41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر اچھی بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں !

ومن احسن قولاً ممن دعآ الی اللہ وعمل صالحاً وقال اننی من المسلمین (33) اسلام کی دعوت سے بڑھ کر کوئی دعوت نہیں rnٍیہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی بھی ہے اور آپ کے ان مخالفین کے لئے ملامت بھی جو کہتے تھے کہ قلوبنا فی النۃ مما تدعونا الیہ و فی اذاتنا و قرو ومن بیننا وبینک حجاب رحم السجدۃ 5) (ہمارے دل تمہاری دعوت سے پردے میں ہیں اور ہمارے کان بہیر ہیں، ہمارے اور تمہارے درمیان ایک حجاب حائل ہے) مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ تمہاری بات نہیں سن رہے ہیں اور مخالفت کے جنون میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ لوگوں کو یہ سکھاتے پھر رہے ہیں کہ اس قرآن کو نہ سنو اور جب اس کو سنانے کی کوشش کی جائے تو شور و شغب سے اس کو دبا دو ، تو اب ان لوگوں کے زیادہ در پے ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ ساری خرابی خود انہی لوگوں کے اندر ہے، اس میں تمہارا یا تمہاری دعوت کا کوئی قصور نہیں ہے۔ تمہاری دعوت اللہ کی توحید اور اس کی بندگی کی دعوت ہے۔ آخر اس دعوت سے بڑھ کر اس آسمان کے نیچے اور کس بات کی دعوت ہو سکتی ہے ! تم اس دعوت کے ساتھ ساتھ خود بھی عمل صالح کے پیکر ہو اور اسی کی دعوت دوسروں کو بھی دے رہے ہو، یہ اسبات کی ناقابل انکار شہادت ہے کہ تم کوئی مصنوعی قسم کے آدمی نہیں ہو اور نہ تم ملک میں کوئی فساد برپا کرنا چاہتے ہو۔ بلکہ تمہارا قول یہ ہے کہ انی من المسلمین (میں اپنے رب کے فرنبرداروں میں سے ہوں) اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ لوگوں پر تم اپنی حکومت و سیادت قائم کرنے کی فکر میں سرگرداں نہیں ہو بلکہ سب کو اللہ کا مسلم اور فرمانبردار بنانا چاہتے ہو یہی اسلام اس تمام کائنات کی فطرت ہے اور اسی دین کی دعوت حضرت ابراہیم ؑ نے دی جن کے یہ لوگ نام لویا ہیں۔ اگر ان واضح حقائق کے بعد بھی یہ لوگ تمہاری دعوت کی مخالفت پر کمربستہ ہیں تو ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ ان کے دلوں کے پردے اللہ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہٹا سکتا۔
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں ہیں۔ تم برائی کو اس چیز سے دفع کرو جو زیادہ بہتر ہے تو تم دیکھو گے کہ وہی، جس کے اور تمہارے درمیان عداوت ہے، گویا وہ ایک سرگرم دوست بن گیا ہے۔

ولا تستوی الحسنۃ ولا السیۃ ادفع بالتی ھی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کا نہ ولی حمیم (34) ایک داعی کے لئے مخالفین کے ساتھ متحسن رویہ یہ نبی ﷺ کو اس رویے کی تعلیم دی گئی ہے جو مخالفین کی بدتمیزیوں کے مقابل میں آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے صحابہ کو اختیار کرنا ہے۔ فرمایا کہ اچھا رویہ اور برا رویہ دونوں یکساں نہیں ہو سکتے۔ آخرت کے انجام اور مقصد دعوت کے اعتبار سے دونوں کے اثرات ونتائج میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کی بدتمیزیوں کے جواب میں وہ رویہ اختیار کرو جو زیادہ بہتر ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تمہارے دشمنوں میں سے جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے، تمہاری دعوت کی معقولیت اور تمہارے شریفانہ رویہ سے متاثر ہو کر، تمہارے سر گرم حامی بن جائیں گے۔ ادفع بالتی ھی احسن لوگوں کی بدتمیزیوں کے مقابل میں احسن طریقہ اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ کسی برائی کے جواب میں برابر سرابر کا طرز عمل اختیار کرنا آدمی کے لئے جائز ہے لیکن صبر اور عفو و درگزر کا رویہ زیادہ بہتر ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند یہ ہے کہ اس کے صالح اور عفو و درگزر کا رویہ زیادہ بہتر ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند یہ ہے کہ اس کے صالح بندے یہی رویہ اختیار کریں یہ ہدایت بالکل اسی سیاق وسباق میں متعدد جگہ قرآن میں دی گئی ہے۔ ایک نظیر سورة نحل سے ہم پیش کرتے ہیں جس سے اس آیت کی وضاحت ہوتی ہے۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن ط ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بامھتدین وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصبرین، (النحل :126-125) اپنے رب کے راستہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو اس کا اچھا طریقہ ہے۔ بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے ان لوگوں کو جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہ خوب جانتا ہے، ان کو بھی جو ہدایت یافتہ ہیں اور اگر تم ان کی کسی بات کا بدلہ لو تو بس اسی کے مانند بدلہ جو تمہارے ساتھ کیا گیا ہے اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ مخالفین کی تعدیوں کا جواب دینے کا حق ایک شخص کو حاصل ہے لیکن دعوت و اصلاح کے نقطہ سے صبر اور عفو و درگزر کا طریقہ زیادہ بہتر ہے اس وجہ سے اسی زیادہ بہتر طریقہ کو اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ رویہ اہل ایمان کو اس وقت تک اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جب تک مخالفین پر اچھی طرح اتمام حجت نہ ہوجائے۔ اگر اتمام حجت ہوچکا ہو لیکن اس کے باوجود مخالفین اپنی روش مخالفت سے باز نہ آ رہے ہوں بلکہ اہل حق اور دعوت حق کو مٹا دنیے کے در پے ہوں تو اس وقت واضح اعلان برأت کے بعد ان کی پوری سرکوبی بھی کی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں عفو و درگزر کے بجائے زیادہ بہتر طریقہ بلکہ حالات میں واحد طریقہ یہی ہوگا۔ چناچہ جن اہل مکہ کے ساتھ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو یہ رویہ اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے انہی کے ساتھ اتمام حجت کے بعد، وہ رویہ اختیار کرنے کی ہدایت ہوئی جس کی تفصیلات سورة برأت میں زر چکی ہیں۔ سلیم الفطرت لوگوں پر شریفانہ رویہ کا اچھا اثر پڑتا ہے فاذا الذین بینک وبینہ عداوۃ کا نہ ولی حمیم یہ بات انسان کی عام فطرت کو پیش نظر رکھ کر ارشاد ہوئی ہے۔ جن کی فطرت مسخ نہیں ہوچکی ہے وہ جب دیکھتے ہیں کہ ایک شخص لوگوں کی بہی خواہی و ہمدردی میں اتنا بےچین ہے کہ ان کی تمام گستاخیوں اور بدتمیزیوں کے باوجود اپنے کریمانہ رویہ میں کوئی فرق آنے نہیں دیتا بلکہ لوگوں کی اینٹوں اور پتھروں کا جواب دعائوں سے دیتا ہے تو ان کے دلوں میں اگر اس کے خلاف کسی غلط فہمی کے باعث عداوت بھی ہو تو اس کے اس طرز عمل سے متاثر ہو کر ان کی یہ عداوت محبت سے بدل جاتی ہے اور وہ اس کے جاں نثار ساتھیوں میں سے بن جاتے ہیں۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ نبی ﷺ کی دعوت میں سب سے زیادہ مئوثر عامل کی حیثیت آپ کے اسی کردار کو حاصل رہی ہے۔ آپکے دشمنوں میں سے جن کے اندر شرافت کا جو ہر موجود تھا وہ سب آپ کے اسی کردار سے متاثر ہو کر آپ کے وفادار اور اسلام کے جاں نثار بنے۔ صرف وہی اشقیا اس چیز سے متاثر نہیں ہوئے جن کی فطرت بالکل مسخ ہوچکی تھی۔
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ دانش نہیں ملتی مگر انہی لوگوں کو جو ثابت قدم رہنے والے ہوتے ہیں اور یہ حکمت نہیں عطا ہوتی مگر انہی کو جو بڑے نصیبہ ور ہوتے ہیں ! !

وما یلقھآ الا الذین صبرا وما یلقھا الا ذوخظ عظیم (35) ایک گنج گراں مایہ ضمیر مفعول کا مرجع یہاں الفاظ میں مذکور نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ حکمت و موعظت ہے جس کی ہدایت اوپر والی آیت میں فرمائی گئی ہے۔ عربی زبان میں اس طرح ضمیر لانے کا طریقہ معروف ہے۔ سورة بقرہ کی آیت 45 وانھا لکبیرۃ الا علی الخشعین کے تحت اس ضمیر کی نوعیت پر ہم بحث کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ اس حکمت کے حامل صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اندر صبر کی صفت ہوتی ہے اور یہ حکمت کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ ایک گنج گراں مایہ ہے، بڑے ہی نصیبہ ور ہیں وہ لوگ جو اس کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں ! اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ اوپر جو بات فرمائی گئی ہے وہ ایک عظیم حکمت ہے۔ دوسری یہ کہ اس حکمت کے حامل صرف وہ لوگ ہو سکتے ہیں جن کے اندر صبر کا جوہر ہو۔ جن کے اندر یہ جوہر نہ ہو وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔ اس وجہ سے اس کے طالبوں کو اپنے اندر صبر کی صفت راسخ کرنی چاہئے۔ تیسری یہ کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ ایک لازوال خزانہ ہے اس وجہ سے ہر ہمت ور کو اس لے حاصل کرنے کے لئے بازی کھیلنی چاہئے۔ بڑے ہی خوش بخت و بلند اقبال ہیں وہ لوگ جو اس بازی میں کامیاب ہوجائیں۔
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر شیطان تمہارے دل میں کوئی اکساہٹ پیدا کر ہی دے تو اللہ کی پناہ ڈھونڈو۔ بیشک حقیقی سننے والا جاننے والا وہی ہے۔

شیطان کی ایک ہٹ کا علاج واما ینزغنک من الشیطن نزع فاستعذ باللہ انہ ھو السمیع العلیم (36) یہ علاج بتایا ہے کہ اگر مخالفوں کی شرارت اور شیطان کی شر انگیزی سے طبیعت میں کوئی ایسا جذبہ ابھرے جو اس حکمت کے منافی ہو تو اس وقت آدمی کو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ آدمی اگر جذبات کی رو میں بہہ جانے کے بجائے صدق دل سے اللہ کی پناہ کا طالب ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور اپنی پناہ میں لے لے گا اور شیطان کو اس پر قابو نہیں پانے دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی سمیع وعلیم ہے۔ کوئی بات اس سے مخفی نہیں رہتی۔ بندہ جب صدق دل سے شیطان کے مقابل میں اللہ تعالیٰ سے مدد کا طالب ہوتا ہے تو وہ ضرو اس کی مدد فرماتا ہے۔
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے رات اور دن، سورج اور چاند بھی ہیں۔ نہ سجدہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو، بلکہ سجدہ کرو اس اللہ کو جس نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرنے والے ہو۔

-6 آگے کا مضمون …آیات :46-37 سورة کی ابتداء میں آفاق کی نشانیوں سے توحید اور معاد پر جو دلیلیں قائم فرمائی ہیں آگے کی آیات میں ان کی مزید وضاحت اور ساتھ ہی ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو اللہ کی آیات کی رہنمائی سے خود بھی منحرف ہیں اور دوسروں کو بھی منحرف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ قرآن خدائے زیز کا اتارا ہوا صحیفہ ہے۔ جو لوگ اس کی تکذیب کیں گے وہ نہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے نہ رسول کا بلکہ خود اپنی ہی ہلاکت کا سامان کریں گے۔ اسی ضمن میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ فرمایا گیا ہے کہ قرآن نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے اہل عرب اور اہل کتاب دونوں ہی پر ایک عظیم احسان فرمایا ہے۔ انہوں نے اس نعمت کی دقر نہ کی تو اس کا انجام خود بھگتیں گے۔ اللہ نے ان پر حجت تمام کردی ہے اس وجہ سے اب جس انجام سے بھی وہ دوچار ہوں یہ اسی کے سزاوار ہیں۔ یہ ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ومن ایتہ الیل والھار و الشمس والقمر لاتسجدواللشمس ولا للقمر واسجدواللہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون (37) خدا کی نشانیوں کو خدا نہ بنائو سورة کے شروع میں آیات 12-9 تک آسمان و زمین کی خلقت سے توحید و معاد پر جو استدلال کیا ہے، یہ آیت اسی سے متعلق ہے۔ بیچ میں جو مطالبہ تنبیہ و تذکیر یا تسکین و تسلی کی نوعیت کے آگئے ہیں وہ اسی مدعا کے تحت ہیں اس وجہ سے ان کے سبب سے کوئی بعد نہیں پیدا ہوا ہے چناچہ اسی پر عطف کرتے ہوئے فرمایا کہ جو خدا آسمان و زمین کا خالق ہے اسی خدا کی نشانیں میں سے یہ رات اور دن، سورج اور چاند بھی ہیں۔ یہ خود اپنی گردش، اپنے ایاب و ذہاب، اپنے عروج وزوال سے اپنی تسخیر اور اپنی محکومیت کی شہادت دے رہے ہیں۔ یہ زبان حالی سے گواہی دے رہے ہیں کہ یہ نہ تو خدا ہیں اور نہ کسی پہلو سے خدا کی خدائی میں شریک ہیں بلکہ خالق کائنات نے اس کائنات کی مشین میں ان کو پرزوں کی طرح جوڑا ہے اور وہ اس کے حکم سے اپنی مفوضہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کی اس شہادت کے بعد ان کو خدا یا شریک خدا سمجھنا محض جہالت و حماقت ہے۔ ان کی حیثیت خدا یا شریک خدا کی نہیں بلکہ خدا کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت کی نشانیوں کی ہے اور اس طرح کی نشانیاں صرف یہی نہیں ہیں بلکہ ان کے علاوہ اور بھی بیشمار نشانیاں ہیں جن میں سے یہ بھی ہیں۔ لاتسجدو اللشمس ولا للقمر واسجدو اللہ الذی خلقھن یہ اوپر والی بات کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جب یہ خدا یا شریک خدا نہیں بلکہ خدا کی نشانیں میں سے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لئے بتایا ہے تو ان کی عبادت اپنے رب کی بھی تحقیر ہے اور اپنی بھی۔ عبادت کا حق دار صرف اللہ تعالیٰ ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند ہر چیز و وجود بخشا اور ان کو انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ سجدہ یہاں عبادت کے فہم میں ہے اس لئے کہ یہ عبادت کے سب سے زیادہ نمایاں مظاہر میں سے ہے۔ سورج اور چاند کی عبادت کی ممانعت خاص طور پر اس وجہ سے فرمائی کہ مشرک قوموں نے ہر دور میں ان دونوں کی عبادت کی ہے۔ خلقھن کی ضمیر جمع ان تمام چیزوں کی طرف لوٹتی ہے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ ان کنتم ایاہ تعبدون یعنی اللہ تعالیٰ کی خالص بندگی کا حق صرف اس طرح ادا ہوسکتا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کو سجدہ نہ کیا جائے۔ سجدہ بندگی کی سب سے بڑی علامت ہے اس وجہ سے یہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری چیزوں کی جو بندگی کرتے تھے تو اس کے متعق ان کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ صرف اس لئے وہ کرتے ہیں کہ یہ چیزیں خدا کی قربت کا ذریعہ ہیں۔ گویا ان کی بندگی، ان کے زعم میں، خدا ہی کی بندگی تھی۔ اس ٹکڑے میں ان کے اسی زعم کی تردید ہے کہ خدا کی بندگی اس طرح بلا شرکت غیرے ہونی چاہئے کہ اس کی بندگی کی مخصوص علامات میں بھی کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پس اگر یہ تکبر کریں (تو کریں) جو فرشتے تیرے رب کے پاس ہیں وہ اسی کی تسبیح کرتے ہیں شب و روز اور وہ کبھی نہیں تھکتے

فان استکبروا فالذین عند ربک یسبعون لہ بالیل و الھار وھم لایسمعون (38) خدا کسی کی عبادت کا محتاج نہیں ہے یعنی اگر یہ لوگ بربنائے استکبار تمہاری بات نہیں سن رہے ہیں اور بڑے طنطنہ کے ساتھ کہتے ہیں کہ تمہاری باتوں کے لئے ان کے کان بہرے اور تمہارے اور ان کے درمیان حجاب حائل ہے تو تم ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ خدا کو ان کی کوئی پروا نہیں اور تم بھی ان کی کوئی پروا نہ کرو۔ یہ اگر خدا کی عبادت نہیں کریں گے تو اس سے خدا کے بزم نہیں اجڑ جائے گی۔ تییر رب کے پاس جو فرشتے ہیں وہ رات دن اس کی تسیع میں سرگرم ہیں اور ان کے ذوق و شوق کا حال یہ ہے کہ وہ کبھی اس کام سے نہیں تھکتے۔ الذین عند ربک سے ملائکہ بحیثیت مجموعی مراد ہیں، صرف ملائکہ مقربین مراد نہیں ہیں۔ اس لئے کہ ملائکہ کو صفت یہاں مذکور ہوئی ہے وہ تمام ملائکہ کی مشترک صفت ہے۔ عند ربک کے الفاظ سے صرف اس قرب الٰہی کا اظہار مقصود ہے جو ملائکہ کو جنوں اور انسانوں کے مقابل میں حاصل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ناہنجار لوگ خدا کی بندگی سے گریز کر رہے ہیں تو کریں، جو ان سے اعلیٰ و اشرف ہیں اور جن کو یہ معبود بنائے بیٹھے ہیں ان کو خدا کی بندگی سے عار نہیں ہے، وہ شب و روز خدا کی حمد و تسبیح میں سرگرم ہیں اور اس طرح سرگرم ہیں کہ ان کی سرگرمی میں ایک پل کے لئے بھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ چیز بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو بالکل بےجان، پس جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ متحرک ہوجاتی اور پھول جاتی ہے۔ بیشک جس نے اس کو زندہ کردیا وہ مردوں کو بھی زندہ کردینے والا ہے بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ فاذا انزلنا علیھا المآء اھتزت وربتہ ان الذین احیا ھالمحی الموتی انہ علی کل شیء قدیر (39) قیامت کی یاد دانی توحید کے بعد یہ قیامت کی یاد دانی فرمائی کہ جو لوگ قیامت کو مستبعد خیال کر ہرے ہیں وہ اس زمین میں اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں۔ دیکھتے ہو کہ زمین بالکل خشک، بےجان اور بےبرگ وگیاہ ہوتی ہے کہ ہم اپنی عنایت سے اس پر رحمت کی گھٹا برسا دیتے ہیں تو دیکھتے دیکھتے اس میں زندگی کی حرکت نمایاں ہوجاتی ہے، اس کی پستی میں سبزہ اور نباتات سے ابھار پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے ہر گوشے میں روئیدگی اور نشو و نما کی بہار آجاتی ہے۔ ان الذی احیا ھا لمحی الموتی فرمایا کہ جو خدا اپنی قدرت سے اس زمین کو بار بار مردہ اور بار بار زندہ کرتا رہتا ہے۔ وہ ضرور اس بات پر قادر ہے کہ انسانوں کو بھی ان کے مر جانے کے بعد جب چاہے اٹھا کھڑا کرے۔ انہ علی کل شیء قدیر یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر وہ ہر چیز پر قادر نہ ہو تو خدا نہیں ہے۔
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری نشانیوں کے باب میں کج روی اختیار کر رہے ہیں وہ ہم سے مخفی نہیں میں کیا وہ بہتر ہے جو دوزخ میں ڈالا جائے گا یا وہ جو قیامت کے دن امن کے سایہ میں آء گا ! کرلو جو تم چاہو۔ وہ اچھی طرح دیکھ رہا ہے جو تم کر رہے ہو۔

ان الذین یلحدون فی ایتنا لایفقون علینا افمن یلقی فی النار خیر ام من یاتی امنا یوم القیمۃ اعملوا ماشئتم انہ بما تعملون بصیر (40) اشرار کو تنبیہ الحاد کے معنی الحاد کے معنی انحراف اور کج روی اختیار کرنے کے ہیں۔ یلحدون فی ایتنا کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ کی آیات اور اس کی نشانیاں تو کسی اور سمت میں رہنمائی کر رہی ہوں لیکن آدمی اپنی دھاندلی، ضد اور کر پزی یا کج بحثی سے کوئی اور راہ اختیار کرے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف موڑنے کی کوشش کرے۔ آیت 25 میں برے ساتھیوں اور گمراہ لیڈروں کی اس سعی نامراد کی طرف اشارہ ہوچکا ہے۔ اسی قسم کے اشرار کو اس آیت میں دھمکی دی ہے کہ جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کر ہرے ہیں ان کی حرکتیں ہم سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ہم سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ ہم سے مخفی نہیں ہیں تو ایک دن ہم ان کو اس کا مزا چکھائیں گے۔ یہ بات یہاں مبہم چھوڑ دی ہے اور اس ابہام میں جو غضبناک مضمر ہے وہ محتاج وضاحت نہیں ہے۔ افمن یلقی فی النار خیر ام من یاتی امناً یوم القیمۃ یہ اسی ابہام کی وضاحت سوالیہ اسلوب میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ لوگوں کی ساری حرکتیں دیکھ رہا ہے تو لوگوں کو چاہئے کہ وہ جو روش بھی اختیار کریں اس سوال کا فیصلہ کر کے اختیار کریں کہ خوش انجام وہ ہے جو دوزخ میں جھونکا جائے گا یا وہ جو محشر میں اس طرح آئے گا کہ ہر خوف سے بالک نچنت ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ کا سب کچھ دیکھنا اور لوگوں کو دوبارہ زندہ کردینے پر قادر ہوناجزا اور سزا کو مستلزم ہے اس وجہ سے جس کو بھی اس دنیا میں جو کچھ کرنا ہے وہ یہ فصلہ کر کے کرے کہ وہ اپنے لیے دوزخ کا انتخاب کرتا ہے یا جنت کا ؟ ان دونوں کی راہیں ہر شخص کے لئے کھلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے جس راہ کو آدمی اپنے لیے بہتر سمجھے اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ نے خیر اور شر کو واضح کر کے ان کے درمیان انتخاب کا فیصلہہر شخص کی صواب دید پر چھوڑ دیا ہے۔ اعملوا ما شئتم انہ بما تعملون بصیر یہ اسی اختیار و آزادی کا بیان ہے کہ اللہ نے نیکی اور بدی اور ان دونوں کے انجام کو واضح کر کے تمہیں آزاد چھوڑ دیا ہے کہ چاہے تم نیکی کردیا بدی البتہ یہ یاد رکھو کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ اس آخری فقرے میں جو وعید ہے الفاظ اس کی تعبیر سے قاصر ہیں۔
Ayahs 41:41–42

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ کی یاد دہانی کا انکار کیا جب کہ وہ ان کے پاس آگئی (ان کی شامت آئی ہوئی ہے) بیشک یہ ایک بلند پایہ کتاب ہے۔

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

اس میں باطل نہ اس کے آگے سے داخل ہو سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ خدائے حکیم وحمید کی طرف سے نہایت اہتمام کے ساتھ اتاری گئی ہے

ایک بلیغ حذف ان الذین کفروا بالذکر لما جآء ھم وانہ لکتب عزیز، لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید (42-41) ذکر سے مراد قرآن مجید ہے اس کو ذکر سے تعبیر کرنے کے وجوہ پر اس کے محل میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔ اسی مضمون کو از سر نو لے لیا ہے جو سورة کے شروع میں گزر چاک ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ قرآن کا انکار کر رہے ہیں جب کہ وہ ان کے پاس آ چا ہے، وہ … اس کے بعد اس کی خبر حذف کردی ہے اور اس حذف میں بڑیبلاغت ہے۔ اس سے یہ بات نکلی کہ ان کی بد انجامی ظاہر کرنے کے لئے ان کے اس جرم کی سنگینی ہی کافی ہے۔ اس کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ وہی روز بد دیکھیں گے جو ان سے پہلے رسولوں اور ان کی تعلیمات کے مکذبین دیکھ چکے ہیں۔ ایک بلیغ وضاحت کفروا بالذکر کے بعد لماجآء ھم کے الفاظ بھی خاص طور پر توجہ کے لائق ہیں۔ اس سے ان کے جرم کی غایت درجہ سنگینی کا اظہار مقصود ہے۔ ایک چیز ایک شخص نے دیکھی نہ ہو اور اس کے حسن و قبح کو پرکھنے کا اس کو موقع نہ ملا ہو اور وہ اس کی ناقدری کرے تو اس کو ایک حد تک معذور قرار دیا جاسکتا ہے لیکن جس نے قرآن کو دیکھ لیا، اسی کے اعجاز کو پرکھ لیا اور اس کے دلائل کی قوت کو اچھی طرح آزما لیا وہ اگر قرآن کا انکار کرتا ہے تو وہ سورج کی تابنی کا اس وقت انکار کر رہا ہے جب وہ اس کے سر پر چمک قرآن کی بعض صفات کا حوالہ وانہ لکتب عزیز میں یہاں دو پہلو ہیں۔ ایک تہدید و وعید کا دوسرا قرآن کی پاکیزگی و طہارت کا تہدید و وعید کے پہلو سے یہ سابق مضمون سے یہ سابق مضمون سے مربوط ہے اور دوسرے پہلو سے یہ آگے والی آیت کی تمہید ہے۔ عزیز کے ایک معنی غالب و مقتدر کے ہیں۔ اپنے اس مفہوم کے اعتبار سے یہ تہدید کے مضمون کی دلیل ہے کہ جو لوگ قرآن کا انکار کر رہے ہیں وہ اس حقیقت کو نظر انداز نہ کریں کہ یہ قرآن کسی سائل کی درخواست نہیں ہے بلکہ اس کا بھیجنے والا بھی عزیز یعنی غالب و مقتدر ہے اور یہ کتاب خود بھی عزیز ہے اسی وجہ سے اس کی حیثیت ایک فرمان واجب الادغان کی ہے۔ جو لوگ اس کا انکار کریں گے وہ یہ بات اچھی طرح یاد رکھیں کہ یہ کتاب ان کا فیصلہ کر کے رہے گی۔ یہاں اس سنت الٰہی کو ذہن میں رکھیے جو رسولوں سے متعلق جگہ جگہ بیان ہوچکی ہے۔ عزیز کے دوسرے معنی منیع کے ہیں۔ منیع اس چیز کو کہتے ہیں جو دسترس سے بالات رہو۔ اس کی وضاحت آگے والی آیت میں آرہی ہے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ شیاطین جن و انس خاہ کتنا ہی زور لگائیں لیکن وہ اس میں کوئی گڑ بڑ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہو سکتے۔ باطل نہ اس کے آگے سے اس میں گھس سکتا ہے نہ اس کے پیچھے سے۔ اللہ تعالیٰ نے شیاطین کی در اندازی سے اس کو ہر جانب سے بالکل محفوظ بنایا ہے۔ یہ گویا جواب ہوا مخالفین کی اس سعی نامراد کا جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے کہ وقال الذین کفروا لاتسمعوا لھذا القران و الفوافیہ لعلکم تغلبون (اور کافر کہتے ہیں کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں گھپلا پیدا کرو تاکہ تم غالب رہو) لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولامن خلفہ تنزیل من حکیم حمید، یہ قرآن کی عظمت اور اس کے شرف کا ایک جامع بیان ہے جس کے دو پہلو خاص طور پر اہمیت رکھنے والے ہیں۔ ایں خانہ تمام آفتاب است ایک یہ کہ قرآن اپنے آگے اور پیچھے دونوں طرف سے بالکل محفوظ ہے۔ اس کو اتارنے والا اللہ تعالیٰ ہے، اس کو لانے والے جبریل امین ہیں، اس کے حامل محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور اس کو نقل و قبول کرنے والے اس خلق کے پاکیزہ ترین اخیار و صالحین ہیں۔ گویا ابتداء سے لے کر انتہا تک ایں خانہ ہمہ آفتاب است، اس میں کہیں بھی شیطان کی در اندازی کے لئے کوئی روزن نہیں ہے، نہ اس کے آغاز کی طرف سے نہ اس کی انتہا کی طرف سے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا، جیسا کہ وانا لہ لحفظون کے الفاظ سے واضح ہے، خود اہتمام فرمایا اور یہ قرآن مجید کا وہ امتیاز ہے جو اس سے پہلے نازل ہونے والے صحیفوں کو حاصل نہیں ہوا۔ تو رات و انجیل وغیرہ کی حفاظت کی ذمہ داری ان کے حاملین پر ڈالی گئی تھی جو اس کا حق ادا نہ کرسکے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ صحیفے بالکل محرف ہو کے رہ گئے اور ان کے اندر حق و باطل کا امتیاز ناممکن ہوگیا لیکن قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا اور اس کو قیامت تک کے لئے ہر قسم کی آمیزش سے بالکل محفوظ کردیا۔ اس حفاظت کے کئی پہلو ہیں۔ قرآن کی حفاظت کے بعض پہلو ایک یہ کہ قرآن کے زمانہ نزول میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا خاص اہتمام فرمایا کہ قرآن کی وحی میں شیاطین کوئی مداخلت نہ کرسکیں۔ یوں تو اس نظام کائنات میں یہ مستقل اہتمام ہے کہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہ سن سکیں لیکن سورة جن کی تفسیر میں ہم واضح ریں گے کہ نزول قرآن کے زمانہ میں یہ اہتمام خاص طور پر تھا کہ شیاطین وحی الٰہی میں کوئی مداخلت نہ کر پائیں تاکہ ان کو قرآن میں اس کے آگے سے (من بین یدیہ) کچھ گھسانے کا موقع نہ مل سکے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے اپنے جس فرشتہ کو منتخب کیا اس کی صفت قرآن میں ذی قرۃ مطاع، قوی، امین اور عند ذی العرش مکین وارد ہوئی ہے۔ یعنی وہ فرشتہ الیسازور آور ہے کہ ارواح خبیثہ اس کو مغلوب نہیں کرسکتیں، وہ تمام فرشتوں کا سردار ہے، وہ کوئی چیز بھول نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو امانت اس کے حوالہ کی جاتی ہے وہ اس کو بالکل ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ اس میں زیر زبر کا بھی فرق واقع ہو سکے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پانیصلاحیتوں کے اعتبار سے تمام مخلوقات سے برتر ہے … ظاہر ہے کہ یہ اہتمام بھی اسی لئے فرمای گیا کہ قرآن میں اس کے منبع کی طرف سے کسی باطل کے گھسنے کا امکان باقی نہ رہے۔ تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو اٹھانے کے لئے جس بشر کو منتخب فرمایا اول تو وہ ہر پہلو سے خود خیر اخلائق تھا ثانیاً قرآن کو یاد رکھنے اور اس کی حفاظت و ترتیب کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے تنہا اس کے اوپر نہیں ڈالی بلکہ یہ ذمہ داری اپنے اوپر لی۔ چناچہ سورة قیامہ میں فرمایا ہے۔ لاتحرک بہ بسانک لہ فجل بہ ان علینا جمعہ وقرانہ فاذا قرآن ہ فاتبع قرآن ہ ثم ان علینا بیانہ (القیمۃ 19-16) (اور تم اس قرآن کو حاصل کرنے کے لئے اپنی زبان کو تیز نہ چلاء، ہمارے اوپر ہے اس کے جمع کرنے اور اس کے سنانے کی ذمہ داری تو جب ہم اس کو سنا چکیں تو اس سنانے کی پیروی کرو، پھر ہمارے ذمہ ہے اس کی وضاحت) روایات سے ثابت ہے کہ جتنا قرآن نازل ہوچکا ہوتا اس کو نبی ﷺ اور آپ کے مقرب صحابہ یاد بھی رکھتے اور ہر رمضان میں حضرت جبرئیل کے ساتھ آنحضرت ﷺ اس کا مذاکرہ بھی فرماتے رہتے تاکہ کسی سہو و نسیان کا اندیشہ نہ رہے اور یہ مذاکرہ اس ترتیب کے مطابق ہوتا جس ترتیب پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کو مرتب کرنا پسند فرمایا۔ یہ بھی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلعم نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری رمضان میں یہ مذاکرہ دو مرتبہ فرمایا۔ پھر اسی ترتیب اور اسی قرأت کے مطاب پورا قرآن ضبط تحریر میں لایا گیا اور بعد میں خلفائے راشدین نے اسی کی نقلیں مملکت تیز دوسرے شہروں میں بھجوائیں۔ یہ اہتمام پچھلے صحیفوں میں سے کسی کو بھی حاصل نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ تورات کے متعلق تو یہ علم بھی کسی کو نہیں ہے کہ اس کے مختلف صحیفے کس زمانے میں اور کن لوگوں کے ہاتھوں مرتب ہوئے۔ چوتھا یہ کہ قرآن اپنی فصاحت الفاظ اور بلاغت معنی کے اعتبار سے معجزہ ہے۔ جس کے سبب سے کسی غیر کا کلام اس کے ساتھ پیوند نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ نبی ﷺ کا اپنا کلام بھی، باوجودیکہ آپ اس قرآن کے لانے والے اور افصح العرب و العجم ہیں، اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس وجہ سے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کسی غیر کا کلام اس کے ساتھ مخلوط ہو سکے۔ چناچہ جن مدعیوں نے قرآن کا جواب پیش کرنے کی جسارت کی ان کی مزخرفات کے نمونے ادب اور تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ آپ ان کو قرآن کے مقابل میں رکھ کر موازنہ کر لیجیے۔ دونوں میں گہر اور پیشز کا فرق نظر آئے گا … اس طرح گویا پیچھے سے بھی (ومن خلفہ) قرآن میں در اندازی کی راہ مسدود کردی گئی۔ پانچواں یہ کہ قرآن کی حفاظت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی زبان کی حفاظت کا بھی قیامت تک کے لئے وعدہ فرما لیا۔ دوسرے آسمانی صحیفوں میں تو ان کی اصل زبانیں مٹ جانے کے سبب سے، بیشمار تحریفیں ترجموں کی راہ سے داخل ہوگئیں جن کا سراغ اب ناممکن ہے لیکن قرآن کی اصل زبان محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گی اس وجہ سے ترجموں اور تفسیروں کی راہ سے اس میں کسی باطل کے گھسنے کا کوئی امکان نہیں ہے اگر اس میں کسی باطل کو گھسانے کی کوشش کی جائے گی تو اہل علم اصل پر پرکھ کر اس کو چھانٹ کر الگ کرسکتے ہیں۔ یہ ہم نے چند نمایاں پہلوئوں کی طرف اشارے کئے ہیں۔ اس کے پہلو بعض اور بھی ہیں لیکن یہ ایک مستقل موضوع ہے۔ ہمارے لئے یہاں زیادہ تفصیل میں جانے کی گنجائش نہیں ہے۔ ان چند باتوں سے آپ یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ قرآن کی یہ شان کیوں ہے کہ باطل نہ اس کے آگے سے اس میں راہ پاسکتا اور نہ اس کے پیچھے سے درشتی و نرمی بہم در براست تنزیل من حکیم حمید لفظ تنزیل کی وضاحت جگہ جگہ ہم کرچکے ہیں کہ اس کے اندر اہتمام اور تدریج کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اس وجہ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ خدائے عزیز وحمید کی طرف سے نہایت اہتمام کے ساتھ اتاری ہوئی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے یہاں دو صفتوں … حکیم اور حمید … کا حوالہ ہے۔ حکیم یعنی جس کی ہر بات اور جس کے ہر کام میں حکمت ہے چناچہ اس نے یہ حکیمانہ کلام نہایت اہتمام کے ساتھ اتارا ہے۔ حمید یعنی جو سزا وار حمد، ستو وہ صفات اور تمام سزاوار حمد کاموں کا منبع و سرچشمہ ہے چناچہ اس نے اپنی اس عظیم نعمت سے اپنی خلق کو محض اپنے جود و کرم سے نوازا۔ اوپر والی آیت میں صفت عزیز کا حوالہ ہے جس میں تنبیہ و تہدید کا پہلو ہے۔ اس آیت میں حکیم وحمید کا حوالہ اپنے اندر ترغیب کا پہلہ رکھتا ہے۔
Ayah 41:43

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

تمہیں وہی باتیں کہی جا رہی ہیں جو تم سے پہلے آنے والے رسولوں کو کہی جا چکی ہیں۔ بیشک تمہارا رب بڑی مغفرت والا بھی ہے اور درد ناک عذاب دینے والا بھی

درشتی و نرمی بہم در براست یقال لک الا ماقد قیل للرسل من قبلک، ان ربک لذو مغفرۃ و ذوعقاب الیم (43) آنحضرت صلعم کو تسلی یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ یہ نہ گمان کرو کہ یہ خاص تمہاری ہی قوم نے تمہارے ہی ساتھ یہ رویہ اختیار کیا ہے بلکہ جس طرح کی باتیں تمہیں کہی جا رہی ہیں اسی طرح کی باتیں دوسری امتوں کے اشرار اپنے اپنے رسولوں کو کہہ چکے ہیں۔ رسولوں اور ان کی قوموں کی یہ ایک مشترک روایت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تمہاری کسی خامی کا نتیجہ نہیں ہے کہ قوم کے اشرار تمہارے دشمن بن گئے ہیں بلکہ ہمیشہ سے رسولوں کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے تو جس طرح دوسرے اولوالعزم رسولوں نے اپنی قوموں کے ایذا رسانیوں کا صبر کے ساتھ مقابلہ کیا اسی طرح تم بھی صبر کرو۔ ان ربک لذو مغفرۃ وذوعقاب الیم یعنی یہ اطمینان رکھو کہ خدا کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ اگر اللہ ان لوگوں کی تمام تعدیوں کے باوجود ان کو ڈھیل دے رہا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس کے ہاں جزا اور سزا کا کوئی قانون ہی نہیں ہے۔ وہ بڑی مغفرت فرمانے والا بھی ہے اور بڑا درد ناک عذاب دینے والا بھی۔ وہ آخری حد تک ڈھیل دیتا ہے تاکہ جو اس کی مغفرت کا سزا وار بننا چاہیں وہ سزا وار بن جائیں لیکن جب اس مہلت سے لوگ فائدہ نہیں اٹھاتے یا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں تو ان کو سزا بھی ایسی درد ناک دیتا ہے کہ اس طرح کی درد ناک سزا کوئی اور نہیں دے سکتا۔
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی قرآن کی شکل میں اتارتے تو یہ لوگ یہ اعتراض اٹھاتے کہ اس کی آیات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی ! کلام عجمی اور مخاطب عربی ! کہہ دو ، یہ ان لوگوں کے لئے تو ہدایت اور شفا ہے جو اس پر ایمان لائیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لا رہے ہیں تو ان کے کانوں میں بہرا پن ہے اور یہ ان کے اوپر ایک حجاب ہے۔ اب یہ لوگ ایک دور کی جگہ سے پکارے جائیں گے

ولو جعلتہ قرانا اعجمیاً تقالوا لولا فصلت ایتہ اعجمی وعربی قل ھو للذین امنوا ھدی وشفآء والذین لایومنون فی اذانھم وقروھو علیھم عمی اولئک نیادون من مکان بعید (44) یہود کا القاء کیا ہوا ایک اعتراض اور اس کا جواب قرآن سے اعراض و فرار کے لئے مخالفین جو بہانے پیدا کرتے تھے ان میں سے بعض کو نقل کر کے ان کی لغویت واضح کی گئی ہے۔ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس قسم کے بعض دوسرے اعتراضات اصلاً یہود کے القائکئے ہوئے تھے جو بنی اسماعیل کو قرآن کی نعمت سے محروم کرنے کے لئے انہوں نے ایجاد کئے تھے لیکن قریش کے نادان لیڈر، ان کے حسد اور ان کے چالوں سے بیخبر ہونے کے باعث، محض آنحضرت ﷺ کی مخالفت کے جوش میں، ان کے القاء کئے ہوئے اعتراضات نقل کرنا شروع کردیتے تھے۔ یہود کے سکھائے ہوئے متعدد اعتراضات جو قریش کے لیڈروں نے اپنا لیے تھے پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکے ہیں اور آگے کی سورتوں میں بھی آئیں گے۔ از آنجملہ ایک اعتراض یہ بھی ان کا تھا کہ وحی کی مخصوص زبان تو اب تک عبرانی رہی ہے جس میں وہ تمام صحیفے نازل ہوئے جن کے آسمانی ہونے کا اقرار قرآن کو بھی ہے۔ تو اب اللہ میاں نے اپنی زبان کیوں بدل لی اور یہ نئی وحی عربی میں کیوں نازل ہوئی ! قرآن نے اس کا جواب یہ دیا کہ ان لوگوں کا یہ اعتراض محض برائے اعتراض اور قرآن کی مخالفت کے لئے ایک بہانہ ہے۔ اگر قرآن کسی عجمی زبان میں اترتا تو یہی لوگ یہ اعتراض اٹھاتے کہ اس کی آیتوں کی ہماری اپنی زبان میں اچھی طرح وضاحت کیوں نہیں کی گئی لیکن جب ہم نے اس کو عربی زبان میں اتار کر ان کے لئے اچھی طرح کھول دیا تو بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و احسان کے شکر گزار ہوتے یہ دشمنوں کا سکھایا ہوا یہ اعتراض لے کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ سابق روایت کے خلاف اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ وحی عربی زبان میں کیوں اتاری ! گویا اللہ تعالیٰ کا ایہ ایک عظیم احسان ان کے لئے وجہ اعتراض بن گیا ! ء اعجمی و عربی یہ فقرہ ان کے اعتراض ہی کا حصہ ہے کہ اس وقت یہ لوگ یہ بات بناتے کہ پیغام عجمی اور مخاطب عربی ! یعنی یہ کیا بےتکا پن ہے کہ جو لوگ اس کتاب کے سب سے پہلے مخاطب ہیں وہ اس کی زبان سے بالکل نابلد ہیں ! زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم قل ھو للذین امنوا ھدی وشفہ فرمایا کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ یہ نعمت ان لوگوں کے لئے ہے جو اس کی قدر کریں جو اس پر ایمان نہیں لانا چاہتے وہ تو اس کی مخالفت کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کر ہی لیں گے لیکن جن کے اندر ہدایت کی طلب اور جن کو اپنی عقلی و روحانی بیماریوں کا احساس ہے وہ اس کے اندر ہدایت بھی پائیں گے اور اپنے دکھوں کا مداوا بھی۔ والذین لایومنون فی اذانھم و قرو ھو علیھم عمی رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لا رہے ہیں تو ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کتاب میں کوئی خرابی ہے جس کے سبب سے ان کے دلوں کو یہ اپیل نہیں کر رہی ہے بلکہ فی الواقع انہی کے دلوں کے کان بہرے ہیں۔ قبول حق کی صلاحیت ان کے اندر مردہ ہوچکی ہے اس وجہ سے اس کی صدائیں ان کے دلوں پر اثر نہیں کر رہی ہیں بلکہ ان کے کانوں سے ٹکرا کے واپس آجاتی ہیں۔ وھو علیھم عمی اسی طرح جو وگ اس سے راہ یاب نہیں ہو رہے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہ نہیں ہے کہ یہ ہدایت کی روشنی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس روشنی نے ان کی نگاہیں خیرہ کردی ہیں جس کے سبب سے یہ ان کے لئے رہنمائی کے بجائے اندھے پن کا ذریعہ بن گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی آنکھوں کو روشنی کے بجائے تاریکی ہی کا خوگر کر رکھا تھا اس وجہ سے جب یہ آسمانی روشنی نمودار ہوئی تو ان کی نگاہیں اس کی تاب نہ لا سکیں بلکہ ان کی رہی سہی 1۔ جیسا کہ آیت 3 میں فرمایا ہے : کتب فصلت ایتہ قراناء بیا لقوم یعلمون روشنی بھی سلب ہوگئی۔ اس مقام کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے سورة بقرہ کی آیت 20 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ جو قریب سے نہیں سن رہے ہیں وہ دور سے سننے پر مجبور ہوں گے اولئک ینا دون من عمکان بعید یعنی ابھی تو ان کو بہت قریب سے پکارا جا رہا یہ، اللہ کا رسول، اللہ کی کتاب اور اس کا پیغام لیے ہوئے، ان کے پیچھے پیچھے پھر رہا ہے لیکن یہ اپنی رعونت کے سبب سے برے بنے ہوئے ہیں، گویا کوئی بات سنتے ہی نہیں۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ عنقریب وہ دن بھی آنے والا ہے جب قیامت کا داعی بہت دور سے ان کو پکارے گا اور یہ اس کی پکار سنتے ہی اس کی طرف بھاگیں گے۔ مجال نہیں کہ ذرا بھی تاخیر یا سرمو انحراف اختیار کرسکیں۔ سورة طہ میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : یومیذ یتبعون الداعی لاعوج لہ و خشعت الاصوات للرحمن فلا تسمع الاھمسا (108) (جس دن پکارنے والے کے پیچھے وہ بھاگیں گے، ذرا بھی اس سے انحراف نہ اختیار کرسکیں گے اور سب کی آوازیں خدائے رحمان کے آگے پست ہوں گی۔ پس تم سرگوشی کے سوا اور کوئی چیز بھی نہ سنو گے۔) اس آیت کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے اسی سورة کی آیات 5-1 بالخصوص آیت 5 وقالوا قلوبنا فی اکتہ مما تدعونآ الیہ و فی اذانتا و قرومن بیننا وبینک حجاب پر ایک نظر ڈال لجیے۔ متکبرین تو بطور رعونت یہ بات کہتے تھے کہ ہمارے دل تمہاری دعوت سے پردے میں ہیں، ہمارے کان بہرے ہیں، ہمارے اور تمہارے درمیان حجاب حائل ہے لیکن قرآن نے ان کی ایک ایک بات کی تصدیق کردی اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی فرما دی کہ ان کے بہرے پن، اندھے پن اور ان کے حجاب کی نوعیت کیا ہے اور ان کی ان بیماریوں کا علاج اب کس دن اور کس طرح ہوگا۔
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب عطا کی تھی تو اس میں اختلاف پیدا کردیا گیا اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ چکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور یہ لوگ اس کی طرف سے ایک الجھن میں ڈال دینے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔

ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم وانھم لفی شک منہ قریب 45 یہود کا اللہ تو کیا ہوا، ایک اور اعتراض اور اس کا جواب یہ آیت بعینہ سورة ہود میں بھی گزر چکی ہے، ملاحظہ ہو آیت 110 وہاں ہم اس کی تفسیر کرچکے ہیں۔ یہ بھی درحقیقت اسی طرح کے اعتراض کا جواب ہے جس طرح کے اعتراض کا جواب اوپر والی آیت میں دیا گیا ہے یہود، یہ اعتراض بھی لوگوں کو سکھاتے تھے کہ جب تورات، اللہ کی کتاب موجود ہے اور اس کا کتاب الٰہی ہونا قرآن کو بھی تسلیم ہے تو آخر ایک نئی کتاب نازل کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی ؟ اس اعتراض کا جواب قرآن نے مختلف پہلوئوں سے دیا جو مختلف سورتوں میں مذکور ہے۔ یہاں یہ جواب دیا ہے کہ یہ تو امر واقعہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اس میں اختلاف اور تناقص پیدا کردیا گیا۔ فاختلف فیہ سے مراد یہاں وہ تناقص ہے جو مختلف اسفار تورات میں بہت بھونڈے طور پر پایا جاتا ہے۔ اگر کسی چیز میں محض تاویل کا اختلاف ہو تو اس کا ازالہ اصل کی مراجعت اور دوسرے شواہد و نظائر سے ممکن ہے لیکن جب اصل ہی میں کھلا ہوا تضاد و تناقص ہو تو پھر اس اختلاف کا ازالہ ناممکن ہے چناچہ یہ واقعہ ہے کہ تورات کے مختلف حصوں میں ایک ہی بات اتنے متضاد طریقوں سے بیان ہوئی ہے کہ اصل حقیقت تک پہنچنا نہایت دشوار بلکہ ناممکن ہے۔ ہماری اس کتاب میں تورات کے تضادات کی متعدد مثالیں گزر چکی ہیں۔ یہاں ہم اس کے صرف اس تضاد بیان کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو نبی امی ﷺ کی بعثت کی پیشین گوئیوں سے متعلق تورات میں پایا جاتا ہے۔ اگر یہود نے تحریفک کی راہ سے یہ تضاد نہ پیدا کردیئے ہوتے تو ان کو اس حقیقت کے سمجھنے میں ذرا بھی دشواری نہ پیش آتی کہ تورات کے بعد قرآن کو اللہ تعالیٰ نے کیوں نازل فرمایا اور حضرت موسیٰ ؑ کے بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت دین کی کون سی کمی پوری کرنے کے لئے ہوئی لیکن یہود نے اپنی بدبختی سے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور اس طرح انہوں نے صرف اپنی ہی گمراہی کا سامان نہیں کیا بلکہ ایک خلق کثیر کی گمراہی کا وبال بھی اپنے سر لیا۔ تورات میں اس طرح کے تضادات کے پیدا ہونے کی وجہ کی طرف ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں کہ حفاظت کا وہ اہتمام اس کو حاصل نہ ہوسکا جو قرآن کو حاصل ہوا۔ اس پر متعدد بار ایسی آفتیں آئیں کہ پوری تورات ناپید ہوگئی۔ بعد میں جن لوگوں نے اس کو مرتب کیا محض اپنی یادداشت سے مترب کیا اور یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے مرتب کرنے والے کون اور کن صفات کے وگ تھے۔ اس کے بعض صحیفے بالکل صیغہ راز میں رکھے جاتے تھے جن کے مندرجات سے خاص محرمان راز کے سوا دوسرے لوگ واقف نہیں ہو سکتے تھے اس لئے کہ ان میں ایسی باتیں جن کی عام اشاعت علمائے یہود اپنے مصالح کے خلاف سمجھتے تھے۔ اس طرح کی باتوں میں انہوں نے اپنے حسب منشا تحریفات بھی کیں اور وہ اس تحریف میں کامیاب ہوگئے۔ کسی ایسی کتاب میں تناقضات کا پیدا ہوجانا ذرا بھی تعجب انگیز نہیں ہے اور ان تناقضات کا بالکل بدیہی اور لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اصل حقیقت بالکل گم ہوجائے، لوگ اسی تاریک میں پھر گھر جائیں جس سے نکالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ روشنی نازل فرمائی تھی اور ان کے درمیان ایسے اختلافات پیدا ہوجائیں جن کے دور کرنے کی کوئی سبیل باقی ہی نہ ہر جائے۔ ایک سخت دھمکی ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم یہ نایت سخت دھمکی ہے اور چونکہ یہ اعتراض جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا یہود کا سکھایا ہوا تھا، اس وجہ سے دھمکی بھی انہی کی طرف اشارہ کر کے دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہود ابھی تک اپنے آپ کو تورات کا حامل سمجھے ہوئے بیٹھے اور اس خبط میں مبتلا ہیں کہ تورات کی بدولت جو امامت و عیادت ان کو حاصل ہوئی تھی وہ بدستوران کو حاصل ہے، اس کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ حالانکہ اللہ کی کتاب کے ساتھ جو ظلم وہ کرچکے ہیں اس کے بعد وہ مستحق تو تھے کہ اللہ کی عدالت اور اس کے عذاب کے ذریعہ سے ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے فیصلہ کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اس وجہ سے ان کو مہلت دی گئی لیکن یہ مہلت بہرحال مہلت ہے جو ایک دن پوری ہوجائے گی اور یہ اپنے اس ظلم کا مزا چکھیں گے۔ تورات میں اختلافات کا نتیجہ وانھم لفی شک منہ مریب یہ نتیجہ بیان ہوا ہے اس اختلاف و تناقض کا جو تورات میں پیدا کردیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تورات کی ہر چیز خود اہل تورات کی نگاہوں میں مشکوک ہوگئی جس سے حق و باطل کا امتیاز ناممکن ہوگیا۔ ان کے اندر بیشمار فرقے پیدا ہوگئے اور ہر فرقے نے جو بات اپنی خواہش کے مطابق پائی اسی کو اپنا دین بنا لیا اور اصل دین ان تناقضات کے اندر گم ہوگیا۔ امام رازی کے نزدیک منہ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے لیکن میرے نزدیک اس کا مرجع تورات ہی ہے اور اس کے مشکوک ہونے کا پہلو وہی ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ یہ مضمون آگے سورة شوریٰ میں بھی آئے گا۔ وہاں اس آیت کے بعض اجمالات کی وضاحت ہوجائے گی۔ الشوری میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے۔ وما تفرقوا الا من بعدما جآء ھم العلم بغیا بینھم ولولا کلمت سبقت من ربک الی اجل مسمی لقضی بینھم وان الذین اور ثوا الکتب من بعدھم لفی شک منہ مریب (الشوریٰ :14) اور یہ لوگ محض باہمی ضدم ضدا کے باعث متفرق ہوئے بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی، ایک مدت معین کے لئے تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے الجھن میں ڈال دینے والے شک میں مبتلا ہیں۔
Ayah 41:46

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو برائی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا اور تیرا رب بندں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

من عمل صالحاً فلنفسہ ومن اسآء فعلیھا وما ربک بظلام للعبید (46) مخالفین سے بےپروائی کا اعلان یہ ان لوگوں سے پروائی کا اظہار ہے۔ فرمایا کہ نہ کسی کی نیکی سے خدا کو کوئی نفع پہنچنے والا ہے اور نہ کسی کی بدی سے اس کا کوئی نقصان ہے۔ جو نیکی کرے گا اس کا فائدہ اسی کو حاصل ہوگا اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی اپنے بندوں پر ظلم کرنے الا نہیں ہے۔ جس کے جو اعمال ہوں گے اسی کے ثمرات و نتائج وہ اس کے سامنے رکھ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو راہ راست دکھانے کی یہ سرگرمی جو ہے اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ لوگوں کی ہدایت کے بغیر خدا کا کوئی کام اٹکا ہوا ہے بلکہ یہ ساری بھاگ دوڑ لوگوں ہی کی بھلائی کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ لوگ خدا کی پکڑ میں آئیں درآنحالیکہ ان پر اچھی طرح حجت تمام نہ ہوئی۔ سورة جاثیہ کی آیت 15 میں بھی یہ مضمن بالکل اسی سیاق وسباق میں آیا ہے۔ عربیت کا ایک اسلوب عربیت کے اس اسلوب کی وضاحت ہم دوسرے محل میں کرچکے ہیں کہ جب مبالغہ پر نفی آئے تو اس سے مقصود مبالغہ فی النفی ہوتا ہے اس وجہ سے وما ربک بظلام للعید کے معنی ہوں گے : اور تیرا رب بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
Ayah 41:47

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

اور قیامت کے علم کا معاملہ صرف اللہ ہی سے متعلق ہے اور کوئی میوہ اپنے غلاف سے باہر نہیں نکلتا اور نہ کوئی عورت حاملہ ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے اور جس دن ان کو پکارے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں تو کہیں گے کہ ہم نے تجھ سے عرض کردیا کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کا گواہ نہیں رہا

8 آگے کا مضمون … آیات 54-47 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پہلے ان لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے جو عذاب یا قیامت سے اس بنا پر نچنت تھے کہ ان کو اس کا وقت تعین کے ساتھ نہیں بتایا جا رہا ہے۔ ان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کسی حقیقت کا انکار محض اس بنیاد پر کوئی دانشمندی نہیں ہے کہ اس کے ظہور کا وقت بتایا نہیں جاسکتا۔ کتنی پیش پا افتادہ حقیقتیں ہیں جن کے ظہور کا وقت اگرچہ کسی کو نہیں معلوم لیکن کوئی عاقل اس کا انکار نہیں کرتا۔ اس کے بعد عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں کے حال پر اظہار افسوس کیا گیا ہے کہ ان لوگوں کے تھرڈلے پن کا حال یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فضل سے ان کو توبہ وا اصلاح کے لئے جو مہلت دی ہے تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض ان پر دھونس جمائی گئی ہے اور عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں حالانکہ اگر ابھی ذرا خدا کی کسی گرفت میں آجائیں تو اس سے نجات کے لئے لمبی لمبی دعائیں کرتے نہیں تھکیں گے۔ آخر میں قرآن کی تکذیب کے ہولناک انجام سے ڈرایا اور آگاہ فرمایا گیا ہے کہ اس کی صداقت کی جو دلیلیں بیان ہوئی ہیں اگر وہ ان کے لئے کافی نہیں ہیں تو عنقریب اس کی وہ آفاقی و انفسی نشانیاں ظاہر ہوں گی جن کے انکار کی کوئی بھی جرأت نہ کرسکے گا … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -9 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت الیہ یرد علم الساعت وما تخرج من ثمرت من اکما مھا وما تحمل من انثی ولاتضع الابعلمہ ط ویوم یناد یھم این شرکآءی لاقالوآ اذنک مامنا من شھید (47) قیامت کا مذاق اڑانے والوں کو جواب یہ ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو قیامت کے انذار کے جواب میں استہزاء کے طور پر یہ سوال کرتے کہ متی ھو ؟ وہ کب نمودار ہوگی ؟ اگر اس کو آنا ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی ؟ آخر یہ جہاز چلا تو کہاں رک گیا، وہ ساحل پر کب لنگر انداز ہوگا ؟ اس قبیل کے مذاق اڑانے والوں کو قرآن میں جگہ جگہ یہ جواب دیا گیا ہے کہ قیامت کا آنا تو ایک حقیقت ہے۔ اس کائنات اور اس کے خالق کی صفات کا یہ ایک بدیہی تقاضا ہے۔ آفاق وانفس اور عقل و فطرت اس کے گواہ ہیں۔ اس وجہ سے وہ آئے گی تو ضرور رہا یہ سوال کہ وہ کب آئے گی تو اس کا تعلق صرف اللہ تعالیٰ سے ہے۔ وہی جانتا ہے کہ وہ کب آئے گی۔ اس راز سے اس کے سوا کوئی دوسرا واقف نہیں ہے۔ وما تخرج من ثمرت من اکما مھا وماتحمل من انثی ولا تضع الایعلمہ اور صرف یہی ایک راز ایسا نہیں ہے جس سے خدا کے سوا کوئی اور واقف نہ ہو بلکہ اور بھی کتنی پیش پا افتادہ حقیقتیں ہیں جن کا تعلق صرف اللہ تعالیٰ ہی کے علم سے ہے، انسان کا علم ان کے باب میں نہایت محدود ہے لیکن اس کے باوجود ان کے حقیقت ہونے سے کوئی عاقل انکار نہیں کرتا۔ گندم کا ایک خوشہ نمودار ہوتا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کے پکنے کی نوبت آئے گی یا نہیں اور آئے گی تو اس میں کتنے دانے ناقص نکلیں گے، کتنے صحیح، کتنے ضائع جائیں گے، کتنے محفوظ رہیں گے، ان کے پکنے کی ٹھیک ٹھیک تاریخ کیا ہے اور ان میں سے کتنے دانے کسان کے نصیب کے ہیں جو اس کے کھتے تک پہنچیں گے اور کتنے چرند و پرند کی نذر ہوجائیں گے۔ ان ساری باتوں کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس وجہ سے اگر انسان پر قیامت کے ظہور کا وقت واضح نہیں ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ قیامت تو بہت بڑی چیز ہے، انسان کا حال تو یہ ہے کہ اس کو اپنے سامنے کی روزمرہ مشاہدہ کی ہوئی چیزوں کی واقفیت بھی بہت تھوڑی ہی ہے۔ وما تحمل من انثی ایک عورت حاملہ ہوتی ہے۔ کون جانتا ہے کہ یہ لڑکی جنے گی یا لڑکا، ناقص چنے گی یا سالم، مردہ جنے گی یا زندہ اور جنے گی تو کس وقت جنے گی ؟ ان باتوں میں سے کسی بات کا بھی صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں ہے۔ اگر ایک ایسی عامتہ الورود چیز سے متعلق انسان کا علم اتنا محدود ہے تو اس کو قیامت کے ظہو کا صحیح وقت نہ معلوم ہو سکے یا نہ بتایا گیا تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ ہاں اگر وہ یہ دعویٰ کرسکتا کہ بقیہ ساری چیزوں کا علم تو اس کو حاصل ہے، صرف یہی ایک چیز اس کے علم سے باہر رہ گئی ہے تب اس کے لئے یہ جائز ہوسکتا تھا کہ اس کی بنا پر وہ کسی شک یا انکار میں مبتلا ہو۔ یہی مضمون دوسرے مقام میں یوں بیان ہوا ہے۔ ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غدا ط وما تدری نفس بای ارض تموت ط ان اللہ علیم خبیرہ (لقمان :34) قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور رحموں کے اندر جو کچھ ہے اس کو جانتا ہے اور کسی جان کو بھی یہ پتہ نہیں کہ کل وہ کیا کمائی کرے گی اور کسی کو بھی یہ خبر نہیں کہ وہ کس سرزمین پر مرے گا علیم و خیبر صرف اللہ ہی ہے۔ قیامت کے دن مشرکین شرک سے تبرہ کریں گے ویوم مرینا دیھم این شرکآء قالوا ذنک مامنا من شھید یعنی اگر قیامت سے یہ بےپروائی ان لوگوں کو اپنے مزعمہ شرکاء کے بل پر ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس دن جب اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے گا کہ جن کو تم نے میرا شریک گمان کر رکھا تھا ان کو بالئو، وہ میری پکڑ سے تم کو چھڑائیں، تو یہ جواب دیں گے کہ ہم نے عرض کردیا کہ اب ہم میں سے کوئی بھی اس اعتراض کے لئے تایر نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی بھی تیرا شریک ہے۔ یہ مضمون سابق سورة … سورة مومن … میں بھی گزر چکا ہے۔ ثم قیل تھم این ماکنتم تشرکون، من دون اللہ ط قالوا ضلوامنا بل لم فکن ندعوا من قبل شیاً ء ط کذلک یضل اللہ الکفرین (المومن، 74-73) پھر ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے مقابل میں شریک گردانتے تھے۔ وہ جواب دیں گے کہ وہ تو سب ہم سے کھوئے گئے بلکہ ہم اس سے پہلے کوئی چیز پوجتے ہی نہیں تھے۔ اس طرح اللہ کافروں کو حواس باختہ کر دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے جن مزعومہ شریکون پر ان لوگوں کو ناز ہے ان کی عقیدت کا نشہ پہلی ہی پکار پر ہرن ہوجائے گا۔ بعض اہل تاویل نے اذنک مامنا من شھید کو ان کے مزعومہ شرکاء کا قول مانا ہے یعنی جب اللہ تعالیٰ مشرکوں سے یہ مطالبہ کرے گا کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم نے میرا شریک گمان کیا تو جن ملائکہ یا انبیاء یا صالحین کی انہوں نے پرستش کی ہوگی وہ سبقت کر کے اپنی صفائی پیش کردیں گے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس بات کا گواہ بننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ کوئی تیرا شریک ہے۔ یہ تاویل غالباً مندرجہ ذیل آیت کی روشنی میں اختیار کی گئی ہے۔ ویومھ یحشرھم وما یعبدون من دون اللہ فیقول ءانتم اضللتم عبادی ھولآء ام ھم ضلوا السبیل، قالوا سبحانک ما کان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیآء و لکن متعتھم وابآء ھم حتی نسوا الذکر وکانوا قوماً بوراً (الفرقان :18-17) اور جس دن اللہ ان کو اور جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے رہے ہیں، اکٹھا کرے گا پس ان سے پوچھے گا کہ کیا تم لوگوں نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا یہ خود گمراہ ہوئے ؟ وہ جواب دیں گے تو پاک ہے، ہمیں یہ حق حاصل نہیں تھا کہ ہم تیرے سوا کسی کو کار ساز بناتے۔ بلکہ ہوا یہ کہ تو نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو دنیا سے بہرہ مند کیا، یہاں تک کہ تیری یاد دہانی یہ فراموش کر بیٹھے اور ہلاک ہونے والے بنے۔ پہلی تاویل اختیار کرنے کی صورت میں لفظ اذنک اظہار برأت کے مفہوم میں ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ اب ہم نے کانوں پر ہاتھ رکھ کے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور تجھ سے امیدوار ہیں کہ تو ہم پر رحم فرمائے گا۔ دوسری تاویل لینے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے جواب میں تو وہ بات کہیں گے جو سورة فرقان کی محولہ بالا آیت میں مذکور ہے لیکن جب ان کی عبادت کے مدعیوں سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ مطالبہ ہوگا کہ تم اپنے مزعومہ شرکاء کو بلائو تو وہ یہ جان کر کہ وہ بلائے جا رہے ہیں اپنے اس قول کا حالہ دے دیں گے جو وہ پہلے کہہ چکے ہوں گے اور جو الفرقان کی آیت میں مذکور ہے۔
Ayah 41:48

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور جن کو وہ پہلے پکارتے رہے تھے وہ سب ہوا ہوجائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ اب ان کے لئے کوئی مفرباقی نہیں رہا

وضل عنھم ما کانوا یدعون میں قبل وظنوا مالھم من محیص (48) عابد اپنے اپنے معبودوں سے اظہار برأت کریں گے یا معبود اپنے عابدوں سے دونوں ہی صورتوں میں مشرکوں کی نامرادی یقینی ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے جن کے اعتماد پر آخرت کو نظر انداز رکھا وہ سب ہوا ہوجائیں گے اور ان کو یقین ہو جاء گا کہ اب خدا کے عذاب سے ان کے لئے کوئی مضر نہیں ہے۔ لفظ ظن پر اس کے محل میں ہم بحث کرچکے ہیں کہ ان مواقع میں یہ یقین کے مفہوم میں آتا ہے جہاں مقصود مستقبل کی کسی ایسی حقیقت کا بیان ہو جو اگرچہ نادیدہ ہو لیکن متکلم کے نزدیک وہ یقینی ہو۔ مثلاً انی طننت انی ملاق حسابیہ (الحآقۃ 20:) (مجھے یہ یقین رہا کہ مجھے بہرحال اپنے روز حساب سے دوچار ہونا ہے۔)