51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 51:22

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور آسمان میں تمہاری روزی بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے۔

وفی السمآء رزقکم وما توعدون (22) آسمان کی نشانیوں کی طرف اشارہ اب یہ آسمان کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ دیکھو اس کے اندر تمہارا رزق بھی ہے اور وہ عذاب بھی ہے جس سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے۔ رزق سے مراد بارش ہے جو رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ سبب بول کر مراد اس سے مسبب کو لیا ہے جو عربیت کا معروف اسلوب ہے۔ وما توعدون سے جیسا کہ آیت 5 کے تحت وضاحت ہوچکی ہے۔ وہ عذاب مراد ہے جس سے لوگوں کو پیغمبر کی تکذیب کی صورت میں آگاہ کیا جا رہا تھا۔ اس کی مثالیں قوموں کی تاریخ میں موجود ہیں اور ان میں سے بعض کا حوالہ آگے اسی سورة میں آ رہا ہے۔ یعنی یہ آسمان تو آئے دن تمہارے سامنے جزاء و سزا کی شہادت دیتا رہتا ہے اسی کے اندر سے اللہ تعالیٰ تمہارا رزق بھی برساتا ہے اور اسی کے اندر سے نافرمانی و سرکشی کرنے والوں پر جب چاہے عذاب بھی برسا دیتا ہے۔ نہ رحمت کے لئے اسے کوئی الگ اہتمام کرن اپڑتا اور نہ نقمت کے لئے کوئی الگ توپ نصب کرنی پڑتی تو جس کا یہ جمال و جلال برابر دیکھتے ہو اس سے کیوں بعید سمجھتے ہو کہ وہ جب چاہے اسی چیز کو تمہاری تباہی کا ذریعہ بنا دے جو تمہاری زندگی کا ذریعہ ! پھر جس کی رحمت و نقمت کی یہ شانیں اس دنیا میں دیکھ رہے ہو آخر یہ کیوں یقین نہیں کرتے کہ وہ خیر و شر کے معاملے میں بےتعلق یا غیر جانبدار نہیں ہے بلکہ وہ بروں کو لازماً طزا دے گا اور نیکو کاروں کو لازماً صلہ دے گا۔
Ayah 51:23

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

پس آسمان و زمین کے خداوند کی قسم، یہ بات شدنی ہے۔ جس طرح تم بول دیتے ہو۔

فورب السمآء والارض انہ لحق مثل مآ انکم تنطقون (23) خلاصہ بحث اب یہ ان تمام نشانیوں کو سمیٹ دیا اور آسمان و زمین دونوں کے رب کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس روز جزاء وسزا کی تم کو یاددہانی کی جارہی ہے اور پیغمبر کی تکذیب کے جس نتیجہ سے تم کو ڈرایا جارہا ہے وہ شدنی ہے۔ اس میں خدا کو ذرا بھی مشکل نہیں پیش آئے گی۔ جس طرح تمہارے لئے زبان سے کوئی لفظ بول دینا نہایت آسان ہے اسی طرح خدا کے لئے یہ سب کچھ کردینا نہایت آسان ہے۔ اس کے سارے کام اس کے کلمہ کن سے ہوجاتے ہیں۔ انہ، میں ضمیرکا مرجع وہی مقسم علیہ ہے جو اوپر گزر چکا ہے، یعنی، انما توعدون لصادق، وان الدین لواقع۔ اس کا ذکر اوپر ہوچکا تھا اس وجہ سے اس کی طرف اشارہ کے لئے ضمیر کافی ہوئی۔ پہلے آسمان و زمین کی چند نشانیوں کا حوالہ دے کر اس کی قسم کھائی پھر پورے آسمان و زمین کے رب کی قسم کھا کر وہی بات دہرادی جس سے یہ ارشارہ نکلتا ہے کہ جس طرح ہر مصنوع سے اس کے صانع کے مزاج و مذاق کا اندازہ ہوتا ہے اسی طرح آسمان و زمین کی نشانیوں سے ان کے خالق کی صفات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جزا وسزا دینے والا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس کے بنائے ہوئے آسمان اور زمین میں یہ چیز کہاں سے نمایاں ہوتی ؟ قیامت کے وقوع کی وضاحت ایک مثال سے انہ لحق مثل مآ انکم تنطقون، لفظ حق، کے اندر دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ یہ جزاء وسزا ایک حیقیقت ہے جس میں کسی شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دوسرایہ کہ یہ شدنی ہے، اس کے وقوع کو کوئی ناممکن نہ خیال کرے۔ جب اس کا وقت آجائے گا تو خدا اس کو پلک جھپکتے سامنے کردے گا۔ اس کا ایک حقیقت ہونا اوپر کے دلائل آفاق وانفس سے واضح ہوچکا ہے۔ اب یہ اس کے وقوع کو ایک تمثیل سے واضح فرمایا ہے کہ یہ کام آسمان و زمین کے رب کے لئے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ جب اس نے آسمان و زمین پیدا کردے اور اس کام میں اس کو ذرا مشکل پیش نہیں آئی تو لوگوں کو حساب کتاب کے لئے دوبارہ اٹھا کھڑا کرتا اس کے لئے کیوں مشکل ہوگا ؟ جس طرح تمہارے لئے ایک لفظ کو بول دینا آسان ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے لئے کسی بڑے سے بڑے کام کو کردینا آسان ہے۔ اس کو کسی کام کے لئے کوئی اہتمام یا سروسامان نہیں کرنا پڑتا بلکہ وہ ہر کام اپنے ’ کلمہ مکن ‘ سے چشم زدن میں کردیتا ہے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ انما قولنا شیء اذا اردنہ ان نقول لہ کن فیکون۔ (النعل : 40) جب ہم کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمارا بس یہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے۔ اولیس الذی خلق السموت والارض بقدر علی ان یخلق مثلھم ط بلیٰ وھوالخلق العلیم انما امرہ اذا ارادشیئاً ان یقول لہ کن فیکون۔ (یٰس : 81۔ 82) کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر نہیں ہوگی کہ ان کے مثل پیدا کردے ! ہاں، وہ اس بات پر قادر ہے۔ وہ بڑا ہی پیدا کرنے والا اور علم والا ہے۔ اس کی قدرت کا حال تو یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہوجاتو وہ ہوجاتا ہے۔ بعض مقامات میں یہ بات بھی واضح فرمائی ہے کہ اس دنیا کو دوبارہ پیدا کردینا تو اس کے لئے اول بار پیدا کرنے سے بھی زیادہ آسان ہے۔ وھو الذی یبدؤا الخلق ثم یعیدہ وھواھون علیہ ط (الروم : 27) اور وہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لئے اس سے بھی آسان ہے۔ یہ حقیقت بھی ملحوظ رکھیے کہ یہ تمثیل بھی ہمارے سمجھانے کے لئے محض ایک تمثیل ہے ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لئے ایک لفظ کو بولنا بھی اتنا آسان نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کے لئے سارے جہان کو پیدا کردینا۔ ہم ایک لفظ بولنے کے لئے یہ جانے کتنے ادوات وآلات کے محتاج ہیں جو سب کے سب خدا کے بخشے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی چیز کا بھی محتاج نہیں ہے۔ اسی طرح قرآن میں بعض جگہ کلمح بالبصر، پلک جھپکنے کی تمثیل بھی آئی ہے۔ وما امرنا الا واحدۃ کلمح، بالبصر (القمر : 50) (ہمارا حکم تو بس پلک چھپکنے کی طرح ہے)۔ یہ بھی ایک تمثیل ہی ہے، جس سے ہمیں اس کے اختیار مطلق کا ایک تصور ہوتا ہے۔ ان تمثیلات و تشبیہات سے متعلق وہ حقیقت ہمیشہ مستحضر رکھیے جو سورة آل عمران میں بیان ہوئی ہے۔ استادامام ؒ کا ایک نکتہ یہاں استاذ امام ؒ کا ایک نکتہ قابل ذکر ہے۔ اوپر زمین، نفس اور آسمان کی جن نشانیوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ ان کے باہمی نظم کی وضاحت اپنی تفسیر میں مولانا ؒ نے یوں فرمائی ہے۔ ”اس جامع کلام کے اندر جو خوبصورت ترتیب پائی جاتی ہے اور اقرب فلاقرب کا جو اصول اس میں ملحوظ ہے، پچھلے مباحث سے بڑی حدتک اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔ لیکن اس پر مزید غور کیجئے تو ایک اور لطیف نکتہ بھی سامنے آئے گا۔“ ”اس پیرے میں وفی الارض ایت، سے لے کر وماتوعدون تک پہلے زمین کا ذکر آیا ہے پھر نفس کا پھر آسمان کا۔ غورکیجئے تو معلوم ہوگا کہ نفس ایک ایسی چیز ہے جو زمین اور آسمان دونوں کے درمیان ہے اور اس کے اندر دوپہلو ہیں۔ ایک مادی دوسرا روحانی۔ ایک پہلو سے یہ زمین کی طرف رجحان رکھتا ہے، دوسرے پہلو سے آسمان کی طرف۔ اس کے بعد ان تینوں کے اندر جو نشانیاں پائی جاتی ہیں ان کی طرف اشارہ فرمایا۔ پھر فورب السماء والارض انہ لحق (آسمان اور زمین کے رب کی قسم، یہ حق ہے) فرما کر اس جامع دلیل سے پردہ اٹھایا ہے جو انسان کے دوبارہ اٹھائے جانے اور جزاء وسزا کی اصل دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی پروردگاری کی دلیل۔ پھر مثل مآ انکم تبطقون (جس طرح تم بولتے ہو) کی تمثیل کے ذریعہ سے اس استدلال کو تقویت پہنچائی ہے اور تمثیل اسی نفس کی صفات سے ماخوذ ہے جو ایک عالم اصغر ہونے کے پہلو سے تمام زمین و آسمان کا ایک آئینہ ہے۔ یہ گویا اوپر والی بات وفی انفسکم ط افلا تبصروں کی طرف اشارہ ہوا۔“
Ayah 51:24

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

کیا تمہیں ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات پہنچی !

07 آگے آیات 24۔ 46 کا مضمون آگے قرآن نے انہی دعاوی کے حق میں، جو اوپر مذکور ہوئے، تاریخ کی شہادت پیش کی ہے اور قرآن کا یہ عام اصول ہے کہ وہ عقلی وانفسی دلائل کے پہلو بہ پہلو تاریخی شواہد بھی پیش کرتا ہے تاکہ مخاطب کے سامنے بات اچھی طرح برہن بھی ہوجائے اور اگر دلوں کے اندر اثر پذیری کی کچھ رمق ہو تو ان سے لوگ عبرت بھی حاصل کریں۔ ان واقعات پر غور کیجئے گا تو معلوم ہوگا کہ ان میں تین پہلو ملحوظ ہیں۔ ایک یہ کہ جن قوموں کی ہلاکت بیان ہوئی ہے ان کی تباہی میں ابروہوا کے تصرفات کو خاص دخل رہا ہے۔ اس پہلو سے یہ واقعات گویا ان قسموں کی تصدیق ہیں جواوپردکھائی گئی ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان میں جزا کے دونوں پہلو نمایاں ہوئے ہیں، رحمت بھی اور نعمت بھی۔ ایک ہی چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک قوم کے لئے عذاب بن گئی اور دوسری قوم کے لئے ذریعہ نجات۔ تیسرا یہ کہ اللہ کی گرفت بالکل بےپناہ ہے۔ کوئی قوم کتنی ہی زور آور ہو لیکن اللہ تعالیٰ جب اس کو فنا کرنا چاہتا ہے تو چشم زدن میں فنا کردیتا ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 8۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ھل اتک حدیث ضیعف ابراھیم المکرمین (24) تاریخی سرگزشتوں سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نعمت کی شہادت اوپر آیت وفی السماء رزقکم وماتوعدون، کے تحت ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں رحمت اور نعمت دونوں ہی ہے۔. وہ ایک ہی چیز کو جس کے لئے چاہے رحمت بنادے اور اسی چیز کو جس کے لئے چاہے عذاب بنادے۔ آسمان سے بارش ہوتی ہے جو اہل زمین کے لئے ایک عظیم رحمت ہے لیکن اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اس کو عذاب بھی بنا دیتا ہے۔ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے آگے کی تاریخی سرگزشتوں کی تمہید حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت لوط ؑ کے واقعہ سے اٹھائی ہے جس میں قوم لوط کے انجام سے پہلے یہ دکھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو فرشتے قوم لوط کے لئے قہرالٰہی لے کر آئے وہی فرشتے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس ایک ذی علم فرزند کی بشارت لے کر پہنچے۔ ھل اتاک کا خطاب ضروری نہیں کہ آنحضرت ﷺ سے ہو بلکہ اقرب یہ ہے کہ یہ خطاب انہی مکذبین سے ہے جن پر اس سورة میں حجت تمام کی جارہی ہے۔ جماعت کو جب واحد کے صیغہ سے خطاب ہوتا ہے تو، جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آرہے ہیں، مخاطب گروہ کے ایک ایک فرد کو متوجہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ استفہامیہ اسلوب بیان بھی بجائے خود اس امر کی دلیل ہے کہ آگے جو بات کہی جارہی ہے وہ اہمیت رکھنے والی ہے، اس کو ہر شخص سنے اور گوش دل سے سنے۔ لفظ صیفً ، واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے چناچہ یہاں اس کی صفت ”مکرمین“ آئی ہے۔ لفظ مکرمین سے اشارہ اس آئوبھگت، خیرمقدم، تواضع اور ضیافت کی طرف ہے جس کا اہتمام حضرت ابراہیم ؑ نے ان مہمانوں کے لئے فرمایا۔ حضرت ابراہیم ؑ کا یہ اہتمام اس بات کی دلیل ہے کہ ان مہمانوں کی شرافت و وجاہت ان کی شکل و صورت ہی سے ظاہر تھی۔ اس کو بتانے کی ضرورت نہیں تھی۔ چناچہ حضرت ابراہیم ؑ ان سے ناآشان ہونے کے باوجود ان کی ضیافت کی تیاریوں میں لگ گئے اور انتہائی عجلت میں جو بہتر سے بہتر سامان ضیافت ممکن تھا، وہ انہوں نے کرڈالا۔ لیکن یہی مہمان جب حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے تو ان کی قوم ان مہمانوں کی بےحرمتی کے درپے ہوگئی اور حضرت لوط ؑ کو اپنے مہمانوں کی عزت بچانے کے لئے خود اپنی حرمت دائود پر لگادینی پڑی۔ بالآخر ان مہمانوں کو اپنا اصلی رخ ان ناہنجاروں کے لئے بےنقاب کرنا پڑا اور انہوں نے اس پوری قوم کا بیڑا غرق کردیا۔
Ayah 51:25

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ اس کے پاس آئے تو انہوں نے السلام علیکم کہا۔ اس نے بھی سلام سے جواب دیا (اور دل میں کہا کہ) یہ تو اجنبی لوگ معلوم ہوتے ہیں ،

اذدخلواعلیہ فقالو اسلماً ط قال سلم قوم منکرون (25) حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے پاس آنے والے مہمان یعنی ان مہمانوں نے شرفا اور صالحین کے طریقہ پر حضرت ابراہیم ؑ کو سلام کیا اور حضرت ابراہیم ؑ نے بھی ان کا جواب سلام سے دیا۔ ان کے اس سلام سے اجنبیت کا پردہ تو ایک حدتک اٹھ گیا اور حضرت ابراہیم ؑ کو یہ اطمینان ہوگیا کہ شریف اور صالح مہمان ہیں لیکن ان کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر یہ کون لوگ ہیں ؟ کہاں سے آئے ہیں ؟ کس مقصد سے آئے ہیں ؟ یہ تو بالکل اجنبی لوگ ہیں۔ قوم منکرون، کے الفاظ انہوں نے زبان سے نہیں بلکہ اپنے دل میں کہے۔ دل میں سوال پیدا ہونے کی وجہ یہ ہوئی ہوگی کہ اس علاقے میں اول تو شرفاء وصالحین کی تعداد تھی ہی نہایت محدود، پھر جو تھے وہ حضرت ابراہیم ؑ کے متعلقین ومتوسلین ہی میں سے تھے اس وجہ سے ان کو نہایت حیرت ہوئی کہ اس قحط الرجال میں، اس دیار میں، ایسے ثقہ وشریف لوگ کہاں سے نکل آئے ! یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ لفظ قول، جس طرح زبان سے کہی ہوئی بات کے لئے آتا ہے اسی طرح دل میں کہی ہوئی بات کے لئے بھی آتا ہے۔ اس کی مثالیں کلام عرب میں بھی موجود ہیں اور قرآن میں بھی موجود ہیں، جن میں سے بعض پیچھے گزرچکی ہیں اور بعض آگے آئیں گی۔ مہمانوں کے سلام کا جواب تو انہوں نے قولاً دیا لیکن یہ بات انہوں نے دل میں کہی۔ اس لئے کہ یہ بات زبان سے کہنے کی نہیں تھی۔
Ayah 51:26

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر وہ نظر بچا کر اپنے گھروالوں کے پاس گیا اور ان کے لئے فربہ بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لایا

فراغ الی اھلہ فجآء بعجل سمین (26) لفظ ’ روغ ‘ کسی کام کو نظر بچا کر اور کا والگاکر کرنے کے لئے آتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ مہمانوں کو دیکھتے ہی، ان کی نظر بچا کر، اپنے گھر کی طرف گئے کہ ان کی ضیافت کا سامان کریں۔ مہمانوں کی نظر بچا کر اس لئے کہ انہوں نے یہ پسند نہیں فرمایا کہ ان کا یہ اہتمام مہمانوں کی طبیعت پر بار ہو۔ کریم النفس۔ شریف اور فیاض میزبان کا طریقہ یہی ہوتا ہے کہ وہ مہمان کی ضیافت کا اہتمام اس طرح کرتا ہے کہ اس کو تکلف کا احساس نہ ہو۔ فجآء بعجل سمین، یعنی ان مہمانوں کی ضیافت کے لئے انہوں نے گلے کا ایک فربہ بچھڑا ذبح کرادیا اور اس کا بھنا ہوا گوشت ان کے آگے پیش کیا۔ عجل سمین، کے الفاظ سے حضرت ابراہیم ؑ کی فیاضی کا اظہار ہوتا ہے کہ انہوں نے چند مہمانوں کی ضیافت کے لئے ایک پورا بچھڑا ذبح کرادیا۔ اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ انہوں نے پورا بچھڑا مہمانوں کے آگے پیش کردیا ہو۔ بعض اوقات کل بول کر اس سے جزء مراد لیتے ہیں۔ یہ اسلوب جس طرح ہر زبان میں ہے اسی طرح عربی میں بھی ہے۔
Ayah 51:27

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

اور اس کو ان کے سامنے پیش کیا۔ پھر بولا کہ آپ لوگ کھاتے نہیں۔

فقربہ الیھم قال الاتاکلون (27) حضرت ابراہیم ؑ کا ایک اندیشہ اس جملہ میں کچھ حذف ہے جس پر قرینہ دلیل ہے۔ پوری بات یوں ہے کہ سامان ضیافت ان کے سامنے پیش کیا لیکن جب دیکھا کہ مہمان کھانے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں تب انہوں نے نہایت محبت کے ساتھ ان کو کھانے کی دعوت دی۔ بعض دوسرے مقامات میں قرآن نے اس حذف کو کھول بھی دیا ہے۔
Ayah 51:28

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

تو اس نے ان سے ایک قسم کا اندیشہ محسوس کیا انہوں نے اس سے کہا، تم اندیشہ ناک نہ ہو اور اس کو ایک ذی علم فرزند کی خوش خبری دی۔

فاو حبس منھم خیفۃ قالو الا تخف، وبشروہ بغلم علیم (28) یعنی جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو قدرتی طور پر وہ اجنبیت کچھ اور بڑھی جو حضرت ابراہیم ؑ نے باول دہلہ محسوس فرمائی تھی اور انہوں نی اپنے دل کے اندر ایک اندیشہ محسوس کیا۔ سورة ہود میں اشارہ موجود ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے اندر اندیشہ ضیافت قبول نہ کرنے کے سب سے پیدا ہوا۔ فلما را ایدیھم لا تصل الیہ مکرھم واوجس منھم خیفۃ، (ھود : 70) (جب اس نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو اس نے ان کو بیگانہ محسوس کیا اور ان سے دل ہی دل میں ڈرا۔) معلوم ہوتا ہے ان لوگوں کے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانے سے حضرت ابراہیم ؑ کے دل میں یہ کھٹک پیدا ہوئی کہ یہ لوگ بشر نہیں ہیں، جیسا کہ انہوں نے گمان کیا ہے، بلکہ فرشتے ہیں۔ فرشتوں کا کھانا نہ کھانا ایک معروف بات ہے جو حضرت ابراہیم ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر سے مخفی نہیں ہوسکتی تھی۔ پھر ان کے علم میں یہ بات بھی رہی ہوگی کہ فرشتے جب آتے ہیں تو کسی بڑی مہم ہی پر آتے ہیں۔ علاوہ ازیں پاس ہی قوم لوط کا فساد اخلاق اپنی آخری حد کو پہنچ چکا تھا جس کے سبب سے وہ ہر وقت خدا کے عذاب کی زد میں تھی۔ ان حالاتوقرائن کی موجودگی میں حضرت ابراہیم ؑ کے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہونا کچھ بعید نہیں تھا کہ شاید اب قوم لوط کی شامت آگئی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے تردد کو فرشتوں نے تاڑ لیا اور ان کو اطمینان دلایا کہ آُ کوئی اندیشہ نہ کریں اور مزید اطمینان پیدا کرنے کے لئے ان کو ایک ذی علم فرزند کی خوشخبری بھی دی۔ یہ ایک بہت بڑی خوش خبری تھی اس لئے کہ یہ مجرد فرزند کی نہیں بلکہ ذی علم فرزند کی خوش خبری تھی جس کے اندر یہ بشارت بھی مضمر تھی کہ یہ فرزند صاحب نبوت ہوگا۔ حضرت ابراہیم ؑ یہ خوش خبری پاکر خود اپنے باب میں تو مطمئن ہوگئے لیکن فرشتوں کی مہم کے باب میں ان کے ذہن میں سوال باقی رہا جس کا اظہار انہوں نے بعد میں کیا جس کی تفصیل آگے چل کر آئے گی۔
Ayah 51:29

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

پھر اس کی بیوی حیران ہو کر بڑھی۔ اس نے اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کہ کیا ایک بڑھیا، بانجھ اب جنے گی !

فاتبلت امراتہ فی صوۃ فصلت وجھھاوقالت عجوزعقیم (29) فرزند کی خوشخبری پر حضرت سارہ کے تاثرات یہ بشارت حضرت ابراہیم ؑ کو بلند آواز سے دی گئی تھی اس وجہ سے ان کی بیوی سارہنے، جو پاس ہی کھڑی تھیں، سن لی، اس سے ان کو جو حیرت اور ساتھ ہی جو خوشی ہوئی ہوگی اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے، چناچہ وہ یہ سنتے ہی اپنے تعجب کے اظہار کے لئے لپکیں اور خاص نسوانی انداز میں اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر بولیں کہ میں تو ایک بڑھیا بانجھ ہوں، کیا اب اس عمر اور اس حالت میں جنوں گی، حضرت سارہ کے اس فقرے کے ایک ایک لفظ کے اندر جو حیرت، جو خوشی اور اس کی بشارت کی تصدیق مزید کی جو خواہش جھلک رہی ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ فی صرۃ، یعنی وہ تعجب اور حیرانی کی حالت میں لپکیں۔ عربی میں محاورہ ہے۔ صرالفرس اذنیہ، گھبوڑے نے اپنی کنوتیاں کھڑی کیں۔ اسی سے فی صرۃ، کا محاورہ نکلا ہے جو تعجب اور حیرانی کی حالت کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ فصلت وجھھا، یعنی انہوں نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا۔ یہ عورتوں کے اظہار تعجب کا طریقہ ہے۔ جب وہ کسی بات پر حیرت کا اظہار کرتی ہیں تو پیشانی پر ہاتھ مار کر بات کہتی ہیں۔ ان دو لفظوں میں قرآن نے ان کی حیرت اور خوشی کی پوری تصویر کھینچ دی ہے۔
Ayah 51:30

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

وہ بولے کہ ایسا ہی فرمایا ہے تیرے رب نے۔ وہ بڑا ہی حکیم وعلیم ہے۔

قالو کذلک قال ربک، انہ ھوالحکیم العلیم (30) فرشتوں کی اطمینان دہانی فرشتوں نے جواب دیا کہ آپ مطمئن رہیں۔ آپ کے رب نے ایسا ہی حکم دیا ہے اور جب اس نے حکم دیا ہے تو یہ بات پوری ہو کے رہے گی۔ نہ آپ کا بڑھیا بانجھ ہونا اس میں مانع ہوگا اور نہ آپ کے شوھر کا بڑھاپا۔ اللہ تعالیٰ حکیم وعلیم ہے۔ اس کی حکمت اور اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ اسباب اسی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ وہ جب چاہے گا ان کو آپ کے لئے سازگار کردے گا۔
Ayah 51:31

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

اس نے پوچھا، اسے فرستادو، اس وقت آپ کے سامنے مہم کیا ہے ؟

قال فما خطبکم ایھا المرسلون (31) حضرت ابراہیم ؑ کا سوال اور اس کی نوعیت حضرت ابراہیم ؑ کو جب اپنے باب میں اطمینان ہوگیا اور یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ یہ لوگ فرشتے ہیں تو انہوں نے ان سے سوال کیا کہ اے فرستادو ! اس وقت آپ لوگوں کے سامنے مہم کیا ہے ؟ یہ سوال انہوں نے اس وجہ سے کیا کہ ان پر یہ حقیقت، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، واضح تھی کہ فرشتے جب اس طرح آتے ہیں تو کسی بڑی مہم ہی پر آتے ہیں، مجرد فرزند کی خوشخبری مقصود ہوتیتو اس کے لئے اس اہتمام کی ضرورت نہیں تھی۔ لفظ خطبہ عربی میں کسی بڑے اور اہم کام ہی کے لئے آتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دل میں چونکہ قوم لوط سے متعلق اندیشہ موجود تھا اس وجہ سے انہوں نے چاہا کہ اگر یہی مہم ہے تو بات واضح ہوجائے۔ خاص طور پر ان کو حضرت لوط ؑ ، ان کے اہل بیت اور ان کے ساتھیوں کی بڑی فکر تھی کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے۔ چناچہ دوسرے مقام میں تفصیل بھی موجود ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ پر یہ بات واضح ہوئی کہ قوم لوط پر عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہے تو انہوں نے قوم لوط کے اہل ایمان کے باب میں اپنے رب سے بڑا مجادلہ کیا۔ اس مجادلہ کی اللہ تعالیٰ نے بڑی تعریف فرمائی ہے اور اس کو حضرت ابراہیم کی دردمندی کی شہادت میں پیش کیا ہے۔
Ayah 51:32

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

قالو انا ارسلنا الی قوم مجرمین (32) فرشتوں کا جواب فرشتوں نے جواب دیا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یہاں معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے قوم لوط کا ذکر نام کی تصریح کے ساتھ نہیں کیا لیکن سورة ہود میں ہے : قالوالا تخف انا ارسلنا الی قوم لوطّ (ھود : 70) (انہوں نے کہا تم نہ ڈرو، ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں) ان دونوں مواقع کو ملانے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرشتوں نے قوم لوط کا ذکر ان کے کردار اور نام دونوں کے ساتھ کیا تاکہ حضرت ابراہیم ؑ پر اس قوم کے مستحق عذاب ہونے کا پہلو واضح ہوجائے لیکن قرآن نے یہ تقاضائے بلاغت اس سورة میں ان کے نام کا ذکر حذف کرکے صرف ان کے قوم مجرم ہونے کا ذکر کیا ہے تاکہ یہ پہلو واضح ہوسکے کہ قوم لوط کو جس عذاب سے دوچار ہونا پڑا اپنے عمل کی پاداش میں ہونا پڑا۔ یہ امر واضح رہے کہ یہی بات اس سورة کا عمود ہے۔
Ayahs 51:33–34

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ان کے اوپر سنگ گل کی بارش کردیں

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جو نشان لگائے ہوئے ہیں تیرے رب کے پاس ان لوگوں کے لئے جو حدود سے آگے بڑھ جانے والے ہیں۔

لنرسل علیھم حجارۃ من طین، مومۃ عند ربک للمسرفین (33۔ 34) یہ فرشتوں نے اپنے بھیجے جانے کا مقصد واضح فرمایا کہ ہم بھیجے گئے ہیں کہ اس مجرم قوم پر کنکروں کی بارش کردیں، یہاں علی، کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ ان پر ایسی بارش کریں کہ بالکل پامال کرکے رکھ دیں۔ حجارۃ من طین، سے مراد وہ کنکر ہیں جو مٹی سے پتھر کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کے لئے قرآن میں لفظ، سجیل بھی آیا ہے۔ مثلا سورة ہود میں وامطرنا علیھا حجارۃً من سجیل (ھود : 82) (اور ہم نے اس پر سنگ گل کی بارش کردی) سجیل، دراصل فارسی کے سنگ گل سے معرب ہے۔ یہاں حجارۃً من طین، کے الفاظ سے اس کی وضاحت فرمادی ہے۔ مسومۃً ، کے معنی نشان زدہ کے ہیں۔ یہ لفظ میرے نزدیک حجارۃ، سے حال پڑا ہوا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں یہ پتھر نشان لگاکر قوم لوط کے اشرار کے لئے خاص کئے ہوئے ہیں۔ جن علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کنکروں سے ہوتی ہے وہاں دیکھا ہوگا کہ مزدوران کے چٹے لگاکر ان پر نشان بھی لگادیتے ہیں جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ یہ بحق سرکار محفوظ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ وقت کے وقت اتنے پتھر کہاں ملیں گے جو پوری قوم کی قوم کو تباہ کردینے کے لئے کافی ہوں۔ ان کے چٹے پہلے سے لگے ہوئے ہیں اور ان پر خدائی نشان بھی لگے ہوئے ہیں کہ یہ کارخاص کے لئے محفوظ ہیں، کوئی ان کو ہاتھ نہ لگائے۔ سورة ہود میں یہ تصریح بھی ہے کہ وماھی من الظلمین یبعید، (ھود : 83) (اور یہ پتھر ان ظالموں سے کچھ دور بھی نہیں ہیں) یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جس زمین پر وہ چلتے پھرتے ہیں وہیں سے بلکہ ان کے قدموں کے نیچے سے خدا کی مامور بادتند اس کو اٹھائے گی اور ان کے اوپر اس کی بارش کردے گی۔ للمسرفین، سے اشارہ قوم لوط کے اشرار کی طرف ہے۔ اسراف، کے معنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے حدود سے تجاوز کے ہیں۔ یہ لفظ قرآن میں بڑے اور چھوٹے ہر قسم کی تجاوز کے لئے آیا ہے۔ یہاں اس سے مراد قوم لوط کی وہ بےحیائی ہے جس میں وہ من حیث القوم مبتلا تھی۔ جو قوم اللہ تعالیٰ کے حدود کے معاملے میں دیدہ دلیری کی یہ روش اختیار کرلیتی ہے اللہ تعالیٰ اس کی سرکوبی کے لئے اپنی مسخر کی ہوئی چیزوں میں سے جس چیز کو چاہتا ہے ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے اور وہ اس کے طفیان واسراف کا اس کو مزاچکھا دیتی ہے۔
Ayahs 51:35–37

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پھر وہاں جتنے اہل ایمان تھے ان کو ہم نے نکال لیا۔

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

تو وہاں ہم نے بجز ایک گھر کے کسی کو مسلم نہیں پایا

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں ایک بڑی نشانی چھوڑی ان لوگوں کے لئے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔

(35۔ 37) قوم لوط کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ فرشتوں کی بات اوپر کی آیت پر ختم ہوئی۔ اب یہ آگے کی سرگزشت خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ اس کے بعد اس نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ فرمایا کہ عذاب نازل کرنے سے پہلے ہم نے اس بستی کے اندر سے ان لوگوں کو نکال لیا جو اہل ایمان تھے۔ فیھا۔ میں ضمیر کا مرجع قوم لوط کی بستی ہے۔ چونکہ یہ مثالیں وفی الارض ایت للمومنین، کے تحت بیان ہورہی ہیں اس وجہ سے ضمیر بغیر مرجع کے آگئی۔ قرینہ کی موجودگی میں اس طرح ضمیر کا آنا عربی زبان میں معروف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں گزرچکی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس کا ذکر اس کتاب میں بار بار ہوچکا ہے کہ رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت کے بعد جب کسی قوم پر فیصلہ کن عذاب آیا ہے تو اس سے وہ لوگ بچا لئے گئے ہیں جو ظہور عذاب سے پہلے رسول پر ایمان لاچکی تھے۔ یہ سنت الٰہی تمام رسولوں کی سرگزشتوں میں واضح فرمائی گئی ہے۔ قوم لوط کے باب میں دوسری جگہ تصریح ہے کہ حضرت لوط ؑ اور ان کے آل واتباع کو ہدایت ہوئی کہ وہ صبح ہونے سے پہلے پہلے ان حدود سے باہر نکل جائیں۔ جن کے لئے عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اس طرح باہر نکلیں کہ کوئی پیچھے مڑ کے بھی نہ دیکھے۔ فما وجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین۔ یعنی اس بستی میں ایک گھرانے کے سوا اور کوئی گھر مسلمانوں کا نہیں ملا۔ ظاہر ہے کہ یہ گھرانا حضرت لوط ؑ ہی کا تھا اور اس کے اندر سے بھی، قرآن میں تصریح ہے کہ، ان کی بیوی الگ کردی گئی اس لئے کہ اس کی ساری ہمدردیاں حضرت لوط ؑ کے بجائے اپنی قوم ہی کے ساتھ تھیں۔ قوم لوط کے اندر اہل ایمان کی اس کمی کی طرف، خاص اہتمام کے ساتھ، قرآن نے جو اشارہ کیا ہے اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ کن عذاب کسی قوم پر اس وقت نازل فرماتا ہے جب پوری قوم کا مزاج فاسد ہوجاتا ہے۔ اہل ایمان اس کے اندر یا تو بالکل معدوم ہوجاتے ہیں یا ان کی تعداد اتنی قلیل ہوتی ہے کہ وہ معدوم ہی کے حکم میں ہوتے ہیں۔ قرآن میں حضرت ابراہیم ؑ کا جو مجادلہ قوم لوط کے بارے میں منقول ہے اس سے بھی یہی بات نکلتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات عدل و رحمت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ ایک قابل توجہ بات ایک خاص بات یہاں اور بھی قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ اوپر والی آیت میں لفظ مومنین، استعمال ہوا ہے اور آیت زیر بحث میں ”مسلمین“ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اوپر والی آیت میں نجات کے باب میں سنت الٰہی بیان ہوئی ہے اور سنت الٰہی یہی ہے کہ عذاب سے نجات صرف سچے اہل ایمان ہی پاتے ہیں۔ اس دوسری آیت میں علاقے کا حال بیان ہوا ہے کہ ایک خاندان کے سوا وہاں مسلمانوں کا کوئی گھرانا سرے سے تھا ہی نہیں۔ اس گھرانے کے لئے لفظ ”مسلمین“ استعمال فرمایا جس میں وسعت ہے۔ اس کے اندر پختہ اور خام، بالغ اور نابالغ سب سماسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ظاہر اعتبار سے حضرت لوط ؑ کی بیوی بھی اس میں شامل تھی لیکن آخری وقت میں وہ اس سے خارج کردی گئی۔ زمین کے بعض آثار عذاب وترکنا فیھا ایۃً للذین یخافون العذاب الالیم۔ یعنی قوم لوط کی بستی میں ہم نے ایک نہایت واضح نسانی ان لوگوں کی عبرت پذیری کے لئے چھوڑی جو اللہ کی زمین میں اس کے قہر و غضب کی نشانیاں دیکھنا اور ان سے سبق حاصل کرنا چاہیں۔ یہاں اوپر کی آیت وفی الارض ایت للموتقین (اور زمین میں یقین کرنے والوں کے نشانیاں ہیں) کو پھر ذہن میں تازہ کرلیجئے۔ یہ اسی دعوے کی شہادت زمین کے ان آثار سے پیش کی گئی ہے جو قریش سے مخفی نہیں تھے۔ ہم سورة حجر کی تفسیر میں واضح کرچکے ہیں کہ قوم لوط کے مساکن۔ سدوم اور عمورہ۔ حجاز اور شام کی گزرگاہ پر تھے جس سے قریش کے تجارتی قافلے برابر گزرتے رہتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ان آثار کو دیکھتے ہوئے وہ پیغمبر کے انذار کی تکذیب کررہے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ لوگ اسی وقت مانیں گے جب یہ طوفان بلاخود ان کے سروں پر سے گزر جائے گا۔ اس سنگباری کی نوعیت جو قوم لوط پر ہوئی اب یہاں مختصر طور پر اس سنگ باری کی نوعیت بھی سمجھ لیجئے جس کا ذکر آیت 33 میں ہوا ہے تاکہ سورة کی تمہید میں غبار انگیز ہوائوں اور دھاریوں والے بادلوں کی جو قسم کھائی گئی ہے، اس کے ساتھ اس سرگزشت کا ربط واضح ہوجائے۔ استاذ امام فراہی ؒ نے اپنی تفسیر سورة ذاریات میں اس عذاب کی نوعیت پر مفصل بحث کرکے خلاصہ ٔ بحث ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔ قوم لوط پر اللہ تعالیٰ نے غبارانگیز ہوا بھیجی جو سخت ہو کر بالآخر حاصب (کنکربرسانے والے بادتند) بن گئی جس سے اولتو ان کے اوپر کنکروں اور پتھروں کی بارش ہوئی پھر اس نے اس قدرشدت اختیار کرلی کہ اس کے زور سے ان کے مکانات بھی الٹ گئے۔ قوم لوط ہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے : فمنھم من ارسلنا علیہ حاصباً (العنکبوت : 40) (اور ان مکذبین میں وہ بھی ہیں جن پر ہم نے کنکربرسانے والی بادتند چلادی) نیز انہی کے بارے میں فرمایا ہے کہ فجعلنا عالیھا سافلھا وامطونا علیھم حجارۃً من سجیل (الحجر : 74) (پس ہم نے اس بستی کو بالکل تلپٹ کردیا اور ان کے اوپر تہ بہ تہ سنگ گل کی قسم کے پتھروں کی بارش کی) یعنی ایسی تند ہوا چلی کہ ان کے مکانات اور چھتیں سب زمین بوس ہوگئیں اور اوپر سے کنکروں اور ریت نے ان کو ڈھانک لیا، جیسا کہ فرمایا ہے : والموتفکۃ اھوی، فخشھا ماغشی (النجم : 53۔ 54) (اور الٹی ہوئی بستیاں جن کو الٹا دیا، پھر ان کو ڈھانک دیا جس چیز سے ڈھانک دیا)۔“ آخر میں قوم لوط کے عذاب سے متعلق تورات کے بیان پر تنقید کرکے خلاصہ بحث مولانا فراہی ؒ نے ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔ ”اس سے معلوم ہوا کہ قوم لوط پر اللہ تعالیٰ نے سنگ ریزے برسانے والی آندھی کا عذاب بھیجا جس نے ان کو اور ان کے مکانوں کو ڈھانک لیا۔ اگر اس کے ساتھ تورات کا بیان بھی ملالیا جائے تو مزید یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ ان کے اوپر حاصب کے ساتھ رعدوبرق کا عذاب بھی آیا“۔ اس تفصیل کی روشنی میں غور کیجئے تو قوم لوط کی سرگزشت میں ان دونوں قسموں کی شہادت موجود ہے جو اوپر کھائی گئی ہیں۔ یعنی غبارانگیز ہوا کے تصرفات کو بھی اس میں دخل ہے اور سرما کے دھاریوں والے بادلوں کو بھی۔ قوم لوط کا واقعہ سورة ہود اور سورة حجر میں بھی زیر بحث آیا ہے۔ اگر مزید تفصیل مطلوب ہو تو ان سورتوں کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے۔ ان شاید اللہ بحث کا ہر گوشہ صاف ہوجائے گا۔
Ayah 51:38

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ کی سرگزشت میں بھی نشانی ہے جب کہ ہم نے اس کو فرعون کے پاس بھیجا ایک واضح سند کے ساتھ

وفی موسیٰ اذارسلنہ الی فرعون بسلطن مبین (38) حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی سرگزشت کی طرف اشارہ اس کا عطف حضرت ابراہیم ؑ کی سرگزشتہ پر ہے۔ یعنی جس طرح حضرت ابراہیم ؑ کی سرگزشت میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کے عدل وانتقام کی نشانیاں ہیں اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت میں بھی اس کی نشانیاں موجود ہیں۔ لفظ سلطان، کی تحقیق اس کے محل میں گزرچکی ہے۔ یہ لفظ واضح سند کے معنی میں بھی قرآن میں آیا ہے اور رعب ودبدبہ کے معنی میں بھی۔ یہاں یہ ان دونوں معنوں پر حاوی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو جو نشانیاں عطا فرمائیں ان کے خدائی سند ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں تھی۔ فرعون نے محض اشکبار کے سبب سے ان کو سحر قرار دیا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ معجزات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو دیکھ کر فرعون اور اس کے اعیان پر حضرت موسیٰ ؑ کا ایسا رعب جم گیا کہ انتہائی جوش انتقام کے باوجود وہ آخر وقت تک ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرسکے۔
Ayah 51:39

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

تو اس نے گھمنڈ کے ساتھ منہ موڑا اور بولا کہ یہ تو ایک جادوگر ہے یا خبطی۔

فتولی برکنہ وقال سحراومجنون (39) ”رن، کے معنی مونڈھے کے ہیں اور ’ ب ‘ سے یہاں تعدی کا مفہوم پیدا ہورہا ہے۔ جب کوئی شخص کسی چیز سے تکبر کے ساتھ اعراض کرتا ہے تو شانے اور مونڈھے جھٹک کر منہ پھیرتا ہے، اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ اس نے غرور کے ساتھ منہ پھیرا۔ قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً واذا انعمنا علی الانسان اعرض ونابجانبہ (بنی اسرائیل : 83) اور جب ہم انسان پر اپنا فضل کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا اور گھمنڈ سے منہ موڑتا ہے۔ سورة حج آیت 9 میں اسی مستکبرانہ اعراض کی تعبیر ثانی عطفہ کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے۔ وقال سحرائومجنون۔ یعنی کبھی ان کو ساحر کہہ کر ان کی تکذیب کی اور کبھی ان کو خبطی ٹھہرایا۔ جب ان کے معجزے دیکھے تو کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے اور جب ان کی دعوت سنی تو کہا کہ یہ شخص خطبی ہے جو ایک ایسے خدا کا رسول ہونے کا مدعی ہے جس کی شکل کسی نے نہیں دیکھی۔
Ayah 51:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور اس کی فوج کو پکڑا اور ان کو پھینک دیا سمندر میں۔ اور اس کے لئے وہ خود سزاوار ملامت تھا۔

فاخذنہ وچنودہ فنیذنھم فی الیم وھومسلیم (40) یعنی تب ہم نے اس کو اور اس کی فوجوں کو پکڑا اور ان کو سمندر میں پھینک دیا۔ یہاں فوجوں کا ذکر اس کے سرمایہ غرور کی حیثیت سے ہوا ہے کہ اس لئے کہ انہی کا اعتماد اس کے اشکبارکا اصل سبب تھا۔ فرعون اور اس کی فوجوں کے غرق ہونے کی جو شکل ہوئی اس کا ذکر پچھلی سورتوں میں ہوچکا ہے۔ وہی بات یہاں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے کہ گویا ان کی حیثیت خاک اور راکھ کی ایک مٹھی سے زیادہ نہیں تھی چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھایا اور سمندر میں پھینک دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بےپناہی کی تعبیر ہے کہ بڑے سے بڑے متکبر کا سارا سرمایہ غرور اس کی قدرت کے آگے ایک مشت خس سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ وھومسلیم۔ یعنی اس انجام کے لئے سزا اور ملامت وہ خود ہی تھا، کسی دوسرے پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے سے اس کو نیک وبد سے اچھے اچھی طرح آگاہ کردیا لیکن غرور نے اس کو عقل وہوش سے اس طرح عاری کردیا تھا کہ وہ کسی طرح سوچنے سمجھنے پر آمادہ نہیں ہوا اور اپنی پوری قوم کو اس نے ہلاکت کے گھاٹ پر لے جا اتارا۔ یہاں فرعون اور اس کی فوجوں کے غرق ہونے کے واقعہ کی نوعیت واضح نہیں فرمائی لیکن قرآن کے دوسرے مقامات اور تورات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کی تباہی میں بھی اصلی دخل ہوا کے تصرفات ہی کو تھا۔ استاذ امام ؒ نے اپنی تفسیر سورة ذاریات میں اس واقعہ پر بحث کرنے کے بعد خلاصہ ٔ بحث ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔ فرعون اور اس کی فوجوں کی تباہی کی نوعیت ”اس واقعہ میں ہوا کے عجیب و غریب تصرفات کو جو دخل ہے اور جس کی طرف قرآن نے سرسری اشارہ کیا ہے، تورات کی سفرخروج میں اس کی نوعیت یہ بیان کی گئی ہے“۔ ’ پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تند پوربی آندھی چلا کر اور سمندر کو پیچھے ہٹاکر اسے خشک زمین بنادیا اور پانی دو حصے ہوگیا۔ (خروج : باب 14۔ 21) ”یہ پوری آندھی رات بھرچلتی رہی اور صبح کو تھم گئی۔ ہوا کے زور نے سمندر کا پانی مغرب کی طرف خلیج سویز میں ڈال دیا اور مشرق خلیج، خلیج عقبہ کو بالکل خشک چھوڑ دیا۔ پھر جب آندھی تھم گئی تو پانی اپنی جگہ پر پھیل گیا اور موسیٰ ؑ کا تعاقب کرنے والی فوج غرق ہوگئی۔ اس کی تصدیق قرآن مجید سے بھی ہوتی ہے۔ سورة دخان میں ہے۔ فاسربعبادی کیلاً انکم متبعون، واترک البحررھوا انھم جندمغرقون، (الدخان : 23۔ 24) اور میرے بندوں کو راتوں رات نکال لے جائو اور آگاہ رہو کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا اور سمندر کو ساکن چھوڑدو، بیشک ان کی فوج غرق ہونے والی فوج ہوگی۔“ واترک البحردھوا، کے معنی سکون کے ہیں اور دریا کا سکون ظاہر ہے کہ ہوا کے سکون ہی سے ہوتا ہے۔ سورة طٰہٰ میں ہے۔ (طٰہٰ : 77۔ 78) اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت کی، میرے بندوں کو راتوں رات نکال لے جائو اور ان کے لئے راہ نکالو، سمندر میں خشک۔ نہ تم کو پکڑے جانے کا خوف ہوگا نہ ڈوبنے کا اندیشہ تو فرعون نے اپنی فوجوں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا تو سمندر میں سے ان کے اوپر چھاگئی جو چیز چھا گئی۔“ ”سفر خروج باب 15۔ 10 میں حضرت موسیٰ ؑ کا ترانہ حمدیوں نقل ہوا ہے۔ ”تو نے اپنی آندھی کو پھونک ماری تو سمندر نے ان کو چھپا لیا“۔ ”سفر استثناء۔ باب 11۔ 4 میں ہے“۔ اور اس نے مصر کے لشکر اور ان کے گھوڑوں اور رتھوں کا کیا حال کیا اور کیسے اس نے بحر قلزم کے پانی میں ان کو غرق کیا جب وہ تمہارا پیچھا کررہے تھے اور خداوند نے ان کو کیسا ہلاک کیا کہ آج کے دن تک وہ نابود ہیں۔“ ”خلاصہ اس ساری تفصیل کا یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو تند ہوا کے ذریعے سے نجات بخشی اور فرعون اور اس کی فوجوں کو نرم ہوا کے ذریعے سے ہلاک کیا یعنی رحمت اور عذاب دونوں کے کرشمے ہوا ہی کے عجیب تصرفات سے ظاہر ہوئے۔“ سورة کے آغاز میں ہوائوں کی گردش سے جزاء وسزا پر جو شہادت پیش کی ہے حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کا واقعہ بھی اس کی ایک نہایت واضح مثال ہے اور یہ بھی منجلہ ان نشانیوں کے ہے جن کی طرف آیت وفی الارض ایت للموقنین میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔
Ayah 51:41

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد کی سرگزشت میں بھی نشانی ہے جب کہ ہم نے ان پر بادخشک چلادی

وفی عاداذارسلناعلیھم الریح العقیم (41) قوم عاد کے انجام کی طرف اشارہ یہ قوم عاد کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان کی سرگزشت میں بھی عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے بڑاسامان موجود ہے جب کہ ہم نے ان کے اوپر ایک بادخشک مسلط کردی۔ الریحالعقیم، وہ ہوا جو بالکل بےفیض ہو، جو نہ بارش لائے نہ کوئی اور نفع پہنجائے۔ عربی میں بارش لانے والی ہوائوں کو الواقح (بادآور) کہتے ہیں اور بےفیض ومضر ہوائوں کے لئے عقیم (بانجھ) کی صفت آتی ہے۔ مراد اس سے سرما کی ٹھنڈی اور خشک ہوا ہوتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا فارسلناعلیھم ریحاً صرصرافی ایام نحسات (حم السجدۃ : 16) (پس ہم نے ان کے اوپر ہوائے تند مسلط کردی نحوست (سرما) کے دنوں میں)
Ayah 51:42

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

وہ جس چیز پر سے بھی گزرتی ریزہ ریزہ کرکے چھوڑتی۔

ماتذرمن شیء انت علیہ الا جعلتہ کالرمیم (42) یہ اس ہوا کی ہلاکت انگیزی کی تصویر ہے کہ جس چیز پر بھی اس کا گزر ہوا اس کو اس نے ریزہ ریزہ کرچھوڑا۔ رمیم، لکڑی، رسی اور ہڈی وغیرہ کے بوسیدہ ٹکڑوں اور ریزوں کو کہتے ہیں۔ سردہوا کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اپنی ٹھنڈک اور خشکی کے سبب سے اشیاء کی قوت اور ان کی تازگی وزندگی ختم کردیتی ہے اور وہ غیرمعمولی طور پر تند بھی ہو تو فصلوں، نباتات اور تمام زندہ چیزوں کو توڑ پھوڑ کر بالکل خس و خاشاک کے مانند بنادیتی ہے۔ قرآن میں دوسری جگہ یہی بات یوں بیان ہوئی ہے۔ انا ارسلنا علیھم ریحاً صرصرافی یوم نحس مستمرہ تنزع الناس، کا نھم اعجازنحل منقعر (القمر : 19۔ 20) (ہم نے ان کے اوپر بادصرصرمسلط کردی، قائم رہنے والی نحوست کے زمانے میں، جو لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینکتی گویا وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنوں کے کندے ہوں)۔
Ayahs 51:43–44

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود کے واقعہ میں بھی عبرت ہے جب کہ ان سے کہا گیا کہ تھوڑی مدت کے لئے اور عیش کرلو۔

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

تو انہوں نے سرکشی سے اپنے رب کے حکم سے اعراض کیا تو ان کو پکڑ لیا کڑک نے اور وہ دیکھتے رہے۔

وفی ثمود اذقیل لھم حتی حین، فعتواعن امرربھم فاخذتھم الصعقۃ وھم ینظرون (43۔ 44) قوم ثمود کے انجام کی طرف اشارہ عاد کے بعد یہ ثمود کے انجام کی یاددہانی ہے۔ فرمایا کہ ان کی سرگزشت میں بھی عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے سامان عبرت موجود ہے۔ اذقیل لھم تمتعواحتی حین، یہ خاص طور پر اس وقت یاد دہانی فرمائی ہے جب ان کے سرکش لیڈر نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور ان کے رسول حضرت صالح ؑ نے ان کو آخری تنبیہہ فرمائی ہے کہ بس کچھ دیر اور اس دنیا کے عیش سے بہرہ مند ہولو، اب تمہاری ہلاکت کی گھڑی سر پر آگئی ہے۔ اس آیت میں جو بات حتیٰ حین کے مجمل الفاظ میں فرمائی گئی ہے سورة ہود میں اس کی وضاحت یوں ہوئی ہے : فعقروھا فقال تمتعوافی دارکم ثلثۃ ایام، ذلک وعدغیرمکذوب (ھود : 65) (تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو اس نے کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن اور کھابلس لو۔ یہ دھمکی جھوٹی نہ ہوگی) اس سے معلوم ہوا کہ اونٹنی کے واقعہ کے بعد ان کو آخری دھمکی کے ساتھ تین دن کی مہلت اور ملی کہ اب بھی وہ چاہیں تو توبہ کرکے اپنے آپ کو اس عذاب سے بچالیں۔ فعتواعن امرربھم فاخذتھم اصلعقۃ وھم ینظرون (عتو، کے معنی گھمنڈ اور نافرمانی کرنے کے ہیں۔ جب اس کا صلہ ’ عن ‘ کے ساتھ آئے تو اس کے اندر اعراض کا مضمون بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس آخری مہلت اور اس آخری تنبیہ کی بھی کوئی پروانہ کی بلکہ نہایت تکبر کے ساتھ اپنے رب کے حکم سے اعراض کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو خدا کی ڈانٹ نے پکڑ لیا اور وہ دیکھتے رہ گئے۔ صعقۃ، کے معنی ڈانٹ اور چیخ کے ہیں اور اس سے مراد وہ عذاب ہے جو ان کی سرکشی کی پاداش میں ان پر آیا۔ سورة ہود میں ان کی سرگزشت جو بیان ہوئی ہے اس میں لفظ صیحۃ، آیا ہے جس کے معنی ڈانٹ کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ ڈانٹ ان کے لئے کس شکل میں ظاہر ہوئی اس کی وضاحت ہم آگے کریں گے۔ وھم ینظرون، میں کئی باتیں پوشیدہ ہیں۔ ایک یہ کہ یہ عذاب کھلم کھلا، ڈنکے کی چوٹ آیا، یہ لوگ اس کو دیکھتے رہے لیکن اپنا کوئی بچائو نہ کرسکے۔ دوسری یہ کہ عذاب دفعتاً ان پر آددھمکا جس کے بعد ان کو ایک لمحہ کی بھی فرصت نہ مل سکی۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے۔ انا ارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃً فکانواکھشیم المحتظر (القمر 31) (ہم نے ان کے اوپر ایک ہی ڈانٹ بھیجی تو وہ باڑے والے کے باڑے کی خشک اور ریزہ ریزہ لکڑیوں کے مانند ہو کے رہ گئے)۔ تیسری یہ کہ یہ اس کو دیکھ کر بالکل سراسیمہ ہو کے رہ گئے۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا کریں۔ آگے کے ٹکڑے میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔
Ayah 51:45

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر نہ وہاٹھ ہی سکے اور نہ اپنا بچائو ہی کرسکے۔

فما استطا عوامن قیام وماکانوامنتصرین (45) یعنی جب انہوں نے کڑک سنی تو ان پر دہشت اور کپکپی طاری ہوگئی۔ وہ کھڑے نہ رہ سکے بلکہ زمین پر گر پڑے۔ سورة اعراف میں ان کا حال یوں بیان ہوا ہے : فاخذتھم الرجفۃ فاصبعوا فی دارھم جثمین (الاعراف : 91) (پس ان کو کپکی نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے)۔ وما کانو متنصرین، انتصار، کے معنی مدافعت کرنے کے ہیں۔ یعنی وہ اللہ کے عذاب سے اپنی مدافعت کرنے والے نہ بن سکے۔ اس معنی میں یہ لفظ معروف ہے۔ امرء القیس کا شعر ہے۔ فانشب اظفارہ فی النساء فقلت ھسلت الاتنتصر (کتے نے اس نیل گائو کی ران میں اپنے پنجے گاڑدیئے۔ تب میں نے اس سے کہا، کم بخت، اب تو اپنا بچائو کر۔) یہاں تھوڑی دیر توقف کرکے عاد اور ثمود کے عذاب کی نوعیت بھی اچھی طرح سمجھ لیجئے تاکہ ابتدائے سورة کی قسموں کے ساتھ ان سرگزشتوں کا تعلق بھی اچھی طرح واضح ہوجائے۔ استاذ امام فراہی ؒ نے تفسیر سورة ذاریات میں ان کے عذاب کی یہ شکل بیان فرمائی ہے۔ عاد اور ثمود کے عذاب کی نوعیت ”قرآن مجید میں قوم عاد کی ہلاکت کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے اس پر جو شخص بھی غور کرے گا اس سے یہ حقیقت مخفی نہیں رہے گی کہ جس تند ہوا سے وہ ہلاک کئے گئے اس کے ساتھ سرما کے وہ بادل بھی تھے جو ہمیشہ رعدو برق کے ساتھ نمودار ہوا کرتے ہیں۔ قرآن میں جہاں ان کی تباہی کا ذکر ہوا ہے، ہوا کے ساتھ پانی سے خالی بادلوں اور صاعقہ کا بھی ذکر ہوا ہے۔ سورة احقاف میں ہے۔ (الاحقاف : 24۔ 25) جب انہوں نے عذاب کو ابر کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے دیکھا، بولے یہ تو بادل ہے جو ہمیں سیراب کرنے والا ہے۔ بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچائے ہوئے تھے۔ یعنی بادتند جس کے اندر ایک دردناک عذاب ہے اکھاڑپھینکے گی ہر چیز اپنے رب کے حکم سے۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام خصوصیات موسم سرما کی ہوا اور اس کے بادلوں کی ہیں۔ اس زمانے میں باد شمال صرصر کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ خشکی اور قحط کی ایک عام نحوست اور تباہی ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ سورة قمر میں اسی حالت کی طرف اشارہ ہے : انا ارسلنا علیھم ریحاً صرصرافی ایام فی یوم نحس مستمیر (19) (اور ہم نے ان پر باد صرصرچلادی قائم رہنے والی نحوست کے زمانہ میں۔) اسی طرح حم السجدۃ میں ہے : فارسلنا علیھم ریحاً صرصرانی ایام نحسات (16) (پس ہم نے ان پر باد صرصر چلادی نحوست کے زمانے میں“) اس کے بعد مولانا ؒ نے اپنے دعوے کی تائید میں بعض شعرائے جاہلیت کے حوالے پیش کئے ہیں پھر آگے فرماتے ہیں۔ ’۔ سرما کی یہ تند ہوائیں جب چلتی ہیں تو دھاریوں والے سرخ بادلوں کے ٹکڑے، اولے اور عدوبرق کی آفتیں اپنے ساتھ لاتی ہیں۔ کلام عرب میں اس کی تمام تفصیلات ملتی ہیں…“ ”حم السجدۃ میں قوم عاد کے عذاب کے ذیل میں صاعقہ یعنی کڑک اور چمک کی بھی تصریح ہے : فان اعرضوافقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عادوثمود (14) (اگر وہ اعراض کریں تو ان کو باخبر کردو کہ میں تم کو اس طرح کی کڑک کے عذاب سے ڈراتا ہوں، جیسا عاد اور ثمود پر نازل ہوا)“ ”اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ نے بادلوں، تند ہوا اور ہولناک کڑک کا عذاب نازل فرمایا لیکن اصل تباہی ہوا کے تصرفات سے واقع ہوئی اس وجہ سے اگر اثر سے اثر پر استدلال کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ثمود پر اللہ تعالیٰ نے دھاریوں والے بادل بھیجے جن کے اندر ہولناک کڑک اور بہرا کردینے والی چیخ بھی تھی جس طرح قوم عاد پر ہوا کے ساتھ رعد وبرق والے بادل بھیجے۔ چونکہ ثمود کی تباہی صاعقہ ہی کے ذریعے سے واقع ہوئی … اس وجہ سے صرف اسی کا ذکر کیا، بادلوں کا کوئی ذکر نہیں کیا لیکن التزامی طور پر ثبوت ان کا بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح عاد کے ذکر میں ہوا کا ذکر بار بار کیا ہے لیکن بادلوں کا ذکر صرف ایک ہی جگہ کیا ہے“۔
Ayah 51:46

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور قوم نوح کو بھی ہم نے اس سے پہلے پکڑا۔ یہ لوگ بھی نافرمان تھے

وقوم نوح من قبل، انھم کانواقوماً فسقین (46) قوم نوح کے عذاب کی طرف اشارہ یہ عطف اس مفہوم پر ہے جو اوپر کی سرگزشتوں سے متبادر ہوتا ہے یعنی جس طرح ہم نے قوموں کو پکڑا یا ہلاک کیا اسی طرح ان سے پہلے قوم نوح کو بھی ہلاک کیا۔ مفہوم ومعنی پر عطف کی مثالیں قرآن میں بہت ہیں۔ اس کے شواہد پیچھے گزر چکے ہیں۔ یہ آخر میں قوم نوح کے واقعہ کی طرف بھی اجمالی اشارہ کردیا۔ اگرچہ تاریخی ترتیب کے اعتبار سے سب سے پہلے اسی واقعہ کا ذکر ہونا تھا لیکن قرآن نے یہاں ترتیب تاریخی اختیار نہیں کی بلکہ قریش کو ان واقعات کی طرف توجہ دلائی ہے جن کی روایات اور جن کے آثار ان کے ملک میں موجود تھے اور جن کی طرف اوپر آیت وفی الارض ایت للموقنین، میں اشارہ فرمایا ہے۔ یہ مقصد مقتضی ہوا کہ پہلے قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ کا ذکر آئے جو زمانی ومکانی دونوں ہی اعتبار سے نسبتاً قریب کے واقعات تھے اس وجہ سے مخاطب پر زیادہ اثر انداز ہوسکتے تھے۔ پھر سب سے آخر میں سب سے پہلے واقعہ کا بھی حوالہ دے دیا تاکہ مخاطب کے سامنے پوری تاریخ آجائے۔ اس واقعہ کی یاددہانی کا یہ خاص پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ جس طرح مذکورہ بالا قوموں کی سرگزشتوں میں آپ نے دیکھا کہ ان کی تباہی میں اصلی عامل کی حیثیت ہوا کے تصرفات کو حاصل ہے جس کی قسم سورة کے شروع میں کھائی گئی ہے، اسی طرح قوم نوح کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہوا ہی کے تصرف سے ہلاک کیا۔ استاذ امام فراہی ؒ نے سورة ذاریات کی تفسیر میں قوم نوح کی تباہی کی نوعیت پر مفصل بحث کی ہے۔ اس کا ضروری حصہ ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔ مولانا ؒ فرماتے ہیں۔ ”قرآن اور تورات میں قوم نوح کی تباہی سے متعلق جو تفصیلات ملتی ہیں ان پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان کی تباہی میں بھی اصل دخل ہوا کے تصرفات ہی کا رہا ہے۔ سورة عنکبوت میں ارشاد ہے : قوم نوح کی تباہی میں اصل دخل ہوا کے تصرفات کا تھا۔ (العنکبوت : 14) اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے اندر پچاس سال کم ایک ہزار سال رہا۔ پس ان کو پکڑا طوفان نے اور وہ ظالم تھے۔“ ”اس آیت میں لفظ طوفان، خاص طور پر قابل غور ہے، ’ طوفان ‘ کے لغوی معنی دوران یعنی گردش کرنے اور چکر کھانے کے ہیں۔ اہل عرب اس سے اس تند ہوا کو مراد لیتے ہیں جو تیزی سے چکر کھاتی ہوئی اٹھتی ہے“۔ اس معنی کی تائید میں کلام عرب کے بعض شواہد نقل کرنے کے بعد مولانا ؒ فرماتے ہیں۔ ”دوسری زبانوں میں بھی اس قسم کی تند ہوا کے لئے اس کے ہم معنی اور اسی کے مشابہ الفاظ ہیں۔ فارسی میں اس کو گرد باد کہتے ہیں۔ انگریزی میں اس کے لئے سائیکلون (Cyclone) کا لفظ ہے، مصریوں کے ہاں ہوا کا ایک خاص دیوتا تھا جس کو طائفون کہتے تھے۔ اس ہوا کی خاصیت یہ ہے کہ اس سے شدت کی بارش ہوتی ہے اور سمندر کا پانی جوش میں آجاتا ہے۔ میں نے کراچی میں اس قسم کا طوفان بچشم خود دیکھا ہے بحر ہند کے مشرق سے ایک طوفان اٹھا اور مغرب کی طرف گزر گیا۔ اس کے اثر سے نہایت سخت بارش ہوئی۔ جہاز پہاڑوں سے جاٹکرائے۔ دوسرے جانی مالی نقصانات بھی بیشمار ہوئے۔ طوفان نوح کے جو حالات تورات و قرآن میں بیان ہوئے ہیں وہ بڑی حدتک اس سے مشابہ ہیں۔ سورة ٔ قمر میں ہے : ففتحنا ابواب السمآء بماء منھمرہ وفجرنا الارض عیوناً فالتقی المآء علیٰ امرقد قدر (القمر : 12) ہم نے آسمان کے دروازے موسلادھار بارش کے ساتھ کھول دیئے اور زمین کے تمام چشمے پھوٹ نکلے۔ پس پانی ٹھہرائے ہوئے اندازہ تک پہنچ گیا۔“ ”تورات کی کتاب پیدائش، باب 7۔ 11 میں ہے۔ بڑے سمندر کے سب سوتے پھوٹ نکلے اور آسمان کی کھڑکیاں کھل گئیں۔ سورة ہود میں ہے۔ وھی تجری بھم فی موج کالجبال (ھود : 42 اور وہ کشتی ان کو لے کر ایسی موجوں کے اندر چل رہی تھی جو پہاڑوں کی طرح بلند ہورہی تھیں۔ پہاڑ کی طرح موجوں کا اٹھنا اسی حالت میں ہوتا ہے جب تند ہوا چل رہی ہو۔ آخر میں مولانا ؒ نے خلاصہ بحث ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔ ”اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ قوم نوح پر تند اور چکر دار ہوا کا طوفان آیا جس سے سخت بارش ہوئی۔ پاس کے سمندروں کا پانی ابل پڑا اور ہر طرف سے موجیں اٹھنے لگیں۔ اس طوفان کے اندر نوح ؑ کا سفینہ کوہ جودی پر جا کے ٹکا۔“ 9۔ واقعات کی ترتیب پر ایک نظر اوپر جو واقعات بیان ہوئے ہیں، آیات کی وضاحت کے ضمن میں ہم ان کی حکمت کی طرف ضروری اشارات کرتے آئے ہیں لیکن استاذ امام ؒ نے ان کی ترتیب پر ایک پوری فصل لکھی ہے جس میں نہایت لطیف نکتے بیان فرمائے ہیں۔ اس فصل کا ضروری حصہ ہم یہاں درج کرتے ہیں۔ مولانا ؒ فرماتے ہیں۔ ”حضرت ابراہیم وحضرت لوط (علیہما السلام) کی جو سرگزشت یہاں بیان ہوئی ہے اس کا ایک پہلو تو بالکل واضح ہے کہ اس میں بشارت اور انداردونوں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ غورکیجئے تو معلوم ہوگا کہ بعینہ یہی حال ہوا کا بھی ہی جس کی یہاں قسم کھائی گئی ہے۔ وہ بھی کبھی پیام رحمت بن کر ظاہر ہوتی ہے اور کبھی صورت عذاب بن کر حضرت ابراہیم ؑ کے واقعہ کی یہ جامع حیثیت مقتضی ہوئی کہ یہاں وہی تمہید کی جگہ پائیٰ۔“ ”اس کے بعد قوم لوط کی سرگزشتہ بیان ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربوں کو ان کی تباہ شدہ بستیوں پر گزرنے اور ان کے آثار ونشانات اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے مواقع ملتے رہتے تھے۔ علاوہ ازیں مقسم یہ کے پہلے ٹکڑے ”والذریت ذرداً ہ فالحملت وقراً ، (قسم ہی ان ہوائوں کی جو غبار اڑاتی چلتی ہیں پھر اٹھا لیتی ہیں بوجھ) سے سب سے زیادہ قریبی مناسبت قوم لوط کی تباہی کے واقعہ ہی کو تھی۔ ان کی تباہی تند ہوا سے ہوئی تھی جس نے ریت اور سنگ ریزوں سے ان کو ڈھانپ دیا۔ اس کی اتنی مقدار ان کے اوپر لاڈالی کہ اس کے نیچے ان کی بستیاں بھی چھپ گئیں“ علاوہ بریں اوپر جو فرمایا ہے : وفی الارض آیت للموقین، اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں) تو قوم لوط کی سرگزشت میں اس دعوے کا بھی نہایت واضح ثبوت موجود تھا جس کی وضاحت پیچھے ہوچکی ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشتہ ہے۔ سرگزشت قرآن مجید میں بار بار بیان ہوئی ہے اور اس کے اندر نہایت اعلیٰ سبق ہیں۔ اس کو مقسم یہ کہ دوسرے ٹکڑے فالحملت والحراء فالجریت بسراً (پھر بوجھ اٹھا لینے والی، پھر آہستہ چلنے والی) سے نہایت واضح مناسبت ہے اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔“ ”یہاں یہ نکتہ بھی قابل لحاظ ہے کہ جن سرگزشتوں کو حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے ناموں سے شروع کیا ہے ان کے اندر بشارت کا پہلو نمایاں ہے۔ اس کے بعد جو سرگزشتیں قوموں کے نام سے سنائی گئی ہیں ان کے اندر انداز کا پہلو غالب ہے۔ قوموں میں سے عاد اور ثمود کا ذکر خاص طور پر ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہی کہ ان کے اوپر جو عذاب آیا وہ دھاریوں والے بادلوں (والسمآء ذات العبک) کی شکل میں آیا۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ جو ترتیب قسموں میں ملحوظ ہے وہی ترتیب قوموں کے ذکر میں بھی ہے۔ عاد اور ثمود کے ذکر میں عاد کو مقدم رکھا ہے اس کی وجہ تقدم زمانی کے علاوہ یہ بھی ہے کہ ان پر جو عذاب آیا وہ ہوا اور بادل دونوں کے تصرفات کا نتیجہ تھا۔“ ”رہی نوح ؑ کی سرگزشت تو وہ تمام قوموں اور امتوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ایک غیرفانی نشانی ہے۔ یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ انا لماطغا المآء حملنکم فی الجاریۃ، لنجعلھا لکم تذکرۃ وتعیھا اذن واعیسۃ (العاقۃ : 11۔ 12) جب پانی حد سے بڑھ گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں اٹھالیا تاکہ اس سرگزشت کو تمہارے لئے یاددہانی بنائیں اور محفوظ رکھنے والے کان اس کو محفوظ کرلیں۔ ”اس سرگزشت کے اندر زمین، آسمان، ابر، ہوا، بادل، کشتی اور پانی سب کے کرشمے جمع ہوگئے ہیں۔ اس جامعیت کے سبب سے اس نے آفاقی وانفسی دلائل کے ایک مجموعہ کی حیثیت حاصل کرلی ہے چناچہ اوپر ہوا کی جو شہادتیں بیان ہوئیں اور بعد میں زمین و آسمان اور نفس کے جن آثار و دلائل کی طرف اشارے کئے گئے ان سب کے لحاظ سے مناسب ہوا کہ قوم نوح کی یہ جامع سرگزشت سنا کر وہ ساری حقیقتیں ممثل کرکے نگاہوں کے سامنے رکھ دی جائیں۔“ ”نیز عاد اور ثمود کو زمین کی خلافت قوم نوح کے بعد ہی ملی تھی اس وجہ سے بھی مناسب ہوا کہ ان کے ذکر کے ساتھ قوم نوح کا بھی حوالہ دیا جائے۔ قرآن مجید میں اس کی دوسری مثال بھی موجود ہے۔ وانہ اھلک عاد، الاولیٰ ، وثمودا، فما ابقی، وقم مرنوح من قبل انھم کانواھم اظلم واطفیٰ (انجم : 50۔ 52) اور اس نے عاد اول کو ہلاک کیا اور ثمود کو بھی۔ پس ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا۔ اور اس سے پہلے قوم نوح کو بھی ہلاک کیا۔ یہی لوگ ظالم و سرکش تھے۔“ ”اس آیت میں وقوم نوح من قبل، کے ٹکڑے پر خاص طور پر نگاہ رکھیے۔“ ”چونکہ یہ سرگزشت مشہور اور قدیم ہونے کے علاوہ تمام قوموں کی مشترک سرگزشت ہے اس وجہ سے اول تو اس کی طرف اجمالی اشارہ کافی ہوا پھر اس کا ذکر ایک اتمامی سرگزشت کی حیثیت سے کیا گیا۔ نیز ایجاز کی خوبی دیکھئے کہ محض اسلوب کی تبدیلی سے ظاہر ہوگیا کہ ماقبل سے اس کو کسی قدر مستقل اور جداگانہ اہمیت حاصل ہے۔ چناچہ وفی نوح، نہیں کہا، جیسا کہ اوپر وفی موسیٰ اور وفی عاد، کہا ہے بلکہ اسلوب بدل کر وقوم نوح فرمایا تاکہ بدلا ہوا اسلوب خود متنبہ کردے کہ اس سرگزشت کی اہمیت کچھ اور ہے۔“