Ayah 45:244۔ آگے کا مضمون آیات 37-24
آگے منکرین قیامت کے اس احمقانہ مطالبہ پر تبصرہ ہے کہ جب ان کو قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ قیامت کا آنا برحق ہے تو ہمارے بزرگوں کو زندہ کر کے دکھا دو اس مطالبہ کی تردید کرتے ہوئے اس انجام کی تصویر کھینچی ہے جس سے قیامت کے منکرین کو لازماً دوچار ہونا پڑے گا ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح فرما دی کہ جس دن اس انجام سے سابقہ پیش آئے گا اس دن کوئی شریک و شفیع بھی خدا کی پکڑ سے بچانے والا نہیں ہوگا اس دن فوز عظیم صرف ان لوگوں کو حاصل ہوگی جو آخرت اور توحید پر ایمان رکھنے والے اور شرک و شفاعت پر اعتماد کرنے کے بجائے عمل صالح کی کمائی کرنے والے ہوں گے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
وقالوا ما ھی الاحیاتنا الدنیا نموت و نحیا وما یھلکنا الا الدھو وما لھم بذلک من علم ان ھم الا یظنون 24
منکرین قیامت کا معارضہ اور اس کا جواب
پیچھے آیات 22-21 میں قیامت کے اخلاقی، اور انفسی اور آفاقی دلائل کی طرف اشارہ گزر چکا ہے۔ اب یہ اس معارضہ کا حوالہ ہے جو ان واضح دلائل کے مقابل میں منکرین قیامت پیش کرتے تھے۔ فرمایا کہ جب ان کو قیامت کی یاد دہانی کی جاتی ہے تو بڑی رعونت کے ساتھ کہتے ہیں کہ زندگی تو بس اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہے۔ اس زندگی کے بعد نہ زندگی ہے نہ موت جو لوگ مرنے کے بعد پھر زندگی اور حساب کتاب کا ڈرا داستانے ہیں وہ محض ایک دھونس جماتے اور ایک دہم میں مبتلا ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں۔
’ نموت ونحیا ‘ یعنی ہمارا مرنا اور جینا بس اسی دنیا تک محدود ہے۔ مر جانے کے بعد سارا قصہ تمام ہوجاتا ہے۔
وما یھلکثا الا الدھر اور یہ بات بھی بالکل غلط ہے کہ خدا ہمیں موت دیتا ہے اور ہمیں اکٹھا کر رہا ہے پھر ایک دن وہ ہمارا حساب کتاب کرنے بیٹھے گا اور ہمیں جزا یا سزا دے گا۔ خدا کو ان باتوں سے کیا تعلق ! بس گردش روزگار ہے جو ہمیں فنا کرتی ہے۔ جس طرح ایک درخت اگتا ہے، اپنی پختگی کو پہنچتا ہے اور ایک دن سوکھ کر فنا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ہم بھی پیدا ہوتے ہیں، پھر گردش روزگار کے کسی تھپیڑے سے یا تو بچپن یا جوانی ہی میں فنا ہوجاتے ہیں یا بڑھاپے کو پہنچ کر مر جاتے ہیں۔
وما لھم بذا الک من علم ج ان ھم الایظنون یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ان خرافات پر تبصرہ ہے کہ یہ جو کچھ کہا جا رہا ہے اس کیبنیاد کسی علم پر نہیں ہے بلکہ محض اٹکل کے تیترکے چلائے جا رہے ہیں۔ ان کا جی قیامت کو ماننے کو نہیں چاہتا یہ چیز ان کی آزادی کو مقید اور ان کے عیش کو منفض کرتی ہے اس وجہ سے بالکل بےسوچے سمجھے یہ لا بالیانہ باتیں کرتے اور ایک ایسی حقیقت کا انکار کر رہے ہیں جس کی شہادت انسان کی فطرت کے اندر ہے جس کی گواہی اس کائنات کا پورا نظام دے رہا ہے جو اس جہان کے خالق کی قدرت، حکمت، رحمت، ربوبیت اور اس کے عدل کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر وہ ظہور میں نہ آئے تو یہ دنیا ایک بازیچہ اطفال اور ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے۔
اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عرب میں دہریوں کا بھی ایک گروہ تھا جو خدا اور قیامت وغیرہ کا قطعی منکر تھا میرے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اشخاص و افراد کی بات اور ہے لیکن بحیثییت گروہ کے اس دور میں کوئی گروہ ایسا موجود نہیں تھا جو خدا اور آخرت کا مریح الفاظ میں منکر یا نرا مادہ پرست ہو۔ اہل عرب منکر نہیں بلکہ مشرک تھے اور اس شرک کے ذریعہ سے انہوں نے خدا کو دنیا کے نظام میں ایک عضو معطل بنائے رکھ دیا تھا۔ آخرت اور حیات بعد المحات کے معاملہ میں بھی وہ قطعی انکار کے نتیجہ تک نہیں پہنچے تھے بلکہ تذبذب کے درجہ میں تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ مرنے کے بعد از سر نو اٹھنا اول تو بہت مت بعد بات ہے اور اگر اٹھنا ہی پڑا تو ہمارا معاملہ خدا سے نہیں بلکہ ہمارے دیوتائوں سے متعلق ہے۔ وہ ہمیں وہاں بھی اونچے سے اونچے درجے دلائیں گے اور اگر خدا نے کوئی گرفت کی تو وہ اپنے زور واثر سے ہمیں اس کی گرفت سے بچا لیں گے۔
ان کا یہ قول کہ ہمیں گردش روزگار ہلاک کرتی ہے انکار خدا کے معنی میں نہیں تھا بلکہ اس سے وہ قرآن کے اس فلسفہ تاریخ کی نفی کرنا چاہتے تھے جو قرآن نے نہایت تفصیل کے ساتھ قریش کو سنایا تھا کہ پچھلی قومیں اپنے عقائد و اعمال کے فساد اور رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں تباہ ہوئیں۔ اگر تم بھی انہی کی روش اختیار کرو گے تو انہی کے انجام سے دوچار ہو گے یہ انداز چونکہ بالکل مبنی برحقیقت تھا اس وجہ سے وہ لوگ اس سے متاثر ہوئے جن کے اندر کچھ عاقبت اندیشی تھی۔ ان کے اندر یہ ڈرپیدا ہوا کہ قرآن کی یہ بات صحیح ہے اور اگر ہم نے بھی عاد، ثمود، اہل مدین اور فرعون کی طرح اس دعوت حق کو جھٹلایا اور اپنے عقائد و احمال کی اصلاح نہ کی تو مبادا اسی طرح کے کسی عذاب کی زد میں آجائیں جس سے قرآن ڈرا رہا ہے اس طرح کے لوگوں کو اپنی روش پر مطمئن رکھنے کے لئے قریش کے لیڈروں نے یہ فلسفہ تراشا کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ پچھلی قومیں اپنے عقائد و اعمال کے فساد اور رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں خدا کے عذاب سے تباہ ہوئیں۔ خدا کو ان باتوں سے کیا تعلق ہم ہلاک ہوتے ہیں تو گردش روزگار سے ہلاک ہوتے ہیں۔ ایک شخص پیدا ہوتا ہے جوان ہوتا ہے، پھر بوڑھا ہو کر ایک دن مر جاتا ہے اور اس کے اس مرجانے کا کوئی تعلق بھی اس کے عقائد و اعمال سے نہیں بلکہ تمام تر گردش روزگار سے ہوتا ہے اسی طرح تو میں بھی وجود میں آتی ہیں، ترقی کوئی ہیں، تہذیب و تمدن کی بانی بنتی ہیں، فتح و تسخیر کے جال بچھاتی ہیں اور ایک دن اپنی طاقتیں اور صلاحیتیں نچوڑ کر گردش روزگار کی نذر ہوجاتی ہیں۔ اس دنیا کے اسٹیج پر یہ تماشا برابر ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا یہ گردش روزگار کے کرشمے ہیں جو لوگ اس چیز کو عقائد و اعمال سے باندھتے ہیں وہ بالکل وہمی اور لوگوں کو خواہ نخواہ ایک وہم میں مبتلا ہوجایا کرو کہ یہ چیز تمہارے اعمال یا عقائد کے فساد کے نتیجہ میں تم پر خدا نے نازل کی ہے۔ اس طرح کے سخت اور نرم دن ہمارے اگلوں پر بھی آئے حالانکہ تم جانتے ہو کہ وہ بڑے ہی پاکیزہ اعمال و عقائد والے لوگ تھے۔ قدمن ابآئنا السوآء و الصرآء کے تحت ان کے اس فلسفہ کی وضاحت ہوچکی ہے۔
یہ خیال نہ فرمایئے کہ یہ جاہلی فلسفہ اب نابود ہوچکا ہے۔ اس زمانے میں بھی ذہنوں پر یہی فاسد فلسفہ مسلط ہے اور ان لوگوں کے ذہنوں پر مسلط ہے جو قرآن کے حامل اور اسلام پر عامل ہونے کے مدعی ہیں۔ ان کو بھی اگر توجہ دلائیے کہ فلاں فلاں آفتیں جو آئیں یا آرہی ہیں یہ سب ہمارے ایمانی و اخلاقی فساد کا نتیجہ ہیں اگر یہ فساد باقی رہا تو ڈر ہے کہ کہیں یہ بیڑا ہی غرق نہ ہوجائے تو اس سے ان کا پندار ایمان و اسلام مجروح ہوتا ہے اور وہ بڑے دانش فروشانہ انداز میں جواب دیتے ہیں کہ اس طرح کی گردشیں تو قوموں پر آیا ہی کرتی ہیں ہمارے اگلوں پر بھی آچکی ہیں پھر یہ کیوں سمجھا جائے کہ یہ ہمارے کسی فساد کا نتیجہ ہیں !
وما لھم بذلک من علم ج ان ھم الا یظنون یعنی یہ بات یہ لوگ کہتے تو ہیں بڑے ادعاء و طنطنہ کے ساتھ لیکن اس باب میں ان کو کوئی علم نہیں ہے بلکہ محض ظن و گمان ہے جس پر اس فلسفہ کی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ عقل و فرت، آفاق وانفس اور انبیاء و حکما کی تعلیم تو رہی ہے جو قرآن پیش کر رہا ہے لیکن یہ لوگ علم کی جگہ اپنے گمان کی پیروی کرنا چاہتے ہیں اس لئے کہ ان کی ہر خاہش کے جواز کی سند علم نہیں بلکہ ان کا گمان ہی دے سکتا ہے یہ اسلوب کلام اظہار حسرت کا ہے کہ بڑے ہی بدقسمت ہیں یہ لوگ جنہوں نے ایسے عظیم معاملہ میں علم کی جگہ اپنے خیال و گمان کو اپنا رہنما بنایا ہے۔
Ayah 45:25واذا تتلی علیھم ایتنا بینت ما کان حجتھم الا ان قالوا ائنوا بابآئنا ان کنتم صدقین 25
قرآن کے دلائل کے مقابل میں کفار کی واحد ڈھال
یہ ان کے اس گمان کی وضاحت ہے جس کو انہوں نے قرآن کے واضح دلائل کے مقابل میں اپنا رہنما بنایا۔ فرمایا کہ جب قیامت کے باب میں ان کو ہماری نہایت واضح ایٓتیں سنائی جاتی ہیں تو واحد چیز جس کو وہ ان کی تردید میں اپنی حجت بناتے ہیں وہ پیغمبر ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے ان کا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ اگر تم لوگ اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو جو وفات پا چکے ہیں، زندہ کر کے لائو۔
حجتھم کان کی خبر ہے یہی مضمون سورة عنکبوت میں بھی ذرا مختلف الفاظ میں آیا ہے فما کان جواب قومہ الا آن قالوا ائتنا بعذاب اللہ ان کنت میں الصدقین 29 (ان کی قوم کا جواب صرف ان کا یہ قول ہوا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ کا عذاب ہم پر لا دکھائو حجت سے مراد ان کا جواب ہی ہے لیکن اپنے زعم میں وہ اس کو ایک قاطع حجت خیال کرتے تھے اس وجہ سے بطور طنز قرآن نے اس کو حجت سے تعبیر فرمایا مقصد یہ دکھانا ہے کہ اتنے بڑے مسئلہ میں اگر انہوں نے سہارا لیا تو ایک ایسے جواب کا سہارا لیا جس کو نہ اصل بحث سے کوئی دور یا قریب کا واسطہ ہے اور نہ عقل و منطق سے اس کا کوئی تعلق ہے بلکہ یہ محض ان کا ایک بےبنیاد یال ہے لیکن یہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ قرآن جس چیز سے ڈرا رہا ہے اس سے ان کی جان چھوٹ گئی۔
Ayah 45:26قل اللہ یعجیکم ثم یمتکم ثم یجمعکم الی یوم القیمۃ لاریب فیہ ولکن اکثر الناس لایعلمون 26
قرآن کا جواب
یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے اصل دعوے کی از سر نو یاد دہانی کرائی گئی اور ایسے اسلوب میں کرائی گئی ہے کہ دعوے کی دلیل خود بخود واضح ہوگئی ہے۔ فرمایا کہ تم سے یہ نہیں کہ اجا رہا ہے کہ آج جس کو کہو اس کو زندہ کر کے دکھا دیا جائے بلکہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ ہی تمہیں زندگی دیتا ہے، پھر وہی تم کو موت بھی دیتا ہے پھر وہ تم کو جمع کرے گا اور یہ جمع کرنا قیامت کے دن تک جاری رہے گا اور قیامت کے آنے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
یعنی جب زندگی اور موت خدا ہی کے اختیار میں ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو یہ سوال تو خارج از بحث ہوا کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کو زندہ کرسکتا ہے یا نہیں ؟ آخر جس نے زندہ کیا ہے وہ دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتا ؟ اور جب اپنے پیدا کئے ہوئے کو موت بھی اسی نے دی ہے کسی اور نے نہیں دی ہے تو وہ اگر اس کو دوبارہ پیدا کرنا چاہئے تو اس کے اس ارادے میں کس کی طاقت ہے کہ مزاحم ہو سکے ! مزاحمت تو جب ہو سکتی کہ زندگی پر کسی کا اختیار ہوتا اور موت پر کسی اور کا لیکن ناقابل تردید دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ اس قسم کی ثنویت سے یہ کارخانہ کائنات بالکل پاک ہے یہ اپنے وجود سے شاہد ہے کہ اس کے اوپر ایک ہی ارادہ کارفرما ہے۔
ثم یجمعکم الی یوم القیمۃ یہ زندگی اور موت کے لازمی تقاضے کا بیان ہے کہ اس کے بعد اگر حساب کتاب اور جزا و سزا کا کوئی دن نہ آئے تو یہ سارا کارخانہ بالکل عبث اور بےمقصد ہو کے رہ جاتا ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک دن سب کو جمع کرے اور یہ جمع کرنا اس قیامت کے دن تک جاری رہے گا جس کا آنا اس زندگی اور موت کے بامقصد ہونے کے لئے ناگزیر اور جس کے آنے میں کسی پہلو سے کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔
یجمعکم کے بعد الی کا صلہ اتصال اور تسلسل کو ظاہر کر رہا ہے یعنی یہ جمع کرنا قیامت تک جاری رہے گا جس سے یہ بات بھی نکلی کہ مرنے والوں میں سے قیامت سے پہلے نہ کوئی اٹھے گا اور نہ کسی کے اٹھائے جانے کا قرآن یا پیغمبر کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے اس وجہ سے جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے باپ دادا کو زندہ کر کے دکھا دیا جائے ان کا مطالبہ بےمعنی ہے۔
ولکن اکثر الناس لایعلمون یہ منکرین قیامت کے حال پر اظہار حیرت ہے کہ جس چیز سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے اس میں کسی شک کی گنجائش تو نہیں ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے یعنی اس بات کو نہیں جانتے کہ اس واضح حقیقت کا انکار کر کے اپنے لئے کس ہولناک انجام کا دروازہ کھول رہے ہیں۔
Ayah 45:27وللہ ملک السموت والارض ط ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یخسرا المبطلون 27
یعنی اگر ان لوگوں کا بھروسہ اپنے مزعومہ شرکاء پر ہے کہ قیامت ہوئی تو وہ ان کو بچالیں گے تو یہ محض ایک خیال خام ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے صرف اللہ تعالیٰ کی ہے کسی کی بھی مجال نہیں ہے کہ اس کے فصلوں پر اثر انداز ہو سکے۔ وہ دن جب آئے گا تو جو لوگ اس قسم کی جھوٹی آرزئوں میں مبتلا رہے ہیں وہ سب خسارے میں پڑیں گے۔
Ayah 45:28وتری کل امۃ جاثیۃ کل امۃ تدعی الی کتبھا الیوم تجزون ما کنتم تعملون 28
تصویر قیامت
اس دن لوگوں کو جس صورتحال سے سابقہ پیش آئے گا یہ اس کی تصویر ہے، فرمایا کہ اس دن ہر گروہ اپنا فیصلہ سننے کے لئے روز انو بیٹھا ہوا ہوگا، ہر گوہ اپنے اپنے دفتر اعمال کی طرف پکارا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں بدلے میں وہی ملے گا جو تم دنیا میں کر کے آئے ہو۔
تریٰ اگرچہ واحد کا صیغہ ہے لیکن الم تر کی طرح اس کا خطاب بھی عام ہوسکتا ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہاں عام ہی ہے۔
کل امۃ یعنی مومن اور کافر ابرار اور فجار اس دن سب اکٹھے ہوں گے، کوئی بھی اس حاضری سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔
جاثیۃ جثایعبشوا، سے ہے۔ جثا الوجل کی تشریح اہل لغت نے یوں کی ہے کہ جلس علی رکبتیہ آدمی اپنے دونوں زانوئوں پر بیٹھا غلام، محکوم اور مجرم اپنے آقائوں اور حاکموں کے حضور میں اپنا فیصلہ سننے کے لئے اسی طرح دوزانو بیٹھتے تھے۔
کتاب یہاں دفتر اعمال کے مفہوم میں ہے۔ اس لئے کہ اس کتاب، میں گرد ہوں اور امتوں کے تمام اعمال کا ریکارڈ ہوگا جس کی موزوں تعبیر دفتر ہی سے ہو سکتی ہے۔ سورة تطنیف کی تفسیر میں انشاء اللہ اس کی وضاحت آئے گی۔ وہاں ان دفتروں کے نام بھی مذکور ہیں۔
الیوم تجزون ماکنتم تعملون الیوم سے پہلے قیل لھم (ان سے کہا جائے گا) بونبائے قرینہ محذوف ہے یعنی ہر گروہ کو ان کے اعمال سے متعلق دفتر کی طرف پکارا جائے اور ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم دنیا میں کر کے آئے ہو آج تم کو وہ بدلہ میں ملے گا۔
مطلب یہ ہوا کہ جس نے کیا کرا یا کچھ نہیں، صرف شرک و شفاعت کے بھروسہ پر وہ لذیذ خواب دیکھتا رہا ہے اس کے لئے یہاں محرومی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
Ayah 45:29ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق انا کنا تستنسخ ماکنتم تعملون 29
یہ بھی اوپر والی بات ہی کا حصہ ہے۔ یعنی ان کو آگاہ کردیا جائے گا کہ اس دفتر سے کسی ناانصافی یا کسی سہو و نسیان کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ یہ بالکل ٹھیک ٹھیک بتائے گا کہ کس نے کیا کیا ہے اس لئے کہ ہر ایک کا سارا ریکارڈ بشکل تحریر موجود ہے۔ تم جو کچھ کرتے رہے ہو ہم اس کو برابر فرشتوں سے لکھواتے رہے ہیں۔
Ayah 45:30فاما الذین امنوا و عملوا الصلحت فیدخلھم ربھم فی رحمتہ ذلک ھو الفوز المبین 30
ہر گروہ کو اس کے ریکارڈ سے آگاہ کرد ینے کے بعد اب ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ انجام بیان ہو رہا ہے۔ پہلے اہل ایمان کا انجام بیان ہوا۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے ایمان اور عمل صالح کی زندگی گزاری ہوگی ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ لفظ رحمت یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ان لوگوں کو صرف ان کے اعمال ہی کا بدلہ نہیں ملے گا بلکہ اس کے ساتھ ان کے رب کا بےپایاں فضل بھی ہوگا۔ اس کے بعد بطور تحسین فرمایا کہ کھلی ہوئی کامیابی یہ ہے جو یہ لوگ حاصل کریں گے نہ کہ اس دنیا کا وہ چند روزہ عیش جس کے عشق میں پھنس کر نادانوں نے یہ ابدی بادشاہی گنوا دی !
Ayah 45:31واما الذین کفروا افلم تکن ایتی تتلی علیکم فاسکتبرتم وکنم قوما مجرمین 31
یہ کفار کے انجام کا بیان ہے اور ان کا انجام اہل ایمان کے مقابل میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس سورة میں اصلی بحث کفار ہی سے ہے اور خاص طور پر ان کے متکبرین کے طبقہ سے فرمایا کہ رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو ان سے کہا جائے گا کیوں کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ اس دن سے آگاہ کرنے کے لئے جب تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائیجاتی تھیں تو تم نے تکبر کیا اور ہماری تنبیہ و تذکیر کے باوجود تم بدستور اپنے جرم پر مصر رہے ! اس تکبر اور اصرار کی تفصیل اسی سورة کی آیات 9-8 اور 25-24 میں گزر چکی ہے اس مرحلہ میں ان لوگوں سے یہ سوال ظاہر ہے کہ جواب حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا جائے گا بلکہ مقصود صرف ان کو ملامت کرنا ہوگا تاکہ ان کی رسوائی میں مزید اضافہ ہو۔
Ayah 45:32واذا قیل ان وعد اللہ حق والساعۃ لاریب فیھا قلتم ماندری ما الساعۃ ان نظن الاظنا وما نعن بمستیقنین 32
منکرین کا احمقانہ مطالبہ
یہ ان کے استکبار کی وضاحت ہے کہ تمہارا حال یہ ہو رہا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کا وعدہ جزا و سزا شدنی اور قیامت کے واقع ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے تو تم بڑی رعونت سے یہ جواب دیتے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کس چیز کا نام ہے، بس ایک گمان ہے جو ہم رکھتے ہیں اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں۔
اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ جہاں تک گمان کا تعلق ہے یہ منکرین بھی اپنے دل میں رکھت تھے لیکن ان کا مطالبہ یہ تھا کہ جب ان کو اس کا پورا یقین ہوجائے گا تب وہ مانیں گے، اس یقین کے لئے ان کا ماطلبہ یہ تھا کہ ائتوا بابآئنا ان کنتم صدقین، (اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے دکھا دو) ظاہر ہے کہ یہ ایک بالکل ہی احمقانہ مطالبہ تھا۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ انسان صرف اسی چیز کو مانے جو اس نے آنکھوں سے دیکھی ہو۔ اس کے علاوہ کسی بات پر یقین نہ کرے خواہ اس کے حق میں کتنے ہی واضح عقلی و اخلاقی دلائل موجود ہوں۔ اگر انسان اس حد تک مفاہمت پر اتر آئے تو پھر عقل ایک بالکل فالتو چیز بن کے رہ جاتی ہے بلکہ آدمی اور بیل میں پھر شکل و صورت کے سوا کوئی فرق ہی نہیں رہ جاتا۔ اس کے منی تو یہ ہوئے کہ انسان اپنے اندر عقل کے وجود کو بھی تسلیم نہ کرے اس لئے کہ عقل کو بھی نہ اس نے دیکھا ہے نہ چھوا ہے انسان کے اپس علوم کا جو سرمایہ ہے اس کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس کا بہت بڑا حصہ عقلی اور اخلاقی اصولوں ہی پر مبنی ہے۔ اگر محسوس پرستی کا وہ نظریہ مان لیا جائے جو ان متکبرین کے سامنے تھا تو دوسرے الفاظ میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ سارے علوم و فن کردیئے جائیں جو انسان نے اب تک پیدا کئے ہیں۔
دانش مندی کا راستہ
غور کیجیے تو یہ حقیقت بھی آپ پر واضح ہوگی کہ اس طرح کے اہم اور دور رس نتائج رکھنے والے امور میں ظن غالب کی رہنمائی کافی ہے۔ ایک عظیم بند جس میں شگاف پڑنے سے پورا شہر خطرہ میں پڑ سکتا ہو ہماری توجہ کا طالب اسی وقت نہیں ہوگا جب اس میں شگاف پڑجائے بلکہ عاقل لوگ اس طرح کے معاملات میں بہت پہلے سے چوکنے رہتے ہیں۔ آخرت کا معاملہ ایک نہایت اہم بلکہ اس پوری کائنات کا سب سے اہم معاملہ ہے۔ اس کے حق میں جو دلائل قرآن اور دوسرے صحیفوں میں بیان ہوئے ہیں وہ ناقابل تردید ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کوئی شخص کچھ کہہ سکتا ہے تو یہ کہہ سکتا ہے کہ اس پر اس کو اس طرح کا یقین نہیں ہے جس طرح کا یقین آنکھوں دیکھی چیز پر ہوتا ہے۔ اگر اس طرح کا یقین نہیں ہے تو نہ ہو، یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ پوری قطعیت کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ آخرت نہیں ہے، ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ ایسی صورت میں دانشمندی کا تقاضایہ ہے کہ آدمی موازنہ کرے کہ دونوں راہوں میں سے سلامتی کی راہ کون سی ہے۔ یہ کہ آدمی فکر آخرت کو بالائے طاق رکھ کر اپنی خواہشوں کی پیروی میں زندگی گزارے اور اس بحث میں نہ پڑے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا یا یہ کہ آخرت کو مان کر، جزا اور سزا کو پیش نظر رکھتے ہوئے، زندگی گزارے اگرچہ اس کے لئے اس کو اپنی بعض خواہشوں کی قربانی بھی دینی پڑے۔ غور کیجیے تو دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی یہ دوسری راہ اختیار کرے اس لئے کہ پہلی صورت اختیار کرنے میں ایک ابدی اور دائمی خطرہ مضمر ہے اور فائدہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ آپ اپنے زعم کے مطابق اپنی خواہشوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے آزاد ہوں گے اگرچہ ان کا پورا ہونا آپ کے ارازہ پر منحصر نہیں ہے
برعکس اس کے اس دوسری راہ میں خطرہ کوئی نہیں ہے۔ اگر آخرت ہوئی تب تو ابدی بادشاہی حاصل ہوگی اور اگر منکرین کے خیال کے مطابق نہ ہوئی تو نقصان کیا ہوگا ؟ زیادہ سے زیادہ یہی تو کہ اس فانی زندگی میں چند فانی خواہشوں کی قربانی دینی پڑی اور ان کا پورا ہونا بھی اپنے اختیار میں نہیں بلکہ کسی اور ہی کے اختیار میں تھا۔
Ayah 45:33وبدالھم سیات ماعملوا وحاق بھم ما کانوابہ یستھزء ون 33
بدعملوں کی بدعملیوں کے اصل نتائج آخرت میں ظاہر ہوں گے
انسان جو عقلی و اخلاقی جرائم اس دنیا میں کرتا ہے ان کے برے نتائج اس کے سامنے فوراً نہیں آتے اس وجہ سے ان کے معاملہ میں وہ دلیر ہوتا جاتا ہے اور ناصحوں کی نصیحت قبول کرن اتو درکنا وہ ان کو بیوقوف سمجھتا اور ان کی باتوں کا مذاقاڑاتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اعمال کے حقیقی نتائج سے پردہ اٹھا دے گا اس دن اندھے سے اندھے کو بھی نظر آجائے گا کہ اس نے دنیا میں ج بس بھری فصلی بوئی اور جس کے انجام سے اس کے رسولوں اور اس کے نیک بندوں نے اس کو ڈرایا لیکن اس نے ان کی کوئی پروا نہ کی، اس کا حاصل کس ہولناک شکل میں اس کے سامنے آیا۔ اس دن وہ عذاب جس کا وہ بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ مذاق اڑاتا رہا اس کو اس طرح گھیرے گا کہ اس کے سامنے کوئی راہ فرار باقی نہیں رہے گی۔
Ayah 45:34وقیل الیوم فنسکم کما نسیتم لقآء یومکم ھذا وما ولکم النار ومالکم مننصرین 34
نسی، یہاں نظر انداز کرنے کے مفہوم میں ہے یعنی ان کو پہلے ہی مرحلہ میں آگاہ کردیا جائے گا کہ جس طرح تم نے دنیا میں اللہ کے رسولوں اور اس کے نیک بندوں کے نظر انداز کئے رکھا اور اس ہولناک دن کی پیشی سے انہوں نے تم کو آگاہ کیا تو تم نے سنی ان سنی کردی اسی طرح آج ہم تک و نظر انداز کریں گے۔ تم کتنا ہی چیخو اور چلائو لیکن ہمارے ہاں تمہاری کوئی شنوائی نہیں ہونی ہے اور یہ بھی یاد رکھو کہ کہ اگر تم کو اپنی جمعیت پر ناز تھا تو وہ بھی آج تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتی اور اگر اپنے شرکاء و شفعاء پر بھروسہ تھا تو وہ بھی تمہارے کچھ کام آنے والے نہیں بنیں گے۔
Ayah 45:35ذلکم بانکم اتخذتم ایت اللہ ھزوا وغرتکم الحیوۃ الدنیاج فالیوم ولایخرجون منھا ولا ھم یستعتبون 35
یعنی تم اس رویہ کے سزا وار اس وجہ سے ٹھہرے کہ جب تم کو اس دن سے آگاہ کرنے کے لئے اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم ان کا مذاق اڑاتے اور اس طرح وہاں سے چل دیتے گویا تم نے کوئی بات سنی ہی نہیں۔ آیات 9-8 میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔
وغرتکم الحیوۃ الدنیا، یعنی تم کو دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جو رفاہیت و خوش حالی بخشی اس سے تم نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ تم اسی کے سزا وار و حقدار ہو اور تمہاری یہ خوش حالی اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہارے عقیدہ یا عمل میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ اس غرور میں مبتلا ہو کہ تم نے ان لوگوں کا مذاق اڑایا، جنہوں نے تمہارے عقائد و اعمال کے فساد کی طرف تم کو توجہ دلانے کی کوشش کی اور ان کو یہ طعنہ دیا کہ بتائو ہمارے حالات اچھے ہیں یا تمہایر ؟ جب ہمارے حالات تم سے بدر جہا بہتر ہیں تو ہم یہ کیوں نہ سمجھیں کہ ہمارے ہی عقائد و اعمال بھی اچھے ہیں اور خرابی ہمارے اندر نہیں بلکہ تمہارے ہی دماغوں کے اندر ہے۔
فالیوم لایخرجون منھا ولا ھم یستعتبون فرمایا کہ ان کے اس غرور کی پاداش میں نہ تو ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب ہوگا اور نہ ان کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنے رب سے معافی مانگ کر اس کو راضی کرسکیں تو راضی کرلیں۔ بلکہ ان کے لئے امید کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس ٹکڑے میں اسلوب کی اچانک تبدیلی قابل توجہ ہے اوپر کے ٹکڑے میں اسلوب خطاب کا تھا اس میں دفعتہ غائب کا اسلوب آگیا گویا نظر انداز کئے جانے کی جو دھمکی ان کو دی گئی تھی اس کا عمل شروع ہوگیا یہاں تک کہ وہ اس قابل بھی نہیں رہے کہ ان کو خطاب کر کے کوئی بات کہی جائے۔ یہاں محلوظ رہے کہ غائب کا اسلوب نظر انداز کئے جانے کے مواقع میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی متعدد مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔
Ayahs 45:36–37فللہ الحمد رب السموت و رب الارض رب العلمین، ولہ الکبریآء فی السموت والارض ط وھو العزیز الحکیم 37-36)
یہ آخر میں ساری بحث کا خلاصہ سامنے رکھ دیا کہ جب یہ سارے حقائق تو بالکل واضح ہیں تو بندروں کے شکر کا سزاوار وہی اللہ ہے جو آسمانوں کا خداوند، جو زمین کا خداوند اور جو عالم والوں کا خاوند ہے مطلب یہ ہے کہ پھر اس کے سوا تم نے دوسرے ارباب کہاں سے نکال لئے آسمانوں اور زمین کے الگ الگ الہ کس طرح ٹھہرا لئے ؟ اور خدا کی مخلوق اور اس کے مربوب ہو کر تم نے اتنے دیوی دیوتا کس لئے ایجاد کر لئے ؟
”ولہ الکبریاء …الایۃ یہ اوپر والی بات کا دوسرا لازمی نتیجہ بیان ہوا کہ جب اس ساری کائنات کا خداوند وہی ہے تو اصل مالک اور بادشاہ کے ہوتے آسمانوں یا زمین میں کسی دوسرے کی کبریائی اور بڑائی کے لئے گنجائش کہاں سے نکلی ؟ پھر تو ساری کبریائی کا حق دار وہی ہوا، سب کو اسی کے آگے سرفگندہ ہونا اور اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے۔ اگر کوئی اس کی مملکت کے اندر اس کے مقابل میں سر اٹھاتا ہے تو وہ اس کی کبریائی کو چیلنج کرتا ہے اور جو اس کی کبریائی کو چیلنج کرے گا وہ لازماً کیفر کردار کو پہنچے گا۔
عزیز، یعنی غالب و مقتدر ہے۔ اس وجہ سے کوئی اس کی گرفت نہیں بچ سکتا لیکن ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے اگر اس نے لوگوں کو سرکشی کے لئے مہلت دے رکھی ہے تو اس سے کسی کو یہ غلطی فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ وہ خدا کی گرفت سے باہر ہوگیا بلکہ اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور یہ حکمت ایک دن سب کے سامنے ظاہر ہو کے رہے گی۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر اللہ تعالیٰ کی توفیق و رہنمائی سے تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علیٰ احسانہ