49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ٹھہریں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، کیا عجب وہ ان سے بہتر نکلیں اور نہ اپنوں کو عیب لگائو، اور نہ آپس میں ایک دوسرے پر برے القاب چسپاں کرو۔ ایمان کے بعد فسق کا تو نام بھی برا ہے ! اور جو لگ توبہ نہ کریں گے تو وہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔

-3 آگے آیات 12-11 کا مضمون اوپر آیت 7 میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس اہتمام خاص کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے مسلمانوں کو کفر و فسق اور عصیان سے بچانے کے لئے لئے خاص اپنے فضل سے فرمایا۔ اب آگے بعض ان باتوں سے روکا گیا ہے جو ایمان کے منفای اور داخل فسق ہیں اور جن سے دلوں کے اندر اس فساد کی غم ریزیہ وتی ہے جو پورے معاشرے کو مسموم کر کے رکھ دیتا ہے اور جس کا سدباب نہ ہو تو جن کو اللہ تعالیٰ نے رحمآء بینھم کے وصف سے ممتاز فرمایا ہے وہ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمایئے -4 الفاظ کی تحقیق اور آیات کیوضاحت یا یھا الذین امنوا لایسخرقوم من قوم عیسیٰ ان یکونوا خیراً منھم ولا نساء من نسآء عسی ان یکن خیرامنھن ولاتلمزوا انفسکم ولاتنابزوا بالالقاب عبس الاسم الفسوق بعد الایمان ومن لم یتب فاولئک ھم الظلموکن 11 منافی ایمان باتوں سے اجتناب کی تاکید یا یھا الذین امنوا کا خطاب یہاں صرف خطاب ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ اگٓے وہ برائیاں بیاں ہو رہی ہیں جو داخل فسق اور منافی ایمان ہیں۔ اس خطاب سے اہل ایمان کو گویا اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جو لوگ ایمان سے مشرف ہوچکے ہیں ان کے لئے زیبا نہیں کہ وہ ایمان کے بعد فسق کے داغ دھبوں سے اپنے دامن کو آلودہ کریں۔ فرمایا کہ ایمان میں داخل ہوجانے کیب عد نہ مردوں کے لئے یہ زیبا ہے کہ وہ دوسرے مردوں کو حقیر خیال کر کے ان کا مذاق اڑائیں نہ عورتوں کے لئے جائز ہے کہ وہ دوسری عورتوں کو تمسخر کا نشانہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرافت و رذالت کا انحصار آدمی کے ایمان و عمل پر ہے اور ایمان و عمل کا صحیح وزن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی میزان عدل سے معلوم ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھ رہا ہو لیکن قیامت کے دن کھلے گا کہ خد کی میزان میں اس کا وزن پرکاہ کے برابر بھی نہیں ہے۔ اسی طرح امکان اس کا بھی ہے کہ سج کو اہل دنیا نے کبھی اپنی آنکھوں میں جگہ نہیں دی قیامت کے دن پتہ چلے کہ خدا کی بادشاہی میں جو مقام اس کا ہے وہ ان لوگوں کا نہیں ہے جنہوں نے اس کو حقیر جانا۔ یہاں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا ذکر بھی خاص اہتمام سے ہوا ہے حالانکہ بظاہر اس کی ضرورت نہیں تھی۔ لایسخرقوم من قوم کے عام الفاظ ان کے لئے بھی کافی تھے۔ لیکن قرآن نے فضائل اور رذائل دونوں کے بیان میں یہ اسلوب ملحوظ رکھا ہے کہ عورتوں کا ذکر ان مواقع میں خاص اہتما مکہ ساتھ ہوا ہے جہاں تاکید کے ساتھ ان کو کسی فضیلت کے لئے ابھارنا یا کسی فتنہ سے بچانا مقصود ہے۔ یہاں یہی دوسری صورت ہے۔ جس برائی سے یہاں مردوں کو روکا گیا ہے وہ عورتوں کے اندر اس سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں پائی جاتی جتنی مردوں کے اندر پائی جاتی ہے جن عورتوں کے اندر اپنی خاندانی، نسبی اور ملای برتری یا اپنے ظاہری حسن و جمال کا غرور ہوتا ہے ان کا انداز خطاب و کلام ان عورتوں کے ساتھ حقارت آمیز ہوتا ہے جن کو ہو اپنے مقابل میں فروتر خیال کرتی ہیں۔ یہاں جن باتوں سے روکا گیا ہے ان کا ایک خاص باطن ہے اور مقصود درحقیقت اسی کی بیخ کنی ہے۔ پیرے کی آخری آیت میں اس باطن کی طرف اشارہ ہے۔ شیطان نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لئے جو فتنے ایجاد کئے ہیں ان میں ایک بہت بڑا فتنہ نسل و نسب، خاندان، برادری، کنبہ اور قبیلہ کے شرف و امتیاز کا فتنہ بھی ہے۔ جو لوگ اس فتنہ میں مبتلا ہوتے ہیں (اور بہت کم ایسے خوش قسمت نکلتے ہیں جو اپنے کو اس فتنہ سے محفوظ رکھ سکیں) ظاہر ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے مقابل میں حقیر خیال کرتے ہیں اور جب حقیر خیال کرتے ہیں تو لازماً ان کے قول، فعل اور رویہ سے اس کا اظہار بھی ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ چیزیں پختہ ہو کر ان کے ہاں روایت کی حیثیت حاصل کرلیتی ہیں بلکہ ان کا بس چلتا ہے تو وہ ان کو مذہب کا درجہ بھی دے دیتے ہیں۔ چناچہ ہندوئوں میں برہمنوں نے، یہود میں بنی لادی نے اور عربوں میں قریش نے اسی طرح تقدس کا ایک ایسا مقام اپنے لئے پیدا کرلیا جس کو چیلنج کرنا دوسروں کے لئے ممکن نہیں رہ گیا۔ یہی حال ہر قوم کا ہوا ہے اور مساوات انسانی کے بلن بانگ دعوئوں کے باوجود آج بھی یہی ہے۔ یہاں تک کہ مسلمان جو اس فتنہ کی بیخ کنی کے لئے برپا کئے گئے تھے وہ بھی آج نہ مانے کتنی برادریوں، قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہیں اور ہر ایک وہ ہمچومن دیگرے نیست کے نشہ سے سرشار ہے جس کا اظہار ہر قوم و قبیلہ کے عوام و خواص کے بیانتا اور نعروں سے ہوتا رہتا ہے جس سے فطری طور پر دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت و کدورت پیدا ہوتی ہے جو عداوت و بغاء کی شکل اختیار کر کے بالآخر خون خرابے اور تقسیم و تفریق تک نوبت پہنچا دیتی ہے۔ یہاں قرآن نے مسلمانوں کو اسی آفت سے محفوظ رہنے کی ہدایت فرمائی کہ لم کو اللہ نے اپنے فضل سے جاہلیت کی تاریکی سے نکال کر ایمان کی روشنی بخشی ہے۔ تمہارا معاشرہ انما المومنون اخوۃ کی اساس پر اقئم ہے اور تم آپس میں ایک دوسرے کے لئے رحمآئبنھم بنائے گئے ہو تو اپنے دوسرے بھائیوں کو حقیر سمجھ کر یا ان کو اپنے طنزیہ اور حقارت آمیز الفاظ کا ہدف بنا کر اس معاشرہ کا حلیہ مسخ کرنے کی کوشش نہ کرو۔ عسی ان یکونوا خیرامنھم یہ اس اصل حکمت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو اس بات میں صحیح رہنمائی دینے والی ہے کہ عزت و شرف کی بنیاد نسل، نسب، خاندان، برادری، قوم و قبیلہ اور مال و دولت پر نہیں بلکہ آدمی کے دین وتقویٰ پر ہے اور اس بات کا فیصلہ کل کو قیامت کے دن ہوگا کہ کس کا تقویٰ زیادہ ہے اور وہ اللہ کے نزدیک اشرف و اعلیٰ ہے اور کون اپنے تمام دعائے حسب و نسب اور غرور غرور شرف کے باوجود خدا کے نزدیک بالکل بےوزن اور بےحقیقت ہے۔ طنز اور پھبتی کی ممانعت ”ولاتلمزوآ انفسکم لمز کے معنی کسی پر طعن کرنا، آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے اس پر کوئی طنز آمیز فقرہ چست کردینا ہے۔ مثلاً سورة توبہ آیت 79 میں منافقین کے بارے میں فرمایا ہے کہ والذین یلمزون المطوعین من المومنین یعنی جب غریب مسلمان اپنی گاڑھی کمائی میں سے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو منافقین ان کی حوصلہ شکنی کے لئے ان پر بانداز استحفاف طنزیہ فقرے چست کرتے ہیں کہ لو، آج حاتم کی قبر پر لات مارنے یہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس قسم کے زہر آلود فقرے قائل کے حسب کی بھی غمازی کرتے ہیں اور اس کے کبر و غرور کی بھی، اور ان کا اثر دوسروں پر یا تو حوصلہ شکنی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یا نفرت وعناد کی صورت میں اور یہ دونوں ہی چیزیں معاشرے کے اندر زہر پھیلا نے والی ہیں۔ انفسکم یہاں اسی طرح استعمال ہوا ہے جس طرح النسآء کی آیت 29 میں لاتقتلوا انفسکم (اپنے آپ کو قتل نہ کرو) آیا ہے۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان پر طعن کرتا ہے وہ گویا اپنے ہی اوپر طعن کرتا ہے اس لئے کہ تمام مسلمان آپس میں انما المومنون اخوۃ کے اصول پر بھائی بھائی ہیں تو جس نے اپنے کسی بھائی کو اپنے کسی طعن و طنز کا ہدف بنایا اس نے گویا اپنے ہی سینہ کو اپنے تیر کا نشانہ بنایا اور اپنے ہی کو مجروح کیا۔ ولا تنا بزوا بالالقاب تنابزوا بالالقاب، کے معنی آپس میں ایک دوسرے پر برے القاب چسپاں کرنا ہے۔ اچھے القاب سے ملقب کرنا جس طرح کسی فرد یا قوم کی عزت افزائی ہے اسی طرح برے القاب کسی پر چسپاں کرنا اس کی انتہائی توہین و تذلیل ہے ہجو یہ القاب لوگوں کی زبانوں پر آسانی سے چڑھ جاتے ہیں اور ان کا اثر نہایت دور رس اور نہایت پائیدار ہوتا ہے۔ ان کی پیدا کی ہوئی تلخیاں پشت ہا پشت تک بای رہتی ہیں اور اگر معاشرے میں یہ ذوق اتنا تریق کر جائے کہ ہر گورہ کے شاعر، ادیب، ایڈیٹر اور لیڈر اپنی ذہانت اپنے حریفوں کے لئے برے القاب ایجاد کرنے میں لگا دیں تو پھر اس قوم کی خیر نہیں ہے۔ اس کی وحدت لازماً پارہ پارہ ہو کے رہتی ہے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ دور جاہلیت میں عربوں کے اندر یہ ذوق بدرجہ کمال ترقی پر تھا۔ قبیلہ کا سب سے بڑا شاعر اور خطیب وہی مانا جاتا جو دوسروں کے مقابل میں اپنے قبیلہ کے مفاخر بیان کرنے اور حریفوں کی ہجود تحقیر میں یکتا ہو۔ ان کے ہجویہ اشعار پڑھیے تو کچھ اندازہ ہوگا کہ اس فن شریف میں انہوں نے کتنا نمایاں مقام حاصل کرلیا تھا۔ ان کی اس چیز نے ان کو کبھی ایک قوم بننے نہیں دیا۔ وہ برابر اپنوں ہی کو گرانے اور بچھاڑنے میں لگے رہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام نے ان کو انسانی وحدت اور ایمانی ہم آہنگی سے آشنا کیا جس کی بدلوت وہ دنیا کی ہدایت و قیادت کے اہل بنے۔ قرآن نے یہاں ان کو دور جاہلیت کے انہی فتنوں سے آگاہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان وا سلام کی برکات سے نوازا ہے تو اس کی قدر کرو۔ شیطان کے ورغلانے سے پھر انہی لاف زینوں اور خاک بازیوں میں نہ مبتلا ہوجانا جن سے اللہ نے تمہیں بچایا ہے۔ بس الاسم انفسوق بعد الایمان بئس اور نعم کے اندر فی الجملہ مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے اس کا ٹھیک معنی خیز ترجمہ یہ ہوگا کہ نہایت ہی برا لفظ ہے فسق ایمان کے بعد یہ اسی طرح کی بات ہے جس طرح کہیں ا لشریر کا سمہ، شریر کا تو لفظ بھی برا ہے پھر شریر کے برے ہنے کا کیا ٹھکانہ ہے ! ہماری زبان میں بھی کسی شے کی انتہائی برائی کے اظہار کے لئے یہ اسلوب موجود ہے۔ مثلاً کہتے ہیں بھائی اس چیز کے تو نام سے بھی گھن آتی ہے۔ بعد الایمان کے اضافہ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اگر تم ایمان سے آشنا نہ ہوئے ہوتے اور تم سے کوئی بات فسق کے قسم کی صادر ہوجاتی تو یہ چیز زیادہ تعجب انگیز نہ ہوتی لیکن جب تمہیں اللہ نے ایمان کی حلاوت سے آشنا کردیا، جیسا کہ فرمایا ہے وکرہ الیکم الکفروالفسوق و العصیان تو اب تو تمہیں فسق کے نام سے بھی گھن محسوس کرنی چاہئے۔ چہ جائیکہ تم سے کسی عمل فسق کا صدور ہوا۔ اس ٹکڑے سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اوپر جن چیزوں سے روکا گیا ہے یہ سب فسق میں داخل ہیں اور اہل ایمان کی حس ایمانی اتنی بیدار ہونی چاہئے کہ ارتکاب فسق تو درکنار لفظ فسق سے بھی وہ نفور و بیزار ہوں۔ ومن لم یتب فاولئک ھم الظلمون یہ نہایت سخت الفاظ میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو اس وضاحت کے بعد بھی اس قسم کے کسی فسق کے مرتکب ہوں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ ان باتوں سے توبہ نہیں کریں گے وہ یاد رکھیں کہ ظالم وہی ٹھہریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے سامنے ایمان کی برکتیں بھی واضح کردی ہیں اور ان کو کفر و فسق کے نتائج سے بھی اچھی طرح آگاہ کر کردیا ہے۔ اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ اپنی روش سے باز نہیں آئیں گے وہ اس کے نتائج سے لازماً دوچار ہوں گے اور یہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔ بعض ممائیاں جو بظاہر چھوٹی لیکنک باطن کے اعتبار سے بڑی ہیں
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، بہت سے گمانوں سے بچوں، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں اور ٹوہ میں نہ لگو اور نہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائیکا گوشت کھائے ! سو اس چیز کو تو تم نے ناگوار جانا ! اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا، مہربان ہے

یا یھا الذین امنوا اجتنبوا کثیراً من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسوا ولایغتب بعضکم بعضاً ط ایحب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا فکرھتموہ واتقوا اللہ ط ان اللہ ت واب رحیم 12 یہ اہل ایمان کو از سر نو خطاب کر کے بعض ایسی باتوں سے روکا گیا ہے جو بظاہر تو معمولی نظر آتی ہیں لیکن یہ انسان کے خود اپنے دل کو ایسے روگ میں مبتلا کردیتی ہیں کہ وہ تقویٰ کی روئیدگی کے لئے بالکل ناساز گار ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے جن کو ایمان عزیز ہو ان کے لئے ضرویر ہے کہ وہ ان آفتوں سے اپنے کو محفوظ رکھیں۔ بدگمانی پہلی بات یہ ارشاد ہوئی کہ انسان اپنے دل کو دوسروں سے متعلق بدگمانیوں کی پرورش گاہ نہ بنالے کہ جس کی نسبت جو براگمان بھی دل میں پیدا ہوجائے اس کو کسی گوشے میں محفوظ کرے۔ انسان کو جن سے زندگی میں واسطہ پڑتا ہے ان کی بابت کوئی اچھا یا برا گمان دل میں پیدا ہونا ایک امر فطری ہے۔ یہی گمان آدمی کو آدمی سے جوڑتا یا توڑتا ہے اس پہلو سے معاشرے میں یہ وصل و فصل کی بنیاد ہے۔ اس کی اس اہمیت کا تقاضا ہے کہ آدمی اس کے رد و قبول کے معاملے میں بھی بےپروا و سہل انکار نہ ہو بلکہ نہایت ہوشیار اور بیدار مغز ہے اہل ایمان کو اسلام نے اس بابب میں یہ رہنمائی دی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان رکھے الا آنکہ یہ ثابت ہوجائے کہ وہ اس نیک گمان کا سزاوار نہیں ہے۔ یہ نیک گمانی اس ایمانی اخوت کا لازمی تقاضا ہے جس پر اسلام نے معاشرے کی بنیاد رکھی ہے اور جس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے اگر کوئی شخص اس کے برعکس یہ اصول ٹھیرا لے کہ جو رطب و یا بس گمان اس کے دل میں پیدا ہوتے جائیں ان سب کو سنت کے رکھتا جائے تو گمانوں کے ایسے شوقین کی مثال اس شکاری کی ہے جو مچھلیاں پکڑنے کے شوق میں ایسا اندھا ہوجائے کہ مچھلیاں پکڑتے پکڑتے سانپ بھی پکڑ لے۔ ظاہر ہے کہ مچھلیوں کے شوق میں جو شخص ایسا اندھا بن جائے گا اندیشہ ہے کہ اسی شوق میں کسی دن وہ اپنی زندگی ہی گنوا بیٹھے گا۔ قرآن نے یہاں اسی خطرے سے مسلمانوں کو روکا ہے کہ گمانوں کے زیادہ در پے نہ ہو کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں جو انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں۔ اس سے یہ تعلیم نکلی کہ ایک مومن کو بدگمانیوں کا مریض نہیں بن جانا چاہئے بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں سے حسن ظن رکھنا چاہئے۔ اگر کسی سے کوئی ایسی بات صادر ہو جو بدگمانی پیدا کرنے والی ہو تو حتی الامکان اسکی اچھی توجیہ کرے اگر کوئی اچھی توجیہ نکل سکتی ہو۔ اس کے برے پہلو کو اسی شکل میں اختیار کرنا جائز ہے جب اس کی کوئی اچھی توجیہ نہ نکل سکے۔ اگر بدگمانی کے سزا وار سے آدمی کو خوش گمانی ہو تو یہ اس بات کے مقابل میں اہوں ہے کہ وہ کسی خوش گمانی کے حقدار سے بدگمانی رکھے۔ حدیث شریف میں مومن کی تعریف یہ آئی ہے کہ المومن عد کریم (مومن بھولا بھالا شریف ہوتا ہے) اس زمانہ میں لوگوں کا عام پسندیدہ اصول یہ ہے کہ ہر شخص سے بدگمانی رکھو الاآن کہ وہ ثابت کر دے کہ وہ اپنے گوں کا آدمی ہے۔ اس چیز کو لوگ سیاست اور زیر کی خیال کرتے ہیں۔ دشمن کے مقابل میں تو یہ زیر کی وہو شیاری ضروری ہے۔ اشدآء علی الکفار کے تحت ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں لیکن اہل ایمان کے مقابل میں یہ سیاست کس طرح صحیح ہو سکتی ہے جب کہ ان کو اذلۃ علی المومنین اور رحمآء بینھم ہونے کی قرآن نے ہدایت فرمائی ہے ؟ تجسس دوسری بات آیت میں یہ فرمائی گئی ہے کہ ولاتجسسوا (ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لوگ) جس طرح اوپر والے ٹکڑے میں اچھے گمان سے نہیں بلکہ برے گمان سے روکا گیا ہے اسی طرح یہاں ممانعت اس ٹوہ میں لگنے کی ہے جو برے مقصد سے ہو۔ یعنی تلاش اس بات کی ہو کہ دوسرے کی پرائیویٹ زندگی سے متعلق کوئی بات ہاتھ آئے جس سے اس کی خامیوں سے آگاہی اور اس کے اندرون خانہ کے اسرار تک رسائی ہو۔ یہ چیز کبھی تو حسد کے جذبہ سے پیدا ہوتی ہے کہ حریف کی زندگی کا کوئی ایسا پہلو سامنے آئے جس سے کلیجہ ٹھنڈا ہو۔ کبھی بغض وعناد کی شدت اس کا باعث ہوتی ہے کہ کوئی ایسی بات ہاتھ لگے جس کی عند الضرورت تشہیر کر کے مخالف کو رسوا کیا جاسکے۔ اس زمانے میں اس نے ایک پیشہ کی شکل بھی اختیار کرلی ہے جس کو جدید اخبار نویسی نے بہت ترقی دی ہے۔ بعض اخبار نویس رات دن کسی نہ کسی اسکینڈل کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ شاطر وہ اخبار نویس سجھا جاتا ہے جو کسی نمایاں شخصیت کی پرائیویٹ زندگی سے متعلق کوئی ایسا اسکینڈل تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائے جس سے اس کا اخبار یا رسالہ ہاتھوں ہاتھ بکے۔ اس طرح کا تجسس ظاہر ہے کہ اس اخوت اور باہمی ہمدردی کے بالکل منافی ہے جو اسلامی معاشرہ کی اساس ہے، اسی وجہ سے اہل ایمان کو اس سے روکا گیا ہے۔ رہا وہ تجسس جو ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے حالات کا اس مقصد سے کرتا ہے کہ اس کی مشکلات و ضروریات میں اس کا ہاتھ بٹا سکے یا ایک اسلامی حکومت اس غرض سے کرتی ہے کہ رعایا کے حالات سے وپری طرح باخبر رہے تو یہ تجسس نہ یہاں زیر بحث ہے اور نہ یہ ممنوع ہے بلکہ ہر شریف پڑوسی کے لئے یہ نہایت نیکی کا کام ہے کہ وہ اپنے پڑوسویں کے حالات و مسائل سے آگاہ رہے تاکہ ان کی مشکلات میں انکی مدد کرسکے اور حکومت کے لئے تو یہ صرف نیکی ہی نہیں بلکہ اس کا فریضہ ہے کہ وہ رعایا کے اچھے اور برے دونوں طرح کے حالات سے پوری طرح باخبر رہنے کا اہتمام رکھے تاکہ اپنی ذمہ داریوں سے صحیح طور پر عہدہ برآ ہو سکے۔ غیبت تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ ولایغتب بعضکم بعضاً (تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے) غیبت کے معنی کسی کی اس کی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرن کے ہیں۔ یٹھ پیچھے کے مفہوم ہی میں یہ بات داخل ہے کہ غیبت کرنے والا چاہتا ہے کہ اس کے اس فعل کی خبر اس کو نہ ہو جس کی وہ برائیاں بیان کر رہا ہے۔ اسی خواہش کی بنا پر وہ یہ کام اس کے پیٹھ پیچھے صرف ان لوگوں کے سامنے کرتا ہے جو یا تو اس کے ہم راز و ہم خیال اور شریک مقصد ہوتے ہیں یا کم از کم ان سے یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ وہ اس کے ہمدرد ہوں گے جس کی وہ برائی بیان کر رہا ہے اور اس کے سامنے یہ راز فاش کردیں گے۔ غیبت کی یہی خصوصیت اس کو ایک نہایت مکرروہ اور گھنونا فعل بناتی ہے اس لئے کہ اس سے نہ کسی حق کی حمایت و حمایت کا مقصد حاصل ہوتا نہ کسی اصلاح کی توقع ہو سکتی ہے بلکہ اس طرح ایک بزدل شخص کسی کے خلاف صرف اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض خوش فہم کسی کی برائی کے ذکر کی ہر صورت کو غیبت قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک محدثین کا راویوں پر جرح کرنا، کسی کے خلاف عدالت میں گواہی دینا، کسی کے منکر پر نکیر کرنا، کسی کے خلاف تھا نے میں رپٹ لکھوانا، کسی کے باب میں کسی مشورہ چاہنے والے کو اس کے کسی واقعی عیب سے آگاہ کرنا اور اس قبیل کی ساری ہی باتیں ہیں تو داخل غیبت، لیکن یہ غیبتیں حکمت عملی کے تحت جائز کردی گئی ہیں۔ پھر وہ یہیں سے اپنے لئے ایک شرعی اصول یہ نکال لیتے ہیں کہ شریعت کی تمام حرمتیں ابدی نہیں ہیں اس وجہ سے انہیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ ان کی حکمت عملی کسی حرام کو مباح کرنے کی اگر مقتضی ہو تو وہ اس کو جائز قرار دے سکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ دین کے خل اف ایک نہایت شدید قسم کا فتنہ ہے جس سے بہت سے نئے فتنوں کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم نے اس کی رتدید میں مستقل مضامین بھی کلھے ہیں اور یہاں بھی ہم آگے ایک مستقل فصل میں اس کے بعض پہلوئوں پر روشنی ڈالیں گے۔ ایحب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا فکر ھمتوہ یہ غیبت کے گھنونے پن کو مثال سے واضح فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے کسی بھائی کی، اس کے پیٹھ پیچھے برائی بیان کترا ہے وہ گویا اس حال میں اس کا گوشت کھا رہا ہے جب کہ وہ مردہ پڑا ہوا اور اپنی مدافعت سے بالکل قاصر ہے۔ فرمایا کہ یہ چیز تو ایسی ہے کہ تم میں سے کوئی بھی اس کو پسند نہیں کرتا، تو جب تم اس کو گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں ہو تو اسی طرح کی مکروہ چیز، غیبت کو کیوں گوارا کرو، فیتاً یہاں اخیہ میں مضاف سے حال پڑا ہوا ہے اور یہ تصویر ہے اس کی اپنی مداعفت سے بےبسی کی۔ واتقوا اللہ ط ان اللہ تو اب رحیم یہ تنبیہ بھی ہے اور توبہ و اصلاح حال کی ترغیب بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈرو جو لوگ اس طرح اپنے بھائیوں کا گوشت مفت کھانے کے عادی ہوجاتے ہیں ان کو اس کی ایسی چاٹ پڑجاتی ہے کہ وہ اس کے پیچھے اپنا ایمان ہی گنوا بیٹھتے ہیں۔ اللہ نے تمہیں بروقت تنبیہ فرما دی ہے تاکہ توبہ اور اصلاح کر کے اپنے کو اس خطرہ سے محفوظ کرلو۔ اگر تم نے توبہ کرلی تو اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا اور اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے۔ ان دونوں آیتوں (12-11) میں جن چھ باتوں سے روکا گیا ہے ان پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے اوپر کی تین باتیں … مذاق اڑانا، طعن کرنا اور برے القاب چسپاں کرنا ان برائیوں میں سے ہیں جن کا ارتکاب انسان علانیہ پبلک میں کرتا ہے۔ باقی تین برائیاں … سوء ظن، تجسس اور غیبت … انسان کی پرائیویٹ زندگی سے تعلق رکھنے والی ہیں جن کو وہ دوسروں سے چھپا کر یا اپنے محرمان راز کے اندر محدود رکھ کر کرتا ہے۔ ان دونوں ہی قسم کی برائیوں کی ممانتع اسلامی تزکیہ و تطہیر کے اس اصول پر مبنی ہے جو قرآن میں وزروا ظاھر الاثم و باطنہ (الانعام :120) (اور گناہ کے ظاہر اور اس کے باطن دونوں ہی کو چھوڑو) کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ جب تک انسان اپنے آپ کو ان برائیوں سے پاک نہیں کرتا جو اس کے باطن سے تعلق رکھنے والی ہیں، اس وقت تک اس کے اندر اللہ تعالیٰ کے علام الغیوب ہونے کا وہ شعور راسخ نہیں ہوتا جس کے بغیر دل کے اندر تقویٰ کی روئیدگی بالکل خارج از امکان ہے۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک ہی نر اور ناری سے پیدا کیا ہے اور تم کو کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے کہ تم باہمدگر تعارف حاصل کرو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ اشرف وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ بیشک اللہ بڑا ہی علیم وخبیر ہے

یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی وجعلنکم شعو با وقبآئل لتعارفوا ط ان اکرمکم عند اللہ اتقکم ط ان اللہ علیم خبیر 13 نسل اور خادنانی غرور پر ضرب ایک عام خطاب سے یہ اس نسلی، خاندانی اور قبائلی غرور کا یک قلم خاتمہ کردیا جو ان برائیوں میں سے اکثر کا سبب بنتا ہے جو اپور بیان ہوئی ہیں۔ فرمایا کہ اے لوگو ! اس حقیقت کو اچھی طرح ذہین نشین رکھو کہ ہم نے سب کو ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے پیدا کیا ہے۔ یعنی تمام بنی نوع انسان کا آغاز آدم اور حوا ہی سے ہوا ہے اس وجہ سے باعتبار خلقت کسی کو کسی پر کوئی شرف و تفوق حاصل نہیں ہے۔ خادنانوں اور قبائل کی تقسیم محض تعارف اور شناخت کے لئے ہے کسی خاص خاندان یا قبیلہ کو اللہ تعالیٰ نے بجائے خود یہ امتیاز نہیں بخشا ہے کہ جو اس میں پیدا ہو وہ اللہ کے ہاں معزز بن جائے اور دوسروں کے مقابل وہ اپنے کو اشرف و اعلیٰ سمجھنے لگے جس طرح اللہ نے لوگوں کی شکلوں ان کے رنگوں اور ان کے قدو قامت میں فرق رکھا تاکہ لوگ ایک دوسرے کو شناخت کرسکیں اسی طرح خادنانوں اور قبیلوں کی حد بندیاں قائم کردیں تاکہ لوگ ایک دوسرے کو شناخت کرسکیں اسی طرح خاندانوں اور قبیلوں کی حد بندیاں قائم کردیں تکاہ لوگ ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔ اس سے زیادہ ان حد بندیوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے کسی خاندان یا قبیلہ کے لوگ اس پندار میں مبتلا ہوجائیں کہ وہ اللہ کے نزدیک معزز ہیں، اس نے ان کو دوسروں پر کوئی برتری بخشی ہے۔ اللہ کے ہاں عزت کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔ اس کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو اس سے سب سے زیادہ ڈرنے ولا اور اس کی حدود کی سب سے بڑھ کر پابندی قائم رکھنے والا ہے۔ ان اللہ علیم خبیر یعنی اس مقرر کردہ معیار پر لوگوں کو پرکھنے میں اللہ تعالیٰ کو کوئی زحمت یا کوئی مغالطہ پیش آنے کا امکان نہیں ہے۔ وہ ہر چیز کو جانن والا اور ہر ایک کے ہر قول و فعل کی خبر رکھنے والا ہے جو عزت کا مستحق ہوگا وہ اپنا عزت کا مقام پا کے رہے گا، اگرچہ وہ کتنے ہی گمنام اور حقیر خادنان کے اندر سے اٹھا ہوا اور جو اس کا مستحق نہیں ہوگا وہ خواہ کتنا ہی بڑا قرشی و ہاشمی یا سورج منیسی اور چاند منیسی ہو لیکن اللہ تعالیٰ اس کو اسی کھڈ میں پھینکے گا جس کا وہ سزا وار ہوگا۔ 5۔ اس مجموعہ آیات کی بعض ہدایات کی وضاحت اس مجموعہ آیات میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں ان کی بقدر ضرورت وضاحت آیات کے تحت ہم کرتے آئے ہیں، لیکن تجسس اور غیبت کے بعض پہلو مزید وضاحت کے محتاج ہیں۔ یہاں ہم ان کو بھی صاف کردینا چاہتے ہیں۔ کیا حکومت کے لئے بھی لوگوں کے حالات کا تجسس جائز نہیں ہے اس زمانے میں چونکہ فرد کی آزدای کا تصور ذہنوں پر بہت غالب ہے اس وجہ سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے جس طرح عام افراد کو دوسروں کے احوال کے تجسس سے روکا ہے اسی طرح حکومت کے لئے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے حالات کا تجسس کرے۔ اس کو اپنا احتساب صرف ان معاملات تک محدود رکھنا چاہئے جو علائیہ طور پر اس کے نوٹس میں آجائیں۔ رہے اندرون خانہ کے معاملات تو وہ حکومت کے دائرہ احتساب سے خارج ہیں۔ اس کی تائید میں بعض لوگوں نے حضرت عمر کے ایک واقعہ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ ایک متربہ آپ نے رات میں ایک شخص کے گانے کی آواز سنی جو اپنے گھر میں گا رہا تھا۔ آپ کو شک گزارا تو آپ دیوار پچڑھ گئے۔ دیکھا کہ وہاں شراب بھی موجود ہے اور ایک عورت بھی آپ نے پکار کر ہا اے دشمن خدا کیا تو نے گمان کر رکھا ہے کہ تو اللہ کی نافرمانی کرے گا اور اللہ تیرا پردہ فاش نہ کرے گا ؟ اس نے جواب دیا۔ امیر المومنین جلدی نہ کیجیے اگر میں نے ایک گناہ کیا ہے تو آپ نے اکٹھے تین گناہ کر ڈالے ہیں۔ اللہ نے تجسس سے منع کیا تھا اور آپ نے تجسس کیا۔ اللہ نے حکم دیا کہ گھروں میں دروازوں سے داخل ہو اور آپ دیوار چڑھ کر آئے۔ اللہ نے حکم دیا تھا کہ دوسروں کے گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہو اور آپ میری اجازت کے بغیر میرے گھر میں داخل ہوئے۔ یہ جواب سن کر حضرت عمر اپنی غلطی مان گئے اور اس کے خلاف انہوں نے کوئی کارروائی نہ کی، البتہ یہ وعدہ لیا کہ وہ بھلائی کی راہ اختیار کرے گا۔ یہ روایت بعض حضرات نے مکارم اخلاق اور ترغیب و ترہیب کی نوعیت کی کتابوں میں درج کی ہے لیکن نہ سند کے اعتبار سے اس کا کوئی درجہ ہے اور نہ متن ہی کے پہلو سے یہ قابل اعتبار ہے۔ سند کے ضعف کے لئے تو یہی بات کافی ہے کہ بہت سے لوگ خاص طور پر ارباب تصوف اخلاق و موعظت کی روایات میں تحقیق سند کی اہمیت کے قائل ہی نہیں ہیں۔ جس قسم کے قصوں سے ان کے نزدیک کوئی مفید سبق حاصل ہوتا ہو ان کو بےتکلف بلا تحقیق سند و متن اپنی کتابوں میں درج کردیتے ہیں۔ رہا اس کا متن تو اس پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ واقعہ بالکل ہی بعید از عقل و قیاس ہے۔ اول تو یہی بات ناقابل قیاس ہے کہ کوئی شخص مدینہ منورہ میں، اور وہ بھی حضرت عمر کے دور خلافت میں ایسی جسارت کرسکے کہ شاہد و شراب کے ساتھ اس طرح رنگ رلیوں میں مصروف ہو کہ گانے کی آواز حضرت عمر کو باہر گلیوں میں سنائی دے اور ان کو اس بزم عیش میں خلل انداز ہونا پڑے۔ اگر عین مرکز اسلام میں فاروق اعظم کے دور میں شیطان کی جسارت کا یہ حال رہا ہے تو ماننا پڑے گا کہ حضرت عمر بھی شیاطن کو مرعوب نہ کرسکے حالانکہ نبی ﷺ کا اشراد ہے کہ عمر ؓ جس راستہ سے گزرتے ہیں شیطان وہ راستہ ہی چھوڑ کر ہٹ جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت کو باور کیجیے تو ماننا پڑے گا کہ حضرت عمر کو قرآن و حدیث کے یہ احکام معلوم نہیں تھے کہ کسی کے گھر میں اس کی دیوار پھاند کر داخل ہونا جائز نہیں ہے، بلکہ دروازے پر کھڑے ہو کر اسلام کر کے اجازت لینی چاہئے۔ اگر جازت ملے تو داخل ہونا چاہئے ورنہ تین بار سلام کر کے چپکے سے الٹے پائوں واپس ہوجانا چاہئے۔ کیا کوئی شخص عقل و ہوش رکھتے ہوئے یہ باور کرسکتا ہے کہ کتاب و سنت کے ان صریح احکام سے حضرت عمر کو پہلی ابر ایک رند شاہد بار نے آگاہ کیا ! کیا حضرت عمر کو کبھی سورة نور اور سورة حجرات کی تلاوت کا العیاذ باللہ موقع نہیں ملا تھا۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر حضرت عمر نے اپنی یہ تینوں غلطیاں نہایت سعادت مندی سے تسلیم کرلی تھیں تو اپنے عمال اور گورنروں کو یہ ہدایت نامہ کیوں نہیں جاری فرمایا کہ اب تک میں غلطی پر تھا کہ لوگوں کے گھروں کا تجسس کیا کرتا تھا، اب مجھ پر واضح ہوگیا کہ اس میں اکٹھی تین باتیں خلاف شریعت ہیں اس وجہ سے تم لوگ اندرون خانہ کے معاملات سے تعلق نہ رکھو۔ لوگ اپنے گھروں میں جو اودھ چاہیں مچائیں، اگر تمہیں شبہ گزرے تو دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کر کے اجازت مانگو، اگر اجازت ملے تو گھر کے اندر جائو ورنہ تین بار سلام کر کے واپس لوٹ آئو۔ جہاں تک ہمیں علم ہے حضرت عمر نے نہ صرف یہ کہ اس قسم کا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا بلکہ متعدد واقعات تاریخوں میں، ایسے موجود ہیں جو شاہد ہیں کہ ان کے عمال بھی تجسس کرتے رہے اور خود حضرت عمر بھی اس حد تک تجسس کرتے تھے کہ راتوں میں دودھ پیتے بچے روتے، تو وہ ان کے رونے کا سبب معلوم کرنے کی بھی کوشش کرتے۔ چوتھی بات ی ہے کہ اس روایت کو باور کیجیے تو یہ ماننا پڑے گا کہ ایک اسلامی حکومت میں اگر کچھ لوگ اپنے گھروں میں شرابیں پئیں، بازاری عورتوں سے رنگ رلیاں منائیں، رقص و سرور کی محفلیں گرم کریں یہاں تک کہ بم اور اسٹین گن کے ذخیرے بھی جمع کر چھوڑیں، تو بھی حکومت کی پولیس کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ان کے گھروں میں گھس کر انکے عیش کو مکدر کرے، یہاں تک کہ خلیفہ وقت کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ بدون اذن وہ ان کے گھروں میں داخل ہونے کی جرأت کرسکے اور کبھی غلطی سے اگر ایسی جرأت کر بیٹھے تو بس اتنی ہدایت فرما دیا کرے کہ آئندہ آپ لوگ اس طرح کی باتوں سے احتیاط کریں۔ یہ روایت اس قابل تو نہیں تھی کہ اس سے تعرض کیا جاتا لیکن اس کو اس زمانے میں ان لوگوں نے بڑے اعتماد سے پیشکای ہے جو رات دن اسلامی حکومت کا وظیفہ پڑھتے ہیں، اس وجہ سے اس سے تعرض کرنا پڑا۔ بہرحال یہ روایت ہمارے نزدیک بالکل ناقابل اعتبار ہے۔ ایک اسلامی حکومت لوگوں کے اخلاق و کردار کی بھی محافظ ہوتی ہے اور ملک کے امن، عدل اور اس کی سلامتی کی بھی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ جہاں کہیں اس کو کوئی شبہ گزرے وہ اس کا تجسس کرے لیکن ہر حق کے استعمال پر کچھ اخلاقی و قانونی پابندیاں ہوتی ہیں جن کا لحاظ حکومت کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ حکومت اگر ان کا لحاظ نہیں کرتی تو خواہ اس کا ہاتھ کوئی نہ پکڑ سکے لیکن عند اللہ وہ لوگ مجرم ٹھہریں گے جنہوں نے ایک ایسے حق کو پبلک کے بےگناہ افراد کو پریشان کرنے کے لئے استعمال کیا جو ان کو امن، عدل اور رعایا کی حفاظت کے لئے عطا ہوا تھا۔ مستحسن تجسس ر ہے عام افراد تو ان کو اس باب میں مندرجہ ذیل باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ جو تجسس کسی کی بھلائی کی خاطر، نیک ارادہ، نیک مقصد سے ہو وہ، جیسا کہ ہم آیت کے تحت عرض کرچکے ہیں، صرف یہی نہیں کہ ممنوع نہیں ہے بلکہ نہایت نیکی کا کام ہے۔ قرآن میں ہدایت ہے کہ خود دار غریبوں کی مدد کے لئے ان کو ڈھونڈھ کر خود ان کے پاس پہنچنے کی کوشش کرو۔ یہ توقع نہ رکھو کہ وہ تم سے لپٹ کر سوال کریں گے۔ اگر کسی شخص کے متعلق یہ شبہ ہو کہ اس کی در پردہ سرگرمیاں دوسرے بےگناہ افراد کے جان و مال اور آبرو کے لئے خطرہ ہیں یا ملک کے امن، عدل اور سلامتی کو ان سے نقصان متصور ہے تو اس کو پرایا جھگڑا سمجھ کر اس سے بےتعلق نہیں رہنا چاہئے۔ اگر اصلاح کرسکنے کی پوزیشن میں نہ ہو تو ان لوگوں کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرے جو اس کی اصلاح کرسکتے ہوں یا اس کا ہاتھ پکڑ سکتے ہوں یہ حقیقت نبی کریم ﷺ نے ایک کشتی کے مسافروں والی تمثیل میں سمجھائی ہے۔ اگر کسی شخص کو کوئی ایسی برائی علم میں آئے جو اس کی ذات ہی تک محدود ہو تو اس کو نصیحت کرے، اگر نصیحت کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ اگر اس پوزیشن میں نہ ہو تو اس سے غض بصر کرے اور پردہ ڈالے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے جو دوسروں کے عیوب پر پردہ ڈالتے ہیں لیکن اگر برائی متعدی نوعیت کی ہو تو نبی ﷺ کی اس پر ہدایت پر عمل کرے جو انکار منکر والی حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ قرآن و حدیث پر غور کرنے کا طریقہ قرآن و حدیث کے سمجھنے میں لوگوں کو زیادہ مغالطہ اس وجہ سے پیش آتا ہے کہ آیات و احادیث کا موقع و محل معین کرنے میں لوگ تدبر سے کام نہیں لیتے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض حدیثوں میں اپنے مسلمان بھائی کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے لیکن کوئی صاحب مجرد اس حدیث کی بنا پر اگر یہ تویٰ دے بیٹھیں کہ دوسروں کی نیکی بدی سے ہمیں کوئی رسوکار نہیں، ہمیں صرف اپنی ذات سے تعلق رکھنا چاہئے، کسی سے کوئی بدی ہمارے علم میں آئے بھی تو اس پر ہمیں پردہ ڈالنا چاہئے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہمارے گناہوں پر پردہ ڈالے گا تو گو اس فتوے کی تائید میں ایک حدیث موجود ہے لیکن یہ فتویٰ ذہنوں میں بڑی الجھن پیدا کر دے گا، اس لئے کہ دوسری حدیثوں میں یہ بات بھی نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو وہ اپنے ہاتھ سے اس کی اصلاح کر دے گا اگر اس کی طاقت رکھتا ہو، طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے اس کی اصلاح کرے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اس کو برا سمجھے، اس سے نیچے ایمان کا کوئی درجہ نہیں ہے۔ یہ الجھن ظاہر ہے کہ اس وجہ سے پیدا ہوگی کہ دونوں حدیثوں کا موقع و محل معین کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اگر دونوں کا موقع و محل معین ہوجائے تو کوئی الجھن نہیں پیدا ہوگی۔ ایک شخص کو اگر آپ دیکھتے ہیں کہ کھڑا ہو کر پیشاب کر رہا ہے تو یہ خیال کر کے غض بصر بھی کرسکتے ہیں کہ ممکن ہے کہ کوئی عذر ہو۔ اگر عذر نہ واضح ہو تو اس کو عمدہ طریقہ سے نصیحت بھی کرسکتے ہیں کہ یہ طریقہ تہذیب و شائستگی اور اسلامی آداب طہارت کے خلاف ہے۔ اگر نصیحت کرسکنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو اس کے اس اجڈ پن پر پردہ ڈالیے، اس کا اشہتار نہ دیجیے، انشاء اللہ آپ کی یہ پردہ پوشی آپ کے لئے عند اللہ موجب اجر ہوگی۔ لیکن ایک شخص کے متعلق اگر آپ یہ علم رکھتے ہیں کہ اس نے اپنے گھر میں شراب کی بھٹی بنا رکھی ہے یا حشیش کا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے یا اسلحہ چھپا رکھا ہے یا چکلہ قائم کر رکھا ہے اور آپ پولیس اور حکومت کو اطلاع دے سکنے کے پوزیشن میں ہونے کے باوجود اس خیال سے اس پر پردہ ڈالے ہوئے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کے گناہوں پر پردہ ڈالے گا تو میرے نزدیک یہ محض خوش فہمی ہے۔ اس طرح کی خوش فہمی میں پڑے ہوئے لوگ ثواب کمانا تو درکنار اپنے ایمان ہی گنوا بیٹھیں گے۔ غیبت کے باب میں بعض لوگوں کی غلط فہمی غیبت کے باب میں بھی بعض لوگوں نے قلت تدبر کے سبب سے اسی نوع کا خلط مبحث پیدا کردیا ہے۔ وہ غیبت کے حدود معین کرتے وقت بالکل بھول گئے کہ قرآن و حدیث میں جس طرح غیبت کی نہی وارد ہوئی ہے اسی طرح جرح و تعدیل، شہادت حق، انکار منگر، خیر خواہی مسلمین کے احکام بھی نہایت مثبت اور قطعی الفاظ میں وارد ہوئے ہیں۔ جب ان دونوں میں تطبیق کا سوال پیدا ہوا اور کوئی تطبیق ان کی سمجھ میں نہیں آئی تو انہوں نے یوں تطبیق پیدا کر ڈالی کہ ہیں تو یہ ساری باتیں داخل غیبت لیکن یہ اس لئے مباح کردی گئی ہیں کہ حکمت عملی ان کی مقتضی تھی۔ حالات جرح و تعدیل، شہادت حق، انکار منکر اور نصح مسلمین کے احکام مباحات میں سے نہیں بلکہ واجبات دین میں سے ہیں۔ اسلامی نظام کا سارا جمال و کمال انہی پر منحصر ہے۔ راویوں کی تحقیق اور جرح و تعدیل پر علم شریعت کی بنیاد ہے۔ شہادت حق اس امت کا وہ فریضہ منصبی ہے جس کے لئے یہ دنیا میں برپا کی گئی ہے، انکار منکر کے ساتھ اللہ اور رسول ﷺ نے اس امت کے قیام وبقاء کو وابستہ کیا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی خیر خواہی صرف اخوت ہی کا تقاضا نہیں ہے بلکہ اسی سورة میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ یہ ایمان کا بھی تقاضا ہے۔ یہ چیزیں امت پر غیبت کو مباح کر کے نہیں فرض کی گئی ہیں بلکہ ایمان کے تقاضوں کے تحت فرض کی گئی ہیں۔ رہی غیبت تو اس کا ایک خاص دائرہ ہے جس کی وضاحت آیت کے تحت ہم کر آئے ہیں۔ اس کی حرمت کسی پہلو سے بھی دین کے ان فرائض میں مخل یا مانع نہیں ہے کہ اس کو حکمت عملی کی خاطر مباح کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ نہ محدثین نے اس کو جائز قرار دیا ہے نہ مجددین و مصلحین نے اور نہ کسی مسلمان کو اپنے کسی دینی فرض کے ادا کرنے کے لئے کبھی اس کو مباح کرنے کی ضرورت پیش آسکتی۔ اس کی ضرورت پیش آسکتی تو ان لوگوں کو آسکتی ہے جو اسلامی شریعت کو اپنی حکمت عملی کی بازیگاہ بنانا چاہتے ہوں۔
Ayah 49:14

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

اہل بدو نے ہا کہ ہم ایمان لائے۔ ان کو بتا دو کہ تم ایمان نہیں لائے، ہاں، یوں کہو کہ ہم نے اطاعت کرلی اور ابھی ایمان تمہارے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوا ہے۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے ذرا بھی کم نہیں کرے گا۔ اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔

-6 آگے آیات 18-14 کا مضمون آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جس میں ان لوگوں کے باطن سے پردہ اٹھایا ہے جن کے رویہ پر ابتدائی پانچ آیات میں نکیر فرمائی ہے۔ وہاں ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ اطراف برینہ کے بعض قبائل اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر مسلمانوں میں شامل تو ہوگئے تھے لیکن مرکز سے دور ہونے کے باعث ان کی تربیت اچھی طرح نہیں ہوئی تھی۔ اس وجہ سے وہ اس زعم میں مبتلا تھے کہ نبی ﷺ اور اسلام پر ان کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ وہ بغیر لڑکے بھڑے اسلام میں داخل ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو اللہ و رسول کا محسن گمان کئے ہوئے بیٹھے تھے تو رسول اللہ ﷺ کا وہ ادب و احترام کس طح محلوظ رکھ سکتے تھے جو ایمان کا مقتضیٰ تھا۔ چناچہ ان سے اس طرح کی باتیں صادر ہوجاتی تھیں جن پر ابتدائی آیات میں گرفت فرمائی گی ہے لیکن انداز خطاب عام ہی رہا تاکہ جن کے اندر بھی یہ خامیاں ہوں وہ ان کی اصلاح کریں۔ چناچہ یہ صورتحال جن باتوں کی تعلیم کی مقتضی ہوئی وہ بتا دی گئیں۔ اب آخر میں ان کے نام کی تصریح کے ساتھ ان کی اصل بیماری کا پتہ دے دیا تاکہ وہ اس کے علاج کی طرف متوجہ ہوں اس لئے کہ اس بیماری کے ہوتے ایمان کا نشو و نما پنا ناممکن ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت قالت الاعراب امنا قل لم تومنوا ولکن قولوا اسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلوبکم وان تطیعوا اللہ ورسولہ لایلتکم من اعمالکم شیائً ط ان اللہ غفور رحیم 14 ان لوگوں کے غرورد پر ضرب جو اپنے کو اسلام کا محسن سمجھتے تھے اعراب سے مراد اطراف مدینہ کے وہی دیہاتی لوگ ہیں جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ یہ لوگ نبی ﷺ سے بات کرتے ہیں تو آپ کو اس طرح خطاب کرتے ہیں جس طرح کوئی شخص اپنے برابر کے آدمی کو خطاب کرتا ہے۔ اگر کبھی آپ سے ملنے آتے ہیں تو آتے ہی ان کی خواہش ہوتی ہے بلاتاخیر آنحضرت ﷺ ان سے ملاقات کریں۔ یہاں تک کہ اگر آپ گھر کے اندر تشریف فرما ہوتے ہیں تو یہ انتظار کی زحمت اٹھاناگوارا نہیں کرتے بلکہ گھر کے باہر ہی سے آپ کو نام لے کر پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کے اس گنوار پن میں جہاں تربیت سے محرومی کو دخل تھا وہیں اس بات کو بھی دخل تھا کہ یہ لوگ اس وہم میں مبتلا تھے کہ انہوں نے بغیر کسی جنگ وجدال کے اسلام میں داخل ہو کر آپ ﷺ کے اوپر احسان کیا ہے جس کا صلہ ان کو یہ ملنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ ان کو اپنا اور اسلام کا محسن سمجھیں اور ہر موقع پر ان کی ناز برداری فرمائیں۔ ان لوگوں کی اسی ذہنیت پر یہاں ضرب لگائی جا رہی ہے۔ قالت الاعراب امنا فرمایا کہ یہ عاراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں ! ان کے اس قول کا حوالہ یہاں محض ان کے اقرار ایمان کی حیثیت سے نہیں دیا گیا ہے بلکہ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا کہ یہ بات وہ بطور اظہار احسان کہتے تھے۔ یعنی وہ ضیغمبر ﷺ پر بات بات میں یہ احسان جتاتے تھے کہ انہوں نے ایمان قبول کر کے آپ کی عزت و شوکت بڑھائی ہے۔ اس وجہ سے وہ حقدار ہیں کہ پیغمبر ﷺ ہر جگہ ان کا لحاظ فرمائیں اور جو مشورے وہ دیں ان کو بسر و چشم قبول کریں۔ قل لم لو منوا ولکن قولوآ اسلمنا پیغمبر ﷺ کی زبان مبارک سے ان کو جواب دلوایا گیا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ تمہارا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ تم ایمان لائے ہو البتہ یہ دعویٰ تم کرسکتے ہو کہ تم نے اطاعت کرلی ہے۔ لفظ اسلام یہاں اپنے لغوی مفہوم یعنی ظاہری اطاعت کے معنی میں ہے۔ اسلام کا حقیقی مفہوم تو اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کردینے کا ہے، لیکن یہ مجرد ظاہری اطاعت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ان دونوں معنوں کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے یہاں یہ اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ان لوگوں کی نسبت ہم اوپر ظاہر کرچکے ہیں کہ دعوت ایمان سے زیادہ اسلام کی ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت سے مرعوب ہو کر یہ لوگ مسلمانوں میں شامل ہوگئے تھے اس وجہ سے ایمان کی روح ان کے دلوں میں ابھی نہیں اتری تھی البتہ اسلام کے سیاسی اقدار کے ماتحت یہ لوگ آگئے تھے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے جواب دیا کہ ایمان کا دعویٰ تو ابھی تمہیں زیب نہیں دیتا البتہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ تم نے اسلام کے اقتدار کے سانے سر جھکا دیا ہے۔ اس جواب کے اندر یہ بات مضمر ہے کہ جب تم نے اسلام کی سیاسی طاقت سے مرعوب ہو کر اطاعت کی ہے تو یہ چیز جتانے کی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ایک قسم کی مغلوبیت ہی ہے، بس یہ فرق ہے کہ تم بغیر مقابلہ کئے مغلوب ہوگئے اور یہ چیز ایسی نہیں ہے کہ اس کا احسان جتائو۔ ایمان کی حقیقت ولما یدخل الایمان فی قلوبکم یعنی ابھی اپنے ایمان کی حمایت زیادہ نہ بڑھائو اس نے تمہارے دلوں کے دروازے پر دستک ضروری ہے لیکن وہ دلوں کے اندر گھسا نہیں ہے۔ یہ ایمان اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں معتبر ایمان وہ ہے جو رگ و پے میں اترے و ردل کو اپنے رنگ میں اس طرح رنگ لے کر اس سے الگ ہو کر سوچنا اور کوئی عمل کرنا انسان کے لئے آسان نہ رہ جائے۔ فان تطیعوا اللہ و رسولہ لایلتکم من اعمالکم شیاً ، یہ ان کے اظہار احسان پر تنبیہ ہے کہ اگر تم ایمان لائے یا تم نے اسلام کی کوئی خدمت کی تو اس کا احسان کیوں جتائو ! اللہ تمہارے کسی عمل میں ذرا بھی کمی کرنے والا نہیں ہے بلکہ ہر چھوٹے بڑے عمل کا بھرپور صلہ دینے والا ہے۔ ایک کرو گے، ستر پائو گے۔ تمہارا ہر عمل تمہارے ہی کام آنے والا ہے، خدا کے کام آنے والا نہیں ہے تو جب تم اپنا ہی کام کر رہے ہو تو اس کا احسان اللہ اور رسول پر کیوں رکھتے ہو ! ان اللہ غفور رحیم اللہ تعالیٰ بڑا ہی غفور رحیم ہے۔ وہ تمہاری کوتاہیوں اور خامیوں سے درگزر فرمائے گا، صلہ دینے میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ تمہارے اعمال کی قیمت کم کرنے کے لئے تمہارے چھوٹے نقائص کو بہانہ بنائے۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر اب تک تمہارے ذہن میں یہ غلطی سمائی رہی کہ اسلام کے لئے تم نے جو کچھ کیا یہ اللہ اور رسول پر تمہارا احسان ہے تو اب اس تنبیہ کے بعد تم اس غلطی کی اصلاح کرو اور اللہ سے مغفرت مانگو، وہ تمہاری مغفرت فرمائے گا۔ وہ بڑا ہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
Ayah 49:15

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہیں پڑے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ سچے ہیں۔

انما المومنون الذین امنوا باللہ ور سولہ ثم لم یرتابوا وجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ ط اولٓئک ھم الصدقون 15 حقیقی اہل ایمان کے اوصاف فرمایا کہ ہر مدعی ایمان، اللہ کے نزدیک مومن نہیں بن سکتا۔ حقیقی مومن اللہ کے نزدیک وہی ہیں جو اللہ اور رسول پر صدق دل سے ایمان لائے، پھر شک و تذبذب میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ مال و جان دونوں سے اللہ کی راہ میں برابر جہاد کیا۔ اپنا مال بھی دین کی تقویت و تائید کے لئے صرف کیا اور جان قربان کرنے کی نوبت آئی تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا۔ فرمایا کہ یہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے ہیں لیکن اپنے تذبذب کے سبب سے اس راہ میں نہ کوئی چوٹ کھانے کے لئے تیار ہیں اور نہ جان و مال کی قربانی کا کوئی حوصلہ رکھتے ہیں، وہ محض دکھاوے کے مجنوں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ یہاں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ جاھدوا باموالھم وانفسم کا ذکر ان کے عدم تذبذب کی شہادت کے طور پر ہوا ہے۔ ایک شخص اگر ایک نصب العین کے لئے جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا تو یہ ایک ناقابل انکار شہادت اس بات کی ہے کہ اس کو اس نصب العین کی صداقت پر پورا یقین ہے اور اگر وہ اس کی خاطر نہ مال قربان کرنے پر تیار ہے نہ اپنی جان کو کسی خطرے میں ڈالنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو اگرچہ وہ اس کے عشق میں کتنی ہی لاف زنی کرے لیکن اس کا عمل گواہ ہے کہ وہ اس کے باب میں ابھی مبتلائے شک ہے۔
Ayah 49:16

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

کہہ دو ، کیا تم اپنے دین سے اللہ کو آگاہ کر رہ ہو ! درآنحالیکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہے

قل اتعلمون اللہ بدینکم واللہ یعلم ما فی السموت و ما فی الارض ط واللہ بکل شیء علیم 16 یعنی یہ لوگ بڑے سرپرستانہ انداز میں کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں تو ان سے پوچھو کہ کیا تم لوگ اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کر رہے ہوا اگر یہ لوگ اللہ کو آگاہ کر ہے ہیں تو ان کو بتا دو کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور اللہ ہر بات سے باخبر ہے۔ وہ فعلاً بھی ہر چیز کو جانتا ہے اور صفتاً بھی ہر بات سے باخبر ہے۔ کوئی چیز بھی اس سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو اپنے ایمان پر ناز ہے تو اس پر وہ کسی ایسے کے سامنے ناز کریں جو ان کے دین و ایمان سے بیخبر ہو۔ اس کے سامنے ناز کرنے سے کیا فائدہ جو اس کائنات کے ہر سرو علانیہ سے اچھی طرح آگا ہ ہے۔ کیا جو ہر چیز سے آگاہ ہے وہ ان کے ایمان کے طول و عرض سے آگاہ نہیں ہوگا۔
Ayah 49:17

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

یہ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ یہ لوگ اسلام لائے کہہ دو کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو بلکہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی توفیق بخشی، اگر تم سچے ہو۔

یمنون علیک ان اسلموا قل لاتمنوا علی اسلامکم بل اللہ یمن علیکم ان ھدلکم للایمان ان کنتم صدقین 17 مدعیان احسان کو جواب ان لوگوں کے دعوائے ایمان کی قلعی کھولنے کے بعد ان کے دعوائے اسلام کی حقیقت واضح فرمائی کہ یہ لوگ تمہارے اوپر (خطاب نبی ﷺ سے ہے) احسان جتاتے ہیں کہ وہ اسلام لائے۔ یعنی ان کا زعم یہ ہے کہ اسلام لا کر انہوں نے پیغمبر کی عزت بڑھائی اور اسلام کو قوت و شوکت بخشی اس وجہ سے وہ پیغمبر اور اسلام دونوں کے محسن ہیں اور پیغمبر کا فرض ہے کہ وہ ان کے اس احسان کا احترام کریں۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم لوگ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتائو۔ اگر تم فی الواقع اپنے دعوے میں سچے ہو تو تمہارا احسان میرے اوپر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان تمہارے اوپر ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی توفیق بخشی۔ ان کنتم صدقین کے الفاظ پر نظر رہے، یعنی اول تو تمہارا ایمان و اسلام کا دعویٰ ہی محض لاف زنی ہے اور اگر تمہاری بات میں کچھ صداقت ہے تو تمہیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس نے تمہیں اس کی توفیق بخشی۔ ہدایت کے بعدل، کا صلہدلیل ہے کہ یہ لفظ یہاں توفیق کے مضمون پر متضمن ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دین کی کوئی چھوٹی یا بڑی خدمت کر کے کوئی شخص نہ اللہ و رسول پر کوئی احسان کرتا نہ دین پر بلکہ وہ خود اپنے اوپر احسان کرتا ہے کہ اپنی عاقبت سنوارتا ہے۔ احسان، درحقیقت، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے کہ وہ اس کو اپنے دین کی خدمت کی توفیق دے کر اس کے لئے ابدی فیروز مندی کی راہ کھولتا ہے۔ یہاں اس بات پر بھی نظر رہے کہ نبی ﷺ کی زبان سے یہ جواب نہیں دلوایا گیا کہ تم لوگ اپنے ایمان و اسلام کا احسان مجھے نہ جتائو، بلکہ میرا احسان تمہارے اوپر ہے کہ میں نے تمہارے سامنے ہدایت کی راہ کھولی۔ اگر یہ جواب دلوایا جاتا تو اس کا ایک محل تھا، لیکن نبی جو کچھ کرسکتا ہے وہ صرف اتنا ہی ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت کی راہ پر لانے کے لئے اپنی ساری طاقت صرف کر دے لیکن لوگوں کو ہدایت کی توفیق دینا اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ اس کی توفیق بخشنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے اور معاملہ کا سارا انحصار اسی توفیق بخشی پر ہے۔
Ayah 49:18

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

اللہ جانتا ہے آسمانوں او زمین کے سارے غیب کو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

ان اللہ یعلم غیب السموت والارض ط واللہ بصیر بما تعملون 18 وہی آیت 16 والا مضمون ایک دوسرے اسلوب سے بیان فرمایا کہ اپنے ایمان و اسلام کو زیادہ بتانے اور جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ آسمانوں اور زمین کے سارے بھیدوں کو خود جانتا ہے اور یہ یاد رکھو کہ اللہ تمہارے سارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصل چیز دعویٰ نہیں بلکہ عمل ہے۔ اگر عمل کرو گے تو تمہارا دعویٰ بغیر اظہار و اعلان کے اللہ کے ہاں ثابت ہوجائے گا اور اگر عمل نہیں کرو گے تو زبان سے کتنا ہی دعویٰ کرو، یہ بالکل بےحقیقت و بےسود ہوگا۔ بتوفیق ایزدی ان سطور پر اس گروپ کی آخری سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد اللہ علی ذلک رحمن آباد 13 دسمبر 1976 ء 20 ذی الحجہ 1396 ء