار آقا ہے جس نے بلاکسی استحقاق کے، ان کی ناقدریوں اور نا شکریوں کے باوجود، ان کے لئے اپنی نعمتوں کے یہ انبار لگا دیے ہیں۔ یہ حقیقت اس کتاب میں ہم جگہ جگہ واضح کرتے آرہے ہیں کہ نعمت پاکر منعم کی شکر گزاری کا شعور انسانی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے۔ یہ چیز حیوانات کی جبلت میں بھی داخل ہے۔ اگر کوئی انسان اس شعور سے عاری ہے تو وہ حیوانات سے بھی بدتر ہے۔
Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

تو انہوں نے سرتابی کی تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیج دیا اور ان کے باغوں کو دو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں بدمزہ پھل والے درخت اور جھائو اور ہری کی کچھ جھاڑیاں رہ گئیں

فاعرضوا فارسلنا علیھم سیل العرم وبدلتھم بجتیھم جنتین ذواتی اکل خمط و امثل وشئی من سدر قلیل (16) ’ عرم ‘ کے معنی بعض اہل لغت نے زور داربارش کے لکھے ہیں اور بعض نے اس کو عرمۃ کی جمع بتایا ہے، جو تہ بہ تہ اکٹھا کیے ہوئے پتھروں کے لئے آتا ہے۔ پھر یہیں سے یہ اس سد یا بند کے لئے بھی استعمال ہونے لگا جو کسی وادی کے درمیان پانی کو روکنے کے لئے بنایا جائے۔ اقرب الموراد میں ہے مسدیعترض بعہ والوادی (وہ بند جو وادی کے بیچ میں بنایا جائے) جس طرح ہمارے منگلا اور تربیلا ڈیم ہیں۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح کا ایک کئی میل لمبا چوڑا ڈیم اہل سبا کا بھی تھا جو ان کو سیلاب کے خطرات سے محفوط بھی کئے ہوئے تھا اور آب پاشی کے لئے بھی بقدر ِ ضرورت اس سے ان کو پانی حاصل ہوتا تھا۔ تاریخوں میں اس کا زکر سدِ مآرب کے نام سے آتا ہے۔ ’ مآرب ‘ سبا کا دارالسطلنت تھا۔ یہ بند غالباً 542 ئح میں ٹوٹا اور اس کے ٹوٹنے سے سارا ملک تباہ ہوگیا۔ ’ فاعرضوا فارسلنا علیھم سیل العرم ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ نعمتیں دیں تو ان کو پاکر وہ خدا کے شکر گزار ہونے کے بجائے طغیان و فساد میں مبتلا ہوئے۔ سورة نحل کی آیت 113 سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو انداز کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک رسول بھیجا لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی بالآخر ان پر خدا کا عذاب اس شکل میں آیا کہ ایک عظیم سیلاب نے ان کے بند توڑ دیا جس سے ان کا سارا ملک تاراج ہو کر رہ گیا۔ ’ وبد لنھم الایۃ۔ ’ خمط ‘ بدمزہ کڑوے کیلے پھلوں کو کہتے ہیں۔ یعنی اس سیلاب نے ان کے ملک کو اس طرح تلپٹ کرکے رکھ دیا کہ شاداب باغوں کی جگہ کڑوے کیلے پھلوں کے کچھ درخت اور کچھ جھائو اور بیری کی جھاڑیاں رہگئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیلاب نے صرف ان کے باغ ہی ویران نہیں کئے بلکہ ان کے پورے علاقے پر کسی ایسی مٹی یا ریت کی تہ جمادی جس نے بچے کھچے درختوں کے مزاج بھی بدل دیے اور پورا علاقہ صرف جنگلی جھاڑیوں ہی کے لئے موزوں رہ گیا۔
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ ہم نے ان کی ناشکری کا بدلہ اور ہم برا بدلہ ناسپاسوں ہی کو دیا کرتے ہیں !

ذلک جزینھم بما کفروا وھل نجزی الا الکفور (17) ’ مجازات ‘ کے معنی بدلہ دینے کے ہیں۔ بدالہ برابر بھی ہوتا ہے اور اچھا بھی۔ اس وجہ سے اس کے صحیح مفہوم کا تعین موقع ومحل سے ہوتا ہے۔ یہاں موقع برے بدلہ کا ہے اس وجہ سے یہاں یہ لفظ اسی معنی میں لیاجائے گا۔ فرمایا کہ ہم نے ان کو یہ سزا ان کے کفران نعمت کی پاداش میں دی اور اس قسم کی سزائیں ہم ناشکروں کے سوا کسی اور کو نہیں دئیے۔