34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 34:43

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری روشن آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ تو محض ایک شخص ہے جو چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں سے روک دے جن کو تمہارے باپ دادا پوجتے آئے۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ تو بس ایک من گھڑت جھوٹ ہے۔ اور ان کافروں نے حق کی بابت، جب کہ وہ ان کے پاس آگیا، کہا کہ یہ تو بس کھلا ہوا جاد و ہے !

…آیت (43) یہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور مکابرت پر اظہار تعجب اور ان کی محرومی و بدبختی پر اطہار افسوس ہے کہ یہ آفتاب پر خاک ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب ان کو ہماری نہایت روشن، محکم اور عقل و دل کو منور کردینے والی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ اپنے عوام کو ان کے خلاف یہ کہہ کر بھڑکاتے ہیں کہ یہ شخص تمہارے ان معبودوں سے تم کو برگشتہ کرنا چاہتا ہے جن کو تمہارے بزرگ اسلاف برابر پوجتے آئے۔ حقائق کے خلاف عوام کو مشتعل کرنے کے لئے اسلاف کا حوالہ ہمیشہ سے مفسدین کے ہاتھ میں ایک کارگر حربہ رہا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو کہ یہ واحد دلیل ہے جو ضلالت کے علمبردار لیڈروں نے اپنی ضلالتوں کے حق میں پیش کی ہے۔ ’ ما ھذا ال ارضل ‘ ک تنکیر میں بھی ایک زہر چھپا ہوا ہے۔ یعنی وہ اپنے عوام کو پیغمبر ﷺ کے متعلق یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ شخص جو اپنے آپ کو ایک فرستادہ الٰہی کی حیثیت سے تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے تم اس کے اس چکمے میں نہ آئو۔ یہ محض ایک عام قسم کا آدمی ہے جس نے محض تمہارے دین آبادئی سے تم کو منحرف کرنے کے لئے یہ روپ دھارا ہے کہ اس کو خدا نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ ’ وقال اما ھذا الا نک معتری۔ یہ قرآن کے خلاف ان کے پروپیگنڈے کا حوال ہے کہ وہ اپنے عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس قرآن کے متعلق یہ دعویٰ جو کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اتارا ہے، یہ دعویٰ بالکل جھوٹ ہے جو محض تمہیں مرعوب کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک خود تراشیدہ کتاب ہے جو بالکل جھوٹ موٹ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی جا رہی ہے۔ ’ وقال الذین کفرو للحق لما جاء ھم ان ھذا الا سحر مبین۔ یہ ان لوگوں کی اس ژاژ خائی پر اظہار حیرت یہ ہے یہ لوگ حق کی مخالفت میں اس وقت یہ سخن سازیاں کر رہے ہیں جب حق ان کے سامنے ظاہرہوچکا ہے۔ اگر سورج افق سے غائب ہو اور کوئی ہٹ دھرم اس کے متعلق کوئی سوال اٹھائے تو یہ ہٹ دھرمی چنداں حیرت انگیز نہیں، لیکن جب سورج نصفب النہار پر چمک رہا ہو اور کوئی اس کو جادو قرار دے تو یہ محض خردباختگی ہے۔ ’ للحق میں حق سے مراد قرآن ہے اور ل یہاں فی کے مفہوم میں ہے۔ اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ اس کتاب میں اس کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ ’ ان ھذا الاسحر مبین ‘۔ یہ ان کے قول کی تفصیل ہے کہ اس قرآن کو وہ جادو قرار دیتے ہیں۔ قرآن کو جادو قرار دینے کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں کہ اس کی معجزانہ فصاحت و بلاغت اور تاثیر و تسخیر کے قائل تو اس کے کٹر سے کٹر مخالفین بھی تھے لیکن وہ اپنے عوام کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ یہ تاثیر و تسخیر اس کے پیش کرنے والے کی جادوبیانی کا کرشمہ ہے، اس کو خدا اور فرشتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Ayah 34:44

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں جن کو وہ پڑھتے ہوں اور نہ ان کی طرف تم سے پہلے کوئی آگاہ کرنے والا بھیجا۔

’ وما اتینھم من کتب یدرسونھا وما ارسلنا الیھم قبلک من نذیر (44) یہ ان مخالفین پر اظہارِ احسان اور ان کی اس ناقدری و محرومی پر اظہارِ افسوس ہے۔ فرمایا کہ یہ امی اور قرآن و کتاب سے ناآشنا لوگ رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ اللہ نے ان کو کوئی کتاب دی تھی جو ان کے لئے تعلیم و تعلم اور ارشاد ہدایت کا ذریعہ بنتی اور نہ تم سے پہلے ان کے پاس کوئی نذیر آیا تھا جو ان کو اس غفلت کی نیند سے جگاتا اور آگے کے خطرات سے آگاہ کرتا۔ اس صورت حال کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس عظیم نعمت کی یہ دل و جان سے قدر کرتے، آگے بڑھ کر اس کو ہاتھوں ہاتھ لیتے اور اس سے اپنی دنیا بھی سنوارتے اور آخرت کی بادشاہی بھی حاصل کرتے لیکن یہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس طرح خدا کے اس قہر کو دعوت دے رہے ہیں جو سنت الٰہی کے مطابق اس قوم پر آکے رہتا ہے جو اس کے بھیجئے ہوئے نذیر جو جھٹلا دیتی ہے۔ ’ کتب ‘ کے بعد یدرسونھا ‘ کی صفت سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اب تک ان کو اس طرح کے آسمانی صحیفے نہیں عطا ہوئے تھے جس طرح کے صحیفے بنی اسرائیل کی عطا ہوئے کو یہ ان کو پڑھتے پڑھاتے۔ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے ذریعے سے ان کو جو تعلیم ملی تھی اس کی نوعیت روایات کی تھی جو امتداذ زمانہ سے تقریباً فراموش بھی ہوچکی تھی اور بدعات کے غلبہ سے ان کا حلیہ بھی بالکل بگاڑ کے رکھ دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ ان کو اپنی کتاب دے کر ان پر اپنی نعمت تمام کردے لیکن ان کا حال یہ ہے کہ اس کو سحر اور افتراء قرار دے رہے ہیں۔
Ayah 34:45

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا۔ اور یہ تو اس کے عشر عشیر کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے ان کو دیا۔ تو انہوں نے میرے رسولوں کی تکذیب کی تو دیکھو، کیس ہوئی ان پر میری پھٹکار !۔

آیت 45 یہ ان لوگوں کو تنبیہ ہے کہ خدا کے رسول اور اس کے نذیر کی تکذیب کا لازمی نتیجہ اس قوم کی تباہی ہے اور پوری تاریخ انسانی اس سنت الٰہی کی شاہد ہے۔ ’ وما بلغوا معشارما اتینھم ‘ کلام کے بیچ میں ایک برحل تنبیہ ہے کہ یہ ان قوموں کا حوالہ دیا جا رہا ہے جو کروفر، شان و شوکت اور اسباب و وسائل کی فراوانی کے اعتبار سے اس مقام پر پہنچ چکی تھیں کہ قریش کے یہ متمروین ان کی گرد پا کر بھی نہیں پہنچے۔ لیکن جب انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی تو ان پر خدا کی پھٹکا جس طرح ہوئی اس کی تفصیلات قرآن میں بیان ہوچکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو اپنے اسباب و وسائل کا غرہ ہے تو یہ غرہ بالکل بےبنیا دہ۔ بڑی صولت و شوکت کی قومیں خدا کی ایک پھونک میں اڑ گئیں تو ان کی کیا حقیقت ہے۔ ان کو تو ان کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہوا۔ یہ تو اپنی تنک ظرفی کے سبب سے بہت تھوڑے میں بہک گئے ہیں۔
Ayah 34:46

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

ان سے کہو، میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، وہ یہ کہ تم اللہ کی خاطر دو دو اور ایک ایک کرکے اٹھو پر غور کرو۔ تمہارے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے۔ وہ تو ایک شدید عذاب سے پہلے تم کو آگاہ کرنے والا ہے۔

10۔ آگے کا مضمون۔ آیات 46۔ 54 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں مخالفین کو نہایت درد مندی کے ساتھ نصیحت بھی ہے اور نہایت پرزور وعید بھی کہ سنبھل جائو۔ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر گیا وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس وقت پچھتائو گے لیکن یہ پچھتانا بالکل بےسود ہوگا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت آیت 64 پیچھے آیات، 80 میں گزر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ جب اپنی قوم کے متمر دین کو عذاب و قیامت سے ڈراتے تو وہ آپ کی اس بات کو ایک قسم کے خبط پر محمول کرتے۔ کہتے کہ اس شخص کو ایک قسم کا مالیخولیا ہے جس کے سبب سے آگے پیچھے اس کو عذاب ہی عذاب نظر آتا ہے۔ اسی کا جواب دیتے ہوئے نہایت ناصحانہ انداز میں فرمایا کہ ان سے کہو کہ میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، خدارا، اس پر عمل کرو۔ وہ یہ کہ اپنے ذہن کو ضد، تعصب اور غرور سے پاک کرکے، دو دو، ایک ایک، کی صورت میں اٹھو، میری باتیں سنو اور معاملے پر سنجیدگی سے غور کرو۔ ’ للہ ‘ سے مقصود اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اب تک تو تمہاری روش تمام تر نفس اور شیطان کے تابع رہی ہے اس وہ سے تم معاملے پر غیر جانبدار ہو کر غور نہ کرسکے لیکن آدمی پر سب سے بڑا حق اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ کو تم بھی مانتے ہو تو اس کی خاطر اپنے دوسرے واعیات اور محرکات سے آزاد ہوکر، اصل حقیقت پر غور کرنے کے لئے ازِ نواٹھو۔ اٹھو۔ یعنی اس کا ارادہ کرو اور اس کے لئے کمر ہمت باندھو۔ تعصباب کی اس فضا میں ہی بات ہوگی تو تمہارے دلوں پر شاق، لیکن اللہ کے لئے اس شاق چیز کو گوارا کرو۔ یہی راہ سعادت کی راہ ہے۔ ’ مثنی افرادی ‘ کی قید سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ بھیر کا ذہن حقائق کو سوچنے سمجھنے کا اہل نہیں ہوتا۔ اب تک تو تمہاری روش یہ رہی ہے کہ جہاں میری زبان سے کوئی بات نکلی تمہارے اشرار نے اس کے خلاف ہنگامہ برپا کرنے کی کوشش کی کہ کوئی میری بات سنو سمجھنے نہ پائے۔ یہ طریقہ چھوڑو اور اس کی جگہ یہ طریقہ اختیار کرو کہ دو دو اور ایک ایک کرکے میرے پاس آئو، میری باتیں توجہ سے سنو، میرے دلائل پر غور کرو، اپنے شبہات پیش کرکے مجھ سے ان کے جواب معلوم کرو اور پھر غور کرو کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں جنون میں کہہ رہا ہوں یا تمہارے سامنے وہ انجام رکھ رہا ہوں جس سے کل تمہیں لازماً دو چار ہونا ہے۔ ’ مابصا جبکم من جنتہ ‘ یعنی اس طرح سنجیدگی کے ساتھ غور کرو گے تو تم پر یہ حقیقت خود واضح ہوجائے گی کہ تمہارے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے بلکہ خود تمہاری اپنی عقلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے کہ تم اس کے خلاف جتھ بندی کرکے اس کو زچ کرنے کے درپے ہو۔ لفظ ’ صاحب ‘ یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جس شخص کو تم خبطی اور دیوانہ قرار دے رہے ہو اس سے تمہیں کوئی نیا سابقہ پیش نہیں آیا ہے بلکہ یہ تمہارے ہی اندر پیدا ہوا، تمہارے ہی سامنے پلا اور بڑھا اور تمہارے ہی آگے یہ اپنی اس عمر کو پہنچا۔ اس پورے زمانے میں تم نے دیکھا کہ یہ تمہارے ہر خیر میں شریک اور تمہارے ہر شر سے مجتنب رہا ہے۔ تم نے ہر آزمائش میں اس کو صادق اور امین پایا۔ اس کو سوجھ بوجھ اور اس کی عقل و بصیرت پر تم نے اعتماد کیا اور اس کو اپنے اندر سب سے بڑا عاقل و فرزانہ مانتے رہے لیکن آج اسی فرزانہ کو دیوانہ قرار دے رہے ہو ! غور کرو، دیوانہ وہ ہے یا تم ! یہاں تتفکروا کے بعد وقف ہے اور یہ وقف نہایت بلیغ ہے۔ گویا غوروفکر کی دعوت کے بعد لوگوں کو غوروفکر کے لئے تھوڑا سا وقت بھی دے دیا۔ اس کے بعد اس غوروفکر کا جو صحیح نتیجہ نکلنا چاہتے وہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ اس قسم کے وقت کی متعدد مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ ’ ان ھوالا نذیر نکم بین یدی عذاب شدید۔ یہ بات بھی یہاں نہایت برمحل ہے۔ طلب یہ ہے کہ یہ جو تم دیکھتے ہو کہ اس کے دل و دماغ پر ایک ہی فکر، عذاب اور آخرت کی، ہر وقت سوار ہے۔ اٹھتے بیٹھتے ہر لمحہ وہ تم کو اسی سے ڈراتا اور اسی کے لئے تیاری کرنے کی نصیحت کرتا ہے۔ تمہاری تمام ناقدریوں، دل آزاریوں اور ستم رانیوں کے باوجود تمہارے پیچھے پھرتا یہ تو اس یہ یہ بےقراری بھی اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس کو کوئی جنون لاحق ہے بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ جو عذاب تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے لیکن تمہیں وہ نظر نہیں آرہا ہے۔ اس کی یہ ساری بےچینی و بےقراری تمہاری ہمدردی میں ہے لیکن تم اپنے اندھے پن کے سبب سے اس کی ان بےچینیوں اور بےقراریوں کو خبط و جزن پر محمول کرتے ہو۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ایک رسول کو اپنی قوم پر آنے والے عذاب کا نظر آنا کوئی مجاز نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ رسول اپنی قوم کے لئے رحمت کی گھٹا بن کر آتا ہے لیکن اس رحمت کی گھٹا کے اندر ہی اس کی قوم کے لئے صاعقہ عذاب بھی پوشیدہ ہوتا ہے اگر قوم اس کی تکذیب کردیتی ہے۔ یہی عذاب آخرت کے عذاب کا دیباچہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ہر رسول نے اپنی قوم کو ان دونوں عذابوں سے ڈرایا ہے اور اس یقین کے ساتھ ڈرایا ہے کہ گویا وہ اپنی دونوں آنکھوں سے اس عذاب کو دیکھ رہا ہو۔ لیکن عقل کے اندھوں نے اس کے اس یقین کو جنون پر محمول کیا۔ آنحضرت ﷺ نے کوہ صنعا پر چڑھ کر ’ واصباحا ‘ کا جو نعرہ لگایا وہ اسی یقین کا مظاہرہ تھا لیکن قریش کے لیڈروں نے اس سے متنبہ ہونے کے بجائے اس کا مذاق اڑایا۔
Ayah 34:47

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

کہو، میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو تمہارے ہی لیے مانگا ہے۔ میرا اجر تو بس اللہ پر ہے اور وہ ہر چیز پر حاضر و ناظر ہے۔

آیت 47 یہ مضمون قرآن میں دو اسلوبوں سے آیا ہے اور دونوں کا مفاد ایک ہی ہے۔ ایک اسلوب یہ ہے کہ میں نے اپنی خدمت پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگا ہے کہ تم مجھ سے بدک رہے ہو، میرا اجر تو بس میرے رب ہی کے ذمہ ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر میں نے تم سے کوئی بات چاہی ہے جس کو تم اجر سمجھتے اور بار محسوس کرتے ہو تو وہ اپنے لئے ہیں بلکہ تمہاری ہی دنیا و آخرت کی بہبود کے لئے چاہی ہے۔ پہلے اسلوب کی مثالیں بکثرت ہیں۔ ان کے حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں یہ مضمون اس دوسرے اسلوب میں بیان ہوا ہے جس کی بعض نظیریں ہم نقل کرتے ہیں۔ سورة فرقان میں ہے : قل ما اسالکم علیہ من اجرا الا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلا (57) کہہ دو کہ میں نے اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگا ہے، مگر یہ کہ جو چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کرے۔ اگرچہ اس آیت کی تاویل پہلے اسلوب کے مفہوم میں بھی ہوسکتی ہے اور وہ بھی عربیت کے خلاف نہیں ہوگی لیکن اس کا یہ مطلب بھی بالکل واضح ہے کہ میں نے اپنی اس خدمت پر تم سے اپنے لئے کچھ نہیں چاہا ہے۔ اگر چاہا ہے تو تمہارے ہی لئے چاہا ہے کہ تم میں سے جو خدا کی راہ کا طالب ہو میں اس کو خدا کی صراط مستقیم دکھا دوں۔ اسی طرح سورة شوریٰ میں ہے : قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودوۃ فی القربی (23) کہہ دو کہ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ قرابت مندوں کے معاملے میں حسن سلوک کی روش اختیار کرو۔ اگرچہ اس آیت کی تاویل بھی پہلے اسلوب کی روشنی میں ہوسکتی ہے، اس پر اس کے محل میں ہم بحث کریں گے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی بالکل واضح ہے کہ اگر تم میری دعوت انفاق و صلہ رحم کو بار سمجھتے ہو تو یہ بھی میں پانے لئے نہیں بلکہ تمہارے ہی لئے اور تمہارے رشتہ داروں و قرابت مندوں ہی کے لئے چاہتا ہوں۔ اسی اسلوب پر آیت زیر بحث میں فرمایا کہ اول تو میں نے اپنی اس دعوت و تعیم پر تم سے کسی اجر کا مطالبہ کیا نہیں، میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے۔ لیکن اگر تم میرے کسی مطالبے کو اپنے اوپر بار اور اس کو میرا اجر تصور کرتے ہو تو یہ تمہاری غلط فہمی و کج اندیشی ہے۔ میں نے تم سے جو کچھ بھی چاہا ہے اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے ہی لیے چاہا ہے۔ میں تمہیں خد اور آخرت سے جو ڈراتا ہوں، نیکی کی تلقین کرتا ہوں، انفاق فی سبیل اللہ، اطعاف فقراء و یتامیٰ اور غلاموں کو آزاد کرنے پر ابھارتا ہوں تو ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جس میں میرا کوئی ذاتی مفاد ہو بلکہ ان کا فائدہ، انفرادی اور اجتماعی دونوں پہلوئوں سے، تمہی کو حاصل ہوگا۔ تم ان باتوں پر عمل کرکے اپنی دنیا بھی سنواروگے اور اپنی آخرت بھی بنائو گے۔ یہ بات قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی فرمائی گئی ہے مخاطبوں کو ملامت اور ان سے اظہار بےنیازی کے سیاق ہی میں فرمائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان ناقدروں سے کہہ دو کہ میں نے اپنی دعوت پر کوئی ٹکٹ یا چندہ تو نہیں لگا رکھا ہے کہ وہ تمہارے لئے میرے پاس آنے اور میری بات سننے میں مانع ہو رہا ہے، تم ہر وقت میرے پاس آسکتے ہو اور بےجھجک آسکتے ہو۔ میری مجلس میں کسی پر کوئی قدغن نہیں۔ تمہارے امیر و غریب سب کے لئے میرا دروازہ کھلا ہوا اور میرا سینہ کشادہ ہے اور اگر نہیں آتے تو یاد رکھو کہ میرا کچھ نہیں بگاڑو گے، اپنا ہی بگاڑو گے۔ میں نے کوئی دکان نہیں کھولی ہے کہ تم تمہاری بےالتفاقی سے میری دکان بیٹھ جائے گی۔ میں نے تو اپنے رب سے مفت پایا ہے، مفت بانٹ رہا ہوں۔ ’ وھو علی کل شئی شھید“۔ یعنی میرا اجر جس اللہ کے ذمہ ہے وہ ہر چیز پر حاضر و ناظر ہے۔ مجھے یہ اندیشہ نہیں ہے کہ میری کوئی حقیر سے حقیر خدمت بھی اس سے پوشیدہ رہے گی۔ وہ میری سرگرمیاں بھی دیکھ رہا ہے اور تمہاری ناقدریاں بھی اس کی نگاہوں میں ہیں۔ میں پورا بھروسہ رکھتا ہوں کہ وہ مجھے میری خدمات کا بھرپور صلہ دے گا۔
Ayah 34:48

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

میرا رب حق کو (باطل پر) مارے گا۔ وہ تمام بھیدوں کو خوب جاننے والا ہے

قل ان ربی یقذف بالحق، علامہ الغیوب (48) ’ یقذف بالحق، کے بعد علی الباطل کے الفاظ بربنائے قرینہ مخدوف ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا۔ بل نقذف بالحق علی الباطل مغہ (الانبیاء : 18) (ہم حق کو باطل پر ماریں گے پس وہ اس کا بھیجا نکال کے رکھ دے گا)۔ یعنی ان نادانوں کو بتا دو کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ یہ دنیا یوں ہی پیدا ہوئی، یوں ہی تمام ہوجائے گی بلکہ ایک ایسا دن لازماً آنے والا ہے جس دن اس کا خالق اس کے حق و باطل میں فیصلہ فرمائے گا اور خق کو باطل پر مارے گا جس سے باطل پاش پاش ہو کے رہ جائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اصلاً تو یہ بات آخرت کی عدالتِ کیریٰ سے متعلق ہے لیکن یہی نتیجہی اس عدالتِ صغری کا بھی برآمد ہوتا ہے جو ایک رسول کی بعثت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ ہم جگہ جگہ اس سنت الٰہی کی وضاحت کرچکے ہیں کہ جس قوم کی طرف رسول کی بعثت ہوئی اس قوم کے حق و باطل کا فیصلہ لازماً ہوگیا۔ چناچہ فتح مکہ کے موقع پر حضور ﷺ نے اعلان فرمایا کہ جاء الحق و زھق الباطل ان لباطل کان زھو قا، (حق آگیا اور باطل نابود ہوا، بیشک باطل نابود ہی ہونے والی چیز ہے)۔ ’ علامہ الغیوب ‘۔ ہمارے نزدیک یہ مستقل جملہ ہے، اور مبتداء یہاں مخذوف ہے۔ یہ حق و باطل کے درمیان عدالت کی دلیل صفاتِ الٰہی سے پیش کی گئی ہے کہ اس کائنات کا رب تمام غیب کی باتوں کو جانتا ہے، کوئی چیز بھی اس سے مخفی نہیں ہے، اس وجہ سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس کو کسی چیز کا فیصلہ کرنے میں کوئی زحمت پیش آئے گی۔ وہ ہر ایک کا پورا اعمال نامہ اس کے آگے رکھ دے گا جس میں اس کا ہر عمل درج ہوگا خواہ وہ کتنے ہی پوشیدہ گوشوں میں انجام دیا گیا ہو۔
Ayah 34:49

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نہ آغاز کرتا ہے اور نہ اعادہ۔

قل جاء الحق وما یبدی الباطل وما یعید (45) جس طرح اوپر کی آیت میں ’ یقذف بالحق ‘ کے بعد زھق الباطل ‘ کے الفاط حذف ہیں اسی طرح یہاں جاء الحق کے بعد زھق الباطل کے الفاظ حذف ہیں اور اس خلا کو وما یبدی الباطل وما یعید کے الفاظ نے بھر دیا ہے۔ فرمایا کہ ان نادانوں کو بتادو کہ اب حق قرآن کی شکل میں آگیا اور جب حق آگیا تو اس باطل کا نابود ہونا لازمی ہے جس کی وہ پرستش کرتے رہے ہیں۔ اب اگر وہ اس باطل کے ساتھ چمٹے رہے تو اس کے ساتھ وہ بھی پس جائیں گے۔ ’ وما یبدی الباطل وما یعید ‘۔ یہ باطل کی بےثباتی کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ اس کارخانہ کائنات کا آغاز اس کے خالق نے حق کے ساتھ فرمایا ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ اس کی انتہا بھی حق پر ہو۔ جب باطل کا کوئی دخل اس کے ابداء میں نہیں ہے تو اس کے اعادہ میں اس کا دخل کس طرح ہوجائے گا ؟ پس جو لوگ فرضی دیویوں دیوتائوں کی سفارشوں پر تکیہ کیے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں یاد رکھیں کہ ان کے دیوتائوں کے اختیار میں نہ کسی چیز کا ابداء ہے نہ اعادہ۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکینِ عرب اس کائنات کے ابداء میں کسی کو شریک نہیں مانتے تھے لیکن وہ اس بات کے قائل تھے کہ اگر آخرت کا مرحلہ پیش آیا تو ان کی واپسی ان کے معبودوں کی طرف ہوگی جو اپنی سفارشوں سے ان کو وہاں بھی اعلیٰ مراتب دلوائیں گے۔ قرآن نے ان کی اس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے جگہ جگہ ان کے اس منالطہ پر گرفت کی ہے کہ جب تم اس کائنات کے ابداء میں کسی کو شریک نہیں مانتے تو اس کے اعادہ میں کیوں شریک مانتے ہو ؟ سورة یونس میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے :۔ الیہ مرجعکم جمیعا وعد اللہ حقا انہ یبدو الخلق ثمہ بعیدہ لجرزی الذین امنوا وعملو الصلحت بالقسط (یونس : 4) اسی کی طرف تم سب کی واپسی ہونی ہے۔ یہ اللہ کا شدنی وعدہ ہے۔ بیشک ہی خلق کا آغاز فرماتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ فرمائے گا تاکہ وہ ان لوگوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ پھر یہ مضمون دوسرے اسلوب سے یوں بیان ہوا ہے : قل ھل من شرکاء کم من یبعا الخلق ثم یعیدہ فانی توفکون (یونس : 34) ان سے پوچھو تمہارے شرکاء میں سے کوئی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا ؟ کہہ دو ، اللہ ہی خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا۔ تو تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو !
Ayah 34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

کہہ دو اگر میں گمراہی پر ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھی پر ہے اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کی بدولت ہے جو میرا رب میری طرف بھیج رہا ہے۔ وہ سننے والا اور نہایت قریب ہے۔

قل ان ضلک فانما اضل علی نفسی وان اھتدیت فبما یوحی الی ربی انہ سمیع قریب (50) اب یہ ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی کہ ان سے کہو دو کہ اگر میں گمراہی ہوں، جیسا کہ تم سمجھتے ہو تو اس گمراہی کا خمیازہ بہرحال مجھ ہی کو بھگتنا ہے، تم اس کے وبال سے محفوظ ہو اس لئے کہ تم اس میں میرا ساتھ نہیں دے رہے ہو۔ لیکن اس مسئہ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اس پر بھی اچھی طرح غور کرلو۔ وہ یہ کہ اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ ہدایت اس وحی کی بدولت مجھے حاصل ہوئی ہے جو میرا پروردگار مجھ پر نازل فرما رہا ہے۔ اس صورت میں میری تکذیب تمہارے لئے کوئی سہل چیز نہیں ہے بلکہ تم وحی الٰہی کے جھٹلانے والے ٹھہرتے ہو اور وحی الٰہی کی تکذیب کرنے والوں کو جو انجام ہونا چاہے اور ہوگا وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے نتائج و عواقب کو بہت دور تک سوچ لو ! ! ’ انہ سمیع قریب ‘۔ یہ تقویض الی اللہ کا کلمہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تم سے زیادہ بحث وجدال بےسود ہے۔ میں یہ آخری بات کہہ کے تمہارا معاملہ اپنے رب کے حوالے کرتا ہوں۔ تم نہ تو میری بات سننے کے لئے تیار ہو، نہ قریب آنے کے روادار ہو لیکن میرا رب میری باتیں سننے والا بھی ہے اور قریب بھی ہے۔ تو اب تمہارے پیچھے سر کھپانے کے بجائے اسی سے عرض معروض کروں گا جو سنتا اور قبول فرماتا ہے۔
Ayah 34:51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور اگر تم دیکھ پاتے جب ان پر گبھراہٹ طاری ہوگی۔ پس وہ کہیں بھاگ نہ سکیں گے اور پاس ہی سے دھر لئے جائیں گے

ولو تری اذ فزعوا فملا فوت واخذوا من مکان قریب (51) یہاں جوابِ شرط مخدوف ہے۔ اس کی مثال آیت 31 میں گزر چکی ہے۔ اس طرح جوابِ شرط کا محذوف ہونا اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ جواب تعبیر وتصویر سے مافوق ہے۔ فرمایا کہ آج تو ان کے استکبار کا یہ حال ہے کہ پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دے رہے ہیں لیکن اگر کہیں تم ان کے اس وقت کو دیکھ پاتے جب کہ وہ خدا کی اس گرفت میں آجائیں جس کو آج جھٹلا رہے ہیں تب تم کو ان کی بےبسی کا کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح یہ ناک رگڑتے اور حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں۔ فرمایا کہ جب یہ خدا کے عذاب کی پکڑ میں آئیں گے تو گھبرا کر بھاگنے اور بچنے کی کوشش کریں گے لیکن خدا کی گرفت سے کون بچ سکا ہے جو یہ اس سے بھاگ سکیں گے۔ ’ واخذوا من مکان قریب ‘ یعنی یہ بھاگنا چاہیں گے لیکن پاس ہی سے دھر لئے جائیں گے۔ ان کے پائوں کے نیچے یا ان کے سر کے اوپر سے اس طرح خدا کا عذاب ان کو اپنے قابو میں کرے گا کہ کسی طرف بھی ان کو راہ فرار سمجھائی نہیں دے گی۔
Ayah 34:52

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہیں گے ہم اس پر ایمان لائے۔ اور اتنی دور سے ان کے لے اس کا پانا کہاں !

آیت 52 یعنی اس وقت ان کا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا اور وہ پکار اٹھیں گے کہ اب ہم اس قرآن پر ایمان لائے۔ ضمیر کا مرجع یہاں قرآن ہے جس کا ذکر اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ قرآن کو پیش کرنے والے یعنی آنحضرت ﷺ از خود اس میں شامل ہیں۔ ’ وانی لھم الستنا وش من مکان بعید۔ ‘ یعنی ایمان کا محل تو یہ دنیا ہے اور وہ بھی عذاب الٰہی کے ظہور سے پہلے تو جب تو عذاب الٰہی ظاہر ہوجائے گا اس وقت تو یہ ایمان کی منزل سے اتنی دور نکل جائیں گے کہ وہاں سے ان کے لئے اس کے پاسکنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جائے گا۔ عذابِ الٰہی کی گرفت میں آجانے کے بعد تو فرعون جیسا سرکش بھی پکار اٹھا تھا کہ میں موسیٰ و ہارون کے رب پر ایمان لایا ! لیکن اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جواب ملا کہ التئن قد عصیت من قبل ‘ (اب ایمان لائے ! حالانکہ جب ایمان لانے کا وقت تھا تو تم نے نافرمانی کی)۔ ’ تناوش ‘ کے معنی پا لینے کے ہیں اور ’ انی الھم ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ بھلا اس وقت کے پانے کا کیا امکان ہوگا ! دست کوتاہ است و خرما برنخیل
Ayah 34:53

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

اور اس سے پہلے انہوں نے اس کا انکار کیا اور دور سے اٹکلی کے تیز تکتے چلاتے رہے

آیت 53 ’ قذف بالحجارۃ ‘ کے معنی ہیں پتھر پھینکا۔ ’ قذف بالقول ‘ تکلم بلا تدبر ولا تامل۔ یعنی بےسوچے سمجھے بات پھینک ماری۔ یہیں سے یہ ’ رجما بالغیب ‘ یعنی اتکل پچو بات کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب دیکھنے کے بعد وہ ایمان کا اقرار کریں گے حالانکہ اس سے پہلے وہ دور سے بیٹھے ہوئے اٹکل کے تیر تکے چلاتے رہے تھے کہ یہ کتاب من گھڑت ہے، اس کا پیش کرنے والا (العیاذ باللہ) برخود غلط ہے، عذاب کی دھمکی محض دھونس ہے، قیامت کا ڈراوا محض خلل دماغ کا نتیجہ ہے اور اگر قیامت کا کوئی مرحلہ پیش آیا تو ہمارے شرکاء کے طفیل ہمارا تفوق وہاں بھی قائم رہیگا۔ الغرض عقل کو بالائے طاق رکھ کے قرآن اور پیغمبر ﷺ کی تکذیب کے جنون میں جو کچھ زبان پر آیا بکتے رہے لیکن جب حقیقت سامنے آجائے گی تو اس کا اقرار کریں گے لیکن یہ اقرار بعد از وقت اور بالکل سود ہوگا۔
Ayah 34:54

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور ان کے اور ان کی چاہتوں کے درمیان دیوار حائل ہوجائے گی جس طرح اس سے پہلے ان کے ہم مشیریوں کے ساتھ معاملہ ہوا۔ بیشک وہ بھی الجھن میں ڈالنے ولاے شک میں پڑے رہے۔

آیت 54 یعنی جب فیصلہ کن عذاب نمودار ہوجائے گا تو ان کے اور ان کی تمام چاہتوں کے مابین دیوار حائل ہوجائے گی۔ وہ ایمان لانا چاہیں گے لیکن ان کا یہ چاہنا بےسود ہوگا۔ وہ مہلت کی درخواست کریں گے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوگی۔ وہ اپنے شریکوں کو پکاریں گے لیکن ان کی طرف سے بھی ان کی کوئی فریاد رسی نہیں ہوگی۔ غرض امید کے تمام دروازے ان پر بند ہوجائیں گے اور ایک ابدی مایوسی سے ان کو سابقہ پیش آئے گا۔ ’ کما فعل باشیاعھم ‘ یعنی ان کو بھی اسی صورت حال سے دو چار ہونا پڑے گا جس سے ان کے پشرو ہم مشربوں کو دو چار ہونا پڑا۔ یہ اشارہ عاد، ثمود، اہل مدین اور فرعون وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل کے ساتھ قرآن میں سناٹی جا چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کو ایسی چیزیں نہیں ہے جو اس سے پہلے پیش نہ آچکی ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان تمام قوموں کو اسی افتاد سے سابقہ پیش آیا جنہوں نے ان کی طرح اپنے رسولوں کے انداز کی تکذیب کی۔ اگر یہ ان کے حالات سے سبق نہیں لیتے تو لازماً انہی کے انجام سے دو چار ہوں گے۔ انھم کانوا فی شک مریب ‘۔ یعنی وہ بھی انہی کی طرح الجھن میں ڈلانے والے شک میں پڑے رہے یہاں تک کہ بالآخر فیصلہ کن گھڑی سر پر آہی گئی۔ شک مریب کی نوعیت پر ھود 110062 میں ہم گفتگو کرچکے ہیںَ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے، ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد اللہ علی ذلک۔ رحمان آباد : 3 جنوری، 1975 ء؁۔ جمعہ 9 بجے دن۔