48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جن کو تم پائو گے۔ پس یہ اس نے تم کو فوری طور پر دے دی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے کہ یہ موجب طمانیت اور مسلمانوں کے لئے نشانی ہو اور تمہیں سیدھی راہ کی ہدایت بخشے

وعد کم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا فعجل لکم ھذہ وکف ایدی الناس عنکم ولتکون ایۃ للمومنین ویھدیکم صراط مستقیماً 20 اوپر والی بات نبی ﷺ کو خطاب کر کے فرمائی گئی تھی، یہ بات مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمائی گئی کہ اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کو تم مستقبل قریب میں حاصل کرو گے۔ ان وعدوں کی تصدیق کے لئے اللہ نے تمہیں یہ نقد نقد غنیمت بخش دی تاکہ تمہارے لئے یہ حوصلہ افزائی کا ذریعہ اور اسلام کے غلبہ کی ایک نشانی ہو۔ فعجل لکم ھذہ سے مفسرین نے خیبر کی غنیمت مراد لی ہے۔ یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے اس لئے کہ خیبر کی فتح کا واقعہ حدیبیہ سے واپسی کے معاً بعد ہوا ہے۔ وکف ایدی الناس عنکم الناس سیم راد قریش ہیں۔ معاہدہ حدیبیہ میں دونوں فریق، مسلمان اور قریش یہ پابندی قبول کرچکے تھے کہ دس سال تک ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ اقدام نہیں کریں گے۔ اس سے مسلمانوں کہ فائدہ پہنچا کہ انہیں خیبر کے یہودیوں کے خلاف اقدام کے لئے ایک اچھا موقع مل گیا اور رومیہ خیال کر کے اب ان کو قریش کی پشت پناہی نہیں حاصل ہو سکے گی بڑی جلدی حوصلہ ہار بیٹھے۔ اس طرح معاہدہ حدیبیہ نے مسلمانوں کے لئے ایک قریبی فتح کی راہ کھول دی اور یہ ثابت ہوگئی کہ یہ معاہدہ مسلمانوں کی شکست نہیں بلکہ درحقیقت ایک فتح عظیم اور آئندہ کی فوتحات کا دیباچہ ہے۔ ولتکون ایۃ للمومنین یہاں معطوف عل یہ عربی کے معروف قاعدے کے مطابق محذوف ہے۔ یعنی اللہ نے خیبر کی یہ نقد نقد غنیمت مسلمانوں کو اس لئے عطا فرمائی کہ یہ ان کے لئے معاہدہ حدیبیہ کے فتح مبین ہونے کی بھی ایک دلیل ہو اور مستقبل میں اسلام کے غلبہ و تمکن کی بھی ایک نشانی کا کام دے۔ فتح مکہ کی بشارت ویھدیکم صراط مستقیماً یہ ٹکڑا آیت 2 کے تحت بھی گزر چکا ہے وہاں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اب وہ وقت قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تکمیل دین کی نعمت سے سرفراز فرمائے گا اور اپنے بندوں کے لئے ہدایت کی وہ صراط مستقیم پھر کھول دے گا جو اعدائے حق نے بند کررکھی تھی۔ اس صراط مستقیم کے لئے اصلی نشان راہ کی حیثیت چونکہ خانہ کعبہ کو حاصل تھی اس وجہ سے اس میں یہ کفار کے تسط سے اس کے آزاد ہونے کی بشارت بھی مضمر ہے۔
Ayah 48:21

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور ایک دوسری فتح بھی ہے جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوے لیکن اللہ نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وآخری لم تقدروا علیھا قد احاط اللہ بھا ط وکان اللہ علی کل شیء قدیراً 21 یہ فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے۔ فرمایا کہ ایک دوسری اور بھی بہت بڑی کامیابی ہے جس کا اللہ نے تم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ یہ کامیابی اگرچہ تم ابھی حاصل نہیں کرسکے ہو لیکن اس کے حصول میں بھی اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ اللہ نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے اور جس کا اللہ نے احاطہ کر رکھا ہو وہ چیز قابو سے باہر نہیں نکل سکتی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ بہت جلد یہ کرشمہ بھی اپنی نصرت کا دکھا دے گا۔
Ayah 48:22

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تم سے جنگ کرتے تو پیٹھ دکھاتے، پھر نہ کوئی کار ساز پاتے نہ مددگار۔

-7 آگے آیات 26-22 کا مضمون آگے مسلمانوں کو اس بات کی اطمینان دہانی فرمائی گئی ہے کہ اگر قریش اس موقع پر جنگ کرتے تو وہ خود ہی منہ کی کھاتے لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ ابھی اس جنگ کی نوبت نہ آئے تاکہ ان مسلمانوں کو کوئی گزند نہ پہنچ جائے جو مکہ میں گرفتار بلا ہیں۔ اسی ضمن میں مسلمانوں کی وہ اخلاقی برتری نمایاں فرمائی ہے جو ان کو اس نازک موقع پر کفار کے مقابل میں حاصل ہوئی اور جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اب قریش کی حمیت جاہلیت کی عمر بہت تھوڑی رہ گئی ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -8 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ولوقتلکم الذین کفروا لولوا الادبارثم لایجدون ولیا ولا نصیراً 22 مڈ بھیڑ ہوتی تو قریش کی شکست یقین تھی ولوقتلکم الذین کفروا لولوا الادبارثم لایجدون ولیا ولا نصیراً-22 یہ مسلمانوں کو تسلی اور قریش کو تنبیہ ہے کہ خدا نے حدیبیہ کے موقع پر تمہیں جنگ کی جو اجازت نہیں دی تو اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ جنگ میں تمہارے شکست کا کوئی اندیشہ تھا۔ اگر جنگ ہوتی تو تم نہیں بلکہ تمہارے یہ حریف ہی پیٹھ دکھاتے اور اس طرح پٹتے کہ کوئی کارساز و مددگار ان کو سہارا دینے والا نہ ملتا۔ اس وجہ سے ان کے لئے مغرور ہونے اور اس معاہدے کو تمہاری کمزوری پر محمول کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے بلکہ انہیں خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس نے ان کو حالات پر غور کرنے کی کچھ مہلت دے دی۔
Ayah 48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور اللہ کی سنت میں تم کوئی تبدیلی نہیں پا سکو گے۔

رسولوں کے مکذبین کے باب میں سنت الٰہی سنۃ اللہ التی قدخلت من قبل ولن تجدلسنۃ اللہ تبدیلاً 23 یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ٹھہرا رکھی ہے کہ جب ان کا پیمانہ بھر جاتا ہے تو ان پر ایسی مار پڑتی ہے کہ پھر کہیں بھی وہ پناہ نہیں پاتے اور یہ سنت ایسی حتمی اور اٹل ہے کہ کبھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ تمام رسولوں کی تاریخ اس پر شاہد ہے۔
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے روک دیے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے وادی مکہ میں بع اس کے کہ تم کو ان پر غلبہ دے دیا تھا اور اللہ دیکھ رہا تھا جو کچھ تم کر رہے تھے۔

وھو الذی کف ایدیھم عنکم و ایدیکم عنھم ببطن مکۃ من عبد ان اظفرکم علیھم وکان اللہ بما تعملون بصیراً 24 حدیبیہ کے موقع پر جو کچھ ہوا تدبیر الٰہی سے ہوا بطن مکۃ سے اشارہ حدیبیہ کی طرف ہے۔ یہ بالکل مکہ کے دامن میں ہے اس وجہ سے اس کو بطن مکہ سے تعبیر فرمایا۔ یعنی اس موقع پر جنگ کی نوبت جو نہیں آئی تو یہ تدبیر الٰہی کا کرشمہ ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ان کے اوپر غلبہ ید دیا تھا، جنگ ہوت تو ان کو منہ کی کھانی پڑتی، لیکن حکمت الٰہی کا تقاضا یہی ہوا کہ ابھی یہ جنگ نہ ہو اس وجہ سے اس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔ وکان ال لہ بماتعملون بصیراً یعنی اللہ تعالیٰ سارے حالات کو خود جائزہ لے رہا تھا اس وجہ سے یہ جو کچھ ہوا اس کی حکمت کے مطابق ہوا اور اسی میں تمہاری بہتری ہے۔ مسلمانوں کے حوصلہ نے قریش کے اعصاب ڈھیلے کر دیئے من بعد ان اظفر کم علیھم یعنی اخلاقی پہلو سے بھی تمہاری برتری ان کے مقابل میں نمایاں تھی اور عزم و حوصلہ کے اعتبار سے بھی تم ان پر حاوی رہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ جب قریش کو مسلمانوں کے اس جوش و جذبہ کی اطلاع ہوئی جس کا اظہار انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے کیا تو ان کے اعصاب ڈھیلے پڑگئے۔ چناچہ انہوں نے فورا وفد بھیج کر صلح کی بات چیت شروع کردی۔ اس وفد نے اپنی آن رکھنے کی کوشش تو ضرور کی لیکن یہ بات بالکل واضح تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں سے لڑنے کا دم خم نہیں رکھنے تھے چناچہ انہوں نے از خود معاہدے میں یہ بات تسلیم کرلی کہ اگلے سال جب مسلمان عمرہ کے لئے آئیں گے تو وہ تین دن کے لئے مکہ خالی کردیں گے تاکہ کسی تصادم کا کوئی اندیشہ نہ رہے۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

وہی ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روکے رکھا کہ وہ اپنی جگہ پر نہ پہنچنے پائیں اور اگر ایسے مومن مرد اور مومنہ عورتیں نہ ہوتے جن کو تم لاعلمی میں روند ڈالتے پس ان کے باعث تم پر لاعلمی میں الزام آتا صتو ہم جنگ کی اجازت دے دیتے لیکن اللہ نے یہ اجازت اس لئے نہ دی) کہ جن کو وہ چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے اور اگر وہ لوگ الگ ہوگئے ہوتے تو ہم ان لوگوں کو ان میں سے درد ناک عذاب دیتے جنہوں نے کفر کیا۔

ھم الذین کفروا و صدوکم عن المسجد الحرام والھدی معکوفاً انیبلغ محلہ ولولا رجال مومنون ونسآء مومنت لم تعلموھم ان تطوھم فتصیبکم منھم معرۃ بغیر علم، لیدخل اللہ فی رحمتہ من یشآء لوتکریلوا لعذبنا الذین کفروا منھم عذاباً الیماً 25 جنگ کی نوبت آنے دینے کی حکمت یہ حکمت بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اس وقع پر اللہ تعالیٰ نے جنگ نہیں ہونے دی فرمایا کہ اگرچہ قریش کی زیادتیاں بالکل کھلی ہوئی تھیں، انہوں نے دعوت حق کا انکار کیا، اہل ایمان کو مسجد حرام کی حاضری سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو ان کے ربان ہونے کی جگہ پہنچنے کی اجازت نہ دی لیکن ان تمام گستاخیوں اور تعدیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ ابھی مسلمان ان کے خلاف تلوار نہ اٹھائیں۔ اس کے سب سے بڑی مصلحت یہ تھی کہ مکہ میں ایسے بہت سے اہل ایمان تھے، مرد بھی اور عورتیں بھی، جن سے مسلمان واقف نہیں تھے، اندیشہ تھا کہ اگر وہ جملہ کرتے تو کفار کے ساتھ یہ مظولم اہل ایمان بھی نادانستہ ان کی زد میں آجاتے جس سے ان کے اوپر اپنے بھائیوں کے خون کا الزام آتا۔ دوسری مصلحت یہ تھی کہ ان اہل مکہ میں ایسے لوگ بھی بہت سے تھے جو اگرچہ ابھی ایمان نہیں لائے ہیں لیکن وہ ایمان کے قریب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کو بھی اپنے دامن رحمت میں لے لے۔ لو تزیلوا لعذبنا الذین کفروا منھم عذاباً الیماً فرمایا ہے اگر یہ اہل ایمان ان سے الگ ہوچکے ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی کفار قریش کو اپنے درد ناک عذاب کا مزا چکھا دیتا۔ اس درد ناک عذاب سے مسلمانوں کا حملہ بھی مراد ہوسکتا ہے اور اس طرح کا کوئی عذاب بھی جس طرح کا عذاب پچھلی قوموں پر آیا۔ ان کے حالات میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ جب انہوں نے رسول کی تکذیب کردی تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان کے اندر سے الگ کرلیا اور باقی پوری قوم کو تباہ کردیا۔ ایک شبہ کا ازالہ اس آیت سے یہ بات واضح طور پر نکلتی ہے کہ اگر مسلمانوں کو کسی ایسی قوم سے جنگ کرنی پڑجائے جس کے اندر مسلمان بھی ہوں تو انہیں حتی الامکان یہ کوشش کرنی ہوگی کہ مسلمانوں کو کوئی گز ند نہ پہنچنے پائے۔ البتہ اگر دشمن اس سے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے، مثلاً وہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑنے کے لئے محاذ پر لاکھڑا کرے یا اپنے کو بچانے کے لئے ان کو چر کے طور پر استعمال کرے یا مسلمان خود ہی وطنی عصبیت یا کسی دنیوی مصلحت سے مسلمانوں سے لڑنے کے لئے آکھڑے ہوں تو ان حالات میں اسلام اور ملت کے مجموعی مفاد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا اگرچہ اس سے مسلمانوں کے کسی گروہ کو نقصان بھی پہنچ جائے۔ قریش کی ایک سنگین گستاخی کی طرف اشارہ آیت میں ھدی کے ساتھ معکوفاً صورت حال کی نزاکت کے اظہار کے لئے ہے کہ باوجود یکہ قریش کی یہ حرکت نہایت گستاخانہ تھی کہ بادشاہ کائنات کے حضور میں پیش کرنے کے لئے جو ہدیے لائے گئے ان کو انہوں نے روک دیا اور وہ قربان گاہ تک نہ پہنچنے پائے تاہم اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ ابھی ان کو اس گستاخی کی سزا نہ دی جائے تاکہ جو مسلمان ان کیا ندر محصور ہیں ان کو کوئی نقصان نہ پہنچنے پائے۔ آیت میں لو کا جواب محذوف ہے اور یہ حذف متکلم کے شدت غضب پر دلیل ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ آگے کے ٹکڑے لوتزیلوا الایۃ نے اس حذف کو کھول دیا ہے۔ لم تعلموھم ان تطوھم میں ان تطو ضمیر ھم سے بدل پڑا ہوا ہے یعنی اندیشہ تھا کہ تم ان کو پامال کردینے سے بیخبر رہ جاتے اور اس طرح بیخبر انہ تمہارے اپنے ہی بھائیوں کا خون خود تمہارے ہی ہاتھوں بہہ جاتا۔
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

اس وقت کا خیال کرو جب کفر کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی جاہلیت کی حمیت۔ تو اللہ نے اپنی طماینت نازل فرمائی اپنے رسول اور ایمان والوں پر اور ان کو پابند رکھا تقویٰ کی بات کا اور یہ اس کے حقدار اور سزا وار تھے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ فانزل اللہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المومنین والزمھم کلمۃ التقویٰ وکانوا احق بھا واھلھا وکان اللہ بکلک شیء علیماً 26 نہایت نازک حالات میں مسلمنوں نے اخلاقی برتری کا ثبوت دیا یہ مسلمانوں کی اخلاقی برتری واضح فرمائی ہے کہ ہرچند قریش نے قدم قدم پر حمیت جاہلیت کا مظاہرہ کیا جس سے مسلمان مشتعل ہو سکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو بھی اور مسلمانوں کو بھی یہ توفیق بخشی کہ وہ ان نازک حالات سے نہایت صبر و سکون اور حلم و تدبر کے ساتھ عہدہ برآ ہوئے، حریف کی اوچھی حرکتوں سے متاثر ہو کر کوئی ایسا قدم انہوں نے نہیں اٹھایا جو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور دین کے مصالح کے خلاف ہو۔ سکینت، سے مراد یہاں صبر، حلم، رزانت اور حکمت و تدبر ہے۔ اجتماعی زندگی میں ایسے مراحل بہت پیش آتے ہیں جب کسی جماعت کے حلم و تدبر کا نہایت سخت امتحان ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر اگر جماعت حریف کے رویہ سے مشتعلہ و کر کوئی عاجلانہ قدم اٹھا دے تو اس سے اصل مقصد کو ناقبال تلافی نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے یہ بات حاصل ہوتی ہے کہ ایسے امتحانات سے کوئی جماعت اور اس کے لیڈر حسن و خوبی سے عہدہ برآ ہوتے ہیں اور یہ توفیق ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ہر حال میں اپنے رب سے وابستہ رہتے ہیں۔ قریش کی طرف سے حمیت جاہلیت کا مظاہرہ حمیت جاہلیت، سے اشارہ قریش کے لیڈروں کی ان حرکتوں کی طرف ہے جو انہوں نے حق و عدل کے بالکل خلاف محض اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے کیں۔ مثلاً ان پر یہ حقیقت واضح تھی کہ آنحضرت ﷺ صرف عمرہ کے لئے تشرف لائے ہیں، جنگ کا نہ آپ کے دل میں کوئی خیال ہے نہ اس کا آپ کے پاس کوئی سامان ہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ کسی طرح آپ کو اللہ کے گھر میں داخل ہونے اور اس کے حضور میں اپنے لائے ہوئے ہدیے پیش کرنے کی اجازت دینے پر راضی نہ ہوئے۔ حضور ﷺ نے اپنے جو سفیر ان کے پاس اپنی آمد کی غرض سے آگاہ کرنے کے لئے بھیجے ان کی سفارتی حیثیت کا نہ صرف یہ کہ انہوں نے کوئی احترام نہیں کیا بلکہ ان میں سے ایک سفیر کے وہ قتل کے در پے ہوگئے اور دوسرے کو انہوں نے اس طرح لیت و لعل میں رکھا کہ مسلمانوں کے اندر یہ افواہ پھیل گئی کہ اس کو بھی انہوں نے قتل کردیا۔ معاہدہ حدیبیہ کی شرائط طے کرنے میں انہوں نے بالکل بےضرورت الجھنیں پیدا کیں اور ایسی شرطیں اس میں داخل کرنے پر اصرار کیا جن کا کوئی سیاسی فائدہ ان کو حاصل نہیں ہوا بس وقتی طور پر ان کو یہ تسلی ہوگئی کہ ان کی بات اونچی رہی۔ مسلمانوں کا علم اور تقویٰ قریش کے اس رویہ کا قدرتی ردعمل مسلمانوں پر یہی ہوسکتا تھا کہ وہ اشعتال میں آ کر اینٹکا جواب پتھر سے دین لیکن اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکنیت کے فیض سے وہ اللہ اور رسول کے فیصلہ پر راضی رہے۔ والزمھم کلمۃ التقویٰ یعنی یرش کی ان تمام اشتعال انگیز حرکتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کلمہ تقویٰ کا پابند رکھا۔ کلمہ تقویٰ سے مراد پیغمبر ﷺ کے سامنے جاں نثار صحابہ کا یہ اعتراض و اعلان ہے کہ رضیت باللہ رباً و بحمد رسولاً وبالا سلام دینا یہی کلمہ شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے وسوسہ اندازیوں کے مقال میں ہمیشہ صداقت شعار اور باوفا مسلمانوں کی سپر رہا ہے۔ مسلمانوں کے سامنے جب کبھی ایسے حالات پیش آئے کہ انہیں روسل کی کوئی بات بظاہر خلاف مصلحت محسوس ہوئی ہے تو انہوں نے اس کو ایک وسوسہ خیال کیا اور اس وسوسہ کو اس اعتراف سے رفع کیا۔ یہی عظیم کلمہ اس نازک موقعہ پر بھی مسلمانوں کی ڈھال بنا اور وہ رسول کے فیصلہ پر راضی رہے اگرچہ ان کے جذبات اور ان کی امنگوں کا مطالبہ کچھ اور تھا۔ وکانوا حق بھا واھلھا عینی اس کلمہ تقویٰ پر استقامت ہر مدعی کو حاصل نہیں ہوتی بلکہ انہی کو حاصل ہوتی ہے جو اس کے حق دار اور اہل ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ چونکہ اس کے حق دار اور اہل تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نازک حالات کے اندر بھی استوار رکھا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ایمان کو ضائع نہیں ہونے دیتا جو اپنے ایمان کی قدر کرتے اور ہر قسم کے حالات کے اندر اس پر استوار رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وکان اللہ بکل شی علیماً یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے مال سے بیخبر نہیں رہتا۔ وہ ان آزمائشوں سے بھی باخبر رہتا ہے جن میں وہ ڈالے جاتے ہیں اور ان حالات و احساسات سے بھی پوری طرح آگاہ رہتا ہے جن سے وہ گزرت یہیں۔ اگر بندے اپنا وہ فرض ادا کرتے ہیں جو ان سے مطلوب ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ ہر کام پر ان کا مددگار و کار ساز بنتا ہے۔
Ayah 48:27

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

اللہ نے اپنے رسول کو مبنی برحقیقت رئویا دکھائی بیشک اللہ نے چاہا تو تم مسجد حرام میں ضرور داخل ہو گے، ام ن کے ساتھ، اپنے سر منڈائے اور کترائے ہوئے، تمہیں کوئی اندیشہ نہیں ہوگا، بس اس نے جانی و ہبات جو تم نے نہیں جانی تو اس سے پہلے اس نے تمہیں ایک فتح قریب سے نوازا۔

9 آگے آیات 29-27 کا مضمون آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پہلے یہ واضح فرمایا ہے کہ رسول نے جو زیادہ دیکھی وہ بالکل سچی تھی۔ اس کی تعبیر کے ظہور میں جو تاخیر ہوئی وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل میں اسلام اور مسلمانوں کے غلبہ کی جو پیشین گوئیاں ہیں ان کا حوالہ ہے تاکہ مسلمانوں کو تسلی بھی حال ہو اور وہ اپنے آپ کو ان صفات سے آراستہ بھی کریں جو پچھلے صحیفوں میں ان کی بیان ہوئی ہیں اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -10 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق لتدخلن المسجد احلرام ان شآء اللہ امنین محلقین رء وسکم و مقصرین لاتخافون فعلم مالم تعلموا فجعل من دون ذلک فتحا قریباً 27 نبی صلعم کی پر مبنی پر حقیقت تھی پیچھے یہ اشارہ گزر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عمرہ کا ارادہ اپنی ایک رئویا کی بنا پر فرمایا تھا اس وجہ سے لوگوں کو توقع تھی کہ ان کا یہ سفر با مراد رہے گا لیکن جب نتیجہ توقع کے خلاف نکلا تو بہتوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ نبی کی رئویا تو غلط نہیں ہوتی تو آخر ہم کو اس سفر سے بےنیل مرام کیوں لوٹنا پڑا ؟ اسی سوال کے جواب کے لئے صلح حدیبیہ کی مذکورہ بالا مصلحتیں واضح فرمائی گئیں۔ آخر میں یہ خاص اس رئویا کا حوالہ دے کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو جوڑ جو رئویا دکھائی وہ بالکل سچی اور مبنی برحق رئویا ہے۔ اس کے مبنی برحق ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ نے چاہا تو تم مسجد حرام میں نہایت امن کے ساتھ، سر گھٹائے اور کترائے ہوئے داخل ہو گے اور تمہیں کسی کی طرف سے کسی مزاحمت کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہارے لئے عمرہ کی راہ خود معاہدے کی رو سے صاف ہوگئی۔ بس صرف اتنا فرق پڑا کہ اس سال نہیں بلکہ اگلے سال یہ سعادت حاصل ہوگی اور یہ التوا بھی رئویا کے خلاف نہیں ہوا۔ اس لئے کہ رئویا میں یہ وعدہ نہیں تھا کہ یہ عمرہ اسی سال لازماً ہوگا۔ چناچہ بعض لوگوں نے نبی ﷺ کے سامنے یہ سوال پیش کیا تو آپ نے فرمایا کہ رئویا میں یہ وعدہ تو نہیں کیا گیا تھا کہ ہم اسی سال عمرہ کریں گے۔ گویا رئویا میں جو وعدہ فرمایا گیا وہ غلط نہیں ہوا بلکہ یہ ہوا کہ اس سال عمرہ کی راہ اچھی طرح ہوموار کردی گئی تاکہ آئندہ اسل مسلمان آئیں تو انہیں کوئی خطرہ نہ پیش آئے۔ بالحق کا تعلق رئویا، سے ہے یعنی یہ رئویا کوئی خواب پریشاں کے قسم کی چیز نہیں بلکہ مبنی برحقیقت رئویا تھی۔ محلقین رئو وسکم و مقصرین سرمنڈانا یا کترانا حج وعمرہ کے آداب میں سے ہے۔ اس کی حکمت پر اس کے محل میں ہم گفتگو کرچکے ہیں۔ ان دونوں میں سے افضیلت تو سر منڈانے کو حاصل ہے لیکن با اعتبار حالات قصر کی بھی اجازت ہے۔ اس وجہ سے دونوں ہی چیزوں کا ذکر فرمایا۔ مقصود یہ ہے کہ یہ جماعت دونوں ہی طرح کے زائرین پر مشتمل ہوگی جو عبدیت وتذلل کے اس نمایاں نشان کے ساتھ اللہ نے چاہا تو مسجد حرام میں داخل ہوں گے اور بےخوف و خطر داخل ہوں گے۔ التوائے عمرہ کی مصلحتوں کی طرف اشارہ فعلم مالم تعلموا فجعل من دون ذلک فتحماقریباً یہ اشارہ التوائے عمرہ کی مصلحتوں کی طرف ہے جن کا ذکر آیت 25 میں ہوا ہے مطلب یہ ہے کہ مصلحتیں تمہارے علم میں نہیں تھیں لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں تھیں اس وجہ سے اس نے یہ تو نہیں پسند فرمایا کہ تم اسی سال قریش پر فتحیاب ہو کر عمرہ کرو لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس سال بھی تم عمرہ کے لئے نکلو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک فتح قریب سے سرفراز کرے جو آگے حاصل ہونے والی فتوحات کی راہ بھی کھول دے اور تمہارا عمرہ بھی امن و اطمینان کی حالت میں ہو۔ فتح قریب سے مراد معاہدہ حدیبیہ ہے۔ فتح قریب سے عام طور پر لوگوں نے فتح خیبر کو مراد لیا ہے لیکن میرے نزدیک اس سے معاہدہ حدیبیہ ہی مراد ہے جس کو اسی سورة کی تمہید میں فتح مبین سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس فتح مبین کی برکات پر، ہم قرآن کی روشنی میں، پیچھے جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہی فتح قریب، فتح مکہ کا دیباچہ ثابت ہوئی۔ فتح مکہ ابھی کچھ دور تھی لیکن معاہدہ حدیبیہ نے، جیسا کہ پیچھے تفصیل گزر چکی ہے، اس کی راہ ہموار کردی تھی اس وجہ سے اس کو فتح قریب سے تعبیر فرمایا۔ گویا اس کے بعد اب وہی اصلی فتح ظاہر ہونے والی ہے جو ابھی اگرچہ ظاہر نہیں ہوئی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو، جیسا کہ آیت 21 میں اشارہ فرمایا، اپنے احاطہ میں لے رکھا ہے۔
Ayah 48:28

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کرے سارے دنیوں پر اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلمہ وکفی باللہ شھیداً 28 اسلام کے غلبہ کی بشارت یہ آیت معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ سورة توبہ میں بھی گزر چکی ہے اور آگے سورة صف میں بھی آئے گی۔ سورة توبہ کی تفسیر میں ہم اس کے موقع پر محل اور اس کے مدعا کی وضاحت کرچکے ہیں۔ یہ دوسرے الفاظ میں فتح مکہ کی بشارت ہے اس لئے کہ اسی کی فتح پر پورے ملک کے اندر دین حق کے غلبہ کا انحصار تھا چناچہ اس کی فتح ہوجانے کے بعد تمام ادیان، جو عرب میں موجود تھے، اسلام کے آگے سرنگوں ہوگئے اور تھوڑی ہی مدت کے اندر وہ وقت آگیا کہ نبی ﷺ نے اعلان فرما دیا کہ اس ملک میں دو دین مجمتع نہیں ہوسکتے۔ فرمایا کہ اسی خدا نے، جس نے اپنی وہ شانیں دکھائی ہیں، جو اوپر بیان ہوئیں، اپنے رسول کو اپنی ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ اس کو تمام ادیان پر غالب کرے۔ مطلب یہ ہے کہ اب یہ تقدیر کا اٹل فیصلہ ہے، نہ اس کو مشرکین بدل سکتے اور نہ یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ سب کے علی الرغم نافذ ہو کے رہے گا۔ سورة توبہ میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ یریدون ان یطفوا انور اللہ بافواھھم ویابی اللہ الا ان یتم نورہ ولوکرہ الکفرون، ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون 33-32 (یہود و نصاریٰ) چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں لیکن اللہ کا اٹل فیلہ ہے کہ وہ ان کافروں کے علی الرغم اپنے نور کو کامل کر کے رہے گا۔ وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو تمام دنیوں پر غالب کرے مشرکوں کے علی الرغم ! اس آیت کے سیاق وسباق پر نظر ڈالیے تو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ اوپر والی آیت میں اہل کتاب کو چینلج ہے اور نیچے والی آیت میں مشرکین عرب کو سر زمین عرب میں انہی گروہوں سے اسلام کا مقابلہ تھا بعد میں یہ میدان مقابلہ بہت وسیع ہوگیا لیکن تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمان اسلام کے حامل رہے ہر جگہ اللہ نے ان کے دین کو غالب کیا۔ وکفی باللہ شھیداً یعنی اس بشارت کو مخالفین خواہ کتنی ہی بعید از قیاس سمجھیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور اس کی صداقت کے لئے اللہ کی گواہی کافی ہے۔ یہ مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ تم مخالفین کی مخالفت اور حالات کی نامساعدت سے ذرا بھی ہراساں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔ سورة توبہ کی مذکورہ بالا آیت میں جو بات ولوکدہ الکافرون اور لوکرہ المشرکون کے الفاظ میں فرمائی گی ہے وہی بات یہاں دور سے الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے۔
Ayah 48:29

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد، رسول کے رسول اور جو انکے ساتھ ہیں وہ کافر پر سخت آپس میں رحم دل ہیں۔ تم ان کو اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں رکوع و سجود میں سر گرم پائو گے۔ ان کا امتیاز ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان سے ہے۔ ان کی یہ تمثیل تورات میں ہے اور انجیل میں ان کی تمثیل یوں ہے کہ جیسے کھیتی ہو جس نے نکالی اپنی سوئی، پھر اس کو سہارا دیا، پھر وہ سخت ہوئی پھر وہ اپنے تنہ پر کھڑی ہوگئی کسانوں کے دلوں کو موہتی ہوئی تاکہ کافروں کے دل ان سے جلایء۔ اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے مغفرت اور ایک اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے

محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم ترھم رکعا سجداً یبتغون فضلاً من اللہ رضوانا سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود ط ذلک مثلھم فی التورائۃ ومثلھم فی الانجیل کزرع اخرج شطہ فازرہ فاستفلغظ فاستوی علی سوقہ یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار وعد اللہ الذین امنوا وعملوا الصلحت منھم مغفرۃ و اجرا عظیماً 29 ان تثیلات کا حوالہ جو اسلام کی تاریجی غبہ سے متعلق سابق صحیفوں میں ہیں۔ یہ آخر میں ان تمثیلوں کا حوالہ ہے جو آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کی صفات اور اسلام کی تاریجی غلبہ سے متعلق تورات و انجیل میں وارد ہیں۔ اس حوالہ سے ایک مقصد تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو سابق صحیفوں کے آئینہ میں اس کی تصویر دکھا دی جائے تاکہ ان کو بشارت بھی حاصل ہو اور وہ اپنی ان صفات سے اچھی طرح آشنا بھی ہوجائیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو تصف دیکھنا چاہا ہے اور جو خلق میں ان کو متعارف کرانے والی ہیں۔ دوسرا یہ کہ اہل کتاب کو متنبہ کیا جائے کہ وہ جان کر انجان بننے اور حق کو چھپانے کی کوشش نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پہلے سے اس لئے آگاہ کیا تھا کہ جب وقت آئے گا وہ شہادت دینے والے بنیں گے۔ لیکن یہ ان کی بدبختی ہے کہ وہ شہادت دینے کے بجائے مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ تیرسا یہ کہ مسلمانوں پر یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ اسی سر زمین میں ان کو غلبہ تو ضرور عطا فرمائے گا لیکن یہ تملبہ باتدریج ظہور میں آئے گا۔ نہ انہیں جلد بازی کرنی چاہئے نہ حالات سے مایوس ہونا چاہئے۔ جو بیج انہوں نے ڈالا ہے صبر و استقامت کے ساتھ اس کی آبیاری اور دیکھ بھال میں لگے رہیں۔ وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کو ایسا تناور درخت بنائے گا کہ ایک دنیا اس کے سایہ میں پناہ لے گی۔ تورات میں وارد ایک تمثیل کی طرف اشارہ محمد رسول اللہ کا ترجمہ عام طور پر مترجموں نے مبتدا اور خبر کا کیا ہے لیکن میرے نزدیک رسول اللہ یہاں صفت اور عطف بیان کے حکم میں ہے۔ خبر اس کے آگے اشدآء و علی الکفار … الایۃ ہے۔ یہ تورات میں وارد ایک تمثیل کی طرف اشارہ ہے جس میں پورے زمرہ مومنین کی تصویر اس طرح پیش کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس میں گل سرسبد کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر رسول اللہ پر وقف اور والذین معہ سے استیفاف مان لیا جائیت و آیت کی یہ بلاغت ختم ہوجائے گی۔ اس پورے گروپ کا اصل جمال اسی وصرت میں نمایاں ہوگا جب رسول اللہ ﷺ کو اس میں سرتاج کی حیثیت حاصل رہے جیسی کہ فی الواقع ہے۔ چٹان کی طرح سخت موم کی طرح نرم والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم یہ آپ کی اور آپ کے صحابہ کی ایک امتیازی خصوصیت بیان ہوئی ہے کہ وہ کفار کے لئے ایک چٹان کی طرح مضبوط و سخت اور باہمدگرموم کی طرح نرم ہیں یعنی ان کی تمام حمیت و عصبیت ایمان و اسلام پر قائم ہے۔ جو ایمان و اسلام میں ان کے شریک نہیں ہیں وہ اگر ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہیں تو ان کے اندر انگلی دھنسانے کی کوئی گنجائش نہیں پائیں گے۔ برعکس اس کے اپنے شریک ایمان بھائیوں کے لئے وہ سراپا رحمت و شفقت ہیں۔ یہی مضمون بعینیہ اسی سیاق و سبقا کے ساتھ سورة مائدہ کی آیت 54 میں اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکافرین کے الفاظ سے بیان ہوا ہے چونکہ یہ دونوں آیتیں ایک ہی مضمون کی ہیں اس وجہ سے وہاں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کا ضروری حصہ یہاں بھی نقل کئے دیتے ہیں تاکہ اس ٹکڑے کا صحیح مفہوم اس کی نظری کروشنی میں واضح ہوجائے۔ اذلۃ علی المومنین عزۃ علی الکفرین کی وضاحت کرتے ہوئے ہم نے لکھا ہے اذتۃ دلیل کی جمع ہے۔ عربی میں یہ لفظ جیسا کہ آل عمران آیت 123 کے تحت ہو بتا چکے ہیں، اچھے اور برے دونوں معنوں میں آتا ہے۔ بج یہ اچھے معنوں میں آتا ہے جیسا کہ یہاں ہے تو اس کے معنی نرم ہو ؟ نرم مزاج، فرمانبردار، متواضع اور سہل الانقیاد کے ہوتے ہیں۔ ذلول کا لفظ بھی اسی معنی میں آتا ہے۔ فرمانبردار اونٹنی کو ناقہ ذلول، کہتے ہیں۔ ‘ ذ اعزۃ عزیز کی جمع ہے۔ یہ لفظ بالکل ذلیل کے مقابل لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے معنی ہیں سخت، شکل، بھاری، نقابل شکست ناقابل عبور، عسیر الانقیاد اگر کسی چیز کے متعلق کہیں کہ ھو عزیز علی تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ چیز مجھ پر بھاری اور شکل ہے۔ اس کو رام کرنا اور قابو میں کرنا میرے لئے دشوار ہے۔“ اسی ضمن میں ہم نے شدید علی کا مفہوم بھی اسی طرح واضح کیا ہے۔ ”یہی مفہوم شدید علی کا بھی ہوتا ہے۔ کسی حماسی کا نہایت عمدہ شعر ہے۔ اذا الموء اعیتہ المردۃ ناشائً فمطلبھا کھلا علیہ شدید (اگر اٹھتی جوانی میں اولوالعزمی پیدا کرنے سے آدمی قاصر رہجاتا ہے تو ادھیڑ پن میں اس کا حاصل کرنا نہایت دشوار ہوجاتا ہے۔) ”مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے تو وہ نہایت نرم خو، بھولے بھالے، ہر پہلو سے لچک قبول کرنے والے اور ہر سانچے میں ڈھل جانے والے ہوں گے لیکن کافروں کے لئے وہ پتھر کی چٹان ہوں گے۔ وہ اگر اپنے اغراض و مقاصد کے لئے ان کو استعمال کرنا چاہیں گے تو کہیں سے انگلی دھنسانے کی جگہ نہ پا سکیں گے سیدنا مسیح نے اپنے شاگردوں کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ کبوتر کے مانند بےآزاد اور سانپ کی مانند ہوشیار بنو، اس میں بھی یہی دونوں پہلو محلوظ ہیں۔ 1“ یہ امر بھی یہاں محلوظ رہے کہ جس سیاق وسباق میں یہ سورة مائدہ والی آیت آئی ہے بعینہ اسی سیاق وسباق میں یہ الفتح والی آیت بھی وارد ہوئی یہ۔ وہاں ہم واضح کرچکے ہیں کہ منافقین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ان کا کردار اسلامی کردار کے بالکل برعکس واقع ہوا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ اہل ایمان کے لئے نہایت سہل الانقیاد اور کافر کے لئے عسیر الانقیاد ہوتے۔ لیکن ان کا حال یہ ہے کہ کفار کے ہاتھوں میں تو وہ کھلونا بنے ہوئے ہیں لیکن مسلمانوں کو دھوکا دینے میں بڑے شاطر ہیں۔ اسی طرح اس سورة میں بھی یاد ہوگا۔ منافقین کا کردار آیات 18-6 میں تفصیل سے زیر بحث آیا ہے۔ آخر میں مسلمانوں کے اجتماعی کردار کا یہ پہلو اس لئے نمایاں کیا گیا ہے کہ منافقین اس آئینہ میں اپنی صورت دیکھیں کہ مسلمانوں کا کردار کیا ہونا چاہئے اور وہ کس کردار کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ پیغمبر اور اس کے جاں نثار ساتھیوں کے لئے تو روز بد کے منتظر ہیں اور کفار کو جا جا کر اطمینان دلا رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں کی طرف سے آپ لوگوں کو کوئی خطرہ پیش آیا تو ہم آپ ہی لوگوں کا ساتھ دیں گے۔ اشدآء علی الکفار کا صحیح مفہوم نہ سمجھنے کے باعث بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ اسلام روزمرہ زندگی کے سلوک و طرز عمل میں یہ چاہتا ہے کہ ہر مسلمان کا رویہ ہر غیر مسلم کے ساتھ کرخت اور بیزار نہ ہو حالانکہ یہ بات نہ قرآن کے الفاظ سے نکلتی ہے اور نہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کے طرز عمل سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ ہم نے الفاظ اور نظائر کی روشنی میں آیت کی جو تاویل کی ہے امید ہے کہ وہ اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لئے کافی ہوگی۔ خلق اور خالق دونوں کے ساتھ مربوط زندگی تربھم رعاً سجد ایبتغون فضلاً من اللہ وضرواناً یہ ان کی توجہ الی اللہ ان کی شب بیداری اور ان کی تہجد گزاری کی تصویر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو بھی ان کو دیکھے گا اس پر پہلی ہی نظر میں یہ بات واضح ہوجائے گی کہ دنیا کے عام انسانوں سے بالکل مختلف یہ ایسے قدسی صفت لوگوں کی ایک جماعت ہے جن کی زندگی کا اصلی نصب العین خدا کی رضا طلبی ہے چناچہ کبھی وہ ان کو رکوع ہو پائے گا کبھی سجود میں اوپر والے ٹکڑے میں ان کا وہ پہلو سامنے آیا ہے جس کا تعلق خلق سے ہے۔ اس ٹکڑے میں ان کی زندگی کے اس پہلو کی طرف اشارہ ہے جس کا تعلق خالق سے ہے یعنی خلق کے ساتھ بھی ان کا تعلق بالکل صحیح بنیاد پر قائم ہے کہ وہ اہل باطل کے مقابل میں نہایت سخت اور اہل حق کے لئے نہایت نرم خو ہیں اور خالق کے ساتھ بھی ان کا ربط نہایت محکم و استوار ہے کہ کسی وقت بھی وہ اس سے غافل نہیں ہوتے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں سندیدہ زندگی وہی ہے جو خلق اور خالق دونوں سے بالکل صحیح بنیاد پر مربوط ہو۔ اگر اس میں کسی پہلو سے خدا بھی خلل پیدا ہوجائے تو انسان کی ساری زندگی بےہنگم ہوجاتی ہے۔ صحابہ کی ایک خاص علامت امتیاز سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود یہ ان کی خاص علامت امتیاز کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان نمایاں ہیں۔ الفاظ سے یہ بات صاف نکل رہی ہے کہ یہاں وہی نشان مراد ہیں جو کثرت سجود سے پیشانی پر پڑجاتے ہیں اور یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ نشان بہت محبوب ہیں یہاں تک کہ وہ چاہتا ہے کہ اس دنیا کے اندر یہ امت اسی نشان سے دوسری امتوں کے مقابل میں پہچانی جائے۔ یہ ساری باتیں الفاظ قرآن سے واضح ہیں اس وجہ سے ہم ان لوگوں کی رائے صحیح نہیں سمجھتے جنہوں نے ان الفاظ کو ان کے ظاہر معنی سے ہٹا کر انکے مجازی معنی لینے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں اس امر سے انکار نہیں ہے کہ بعض لوگ محض ریا کے لئے بھی اپنی پیشانی پر گھٹا ڈالنے کی کوشش کرتے ہوں گے لیکن محض اس بنا پر کہ کچھ لوگوں کے گھٹنے محض نمائشی ہوتے ہیں اہل ایمان کے اس عظیم نشان امتیاز کے وقعت کم نہیں کی جاسکتی۔ ریا کا امکان جس طرح اس چیز کے اندر ہے اسی طرح دین کے ہر اعلیٰ و ادنیٰ کام میں ہو سکتا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے بعض لوگوں کو ٹوکا کہ انہوں نے اپنی پیشانیوں پر گھٹے نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ حضرت عمر ؓ لوگوں کے حالات سے بہت باخبر تھے۔ اگر انہوں نے کسی شخص کو اس طرح کی کسی بات پر تنبیہ کی تو مسلمانوں کے ایک مربی و معلم ہونے کی حیثیت سے ان کا یہ حق تھا اور اس کا ایک محل ہے۔ اس سے امت کے اس نشان امتیاز کی بےوقعتی نہیں ہوتی جس کا آیت زیر بحث میں حوالہ ہے۔ پیشین گوئیوں میں یہود کی تحریفات ذلک ثلھم فی التورتۃ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کی یہ تمثیل تورات میں بیان ہوئی ہے۔ یہ اشارہ ان پیشین گوئیوں کی طرف ہے جو آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے باب میں تورات، زبور اور یسعیاہ نبی کے صحیفوں میں ہیں اگرچہ یہود نے قطع و برید کر کے ان کو بالکل مسخ کردیا ہے اور مسخ کرنے کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ جن الفاظ کی نسبت بھی ان کو گمان ہوجاتا ہے کہ مسلمان ان کو اپنے حق میں اسعتمال کرسکتے ہیں ان پر فوراً تحریف کی قینچی چلا دی جاتی ہے۔ تاہم آج بھی تورات اور انجیل دونوں میں ایسی چیزیں موجود ہیں جن کا مصداق آنحضرت ﷺ کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ مثلاً استثنا باب 3 و، 2 میں ہے : ”خداوند سینا سے آیا اور سعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا، دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔“ اس پیشین گوئی کا مصداق آنحضرت ﷺ کے سوا ظاہر ہے کہ دوسرا نہیں ہوسکتا اس میں جبل فارن کا ذکر بھی ہے اور دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آپ کے نمودار ہونے کا صریح الفاظ میں حوالہ بھی ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں قرآن نے اس پیشین گوئی کا حوالہ مسلمانوں کے غلبہ و تمکن ہی کے پہلو سے دیا ہے اور یہ ایک مسلم تاریخی حقیقت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار صحابہ آپ کے ہمرکاب تھے۔ یہ تو صرف خدائے علام الیغبو ہی کو علم ہے کہ اس پیشین گوئی میں کتنی تحریفیں ہوچکی ہیں لیکن ایک تازہ مثال اس میں تحریف کی یہ ہے کہ ”دس ہزار قدوسیوں“ کے الفاظ جو اس میں وارد ہیں اب بعض نسخوں میں بدل کر وہ ”دس لاکھ“ کردیئے گئے ہیں جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ مسلمان اس کو فتح مکہ پر منبطق نہ کرسکیں۔ تاہم اس پر اچھی طرح غور کیجیے تو اس میں ان تمام باتوں کی طرف اشارہ ہے جن کا قرآن نے حوالہ دیا ہے۔ اس میں دس ہزار قدوسویں کا حوالہ ہے۔ قدوسیوں سے مراد ظاہر ہے کہ پاکیزہ صفات نیک نہاد، خدا ترس اور عبادت گزار بندے مراد ہیں۔ قرآن میں اس کی جگہ ترئھم رکعا سجداً …سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود کے ال فاظ ہیں۔ اب یا تو یہ ہوا ہے کہ قرآن نے تورات کے لفظ قوسیوں، کو قدوسیوں کی صفات بیان کر کے اچھی طرح شناخت کر ادی ہے تاکہ اہل کتاب پہچان لیں کہ جن قدوسیوں کا ان صحیفوں میں ذکر آیا ہے وہ یہی لوگ ہیں جو محمد ﷺ کے ساتھ ہیں اور جو عنقریب دس ہزار کے لشکر کی صورت میں ظاہر ہو کر اس پیشین گوئی کی تصدیق کردیں گے۔ یا پھر یہ ہوا ہے کہ تورات میں بھی یہ تمام صفات بیان ہوئی ہوں لیکن یہود نے جس طرح آنحضرت ﷺ سے متعلق دوسری پیشین گوئیوں کو چھپانے کی کوشش کی اسی طرح یہاں بھی تمام صفات کو غائب کر کے قدوسویں، کا لفظ رکھ دیا تاکہ اس کی تاویل اپنے منشا کے مطابق کرسکیں۔ امکان ان دونوں ہی باتوں کا ہے لیکن کوئی منصف اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ تورات کی اس پیشین گوئی کے مصداق ہو سکتے ہیں تو صرف رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہی ہو سکتے ہیں۔ دوسری خاص بات جو اس پیشین گوئی میں ہے وہ یہ ہے کہ ”اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔ ‘ ”آتشی شریعت“ ہمارے نزدیک تعبیر ہے اس مضمون کی جو قرآن میں اشدآء علی الکفار کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ اس کی وضاحت حضرت مسیح ؑ نے اپنے الفاظ میں یوں فرمائی ہے کہ ”اس کے ہاتھ میں (یعنی پیغمبر خاتم ﷺ کے ہاتھ میں) اس کا چھاج ہوگا، وہ اپنے کھلپان کو خوب صاف کرے گا، دانے کو بھس سے الگ رہے گا پھر دانے کو محفوظ کرے گا اور بھس کو جلا دے گا۔“ ‘ یہی حقیقت حضرت مسیح ؑ نے دوسرے ا لفاظ میں یوں بیان فرمائی ہے : ’ دجس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا … اسی لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دی دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔“ متی باب 21، 45-33 کتاب استثنا کی مذکورہ بالا پیش گوئی میں یہ الفاظ بھی ہیں : ”وہ بےسک قوموں سے محبت رکھتا ہے۔ اس کے سب مقدس لوگ تیرے ہاتھ میں ہیں اور وہ تیرے قدموں میں بیٹھے ایک ایک تیری باتوں سے متضیض ہوگا۔ ‘ ذ خط کشیدہ الفاظ پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ ترجمہ نے کلام کے رخ کو مبہم بنا دیا ہے تاہم یہ وہی بات فرمائی گئی ہے جس کا سراغ قرآن نے ترلھم رعاً سجداً ایبتغون فضلا من اللہ رضواناً کے الفاظ میں دیا ہے۔ انجیل کی تمثیل کا حوالہ ومثلھم فی الانجیل کزرع اخرج شطئہ نازرہ فاستغلظ فاستوی علی سوقہ یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار تورات کی تمثیل کے بعد یہ انجل کی تمثیل کا حوالہ ہے۔ تورات کی تمثیل میں اہل ایمان کے زہد و تبتل ان کے غلبہ و تمکن اور امتوں کے ساتھ ان کے عدل اور رحم کی تصویر ہے۔ انجیل کی تمثیل میں ان کے تدریجی ارتقاء کو نمایاں فرمایا گیا ہے کہ ان کی ابتداء اگرچہ نہایت کمزور ہوگی لیکن بالآخر وہ ایک ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کریں گے کہ ان کے سایہ میں بڑی بڑی قومیں پناہ لیں گی۔ متی باب 13: 9-3 میں یہ تمثیل یوں بیان ہوئی ہے : ”اس نے ایک اور تمثیل پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے لیکن جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہوجاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آ کر اس کی ڈالیوں میں بسیرا کرتے ہیں۔“ اسی تمثیل کی اسلام کے تدریجی یہ تمثیل معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ مرقس باب 4 اور لوقا باب 8 میں بھی آئی ہے۔ اسی تمثیل کی قرآن نے یوں وضاحت فرمائی کہ جو حال کھیتی کے نشو و نما کا ہوتا ہے وہی حال اسلام کے تدریجی عروج و کمال کا ہوگا، کھیت میں جو دانے بوئے جاتے ہیں اول اول وہ باریک سوئیاں سی نکالتے ہیں پھر ان کو مزید سہارا ملتا ہے جس سے سوئیاں موٹی اور قوی ہوجاتی ہیں اور کھیتی اپنے تنہ پر کھڑی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ایک دن آئے گا کہ جو تخم حق عرب کی سر زمین میں بویا گیا ہے اس کی فصل شباب پر آئے گی جو اپنے بونے اور آبیاری کرنے والوں کے دلوں کو تو وہ مولے گی اور ساتھ ہی ان لوگوں کے دلوں کو غم و غصہ سے جلائے گی جنہوں نے اس کے نشو و نما کو روکنے کے لئے اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ لیغبض بھم الکافر میں ’ ل ‘ غایت و انجام کے ظہار کے لئے ہے اور لفظ کغار تمثیل کے اصل مفہوم پر روشنی ڈال رہا ہے۔ تمثیل میں یہاں مراد چونکہ اہل ایمان ہیں اس وجہ سے آخر میں یہ ظاہر کر کے ان کا عروج بالآخر ایک دن کفار کے لئے باعث حسرت و حسد ہوگا گویا اس تمثیل کے ممثل کو ظاہر کردیا۔ عربی زبان میں تمثیلات و استعارات کے اندر یہ طریقہ معروف ہے کہ آخر میں کسی لفظ کے ذریعہ سے تمثیل یا استعارے کے ممثل یا مستعارلہ کو وضاح کردیتے ہیں تاکہ اصل مدعا واضح ہوجائے۔ سورة نور والی تمثیل میں اس کی نہایت واضح مثال موجود ہے۔ وعد اللہ الذین امنوا و عملوا الصلحت منھم مغفرۃ واجر عظیماً ، یہ آخر میں اسی وعدہ نصرت و مغفرت کی بشارت ہے جس کے اثابات کے لئے تورات و انجیل کی پیشین گوئیوں کا حوالہ دیا گیا ہے کہ جو لوگ ان صفات کے مصداق اور ایمان و عمل میں پختہ و راسخ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کو مغفرت اور اجر عظیم سے نوازے گا۔ رہے وہ لوگ جو ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے لیکن ان کی ہمدردیاں اللہ و رسولک سے زیادہ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ ہیں اور جنہوں نے حدیبیہ کے موقع پر وہ کمزوری دکھائی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی توہ وہ اس انجام سے دوچار ہوں گے جو اسلام کے مخالفوں کے لئے مقدر ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی احسانہ رحمان آباد یکم نومبر 1976 ء 8 ذی تعدہ 1396 ھ