Ayah 41:49لایسئم الانسان من دعآء الخیر و ان مسۃ الشرفیوس قنوط (49)
انسان کی ایک محیب کمزوری
لفظ انسان اگرچہ عام ہے لیکن اس سے یہاں مراد وہی منکرین و مستعجلین ہیں جو قیامت کے لئے جلدی مچائے ہوئے تھے کہ اگر اس کو آنا ہے تو آکیوں نہیں جاتی ! ان کو خاطب کر کے یا ان کا حالہ دے کر کہنے کے بجائے بات بصیغہ عام کہہ دی گئی ہے تاکہ ان سے بیزاری اور کراہت کا اظہار بھی ہوجائے اور بات ایک کلیہ کی حیثیت بھی حاصل کرلے۔
فرمایا کہ یہ انسان بھی عجیب مخلوق ہے۔ اگر اس کو نعمت و رفاہیت حاصل ہوجائے تو ہمارا شکر گزار ہونے کی بجائے ہیں چیلنج کرتا اور عذاب کا مطالبہ کرتا ہے اور اگر ذرا ہماری پکڑ میں آجائے تو اس سے چھوٹنے کے لئے لمبی لمبی دعائیں مانگتا اور یہ عہد کرتا ہے کہ اگر اس کو اس گرفت سے نجات مل گئی تو وہ ہمیشہ کے لئے ہمارا شکر گزار اور فرمانبردا بندہ بند جائے گا لیکن یہ محض اس کا فریب ہوتا ہے۔ جب ہم اس کو اس مصیبت سے نجات دے دیتے ہیں تو وہ پھر انہی خرمستیوں میں گم ہوجاتا ہے جن میں پہلے مبتلا رہ چکا ہوتا ہے اور اگر ہم اس مصیبت سے نجات نہ دیں یا مصیبت دراز ہوجائے تو بجائے اس کے کہ اللہ کے فیصلہ پر راضی اور صابر رہے بالکل دل شکستہ و بےحوصلہ اور خدا سے مایوس ہوجاتا ہے۔
عام طور پر لوگوں نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ اس طرح کے لوگ اپنی دنیاوی کامیابیوں اور ترقیوں کے لئے دعا کرنے میں بڑے سرگرم ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک دعائے خیر سے مراد یہی دنیوی ترقیوں کی دعا ہے لیکن یہ بات عام تجربہ و مشاہدہ کے بالکل خلاف ہے۔ اس طرح کے لوگ جب تک ان کا سفینہ رواں دواں رہے کبھی خدا کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ اپنے حوصلوں ہی میں مگن اور اپنے ارمانوں ہی میں کھوئے رہتے ہیں۔ البتہ جب کشتی کسی بھنور میں پھنستی ہے تب انہیں خدا یاد آتا ہے اور اس وقت بڑی لمبی لمبی دعائیں خود بھی کرتے اور دوسروں سے بھی کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ اگر کشتی بھنور سے باہر آگئی تو اس کے باہر آتے ہی ان کو خدا پھر بھول جاتا ہے اور اس چیز کو اپنی تدبیر و حکمت یا اپنی بلند اقبالی کا کرشمہ سمجھنے لگتے ہیں اور اگر مصیبت ذرا دراز ہوگئی تو پھر بالکل مایوس ہو کر ڈگ ڈال دیتے ہیں۔
یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ مثلاً سورة لقمان میں ہے :
واذا غشبھم موج کا لظلل دغوا اللہ مخلصین لہ الدین، فلما نجھم الی البرفمنھم مقتصد وما یجعد با یتنا الا کل ختار کفورہ (لقمان 32)
اور جب ان کو سائبانوں کی طرح موجیں ڈھانک لیتی ہیں وہ اللہ کو پکارتے ہیں اسی کی خالص اطاعت کا عہد کرتے ہوئے پس جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ تو میانہ روی اختیار کرتے ہیں (اور زیادہ بد عہدی کرنے والے نکلتے ہیں) اور ہماری آیات کا انکار وہی کرتے ہیں جو بالکل عہد شکن اور ناشکرے ہوتے ہیں۔
سورة یونس میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے :
واذا من الانسان الضو دعانا لجنبہ او قاعداً اوقآئما فلما کشفنا عنہ ضرہ مرکان تم یدعنآ الی ضرمہ (یونس 12)
اور جب انسان کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے یا بیٹھے یا کھڑے پس جو نہی ہم نے اس کا دکھ دور کردیا وہ اس طرح چل دیتا ہے گویا کبھی اپنے کسی دکھ کے ازالہ کے لئے ہم کو پکارا ہی نہیں تھا۔
یہی مضمون اسی سورة یونس میں بدیں الفاظ بھی وارد ہوا ہے :
ھو الذین یسبرکم فی البرو البحر حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم بریع طیبۃ وفوحا بھا جآء تھا ریح عاصف وجآء ھم الموج من کل مکان وظنوا انھم احیط بھم دعوا اللہ مخلصین لہ الدین لئن انعمتنا من ھذہ لنکونن من الشکورین، فلما انجمھم اذا ھم یبغون فی الارض بغیر الحق (یونس :23-22)
اور وہی اللہ ہے جو تم کو خشکی اور تری میں سفر کراتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو سازگار ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے مگن ہوتے ہیں، آجاتی ہے کسی سمت سے تند ہوا اور ان پر موجیں اٹھنے لگتی ہیں ہر جانب سے اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ اب وہ ہلاک ہوئے تو اللہ کو پکارتے ہیں اسی کی اطاعت کا عہد کرتے ہئے کہ اگر تو نے ہم کو اس ورطہ ملاکت سے نجات بخشی تو ہم تیرے شکر گزار بن کے رہیں گے تو جب ان کو نجات دے دی تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگے بلا کسی حق کے۔
ان نظائر کی روشنی میں میرے نزدیک آیت زیر بحث کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے انسان جب کسی آزمائش میں پڑتے ہیں تب تو دعائے خیر سے نہیں تھکتے چناچہ آگے آیت 51 میں اس کی وضاحت بھی فرما دی ہے۔ واذا مسہ الشرفذو دعآء عریض (اور جب اس کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو لمبی چوڑی دائیں کرنے والا بن جاتا ہے۔)
وان مسہ الشرفیوس قنوط یعنی مصیبت کے پہلے مرحلے میں تو لمبی لمبی دعائیں کرتا ہے لیکن جب دیکھتا ہے کہ دعائیں نتیجہ خیز نہیں ہو رہی ہیں تو خدا کی رحمت سے مایوس ہو کر بالکل دل شکستہ اور بےحوصلہ ہوجاتا ہے۔
مطلب یہ ہوا کہ اس قماش کے لوگ نعمت میں تو خدا کو بھولے رہتے ہیں، صرف مصیبت میں اس کو یاد کرتے ہیں اور مصیبت میں بھی خدا کے ساتھ ان کے تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ جب مصیبت دور ہوجائے تو اس کو پھر بھول جاتے ہیں اور اگر دور ہوتی نظر نہ آئے تو خدا سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ یہ دونوں صورتیں کفر و ناشکری کی ہیں۔ صحیح مومنانہ کردار یہ ہے کہ آدمی نعمت و رفاہیت کی حالت میں اپنے پروردگار کا شکر گزار رہے اور جب کوئی آزمائش پیش آجائے تو صبر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار رہے۔ دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ نعمت میں اکڑنے الا اور فخر کرنے والا بنے اور مصیبت میں تھرڈ ولا، پست ہمت اور مایوس بلکہ اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ مطمئن رہے۔ یہی ایمان و توکل کی اصلی شان ہے اور ایسے ہی بندے نفس مطمئنہ کی بادشاہی اور راضیتہ مریضہ کا مقام پاتے ہیں۔
Ayah 41:50ولئن اذقنہ رحمۃ منا من بعد ضوآء مستہ لیقون ھذا الی وما اظن الساعۃ قآئمۃ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی ج فلننبئن الذین کفروا بما عملوا ولنذیقنھم من عذاب غلیظ (50)
ایک اور کمزوری
یعنی جس مصیبت سے چھوٹنے کے لئے لمبی چوڑی دعائیں کرتا ہے اگر وہ دور نہیں ہوتی تب تو جیسا کہ اوپر والی آیت میں ہے، خدا سے مایوس ہوجاتا ہے اور اگر اس کی مصیبت دور کر کے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل سے نوازتا ہے تو اس کا شکر گزار ہونے کے بجائے، اس گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ یہ تو میرا حق ہی تھا۔ میں اسی عزت و شرف کے ساتھ پیدا ہوا ہوں اور اسی کے اندر جیوں گا، مجھے نہ اس سے کوئی محروم کرسکتا اور نہ اس کے لئے مجھے کسی کے شکر گزار ہونے کی ضرورت ہے۔ رہی قیامت، جس سے بعض لوگ مجھے ڈرا رہے ہیں تو اول تو مجھے اس کے ہونے کا گمان نہیں اور بالفرض ہوئی اور مجھے اپنے رب کے پاس جانا ہی پڑا تو وہاں بھی میرا درجہ و مرتبہ محلوظ رہے گا اور میرا انجام نہایت شاندار ہوگا اس لئے کہ میری دنیا شاندار ہے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس طرح کے لوگ زبان سے یہ باتیں کہیں (اگرچہ بہتیرے بےباکی سے یہ کہتے بھی ہیں) بلکہ ذہن کے اندر ان خیالات کا پایا جانا کافی ہے۔ قرآن میں آدمی کی ذہنیت کی تعبیر بھی قول سے کی گئی ہے۔ اس لئے کہ آدمی کا رویہ اس کے باطن کی سب سے زیادہ صحیح غمازی کرتا ہے۔
خیال جنت میں بسنے والوں کو تنبیہ
فلتنبین الذین کفروا … الایۃ یہ نہایت سخت الفاظ میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو اس قسم کی جنت الحمقاء میں زندگی گزار رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ احمق لوگ یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ جس طرح دنیا میں ان کو عیش و آرام حاصل ہے اسی طرح آخرت میں بھی (اگر وہ ہوئی) ان کو سب کچھ حاصل ہوگا تو وہ یاد رکھیں کہ آخرت لازمی ہے اور اس میں ہم ان کافروں کو ان کے اعمال سے آگاہ کریں گے۔ ان کے اعمال سے آگاہ کریں گے“ سے مقصود اس کا لازم ہے جس کی وضاحت ولنذیقنھم من عذاب غلیظ سے ہوگئی۔ یعنی ان کو ایک عذاب شدید کا مزا چکھائیں گے۔
Ayah 41:51واذا انعمنا علی الانسان اعرض ونا بجانبہ واذا مسہ الشرفذو دعآء عریض (51)
نابجانیہ سے وہی مضمون ادا کیا گیا ہے جو دوسرے مقامات میں تولی برکنہ یا مشانی عطفہ وغیرہ محاورات سے ادا کیا گیا ہے۔ یہ غرور و استکبار سے اعراض کرنے اور منہ پھیرنے کی تعبیر ہے۔ جانب کے معنی پہلو کے ہیں آدمی جب کسی سے غرور کے ساتھ منہ موڑتا ہے تو مونڈھے جھٹک کر اپنا پہلو بدلتا اور وہاں سے چل دیتا ہے۔ اسی حالت کو یہاں نابجانبہ سے تعبیر فرمایا ہے۔
تنک ظرفوں کے کردار کا ایک خاص پہلو
اوپر کی آیات میں اس قبیل کے لوگوں کے کردار کا ایک پہلو پیش کیا گیا ہے۔ اب ان کے اسی کردار کا دوسرا پہلو دکھایا جا رہا ہے کہ اس سفلہ لوگوں (اشارہ قریش اور اہل طائف کے فراعنہ ہی کی طرف ہے) کا حال یہ ہے کہ جب ہم ان پر اپنا انعام کرتے ہیں تو یہ ہم سے اعراض کرتے اور غرور سے اکڑتے ہیں او اگر ذرا ہماری گرفت میں آجائیں تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے والے بن جاتے ہیں۔ یعنی ان کے اس طنطنہ کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ ذرا میں بہک جانے والے اور ذرا ہی میں بلبلا اٹھنے والے ہیں۔
Ayah 41:52قل ارویتم ان کان من عند اللہ ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھو فی شقاق بعید (52)
مکذبین قرآن سے ایک سوال
یہ ان مکذبین سے علی سبیل التنزیل ایک سوال فرمایا کہ اس طنطنہ کے ساتھ جو قرآن کا انکار کر رہے ہو تو اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا تب کہاں جائو گے ! اس صورت میں ان لوگوں سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو ایسی دور رس مخاصمت میں مبتلا ہو کر پانی ہلاکت کی اس منزل کو پہنچ جائیں جہاں سے بازگشت کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہ جائے !
قرآن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت
یہ قرآن پر پوری سنجیدگی اور پوری اہمیت کے ساتھ غور کر کے اس کے باب میں کوئی فیصلہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس دعوت کی بنیاد یہ ہے کہ قرآن اپنی تکذیب کرنے والوں کو جس انجام سے خبردار کر رہا ہے اور جن دلائل کے ساتھ آگاہ کر رہا ہے وہ ایسی چیز نہیں ہے کہ سہل انگاری سے نظر انداز کردی جائے یا ہنسی مخسری میں اڑا دی جائے بلکہ بڑے ہی قوی دلائل کی شہادت کے ساتھ یہ بڑے ہی ہولناک انجام کی خبر ہے اس وجہ سے جو لوگ نہایت ڈھٹائی سے اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ کم از کم اس کے دعوے کی صحت کے امکان کے پہلو کو نظر انداز نہ کریں۔ اگر وہ اس کی صحت کا امکان محسوس کرتے ہیں (اور کوئی ہٹ دھرم سے ہٹ دھرم بھی اس کے امکان سے انکار نہیں کرسکتا) تو دانشمندی کا تقاضا اور عاقبت بینیکا مطالبہ یہی ہے کہ وہ اس قرآن پر سو بار غور کریں اور جو فیصلہ بھی کریں اس کے نتائج پر دور تک سوچ کر کریں۔ اگر وہ اس کو اختیار کریں گیت و کوئی چیز کھوئیں گے نہیں بلکہ پائیں گے اور سب کچھ پائیں گے اور اگر محض ضد اور مخاصمت کے جنون میں مبتلا ہو کر اس کا انکاری کردیں گے تو یہ مخاصمت ان کو اتنی دور لے جا کر پھینکے گی جہاں سے پھر لوٹنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہے گا … مطلب یہ ہے کہ اس معاملہ پر اس کی حقیقی اہمیت سامنے رکھ کے غور کرو۔ اگر ضد، انانیت، حسد اور مخاصمت کو اس میں دخیل ہونے دیا گیا تو یہ کشمکش نہایت تباہ کن انجام پر منتہی ہوگی۔
Ayah 41:53سنریھم ایتنا فی الافاق وفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق ط اولم یکف بربک انہ علی کل شیء شھید (53)
قرآن کی صداقت کے آثار آفاق وانفس میں
یہ نبی ﷺ کے لئے تسلی اور مکذبین قرآن کے لئے تہدید و وعید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو، اس کے دلائل کی بنیاد پر، ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ اس کی تصدیق کے لئے ہماری نشانیاں ہی دیکھنے پر مصر ہیں تو عنقریب وہ وقت بھی آ رہا ہے جب مکہ کے اطراف میں بھی اور خود مکہ میں، قریش کے اندر بھی، اس کی حقانیت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوں گی کہ یہ لوگ پکار اٹھیں گے کہ بیشک قرآن بالکل حق ہے۔
آیات سے مراد غلبہ حق اور ہزیمت باطل کے وہ آثار و شواہد ہیں جن کی قرآن نے پیشین گوئی کی ہے۔ یہ پیشین گوئی اس سورة میں بھی پیچھے تاریخی دلائل کی روشنی میں گزر چکی ہے۔ ابتداء تو ریش کے لیڈروں نے ان باتوں کو تعلی پر محمول کر کے ان کا مذاق اڑایا یکن جب مدینہ میں اور خود مکہ کے اندر اور اس کے اطراف میں یہاں تک کہ خود قریش کے اچھے لوگوں کے اندر بھی اسلام جڑ پکڑنے لگا تب ان کو اور ان کے پشت پناہوں کو کچھ تنبہ ہوا۔ بالآخر ہجرت کے بعد غلبہ اسلام کے ایسے واقعات پیش آئے کہ قریش تو درکنار روم وفارس کے لئے بھی اسلام کے مقابل میں ٹکنا ناممکن ہوگیا۔ یہ مضمن سورة نمل کی آیت 93 میں بھی ہے۔ سیریکم ایتہ فتعرفونھا (اور وہ اس کی نشانیاں تم کو دکھائے گا پس تم ان کو پہچان جائو گے۔)
اولم یکف سوبک انہ علی کل شی ئشھیدا یعنی یہ غلبہ حق کی جو بشارت تمہیں دی جا رہی ہے اگرچہ مستقبل سے متعلق ہے لیکن تمہارا رب ماضی، حاضر اور مستقبل کی ہر چیز سے واقف ہے اس وجہ سے مطمئن رہو کہ ان میں سے ہر بات پوری ہو کے رہے گی۔
Ayah 41:54الاانھم فی مریۃ من لقآء ربھم الا انہ بکل شیء محیط (54)
یہ آخر میں ان معاندین کی اصل علت فساد سے پردہ اٹھایا ہے کہ ان کی اصلی بیماری یہ ہے کہ یہ اپنے رب کے حضور پیشی کے باب میں مشتبہ ہیں۔ ان کے اس اشتباہ نے انہیں زندگی کے معاملات میں ناعاقبت اندیش اور حق کی مخالفت میں دلیر بنا دیا ہے۔ انہیں اچھی طحر آگاہ کر دو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے، کوئی چیز بھی اس کے حیطہ اقتدار سے باہر نہیں ہے۔ وہ جو کچھ چاہے گا اور جب چاہے گا، کر ڈالے گا۔ نہ کوئی اس کے قبضہ قدرت سے باہر نکل سکتا اور نہ کوئی اس کے کسی ارادے میں مزاحم ہو سکتا۔ بتوفیق ایزدی ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذلک
رحمان آباد
24 اکتوبر 1975 ء
18 شوال 1395 ھ