Ayah 40:35دین کے معاملے میں بےدلیل دخل در معقولات کا انجام
یعنی اللہ کی آیات اور اس کے احکام کے باب میں جو گفتگو بھی ہونی چاہئے وہ سند اور دلیل کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ جو لوگ بغیر اس طرح کی کسی دلیل و سند کے ان کی مخالفت کرتے ہیں وہ اللہ اور اہل ایمان کے نزدیک نہایت مبغوض ہیں۔
’ کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ‘ اس ٹکڑے سے ایک بات تو یہ واضح ہوئی کہ جو لوگ اس طرح کی کٹ حجتی کرتے ہیں یہ اس وجہ سے کرتے ہیں کہ ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر کردیا کرتا ہے جس کے سبب سے ان کی عقلیں الٹ جاتی ہیں اور وہ کوئی بات بھی اپنی خواہش کے خلاف ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اگرچہ وہ کتنی ہی واضح کیوں نہ ہو۔
دوسری بات یہ واضح ہوئی کہ ان کے دلوں پر یہ مہران کے تکبر اور ان کی فرعونیت کے سبب سے لگتی ہے۔ یہ لوگ اپنے غرور کے سبب سے ہر اس بات کی مخالفت کرتے ہیں جو ان کی خواہش کے خلاف ہو۔ اگر کوئی نبی و رسول بھی ان کو کوئی بات سمجھائے تو اس کو بھی وہ گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ آخر وہ کیوں نبی ہوا جب کہ اس سے زیادہ نبوت کے اہل وہ خود ہیں !… اس زمانے میں بہت سے برخود غلط اسلام کی نہایت واضح تعلیمات کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ انہیں دین کی الف، ب کی بھی خبر نہیں ہے۔ اگر کوئی ان کی اس جسارت پر ٹوکے تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ دین پر کسی گروہ کا اجارہ نہیں ہے۔ وہ بھی اس پر کلام کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کے ذہنوں میں بھی درحقیقت یہی غرور سمایا ہوا ہے۔
Ayahs 40:36–37فرعون کا ایک اشغلہ
اوپر آپ نے دیکھا کہ مرد مومن کی تقریر بالتدریج اپنے نقطہ ٔ عروج پر پہنچ گئی جس سے قدرتی طور پر اہل دربار متاثر ہوتے نظر آئے ہوں گے۔ اس وجہ سے فرعون نے پہلے کی طرح پھر مداخلت کی اور درباریوں کو بیوقوف بنانے کے لئے ایک اشغلہ چھوڑا۔ ہامان کو مخاطب کر کے اس نے حکم دیا کہ ہامان ! ایک بلند عمارت بنوائو، میں آسمانوں کے اطراف میں پہنچ کر ذرا موسیٰ کے اس رب کو جھانک کے دیکھنا چاہتا ہوں جس نے اس کے زعم کے مطابق اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ مجھے تو یہ شخص بالکل جھوٹا مدعی معلوم ہوتا ہے۔
’ وکذلک ذین یفرعون ‘۔ یعنی اتنی واضح تقریر کے بعد بھی فرعون کو قبول حق کی توفیق نہیں ہوئی۔ فکر ہوئی تو اس بات کی ہوئی کہ کسی طرح اپنے درباریوں کو اس تقریر کے اثر سے بچا لے جائے۔ توفیق خیر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ دیدہ دانسہ برائیاں کرتے کرتے دیدہ دلیر ہوجاتے ہیں بالآخر ان کی برائیاں اس طرح ان کی نگاہوں میں کھبا دی جاتی ہیں کہ ان کو چھوڑنے کا تصور بھی ان پر شاق گزرتا ہے۔ چناچہ فرعون کو بھی یہی افتاد پیش آئی۔ اس کے آگے بھی اس کے برے اعمال سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اس کو سیدھی راہ اختیار کرنے سے روک دیا۔
’ وما کید فرعون الا فی تاب ‘۔ فرعون نے یہ بات محض درباریوں کو فریب دینے اور حضرت موسیٰ ؑ کے استخفاف کے لئے کہی تھی اس وجہ سے قرآن نے اس کو ’ کید ‘ اس کے لئے بھی موجب تباہی ہوا اور اس کی قوم کے لئے بھی۔
Ayah 40:38فرعون کا جواب
مرد مومن نے فرعون کی اس مداخلت کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا۔ بلکہ نہایت واضح الفاظ میں قوم کو دعوت دی کہ لوگو، میری پیروی کرو، میں تمہاری رہنمائی میں صحیح راستہ کی طرف کر رہا ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ فرعون کی اس بات کا جواب ہے جو اوپر گزر چکی ہے کہ وما اھدیکم الا سبیل الرشاد۔ اس سے ثابت ہوا کہ انہوں نے قوم کو واضح الفاظ میں متنبہ کردیا کہ فرعون کی پیروی میں قوم کی تباہی ہے۔ اگر فلاں مطلوب ہے تو لوگوں کو ان کی پیروی کرنی چاہئے۔
Ayah 40:39آخر کی یاد دہانی
انہوں نے فرعون کو چیلنج تو کردیا لیکن دنیوی لیڈروں کی طرح اپنی جمعیت و اکثریت کا رعب نہیں جمایا بلکہ انبیائے کرام کے طریقہ پر لوگوں کو آخرت کی یاد دہانی کی کہ اس دنیا کی زندگی اور اس کا تمام عیش و آرام چند روزہ ہے، اصل قیام کا گھر آخرت ہے تو اس چند روزہ عیش کی خاطر ابدی زندگی تباہ نہیں کرنی چاہئے۔
Ayah 40:40اس عالم آخرت میں جزاء و سزا کا جو ضابطہ نافذ ہوگا یہ اس کا بیان ہے کہ اس میں جو لوگ گناہ کر کے پہنچیں گے ان کو تو ہر بدی کا بدلہ اسی کے مانند ملے گا تاکہ ان کے اوپر کوئی زیادتی نہ ہو لیکن جو نیکی کما کر جائیں گے وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور اس میں ان کو بےحساب رزق و فضل ملے گا… یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ مرد مومن کا یہ خطاب ارسٹوکریسی (ARISTOCRACY) کے اعیان سے ہے جن میں سے اکثر کا مدعا اس حیات چند روزہ کا عیش و آرام ہی رہا ہوگا اور اسی کی خاطر وہ فرعون کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے ہوں گے۔ ان کو انہوں نے توجہ دلائی کہ اس حیات چند روزہ کی خاطر ابدی زندگی کی بادشاہی کو قربان نہ کرو۔
Ayahs 40:41–42قوم کے بعض احیان کے اعتراضوں کا جواب
قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح فرعون نے ان کی تقریر میں بعض مداخلتیں کیں اسی طرح اس مرحلہ میں قوم کے بعض اعیان نے بھی ان پر بعض اعتراضات کئے۔ فرعون کی مداخلت کا تو، جیسا کہ آپ نے دیکھا، انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا اس لئے کہ اس سے انہیں کسی خیر کی امید نہیں تھی۔ لیکن قوم کے لیڈروں کی بات کا انہوں نے جواب دیا اور نہایت دلسوزی و ہمدردی کے انداز میں جواب دیا۔ ان لیڈروں نے ظاہر ہے کہ یہی اعتراض اٹھایا ہوگا کہ آپ کی ساری تقریر ہمارے ان معبودوں کے خلاف ہے جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے۔ آپ کو اپنے باپ دادا کے دین پر رہنا چاہئے نہ کہ کوئی الگ دین کھڑا کرنا چاہئے۔ مرد مومن نے نہایت دلسوزی کے ساتھ ان کو جواب دیا کہ یہ عجیب ماجرا ہے کہ میں تو آپ لوگوں کو نجات کی راہ کی طرف بلا رہا ہوں لیکن آپ لوگ مجھے دوزخ کی دعوت دے رے ہیں۔ میں تو آپ لوگوں کو خدائے عزیز و غفار کی بندگی کی دعوت دے رہا ہوں، جو پکڑ بھی سکتا ہے اور بخشنے والا بھی ہے، اور آپ لوگ مجھے اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ میں ایسی چیزوں کو اس کا شریک ٹھہرائوں جن کے شریک ہونے کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک ایک خدائے عزیز و غفار کا تعلق ہے وہ تو ایک مسلم بات ہے۔ اس کو تو وہ لوگ بھی مانتے ہیں جو مشرک ہیں اور اس کے مانے بغیر چارہ نہیں۔ وہی یہ بات کہ اس کے کچھ شریک بھی ہیں تو یہ چیز دلیل و ثبوت کی محتاج ہے اور اس کی کوئی دلیل میرے پاس نہیں ہے۔ اگر میں بےدلیل کسی کو خدا کا شریک بنائوں تو خدا کو کیا منہ دکھائوں گا۔
’ لاکفرباللہ واشرک بہ ‘ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شرک اور کفر میں حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے۔ جو شخص خدا کے شریک ٹھہراتا ہے وہ درحقیقت اس کا کفر کرتا ہے اس لئے کہ دین میں خدا کا صرف مان لینا مطلوب نہیں ہے بلکہ اس کی تمام صفات اور اس کے تمام حقوق کے ساتھ ماننا معتبر ہے اور ان حقوق میں سب سے بڑا حق اس کی توحید ویکتائی کا تسلیم کرنا ہے۔
Ayah 40:43’ لاجرم ‘ کے معنی ہوں گے ’ لا بدٗ۔ لامحالہ ‘ یہ حقیقت ہے۔ اس میں کسی بحث یا کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی قوم سے ترقی کر کے یہ قسم کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔
’ لیس لہ دعوۃ ‘ میں فعل کی نفی اس کے فائدہ کی نفی کے پہلو سے ہے۔ یعنی ان کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ اس دنا میں ہے، نہ آخرت میں ہوگا۔ اس حقیقت کی وضاحت قرآن کے دوسرے مقامات میں ہوچکی ہے۔
خلاصہ ٔ بحث
مرد مومن نے اوپر کی دلیل قائم کرنے کے بعد خلاصہ ٔ بحث ان کے سامنے یہ رکھا کہ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ آپ لوگ مجھے جن بتوں کی عبادت کی دعوت دے رہے ہیں وہ محض آپ کے وہم کی ایجاد ہیں۔ ان سے دعا و فریاد کا کوئی فائدہ نہ اس جہان میں ہے اور نہ آخرت میں ہوگا۔ اس دنیا میں ہمیں جو کچھ ملتا ہے خدا سے ملتا ہے اور آخرت میں ہم سب کی واپسی خدا ہی کی طرف ہونی ہے۔ ان فرضی دیویوں دیوتائوں میں سے کوئی مولیٰ و مرجع بننے والا نہیں ہے۔
’ وان المسرفین ھم اصحب النار۔ ’ مسرفین ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے شرک کا ارتکاب کر کے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے جس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہوں گے ان کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا بلکہ اس قسم کے سارے لوگ جہنم میں پڑیں گے۔
Ayah 40:44آخری ہمدردانہ تنبیہ
یہ اس مرد مومن کی تقریر کا آخری اور نہایت ناصحانہ و ہمدردانہ فقرہ ہے۔ فرمایا کہ آج تم لوگ مری بات مانو یا نہ مانو لیکن آگے جو مراحل آنے والے ہیں ان میں تم میری یہ باتیں یاد کرو گے مگر اس وقت ان کو یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ اشارہ آخرت کی جزاء و سزا کی طرف بھی ہے اور اس عذاب کی طرف بھی جس سے رسول کی تکذیب کی صورت میں انہوں نے اوپر اپنی قوم کو ڈرایا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب عذاب نمودار ہوجائے گا یا آخرت سامنے آن کھڑی ہوگی تو اس وقت یہ باتیں یاد کر کے پچھتائیں گے تو سب لین یہ پچھتانا بالکل بےسود ہوگا۔
’ وافو من امری الی اللہ ‘۔ یعنی میں نے تو جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔ اب تمہیں جو کچھ کرنا ہے کر گزرو۔ اگر تم اس کلمہ ٔ حق کے سبب سے میرے دشمن بنتے ہو تو میں اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کا محافظ اور ان کا نگران حال ہے۔ ان اللہ بصیر بالعباد۔
Ayah 40:45فرعون اور اس کے اعیان کی سازشوں کی ناکامی
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس تقریر کے بعد فرعون اور اس کے تمام اعیان ان کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور ان کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں لگ گئے کہ کسی طرح ان کو اپنے دین میں واپس لائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی سازشوں کے شر سے ان کو محفوظ رکھ۔ اس سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے جو سازشیں ان کو دین حق سے پھیرنے کے لئے کیں ان میں کوئی کامیابی ان کو نہیں ہوئی۔ اسی طرح اللہ کے جو بندے حق کا اعلان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دین و ایمان کی حفاظت فرماتا ہے۔
فرعون اور اس کے اتباع کا انجام
’ وحاق بال فرعون سوٓء العذاب ‘۔ ’ ال فرعون ‘ سے ظاہر ہے کہ یہاں اس کے آل و اتباع سب مراد ہیں۔ فرمایا کہ بندہ مومن کو تو اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کے شر سے محفوظ رکھا البتہ فرعون اور اس کے اتباع کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ ’ برے عذاب ‘ سے مراد وہ فیصلہ کن عذاب ہے جس نے فرعون اور اس کی ساری فوجوں کو غرق کردیا۔ اس کو برے عذاب سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کے دوران میں متعدد عذاب اہل مصر پر آئے لیکن یہ عذاب تنبیہ و تذکیر کے لئے تھے جن میں مومن و کافر دونوں ہی آزمائے گئے لیکن یہ آخری عذاب جو آیا تو اس سے مومن تو محفوظ رکھے گئے لیکن فرعون اور اس کی نسل کی اس نے جڑ کاٹ دی۔ لفظ ’ حان ‘ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس عذاب نے اس طرح ان کو اپنے احاطہ میں لے لیا کہ ان کے لئے کوئی مفر باقی نہیں رہا۔
Ayah 40:46فرعون اور اس کے اتباع کا حال برزخ میں
یہ اس عذاب کی تفصیل ہے کہ بزرخی زندگی میں ان کو صبح و شام دوزخ کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے کہ دیکھتے رہیں کہ ان کا اصلی ٹھکانا یہ ہوگا اور جب قیامت کا دن آئے گا تو حکم ہوگا کہ فرعون اور اس کے تمام اتباع کو دوزخ کے شدید ترین عذاب میں جھونک دو۔ قرآن میں جگہ جگہ اس بات کی تصریح ہے کہ مرنے کے بعد نیک ارواح پر ان کے اعمال کے اعتبار سے کیفیات کا صدور ہونے لگتا ہے اور ارواح خبیثہ پر ان کے اعمال کے اعتبار سے۔ یہ گویا ان کے لئے جنت یا دوزخ کی تمہید ہوتی ہے۔ پھر جب قیامت کا دن آئے گا تو جزا اور سزا اپنی اصلی شکل میں لوگوں کے سامنے آئے گی۔ حدیثوں میں عذاب قبر کا جو ذکر آیا ہے وہ اسی برزخی زندگی سے متعلق ہے۔
Ayahs 40:47–48لیڈروں اور پیروئوں کا حال دوزخ میں
اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے کہ مرد مومن کی سرگزشت ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی سنائی گئی ہے جو اپنے لیڈروں کے رعب کے سبب سے اظہار حق میں ہچکچا رہے تھے۔ اب یہ دکھایا ہے کہ دنیا کی مجالس میں جو لوگ اپنے لیڈروں کے ڈر سے حق کے اعتراف و اعلان کی جرأت نہیں کر رہے ہیں، ایک دن آئے گا جب یہ لیڈر اور ان کے پیرو دونوں دوزخ میں ہوں گے اور ایک دوسرے پر لعنت و نفرین کریں گے۔ کمزور اور دبے ہوئے لوگ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم آنکھ بند کر کے آپ لوگوں کے پیرو بنے رہے تو کیا آج آپ لوگ اس عذاب دوزخ میں سے بھی کچھ اپنے سر لینے والے بنیں گے جو ہمارے حصہ میں آیا ہے ؟ بڑے بننے والے جواب دیں گے کہ اب شکوہ و شکایت کا وقت گزر گیا۔ اب تو ہمیں اور تمہیں دونوں کو اسی میں رہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بالکل عدل کے ساتھ بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا… مطلب یہ ہے کہ یہ عذر کسی کے لئے کچھ نافع نہیں ہوگا کہ وہ دوسروں کے دبائو میں تھا اس وجہ سے باطل کا پیرو بنا رہا۔ اپنے نفس کی ذمہ داری ہر شخص پر خود ہے۔ یہ ذمہ داری وہ دوسروں پر ڈال کر سبک دوش نہیں ہوسکتا اس وجہ سے ہر شخص، خواہ وہ کتنا ہی دبا ہوا ہو، اللہ پر بھروسہ کر کے حق کا اعلان کرے اور یہ اعتماد رکھے کہ اللہ اس کی حفاظت فرمائے گا اور اگر اس راہ میں اس کی موت بھی آئی تو یہ موت شہادت کی موت ہوگی۔
فاسقانہ قیادت کی بنیاد و استکبار پر ہوتی ہے
یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ کفر و فسق کے ان لیڈروں کے لئے قرآن نے لفظ ’ استکبروا ‘ استعمال فرمایا ہے جس کے معنی ہوں گے، وہ جو بڑے بنے رہے، یا وہ جو بڑائی کے گھمنڈ میں رہے، یہ فاسقانہ قیادت کی تعبیر کے لئے رب سے زیادہ موزوں و معنی خیز لفظ ہے۔ اس کائنات میں بڑائی صرف اللہ کے لئے ہے اس وجہ سے ہر وہ قیادت جو اللہ کے راستہ سے ہٹانے والی ہے وہ استکبار پر مبنی ہے اور اس کا انجام بالآخر دوزخ ہے اس قیادت کے معیوں کے لئے بھی اور اس کے پیروئوں کے لئے بھی۔
Ayahs 40:49–50اہل دوزخ کی آخری نذیر اور اس کی ناکامی
جب دوزخی دیکھیں گے کہ یہاں نہ ان کے شرکاء و شغعاء کام آنے والے بنے اور نہ ان کے لیڈر ہی ان کی کوئی مدد کرسکے تو وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر دوزخ کے داروغوں ہی سے التجا کریں گے کہ آپ ہی لوگ اپنے رب سے درخواست کیجیے کہ ہمارے عذاب میں زیادہ نہیں تو ایک ہی دن کی تخفیف کردی جائے کہ ہم ذرا دم لے لیں۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا تم لوگوں کے پاس تمہارے رسول نہایت واضح دلیلیں لے کر نہیں آتے رہے ہیں ؟ وہ کہیں گے، ہاں ! یہ بات تو ضرور ہے۔ وہ جواب دیں گے، اگر یہ بات ہے تو تم ہی درخواست کرو، ہم تمہارے جیسے لوگوں کے لئے کوئی درخواست نہیں کرسکتے۔
’ دما دعوا الکفرین الا فی ضلل ‘۔ یعنی اس وقت کافروں کی ہر دعا و فریاد اور ہر چیخ و پکار بالکل صدا بصحرا ہوگی۔ نہ ان کے مزعومہ دیوی دیوتا ان کی فریادیں سنیں گے، نہ ان کے لیڈر ان کے کچھ کام آئیں گے اور نہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی کچھ شنوائی ہوگی۔ امید کے تمام دروازے ان کے لئے بند ہوجائیں گے۔
Ayah 40:51رسولوں کے باب میں سنت الٰہی
اس آیت کا تعلق اوپر آیت 45 سے ہے۔ بیچ میں پانچ آیتیں ضمنی طور پر اس عذاب کی وضاحت کے لئے آگئی ہیں جس سے فرعون اور اس جیسے ستکبروں اور ان کے پیروئوں کو سابقہ پیش آئے گا۔ فرمایا کہ جس طرح ہم نے موسیٰ ؑ اور اس مرد مومن کی مدد فرمائی اسی طرح ہم اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہ گواہی کے لئے کھڑے ہوں گے۔
اس آیت کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ اس لئے کہ اس میں نہایت صراحت کے ساتھ اس بات کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں بھی مدد فرماتا ہے۔ اس الجھن کی وجہ یہ ہے کہ ان حضرات کے سامنے وہ فرق واضح طور پر نہیں ہے جو رسول اور نبی کے درمیان ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس فرق کو واضح کرتے آ رہے ہیں اس کو نگاہ میں رکھئے۔ رسولوں کے لئے سنت الٰہی یہی ہے کہ وہ جس قوم کی طرف بھیجے جاتے ہیں اس کے لئے وہ خدا کی عدالت ہوتے ہیں۔ اگر قوم ان کی تکذیب کردیتی ہے تو وہ لازماً فنا کردی جاتی ہے عام اس سے کہ وہ کسی خدائی عذاب سے تباہ ہو یا اہل حق کی تلوار سے شکست کھائے اور عام اس سے کہ یہ واقعہ رسول کے سامنے ہی پیش آئے یا رسول کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد۔ حضرت نوح ؑ سے لے کر حضرت مسیح ؑ تک ہر رسول کی زندگی اس سنت الٰہی کی شہادت دیتی ہے اور ہم برابر اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔
’ یوم یقوم الاشھاد ‘ سے مراد ظاہر ہے کہ قیامت کا دن ہے اس لئے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر نبی اور رسول سے گواہی دلوائے گا کہ اس نے لوگوں کو کیا تعلیم دی۔ اسی طرح امتوں سے سوال ہوگا کہ انہوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا۔ خدا کے ملائکہ بھی لوگوں کے اعمال کے رجسٹر کے ساتھ پیش ہوں گے۔ ان احوال کی تفصیل سورة مائدہ اور بعض پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔
Ayah 40:52یہ اسی یوم یقوم الاشھاد کی وضاحت ہے کہ اس دن خدائی گواہوں کی گواہی ایسی واضح، ایسی قطعی اور اتنی روشن ہوگی کہ جن بدقسمت لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ہوں گے ان کا کوئی عذر بھی کچھ کارگر نہیں ہو سکے گا۔ یہاں تک کہ جو لوگ اپنی گمراہی کا ذمہ دار اپنے لیڈروں کو بنانا چاہیں گے ان کا عذر بھی مسموع نہیں ہوگا۔ ان کے لیڈر خود ان کے منہ پر بات پھینک ماریں گے کہ تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے یہ جانتے ہوئے کہ ہم ضلالت پر ہیں تم نے ان کی پیروی نہیں کی تو اب ہم اور تم دونوں یکساں ہیں اور دونوں ہی کو اپنے اعمال کی سزا بھگتنی ہے۔
’ ولھم اللعنۃ ولھم سوء الدار ‘ یعنی ان کی معذرت کے جواب میں ان پر خدا اور اس کے فرشتوں کی پھٹکار ہوگی اور ان کے اعمال کی پاداش میں ان کے لئے برا ٹھکانا ہوگا۔
Ayahs 40:53–54وعدہ نصرت کی وضاحت
یہ وضاحت ہے اس نصرت کی جس کا ذکر اوپر ہوا کہ فرعون اور اس کے آل و اتباع تو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور موسیٰ ؑ اور ان پر ایمان لانے والے نبی اسرائیل، ہدایت اور کتاب الٰہی کی وراثت سے نوازے گئے۔
’ واورثنا بنی اسرآئیل الکتب ‘ کے اندر اس دنیا میں غلبہ و تمکن کا وعدہ خود مضمر ہے اس لئے کہ کتاب احکام و قوانین الٰہی کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جس ملت کو یہ عطا ہو اس کو زمین میں غلبہ و تمکن بھی حاصل ہو۔ چناچہ بنی اسرائیل کو یہ چیز حاصل رہی جب تک وہ اپنی کتاب پر عامل رہے۔
’ ھدی و ذکری لاولی الالباب ‘۔ یہ کتاب کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے دی کہ یہ لوگوں کو اللہ کی طرف رہنمائی اور اس کی باتوں کی یاددہانی کرتی رہے لیکن یہ فائدہ وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جن کے اندر عقل و بصیرت ہے۔ جو لوگ عقل و بصیرت سے محروم ہوجاتے ہیں ان کے لئے کوئی چیز بھی نافع نہیں ہوتی۔ اس میں تعریض ہے ان بنی اسرائیل پر جنہوں نے اپنی ضلالت پسندی و بےعقلی کے سبب سے اپنے کو اس کتاب کی روشنی سے محروم کرلیا۔
Ayah 40:55خلاصہ بحث
یہ بطور خلاصہ بحث نبی ﷺ کو تسلی دی کہ تم اپنی دعوت پر جمے رہو، اللہ کا وعدہ شدنی سے۔ یہ اشارہ اس وعدے کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر آیت 51 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں فتحمند کرے گا۔
’ ماستغفر لذنبک… الآیۃ، یہ تدبیر ارشاد ہوئی ہے اس صبر و استقامت کے حصول کی جو اس وعدے کے ظہور کے لئے شرط لازمی ہے کہ برابر اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگتے اور اپنے رب کی تسبیح و حمد کرتے رہو۔ یہ بات اس کے محل میں واضح ہوچکی ہے کہ حصول صبر کے لئے وسیلہ ٔ ظفر استغفار و نماز ہے۔ اور یہ بات بھی اس کے محل میں واضح ہوچکی ہے کہ حصول صبر کے لئے وسیلہ ظفر استغفار و نماز ہے۔ اور یہ بات بھی اس کے محل میں واضح ہوچکی ہے کہ اس طرح کے خطابات میں نبی ﷺ شخصًا مخاطب نہیں ہوتے بلکہ امت کے وکیل کی حیثیت سے مخاطب ہوتے ہیں۔ جو لوگ خطاب کی اس نوعیت اور اس کی بلاغت سے چھی طرح آشنا نہیں ہیں وہ آنحضرت ﷺ کی طرف ’ ذنب ‘ کے لفظ کی نسبت سے متوحش ہوتے ہیں حالانکہ اس کا ایک خاص محل ہے جس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔
Ayah 40:564۔ آگے کا مضمون… آیات : 56۔ 85
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جس میں آنحضرت ﷺ کو صبر و استقامت کی تلقین کے ساتھ نہایت واضح الفاظ میں فتح و نصرت کی بشارت اور قریش کے لیڈروں کو دنیا اور آخرت دونوں میں عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس بشارت اور وعید کے بیچ بیچ میں توحید اور قیامت کے ان آفاقی، انفسی اور اخلاقی دلائل کا حوالہ ہے جن پر یہ بشارت اور یہ وعید مبنی ہے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
منکرین کے انکار کی اصل علت
یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آج جو لوگ، بغیر کسی دلیل و سند کے، اللہ کی آیات کے باب میں تم سے جھگڑ رہے ہیں ان کی پروا نہ کرو۔ ’ آیات ‘ سے مراد توحید و آخرت کی وہ دلیلیں ہیں جو اوپر مختلف اسلوبوں سے مذکور ہوئیں۔ فرمایا کہ ان لوگوں کی مخالفت کا سبب یہ نہیں ہے کہ ان سے حق مخفی ہے یا ان کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل ہے بلکہ یہ صرف اس وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے تمہاری بات تسلیم کرلی تو یہ تمہاری برتری تسلیم کرلینا ہے جس سے ان کا پندار سیادت مجروح ہوتا ہے۔
منکرین کے علی الرغم غلبہ حق کی بشارت
’ ما ھم ببالغیہ ‘۔ فرمایا کہ اپنے اس پندار میں یہ بامراد ہونے والے نہیں ہیں، اب فیصلہ تقدیر یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں اس کلمہ حق کا بول بالا کرے گا اور تمہارے یہ مخالفین دنیا اور آخرت دونوں میں رسوا ہوں گے۔
مخالفین کے شر سے محفوظ رکھنے کی بشارت
’ فاستعذ باللہ ط انہ ھو السمیع البصر ‘۔ یعنی اپنے اس غرور کے سبب سے یہ تمہارے در پے آزار بھی ہوں گے لیکن تم اس کی پروانہ کرو بلکہ اپنے آپ کو اپنے اللہ کی پناہ میں دو اور اطمینان رکھو کہ اصل سننے دیکھنے والا ہی ہے۔ وہی تم کو ان متکبروں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
Ayah 40:57لوگوں کی دوبارہ پیدا کردینا آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے آسان ہے
فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس مغالطہ میں مبتلا ہیں کہ مرکھپ جانے کے بعد لوگوں کو ازسرنو پیدا کرنا ناممکن ہے تو یہ ان کی جہالت ہے۔ جو خدا اپنی قدرت سے آسمانوں اور زمین کو وجود میں لا سکتا ہے۔ آخر اس کے لئے انسانوں کو دوبارہ پیدا کردینا کیوں مشکل ہوجائے گا ! زیادہ مشکل کام پہلا ہے یا دوسرا ؟ اگر اللہ تعالیٰ اتنے بڑے بڑے کام کرسکتا ہے اور ثابت ہے کہ کرسکتا ہے تو یہ کام کیوں نہیں کرسکتا جو ان سے کہیں چھوٹا ہے ؟ و لکن اکتر الناس لا یعلمون ‘۔ یعنی ہے تو یہ بالکل واضح حقیقت، ہر شخص کی سمجھ میں آنی چاہئے، لیکن اکثر لوگ اتنی واضح حقیقت بھی نہیں سمجھ رہے ہیں۔
Ayahs 40:58–59آخرت کی اخلاقی ضرورت واضح فرمائی کہ اگر آخرت نہیں ہے، جیسا کہ یہ لوگ گمان کئے بیٹھے ہیں، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے۔ اس کے خالق کے نزدیک عقل و دل کے اندھے اور عقل و بصیرت رکھنے والے دونوں یکساں ہیں اور نیکوکار اور بدکار میں اس کے نزدیک کوئی فرق ہی نہیں ہے۔ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اس سے خدا کی صفات عدل، حکمت، رحم اور قدرت کی نفی ہوجاتی ہے جو دوسرے الفاظ میں خود خدا کی نفی کے ہم معنی ہے۔ اس وجہ سے قیامت کا آنا لازمی ہے۔ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ اکثر لوگ اس بدیہی حقیقت پر بھی ایمان نہیں لا رہے ہیں۔
’ اعمر ‘ یہاں عقل و دل کے اندھوں کے لئے استعمال ہوا ہے اور ’ بصیر ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو بصارت کے ساتھ بصیرت رکھنے والے اور اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے والے ہیں۔
قلیلا ما تتذکرون سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ حقائق ایسے مخفی نہیں ہیں کہ کسی کی سمجھ میں آ ہی نہ سکیں۔ لیکن جو لوگ سرے سے اپنے سمع و بصر سے کام ہی نہیں لینا چاہتے ان کا کیا علاج۔
Ayah 40:60لفظ استکبار ‘ یہاں اعراض کے مفہوم پر متضمن ہے۔ حرف ’ عن ‘ اس پر دلیل ہے۔
اللہ سے مانگنے کے لئے کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں ہے
آخرت کی یاد دہانی کے بعد یہ توحید کی یاددہانی ہے کہ تمہارا رب یہ اعلان کرچکا ہے کہ مجھ سے مانگنے کے لئے کسی واسطہ اور وسیلہ کی ضرورت نہیں ہے۔ جس کو مانگنا ہو وہ مجھ سے مانگے، میں اس کی درخواست قبول کروں گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب میں نے اپنے دروازے پر کوئی پہرہ نہیں بٹھایا ہے تو دوسروں کو سفارشی بنانے اور ان کی خوشامد کی کیا ضرورت ہے ؟ یہ مشرکین کے اس وہم کی تردید ہے کہ خدا تک پہنچنے کا ذریعہ ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء ہی ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان اس قسم کے وسائط حائل نہیں کئے ہیں بلکہ ہر بندہ اس سے براہ راست تعلق پیدا کرسکتا ہے اور اس سے دعا والتجا کرسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔
’ استجب لکم ‘ کا مدعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی ہر صحیح دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔ اگر کوئی دعا قبول نہیں فرماتا یا اس کو مؤخر کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے قبول نہ کرنے یا اس کے مؤخر کرنے ہی میں اس کی حکمت ہے۔ بندے کو چاہئے کہ اس پر راضی رہے اس لئے کہ اسی میں اس کے لئے خیر ہے۔ خدا کو چھوڑ کر دوسروں کا دامن پکڑنا بالکل بےسود ہے اس لئے کہ ردوقبول تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور اپنی حکمتوں کو صرف وہی جانتا ہے۔ قبولیت دعا کے باب میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے اس پر اس کے محل میں گفتگو ہوچکی ہے۔
’ ان الذین یستکبرون عن عبادتی …الآیۃ ‘ فرمایا کہ میری اس منادی عام ہے باوجود جو لوگ محض اپنے غرور کے سبب سے میری بندگی سے اعراض کر رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ عنقریب اس غرور کی پاداش میں ذلیل ہو کر جہنم میں پڑیں گے۔
اوپر آیت 56 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جو لوگ پیغمبر ﷺ کی مخالفت کر رہے تھے وہ کسی دلیل یا کسی واقعی شبہ کی بنا پر ایسا نہیں کر رہے تھے بلکہ محض اس بنا پر کر رہے تھے کہ اس سے ان کے غرور سیادت کو ٹھیس لگ رہی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے ان کی بات مان لی تو ہم ہیٹے اور یہ ہم پر بالا ہوجائیں گے۔ انہی لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ حق سے اعراض، محض بربنائے غرور کر رہے ہیں، وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں پڑیں گے۔
Ayahs 40:61–62ان آیات میں ’ الیل ‘ کے بعد مظلمات، اور ’ مبصرا ‘ کے بعد ’ لتعملوا ‘ کے الفاظ بربنائے قرینہ محذوف ہیں۔ اس حذف کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔
توحید اور معاد کے آفاقی دلائل
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو ایک ہی ساتھ توحید اور معاد دونوں کو ثابت کرنے والی ہیں۔ ربوبیت کے پہلو سے یہ قیامت پر دلیل ہیں اور توافق کے پہلو سے توحید پر۔ فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئے خنک اور تاریک بنایا کہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا کہ تم اس میں کام کرو۔ یہ لوگوں پر اللہ کا عظیم فضل و احسان ہے لیکن اکثر لوگ اس کے شکر گزار نہیں ہوتے۔
مطلب یہ ہے کہ دوسری تمام نشانیوں سے قطع نظر کر کے اگر رات اور دن کی خلقت ہی پر غور کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ ان کا خالق نہایت ہی مہربان ہے۔ اس نے ان کی معاشی سرگرمیوں کے لئے دن بنایا تو آرام و سکون کے لئے رات بھی بنائی۔ حالانکہ اگر وہ برابر دن ہی دن رکھتا جب بھی کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہ تھا یا رات ہی رات مسلط رکھتا جب بھی کسی کی قدرت نہیں تھی کہ دن کی روشنی سے فیضیاب کرسکے۔ اس کی اس رحمت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ لوگ اس کے شکر گزار ہوں لیکن اکثر لوگ اس کے شکر گزار نہیں ہوتے۔
اللہ تعالیٰ کی اس رحمت و ربوبیت کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں ان لوگوں کو انعام دے جنہوں نے اس کی نعمتوں کا حق پہچانا اور اسی کے شکر گزار رہے اور ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے اس کی نعمتوں سے فائدہ تو اٹھایا لیکن اس کی ناشکری کی۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ناشکرے اور شکر گزار دونوں اس کے نزدیک یکساں ہیں۔ یہ بات بالبداہت غلط اور اس کے عدل کے خلاف ہے۔
رات اور دن کی یہ سازگاری کہ دونوں مل کر انسان کی پرورش کرتے ہیں اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات میں جو چیزیں بظاہر اضداد کی شکل میں نظر آتی ہیں ان کے اندر بھی بڑی گہری وابستگی و پیوستگی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک بالاتر حکیم ہستی ان تمام اضداد کو اپنی حکمت کے تحت استعمال کر رہی ہے۔ اسی کا ارادہ سب پر حاکم اور وہی ہر چیز کا خالق ومالک ہے۔ ذلکم اللہ ربکم خالق کل شیء لا الہ الا ھو فانی توفکون۔
Ayah 40:63ایک تنبیہ
یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ جس طرح تمہاری عقل الٹ گئی ہے کہ قرآن کی سیدھی سادی بات کا انکار کر کے الٹی راہ چل رہے ہو اسی طرح تم سے پہلے بھی قومیں گزری ہیں جو اللہ کی آیات کا انکار کر کے الٹی چال چلتی رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو انجام ان کا ہوا وہی انجام تمہارا بھی ہوگا اگر تم نے انہی کی روش اختیار کی ہے۔
Ayah 40:64توحید اور معاد کا مضمون ایک نئے اسلوب سے
توحید اور معاد کا وہی مضمون جو اوپر گزرا، ایک نئے اسلوب سے واضح فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مستقر اور آسمان کو چھت بنایا اور اس طرح تمہارے لئے وہ گہوارہ تعمیر ہوا جس میں تم زندگی بسر کرتے ہو۔ ان دونوں کا تلازم اور ان کی باہمی سازگاری اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ ان دونوں پر ایک ہی خدا کا تصرف ہے۔ اگر ان کے الگ الگ خدا ہوتے تو اس مکان کا تمہاری رہائش کے لئے موزوں ہونا تو درکنار اس کا وجود میں آنا ہی ممکن نہیں تھا۔ پس ثابت ہوا کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے یہ گھر بنایا ہے اور آسمانوں اور زمین دونوں میں اسی کی حکمرانی و کار فرمائی ہے۔
’ وصورکم فاحسن صورکم ‘ یعنی ایک آرستہ و پیراستہ گھر تیار کر کے اس میں تم کو وجود بخشا پھر تمہاری صورت گری کی، اس صورت گری میں بھی تمہارے اوپر یہ خاص نضل فرمایا کہ اس دنیا کی دوسری مخلوقات کے مقابل میں تمہاری صورت نہایت اچھی بنائی۔ ’ احسان ‘ کے معنی کسی کام کو نہایت حسن و خوبی کے ساتھ کرنے کے ہیں۔ قرآن میں یہی مضمون دوسرے الفاظ میں یوں بیان ہوا ہے، لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم (التین : 4) (ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر بنایا) بہترین ساخت سے مراد ظاہر ہے کہ صرف شکل و صورت کی ساخت نہیں ہے بلکہ ان مادی و معنوی قوتوں اور صلاحیتوں کی نہایت اعلیٰ ترتیب و تشکیل بھی ہے جن کی بدولت انسان کو اس دنیا کی دوسری مخلوقات پر برتری حاصل ہوئی۔
’ ورزقکم من الطیبت ‘۔ یعنی جس طرح اس نے تمہاری رہائش کے لئے نہایت اعلیٰ مکان آراستہ کیا اسی طرح تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔
’ ذلکم اللہ ربکم ج فتبارک اللہ رب العلمین ‘۔ پس لاریب وہی تمہارا بھی رب ہے اور اس عالم کا بھی رب ہے اور وہ بڑا ہی بافیض اور برکت والا ہے۔
Ayah 40:65یعنی حقیقی زندہ اور زندگی بخش وہی ہے۔ اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ، جیسا کہ دوسرے مقام میں ارشاد ہوا ہے، ’ اموات غیر احیاء ‘ زندگی سے محروم مردے ہیں۔ وہ نہ سنتے ہیں نہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں۔ ان کو پکارنا بالکل لاحاصل ہے تو اللہ ہی کو پکارو اور پورے اخلاص کے ساتھ اسی کی اطاعت کرو۔ اس لئے کہ شکر کا سزاوار اللہ ہی ہے جو تمام عالم کا رب ہے۔
Ayah 40:66مناظرہ بازوں کو فیصلہ کن جواب
یہ ان مناظرہ بازوں کو نبی ﷺ کی زبان سے فیصلہ کن جواب دلوایا ہے جو آبائی دیوتائوں کی حمایت میں آپ سے لڑ رہے تھے۔ فرمایا کہ ان کو خبردار کر دو کہ مجھے ان تمام دیوتائوں کی پرستش سے روک دیا گیا ہے جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو۔ خواہ تم کتنا ہی زور لگائو میں ان کی پرستش نہیں کرسکتا بالخصوص جب کہ میرے رب کے پاس سے اس باب میں نہایت روشن دلیلیں بھی میرے پاس آچکی ہیں۔ مجھے یہ ہدایت ہوئی ہے کہ میں اپنے آپ کو کلیۃً عالم کے خداوند کے حوالہ کردوں یعنی عبادت بھی اسی کی کروں اور اطاعت بھی اسی کی کروں… یہ اعلان برأت اس لئے کیا گیا کہ مخالفین کے ذہن کے کسی گوشہ میں اگر یہ توقع ہو کر وہ دبائو ڈال کر آپ کو کچھ نرم کرلیں گے تو وہ اس سے بالکل ہی مایوس ہوجائیں۔
Ayah 40:67اس آیت میں کلام کے بعض اجزاء عربی زبان کے معروف اسلوب کے مطابق محذوف ہیں۔ ترجمہ میں ہم نے دو محذفات واضح کردیئے ہیں اور دوسرے مقام میں ان کے نظائر بھی ہم پیش کرچکے ہیں۔
انسان کی خلقت کے بعض مخفی گوشوں کی طرف اشارہ
آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی خلقت جن ادوار و مراحل میں سے گزرتی ہے اگر انسان انہی پر غور کرے تو خدا کی قدرت و حکمت اور توحید و آخرت ہر چیز واضح کردینے کے لئے وہی کافی ہیں۔ فرمایا کہ اس نے تمہاری خلقت کا آغاز مٹی سے کیا، پھر تمہاری نسل کا سلسلہ پانی کی بوند سے چلایا۔ پانی کی یہ بوند اولاً خون کی ایک پھٹکی کی شکل اختیار کرتی ہے پھر بتدریج نشوونما پا کر ایک جنین کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو ایک جیتے جاگتے بچہ کی صورت میں ماں کے پیٹ سے برآمد کرتا ہے۔
’ ثم لتبلغوا اشد کم ثم لتکونوا شیوخا ‘۔ یعنی پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ تم کو پروان چڑھاتا ہے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور پھر تمہیں زندگی کی مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ تم بڑھاپے کو پہنچ جاتے ہو۔ گویا دونوں فعلوں سے پہلے پروان چڑھانے اور مہلت دینے کا مضمون محذوف ہے۔
’ ومنکم من یتوفی من قبل و لتبلغوا اجلا مسمی ‘۔ یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ تم میں سے ہر ایک کو جوانی تک پہنچنا نصیب ہوتا ہو بلکہ تم میں کتنے ایسے ہوتے ہیں جو بچپن ہی میں فوت ہوجاتے ہیں اور کتنے ایسے ہوتے ہیں جن کو زندگی کی مہلت نصیب ہوتی ہے لیکن بس ایک وقت معین تک۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کسی کو غیر محدود زندگی حاصل ہوجائے۔ اس ٹکڑے میں بھی ’ لتبلغوا ‘ سے پہلے یہ مضمون محذوف ہے کہ تم میں سے کتنے ایسے ہوتے ہیں جن کو زندگی کی مہلت نصیب ہوتی ہے۔
’ ولعلکم تعقلون ‘۔ یہ علت بتائی ہے اس بات کی کہ اللہ نے تمہاری زندگی کو اتنے پیچ و خم سے کیوں گزارا ہے ؟ کیوں ایسا نہیں ہوا کہ وہ بنے بنائے انسان زمین سے اٹھا کھڑے کرتا یا آسمان سے اتار دیتا ؟ فرمایا کہ ایسا اس نے اس لئے کیا کہ تم اپنے وجود کے ان تمام مراحل پر غور کرو اور اپنے رب کی شانوں اور اس کی قدرت و حکمت کو سمجھو اور ان پر ایمان لائو۔ یہ اشارہ اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا اس طرح بنائی ہے کہ یہ ان تمام حقائق کی تعلیم کے لئے ایک بہترین تعلیم گاہ بن گئی ہے جن کا سمجھنا اور ماننا انسان کی صلاح و فلاح کے لئے ضروری ہے۔ یہاں بھی ’ لعلکم ‘ سے پہلے یہ مضمون محذوف ہے کہ اللہ نے تمہاری خلقت جو اس طرح بنائی ہے تو اس لئے کہ تم اس خلقت پر غور کرو اور اپنے رب کی قدرت و حکمت کو سمجھو۔
جو خدا اتنی قدرت و حکمت کے ساتھ انسان کو وجود میں لاتا ہے، جس کو بلاشرکت غیرے ہر ایک کی زندگی اور موت، جوانی اور پیری پر کلی اختیار حاصل ہے، جس نے ہر ایک کے لئے زندگی کی ایک مدت ٹھہرا رکھی ہے، کیا وہ خدا لوگوں کو دوبارہ نہیں پیدا کرسکتا یا کوئی اور اس کے ارادے میں مزاحم ہوسکتا ہے ؟ پس ثابت ہوا کہ وہ وحدہٗ لا شریک ہے اور وہ لازماً لوگوں کو ایک روز جزاء و سزا کے لئے اکٹھا کرے گا اور اس کے لئے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ اس مضمون کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے سورة فاطر آیت 11 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 40:68یعنی زندگی اور موت تمام تر اسی کے اختیار میں ہے اور اس کی قدرت کا حال یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو کوئی چیز اس کے ارادے میں مزاحم نہیں ہو سکتی۔ وہ فرماتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے اور اسی طرح ہوجاتی ہے جس طرح وہ چاہتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کو بھی یوں ہی سمجھو۔ جب وہ اس کو لانا چاہے گا تو اس کے ایک کلمہ ٔ کن سے و چشم زدن میں آجائے گی۔
Ayah 40:69مخالفین و دھمکی
یعنی یہ حقائق بالکل واضح ہیں لیکن ان شامت زدوں کو دیکھو، کس طرح ان کی مت ماری گئی ہے کہ وہ اللہ کی ان واضح آیات کی تکذیب کے لئے کٹ حجتی کر رہے ہیں۔
Ayah 40:70’ کتاب ‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یہ ان کے جرم کا بیان ہے کہ انہوں نے قرآن کی بھی تکذیب کی اور ان تمام تعلیمات کی بھی جن کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا۔ تمام رسولوں کی تعلیم بنیادی طور پر یہی رہی ہے جو قرآن دے رہا ہے تو قرآن کی تکذیب سب کی تکذیب ہوئی۔ ’ فسوق یعلمون ‘ یہ دھمکی ہے۔ یعنی اگر انہوں نے یہ جسارت کی ہے تو عنقریب وہ اس کا انجام بھی دیکھیں گے۔
Ayahs 40:71–72’ والسلاسل ‘ کے بعد ’ فی ارجلھم ‘ کے الفاظ میرے نزدیک محذوف ہیں۔ ترجمہ میں ان کو میں نے کھول دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے استکبار کی بنا پر اللہ کی آیات کی تکذیب کی اس وجہ سے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور ان کے پائوں میں زنجیریں پہنائی جائیں گی۔ اس کے بعد وہ گرم پانی میں گھسیٹے جائیں گے پھر دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ ’ سجر التنور ‘ کے معنی ہیں، تنور کو ایندھن سے بھر دیا۔ ‘
Ayahs 40:73–74مشرکین کی بدحواسی
اس کے بعد ان سے سوال ہوگا کہ اب تائو، خدا کی پکڑ سے بچانے کے لئے اس کے مقابل میں دوسرے جو شریک تم نے ٹھہرا رکھے تھے، وہ کہاں گئے ! اگر وہ ہیں تو ان کو بلائو، تمہیں اس عذاب سے چھڑائیں ! ’ من دون اللہ ‘ یہاں اللہ کے مدمقابل کے مفہوم میں ہے اور اس مفہوم میں یہ آتا ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔
وہ جواب دیں گے کہ وہ تو سب ہم سے کھوئے گئے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے ہم کسی چیز کو پوجتے ہی نہیں تھے۔ یعنی پہلے دہلہ میں وہ اقرار کرلیں گے کہ ان کے کچھ معبود تھے جن کی وہ پرستش کرتے رہے تھے لیکن یہاں ان میں سے کوئی بھی ان کی مدد کے لئے موجود نہیں ہے لیکن پھر جب وہ یہ محسوس کریں گے کہ ان کی عبادت کی پاداش ہی میں ان کو اس ہولناک انجام سے دوچار ہونا پڑا ہے تو ان کا انکار کردیں گے کہ شاید یہ انکار ان کے لئے کچھ نافع ہوجائے۔ قرآن کے دوسرے مقامات سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ قیامت کے دن مشرکین پر ایسی بدحواسی طاری ہوگی کہ وہ ایک ہی سانس میں اپنے معبودوں کا اقرار بھی کریں گے اور انکار بھی۔ سورة انعام کی آیات 23۔ 24 کے تحت اس پر بحث گزر چکی ہے۔
’ کذلک یضل اللہ الکفرین ‘ یہ اشارہ ان کے اسی اقرار و انکار کی طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ان کو اس طرح حواس باختہ کر دے گا کہ ان کو کچھ ہوش نہیں رہے گا کہ ابھی وہ کیا کہہ گزرے ہیں اور اب کیا کہہ رہے ہیں۔ اس کی وضاحت پیچھے بھی ہوچکی ہے اور آگے یہ مضمون حٰمٓ السجدۃ کی آیت 48 میں بھی آ رہا ہے وہاں انشاء اللہ اس کی مزید وضاحت ہوجائے گی۔