Ayah 36:76آیت 76
یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ جو کچھ بھی کہیں اس کو برداشت کرو، اس کا غم نہ کرو۔ یہ تمہیں شاعر، خبطی اور مفتری جو کچھ بھی کہتے ہیں کہنے دو اور یہ اطمینان رکھو کہ اللہ ان کو خفیہ سازشوں اور شرارتوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور جو کچھ یہ علانیہ کہہ اور کر رہے ہیں اس کو بھی جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب خدا سب کچھ مانتا ہے تو تم کیوں غم کرو ! تم خدا کا کام کر رہے ہو، کرتے رہو اور یہ بھروسہ رکھو کہ تمہارے دشمنوں سے نمٹنے کے لئے تمہارا رب کافی ہے۔
Ayahs 36:77–78آیت 77۔ 78
’ انسان ‘ سے مراد قریش ہی ہیں جن سے یہاں بحث ہے۔ بےالتفاقی کے اظہار کے لئے لفظ عام استعمال فرمایا ہے۔
’ ضرب مثل ‘ کوئی مثال بیان کرنے یا حکمت کی بات کہنے کے لئے بھی آتا ہے اور موقع ہو تو کسی پر طنز یا پھبتی چست کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یہاں یہ اس دوسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
یہ کلام اپنے ماسبق سے دو پہلوئوں سے ربط رکھتا ہے۔ اوپر کی آیت میں آنحضرت ﷺ کو جو تسلی دی گئی ہے اس سے بھی اس کا تعلق ہے اور اس سے اوپر کی آیات میں قریش کو خدا کی ربوبیت کے جو مقتضیات بتائے گئے ہیں اس سے بھی اس کا ربط ہے۔
تسلی کے مضمون سے اس کا ربط یوں ہے کہ پیغمبر ﷺ کو بتایا گیا ہے کہ جو سر پھرے لوگ خدا پر بھی پھبتی چست کر رہے ہیں اور اپنی پیدائش کو بھول کر بڑے طنطنہ سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ بوسیدہ ہڈیوں میں کون زندگی پیدا کرسکتا ہے وہ اگر پیغمبر پر طنز کریں اور اس کو شاعر و مجنون قرار دیں تو ان سے کیا بعید ہے۔
ربوبیت کے مضمون سے اس کا تعلق یوں ہے کہ ربوبیت جس طرح شکر اور توحید کو مقتضی ہے اسی طرح ایک روز حساب و کتاب کو بھی مقتضی ہے (اس مضمون کی وضاھت اس کے محل میں ہوچکی ہے) لیکن انسان کی بلاوت کا ٰیہ حال ہے کہ وہ خدا کی نعمتوں سے متمتع ہونے کے باوجود یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ کوئی روزِ حساب و کتاب بھی آنے والا ہے جس دن اس سے ان نعمتوں کی بابت پر سش ہونی ہے اور اور اگر اس کو اس کی یاددہانی کی جاتی ہے تو وہ ایک حریف بن کر سامنے آتا ہے اور اپنی پہلی خلقت کو بالکل بھول کر طنز یہ انداز میں سوال کرتا ہے کہ بھلا بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے ! فرمایا کہ ان کو بتا دو کہ ان کو ہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا۔ اگر پہلی بار ان کو پیدا کرنے میں اس کو کوئی زحمت نہیں پیش آئی تو دوبارہ اس کو پیدا کرنے میں کیوں زحمت پیش آئے گی !
’ وشئی خلقہ ‘ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ احمقانہ سوال وہی کرسکتا ہے جس کو اپنی پہلی خلقت یاد نہ رہی ہو۔ جس کو اپنی پہلی خلقت یاد ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس مٹی سے وجود میں لایا ہے تو وہ یہ سوال نہیں کرسکتا اگر کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کا حریف بن کر اس سے لڑنے اٹھا ہے۔
Ayah 36:79آیت 79
’ وھو بکل خلق علیم ‘۔ ’ خلق ‘ یہاں مخلوق کے معنی میں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات کو جانتا ہے۔ ’ الا یعلم من خلق ‘ (کیا وہ نہیں جانے لگا جس نے پیدا کیا) کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ مٹی میں رل ملی جانے کے بعد وہ ان کو بھول جائے گا۔ وہ ان کے وجود کے ایک ایک ذرے سے باخبر ہے۔ قد علمنا ما تنقص الارض منھم وعندنا کتب حفیظ (ق۔ 4) (زمین ان کے اندر سے جو کچھ کم کرتی ہے ہم اس کو جانتے رہے ہیں اور ہمارے پاس سارا ریکارڈ رکھنے والی ایک کتاب ہے)۔
Ayah 36:80آیت 80
یعنی اس بات کو مستعبد نہ خیال کرو کہ راکھ اور مٹی سے زندگی نمودار ہوجائے گی۔ ضد سے ضد کے نمودار ہونے کا کرشمہ تم برابر اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ تم سرسبز درخت کی دو شاخیں لیتے اور ان کو ایک دوسرے سے رگر کر ان سے آگ چلا لیتے ہو۔ جس خدا نے اپنی قدرت کی یہ شان دکھائی ہے اس کے لئے یہ کیا بعید ہے کہ وہ مٹی اور راکھ کے اندر سے زندگی نمودار کردے۔ ! الشجرالاخضر ‘ سے مراد وہ درخت ہیں جو عرب کے بعض علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور صحرائوں کے مسافر ان کی شاخوں سے چقماق کا کام لیتے رہے ہیں۔
سلف میں سے بعض لوگوں نے اس آیت کی تاویل اس سے مختلف بھی کی ہے لیکن مجھے اس میں تکلیف محسوس ہوتا ہے۔ یہ تاویل بالکل واضح ہے۔ عرب میں بعض درکت پائے جاتے تھے جن سے لوگ چقماق کا کام لیتے تھے۔ کتابوں میں ان کے نام بھی مذکور ہونے ہیں۔ اگر اب یہ درخت نہ پائے جاتے ہوں یا بہت نایاب ہوں تو اس سے کچھ فرق نہیں پیدا ہوتا۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے برابر محوو اثبات ہوتا رہتا ہے۔ اگر قرآن کے مخاطبِ اول اس سے واقف تھے تو یہ استدلال بالکل برمحل ہے۔ اس کی اصل بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ ضد سے ضد کے وجود کے شواہد اس دنیا میں موجود ہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے جس سے انکار کی گنجائش کسی کے لئے بھی نہیں ہے۔ یہ کون نہیں جانتا کہ سب سے زیادہ زور دار آگ پانی کے اندر پائی جاتی ہے۔
Ayah 36:81آیت 81
اسی استبعاد کو ایک دوسرے پہلو سے رفع فرمایا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کردیا اور اس کو اس میں کوئی مشکل نہیں پیش آئی کیا وہ ان کی جیس مخلوق کو دوبارہ پیدا کردینے پر قادر نہیں ہوسکتا ؟ یہ سوچیں کہ ان دونوں میں زیادہ مشکل کام کون سا ہے ؟ بلی وھو الخلاق العلیم ‘۔ یہ اس سوال کا خود ہی جواب دیا ہے کہ ہاں، وہ پوری طرح قادر ہے کہ ان کو دوبارہ پیدا کردے۔ اس جواب سے مخاطب کے لئے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی اگرچہ وہ کتنی ہی سخن سازیاں کرے۔ ’ وھو الخلاق العلیم ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات سے مذکورہ دعوے پر دلیل ہے کہ اصل پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا تو خدا ہی ہے۔ اوپر آیت 79 میں فرمایا ہے وھو بکل خلق علیم ‘ اسی مضمون کو یہاں زیادہ زور دار الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ خدا بڑا پیدا کرنے والا ہے، کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس دنیا کو پیدا کرکے وہ تھک گیا یا اس کی قوت تخلیق ختم ہوگئی بلکہ وہ اسی طرح تازہ دم ہے جس طرح پہلے تھا اور وہ اپنی ہر مخلوق کے اجزائے ترکیبی سے اچھی طرح باخبر ہے، وہ جب چاہے گا ازسر نو اسکے پور پور اور جوڑ جوڑ کو ٹھیک کرے گا۔
Ayah 36:82آیت 82
یعنی کوئی اس غلط فہمی میں بھی نہ رہے کہ کسی چیز کو پیدا کرنے کے لئے خدا کو کارخانے قائم کرنے پڑتے ہیں یا سرمایہ، میٹریل، لیبر اور مشینوں کا اہتمام و انتظام کرنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کسی ارادے کی تکمیل میں کسی چیز کا بھی محتاج نہیں ہے۔ اس کا معاملہ بس یوں ہے کہ جب وہ کسی بات کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو حکم فرماتا ہے کہ وہ ہوجائے اور وہ اس کے حکم کے مطابق ہوجاتی ہے۔
Ayah 36:83آیت 83
’ ملکوت ‘ کے معنی اختیار و اقتدار کے ہیں۔ یہ آخر میں تنبیہ فرمائی کہ جس خدا کے ہاتھ میں ہر چیز کی زمام ہے اور جس کی طرف ہی تمہیں لوٹ کر جانا ہے وہ ہر نقص و عیب سے منزہ ہے تو اس کو ہر عیب سے منزہ مانو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔ اس کی ذات وصفات اور اس کے حقوق میں کوئی شریک نہیں۔ وہ ہر شرکت سے ارفع ہے، اس نے یہ دنیا عبث نہیں بنانی ہے اس وجہ سے ہر ایک کو خدا کے حضور حاضر ہونا اور اپنے اعمال کی جواب دہی کرتی ہے۔ اس کے لئے لوگوں کو مرنے اور سڑگل جانے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا ذرا مشکل نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ کوئی چیز بھی اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں اور کسی کا کوئی قول و عمل بھی اسے مخفی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی راہنمائی سے ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ الحمد اللہ علی ذلک۔
رحمان آباد، 8 مارچ، 1975 ء