40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 40:75

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ اس سبب سے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے اور اکڑتے رہے۔

کبریائی صرف خدا کے لئے زیبا ہے یعنی یہ جو کچھ تمہارے سامنے آیا ہے نتیجہ ہے اس بات کا کہ تم زمین میں بلا کسی حق کے اکڑتے اور اتراتے تھے۔ دنیا میں جو چیزیں بھی تمہیں ملیں ان میں سے کوئی چیز بھی تمہاری ذاتی نہیں بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی تھی اس وجہ سے ان کا حق یہ تھا کہ تم اپنے رب کے شکر گزار اور اس کے فرمانبردار بنتے لیکن تم نے اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اپنا ذاتی حق سمجھا اور غرور وتکبر میں مبتلا ہو کر اکڑنے اور اترانے لگ گئے اور اس غرور میں اللہ کے ان رسولوں کی بھی تم نے توہین و تکذیب کی جنہوں نے تمہیں اصل حقیقت کی یاددہانی کرنی چاہی۔ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے اس وجہ سے صرف اسی کے لئے تکبر زیبا ہے کسی دوسرے کے لئے یہ زیبا نہیں ہے۔ اگر کوئی دوسرا تکبر کرتا ہے تو یہ ’ بغیر الحق ‘ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی خاص رداء اپنے اوپر ڈالنے کی جسارت کر رہا ہے جو شرک ہے۔ ’ الکبریاء رداء ی ‘ میں اسی حقیقت کی یاددہانی کی گئی ہے۔
Ayah 40:76

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

جہنم کے دروازوں میں داخل ہو، اس میں ہمیشہ رہنے کے لئے۔ کیا ہی برا ٹھکانا ہے متکبروں کا !

متکبروں کا انجام یعنی ان عذر و معذرت بالکل بےسود ہے۔ یہ جہنم کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اشارہ جہنم کے ان سات دروازوں کی طرف ہے جن کی تفصیل دوسرے مقام میں ہوچکی ہے۔ ارشاد ہوگا، ان میں داخل ہو جائو اور اب اسی میں ہمیشہ رہنا ہے، کبھی اس سے نکلنے کی توقع نہ رکھنا ’ نفئس مثوی المتکبرین ‘ یہ ان سے منہ پھیر کر ارشاد ہوگا کہ کی ہی برا ٹھکانا ہوگا جو ان متبروں کے حصہ میں آئے گا !
Ayah 40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

پس ثابت قدیم رہو، بیشک اللہ کا وعدہ شدنی ہے۔ یا تو ہم تم کو اس کا کچھ حصہ، جس کی ان کو وعید سنا رہے ہو، دکھا دیں گے یا تم کو وفات دیں گے پس ان کی واپسی ہماری طرف ہو گی

آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ ان لوگوں کی ان حرکتوں پر صبر کرو۔ جس عذاب کی دھمکی ان کو دی جا رہی ہے، اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو وہ لازماً ظہور میں آ کے رہے گا۔ یا تو تمہاری زندگی ہی میں اس کا کچھ حصہ ظہور میں آئے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو بالآخر انہیں ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے، ہم آخرت میں ان کو اس کا مزا چکھائیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو قسم کے عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک وہ عذاب جو اسی دنیا میں پیش آتا ہے اگر قوم رسول کی تکذیب کردیتی ہے اور دوسرا وہ عذاب جس سے آخرت میں سابقہ پیش آئے گا۔ یہاں ’ بعض الذی نعدھم ‘ سے اسی دنیا کے عذاب کی طرف اشارہ ہے اس لئے کہ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی عذاب آخرت کا ایک حصہ ہے جس سے تمام کفار و مشرکین کو لازماً آخرت میں سابقہ پیش آنا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی قوم کو، رسولوں کی عام سنت کے مطابق، بصورت تکذیب اس دنیا میں بھی۔ عذاب کی وعید کی گئی تھی لیکن آپ کی قوم کی اکثریت اسلام لائی اس وجہ سے اس پر اس طرح کا کوئی عذاب نہیں آیا جس طرح کا عذاب سابق رسولوں کے مکذبین پر آیا بلکہ اس کے اشرار کا مواخذہ آخرت پر اٹھا رکھا گیا جس کی طرف ’ نالینا یرجعون ‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا گیا ہے۔
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے جن میں سے کچھ کے حالات تم کو سنا دیئے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کے حالات تم کو نہیں سنائے اور کسی رسول کا بھی یہ مقدور نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی اللہ کے اذن کے بدون لا سکے۔ پس جب اللہ کا حکم آجائے گا، عدل کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت اہل باطل خسارے میں پڑیں گے۔

تسلی کا ایک خاص پہلو یہ وہی تسلی کا مضمون ایک خاص پہلو سے واضح فرمایا جا رہا ہے۔ رسولوں کے مکذبین کی یہ عام روش رہی ہے کہ جب ان کو رسول نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو قوم نے رسول کو زچ کرنے کے لئے اس عذاب کا کوئی نمونہ دکھانے کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبہ کا ایک جواب اوپر والی آیت میں دیا گیا اب اسی کا ایک اور پہلو واضح فرمایا گیا ہے کہ رسولوں کی تاریخ شاہد ہے کہ اس طرح کی نشانیاں دکھانے کا معاملہ رسول کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق تمام تر اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ہے۔ اگر اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے تو وہ عذاب بھیجتا ہے۔ اور اگر نہیں ہوتا تو نہیں بھیجتا۔ اس چیز کا مطالبہ لوگوں کو نہ رسول سے کرنا چاہئے اور نہ رسول کو لوگوں کے اس مطالبہ سے پریشان ہونا چاہئے۔ البتہ یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ جب اللہ کا حکم عذاب کے لئے صادر ہوجاتا ہے تو ٹھیک ٹھیک انصاف کے مطابق فیصلہ کردیا جاتا ہے اور اس وقت شامت انہی لوگوں کی آتی ہے جو حق کو جھٹلاتے اور رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں۔
Ayahs 40:79–81

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے کہ تم بعض سے سواری کے کام لو اور ان میں سے کچھ تمہاری غذا کے کام آتے ہیں

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور ان میں تمہاری دوسری منفعتیں بھی ہیں اور اس لئے بھی بنائے ہیں کہ ان کے ذریعہ سے اپنے دلوں کے کسی مقصد تک پہنچو اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کئے جاتے ہو۔

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور وہ تم کو اور بھی اپنی بیشمار نشانیاں دکھاتا ہے تو تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے ؟

ربوبیت کی نشانیوں کی طرف اشارہ اوپر کی آیت میں نشانیٔ عذاب کے مطالبہ کی طرف اشارہ گزرا۔ وہاں رسول ﷺ کو یہ اطمینان دلایا تھا کہ اس چیز کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اس وجہ سے معاملہ اسی کے سپرد کرنا چاہئے۔ اس آیت میں عذاب کی نشانی کا مطالبہ کرنے والوں کی ربوبیت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ عذاب ہی کی کوئی نشانی کیوں مانگتے ہو، خدا کی ربوبیت کی بیشمار نشانیوں پر کیوں نہیں غور کرتے جو تمہارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں ! اس نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے جن میں کچھ تمہاری سواری کے کام آتے ہیں اور بعض سے تم اپنی غذائی ضروریات پوری کرتے ہو، علاوہ بریں تمہارے دوسرے بہت سے مفاد بھی ان سے وابستہ ہیں۔ ان کو خالق نے ایسا بنایا ہے کہ ان پر سوار ہو کر تم اپنی مہمات کے لئے نکلتے ہو اور اپنے منصوبے بروئے کار لاتے ہو ! یہ اشارہ اونٹ کی طرف ہے جو اہل عرب کے لئے ان کے صحرائی سفینہ کی منزلت میں تھا۔ فرمایا کہ تم اپنے صحرا کے طویل سفروں میں ان پر سوار ہوتے ہو اور اسی طرح سمندر میں کشتیوں سے سفر کرتے ہو ! فرمایا کہ کیا یہ سب خدا کی نشانیاں نہیں ہیں ! آخر کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے ! مطلب یہ ہے کہ غور کرو کہ جس پروردگار نے تمہاری ضروریات کا یہ کچھ اہتمام کیا ہے کیا وہ تمہیں یوں ہی چھوڑے رکھے گا، ان نعمتوں کی بابت تم سے کوئی پرستش نہیں کرے گا ! اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو اسی کی وعید تم کو پیغمبر سنا رہا ہے۔ پھر اس کی تکذیب کے لئے یہ کیا بہانہ تم نے تلاش کیا ہے کہ وہ تمہیں کوئی نشانی عذاب نہیں دکھا رہا ہے ! نشانیوں کی کمی تو نہیں ہے لیکن تمہارے پاس نشانیوں کو دیکھنے والی آنکھیں نہیں ہیں۔
Ayah 40:82

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ وہ ان سے زیادہ تھے زمین میں اپنے آثار کے اعتبار سے اور بڑھ چڑھ کر تھے اپنی قوت و حمعیت کے لحاظ سے تو ان کے یہ سارے کارنامے ان کے کچھ کام نہ آئے۔

یہ عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کو پچھلی قوموں کی تاریخ کی طرف توجہ دلائی کہ اگر خدا کی ربوبیت کے آثار ان کو نظر نہیں آتے تو کیا انہوں نے اپنے ملک کی بھی سیاحت نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے کی ان قوموں کا کیا انجام ہوچکا ہے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی، اگرچہ وہ اپنی قوت و جمعیت کے اعتبار سے ان سے کہیں زیادہ طاقتور اور اپنے تمدنی و تعمیری کارناموں کے لحاظ سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام آنے والی نہ بنی جن کا اندوختہ وہ فراہم کرتے رہے تھے۔ لفظ ’ اثار ‘ کا تعلق ’ اکثر ‘ سے ہے۔ یہ عاد و تمور کے ان تعمیری آثار کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر قرآن کے دوسرے مقامات میں ہوچکا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب قوم اخلاقی زوال میں مبتلا ہوجاتی ہے تو مجرد اپنی عددی اکثریت اور اپنے تمدنی آثار کے بل پر زندہ نہیں رہ سکتی۔
Ayah 40:83

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

پس جب ان کے پاس ان کے رسول نہایت واضح دلیلوں کے ساتھ آئے تو وہ اپنے اسی علم پر نازاں رہے جو ان کے اپنے پاس تھا اور ان کو گھیر لیا اس عذاب نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

فرمایا کہ جب اللہ کے رسول ان قوموں کے پاس توحید، آخرت اور جزاء و سزا کی نہایت کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے تو انہوں نے ان کی باتوں کا مذاق اڑایا اور اپنے علم پر نازاں رہے۔ بالآخر اس عذاب نے ان کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ یعنی اپنے تھوڑے سے علم کو اپنی تنگ ظرفی کے سبب سے انہوں نے بہت بڑی چیز سمجھا اور یہ خیال کرلیا کہ جو کچھ وہ دیکھتے ہیں بس دنیا کل اتنی ہی ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
Ayahs 40:84–85

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پس جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا بولے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور ان چیزوں کے ہم منکر ہوئے جن کو ہم اللہ کا شریک گردانتے تھے۔

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو اس کے بندوں میں پہلے ظاہر ہوتی رہی ہے اور اس وقت کفر کرنے والے نامراد ہوئے۔

یعنی رسولوں کے دلائل سے تو وہ نہیں مانے لیکن جب انہوں نے اللہ کا عذاب دیکھ لیا تب وہ پکار اٹھے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جن چیزوں کو اب تک خدا کا شریک گردانتے رہیت ہے، ان کا ہم نے انکار کیا ! فرمایا کہ ان کا یہ ایمان جو وہ عذاب دیکھ چکنے کے بعد لائے، ان کے لئے کچھ نفع دینے والا نہیں بنا بلکہ عذات نے ان کو پامال کر کے رکھ دیا۔ ایمان معتبر وہ ہے جو عذاب دیکھنے سے پہلے دلائل کی روشنی میں لایا جائے۔ اگر اس کا وقت گزر گیا اور عذاب کی گھڑی سر پر آگئی تو اس وقت کا ایمان بالکل بےسود ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہمیشہ سے اس کے بندوں میں جاری رہی ہے۔ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت اس کا انکار کرنے والے لازماً نامراد ہو کے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذلک لاہور 72۔ اگست، 1975 ع 19۔ شعبان، 1395 ھج