Ayah 36:36آیت 36
لفظ ’ ازواج ‘ انواع و اقسام کے معنی میں بھی آتا ہے اور جوڑے جوڑے کے مفہوم میں بھی۔ یہاں یہ دونوں ہی معنوں کا جامع ہے۔ زمین سے جو چیزیں پیدا ہوتی ہیں ان کو دیکھیے تو ان کے اندر گوناگونی اور تنوع بھی ہے اور ہر چیز جوڑے جوڑے کی شکل میں نظر آتی ہے۔ اسی طرح انسانوں کو دیکھئے تو ان کی شکلوں، رنگوں، قامتوں اور زبانوں میں عظیم فرق نظر آئے گا اور ساتھ ہی ان کے اندر جوڑے جوڑے ہونے کا وصف بھ پایا جاتا ہے۔ یہی حال اس عالم کے اس حصہ کا ہے جو ہمارے علم کی رسائی سے باہر ہے۔ اب ایک قدم آگے بڑھ کر غور کیجئے تو یہ حقیقت بھی آپ پر واضح ہوگی کہ اس کے تنوع کے اندر مقصد کی ہم آہنگی اور اس کے تضاد کے اندر توافق کی سازگاری پائی جاتی ہے۔ یہ چیز اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کائنات پر ایک ہی خدائے وحدہ لاشریک لہ کا ارادہ کارفرما ہے۔ کوئی دوسرا اس میں دخیل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات شرک کے ہر شائبہ سے پاک ہے اور اسکی اس پاکی کی شہادت اس کائنات کی ہر چیز دے رہی ہے۔
نیز یہ بات بھی واضح ہوئی کہ جب ہر چیز جوڑا جوڑا ہے اور ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر اپنے مقصد کو پورا کرتی ہے تو لازم ہے اس دنیا کا بھی کوئی جوڑا ہو ورنہ یہ بالکل بےمقصد و بےغایت ہو کر رہ جاتی ہے اور یہ بات ایک حکیم خالق کی شان سے بعید ہے کہ وہ کوئی عبث اور بےمقصد کام کرے۔ چناچہ اس دنیا کے اس خلا کو بھرنے کے لئے اس نے آخرت بنائی ہے۔
آیت کا مدعا یہ ہوا کہ یہ کائنات اپنے وجود سے توحید اور آخرت کی شہادت دے رہی ہے اور اس کا خالق اس بات سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک ہو یا اس نے یہ دنیا بالکل بےمقصد بنائی ہو۔ لفظ ’ سبحن ‘ تنزیہ کے لئے آتا ہے۔ یہاں اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Ayah 36:37آیت 37
فرمایا کہ اگر یہ لوگ غور کریں تو ان کے لئے رات بھی خدا کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور توحید کی ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ ہم اس کے اوپر ایک نور کی چادر اوڑھا دیتے ہیں تو ان کے لئے روشنِ دن نمودار ہوجاتا ہے جس میں وہ اپنے کام کاج انجام دیتے ہیں۔ پھر ہم اپنی یہ نورانی چادر اس سے کھینچ لیتے ہیں تو وہ تاریکی میں ہوجاتے ہیں جس میں وہ آرام کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنی یہ نوراتنی چادر نہ اوڑھائیں تو ہمیشہ تاریکی ہی میں رہیں اور اگر اس چادر کو نہ کھینچیں تو ان کو کبھی شب کا سکون نہ میسر ہو۔ روز و شب کا یہ ایاب و ذہاب اور خلق کے مفاد کے لئے ان کی یہ سازگاری اس بات کی صاف دلیل ہے کہ یہ دنیا اضداد کی کوئی رزم گاہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک خالق کی بنائی ہوئی دنیا ہے جو اس کے تمام اضداد کو اس کے مجموعی مفاد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔
Ayah 36:38آیت 38
یہ دن کے اندر ظاہر ہونے والی سب سے بڑی نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ اس سورج کو دیکھیں کہ یہ پوری پابندی کے ساتھ اپنے ایک معین محور و مدار پر گردش کرتا ہے۔ مجال نہیں کہ اپنے محور و مدار سے ذرا ہٹ سکے یا اس کی پابندی اوقات میں منٹ یا سکینڈ کا بھی فرق پیدا ہوسکے۔ کیا یہ اس بات کی شہادت ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے آپ سے آپ ہو رہا ہے، اس کے پیچھے کوئی مدبر اور کار فرما طاقت نہیں ہے ؟ یا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک قاہر و مقتدر اور علیم و حکیم ہستی ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی باگ ہے اور وہ اپنے بنائے ہوئے نقشہ اور اپنے قرار دادہ منصوبہ کے مطابق ہر چیز کو استعمال کر رہی ہے ؟ اس کا صحیح جواب، عقل و فطرت کے مطابق، صرف یہی ہوسکتا ہے کہ ذلک تقدیر العزیز العلیم ‘ یعنی یہ دنیا نہ تو اتفاق سے وجود میں آئی ہوئی کوئی چیز ہے اور نہ یہ آپ سے آپ چل رہی ہے بلکہ یہ ایک ایسی ہستی کی پلاننگ کا کرشمہ ہے جو ہر چیز پر قادر و غالب اور ہر چیز کا علم رکھنے والی ہے۔
Ayah 36:39آیت 39
فرمایا کہ یہی حال اس دنیا کی دوسرے سب سے بڑی نشانی۔ چاند کا ہے وہ بھی نہ خود کار ہے، نہ خود مختار بلکہ ہم نے اس کے لئے منزلیں ٹھہرا رکھی ہیں جو ہر ماہ اس کو طے کرنی پڑتی ہیں یہاں تک کہ یہ منزلیں طے کرتے کرتے وہ بالاخر کھجور کی پرانی ٹہنی کے مانند ہو کے رہ جاتا ہے۔
’ عرجون ‘ کھجور کی اس ٹہنی کو کہتے ہیں جس میں خوشے لگتے ہیں۔ یہ ٹہنیاں خشک ہونے کے بعد خمدار ہو کر بالکل وہ شکل اختیار کرلیتی ہیں جو شکل آخری اور ابتدائی تاریخوں میں چاند کی ہوتی ہے۔ یہ تشبیہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جس چاند کو نادان لوگ پوجتے ہیں اس غریب کی بےبسی کا یہ حال ہے کہ ہر ماہ اس کو مختلف منازل فلکی طے کرنی پڑتی ہیں جس سے وہ سوکھ کے کانٹا اور اس طرح خمیدہ کمر ہو کے رہ جاتا ہے جس طرح کھجور کی سوکھی ٹہنی۔
Ayah 36:40آیت 40
یعنی اس کائنات کا سارا نظام اس کے خالق نے اس طرح اپنے قابو میں کررکھا ہے نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ اپنے مدار سے نکل کر چاند کے مدار میں جا گھسے اور اس کو پکڑ لے او نہ رات کی مجال ہے کہ ایک سکینڈ کے لئے بھی دن پر سبقت کر جائے بلکہ ان میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں گردش کرتی پڑتی ہے۔ یہ اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز کی باگ ایک ہی خدائے قدیر وعلیم کے ہاتھ میں ہے اور دیہی تنہا ہر چیز کا مالک و مختار ہے۔ اگر اس کے سوا کسی اور کا بھی اس میں کوئی دخل ہوتا تو یہ دنیا اپنے اضداد کے تصادم میں تباہ ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر یہ حقیقت تو بالکل نمایاں ہے کہ جو چیزیں جتنی ہی زیادہ نمایاں ہیں اور جن کے نمایاں ہونے ہی کو بنا پر قوموں نے ان کو معبود مان کر ان کی پرستش کی وہ اپنے وجود ہی سے یہ اعلان کر رہی ہیں کہ وہ سب سے زیادہ مسخر و محکوم ہیں، مجال نہیں ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار سے ایک اونچ بھی ادھر یا ادھر سرک سکیں۔
Ayahs 36:41–44آیت 41۔ 44
’ ذریتھم ‘ میں ’ ھم ‘ سے مراد مخاطب بحیثیت انسان ہیں اور ’ ذریۃ ‘ نسل کے مفہوم میں ہے۔ ’ مشحون ‘ بھری ہوئی کشتی کو کہتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ان کو مزید نشانی کی طلب ہو تو وہ اس بات کو دیکھیں کہ ہم نے نسل انسانی کے بحری سفر کے لئے یہ اہتمام کیا ہے کہ ان کی کشتیاں سمندر کے سینہ پر سے ہزاروں ٹن سامان لے کر چلتی ہیں اور نہیں ڈوبتیں۔
’ وخلقنالھم الایۃ ‘ فرمایا کہ جس طرح سمندر کے سفر کے لئے ہم نے کشتی بنائی ہے اسی طرح کی چیزیں ہم نے خشکی کے سفر کے لئے بھی بنائی ہیں مثلاً گھوڑے اور اونٹ وغیرہ۔ خاص طور پر اونٹ کو عرب میں سفینہ صحرا کی حیثیت حاصل تھی۔ اسی حکم میں وہ سورایاں بھی داخ ؒ ہیں جو اب سائنس کی مدد سے ایجاد ہوئی ہیں یعنی موٹریں، لاریاں، بسیں، ہوائی جہاز وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں جن قوانین کے تحت کام کرتی ہیں وہ خدا ہی کے بنائے اور اسی کے سکھائے ہوئے ہیں۔ انسان انہی قوانین سے کام لے کر مختلف چیزیں ایجاد کرتا اور ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف منسوب فرمایا اس لئے کہ اصلی حقیقت یہی ہے۔
’ وان نشا نغر قھم فلا صریح لھم الایۃ۔ ’ صریخ ‘ فریاد اور فریاد رسی کے معنی میں بھی آتا ہے اور فریاد کرنے اور فریاد رسی کرنے والے کے معنی میں بھی۔ یہاں یہ تمام معانی کے اعتبار سے موزوں ہے۔ فرمایا کہ یہ ہماری رحمت ہے کہ ان کی لدی پھدی کشتیاں سمندر کے سینہ پر دوڑتی ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو کشتی سمیت غرق کردیں پھر نہ وہ کوئی فریاد کرسکیں اور نہ کوئی ان کی فریاد رسی کرسکے اور نہ وہ اس ورطہ ہلاکت سے کسی طرح نجات پاسکیں۔
’ الا رحمتہ منا ومتاعا الی حین۔ ‘ فرمایا کہ انسان کو یہ جو کچھ بھی حاصل ہے نہ اس کے اب وجد کی میراثت ہے اور نہ اس کی اپنی قوت و قابلیت کا کرشمہ بلکہ یہ محض خدا کا فضل اور اس کی رحمت ہے جس سے ایک وقت خاص تک کے لئے اس نے اس کو بہرہ مند کیا ہے۔ بالآخر وہ وقت آنے والا ہے جب اللہ تعالیٰ ان تمام نعمتوں سے متعلق پرسش کرے گا کہ ان کا شکر اور حق ادا کیا گیا یا نہیں !
Ayah 36:45آیت 45
یعنی جب ان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ تمہارے آگے اور پیچھے جو آسمان و زمین ہیں ان سے ڈرو کہ زمین تمہارے سمیت دھنسانہ دی جائے اور آسمان سے تم پر ٹکڑے نہ گرا دیے جائیں تو وہ متنبہ ہونے کے بجائے اعراض کرتے اور عذاب کی نشانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ’ اذا ‘ کا جواب یہاں بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہے اور مابین ایدیکم وما خلفکم کے بعد ’ من السماء والارض ‘ کے الفاط مخدوف ہیں۔ سورة سبا میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔ ’ افلم یروا الی مابین ایدیھم وما خلفھم من السماء والارض ان نشا نخسف بھم الارض او نسقط علیھم کسغا من السماء (9) (کیا وہ اپنے آگے اور پیچھے کے آسمان اور زمین پر غور نہیں کرتے ! اگر ہم چاہیں تو ان کے سمیت زمین کو دھنسا دیں یا ان کے اوپر آسمان سے ٹکڑے گرا دیں)۔
Ayah 36:46آیت 46
یعنی یہ اعراض و انکار اس طرح ان پر مستولی ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آیت بھی ان کی تعلیم و تذکیر کے لئے آتی ہے وہ بالکل بےسود ہو کے رہ گئی ہے۔ کوئی چیز بھی ان کے اوپر کارگر نہیں ہوتی۔
Ayah 36:47آیت 47
اوپر والی آیت میں ان کی جس بےحسی اور سنگدلی کی طرف اشارہ ہے یہ اس کی ایک مثال بیان ہوئی ہے کہ جب ان کو شکر کی دعوت دی جاتی ہے، جیسا کہ اوپر آیات 35 میں ہے۔ ’ لیاکلوا من ثمرہ وما عملتہ ایدیھم افلا یشکرون ‘ تو یہ رعونت کے ساتھ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ چناچہ جب ان سے کہا جتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق و فضل تم کو بخشا ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور ان غریبوں کی مدد کرو جو مدد کے محتاج ہیں تو وہ مسلمانوں کو یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ تمہاری صریح گمراہی ہے کہ جن کو اللہ نے محروم رکھنا چاہا ہے ان کو تم کھلانا چاہتے ہو۔ اگر اللہ ان کو بھی ہماری طرح کھلانا پہنانا چاہتا تو آخر اس کے پاس کسی چیز کی کمی تھی لیکن جب اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اس نے ان کے لئے یہی چاہا ہے اور جب اس نے ان کے لئے یہی چاہا ہے تو ہم ان کے اوپر کوئی احسان کرکے خدا کو خوش نہیں کریں گے بلکہ اس کی ناراضگی مول لیں گے !۔ اس فلسفہ جاہلی کا حوالے دے کر اس پر کوئی تبصرہ کیے بغیر اس کو نظرا نداز کردیا ہے۔ اس لئے کہ اس کی قساوت و سفاہیت اس قدر واضح ہے کہ اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں تھی۔ مقصود بس یہ دکھانا ہے کہ جب دل بگڑتے ہیں او عقل الٹی ہے تو آدمی کا حال یہ ہوجاتا ہے !
Ayahs 36:48–50آیت 48۔ 50
یعنی اللہ کی جو آیتیں ان کو سنائی جاتی ہیں ان پر تو وہ کوئی دھیان نہیں کرتے، بس یہ مطالبہ ان کی طرف سے پیہم ہے کہ جس عذاب سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ ان کو دکھا دیا جائے۔ اس کے بغیر وہ اس کی خبر دینے والوں کو سچا ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
’ ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ الایۃ ‘۔ لفط ’ صیحۃ ‘ آیت 29 میں گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ اس طنطنہ کے ساتھ وہ اس عذاب کے جو مطالبہ کر رہے ہیں تو کس برتے پر کر ہے ہیں ! خدا کو اس کے لئے کوئی سروسامان نہیں کرنا ہے۔ اس کی تو بس ایک ڈانٹ ہی ان کے لئے کافی ہوگی۔ وہ ان بحثوں ہی میں پرے ہوں گے کہ وہ ان کو دبوچ لے گی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ نہیں آرہا ہے تو اس کے نہ آنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کی تیاری نہیں ہو پائی ہے۔ اس کی تیاری میں کوئی کسر نہیں ہے۔ بس یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے سبب سے لوگوں کو مہلت دے رہا ہے۔
’ فلا یستطیعون توصیۃ الایۃ ‘ یعنی خدا کی وہ ایک ہی ڈانٹ ایسی ہوگی کہ جو جہاں ہے وہ وہیں دبوچ لیا جائے گا۔ اس کو اتنی فرصت بھی نصیب نہیں ہوگی کہ کسی کو کوئی وصیت کرسکے یا اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکے۔
Ayah 36:516۔ آگے کا مضمون۔ آیات 51۔ 67
آگے واضح فرمایا ہے کہ جس طرح اس دنیا میں کوئی عذاب لانے کے لئے ہماری ایک ہی ڈانٹ کا فی ہے اسی طرح جب ہم قیامت لانی چاہیں گے تو اس کے لئے بھی ہمیں کوئی خاص اہتمام نہیں کرنا ہوگا بلکہ ایک ہی نفیخ صور میں سب اٹھ کھڑے ہوں گے۔
اس کے بعد روز قیامت کی تصویر ہے کہ اہل ایمان اس دن اپنی دلچسپیوں میں مگن ہوں گے اور کفار اپنے نتائج اعمال سے دو چار ہوں گے۔ اس دن کسی کو زبان سے کچھ بولنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ ہر شخص کے ہاتھ پائوں خود اس کے خلاف گواہی دیں گے۔
پھر دھمکی دی ہے یہ لوگ اس ڈھٹائی کے ساتھ جو عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو یادر کھیں کہ یہ ہمارے لئے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ ہم چاہیں تو ان کو ان کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ کردیں کہ یہ تمام قوتوں اور صلاحیتوں سے چشم زون میں میں بالکل محروم ہو کے رہ جائیں۔ اس کے آثار وہ اس دنیا میں دیکھ سکتے ہیں بشرطیکہ ان کے پاس آنکھیں ہوں۔ اگر ہم نے ان کو مسخ نہیں کیا تو اس وجہ سے نہیں کہ یہ کام ہمارے لئے مشکل ہے بلکہ یہ ہماری رحمت ہے کہ ہم لوگوں کو ان کی سرکشی کے باوجود مہلت دیتے ہیں۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 51
اوپر کی آیات 48۔ 49 میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ رسول کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے اگر وہ ٹل رہا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے لئے کوئی خاص تیاری کرنی ہے جو ابھی نہیں ہو پائی ہے۔ وہ عذاب بھیجنا چاہے تو اس کے لئے بس اس کی ایک ہی ڈانٹ وانتظام کافی ہے۔ اب یہ فرمایا کہ یہی حال قیامت کا بھی ہے۔ اس کے لانے کے لئے بھی خدا کو کوئی خاص اہتمام و انتظام نہیں کرنا پرے گا، بلکہ جوں ہی صور پھونکا جائے گا لوگ بھاگتے ہوئے اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ رسول کو زچ کرنے کے لئے عذاب یا قیامت کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ ان کاموں میں سے کوئی بھی اللہ کے لئے ذرا مشکل نہیں ہے۔ یہ تو چشم زدن میں ہوجانے والے کام ہیں۔ اگر اس کے باوجود نہیں ہو رہے ہیں تو اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر توبہ اور اصلاح کرلیں۔
Ayah 36:52آیت 52
یعنی یہ مذاق اڑانے والے لوگ اس وقت گبھراہٹ اور سراسیمگی میں اپنے سر پیٹیں گے اور کہیں گے کہ یہ کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا کھڑا کیا ! یہ سوال تحقیق کے لئے نہیں بلکہ اپنی بدبختی کے اظہار کے لئے وہ کریں گے کہ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ مرنے کے بعد اٹھنا نہیں ہوگا لیکن یہ تو واقعہ ثابت ہوا !
’ ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون۔ ‘ یہ ان کے قول کا حصہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تو وہی بات ہوئی جس کی خدائے رحمان کی طررف سے ہم کو آگاہی دی گئی تھی، رسولوں کی بات بالکل سچی نکلی۔ اور اس کا بھی امکان ہے کہ یہ بات فرشتوں کی زبانی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وقت ان کی تذلیل کے لئے فرمائی جائے کہ اب اپنی بدبختی پر سو پٹیو، یہ وہی چیز تمہارے سامنے آئی ہے جس سے خدائے رحمان نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تم کو آگاہ کردیا تھا لیکن تم نے ان کی کوئی پروا نہیں کی۔ میرا رحجان اس دوسری بات کی طرف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے نظائر سے واضح تائید اسی کی نکلتی ہے۔ سورة صافات میں ہے۔
فانما ھی زجرۃ واحدۃ فاذا ھم ینظرون وقالوا یولینا ھذا یوم الدین ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبوان (15۔ 21)
بس وہ ایک ڈانٹ ہی ہوگی کہ دفعتہ وہ اٹھ کے کا گنے لگیں گے اور کہیں گے۔ ہائے ہماری بدبختی ! یہ تو جزاء و سزا کا دن آگیا۔ یہی وہی فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے۔
اس میں آخری فقرہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو بالکل بروقت ان کی تفضیح کے لئے کہلایا جائے گا۔
Ayah 36:53آیت 53
یہ سب کچھ بالکل چشم زدن میں، محض ہماری ایک ڈانٹ سے ہوجائے گا۔ اس کے لئے نہ ہمیں دمدمے بنانے پڑیں گے، نہ توپیں نصب کرنی پڑیں گی۔ جس طرح ہم اپنے کلمہ ’ کن ‘ سے جو چیز چاہیں وجود میں لاسکتے ہیں۔ اسی طرح اپنی ایک ڈانٹ سے جو قیامت برپا کرنی چاہیں برپا کرسکتے ہیں۔ ’ جمیع ‘ تاکید کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ پھر کوئی ہم سے بچ کے نکل سکے گا۔ اس کے بعد ان کے سب، چھوٹے اور بڑے، امیر اور مامور، عابد اور معبود پکڑ کر ہمارے حضور حاضر کردیے جائیں گے۔ ’ محضرون ‘ ان کی ذلت کی تصویر کے لئے ہے کہ وہ اس طرح ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے جس طرح مجرم عدالت کے سامنے حاضر کیے جاتے ہیں۔
Ayah 36:54آیت 54
اس آیت میں تصویرِ حال کا اسلوب ہے۔ گویا وہ دن سامنے ہے اور مخاطب سے یہ بات کہی جاری ہے۔ قرآن میں اس کی مثالیں بہت ہیں۔
فرمایا کہ آج عدل کامل کے ظہور کا دن ہے۔ آج کسی جان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔ ’ ولا تجزون الا ما کنتم تعملون۔ ‘ یہ اسی عدل کامل کا بیان ہے کہ آج جس اصول پر لوگوں کے ساتھ معاملہ ہوگا وہ یہ ہے کہ جس نے جو کچھ کیا ہوگا وہی وہ بدلے میں پائے گا۔ ظاہر ہے کہ جب اپنی ہی کمائی سامنے آنے ولای ہے تو اس میں کسی ظلم و ناانصافی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
Ayahs 36:55–58آیت 55۔ 58
اس دن اہل جنت کا جو حال ہوگا یہ اس کی تصویر ہے۔ فرمایا کہ اس دن اہل جنت اپنی خالص دلچسپی میں مگن ہوں گے۔ ’ شغل ‘ کی تنکیر تفحیم شان کے لئے ہے۔
’ ھم وازواجھم الایۃ ‘۔ یہ ان کی بیویوں کا ذکر آیا ہے کہ وہ بھی ان کی دلچسپیوں میں شریک ہوں گی۔ ان کا ذکر خاص اہتمام سے اس لئے ضروری ہوا کہ آدمی کی کوئی دلچسپی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس کے اہل و عیال بھی اس میں شریک نہ ہوں۔ علی الارائک متکون۔ ‘ یہ سب سے اعلیٰ نشست کی تصویر ہے۔ اس زمانے میں بادشاہ اور ملکہ مزین تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے۔ اہلِ جنت اپنی ابدی بادشاہی میں اسی طرح بیٹھیں گے۔
’ لھم فیھا فاکھۃ الایۃ ‘ اس میں ان کے آگے پھل پیش کئے جائیں گے اور مزید جو کچھ وہ طلب کریں گے۔ ’ مایدعون ‘ یعنی ’ ماتشتھون ‘ جو کچھ وہ چاہیں گے وہ سب ان کے لئے حاضر ہواگ۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اس دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نہ اب تک یہ درجہ حاصل ہوسکا ہے اور نہ آئندہ کبھی حاصل ہوسکے گا کہ وہ جو کچھ چاہے اس کے لئے وہ فوراً حاضر کردیا جائے۔ لیکن اہل جنت کو جنت میں یہ درجہ حاصل ہوگا اور ہمیشہ حاصل ہوگا۔
’ سلم قف قولا من رب رحیم ‘۔ یہ اس سب سے بڑی سرفرازی کا ذکر ہے جو اہل جن کو جنت میں حاصل ہوگی کہ رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہلایا جائے گا۔ میرے نزدیک جملہ کی تالیف یوں ہے۔ ’ تحیتتھم سلمہ قولا من رب رحیم ‘ مبتداء یہاں حذف کردیا گیا ہے تاکہ مخاطب کی ساری توجہ خبر پر مرکوز ہوجائے۔ سورة احزاب میں ارشاد فرمایا ہے۔ تحیتینھم یوم یلقونہ سلام (44) (اور ان کا خیر مقدم جس دن وہ اس سے ملیں گے سلام ہوگا)۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے جنت کے تمام دروازوں سے داخ ہوں گے اور اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کی سلام پہنچائیں گے۔ کون اندازہ کرسکتا ہے اہل جنت کی اس سرفرازی کا کہ ان کو رب ِ رحیم و کریم کی طرف سلام و پیغام موصول ہوں گے ! 1
Ayahs 36:59–62بریں مژدہ گرجاں فشانم رواست !
آیت 59۔ 62
اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اب یہ مجرموں کا حشر بیان ہو رہا ہے۔ ان کو حکم ہوگا کہ اے مجرمو ! دنیا میں تو تم میرے باایمان بندوں کے ساتھ ملے رہے ا لئے کہ دنیا دار لا امتحان تھی لیکن اب جزائے اعمال کا دن آگیا۔ اس وجہ سے اب تم میرے باایمان بندوں سے الگ ہو جائو اور اپنے اعمال کی سزا بھگتو۔ اب تمہاری دنیا الگ اور ان کی دنیا الگ ہے۔
’ الم اعھد الیکم یبی ادم الایۃ۔ ’ عھد ‘ کا صلہ جب ’ الی ‘ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ضامن اور ذمہ دار بنانے کے ہوتے ہیں۔ مثلاً وعھدنا الی ابراھیم واسمعیل ان طھرابیتی للطائفین (البقرۃ : 125) (اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو اس بات کا ذمہ دار بنایا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا) یہ مجرموں کو اس وقت بطور ملامت یاددہانی کی جائے گی کہ آدم کے بیٹو ! کیا میں نے تم کو اس عہد کا پابند نہیں کیا تھا کہ شیطان کی بندگی نہ کرنا، وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے بلکہ صرف میری ہی بندگی کرنا۔ یہ نہایت سیدھی راہ ہے جس پر چلنے والے مجھ تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن تم ایسے بدقسمت نکلے کہ اس نے تمہارے اندر سے ایک خلق کثیر کو گمراہ کرڈالا، کیا تم اتنی عقل وتمیز نہیں رکھتے تھے کہ اپنے دوست اور دشمن میں امتیاز کرسکتے اور اس بات کی یاد رکھئے کہ اس نے اپنے فریب سے تمہارے باپ آدم ؑ کو جنت سے نکلوایا اور اولاد آدم کے ساتھ اس کی دشمنی قیامت تک کے لئے ہے۔
شیطان کی دشمنی، شیطان کے چیلنج، اولادِ آدم کو اللہ تعالیٰ کی یاد دہانی اور اس سلسلہ کے دوسرے امور جن کی طرف یہاں اشارہ ہے پچھلی سورتوں، خاص طور پر بقرہ اور اعراف میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوچکے ہیں۔ ان اجمالات کو ان کی روشنی میں سمجھے۔
Ayahs 36:63–65آیت 63۔ 64
یعنی اگر تم نے میرے عہد اور میری تنبیہ کو یاد نہیں رکھا تو اس کا انجام اب اس جہنم کی صورت میں تمہارے سامنے ہے۔ اس سے میرے رسول اور میرے نیک بندے تم کو ڈراتے رہے لیکن تم برابر ان کی باتوں کا انکار کرتے رہے۔ اب اس میں داخل ہو، یہی تمہارا ٹھکانا ہے۔
آیت 65
اوپر کی آیات میں اسلوبِ کلام خطاب کا تھا، اس آیت میں غائب کا ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اوپر کی آیات میں زجرو ملامت ہے جس کے لئے موزوں اسلوب خطاب ہی کا ہے اور اس آیت میں ان کی بےبسی کی تصویر ہے جس کے لئے غائب کا اسلوب زیادہ موزوں ہے۔ فرمایا کہ آج کے دن ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ اور پائوں کو ناطق بنا دیں گے جو ان کی ساری کارستانیوں کی سرگزشت ہم کو سنا دیں گے۔ مونہوں پر مہر کردینے کی وجہ یہ ہوگی کہ زبان جھوٹ بھی بول سکتی ہے اور عذر بھی تراش سکتی ہے لیکن ہاتھ پائوں وہی بیان کریں گے جو انہوں نے کیا ہوگا۔ اس طرح انسان پر خود اس کے اعضاء وجوارح حجت قائم کردیں گے اور یہ حجت تمام تجتوں پر بھاری ہوگی۔ یہ مضمو سورة رحمان میں بھی ہے۔ ’ فیومئذ لا یسئل عن ذنبہ انس ولا جان۔……المجرمون بسیمتھم فیوخذ بالنوا صی والاقدام (الرحمن : 39۔ 41) (پس اس دن کسی انسان اور جن سے اس کے گناہ کے بابت پرسش کی نوبت نہیں آئے گی… مجرم اپنی پیشانیوں سے پہچان لیے جائیں گے پس ان کی چوٹیاں اور ان کی ٹانگیں پکڑ کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا)۔
Ayah 36:66آیت 66
یعنی جب ان کا حال یہ ہے کہ اپنی ان صلاحیتوں سے جو اللہ نے ان کو بخشی ہیں کوئی کام ہی نہیں لے رہے ہیں تو یہ مستحق ہیں کہ ہم ان سے ان کو محروم کردیں اور یہ کام ہمارے لئے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹا دیتے، پھر یہ راستہ کی تلاش میں بھٹکتے پھرتے لیکن ان کو راہ نہ ملتی۔ لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا تو یہ ہماری رحمت ہے اور اب بھی ان کے لئے موقع ہے کہ یہ ہماری اس رحمت سے فائدہ اٹھائیں اور آنکھیں بند کرکے زندگی نہ گزاریں۔ ’ لو ‘ شرط فی الماضی کے لئے آتا ہے اور ہمارے نزدیک یہاں مضارع سے پہلے فعل ناقص مخدوف ہے۔ یعنی ’ ولو کنا نشاء ‘۔
Ayah 36:67آیت 67
اسی طرح اگر ہم چاہتے تو ان کو ان کی جگہ ہی پر مسخ کرکے رکھ دیتے تو پھر نہ وہ آگے ہی کو بڑھ سکتے اور نہ پیچھے ہی کو پلٹ سکتے لیکن یہ ہماری عنایت ہے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا بلکہ ان کو مہلت دیے ہوئے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو سنبھل جائیں اور خدا کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کا حق پہنچانیں، ان کی قدر کریں اور اپنے رب کے شکرگزار بندے بنیں۔
Ayah 36:68آیت 68
اوپر جو دھمکی دی گئی ہے کہ انسانی زندگی کے احوال و مشاہدات سے اس کی دلیل دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے لوگوں کی قوتوں اور صلاحیتوں کو مسخح کردینا ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ انسان جب وجود میں آتا ہے تو وہ ایک مضغہ گوشت ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ درجہ بدرجہ اس کو قوت و توانائی بخشتا ہے یہاں تک کہ وہ جوانی کی تمام قوتوں اور صلاحیتوں سے بھرپور ہوجاتا ہے۔ پھر اس کے اوپر بڑھاپا طاری ہونا شروع ہوتا ہے اور درجہ بدرجہ وہ اسی ضعف و ناتوانی کی حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے جس میں وہ اپنی ولادت کے وقت مبتلا تھا۔ قرآن نے اس حالت کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی ہے۔ اللہ الذی خلقکم من جعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعف وشیبۃ (الروم : 54) (اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ناتوانی سے، پھر ناتوانی کے بعد اس نے توانائی بخشی پھر توانائی کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کردیا) یہ عام حالت کی تصویر ہے۔ ہر شخص جو جوانی اور پیری کے مراحل سے گزرتا ہے اس کو اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ قوتوں اور صلاحیتوں کی ناتوانی کا اس سے کہیں زیادہ تجربہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کو ارذل عمر کے مرحلے سے سابقہ پڑتا ہے۔ قرآن نے ان کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی ہے۔ ومنکم من یردا الی ارذک لعمر یس کی لایعلم بعد علم شیاء (النحل : 70) (اور تم میں بعض وہ بھی ہوتے ہیں جو ارزول عمر کو پہنچائے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہیں جانتے)۔
آیات زیر بحث میں اسی صورت ھال کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس دنیا میں تم دیکھتے ہو کہ جس کی عمر ہم زیادہ کرتے ہیں درجہ بدرجہ اس کی قوتوں اور صلاحیتوں میں ہم اس کو پیچھے کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ یعنی جس ناتوانی کے دور سے وہ زندگی کا آغاز کرتا ہے اسی ناتوانی کی طرف پھر وہ واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام قوتین اور صلاحیتیں خدا ہی کی بخشی ہوئی ہیں وہ جب چاہے ان کو واپس لے سکتا ہے اور اس طرح واپس لے سکتا ہے کہ کسی کو اپنے داہنے بائیں کا بھی کچھ ہوش باقی نہ رہے تو حیف ہے ان لوگوں پر جو اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کرین اور ان کو پا کر خدا کے شکر گزارے ہونے کے بجائے استکبار میں مبتلا ہوجائیں۔
’ تنکیس ‘ اور نکس ‘ کو عام اہل لغت بالکل ہم معنی قرار دیتے ہیں۔ یعنی کسے شے کو پیچھے کی طرف لوٹا دینا۔ لیکن میرے نزدیک تنکیس میں تدریج کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے یعنی درجہ بدرجہ کسی چیز کو پیچھے کی طرف لوٹانا۔ قرآن میں یہ دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں اور دونوں جگہ یہ فرق ملحوظ ہے۔ لفظ ’ خلق ‘ یہاں ’ خلقت ‘ کے مفہوم میں ہے اور اس معنی میں یہ قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔
Ayah 36:698۔ آگے کا مضمون۔ آیات 69۔ 73
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ خاتمہ میں تمہید کے مضمون کو، ایک نئے اسلوب سے، پھر لے لیا ہے۔ یاد ہوگا، سورة کا آغاز قرآن حکیم کی قسم سے ہوا ہے اور اس حکیمانہ کتاب کو آنحضرت ﷺ کی رسالت کی دلیل کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے امیوں پر عظیم احسان فرمایا ہے لیکن اس پر ایمان وہی لائیں گے جن کے اندر زندگی کی رمق ہوگی۔ اس تمہید کے بعد کلام کا رخ قرآن کے دعاوی کے اثبات کی طرف مڑ گیا ہے۔ یہاں بھی غور کیجئے تو وہی بات ایک نئے اسلوب سے آئی ہے۔ پہلے ان مخالفین کی تردید ہے جو قرآن کو شاعری اور آنحضرت ﷺ کو شاعر قرار دیتے تھے۔ پھر یہ واضح فرمایا ہے کہ کن لوگوں پر یہ کلام اثر انداز ہوگا اور کون لوگ اس سے محروم رہیں گے۔ اس کے بعد ربوبیت کی بعض واضح آیات کی طرف اشارہ کرکے اس دعوت شکر کا اعادہ کیا ہے جس پر اس سورة کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد کلام کا رخ آنحضرت ﷺ کی تسلی کی طرف مڑ گیا ہے کہ لوگ تمہاری مخالفت میں جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا غم نہ کرو، جو لوگ اللہ پر بھی پھبتیاں چست کرنے سے باز نہیں آتے وہ اگر تمہارا مذاق اڑائیں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حولاے کرو۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایے۔
9۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 69
ضمیر مفعول کا مرجع آنحضرت ﷺ ہیں۔ یہ ان لوگوں کے خیال کی تردید ہے جو قرآن کو شاعری آور آنحضرت ﷺ کو ایک شاعر قرار دیتے تھے۔ فرمایا کہ نہ ہم نے اپنے رسول کو شعر کی تعلیم دی۔ نہ یہ چیز اس کے شایانِ شان ہی ہے۔ یہ ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو قرآن کی معجزانہ فصاحت و بلاغت کو مھض اس کے پیش کرنے والے کی شاعرانہ جادوبیانی کا کرشمہ قرار دیتے تھے تاکہ ان کے عوام پر یہ اثر نہ پڑنے پائے کہ وہ اس کی تاثر و تسخیر سے مرعوب ہو کر اس کو آسمانی کتاب مان لیں۔ عوام کو قرآن اور پیغمبر ﷺ سے گرگشتہ کرنے کے لئے وہ کہتے تھے کہ قرآن ہے تو بیشک ایک نہایت فصیح وبلیغ کلام لیکن اس کی یہ فصاحت و بلاغت اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ کوئی آسمانی وحی ہے، جیسا کہ اس کا پیش کرنے والا دعویٰ کرتا ہے، بلکہ جس طرح ہمارے اونچے درجے کے شاعروں کے کلام میں تاثیر و تسخیر ہے اسی طرح اس شخص کے کلام میں بھی تاثیر و تسخیر ہے۔ اس وجہ سے اس شخص کو زیادہ سے زیادہ ایک اونچے درجے کا شاعر سمجھنا چاہیے نہ کہ ایک نبی اور رسول اور اس قرآن کو ایک شاعر انہ کلام ہی کا رتبہ دینا چاہیے نہ کہ وحی والہام کا۔ قرآن نے ان کے اس خیال کی مختلف اسلوبوں سے جگہ جگہ تردید کی ہے۔ خاص طور پر سورة شعراء میں اس فرق کو نہایت تفصیل سے نمایاں فرمایا ہے جو ایک نبی اور ایک شاعر کے درمیان ایک عامی کو بھی نظر آسکتا ہے۔ تفصیل کے طالب اس پر ایک نظر ڈال لیں۔
’ وما ینبغی لہ ‘ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ شاعری نبوت کی شان سے ایک فروتر چیز ہے۔ اس کے فروتر ہونے کے دو پہلو ہیں۔
ایک پہلو تو یہ ہے کہ حضرات انبیائے کرام (علیہم السلام) کی روایات و خصوصیات اور شاعروں کی روایات و خصوصیات میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔ سورة شعراء میں شاعروں کی تین خصوصیات بیان ہوئی ہیں اور تینوں ہی شان نبوت کے منافی ہیں۔
ان کی ایک خصوصیت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ صرف گفتار کے غازی ہوتے ہیں، کردار کے غازی نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس نبی اپنی ہر بات پر سب اول اور سب سے بڑا عمل کرنے والے خود ہوتا ہے۔
دوسری خصوصیات ان کی یہ مذکور ہوئی ہے کہ ان کا کلام متضاد افکار کا مجموعہ ہوتا ہے۔ وہ ہر وادی میں ہرزہ گردی کرتے اور فرع دونوں میں بالکل متحد و مربوط اور باہم و گرد، وابستہ و پیوستہ ہوتی ہے۔
ان کی تیسری خصوصیت یہ بیان ہوئی ہے کہ ان کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ برعکس اس کے انبیائے کرام کے پیرو ہمیشہ سوسائٹی کے اخیار ہوئے ہیں۔
اگرچہ اس کلیہ میں بعض استثناء بھی ہیں جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے لیکن بہت کم۔ عام حالت یہی ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو شعر و شاعری کی چھوت سے محفوظ رکھا۔
انبیاء کی شان سے اس کے فروتر ہونے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ شاعری کا تعلق تمام تر جذبات سے ہے۔ یہ جذبات ہی سے پیدا ہوتی ہے اور جذبات ہی پر عمل کرتی ہے۔ یہ اچھے جذبات ابھارتی ہے کہ اگر اس کے اندر اچھے جذبات ظاہر کئے گئے ہوں اور برے جذبات بھی برانگیختہ کرتی ہے۔ اگر اس کو برے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا جائے۔ اس دائرہ سے باہر اس کا وجود بالکل بےکار ہے۔ حضرات انبیائے کرام جس مشن پر مامور ہوتے ہیں اس کا تعلق صرف جذبات سے نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو سے ہوتا ہے اس وجہ سے ان کی اصل اپیل جذبات کے بجائے انسان کی عقل سے ہوتی جو زندگی کہ ہر پہلو میں رہنمائی کرتی ہے۔ انہوں لوگوں کو صرف ابھارنا ہی نہیں ہوتا بلکہ ان کی تربیت بھی کرنی ہوتی ہے، ان کی غلطیوں کو درست کرنا ہوتا ہے، ان کو انفرادی و اجتماعی زندگی کے آداب و اصول سکھناے ہوتے ہیں، ان کو حکومت و ریاست کے قوانی و ضوابط بتانے ہوتے ہیں۔ مختصر الفاط میں یوں سمجھے کہ انہیں دنیا اور آخرت دونوں کی حسنات سے لوگوں کو بہرہ مند کرنا ہوتا ہے۔ یہ سارے کام ظاہر ہے کہ شاعری کے بس سے باہر ہیں۔ ان کاموں کے لئے ضرورت کسی شاعر کے دیوان یا مجموعہ کلام کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کتاب مبین کی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو شاعر نہیں بلکہ اپنی کتاب مبین کا حامل بنایا۔
یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ جب شاعری حضرات انبیائے کرام کی شان اور ان کے مقصد سے ایک فروتر چیز ہے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ؑ کو زبور شعر کی شکل میں کیوں عطا فرمائی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت دائود ؑ کے پاس اصل رہنما کتاب زبور نہیں بلکہ تورات تھی۔ زبور کی حیثیت محض تورات کے ایک ضمیمہ کی سمجھے جس میں حضرت دائود ؑ کی کچھ دعائیں، مناجاتیں، ان کے مواعظ اور ان کی پُر حکمت نصیحتیں ہیں۔ تورات کے ساتھ مل کر تو یہ ایک نہایت بابرکت خزانہ حکمت ہے۔ لیکن تورات کے بغیر یہ اس مقصد کے لئے کافی نہیں ہے جس کے لئے حضرات انبیاء کی بعثت ہوئی۔
ان ھوالا ذکر و قرآن مبین ‘۔ یعنی یہ قرآن شعر و شاعری نہیں بلکہ ایک عظیم یاد دہانی اور ایک واضح صحیفہ ہدایت ہے تاکہ یہ خلق کی اصلاح اور لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنے۔ قران کے ’ ذکر ‘ ہونے کا مفہوم اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں۔ یہ ان تمام حقائق کی بھی یاددہانی کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کے اندر ودیوت فرمائے ہیں، اس پوری تاریخ ہدایت کی بھی یاددہانی کرتا ہے جو حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک پھیلی ہوئی ہے اور ان تمام نتائج و عواقب کی بھی یاددہانی کرتا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں لازماً پیش آکے رہیں گے، اگر اللہ کے رسول کی تکذیب کی گئی۔
’ قرآن مبین ‘۔ یعنی ایک جامع صحیفہ ہدایت جو زندگی کے ہر پہلو کے لئے اپنے اندر نہایت واضح، ٹھوس، محکم اور مدلل رہنمائی رکھتا ہے اور ہر حقیقت کو اس طرح کھول کر بیان کرتا ہے کہ کسی انصاف پسند کے لئے کسی شب ہے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ایسے مدلل، میرہن اور منضبط کتاب کو شعرو شاعری سے کیا تعلق ! دنیا کی پوری تاریخ میں کس شاعر نے اس طرح کی کتاب پیش کی ہے !
Ayah 36:70آیت 70
’ ینذر ‘ کا فاعل نبی و ہیں۔ یہ اس قرآن مبیں کے اتارے جانے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ قرآن اس لئے اتارا ہے کہ اس کے ذریعے سے وہ ان لوگوں کو انداز کردے جن کے اندر حیات عقلی و روحانی کی رمق باقی ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھائیں گے البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر حجت پوری ہوجائے گی اور وہ خدا کے ہاں یہ عذر نہیں کرسکیں گے کہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور نہ وہ ہدایت اختیار کرنے والے بنتے۔
فعل ’ اندار ‘ یہاں اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے اور ’ حی ‘ سے دل کے زندہ مراد ہیں۔ ایک منذرا انداز کرتا تو سب کو ہے لیکن اس کا انداز کارگر صرف انہی لوگوں پر ہوتا ہے جن کی فطرت زندہ ہوتی ہے۔ اس لئے کہ بات پر دھیان وہی کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا ہے۔ ’ انما تنذر من اتبع الذکر (یس : 11) (تم انہی کو ڈرا سکتے ہو جو نصیھت پر دھیان کریں)۔ چونکہ حقیقت کے اعتبار سے زندہ وہی لوگ ہوتے ہیں اس وجہ سے قرآن نے انہی کو زندہ کہا ہے۔ جو اس وصف سے محروم ہیں وہ زندہ نہیں بلکہ مردہ ہیں۔ چناچہ ایسے لوگوں کی نسبت فرمایا ہے :’ وما انت بمسمع من فی القبور ‘ (فاطر : 22) اس اسلوب بیان میں نبی ﷺ کے لئے یہ تسلی بھی ہے کہ تمہارا کام زندوں کو جگانا ہے، مردوں کو جگانا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے قرآن میں بار بار بیان ہوا ہ۔
’ القول ‘ سے مراد وہ قول ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرمایا تھا کہ میں بنی آدم کی ہدایت کے لئے اپنی کتاب اور اپنی ہدایت نازل کروں گا۔ پھر جو اس کے بعد بھی تیری پیروی کریں گے تو میں ان سب کو تیرے سمیت جہنم میں بھردوں گا۔
Ayahs 36:71–73آیت 71۔ 73
ان آیات کا موقع و محل سمجھنے کے لئے اس سورة کی آیت 33۔ 35 پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ جس طرح وہاں قرآن کے انداز اور اس کی دعوت توحید کا حوالہ دینے کے بعد بعض آیات ربوبیت کی طرف توجہ دلائی ہے اور پھر خدا ہی کی شکر گزاری کا مطالبہ کیا ہے اسی طرح یہاں بھی قرآن کی دعوت کو تائید میں اپنی ربوبیت کی بعض نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد خدا ہی کی شکر گزاری کا مطالبہ کیا ہے۔ گویا تمہید کا مضمون خاتمہ میں ایک نئے اسلوب سے پھر سامنے آگیا۔
’ اولم یروانا خلقنا لھم مما عملت ایدینا الایۃ ‘ فرمایا کہ کیا وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے اپنی قدرت و حکمت سے چوپائے بنائے اور پھر ان کو ان کا مالک بنا دیا۔ وہ ان پر پوری آزادی سے مالکانہ تصرف کرتے اور اپنی تمام ضروریات میں ان کو استعمال کرتے ہیں۔ ’ مما عملت ایدینا ‘ میں وہی بات ایک دوسرے اسلوب سے فرمائی گئی ہے جو پیچھے آیت 35 میں وما عملتہ ایدیھم ‘ کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں خود اپنے وجود سے شاہد ہیں کہ صرف خدا ہی کی قدرت و حکمت نے ان کو وجود بخشا ہے، کسی دوسرے کی مجال نہیں تھی کہ ان کو وجود میں لاسکتا یا ان کو انسان کا مطیع و فرمانبردار بنا سکتا۔ یہ محض رب کریم کی کریمی ہے کہ اس نے ان کو وجود میں لاسکتا یا ان کو انسان کا مطیع و فرمانبردار بنا سکتا۔ یہ محض رب کریم کی کریمی ہے کہ اس نے ان کو اپنی قدرت و حکمت سے بنایا اور پھر ان کو انسان کی غلامی میں دے دیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ صورت حال دعوت دیتی ہے کہ انسان غور کرے کہ قدرت کے اس بےپایاں انعام کے عوض میں اس پر کوئی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے یا نہیں ؟ قرآن اس سوال کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا اور اس کے نتائج سے آگاہ کرنا چاہتا ہے لیکن احمق لوگ حقیقت کی اس یاددہانی کو شاعری سمجھتے ہیں۔
’ وذللنھا لھم الایۃ ‘۔ یعنی یہ محض خدا کی ربوبیت و رحمت ہے کہ اس نے ان چوپایوں کو انسان کی معاشی ضروریات کے لئے سازگار بنایا اور پھر ان کو اس طرح انسان کا مطیع بنا دیا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ان کو استعمال کرتا ہے۔ اگر خدا نہ چاہتا تو یہ چوپائے نہ تو انسان کی ضروریات کے لئے سازگار ہوتے اور نہ وہ ان کو اپنا مطیع بنا سکتا۔ آخر دنیا میں کتنے جانور ایسے ہیں جو نہ تو انسان کی ضروریات کے لئے کارآمد ہیں اور نہ وہ ان کو چوپایوں کی طرح اپنا غلام ہی بناسکتا ہے۔ اگر وہ ان کو مسخر بھی کرلے جب بھی وہ ایک بوجھ تو اس کے لئے بن سکتے ہیں لیکن اس کو کوئی بوجھ اٹھانے والے نہیں بن سکتے۔ فرمایا کہ ان چوپایوں ہی میں سے بعض وہ ہیں جن سے وہ سواری کا کام لیتا ہے اور بعض وہ ہیں جن سے وہ اپنی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے۔
ولھم فیھا و مشارب افلا یکشرون۔ یعنی سواری اور غذا کے علاوہ اور بھی بہت سے فوائد ان سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان کی کھال، ان کے بال، ان کی ہڈی، ان کے بول و براز، غرض کون سی چیز ہے جو انسان کے لئے نافع نہیں ہے۔ اسی طرح ان کے دودھ اور اس دودھ سے بنی ہوئی پینے کی مختلف چیزیں۔ دہی، لسی، چھاچھ۔ سب انسان کے لئے لذیذ، خوشگوارا اور صحت بخش ہیں۔ ’ افلا یثکرون ‘۔ تو کیا یہ نعمتیں ان کے اوپر کوئی حق نہیں عائد کرتیں اور ان سے یہ مطالبہ نہیں کرتیں کہ جس رب کی بخشی ہوئی نعمتوں سے وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اس کے شکر گزارو فرمانبردار بھی بنیں۔ یہ نعمتیں زبان حال سے انسان کو یہ سبق پڑھا رہی ہیں اور اسی سبق کی یاددہانی اللہ کی کتاب بھی کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی واضح حقیقت کو سمجھنے اور ماننے کے بجائے اس کو شاعری قرار دے کر اس سے گریز کر راہیں کیوں سوچ رہے ہو !
Ayahs 36:74–75آیت 74۔ 75
یعنی اس واضح حقیقت کو مواجہہ کرنے کے بجائے انہوں نے حقیقت سے فرار کے لئے چور دروازے پیدا کیے ہیں۔ حق تو یہ تھا کہ جس رب کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو رہے ہیں اس کے حقوق و فرائض پہنچانتے اور ان کو ادا کرتے لیکن انہوں نے کیا یہ ہے کہ خدا کے سوا کچھ دوسرے معبود انہوں نے ایجاد کیے ہیں اور ان کے کچھ رسوم ادا کرکے یہ توقع کر رہے ہیں کہ اگر خدا کی طرف سے کوئی گرفت ہوئی تو ان کی مدد سے وہ چھوٹ جائیں گے۔
’ لا یستطیعون الایۃ ‘۔ فرمایا کہ ان کی مدد تو وہ کیا خاک کرسکیں گے۔ البتہ یہ ہوگا کہ ان کے ساتھ یہ بھی ان کی فوج کی حیثیت سے خدا کے حضور میں حاضر کیے جائیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا کہ یہ کس سزا کے مستحق ہیں۔