Ayah 35:28آیت 28
فرمایا کہ جمادات کی طرح انسانوں، جانداروں اور پوپایوں میں بھی قدرت کی یہی گونا گونی و بوقلمونی نمایاں ہے۔ لفظ ’ الوان ‘ یہاں بھی صرف رنگوں کے مفہوم میں نہیں بلکہ انواع و اقسام کے وسیع مفہوم میں ہے۔ یعنی صورت، سیرت، صفات، مزاج، خصوصیات اور عادات واطوار کے اعتبار سے ان میں بڑا فرق و اختلاف پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہر جانور سے دودھ کی توقع نہیں کی جاسکتی اسی طرح ہر آدمی سے خدا کی خشیت کی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے۔ اللہ کے بندوں میں سے اس سے ڈرنے والے وہی بنیں گے جن کے اندر علم و معرفت کی روشنی ہوگی۔
لفظ ’ علماء ‘ یہاں اصطلاحی مفہوم میں نہیں بلکہ اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ اوپر آیت 18 میں جس طرح فرمایا ہے ’ انما تنذر الذین یخشون ربھم بالغیب ‘ (تم تو بس انہی لوگوں کو ڈرا سکتے ہو جو غیب میں رہتے، اپنے رب سے ڈرنے والے بنیں، اسی طرح یہاں فرمایا ہے ’ کذلک انما یخشی اللہ من عبادہ العملوا ‘ اسے معلوم ہوا کہ ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو محض ظاہر پرست ہوتے ہیں، محسوسات سے آگے نہ ان کو کچھ نظر آتا اور نہ اس سے آگے وہ کچھ دیکھنے کی کوشش ہی کرتے، دوسرے وہ ہوتے ہیں جن کے اندر ظاہر سے باطن اور مجاز سے حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت ہوتی ہے، اور جو اپنے بطن و فرض کی مطلوبات سے زیادہ اہمیت اپنی عقل اور روح کے مطالبات کو دیتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ ہیں جو انسانیت کے گلِ سرسبد اور علماء کے لقب کے اصلی مستحق ہیں اور یہی لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنیوالے بنتے ہیں اور اللہ کے رسولوں کی دعوت ان کو اپیل کرتی ہے۔
’ ان اللہ عزیز غفور ‘ جس طرح اوپر والی بات نبی ﷺ کو تسلی دینے کے لئے فرمائی گئی ہے اسی طرح ’ عزیز ‘ اور غفور کی صفات کا حوالہ بھی آپ کی تسلی ہی کے لئے دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ تمہاری دعوت کو رد کر رہے ہیں خدا جب چاہے ان کو پکڑ سکتا ہے لیکن وہ ’ عزیز ‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ’ غفور ‘ بھی ہے اس وجہ سیجب تک اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے وہ اس طرح کے لوگوں کو مہلت دیتا ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحیح علم کا منبع در حقیقت اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔ جس کو خدا کی معرفت حاصل نہیں ہوئی وہ علم سے بالکل محروم ہے اگرچہ وہ دنیا جہان کی کتابیں حفظ کر ڈالے۔ اسی طرح یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جس کو خدا کی معرفت حاصل ہے اس کے اندر لازماً خدا کی خشیت بھی ہوگی۔ اگر کوئی شخص خدا کی خشیت سے محروم ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس کی معرفت سے بھی محروم ہے۔ یہی معرفت اور خشیت انسان کے تمام علوم و افکار میں حقیقی زندگی پیدا کرتی ہے جس سے علوم و فنون دنیا کے لئے موجب خیر و برکت بنتے ہیں۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو انسان کی ساری ذہانت شیطان کی مقصد برآری میں صرف ہوتی ہے اور وہ بالآخر تباہی کا موجب بنتی ہے۔
یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہو کہ مذکورہ بالاآیات سے تو یہ ابت نکلتی ہے کہ جس طرح اس کارخانہ کائنات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف الانواع چیزیں پیدا کی ہیں اور ان سب کے پیدا کرنے میں اس کی حکمت و مصلحت ہے اسی طرح ان لوگوں کے وجود میں بھی حکمت و مصلحت سے جو حق کے مخالف خدا کی مشیت سے خالی اور باطل کے علم بردار ہیں۔ جب صورت واقعہ یہ ہے تو آخر یہ لوگ سزوار ملامت اور مستحقِ عتاب و عذاب کس بنا پر ہیں ؟ اگرچہ ہم اوپر کی سطروں میں اس شہ بےکو صاف کرتے آئے ہیں لیکن یہاں پھر اس کے لئے صحی رویہ یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت کے داعیات کا ساتھ دے لیکن چونکہ وہ حیوانات و جمادات کی طرح مجبور نہیں بلکہ ذی اختیار ہے اس وجہ سے ان میں بہتیرے اپنی فطرت اور اپنے رب کے احکام کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں۔ اپنے اختیار کے اس سوئِ استعمال پر وہ مستحقِ سزا ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوجائے اور ان کی مخالفتِ حق اہل حق کے امتحان کا ذریعہ بن سکے۔ اس پہلو سے غور کیجئے تو یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ ایک پہلو سے ان کا وجود مطابق حکمت و مصلھت ہے اور قدرت اس حکمت و مصلحت ہی کی خار ان کو اس دنیا میں ایک خاص وقت تک کے لئے مہلت دیتی ہے لیکن دوسرے پہلو سے یہ مستحق سزا ہیں کہ انہوں نے اپنے سمع و بصر کی صلاحیتوں کی قدر نہیں کی اور نفس کی خواہشوں کی پیروی میں اپنے اختیار کو غلط استعمال کیا۔
Ayah 35:296۔ آگے کا مضمون۔ آیات 29۔ 38
اوپر کے پیرے میں جو بات اصولی حیثیت سے بیان فرمائی ہے آگے کی آیات میں اسی کو واقات و حالت پر منطبق کیا ہے یعنی یہ واضح فرمایا ہے کہ پچھلی امتوں کے وارثین میں سے کون لوگ ہیں جو علماء کے لقب کے مستحق ہیں اور وہ اس قرآن پر ایمان لانے والے بنیں گے اور اب جس قوم کو اللہ نے اپنی کتاب کی وراثت کے لئے منتخب کیا ہے اس کے اخیار یا اشرار اس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کریں گے۔ پھر ان دونوں کے نتائج اعمال کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 29
اوپر آیت 28 میں جن لوگوں کو ’ علما ‘ کہا ہے اور جن کی تعریف میں فرمایا ہے کہ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء (اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈریں گے جو علم رکھنے والے ہیں)۔ یہ انہی علماء کی تفصیل ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے، نماز کا اہتما کرتے اور خدا کے بخشے ہوئے رزق و فضل میں سے فیاضی کے ساتھ، سرا وعلانیۃ راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں، یہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ اور ان کا یہ انفاق ایک ایسی تجارت ہے جس کے لئے مستقبل میں کسی کساد بازاری کا اندیشہ نہیں بلکہ اس کی برکات میں برابر اضافہ پر ہوتا رہے گا۔
یہ اشارہ اگرچہ ان تمام صالحین کی طرف ہوسکتا ہے جو ان صفات سے متصف تھے لیکن میرا ذہن اس طرف جتا ہے کہ یہ ان علمائے اہل کتاب کی طرف اشارہ یہ جو قرآن پر ایمان لائے اور قرآن نے جگہ جگہ جن کی تعریف فرمائی ہے۔ میرے نزدیک اس کا قرینہ یہ ہے کہ ان کے ذکر کے بعد بنی اسماعیل کے اخیار اور اشرار کا زکر آیت 32 میں مستقلاً آرہا ہے اور ان کا ذکر ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادتا (پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو جن کو اس کے لئے منتخب کیا) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ یہاں لفظ ثم (پھر) اس بات کی دلیل ہے کہ اوپر جن لوگوں کا ذکر ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن سے پہلے کی کتاب کے وارث بنائے گئے تھے اور وہ اللہ کی توفیق سے اس پر قائم رہے جس کی برکت سے ان کو قرآن کے نازل ہونے کے بعد اس پر بھی ایمان لانے کی سعادت حاصل ہوئی۔
یہاں ان صالحین اہل کتاب کی تعریف میں تین باتوں کا ذکر خاص طور پر کیا ہے۔ تلاوتِ کتاب اللہ، اقامت صلوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی تین چیزیں دین کی حقیقی محافظ اور خشیت الٰہی کی اصلی علامت ہیں اور قرآن میں نہایت تصریح کے ساتھ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ یہود نے اپنی کتاب فراموش کردی تھی، نماز ضائع کر بیٹھے تھے اور ان پر نحالت و زرپرستی کی بیماری مسلط ہوگئی تھی اس وجہ سے وہ قرآن پر ایمان لانے کی سعادت سے محروم ہے۔ ان کے اندر سے صرف وہ لوگ قرآن پر ایمان لائے جو ان بیماریوں سے محفوظ رہے۔
’ یرجون تجارۃ لن تبور ‘ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جنہوں نے اس دنیا کی زندگی کو مقصود بنا کر حرام و حلال کی کمائی سے اپنی تجوریاں بھریں اور ہر ایک نے راک فیلر بننے کی کوشش کی ان کا حشر تو ایک دن یہ ہونا ہے کہ ان کی ساری دولت خاک اور راکھ ہو کر اڑ جائے گی۔ البتہ جو لوگ اپنی دولت اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے وہ اپنا سرمایہ ایک ایسے کاروبار میں لگا رہے ہیں جس میں کبھی کسی خسارے کا اندیشہ نہیں ہے۔
Ayah 35:30آیت 30
یہ ان کے انفاق کے محرک کی طرف اشارہ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بھرپور صلہ کا وعدہ بھی کہ وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں نہ ریاء و نمائش کے لئے خرچ کرتے ہیں، نہ اس کا کوئی معاوضہ چاہتے اور نہ اس کا کوئی احسان جتاتے ہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرتے ہیں کہ وہ ان کو اس کا پورا پورا صلہ دے اور اپنے فضل سے اس پر مزید اضافہ فرمائے۔ چناچہ ان کا رب ان کے ساتھ ان کی توقعات کے مطابق معاملہ کرے گا اس لئے کہ وہ کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف اور بندوں کے اعمال کی قدر فرمانے والا ہے۔ یہاں ’ غفور شکور ‘ کی صفت کا حوالہ بندوں کی امید افزائی کے لئے ہے کہ ان کی نیکیاں قبول کرنے کے معاملے میں اللہ تعالیٰ بڑی چشم پوشی سے کام لے گا اور ان کے چھوٹے چھوٹے عمل کو بھی قدرو عزت عزت کے ساتھ قبول نہ فرمائے گا۔
Ayah 35:31آیت 31
یہ صالحین اہل کتاب کو دعوت ایمان ہے کہ جو کتاب ہم نے تم پر وحی کی ہے یہی حق ہے۔ اس لئے تمام طالبین حق کو چاہیے کہ اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں اور حرزجاں بنائیں۔ ’ ھو الحق ‘ میں حصر کا جو مضمون ہے وہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس سے پہلے اللہ نے اہل کتاب کو جو کتاب دی اس کو انہوں نے اپنی تحریفات سے رطب دیا بس کا مجموعہ بنا ڈالا اس وجہ سے وہ حق کی نعمت سے محروم ہوگئے تھے۔ اب اللہ نے اس کتاب کی صورت میں اس کو بالکل بےآمیز و کامل شکل میں از سرِ نو اجاگر کیا ہے تاکہ یہ خلق کی ہدایت کا ذریعہ بنے۔
’ مصدقا لما بین یدیہ ‘۔ یہ اس کتاب کی حقانیت کی وہ دلیل ہے جو خاص طور پر اہل کتاب پر اتمامِ حجت کے لئے قرآن میں جگہ جگہ مذکور ہوئی ہے کہ یہ کتاب ان پیشین گوئیوں کا مصداق ہے جو سابق صحیفوں میں اس کے باب میں پہلے سے وارد ہیں۔ ان پیشین وئیوں کا حوالہ ان کے محل میں تفصیل سے دے چکے ہیں۔
’ ان اللہ لعبادہ لخبیر بصیرا۔ فرمایا کہ اللہ نے اس حق کی حفاظت کا یہ اہتمام اس لئے فرمایا کہ وہ اپنے بندوں کے حال کی خبر رکھنے والا اور ان کے بنائو اور بگاڑ کو برابر دیکھتے رہنے والا ہے۔ چناچہ جب اس نے دیکھا کہ جس ہدایت سے اس نے ان کو نوازا تھا پاسبانوں کی خیانت سے وہ اس سے محروم ہوگئے تو اس کی حفاظت کا اس نے از سرِ نو انتظام فرمایا۔ اگر وہ یہ انتظام نہ فرماتا تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ وہ اپنی خلق کے خیر و شر سے بالکل بےتعلق ہے۔ حالانکہ وہ بےتعلق نہیں بلکہ ایک چیز سے باخبر اور ہر جزئیہ پر نظر رکھنے والا ہے۔
Ayah 35:32آیت 32
یہ اس انتظام کا ذکر ہے جو اپنی ہدایت سے خلق کو بہرہ یاب کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ’ الذین اصطفینا من عبادتا ‘ سے یہاں بنی اسماعیل یا بالفاظ دیگر ’ امین عرب ‘ من حیث الجماعت مراد ہیں جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے اپنا وہ آخری رسول بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا جس کے ذریعے سے خلق کو آخری اور کامل شریعت ملنے والی تھی۔ فرمایا کہ ہم نے اپنے بندوں میں سے ایک دوسرے گروہ کو چنا اور اس کو اپنی کتاب کا وارث بنایا۔ ’ وارث بنایا ‘ کے الفاظ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ا سے سے پہلے جوگ کتاب الٰہی کے وارث بنائے گئے تھے (یعنی بنی اسرائیل) ان سے یہ امانت چھینی اور ایک دوسرے گروہ کو جس کو اس شرف کے لئے منتخب کیا، یعنی بنی اسماعیل کو، یہ امانت بخشی۔
امیوں کے اسی شرف کی طرف اشارہ سورة جمعہ کی آیت ھو الذین بعث فی الامین رسولا منھم الایۃ ‘ میں سے اور قرآن نے جگہ جگہ ان کے اس شرف کا حوالہ دے کر ان کو ایمان کی دعوت دی یہ کہ وہ اس کی قدر کریں۔ اگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی تو دنیا کی امامت کی جس عزت کے لئے اللہ نے ان کا انتخاب فرمایا ہے وہ اس سے اپنے کو محروم کرلیں گے۔ امیوں کی اس عزت افزائی کا ذکر سورة نساء میں یوں آیا ہے۔
ام یعسدون الناس علی ما اتھم اللہ من فضلہ فقد اتینا ال ابراھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیما فمنھم من امن بہ ومنھم من صدعنہ وکفی بجھنم سعیرا۔ (النساء : 54۔ 55)
کیا (بنی اسرائیل) اس فضل کی بنا پر لوگوں پر (بنی اسماعیل پر) حسد کر رہے ہیں جو ہم نے ان پر (بنی اسماعیل پر) کیا ؟ اگر وہ حسد کر رہے ہیں تو جتنا حسد کرنا چاہیں کرلیں، ہم نے تو آل ابراہیم (بنی اسماعیل) کو کتاب اور حکمت بھی عطا فرمائی اور ان کو ایک عظیم بادشاہی بھی بخشی تو ان میں سے (بنی اسماعیل میں سے) کچھ تو اس کتاب پر ایمان لائے اور ان میں سے کچھ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں اور دوزخ کی آگ ان کے لئے کافی ہے۔
اس آیت کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں آیت زیر بحث کو سمجھنے کے لئے اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ جس طرح اس آیت میں بنی اسماعیل من حیث الجماعت مراد ہیں اور ان کو کتاب و حکمت اور ملک عظیم دیے جانے کا ذکر ہے اسی طرح آیت زیر بحث میں ان کی جس برگزیدگی کی طرف اشارہ ہے وہ من حیث الجماعت ان کو حاصلہوئی۔ یہود کو ان کی اس برگزیدگی پر بڑا حسد تھا اور ان کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی مخالفت کا ایک بڑا محرک یہی تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ کی نبوت اگر قائم ہوگئی تو اس طرح وہ مذہبی پیشوائی جو اب تک ان کو حاصل رہی ہے ان کے حریفوں یعنی بنی اسماعیل کی طرف منتقل ہوجائے گی۔ قرآن نے جگہ جگہ بنی اسرائیل کے اس کھوٹ سے عربوں کو آگاہ کیا ہے اور ان کی دعوت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جس شرف سے نوازا اور جس منصب عظیم کے لئے ان کا انتخاب فرمایا ہے اس کی قدر کریں، اس کی مخالفت کرکے اپنے دشمنوں کی مقصد برآری کا سامان نہ کریں۔ اسی طرح یہاں اس برگزیدگی کا حوالہ اس مقصد سے دیا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس فضل وانعام کی قدر کریں، اس سے محروم نہ رہیں۔
’ فمنھم ظالم لنفسہ، ومنھم مقتصد ومنھم سابق بالخیرات باذن اللہ۔ یہ من حیث الافراد ان کا وہ رویہ بیان ہوا ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے جواب میں اختیار کیا۔ فرمایا کہ ان میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں یعنی اپنا ایڑی چوٹی کا زور اس کی مخالفت میں صرف کر رہے ہیں۔ نہ خود اس کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں نہ کسی دوسرے ہی کو قبول کرنے دینا چاہتے ہیں۔ سورة نساء کی مذکورہ بالا آیت میں اسی گروہ کا ذکر ومنھم من صد عنہ ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے یعنی خود بھی اس سے اعراض کیے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ لفظ ’ صد ‘ رکنے اور روکنے دونوں معنوں میں آتا ہے اسی گروہ کو یہاں ’ ظالم لنفسہ ‘ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی یہ اپنی اس مخالفت سے اپنی ہی جانوں پر طلم ڈھا رہے ہیں کہ اپنے لئے خدا کے سب سے بڑے فضل سے محرومی اور جہنم کے عذاب کا سامان کر رہے ہیں ورنہ جہاں تک خدا کے دین کا تعلق ہے اس کو ان کی مخالفت سے کوئی گزند پہنچنے والا نہیں ہے۔ لفظ ’ ظلم ‘ سے قرآن مجید میں بالعموم شرک کو تعبیر کیا گیا ہے۔ سورة صافات میں ہے۔ ’ ومن ذریتھما محسنوظالم لنفہ مبین (113) (اور ان دونوں (ابراہیم و اسحاق) کی ذریت میں نیکو کار بھی ہیں اور اپنی جانوں پر کھلا ہوا ظلم ڈھانے والے بھی) مفسرین نے عام طور پر الذین اصطفینا من عبادنا ‘ سے امت مسلمہ کو مراد لیا ہے اور پھر اس سے یہ نتیجہ بھی، معلوم نہیں، کس طرح نکال لیا ہے کہ یہ ظالمین بھی بخش دیے جائیں گے۔ ہم نے آیت کا صحیح موقع و محل معین کردیا ہے اس وجہ سے اس خیال کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ہماری تائید میں حضرت اب عباس ؓ اور مجاہد سے روایات بھی ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو تفسیر ابن کثیر یا تفسیر ابن جریر میں دیکھ لیجئے۔ ان بزرگ مفسرین نے ’ ظالم لنفسہ ‘ سے ان لوگوں کو مراد لیا ہے جن کا ذکر سورة واقعہ میں ’ اصحاب المشمۃ ‘ سے ہوا ہے۔
ومنھم مقتصد ‘۔ یہ دوسرے گروہ کا ذکر ہے۔ ’ مقتصد ‘ میانہ رو کو کہتے ہیں۔ یعنی یہ لوگ مخالفت تو نہیں کرتے ہیں لیکن آگے بڑھ کر اس دعوت حق کی حمایت کا حوصلہ بھی نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا مخالفت نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کو اس دعوت کے حق ہونے کا احساس ہے لیکن یہ احساس اتنا قوی نہیں ہے کہ وہ تمام پیش و عقب سے بالکل بےپروا ہو کر اس کی حمایت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ قرآن نے ان کے لئے یہ لفظ استعمال کرکے فی الجملہ ان کے متعلق یہ امید دلائی ہے کہ یہ لوگ پہلے گروہ (ظالم لنفسہ) کی طرح اس نعمت سے محروم رہنے والے نہیں ہیں بلکہ دیر سویر ان کا تردد رفع ہوجائے گا اور اللہ نے چاہا تو یہ اس دعوت کے پرزور حامیوں میں بن جائیں گے۔
’ ومنھم سابق بالخیرات ‘۔ یہ تیسرے گروہ کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اندر حق کا شعور اتنا قوی ہوتا ہے کہ ہر دعوت حق ان کو فوراً اپیل کرتی ہے اور ان کی قوت ارادی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ جب ان کو کوئی چیز اپیل کرلیتی ہے تو اس کی خاطرہ راہ کے تمام عقبات ایک ہی جست میں پار کر جاتے ہیں اور اس کی حمایت یا مدافعت میں کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے بلکہ تمام رکاوٹوں کا پوری دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے نیکی اور بھلائی کے ہر میدان میں گوئے سبقت لے جانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ یہ اشارہ اسلام کے سابقون اولون کی طرف ہے جن کے سرِ خیل سیدنا ابوبکر صدیق ؓ تھے۔
اس گروہ کے ’ سبقت بالخیر ‘ کے ساتھ ’ باذن اللہ ‘ کی قید اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اس رتبہ بلند کی سرفرازی ہر ایک کا حصہ نہیں ہے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے یہ رتبہ بخشتا ہے۔ یہ اس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں تقدم اور تاخر کے لئے مقرر کر رکھی ہے اور جس کی طرف اس کتاب میں ایک سیزیادہ مقامات میں ہم اشارہ کرچکے ہیں۔
ذلک ھو الفضل الکبیر ‘۔ یہ اس مرتبہ بلند کا بیان ہے جو ان سابقون بالخیرات کو حاصل ہوگا۔ اور اس میں نہایت بلیغ انداز میں ’ مقتصدین ‘ کے لئے دعوت بھی ہے کہ ابھی موقع ہے کہ وہ بھی اس فضل کبیر میں حصہ دار بننے کے لئے قسمت آزمائی کرسکتے ہیں، تو وہ تذبذب کو چھوڑیں اور ہمت کرکے آگے بڑھیں۔ یہاں ہم ان اشارات پر کفایت کرتے ہیں۔ انشاء اللہ سورة واقعہ کی تفسیر میں اس کے تمام اطراف زیر بحث آئیں گے۔
Ayah 35:33آیت 33
یہ آخرت میں ان جانبازوں کا صلہ بیان ہوا ہے کہ ان کے لئے اقامت کے باغ ہوں گے جن میں وہ داخل ہوں گے۔ یعنی ان باغوں میں ان کا داخل ہونا محض وقتی سیر و تفریح کے لئے نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ کے لئے ہوگا۔ ’ یعلون ‘ مجہول کا صیغہ تشریف و تکریم پر دلیل ہے۔ سونے کے کنگن، موتی اور ریشم وغیرہ کا ذکر تقریب ِ فہم کے لئے ہے کہ جنت کی نعمتوں کا مخاطب کچھ تصور کرسکے۔ ان چیزوں کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ ان کا صحیح اندازہ اسی وقت ہوگا جب یہ آخرت میں سامنے آئیں گی۔ پہلے زمانہ میں سلاطین سونے کے کنگن اور موتی پہنتے تھے، اس وجہ سے جنت کے لباس کا تصور دینے کے لئے یہ تعبیر اختیار کی گئی ہے۔
Ayahs 35:34–35آیت۔ 34۔ 35
یعنی اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کے تمام وعدوں کی صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو بےساختہ ان کی زبانوں پر کلمہ شکر جاری ہوجائے گا کہ الحمد اللہ ہم اپنے رب کے جن وعدوں کے لئے جیے اور مرے وہ سب ہماری امیدوں سے کہیں بڑھ کو پورے ہونے۔ اس نے ہمارے سارے غم دور کردیے۔ اب نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا باقی رہا نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ ہمارا رب غفور وشکور ہے۔ اس نے ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرمایا اور ہماری ایک ایک نیکی کو شرفِ قبول بخشا۔ اہلِ جنت کے اسی کلمہ شکر کا ذکر دوسرے مقام میں یوں ہوا ہے۔ ’ واخردعوھم ان الحمد للہ رب العلمین، (یونس : 10) (اور ان کا آخری کلمہ یہ ہوگا کہ شکر ہے اللہ رب العالمین کے لئے)۔
’ دارالمقامۃ ‘ سے مراد ہمیشہ کی اقامت کا گھر ہے یعنی اس سے پہلے تو ہم دنیا میں ایک سرائے فانی میں تھے اور ہم نے اس کو ایک سرائے فانی ہی سمجھا۔ اب ہمارے رب نے ہم کو پنے فضل و رحمت کے ایک ایسے گھر میں اتارا ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ اس میں نہ ہمارے لئے کوئی محنت و مشقت ہے اور نہ کوئی تکان اور افسردگی۔ یہ امر واضح رہے کہ بہتر سے بہتر۔ عیش بھی حاصل ہو تو آدمی اس کے اندر بھی افسردہ ہوجاتا ہے اگر اس کی خواہش کے مطابق اس میں تجدد تنوع نہ ہوتا رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت ایسی بنائی ہے کہ اس میں ایسا بےغل و غش اور متنوع عیش حاصل ہوگا کہ اہل جنت اس کے اندر اکتاہٹ نہیں محسوس کریں گے۔
Ayahs 35:36–37آیت 36۔ 37
یہ کفار کے کے انجام کا بیان ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ جہنم میں اتارے گا جہاں ان کا حال یہ ہوگا کہ نہ ان کو موت ہی آئے گی کہ مر کے اس عذاب سے رہائی پائیں۔ نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہی کی جائے گی کہ ذرا دم لے لیں۔ من عذابھا کے بعد فیستر یحوا، یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ بر بنائے قرینہ مخدوف ہے۔
’ کذلک نجزی کل کفور۔ ‘ یعنی یہ جو کچھ ہم سنا رہے ہیں، یہ صرف دوسروں ہی کی سرگزشت نہیں ہے بلکہ ہر ناشکرے نابکار کو ہم اسی طرح سزا دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بھی اسی سزا کے مستحق ٹھہریں گے جو آج ہماری کتاب اور ہمارے رسول کی تکذیب کر رہے ہیں۔ اس فقرے سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے۔
’ وھم یصطرخون فیھا الایۃ ‘۔ وہ اسی جہنم میں پڑے فریاد کریں گے کہ اے رب، ہم کو یہاں سے ایک بار رہائی دے کہ ہم دنیا میں جا کر نیک عمل، اس سے بالکل مختلف، کریں جو ہم اب تک کرتے رہے ہیں۔
’ اولم نعموکم یا یتذکر فیہ من تذکرو جاء کم النذیر۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو جواب ملے گا کہ کیا تمہیں اتنی مہلت نہیں ملی جس میں ایک یاددہانی حاصل کرنے والا یاد دہانی حاصل کرسکے ؟ علاوہ ازیں تمہارے پاس ایک آگاہ کردینے والا رسول بھی آیا ! تو اب کسی بات کے لئے مہلت مانگتے ہو ! اب تمھا را کوئی مددگار نہیں بن سکتا، اب تو جس عذاب کے اسباب تم نے فراہم کیے اس کا مزہ چکھو۔
اس آیت سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے عمر بھی کافی دی اور ان پر کسی مندذر کے ذریعے سے حجت بھی تمام کردی گئی ان کے ساتھ تو کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی لیکن جو لوگ سنِ وسال کی پختگی کو پہنچنے سے پہلے ہی مر گئے یا قتل ہوگئے ان کے ساتھ معاملہ نسبتہً ذرا نرم ہوگا۔
Ayah 35:38آیت 38
اس سے دو باتیں واضح فرمائی گئی ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے تمام بھیدوں کو جاننے والا ہے اس وجہ سے کوئی ان باتوں کو محض ڈراوا نہ سمجھے بلکہ یہ حقائق ہیں جو ایک دن سب کے سامنے ظاہر ہو کے رہیں گے۔
دوسری یہ کہ جو لوگ یہ فریاد کریں گے کہ اگر ان کو دوبارہ مہلت ملے تو وہ نیکی کریں گے، خدا ان کے جھوٹ کو بی جانتا ہے۔ اس طرح کی لوگوں کو اگر پھر مہلت دی جائے تو وہی کریں گے جواب تک کرتے رہے ہیں۔
Ayah 35:398۔ آگے کا مضمون۔ آیات 39۔ 45
آگے کی آیات میں مشرکین عرب کو دھمکی ہے کہ تم اس ملک میں پہلی قوم نہیں ہو بلکہ پچھلی قوموں کے جانشین ہو تو ان کے حالات اور انجام سے سبق لو۔ اگر وہ قوت و شوکت میں تم سے بڑھ کر ہونے کے باوجود رسولوں کی تکزیب کے جرم میں تباہ کردی گئیں تو اسی جرم کا ارتکاب کرکے خدا کے قہر و غضب سے تم کس طرح بچ جائو گے ؟ خدا کا قانون تو ہر قوم کے لئے ایک ہی ہے، اس میں کوئی تبدیل نہیں ہوسکتی۔ یاد رکھو کہ آسمان و زمین تمہارے ان معبودوں کے تھامے نہیں تھمے ہوئے ہیں بلکہ خدا ہی کے تھامے تھمے ہیں۔ اگر خدا ان کو درہم برہم کر دے تو کوئی دوسرا انکو نہیں سنبھال سکتا۔ تمہاری سرکشی کے باوجود اگر خدا نے تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے تو اس سے کسی غلط فہمی میں نہ رہو، خدا پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا لیکن جب پکڑتا ہے تو کوئی اس سے بھاگ نہیں سکتا۔
اسی ضمن میں یہ یاددہانی بھی کی گئی ہے کہ اس سے پہلے تو یہ قسمیں کھا کھا کے یہ وعدے کرتے تھے کہ اگر ان کے اندر کسی رسول کی بعثت ہوئی تو یہ دنیا کی سب سے زیادہ ہدایت یافتہ قوم بنیں گے لیکن جب رسول حق کے خلاف جو سازشیں کی جاتی ہیں ان کے پھندوں میں وہی لوگ پھنستے ہیں جو سازشوں کے جال بنتے ہیں۔
غور کیجئے تو اس پیرے میں، جس کو خاتمہ سورة کی حیثیت حاصل ہے، فواصل یعنی قوافی بدل گئے ہیں۔ قوافی کی یہ اچانک تبدیلی متکلم کے لب و لہجہ کی تبدیلی کی دلیل ہوتی ہے اور اس تبدیلی سے مقصود مخاطب کو ایک نئے پہلو سے متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
9۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 39
یہ قریش کا تنبیہ ہے کہ اس سرزمین میں آج جو اقتدار تم کو حاصل ہے یہ نہ تمہارا اپنا پیدا کردہ ہے اور نہ تم اس ملک میں پہلی بار برسر اقتدار آئے ہو بلکہ تم سے پہلے بھی قومیں گزر چکی ہیں جن کو خدا نے ان کے کفر و استکبار کی پاداش میں ہلاک کردیا اور ان کی جگہ تم کو متمکن کیا تو اگر وہی روش تم نے اختیار کی تو اسی انجام سے دو چار ہونے کے لئے بھی تیار رہو جو ان کے سامنے آیا۔ خدا نے قوموں کے عزل و نصب کے لئے جو میزانِ عدل قائم کر رکھی ہے اس کا فیصلہ ہر قوم کے لئے بالکل بےلاگ ہے۔ جن قوموں کی سرگزشتیں تم کو سنائی گئی ہیں وہی تاریخ تم بھی دہرائو گے اگر انہی کے نقش قدم پر چلو گے۔ یہ مضمون انعام آیت 165 اور اعراف آیت 100 کے تحت بھی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔
’ فمن کفر فعلیہ کفرہ الایۃ ‘ یعنی یہ بھی یاد رکھو کہ کسی کے کفر سے خدا کا کچھ نہیں بگڑتا بلکہ اس کا خمیازہ خود کفر کرنے والے ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ خدا کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ لوگ ہی اس کے محتاج ہیں۔ اگر وہ کفر کریں گے تو اس سے خدا کا کچھ بگاڑنے کے بجائے اس کے غضب میں اضافہ کریں گے اور یہ چیز دنیا اور آخرت میں انہی کی تباہی کا موجب ہوگی۔
Ayah 35:40آیت 40
یہ ان کے شرکاء کی بےحقیقتی کی طرف توجہ دلائی کہ کیا ان کے بل پر خد ا کی پکڑ سے نچنت بیٹھے ہو ! ذرا ان کو دیکھو تو بھلا ان کی کیا حقیقت ہے ! ’ اور ءیتم ‘ اس طرح کے مواقع ہیں اظہار تعجب اور تحقیر کے لئے آتا ہے۔ فرمایا کہ اگر زمین میں سے کوئی چیز انہوں نے پیدا کی ہو تو وہ مجھے دکھائو۔ یا آسمانوں میں ان کی کوئی حصہ داری ہو تو وہ مجھے بتائو۔
’ ام اتینھم کتابا الایۃ ‘۔ اس ٹکڑے میں اسلوبِ کلام بدل کر حاضر کے بجائے غائب کا ہوگیا ہے جس سے تعجب اور اظہار بیزاری کے مضمون میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ فرمایا کہ جب آسمانوں اور زمین میں کسی نوعیت سے ان کی کوئی حصہ داری ثابت نہیں تو آخر کس دلیل کی بنا پر ان کو خدا کی خدائی میں انہوں نے شریک بنایا ہے ؟ کیا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے جس میں ہم نے تسلیم کیا ہو کہ فلاں اور فلاں ہماری خدائی میں شریک ہیں اور انہوں نے اس کی سند پر ان کو ہمارا شریک بنایا ہے !
’ بل ان یعد الظلمون بعضھم بعضا الا غرورا۔ ‘ یعنی ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے۔ نہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے نہ کوئی سند۔ بلکہ یہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے لوگ بس یوں ہی بےدلیل و سند ایک دوسرے کو سبز باغ دکھا رہے ہیں کہ ان کے فلاں بت کے قبضہ میں یہ یہ اختیارات ہیں اور فلاں کی عبادت سے یہ برکات حاصل ہوتی ہیں۔ ان کی یہ ساری باتیں محض فریب ہیں جس میں ان کے لیڈر ان کو مبتلا کیے ہوئے ہیں۔
Ayah 35:41ان اللہ یمسک المسوت والارض ان تزولا ولئن ذالتا ان امسکھما من احد بعدہ انہ کان حلیما غفورا (41)
یعنی اگر یہ اس غلط فہمی میں ہیں کہ جس عذاب سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے اس سے ان کے مزعومہ دیوی دیوتا بچالیں گے یا بچائے ہوئے ہیں تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ آسمانوں اور زمین کو ان کے محور و مدار پر خدا ہی ٹکائے ہوئے ہے۔ اگر وہ ذرا ان کی باگ ڈھیلی چھوڑدے تو پھر کسی کی طاقت نہیں ہے کہ ان کو تھام سکے۔ پھر جشم زدن میں سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔
انہ کان حلیما غفورا۔ ‘ یعنی لوگوں کی سرکشی اور استکبار کے باوجود خدا لوگوں کو جو ڈھیل دیتا ہے تو اس وجہ سے دیتا ہے کہ وہ حلیم و غفور ہے۔ وہ قہر کرنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ لوگوں کے جرائم کے باوجود ان سے درگزر کرتا اور ان کو مہلت دیتا ہے۔ تاکہ جو شخص بھی اپنی اصلاح کرنی چاہیے وہ کرلے۔
Ayah 35:42آیت 42
اہل ِ عرب چونکہ امی یعنی کتاب و شریعت سے ناآشنا تھے اس وجہ سے اہل کتاب بالخصوص یہود ان کو حقیر خیال کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے علماء نے یہ فتویٰ دے رکھا تھا کہ ان امیوں کی امانت ہڑپ کر جانے اور ان سے سود لینے میں ان کے لئے کوئی قباحت نہیں ہے۔ آیت ’ لیس علینا فے الامیین سبیل ‘ کے تحت ہم ان خانہ زاد فتوئوں کا حوالہ دے چکے ہیں۔ مشرکین جب یہود کی اس طرح کی باتیں سنتے تو فطری طور پر ان کے اندر ایک قسم کا احساسِ کمتری پیدا ہوتا اور وہ ان کے جواب میں قسمیں کھا کے، بڑے طنطنہ کے ساتھ، یہ کہتے کہ اگر ہمارے اندر کسی رسول کی بعثت ہوئی تو ہم دوسرے تمام قوموں سے زیادہ ہدایت یافتہ قوم بن کے دکھا دیں گے۔
یہ امر یہاں واضح رہے کہ سابق صحیفوں میں آخری رسول کی بعثت سے متعلق جو پشین گوئیاں وارد ہیں ان میں، جیسا کہ تفسیر سورة اعراف میں ہم واضح کرچکے ہیں، نہایت صریح الفاظ میں یہ بات موجود ہے کہ اس رسول کی بعثت بنی اسماعیل (امیوں) میں ہوگی۔ علمائے یہود اگرچہ یہ بات چھپاتے تھے لیکن ان کے اندر ایسے علماء بھی تھے، خاص طور پر نصاری میں، جو امیوں کے اندر ایک رسول کی بعثت کے منتظر تھے۔ چناچہ قرآن نے آیت ’ واذ سمعوا لایۃ (المائدۃ : 83) میں اس کا نہایت شاندار الفاط میں حوالہ دیا ہے۔ اس قسم کے علماء کے ذریعے سے بنی اسماعیل کے اندر بھی یہ روایت موجود تھی کہ ان کے اندر ایک رسول کی بعثت ہونیوالی ہے اور وہ یہود کے مقابل میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے تھے کہ اگر ہمارے اندر کسی رسول کی بعثت ہوئی تو ہم تمہاری طرح کمزور اور بودے ثابت نہیں ہوں گے بلکہ ہدایت قبول کرنے کے معاملے میں سب پر بازی لے جائیں گے۔ ان کی اسی بات کی یاددہانی کرتے ہوئے قرآن نے ان کے حال پر اظہار افسوس کیا ہے کہ پہلے تو بہت بڑھ چرھ کر آنے والے رسول کی حمایت و نصرت کے دعوے کرتے رہے لیکن جب وہ آیا تو ان کی ہدایت میں اضافہ ہونے کے بجائے ان کی نفرت کے دعوے کرتے رہے لیکن جب وہ آیا تو ان کی ہدایت میں اضافہ ہونے کے بجائے ان کی نفرت و بیزاری میں اضافہ ہوا۔ ان کے اس رویے کا ذکر سورة صافات میں بھی ہوا ہے۔ فرمایا ہے۔
وان کانو لیقولون۔ لو ان عندنا ذکر امن الاولین لکنا عباد اللہ المخلصین فکروا بہ فسوف یعلمون (الصفت : 67 : 170)
اور بیشک یہ لوگ کہتے رہے ہیں کہ اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی یاددہانی ہوتی تو ہم خدا کے مخصوص بندوں میں سے ہوتے تو انہوں نے اس کا انکار کردیا تو وہ جلد جان لیں گے۔
Ayah 35:43آیت 43
یہ رسول سے ان کی بیزاری کا سبب بیان ہوا ہے کہ اس کا سبب صرف استکبار ہے۔ حق ان پر اچھی طرح واضح ہے لیکن ملک میں جو قیادت و سیادت ان کو حاصل ہے اس کو یہ کسی قیمت پر قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اس وجہ سے اس صریح حق کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اگر انہوں نے محمد ﷺ کی رسالت تسلیم کرلی تو ان کی سیادت ختم ہوجائے گی۔
’ ومکرا السی ‘ کا عطف ’ نفورا ‘ پر ہے۔ یعنی جس رسول کی ہدایت کے علمبردار بننے کے مدعی تھے جب وہ آیاتو اس کے دشمن بن کے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو زک پہنچانے کے لئے اس کے خلاف مکروہ سازشوں میں سرگرم ہوگئے۔ لفظ ’ مکر ‘ چونکہ اچھے معنوں میں بھی آتا ہے اس وجہ سے اس کے ساتھ سیی کی قید لگا کر ان کے مکر کی نوعیت واضح فرمادی۔ پیچھے آیت 10 میں بھی ان کی بری سازشوں اور اس کے انجام کا ذکر گزر چکا ہے۔
’ ولا یحیق المکرا السئی الا باھلہ۔ ‘ حق کے خلاف جو شخص سازش کرتا ہے وہ درحقیقت خود اپنے خلاف سازش کرتا ہے۔ بظاہر تو وہ یہ جال دوسرے کے لئے بنتا ہے لیکن اس جال میں سب سے پہلے وہ خود پھنستا ہے۔ صحیح راہ بتانے والے کی مخالفت کرنا خود اپنی راہ گم اور اپنی عاقبت برباد کرنا ہے۔ دوسروں کو اس سازش سے کوئی ضرر اللہ کے اذن کے بغیر وہ نہی پہنچا سکتا لیکن اپنے کو وہ بہرحال ہلاکت کے حوالہ کردیتا ہے۔
’ فھل ینظرون الا سنت الاولین۔ ینظرون ‘ یہاں انتظار کرنے کے معنی میں ہے اور سنت الاولین کے اندر عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق کچھ الفاط حذف ہیں۔ ان کو کھول دیجئے تو پوری بات یوں ہوگی۔ فھل ینظرون الا سنت اللہ فی الاولین۔ یعنی اگر یہ لوگ اپنے تکبر اور حق بیزاری کے باعث اب مخالفت اور سازش ہی کے درپے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اب یہ منتظر ہیں کہ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں، اللہ کی جو سنت ان کے لئے ظاہر ہوئی وہ ان کے لئے بھی ظاہر ہوجائے اور جس طرح رسولوں کی تکذیب کے جرم میں وہ تباہ کردی گئیں اسی طرح یہ بھی تباہ کردیے جائیں۔
’ فلن تجد لسنت اللہ تبدیلا۔ ولن تجد السنت اللہ تحویلا۔ یہ آنحضرت ﷺ کو نہایت پر زور الفاظ میں تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ اسی کے منتظر ہیں تو اطمینان رکھو کہ سنت الٰہی نہ بدلتی ہے، نہ ٹلتی ہے۔ ’ نہ بدلنے ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہر قوم کے لئے بالکل یکساں اور بےلاگ ہے، یہ ممکن نہیں ہے کہ جو رویہ ایک قوم کے لئے باعث ہلاکت ہوچکا ہے وہی رویہ دوسری قوم اختیار کرے تو وہ اس انجام سے بچ جائے۔ ’ نہ ٹلنے ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ جب اس کے ظہور کا وقت آجائے گا تو وہ لازماً ظہور میں آکے رہے گی۔ پھر اس کو ٹالنا یا اس کے رخ کو بدلنا کسی کے بس میں بھی نہیں ہوگا۔
Ayah 35:44آیت 44
اللہ کی جو سنت پچھلی قوموں کے معاملے میں ظاہر ہوئی اور جس کے آثار و خود ملک عرب میں موجود تھے یہ ان کی طرف توجہ دلائی کہ کیا ان لوگوں نے اپنے ملک کی سیاحت کبھی اس مقصد سے نہیں کی کہ اپنی ان پیشرو قوموں کے آثارو نشانات دیکھتے جو قوت و شوکت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن رسولوں کی تکذیب کی پاداش میں ان کا انجام نہایت عبرت انگیر ہو !
’ اولم یسیروا فی الارض فینظروا۔ ‘ کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس کی سیاحت تو انہوں نے بہت کی ہے۔ اپنے تجارتی سفروں میں برابر معذب قوموں کی بستیوں پر سے گزرتے رہے ہیں لیکن کبھی خاص اس مقصد سے انہوں نے ان کے آثار پر نظر نہیں ڈالی کہ وہ اس کیفرِ کردار کو کیوں پہنچیں ؟ حالانکہ دیکھنے اور فائدہ اٹھانے کی اصل چیز یہی ہے۔ اب بھی موقع باقی ہے کہ اس نگاہ سے ان کے آثار دیکھیں اور ان کے انجام سے سبق حاصل کریں۔ قوت و شوکت میں قریش انکے پاسنگ نہیں ہیں، لیکن خدا نے جب ان کو پکڑا تو وہ اس کی گرفت سے باہرنہ نکل سکیں۔ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو خدا کی گرفت سے باہر نکل سکے۔ خدا کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے۔ ساتھ ہی وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، کوئی کام اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو اپنے علم اور اپنی قدرت دونوں میں کامل ہے کوئی اس بھاگ کے کہاں جاسکتا ہے۔
Ayah 35:45آیت 45
یہ اسی سنت الٰہی کے ایک دوسرے پہلو کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان لوگوں کی پکڑ تو لازماً ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ مجرمین کو ان کے اعمال کی پاداش میں فوراً نہیں پکڑا کرتا۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو کوئی اس کا ہاتھ تو نہیں پکڑ سکتا، وہ چشم زون میں روئے زمین سے مہر زندہ کو ختم کردے، لیکن وہ حلیم و غفور ہے اور اس وہج سے ایک معین مدت تک لوگوں کو مہلت دیتا ہے تاکہ جس کو توفیق ہو وہ توبہ اور اصلاح کرلے اور جو اپنی ضد ہی پر مرنا چاہے اس پر اللہ کی حجت پوری ہوجائے۔ جب ان کی معین مدت مہلت پوری ہوجائے گی تو پھر اللہ ان کو دیکھے گا کہ وہ کس پاداش کے مستحق ہیں۔
’ بما کسبوا ‘ کے بعد ’ عنی عجل ‘ یا اس کے ہم معنی الفاط مخذوف ہیں۔ ’ ولکن یوخرھم ‘ کے الفاظ سے اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔
بتوفیق ایزدی ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد اللہ علی ذلک۔
رحمان آباد، 4 فروری، 1975 ء۔