Ayahs 34:18–19وجعلنا بیھم وبین القری التی برکتا فیھا قری ظھرۃ وقدرنا فیھا البر سیروا فیھا لیالی وایا ما امنین
’ القری التی برکنا فیھا ‘ سے ملک شام وغیرہ کی طرف اشارہ ہے جن کے ساتھ اہل سبا کے تجارتی تعلقات تھے۔ یہ ملک بہت زرخیز تھے اس وجہ سے اس کی صفت ’ برکنا فیھا ‘ آئی ہے۔ زرخیز مال سے تجارتی تعلقات بجائے خود آمدنی اور رفاہیت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
قری ظھرۃ سے مراد وہ شہر اور قصبات ہیں جو اس شاہرہ پر واقع تھے جس کے دونوں جانب باغوں کی قطاریں تھیں۔ یعنی ان بستیوں کے علاوہ جو اندروںِ ملک واقع تھیں موزوں فاصلوں سے اس شاہراہ پر بھی بستیاں آباد تھیں جو ان کے لئے منزلوں کا کام دیتی تھیں۔ وہ ان میں بےخوف و خطرٹھہرتے، آرام کرتے اور پھر آگے کی منزل کے لئے سفر کرتے۔
’ وقد رنا فیھا السیر ‘ یعنی یہ بستیاں ایسے مناسب فاصلوں پر واقع تھیں کہ گویا قدرت نے خود اپنے اہتمام سے ان کے لئے منزلیں مقرر کردی تھیں۔
’ سیروا فیھا لیا لی وایاما امنین ‘۔ یہ ان آسائشوں کی زبان حال کی تعبیر ہے کہ قدرت نے یہ سارا اہتمام کرکے گویا ان کے لئے ہر منزل پر یہ کتبہ لگا یا کہ تمہاری خاطر یہ اہتمام ہم نے اس لئے کیا ہے کہ تم راتوں میں بھی اور دنوں میں بھی بےخوف و خطر سفر کرسکو۔ یہاں اتنی بات حذف ہے کہہ اور اپنے اس رب کے شکرگزار رہو جس نے تمہارے لئے یہ سرا اہتمام کیا ہے۔ اس کو حذف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہر انعام کا یہ فطری تقاضا ہے اور اوپر آیت 15 میں اس کا بیان ہوچکا ہے۔ اس وجہ سے اس کو دہرانے کے بجائے بعد والی آیت میں ان کے اس رویہ کی طرف اشارہ فرما دیا جو انہوں نے اختیار کیا اور جس کے نتیجہ میں وہ ان تمام نعمتوں سے محروم ہوئے۔
یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام آسائشوں اور رفاہیتوں کے اہتمام کو براہ راست اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ یہ حقیقت نفس الامری کا بیان ہے کہ اس دنیا میں انسان کو جو فتوحات بھی حاصل ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضلہی سے حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن انسان اپنی ناشکری کے باعث ہر چیز کو اپنی سعی و تدبیر کا کرشمہ سمجھنے لگتا ہے۔ اس زمانے کی عام گمراہی کا اصلی سبب انسان کو یہی بےبصیرتی ہے اور سائنس کی ایجادات نے اس غرور میں اتنا اضافہ کردیا ہے کہ اب اللہ ہی اس کو دور کرسکتا ہے۔
فقالو ربنا بعد بین اسفارنا وظلموا انفسھم فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (19)
یہ ان کے زبان قال کی نہیں بلکہ زبان حال کی تعبیر ہے کہ انہوں نے یہ رفاہتیں پاکر رویہ جو اختیار کیا اس سے یہ ظاہر کردیا کہ وہ ان آسائشوں کے حقدار نہیں ہیں بلکہ اس بات کے سزاوار ہیں کہ ان کی بستیاں ویران ہوجائیں، ان کی منزلیں کٹھن ہوجائیں اور ان کی یہ ساری رفاہتیں ان سے چھین لی جائیں۔ زبانِ حال کی تعبیرات کی مثالوں کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی نظیریں پیچھے گزر چکی ہیں اور یہ حقیقت بھی ہم واضح کرچکے ہیں کہ اصل شہادت زبان حال ہی کی ہوتی ہے نہ کہ زبان قول کی۔ یہود کا قول ’ سمعنا وعصینا ‘ بھی ان کے حال ہی کی تعبیر ہے۔
’ وظلموا انفسھم ‘ یعنی انہوں نے خدا کی ناشکری و نافرمانی کی اور اس طرح خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھائے کہ خدا کے قہر و غضب کو دعوت دی۔ خدا کا انہوں نے کھچ نہیں بگاڑا۔
فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق ‘۔ یہ ان کی ناشکری کا انجام بیان ہوا ہے کہ بالآخر وہ اس طرح پامال ہوئے کہ حاضر کے صفحہ سے مٹ کر صرف ماضی کی ایک داستانِ پارینہ بن کے رہ گئے۔ ومزقنھم کل ممزق، یقنی جو سیلاب کی آفت سے بچے بھی وہ بھی ملک کی معیشت برباد ہوجانے کے باعچ بالکل پراگندہ ہوگئے۔ کوئی کہیں گیا، کوئی کہیں۔
ان فی ذلک لایت یکل مسار شکور۔ اور آیت 17 میں جس طرح اس سرگزشت کے اصل سبق کی طرف وھل نجزی الا الکفور سے توجہ دلائی ہے اسی طرح یہاں اسی حقیقت کی طرف لایت لکل سبار شکور۔ کے الفاظ سے توجہ دلائی ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اہل سبا کی سرگزشت یہاں دو مرتبہ (ہرائی گئی ہے اور دنوں مرتبہ کے عبرت انگیز انجام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ پہلے ان کے علاقے کی زرخیز و شادابی کے ذکر کے بعد ان کی ناشکری اور اس کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا پھر ان کی تمدنی و تجارتی ترقیوں کے ذکر کے بعد ان کے کفرانِ نعمت کے نتیجہ میں ان کے انتشار کی طرف۔ یہ اسلوب بیان اس بےاختیار فرمایا گیا ہے کہ اصل مقصود جس کے لئے یہ سرگزشت سنائی جا رہی ہے، نگاہوں سے اوجل نہ ہونے پائے۔ قرآن میں اس سلوب بیان کی متعدد نہایت بلیغ مثالیں موجود ہیں۔
’ صبر ‘ اور ’ شکر ‘ دونوں اقوام ہیں۔ یہ دونوں بیک وقت مطلوب ہیں۔ جس کے اندر صبر نہ ہو وہ شکر کا حق ادا نہیں کرسکتا اور جس کے اندر شکرنہ ہو وہ صبر نہیں کرسکتا اور اس دنیا کے دار الامتحان میں ہر قدم پر بندے کا امتحان ان دونوں ہی چیزوں میں ہوتا رہتا ہے اور اسی امتحان پر اس کی اخروی کا میابی و ناکامی کا انحصار ہے۔ فرمایا کہ اس سرگزشت میں صبرو شکر کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ مثلاً
٭اس دنیا میں جو نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کو پا کر غرور میں مبتلا ہونے کے بجائے انسان کو اپنے رب کا شکر گزار اور اس کا فرمانبردار رہنا چاہیے۔
٭ جو نعمتیں بھی ملتی ہیں وہ کسی استحقاق کی بنا پر نہیں بلکہ امتحان کے طور ملتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو دے کر دیکھتا ہے کہ اس کے بندے اس کے شکر گزار رہتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔
٭اس امتحان میں جو قومیں ناکام ہوجاتی ہیں وہ قومی حیثیت سے اس دنیا میں اس کا انجام دیکھ لیتی ہیں۔ آخرت میں ہر شخص کے سامنے انفرادی حیثیت سے اس کا انجام آئے گا۔
Ayah 34:20ولقدصدق علیھم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الافریقا من المومنین (20)
یہ ابلیس کے اس گمان کی طرف اشارہ ہے جس کا اظہار اس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اس وقت کیا تھا جب آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا اس کو حکم دیا گیا اور اس نے اس کی تعمیل سے انکار کیا۔ اس وقت اس نے یہ کہا تھا کہ میں اولادِ آدمی پر اس طرح گھیرے ڈالوں گا کہ ان کی اکثریت تیری جگہ میری پیروی کرے گی قلن تجد اکثرھم شکرین (الاعراف : 17) اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہیں پائے گا)۔ یہاں اس کا حوالہ دینے سے مقصود اس کے انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ جب انہوں نے اپنے بارے میں ابلیس کے گمان کی سچا ثابت کردیا تو لازماً ان کے سامنے اس کا انجام بھی آیا اور آئے گا۔ یعنی اس دنیا میں یہ سیلاب کے عذاب سے دو چار ہوئے اور آخرت میں یہ جہنم کے عذاب میں جھونک دیے جائیں گے۔ قرآن میں جہاں ابلیس کی مذکورہ بالا دھمکی کا ذکر ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ جواب بھی مذکور ہے کہ جو تیری پیروی کریں گے، خواہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، میں ان سب کو جہنم میں بھرودوں گا۔ ‘
’ الافریقا من المومنین ‘ پیچھے سورة نحل کی آیت 113 کے حوالہ سے ہم ذکر کر آئے ہیں کہ اہل سبا کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک رسول بھی بھیجا تھا۔ اس آیت سے واضح ہوا کہ ان کی اکثریت نے اس رسول کی تکذیب کردی۔ صرف تھوڑے سے لوگ ان پر ایمان لائے اور وہی اس عذاب سے محفوظ رہے جو ان کی قوم پر آیا۔
Ayah 34:21وما کان لہ علیھم من سلطن الالنعلم من یومن بالاخرۃ ممن ھو منھا فی شلف وربک علی کل شئی حفیظ (21)
یہ ایک دفع دخل مقدر یعنی برسر موقع ایک شبہ کا اذالہ کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ مبتلا رہے کہ شیطان کو لوگوں پر کوئی اختیار حاصل ہے کہ وہ جس کو چاہے گمراہ کردے۔ فرمایا کہ شیطان کو اس طرح کا کوئی اختیار اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر نہیں دیا ہے۔ اس کو صرف اس بات کی مہلت ملی ہے کہ وہ لوگوں کو بدی کے راستہ کی دعوت دے سکتا ہے اور یہ مہلت اس کو اسے لئے دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ کون آخرت پر ایسا مضبوط ایمان رکھتا ہے کہ شیطان کی ترغیبات کے باوجود دبائو حق پر استوار رہتا ہے اور کو شک میں مبتلا ہے کہ شیطان کے بہکانے سے اس کی راہ پر لگ جاتا ہے۔ لنعلم سے پہلے کوئی فعل انظر تاہ یامھلنا ہ ‘ کے معنی میں مخدوف اور اس قسم کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
’ وربک علی کل شئی حفیظ ‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس رزم گاہ امتحان میں شیطان اور انسان کو اتار کو خود الگ تھلگ ہو کر نہیں بیٹھ رہا ہے بلکہ ہر چیز کی نگرانی کر رہا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ شیطان اپنے حدود سے متجاوز ہوسکے اور ممکن نہیں ہے کہ انسان پنی کسی داد رسی سے محروم رہ جائے۔ اگر انسان اپنا فرض اپنے امکان کی حد تک ادا کرنے کی کوشش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس دنیا میں بھی مدد فرمائے گا اور آخرت میں بھی اس کی ہر سعی کا بھرپور صلہ دے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان اور اس کی ذریات کے غلبہ سے مایوس ہو کر ادائے فرض سے دستکش ہونا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مہلت تو ضروری دی ہے لیکن اپنی دنیا اس کے حوالے نہیں کردی ہے۔ بلکہ ہر چیز کی نگرانی وہ خود فرما رہا ہے۔
Ayah 34:224۔ آگے کا مضمون۔ آیات 22۔ 27
اوپر کی آیات میں یہ حقیقت واضح فرمائی کہ تمام رحمت و نقمت اللہ ہی کیا ختیار میں ہے اس وجہ سے شکر گزاری اور بندگی کا حقیقی سزوار وہی ہے۔ اب آگے مشرکین کو چیلنج کیا ہے کہ تم اپنے جن معبودوں کو خدا کا شریک بنائے بیٹھے اور ان کی سفارش کی امید پر خدا کی پکڑے سے بےفکر ہو، ان کے حق میں کوئی دلیل اپنے پاس رکھتے ہو تو اس کو پیش کرو۔ ساتھ ہی پیغمبر ﷺ کی زبان سے یہ اعلان کرایا ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، محض جد اور مکابرت کی وجہ سے اپنی بات پر اڑے ہوئے ہو، تو تمہارے ساتھ بحث میں ہم اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے بلکہ معاملہ اللہ کے حوالہ کرتے ہیں۔ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
قل ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ، لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموات ولا فی الارض وما لھم فیھا من شرک وما لہ منھم من ظھیر (22)
یہ مشرکین کو کھلا ہوا چیلنج ہے کہ جن کو تم نے خدا کا شریک گمان کر رکھا ہے ذرا ان کو بلائو، ہم بھی ان کی صورت میں دیکھیں وہ کیسے اور کہاں ہیں ! اس قسم کا چیلنج مخاطب کو اس وقت دیا جاتا ہے جب اس کا دعویٰ بالکل ہی بےسروپار ہوا اور ہر پہلو سے اس پر حجت تمام کی جاچکی ہو۔ یہی اندازِ خطاب آگے آیت 27 میں ہے۔ قل ارونی الذین الحتم بہ شرکاء کلا۔ بل ھوا للہ العزیزا لحکیم (ان سے کہو، ذرا مجھے انکو دکھائو جن کو تم نے شریک بنا کر خدا کے ساتھ جوڑ رکھا ہے ! ہرگز نہیں ! بلکہ وہ اللہ عزیز و حکیم ہے)۔
لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموات ولا فی الارض۔ یہ اسی چیلنج کی مزید وضاحت ہے کہ تم نے ان کو شریک خدا گمان کر رکھا ہے حالانکہ نہ وہ آسمانوں میں ذرا برابر کوئی اختیار رکھتے نہ زمین میں۔ یہی بات اسی سورة کی پہلی ہی آیت میں اس طرح واضح فرمائی گئی ہے۔ لہ فی السموات وما فی الارض (اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے)۔
’ وما لھم فیھما من شرک ‘ یعنی ان دونوں کی خلقت میں ان کا کوئی بھی ساجھا نہیں ہے۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے : وما اشھدتھم خلق السموات والارض (الکہف : 51) میں نے آسمانوں اور زمین کی خلقت کے وقت ان میں سے کسی کو نہیں بلایا کہ ذرا برابر وہ میرا ہاتھ بٹائیں)۔
’ وما لہ منھم من ظھیرا ‘۔ یعنی زمین و آسمان کے اتنظام و انصرام میں بھی خدا نے ان میں سے کسی کو اپنا معین و مددگار نہیں بنایا ہے بلکہ اپنی ساری خدائی کا انتظام تنہا وہ خودہی سنبھالے ہوئے ہے ‘ اور یہ چیز ذرا بھی اس پر بار نہیں ہے۔ یہ مشرکین کے اس وہم کی تردید ہے کہ زمین چونکہ خدا کی مملکت کا نہایت دور دراز علاقہ ہے اس وجہ سے اس کا انتظام اس نے اپنے دوسرے شریکوں کے سپرد کر رکھا ہے۔
Ayah 34:23ولاتنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ ط حتی اذا فزع عن قلوبھم قالوا ماذا قال ربکم قالو الحق وھو العلی الکبیر (23)
حق و اختیار کی نفی کے بعد یہ ان کے مزعومہ تصور شفاعت کی بھی نفی کردی۔ فرمایا کہ اگر ان کی شفاعت کی امید پر نچنت بیٹھے ہو تو یاد رکھو کہ خدا کے حضور میں کسی کی شفاعت کسی کے لئے نافع نہیں ہوگی مگر اس کے لئے جس کے لئے خدا اجازت دے یعنی اول تو خدا کے اذن کے بدون کوئی کسی کی شفاعت کی جرأت ہی نہیں کرے گا، پھر اجازت کے بعد بھی وہ شفاعت صرف اسی کے لئے کرے گا جس کے لئے اس کو اجازت مرحمت ہوئی ہوگی۔ کسی ایسے کے بارے میں وہ زبان نہیں کھول سکے گا جس کے لئے اس کو اجازت نہ ملی ہو۔ دوسرے مقامات میں یہ وضاحت بھی فرمادی گئی ہے کہ وہ وہی بات کہے گا جو حق ہوگی۔ خدائے علام الغیوب کے آگے نہ کوئی کسی باطل کو حق بنا سکے گا اور نہ کوئی بات حق کے خلاف زبان سے نکال سکے گا۔
یہ مشرکین کے اس گمان کی تردید ہے جو وہ اپنے معبود فرشتوں سے متعلق رکھتے تھے کہ وہ خدا کی چہیتی بیٹیاں ہیں اس وجہ سے وہ اپنے باپ سے جو بات چاہیں منوا سکتی ہیں اور خدا کو ان کی ناز برداری میں ان کی ہر بات ماننی پڑتی ہے۔
حتی اذ نزع من قلوبھم قالوا ماذ قال ربکم قالو الحق ’ تفریح ‘ کے اصل معنی تو ڈرا دینے اور دہشت زدہ کردینے کے ہیں لیکن جب اس کا صلہ ’ عن ‘ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی دہشت دور کردینے کے ہوجاتے ہیں۔ فزع عن قلوبھم کے معنی ہوں گے جب ان کے دلوں سے دہشت دور کردی جائے گی ‘۔
یہ حال بیان ہوا ہے قیامت کے دن فرشتوں کا کہ اس دن آگے بڑھ کرنا زو تدلل کے ساتھ کسی کی شفاعت کرنا تو الگ رہا تمام خلق کی طرف ان پر بھی اس دن ایسا ہول طاری ہوگی کہ انہیں کچھ خبر نہیں ہوگی کہ لوگوں کے باب میں رب العزت کی بارگاہ سے کیا حکم صادر ہوا۔ جب ان کی دہشت دور ہوگی تو وہ دوسروں سے سوال کریں گے تمہارے رب کی طرف سے کیا حکم صادر ہوا ؟ وہ جواب دیں گے کہ بالکل بجا حکم صادر ہوا ہے۔
فرشتوں سے متعلق مشرکین کے اسی تصور کی تردید کرتے ہوئے سورة زمر میں یوں ارشاد فرمایا ہے :
وما قدرو اللہ حق قدرہ مے والارض جمیعا قبجتہ یوم القیمۃ والسموت مطویت بیمینہ سجنہ وتعالیٰ عما یشرکون ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ومن فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخری فاذ اھم قیام ینظرون (الزمر : 27۔ 28)
اور انہوں نے اللہ کی صحیح شان نہیں پہچانی ! اور وہ زمین کو قیامت کے دن مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کی بساط بھی اس کے ہاتھ میں لپیٹی ہوئی ہوگی۔ وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اور صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں بےہوش ہو کر گرپڑیں گے، مگر جن کو اللہ محفوط رکھنا چاہیے۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہوں گے، تاکتے ہوئے۔
یہ باتیں احوالِ قیامت سے تعلق رکھنے والی ہں۔ ان کا صحیح تصور اس دنیا میں ممکن نہیں ہے لیکن یہ دونوں آیتیں ایک ہی موقع و محل کی ہیں اس وجہ سے اگر آیت زیر بحث کا مفہوم سورة زمر کی مذکورہ بالا آیت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ بات نکلتی ہے کہ جب پہلی دفوہ صور پھونکا جائے تگا تو آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات بےہوش ہو کر گرپڑیں گی۔ صرف ہی لوگ اس سے محفوظ رہ سکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ محفوط رکھے۔ انہی لوگوں کو ذکر دوسرے مقام میں یوں آیا ہے ـولا یحزنھم الفزع الاک برا النابیاء 103) (ان کو سب سے بڑے ہول کا غم لاحق نہیں ہوگا) پھر جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ اٹھ کھرے ہوں گے اور حیرت و دہشت کے ساتھ دیکھیں گے کہ یہ کیا ہوگیا اور کیا ہونے والا ہے ! معلوم ہوتا ہے اسی مرحلے میں فرشتے وہ سوال کریں گے جو ’ ماذاقال ربکم ‘ کے الفاظ سے یہاں مذکور ہے۔ اس سوال سے ان کی سراسمیگی اور دہشت زدگی کا اظہار ہو رہا ہے کہ نازو اعتماد کے ساتھ، آگے بڑھ کر، کسی کی سفارش کرنا تو درکنار، صورتِ حال ایسی ہوگی کہ خود ان کے اپنے اوسان بجا نہیں رہی گے۔ وہ دوسروں سے پوچھیں گے کہ بارگاہِ الٰہی سے کیا حکم صادر ہوا ہے ؟ دوسرے جواب میں صرف یہ کہیں گے کہ جو حکم ہوا ہے وہ بالکل حق ہ۔ ’ الحق ‘ فعل مخدوف سے منصوب ہے۔ یہ جواب ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جن کے معاملات کا اس دن فیصلہ وہ گا اس لئے کہ اس دن حق اس طرح واضح ہوجائے گا کہ کوئی بھی یہ کہنے کی جرأت نہ کرسکے گا کہ اسکے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی ہے اور امکان اس کا بھی ہے کہ یہ جواب ان لوگوں کی طرف سے ہو جو اس دن کے ہول سے محفوظ رکھے جائیں گے اور جن کی طرف سورة زمر کی مذکورہ بالا آیت میں الا من شاء اللہ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اگر یہ جواب ان لوگوں کی طرف سے مانا جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس دن اکثریت کا حال تو یہ ہوگا کہ ان کو خود اپنی پڑی ہوگی وہ دوسروں کی سفارش کیا کریں گے اور جو اس دن کے ہول سے امان میں رکھے جائیں گے ان کا حال یہ ہوگا کہ وہ پکاریں گے کہ رب عادل و کریم نے جو فیصلہ فرمایا ہے وہ بالکل حق فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اصل حقیقت حال یہ ہے کہ تو وہ کون لوگ ہیں جن کی شفاعت پر مشرکین تکیہ کیے ہوئے ہیں !
’ وھو العلی الکبیر یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی ہی بلند وارفع اور بڑی باعظمت و باجبروت ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے آگے اس کے اذن کے بغیر زبان کھول سکے اور نہ کسی کی یہ شان ہے کہ اس تک اس کی رسائی ہوسکے۔
فرشتوں میں سب سے زیادہ عالی مقام حضرت جبریل امین ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک رسائی کے معاملے میں ان کی بےبسی کا بھی یہ حال ہے کہ
اگر یک سرموئے برتر پرم فروغ تجلی بسوز و دم
اس مسئلہ پر مزید بحث انشاء اللہ اگلی سورة میں آئے گی۔
Ayah 34:24قل من یرزکم من السموات والارض قلل اللہ وانا اوایکم لعلی ھدی اوفی ضل مبین) 24)
یعنی ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین سے کون تم کو روزی دیتا ہے ؟ کون آسمانوں سے پانی برساتا سورج چمکاتا اور موسمی تغیرات پیدا کرتا ہے اور کون زمین سے بیجوں کو اگاتا، سبزوں کو نشوونما دیتا اور فصلوں کو بار آور کرتا ہے ؟
’ قل اللہ ‘۔ فرمایا کہ ان کو بتا دو کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کرتا ہے اور آسمانوں اور زمین کی یہ سازگاری اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ ان دونوں کے اندر ایک ہی خدائے قادر و قیو کا ارادہ کارفرما ہے۔
یہاں سوال کرنے کے بعد اس کا جواب بھی خود ہی دے دیا ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ اس جواب سے مخاطب کے لئے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ اہلِ عرب کے عقائد سے متعلق یہ بات ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں کہ وہ اپنی دیویوں دیوتائوں میں سے کسی کو خالق یا رزاق نہیں مانتے تھے بلکہ صرف سفارشی اور ذریعہ تقرب مانتے تھے۔ قرآن میں یہ تصریح موجود ہے کہ اگر ان سے پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین سے کون روزی دیتا ہے تو جھٹ جواب دیں گے کہ اللہ ! ‘۔ چونکہ یہ بات مخاطب کو تسلی تھی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے وہی مسلمہ حقیقت یہاں ان کے سامنے رکھ دی ہے۔
’ وانا اولایم لعلی ھدی او فی ضل مبین ‘۔ مطلب یہ ہے کہ اسی مسلمہ حقیقت پر ہماری دعوت کی بنیاد ہے۔ اگر تم اس پر ہم سے جھگڑ رہے ہو تو مزید کسی بحث وجدال کی ضرورت نہیں ہے۔ یا تو ہم ہدایت پر ہیں اور تم کھلی ہوئی گمراہی میں ہو یا تم ہدایت پر ہو اور ہم ضلالت پر ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم صدم ضدا میں اس حد تک دھاندلی پر اتر آئے ہو کہ ایک ہی سانس میں ایک حقیقت کو مانت ہو، پھر اسی کو جھٹلاتے ہو تو تم سے مزید بحث جاری رکھنا بےسود ہے۔ اب تمہارا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی فیصلہ فرمائے گا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون ضلالت پر ! ہمارے نزدیک یہ ٹکڑا مواد عت کے مفہوم میں ہے نہ کہ ملاطفت کے مفہوم میں، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے۔
Ayah 34:25قل لا تسئلون عما اجرمنا ولا تسئل عما تعلمون (25)
یہی وہی قطع حجت کا مضمون، جو اوپر والی آیت میں ہے، دوسرے الفاظ میں ہے۔ فرمایا کہ اگر تمہارے نزدیک ہم تمہارے معبودوں اور تمہارے آبائی رسوم کی مخالفت کے مجرم ہیں تو عند اللہ اس جرم کی مسوئلیت ہمارے ہی اوپر ہے، تمہارے اوپر نہیں ہے۔ اسی طرح تم جو کچھ کر رہے ہو اس کی پرسش ہم سے نہیں ہونی ہے، تمہی سے ہونی ہے۔ ہمارے اوپر حق کو پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی، یہ فرض ہم نے ادا کردیا۔ اب مزید بحث وجدال سے کچھ حاصل نہیں۔ تم اپنی راہ چلو، ہم اپنی راہ چلتے ہیں۔ کل کو اللہ تعالیٰ کے حضور فیصلہ ہوجائے گا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔ یہی مضون سورة شوریٰ کی آیت ذیل میں یوں آیا ہے :
لنا اعملانا ولکجم اعمالکم لاحجۃ بیننا وبینکم (15)
ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہوں گے اور تمہارے ساتھ تمہارے اعمال۔ اب ہمارے اور تمہارے درمیان کسی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔
یہی قطع بحث کا مضمون سورة کا فرون میں ہے ’ لکم دینکم ولی دین ‘ (6) (تمھارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین)۔ قرآن مجید میں یہ مضمون، مختلف اسلوبوں سے، جگہ جگہ آیا ہے اور اس کا ایک خاص محل ہے۔ وہ یہ کہ جب مخاطب نے اپنی ضد اور مکابرت یس بالکل واضح حقائق کو جھٹلا دینے کی کوشش کی ہے تو اسے یہ کہہ دیا گیا ہے کہ اب بحث و مناظرہ سے کچھ حاصل نہیں، تم اپنا کام کرو، ہم اپنا کام کرتے ہیں۔ اس طرح کی آیات کو عام طور پر لوگوں نے مخاطب کے ساتھ اظہارِ رواداری کے مفہوم میں لیا ہے لیکن یہ اظہارِ روادی کے مفہوم میں نہیں بلکہ اظہارِ بیزاری کے مفہوم میں ہیں۔ سیاق وسباق پر نگاہ نہ رکھنے کے سبب سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی۔
Ayah 34:26قل یجمع بیننا ربنا ثم یقتح بیننا بالحق وھو الفتاح العلیم (26)
یعنی ان سے کہہ دو کہ اگر یہاں تم ہماری بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہو تو نہ مانو، ایک ایسا دن آنے والا ہے جس میں ہمارا رب ہم کو اور تم کو، دونوں کو، جمع کرے گا اور پھر بالکل ٹھیک ٹھیک فیسلہ فرمائے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ وہ بہت بڑا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس کے فیصلہ کے خلاف کوئی دھاندلی مچانا کسی کے بس میں نہ ہوگا اور ہر چیز کو پورا پوراو علم رکھنے والا ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔
Ayah 34:27قل ارونی الذین الحتم بہ شرکاء کلا بل ھو اللہ العزیز الحکیم (27)
وہی مضمون جو اس مجموعہ آیات کی پہلی آیت میں آیا ہے آخر میں دوسرے اسلوب سے پھر ارشادہوا ہے۔ اس کا انداز طنز و تحقیر اور تہدید و وعید کا ہے۔ فرمایا کہ ان سے کہو کہ ذرا مجھے ان کو دکھائو تو سہی جن کو تم نے شریکوں کی حیثیت سے خدا کے ساتھ چپکارکھا ہے ! آخر وہ کون اور کہاں ہیں جو ایسے عالی مقام ہیں کہ وہ خدا کی خدائی میں ساجھی بنا دیے گئے ہیں !
’ کلا بل ھو اللہ العزیزا الخکیم ‘ سوال کے بعد خودہی اس کا جواب دے دیا کہ ہرگز نہیں ! کسی کا بھی یہ درجہ و مرتبہ نہیں ہے کہ اس کو خدا کا شریک قرر دیاجاسکے۔ اس کے بعد اس نفی کی دلیل اللہ تعالیٰ کی مسلمہ صفات سے دی ہے۔ فرمایا کہ وہ ’ عزیز ‘ و ’ حکیم ‘ ہے۔ ’ عزیز ‘ یعنی سب کی رسائی سے بالاتر اور ہر چیز پر غالب و مقتدر۔ ’ حکیم ‘ یعنی اس کا ہر فعل غایب و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ ان صفات کا ذکر حصر کے اسلوب میں فرمایا ہے یعنی وہ ان صفات سے کمال درجہ متصف ہے اور جب وہ ان سے کمال درجہ متصف ہے تو ان کے ساتھ شرک کا کوئی جوڑ نہیں ہے اس لئے کہ اگر کسی کو اس کا شریک اس پہلو سے مانا جائے کہ اس کائنا تکے خلق وتدبیر میں خدا اس کا محتاج ہے تو یہ اس کے ’ عزیز ‘ ہونے کی نفی ہے اور اگر اس پہلو سے مانا جائے کہ کوئی اپنی رسائی و تقرب سے اس کے بےلاگ عدل پر اثر انداز ہوسکتا ہے تو یہ اس کے ’ حکیم ‘ ہونے کی نفی ہوئی۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ مشرکین کے شرک میں اصلی عامل کی حیثیت انہی دونوں غلط فہمیوں کو حاصل تھی۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی ان دونوں صفتوں کا حوالہ دے کر ان دونوں غلط فہمیوں کی بنیاد ڈھادی۔
Ayah 34:286۔ 1ٓگے کا مضمون۔ آیات 28۔ 39
آگے کی آیات میں مخالفین کے ان مطالبات و اعتراضات سے تعرض فرمایا ہے جو وہ قرآن کی دعوت اور اس کے انداز کی تکذیب کے لئے پیش کر رہے تھے۔ اعتراجات و مطالبات کے جواب بھی دیے ہیں اور اس انجام کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے وہ لوگ لازماً دو چار ہوں گے جو ان لاطائل اعتراضات و شبہات کی آڑلے کر حقیقت کو جھٹلائیں گے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا و نذیرا ولکن اکثر الناس لا یعلمون (28)
یہ اظہور افسوس ہے ان لوگوں کی حالت پر جو قرآن کی دعوت توحید اور اس کے انداز عذاب و قیامت کی تکذیب کے لئے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے تاکہ اس طرح آنحضرت ﷺ کو زچ کرسکیں۔ فرمایا کہ ہم نے تم کو عذاب لانے والا نہیں بلکہ لوگوں کے لئے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے کہ تم ان لوگوں کو نجات اور رحمت کی بشارت دے دو جو تمہاری دعوت پر ایمان لا کر ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرلیں گے۔ اور ان لوگوں کو خدا کے اس قہر وغضب سے آگاہ کردو جس سے تمہاری تکذیب کی صورت میں ان کو لازماً سابقہ پیش آئے گا۔ تمہاری ذمہ داری اس انداز و بشارت کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ عذاب لانے یا نہ لانے کا معاملہ ہم سے متعلق ہے۔ جب اس کا وقت آجائے گا تو ہم یہ چیز بھی ان کو دکھا دیں گے۔
’ ولکن اکثر الناس لا یعلمون ‘۔ یہ لوگوں کو بدبختی پر اظہارِ افسوس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو عذاب سے پہلے ایک آگاہ کرنے والا بھیج دیا کہ لوگ چاہیں تو ایمان و عملِ صالح کی زندگی اختیار کر کے اپنے لئے ابدی رحمت کی ضمانت حاصل کرلیں، لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ رحمت کی جگہ عذاب ہ کے طالب ہیں۔ ان کو اس حقیقت کی خبر نہیں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی طرف رسول بھیج دیتا ہے تو اس پر اللہ کی حجت تمام ہوجاتی ہے۔ اگر وہ قوم رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو سنت الٰہی کے بموجب وہ لازماً تباہ کر دیجاتی ہے۔ آگے وای سورة ، سورة فاظر میں اس حقیقت کی وضاحت یوں فرمائی گئی ہے :
ان انت الا نذیر انا ارسلنک بالحق بشیرو ونذیرا۔ وان من امۃ الا خلافیھا نذیر وان یکذبوک فقد کذب الذین من قبلھم جاء تھم رسلھم بالبینت وبالزبر والکبت المنیر ثم اخذت الذین کفروا فکیف کان نکیر (23۔ 26)
تم تو بس ایک آگاہ کردینے والے ہو۔ ہم نے تو تم کو حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی ہے جس میں ایک نذیر نہ آیا ہو۔ اور اگر یہ تم کو جھٹلاتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں انہوں نے بھی جھٹلایا۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں، صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے۔ پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑا جنہوں نے کفر کیا تو دیکھو کیسی ہوئی میری پھٹکار۔
اس آیت میں کا نۃ للناس کے الفاظ بھی قابل غور ہیں۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے جو رسول آئے وہ صرف اپنی اپنی قوموں ہی کے لئے نذیر بن کر آئے لیکن آنحضرت ﷺ چونکہ خاتم الانبیاء وخاتم الرسل ہیں۔ اس وجہ سے آپ کی بعثت تمام خلق کی طرف ہوئی۔ یہ حقیقت قرآن میں بھی مختلف پہلوئوں سے واضح فرمائی گئی ہے اور سابق صحیفوں میں آپ کی نسبت جو پیشن گوئیاں وارد ہیں، انمیں بھی آپ کی یہ حیثیت نمایاں ہے۔ ان کے حوالے سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم نقل کر آئے ہیں۔ یہاں اس بات کی یاد دہانی سے مقصود اہل کتاب کو متنبہ کرنا ہے۔ دعوت کے اس دور میں انہوں نے بھی دپردہ قریش کی پشت پناہی شروع کردی تھی۔ اس وجہ سے آنحضرت ﷺ کی اس صفت کا حوالہ دے کر ان کو بھیآگاہ کردیا گیا کہ جس رسول کی مخالفت میں وہ اپنی ذہانت و قابلیت صرف کر رہے ہیں وہ صرف قریش ہی کے لئے منذر و مبشربن کر نہیں آیا ہے بلکہ اس کے ذریعے سے خود ان کی قسمت کا بھی فیصلہ ہونا ہے اس وجہ سے اگر وہ یہ خطرناک کھیل کھیلنا چاہتے ہیں تو اس کے نتائج بہت دور تک سوچ لیں۔
Ayah 34:29ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدیقین (29)
یعنی وہ رسول کے انداز بالعذاب سے متنبہ ہونے اور اس سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کرنے کے بجائے رسول اور اس کے ساتھیوں کا استخفاف کرتے اور باندازِ ظنر سوال کرتے ہیں کہ اگر تم لوگ اپنے انداز میں سچے ہو تو یہ بتائو کہ یہ دھمکی کب ظہور میں آئے گی ؟ مطلب یہ ہے کہ یا تو اس کو دکھائو یا اس کا وقت معین کرو ورنہ ہم اس کو محض لاف زنی سمجھتے ہیں۔
Ayah 34:30قل کم میعاد یوم لا تستاخرون عنہ ساعۃ ولا تستقدمون (30)
فرمایا کہ ان کو جواب دے دو کہ اس چیز کے لئے جلدی نہ مچائو۔ اس کیظہور کے لئے ایک خاص وقت مقرر ہے۔ جب وہوقت آجائے گا تو پھر نہ تو اس سے پیچھے ہٹ سکوگے اور نہ آگے ہی بڑھ سکو گے۔ یہ حقیقت ہم جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں اور باغیوں کو بھی اتنی مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں تاکہ ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے اور یہ بات صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کسی قوم کو پیمانہ کب لبریز ہوا۔ اس بھید سے اللہ کا رسول بھی واقف نہیں ہوتا۔ لفظ ’ یوم ‘ یہاں وقت کے مفہوم میں ہے اور لفظ ’ ساعۃ ‘ لمحۃ، پل اور وقت قلیل کے مفہوم میں۔ اس اسلوبِ بیان کے اندر سوال کرنے والوں کے طنز کے جواب میں یہ طنز بھی مضمر ہے کہ آخر کس برتے پر اس عذاب کا وقت معلوم کرنا چاہتے ہو، وہ اٹل وقت جب آجائے گا تو پھر کسی کے ٹالے نہ ٹل سکے گا !
Ayah 34:31وقال الذین کفرو الن تو من بھذا القران ولا بالذی بین یدیہ ولوتری اذ الظلموان موقوفون عند ربھم یرجع بعضھم الی بعض القول یقول الذین استضرمنوا للذین استکبروا لو لا انتم لکنا مومنین (31)
’ ولا بالذی بین یدیہ ‘ کی دو تاویلیں لوگوں نے کی ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد قرآن سے پہلے نازل ہونے والے آسمانی صحیفے ہیں، دوسری یہ کہ یہ اس عذاب اور قیامت کی طرف اشارہ ہے جس سے قرآن اکو آگاہ کر رہا تھا۔ ہمارے نزدیک یہ دوسرا قول سیاق وسباق سے زیادہ اوفقہ۔ یعنی یہ کفار نہایت ڈھٹائی کے ساتھ قرآن کے انداز کا یہ جواب دیتے ہیں کہ نہ تو ہم اس قرآن ہی پر ایمان لانے والے ہیں اور نہ اس عذاب اور قیامت ہی کو ماننے کے لئے تیار ہیں جس کی وہ آگے کو خبر دے رہا ہے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم سے یہ بات منوانی ہے تو ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ یہ چیز ہمیں دکھادی جائے۔ اگر یہ دکھائی نہیں جاتی تو پھر ہم اس دھونس میں آنے والے نہیں ہیں !۔
’ ولو تری اذ الظلمون موتوفون بنت ربھم ‘۔ ظالمون ‘ سے مراد یہی شامت زدہ لوگ ہیں جو خدا کی رحمت کو ٹھکرا کر اس کی نقمت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جواب شرط یہاں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق مخذوف ہے۔ حذف کا یہ طریقہ ان مواقع میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں صورت حال تعبیر و تصویر سے ماوراء ہو۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ شامت زدہ لوگ قرآن اور اس کے بعد آنے والی قیامت کا نہایت جسارت سے انکار کر رہے ہیں لیکن اگر تم کہیں ان کی اس حالت کو دیکھ پاتے جب کہ یہ اپنے رب کے حضور میں کھڑے کیے جائیں گے تو۔ اس ’ تو ‘ کے بعد اس منظر کا ذکر حذف کردیا ہے جس سے یہ بات نکلی کہ اس کی ہولناکی تعبیر و تصویر کے حدود سے باہر ہے۔
یرجع بعضھم الی بعض القزل ‘ کا صحیح مفہموم یہ ہوگا کہ وہ آپس میں تو تکار کریں گے۔ اس اس کی تفصیل آگے کی آیات میں آر ہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آض تو ان کے لیڈر اور پیرو دونوں قرآن اور قیامت کی مخالفت پر متفق ہیں۔ لیڈر مخالفت کے لئے پیش پیش ہیں اور عوام ان کی تائید کرتے ہوئے ان کے جھنڈے اٹھائے پھر رہے ہیں لیکن جب خدا کے حضور میں ان کی پیشی ہوگی تو پیرو لیڈروں کو اپنی گمراہی کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے اور لیڈر پیروئوں کو ملامت کریں گے کہ تم اپنی شامت کے خود ذمہ دار ہو کہ حق کے واضح ہوجانے کے بعد تم نے حق کے بجائے ہماری پیروی کی۔ مطلب یہ ہے کہ آج تولیڈر عوام کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ وہ ان کی صوابدیدہ پر اعتماد کریں۔ خیر و شر کی ذمہ داری ان پر ہے اور عوام آنکھ بند کر کے ان کے پیچھے چل رہے ہیں کہ کوئی خطرہ پیش آیا تو ان کے لیڈر اس سے ان کو بچالیں گے لیکن جب اصل مرحلہ سامنے آئے گا تب معلوم ہوگا کہ ہر ایک اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ کوئی دوسرا کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا۔
’ یقول الذین استجعفوا للذین استبروا لولا انتم لکنا مومنین۔ یہ اوپر والی بات کی وضاحت ہو رہی ہے۔ ’ الذین استضعفوا ‘ سے مراد وہ غرباء اور عوام ہیں جو اپنی غربت اور بےمائگی کے سبب سے بڑوں اور سرمایہ داروں کے زیر دست اور ان کے آلہ کار بنے رہے۔ ’ الذین استکبروا ‘ سے ان کے سرمایہ دار لیڈر اور سردار مراد ہیں جنہوں نے اپنی ذات کو حق و باطل کا معیار بنا کر لوگوں کو اپنے پیچھے چلایا یہ ان تک کہ اللہ و رسول کی مخالفت کے لئے بھی ان کو استعمال کیا۔ فرمایا کہ اس دن غرباء اور عوام اپنے لیڈروں اور سرمایہ داروں کو الزام دیں گے کہ یہ تم ہو کہ تمہاری بدولت ہم اس بدبختی سے دو چار ہوئے، تم نے ہماری راہ نہ ماری ہوتی تو ہم ضروری ایمان لانے والوں میں سے بنتے۔ مطلب یہ ہے کہ حق تو اہم سے مخفی نہیں رہا تھا اور ہمارے اندر اس کے اختیار کرنے کا جذبہ بھی ابھرتا تھا لیکن تمہارا دبائو ہمارے اس جذبے کو دبا دیتا تھا اور ہم اپنی خواہش کے خلاف ایمان کی سعادت سے محروم رہ گئے اور بالآخر اس انجام کو پہنچے۔
Ayah 34:32قال الذین استکبروا للذین استجعفوا انحن صددنکم عن الھدی بعد اذا جائیکم بل کنتم مجرمین (32)
لیڈر اپنے پیروئوں کو جھٹ جواب دیں گے کہ تمہارا الزام بالکل غلط ہے کہ تم کو ہم نے اللہ کی ہدایت سے روکا بلکہ مجرم تم خود ہو کہ نہایت واضح ہدایت آجانے کے بعد بھی تم ہمارے پیرو بنے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق نہ تو ہم پر مخفی تھا نہ تم پر۔ اللہ کے رسول نے حجت تمام کردی تھی۔ یہ بات نہ ہوئی ہوتی تب تو کسی حد تک ہم کو الزام دینے میں تم بجانب حق ہوتے لیکن جب تم نے، پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھائی تو ہم کو مجرم ٹھہرانے کے بجائے اپنے سر پیٹو۔ ہم بھ مجرم ہیں اور ہماری ہی طرح تم بھی مجرم ہو۔ یہ بات ہے تو کفار کے لیے لیکن قرآن نے یہ ایک سچی بات کی حیثیت سے نقل کی ہے اور اس میں ہر دور کے عوام کے لے درس عبرت ہے کہ حو و ہدایت کے معاملے میں کوئی شخص مجرد اس عذر پر عند اللہ بری نہیں ہوسکتا کہ اس کو دوسروں نے گمراہ کیا بلکہ حق کی جستجو ہر شخص کی اپنی ذمہ داری ہے اور اس کے واضح ہونے کے بعد اس کی پیروی تاحدامکان ہر فرد پر لازم ہے۔ اس کے بغیر کوئی عند اللہ بری نہیں ہوسکتا۔
Ayah 34:33وقال الذی استضعفوا اللذین استکبروا بل مکر الیل والنھار اذ تامرونان ان تکفر باللہ ونجعل لہ اندادا واسرو الندامہ لما راو العذاب وجعلنا الاغلل فی اعناق الذین کفروا ھل یجزون الا ما کانو ایعملون (33)
عوام لیڈروں کے جواب میں کہیں گے کہ یہ تمہاری رات دن کی سازشیں تھیں کہ ہم حق کی پیروی سے محروم رہے۔ تم نے رسول کی ہدایت سے برگشتہ کرنے کے لئے پروپیگنڈے کی مہم چلا رکھی تھی اور ہمیں تم یہ سمجھاتے اور سکھاتے تھے کہ ہم برابر کفر و شرک پر جمے رہیں۔ اس جواب سے یہ بات نکلی کہ ان کو اس امر کا تو اعتراف ہوگا کہ حق ان پر واضح تھا لیکن وہ اس وجہ سے اس کی پیروی نہ کرسکے کہ ان کے لیڈروں کی رات دن کی سازشوں نے انہیں اس کی پیروی سے محروم رکھا۔
’ واسروالندامۃ لما راو العذاب، اسرا الندامۃ ‘ اسی طرح کا محاورہ ہے جس طرح ابطن العداوۃ ہے ندامت ایک کیفیت قلبی و باطنی ہے اس وجہ سے اس کے لئے ’ استر ‘ استعمال ہوا ہے۔ مقصود صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ اس سوال و جواب کے بعد جب وہ دیکھیں گے کہ سامنے عذاب کھڑا ہے تو وہ اپنی بدبختی پر سخت پشیمان ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعلاویٰ کے ہاں ان کا یہ عذر مسموع نہیں ہوگا کہ وہ پنے لیڈروں کی سازشوں کے سبب سے ہدایت کی پیروی سے محروم رہے بلکہ ان کو لازماً عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان کی پیشمانی کی وجہ یہ ہوگی کہ اس وقت ان کے سامنے یہ بات بالکل کھل کر آجائے گی کہ وہ فی الحقیقت انہوں نے بالکل اپنے ضمیر کے خلاف اپنے لیڈروں کی پیروی کی۔ جو آدمی اپنے ضمیر کے خلاف کسی باطل کی پیروی کرتا ہے جب اس کا نتیجہ اس کے سامنے آتا ہے تو اس کو صرف نتیجہ کی تلخی ہی سے سابقہ نہیں پڑتا بلکہ اپنے ضمیر کی لعنت سے بھی اس کو دوچار ہونا پڑتا ہے اور یہ چیز اس کی مصیبت کو دو چند کردیتی ہے۔ یہ مضمون احزاب کی آیات 66۔ 68 میں گزر چکا ہے۔ مزید وضاحت مطلوب ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔
’ وجعلنا الاغلال فی اعناق الذین کفروا۔ ‘ فرمایا کہ ہم ان کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ یہ عمل اوعر جزاء میں مطابقت کی طرف اشارہ ہے۔ جو لوگ اپنی عقل اور اپنے ضمیر کو بالکل معطل کرکے اپنی باگ دوسروں کے ہاتھ میں پکڑا دیں گے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو اس کی سزا یہ دے گا کہ انکی گردنوں میں طوق ڈال دیے جائیں گے جن کو پکڑ کر دوزخ کے داروغے ان کو دوزخ میں گھسیٹیں گے۔
’ ھل یجزون الا ما کو نو یعملون ‘۔ یعنی ان کی گردنوں میں یہ طوق جو ڈالے جائیں گے تو ایہ ان کے ساتھ کوئی ناانصاف نہیں ہوگی بلکہ دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا اسی کی اصل حقیقت ان کے سامنے اس شکل میں آئے گی۔ انہوں نے دوسروں کی غلامی کا قلادہ اپنی گردنوں میں ڈال کر اپنے رب کی نافرمانی کی جس کے نتیجہ میں ان کو دوزخ کے یہ اغلال اپنی گردنوں میں ڈالنے پڑیں گے۔
Ayah 34:34واما ارسنک فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا انا بما ارسلتم بہ کفرون (34)
یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہارے زمانے کے امراء و اغنیاء جو کچھ تمہارے ساتھ کر رہے ہیں یہی کچھ ہر زمانے کے متفین نے اپنے اپنے زمانوں کے رسولوں کے ساتھ کیا ہے۔ انہوں نے بھی نہایت رعونت کے ساتھ اپنے رسولوں کو یہ جواب دیا کہ جو پیغام تم دے کر بھیجئے گئے ہو ہم اس سارے کے منکر ہیں۔ یعنی نہ تمہاری دعوت توحید و ایمان کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ تمہاری اس دھونس ہی میں آنے والے ہیں کہ اگر ہم نے تمہاری بات نہ مانی تو ہم پر کوئی عذاب آجائے گا۔
’ ارسلتم بہ ‘ کے اسلوب میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ جس رسالت کے تم مدعی ہو یہ بھی محض تمہارا زعم ہے جس کی ہمارے نزدیک کوئی حقیقت نہیں ہے۔
Ayah 34:35’ وقالو انحن اکثر اموالا اولادا وما نحن بمعذبین (35)
یعنی رسولوں کے انداز کی تکذیب کے حق میں جو دلیل انہوں نے پیش کی وہ یہی تھی جو تمہارے زمانے کے مترفین پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے رسول اور اس کے ساتھیوں کو جواب دیا کہ تم ہمیں ڈراتے ہو کہ ہمارا عقیدہ و عمل باطل ہے اور ہم خدا کے عذاب کے سزاوار ہیں اور حال یہ ہے کہ ہم مال و اولاد میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں۔ اگر تمہاری بات سچی ہوتی تو اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ مال و اولاد میں تم ہم سے پڑھ چڑھ کر ہوتے۔ وما نحن بمعذبین ‘ یعنی جب صورت حال علانیہ تمہاری تکذیب کر رہی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ تم مھض لاف زنی کررہے ہو، ہم پر نہ اس دنیا میں کوئی عذاب آنے والا ہے اور نہ آخرت میں (اگر تمہارے زعم کے مطابق وہ ہونی) ہمیں کسی عذاب کا کوئی اندیشہ ہے۔
Ayah 34:36قل ان ربی یبسط الزرق لمن یشاء ویقدر ولکن اکثر لاناس لا یعلمون (36)
فرمایا کہ ان کا یہ مغالطہ رفع کرنے کے لئے ان کی بتا دو کہ اس دنیا میں مال و اولاد کی زیادتی نہ تو خدا کے منظور ِ نظر ہونے کی دلیل ہے اور نہ اس کی کمی خدا کی نظروں میں حقیر ہونے کی۔ بلکہ یہ کمی و زیادتی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اختیار اور اس کی حکمت پر منحصر ہے۔ وہ کسی کے رزق میں کشادگی دیتا ہے تو اس کے شکر کا امتحان کرتا ہے اور کسی کے رزق کو تنگ کرتا ہے تو اس کے صبر کا جانچتا ہے اور اصل کامیابی کا انحصار درحقیقت اس امتحان کے نتیجہ پر ہے جو آخرت میں سامنے آئے گا۔
’ ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔ ‘ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے ناآشنا ہیں۔ وہ اس حماقت میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان کو جو مال و جاہ حاصل ہے یہ ان کی قابلیت و استحقاق کر کرشمہ اور خدا کے ہاں ان کے مقرب و منظور نظر ہونے کی دلیل ہے۔ اس طرح وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کو اپنے لئے عذاب بنا لیتے ہیں۔
Ayah 34:37وما اموالکم ولا اولادک مبالتی تقریبکم عندنا زلفی الا من امن وعمل صالحا فائو لئک لھم جاء الضعف بما عملوا وھم فی الغرفت امنون (37)
’ زلفی ‘ مصدر ہے جس سے مقصود فعل کی تاکید ہے یعنی تقربکم قربۃ۔ مطلب یہ ہے کہ مال و اولاد ان چیزوں میں سے نہیں ہیں جو خدا کے ہاں ذرا بھی وجہ قربت ہوسکیں۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کا امتحان کے لئے دیتا ہے کہ ان کو پاکر بندہ اسکی ناشکری کرتا ہے یا ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرتا ہے اس وجہ سے خدا کے ہاں تقرب کا ذریعہ مال و اولاد نہیں بلکہ ایمان و عمل صالح ہے۔ اگر کسی نے ایمان وعمل صالح کی کمائی نہیں کی تو اس کے لئے مال و اولاد کی زیادتی صرف اس کے وبال میں اضافہ کرے گی۔
’ فاوئلی لھم جزا الضعف بما عملوا لفظ ’ ضعف ‘ عربی میں کسی شے کے مثل کے لئے بھی آتا ہے اور اس کے امثال کے لئے بھی، خواہ وہ امثال کتنے ہی غیر محدود ہوں۔ اس وجہ سے اس ٹکڑے کا مفہوم یہ ہوگا کہ البتہ وہ لوگ جو ایمان و عمل صالح کی روش اختیار کریں گے ان کے لئے ان کے اعمال کا مضاعف صلہ ہوگا۔ اس مضاعف صلہ کی وضاحت قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں ہوئی ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ اس کو دگنے اجر کے محدود مفہوم میں نہ لیجئے۔
’ وھم فی الغرفت امنون ‘ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس دنیا میں تو مال و اولاد کے لئے ہر وقت خطرات ہیں اور کوئی بھی ان خطرات سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں کرسکتا لیکن جو لوگ مال و اولاد کو آخرت کی فلاح کا ذیرعہ بناتے ہیں ان کو اس کا جو صلہ ملے گا وہ ابدی اور لازوال ہوگا۔ اس باب میں پھر ان کو کبھی کوئی تشویش لاحق نہیں ہوگی۔
Ayah 34:38والذین یسعون فی ایتنا معجزین اولئک فی العذاب محضرون (38)
یہ ان لوگوں کے انجام کا بیان ہے جہوں نے مال واولاد کی زیادتی کو اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور رسول کو زچ کرنے کے لئے دلیل کے طور پر استعمال کیا۔ فرمایا کہ یہ لوگ پکڑ کر خدا کے عذاب میں لائے جائیں گے تاکہ اپنے کبر وغرو کی سزا بھگتیں۔ لفظ محضروان میں ان کی ذلت اور بےبسی کی جو تصویر ہے وہ ظاہر ہے۔
Ayah 34:39قل ان ربی یبط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویْدرلہ وما النفقتم من شئی فھو یخلفہ وھو خیر الرزقین (39)
اس آیت کی تمہید اور اوپر کی آیت 36 کی تمہید بعینہ ایک ہی ہے لیکن دونوں جگہ مدعا الگ الگ ہے۔ اوپر کی آیت میں یہ واضح فرمایا ہے کہ رزق کی کشادگی و تنگی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اختیار پر ہے اس وجہ سے نہ اس کی کشادگی پر کسی کو اترانے کا حق ہے اور نہ اس کی تنگی سے کسی کو مایوس ہونا جائز ہے، بلکہ ہر شخص کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ یہ دونوں حالتیں اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت پیش آتی ہیں اور دونوں سے وہ اپنے بندوں کے شکر یا صبر کا امتحان کرتا ہے۔ اس آیت میں پیغمبر ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی کہ ان مترفین کو یہ بتادو کہ اللہ کے بخشے ہوئے رزق و فضل پر اکڑنے کے بجائے اس کو خدا کی خوشنودی کے کاموں میں صرف کریں کہ یہی شکر کا تقاضا ہے اور وہ اطمینان رکھیں کہ جو کچھ بھی وہ خدا کی راہ میں خرچ کریں گے وہ ضائع جانے والا نہیں ہے، بلکہ وہ چھوٹے سے چھوٹے انفاق کا بھی بھرپور صلہ دے گا۔ اوپر صلہ کے معاملے میں جزاء الضعف کا اصول بیان ہوچکا ہے اور اس کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔ آیت میں وما انفقتم کے بعد فی سبیل اللہ کے الفاظ و ضاحت قرینہ کی بنا پر حذف ہیں۔ اخلف اللہ علیک کے معنی ہوں گے رد علیک ما ذھب تمہاری گئی ہوئی چیز خدا نے تمہیں لوٹا دی)۔
وھم خیر الرزقین یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بہترین رزق دینے والا ہے۔ آج وہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ ان کے خرچ کیے ہوئے خزف ریزوں کے عوض میں کل وہ ان کو کیا کچھ بخش سکتا ہے اور کیا کچھ بخش دے گا۔ لفظ خیر یہاں ترجیح و تفضیل کے مفہوم میں نہیں بلکہ مطلق بیان صفت کے لئے ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔
Ayah 34:408۔ آگے کا مضمون۔ آیات۔ 40۔ 45
آگے مترفین کو متنبہ کیا ہے کہ تم فرشتوں کو معبود بنا کر ان کی پرستش کر رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ آخرت کا مرحلہ یش آیا تو وہ تمکو بچا لیں گے حالانکہ آخرت میں وہ تم سے اعلان براءت کری گے اور خدا کے عذاب سے تم کو کوئی بچانے والا نہیں بنے گا۔ یہ اللہ نے تم پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے کہ تمہیں آگاہ کرنے کے لئے رسول بھیجا ہے لیکن تم بدبختی کے سبب سے اس کے کلام کو سحر قرار دے رہے ہو۔ بہتر ہے کہ ماضی کی قوموں کے انجام سے سبق لو۔ ان کو جو کچھ حاصل ہوا اس کا عشر عشیر بھی تم حاصل نہیں کر پائے ہو لیکن جب وہ اللہ کی پکڑ میں آگئے تو پھر کوئی بھی ان کو پناہ دینے والا نہ بن سکا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
9۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 40
’ جمیعا کی تاکید اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ قیامت کے دن کفار و مشرکین بھی اکٹھے کیے جائیں گے اور ان کے خلاف گواہی دلوانے کے لئے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی اکٹھا کرے گا جن کی عبادت کے وہ مدعی رہے ہوں گے یا جن کی طرف انہوں نے اپنی بدعات منسوب کی ہوں گی۔ سورة مائدہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی شہادت کا ذکر گزر چکا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ان تمام بدعات سے اپنی براءت کا علان کریں گے جو ان کے وجدان کے متبدع پیروئوں نے ایجاد کی ہوں گی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں کو بھی اکٹھا کرکے ان سے سوال کرے گا کہ یہ مشرکین (اشارہ مشرکین عرب کی طرف ہے) مدعی ہیں کہ یہ تمہاری عبادت کرتے رہے ہیں تو کیا ان کا یہ دعویٰ صحیح ہے ؟ اس سوال کا مقصد ظاہر ہے کہ مشرکین پر اتمام حجت ہوگا کہ جن کو وہ شریک و شفیع سمجھ کر زندگی بھرپوجتے رہے ان کو نہ تو ان کی اس عبادت کی خبر ہے نہ انہوں نے اس کا ان کو حکم دیا اور نہ وہ ایک لمحہ کے لئے یہی گوارا کرنے کے لئے تیار ہیں کہ کوئی ان کو پروردگارِ عالم کا شریک بنا کر ان کی عبادت کرے۔
Ayah 34:41آیت 41
فرشتے اس سوال کو فوراً یہ جواب دیں گے کہ سبحنک تو اس سے پاک اور ارفع ہے کہ تیرا شریک و سبہیم ہو !
فرشتوں کے اس جواب سے ایک حقیقت تو یہ واضح ہوئی کہ شرک ایک ایسی گھنائونی چیز ہے کہ اس کا ذکر سنتے ہی وہی اس سے اپنی نفرت کا اظہار کریں گے اور اللہ جل شانہ کو اس سے ارفع قرار دیں گے کہ کوئی اس کا شریک وسہیم ہو۔
دوسری یہ بات واضح ہوئی کہ وہ اپنے اوپر اس کو ایک سنگین تہمت خیال کریں گے کہ کچھ ظالموں نے ان کو شرک کی گندگی میں ملوث کرنے کی کوشش کی۔
تیسری یہ بات نکلی کہ جن احمقوں نے ایسا کیا ہے اس کی ذمہ داری تمام تر انہی پر ہے۔ فرشتے اس سے بری ہیں کہ وہ کسی کو اپنی عبادت کا حکم دیں۔
’ انت ولینا من دونھم ‘ یہ فرشتوں کا اپنے رب سے استغاثہ ہوگا کہ ان ظالموں کے مقابل میں، جنہوں نے ہمیں اس جرم میں ملوث کرنے کی کوشش کی، تو ہمارا یاورد ناصر اور مولیٰ و مرجع ہے۔ ہم ان سے بری ہیں تو ہمیں ان کی تہمت سے بری فرما۔ من دونھم یہاں مقابل کے مفہوم میں ہے۔
’ بل کانو ایعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون۔ یعنی انکا یہ زھم تو بالکل باطلی ہے کہ یہ ہماری پرستش کرتے رہے ہیں البتہ یہ امر واقعی ہے کہ یہ لوگ جنوں کی پرستش کرتے رہے ہیں اس لئے کہ ان کی اکثریت انہی پر ایمان رکھنے والی تھی۔
فرشتوں کا یہ جواب بالکل حقیقت کے مطابق ہے۔ اس لئے کہ فرشتوں کے نام سے انہوں نے جو بت بنائے۔ مثلالات، منات اور عزی وغیرہ۔ یہ تو محض ان کے اپنے فرض کیے ہوئے نام تھے جن کا کوئی مسمی موجود نہیں تھا۔ البتہ اپنے کاہنوں کے توسط سے انہوں نے جنوں سے رابطہ قائم کیا تھا اور چونکہ ان کو وہ علم غیب کا ذریعہ سمجھتے تھے اس وجہ سے ان کے لئے چڑھا وے اور قربانیاں بھی پیش کرتے اور ان کے جے بھی پکارتے۔ اکثر ھم بھم مومنون یعنی یہ ان پر اس حیثیت سے ایمان رکھتے رہے ہیں کہ وہ غیب کی خبروں کے لانے والے اور بذات خود نافع و ضار ہیں۔
Ayah 34:42فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولا ضرا۔ ونقول للذین ظلموا ذوق عذاب النار التی کتن بھا تکذبون (42)
یعنی فرشتوں کے اس جواب کے بعد ان کے پجاریوں سے کہہ دی جائے گا کہ تمہارا سارا اعتماد جن فرشتوں پر تھا ان کی گواہی تم نے علی رودس الشہاد سن لی۔ پس آج کے دن کوئی بھی ایک دوسرے کے کام آنے والا نہ بن سکے گا۔ نہ وہ تمہیں کوئی نفع یا ضرر پہنچا سکتے اور نہ تم ان کو۔
’ ونقول للذین ظلموا ذوقا……میں الذین ظلموا۔ سے مشرکین مراد ہیں۔ جنہوں نے بےدلل خدا کے شریک بنا کر ظلم عظیم کا ارتکاب کیا اور جب پیغمبر نے ان کو خدا کے عذاب سے ڈایا تو انہوں نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کی تکذیب کی۔ فرمایا کہ اس آخرت اتمامِ حجت کے بعد ہم ان سے کہیں گے کہ اب دوزخ کا مزہ چکھو جس کو جھٹلاتے رہے ہو۔