Ayah 51:4710۔ آگے آیات 47۔ 60 کا مضمون
آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و ربوبیت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے قیامت اور جزا وسزاق سے ڈرایا ہے اور اسی ضمن میں توحید کی بھی یاددہانی فرمائی ہے تاکہ لوگوں پر واضح ہوجائے کہ سب کو ایک ہی خدا سے سابقہ پیش آنا ہے، کوئی دوسرا خاد کی پکڑ سے بچانے والا نہیں بنے گا۔ آخر میں نبی ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جو سلوک تمہاری قوم تمہارے ساتھ کررہی ہی یہی سلوک ہر قوم نے اپنے رسول کے ساتھ کیا ہے تو تم صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو۔ شریروں سے اعراض کرو۔ بس ان کو بات سنائو جو سنتے ہیں۔ اللہ ہر قدم پر تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی مدد فرمائے گا۔ تم اللہ کے سوا کسی کی مدد کے محتاج نہیں ہو۔ جو عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں ان کو آگاہ کردو کہ جلدی نہ مچائیں۔ ان کے لئے جو فرصت مقدر ہے جب وہ پوری ہوجائے گی تو عذاب آجائے گا اور وہ بڑی سخت چیز ہوگا۔
11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
والسمآء بنینھا بایدوانا لموسعون (47)
قدرت کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ
اید، کے معروف معنی تو ہاتھ کے ہیں لیکن یہ قوت وقدرت کی تعبیر کے لئے بھی آتا ہے۔ تنکیر یہاں تفخیم شان کے لئے ہے۔ موسعون، یعنی اس کا اقتدار واختیار بہت وسیع ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا کام بھی اس کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں ہے۔
اوپر جزاء وسزا کے اثبات کے لئے جو تاریخی دلیلیں بیان ہوئی ہیں انہی پر عطف کرکے یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس قدرت و عظمت کی طرف توجہ دلائی ہے جس کا مشاہدہ ہر شخص اپنے سر پر پھیلے ہوئے آسمان اور اس کے عجائب کے اندر کرسکتا ہے۔ مطلب یہ ہی کہ کیا جو خدا اس عظیم اور ناپیدا کنار آسمان کو وجود میں لاسکتا ہے اس کے لئے انسان کو اس کے مرکھپ جانے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا مشکل ہوجائے گا، یہی مضمون دوسرے مقامات میں یوں بیان ہوا ہے۔ ءانتم اشد خلقا ام السماء بنىها (التراعت : 27) (کیا تمہارا پیدا کیا جانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا ؟ اس کو بنایا …)
وانا لموسعون، یعنی اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ اس عظیم آسمان کو پیدا کرنے میں ساری قوت نچڑ گئی ہے اب کوئی اور کام ہم نہیں کرسکتے۔ ہمارے اندر بڑی سمائی اور بڑی قدرت ہے۔ ہم جو چاہیں اور جب چاہیں کرسکتے ہیں۔ کوئی چیز بھی ہمارے حیطہ قدرت سے باہر نہیں ہے۔ بعض دوسرے مقامات میں یہی مضمون یوں بھی بیان ہوا ہی کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔
و ما مسنامن لغوب (ق : 38) اور ہم کو ذرا بھی تکان لاحق نہیں ہوئی۔
Ayah 51:48والارض فرشنھا فنعم المھدون (48)
آسمان کے بعد زمین کی طرف اشارہ
آسمان کے بعد زمین کی طرف توجہ دلائی کہ اس کو دیکھو ہم نے کس خوبی سے بچھایا ہے اور ہم کتنے اچھے بچھانے والے ہیں، یعنی زمین پر غور کروتو اس سے ہماری قوت و عظمت بھی واضح ہوگئی اور ہماری ربوبیت بھی۔ جس سے ہر معقول آدمی اس نتیجہ تک پہنجتا ہے کہ جس خدا نے یہ زمین بنائی ہے اور اس کے اندر انسان کی پرورش کے لئے گونا گوں وسائل پیدا کئے ہیں اس نے یہ کارخانہ عبث نہیں پیدا کیا ہے۔ یہ بات اس کی حکمت و ربوبیت کے منافی ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے۔ حکمت و ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں ہر شخص اس دنیا کی زندگی سے متعلق مسئول ہو کہ اس نے اس میں خالق کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کی یا اپنی مرضی چلائی، اگر اس نے خالق کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کی ہو تو وہ حقدار ہے کہ اپنی اس شکر گزاری کا صلہ پانے اور اگر اپنی من مانی کی ہو تو وہ سزا وار ہے کہ اپنی اس سرکشی کی سزا بھگتے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے بیان ہوچکا ہے۔ یہاں زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ سورة نبا کی تفسیر میں انشاء اللہ اس کی مزید وضاحت آئے گی۔
فنعم المھدون، سے مقصود اس دنیا کے ان عجائبات حکمت و ربوبیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جن سے واضح ہوتا ہے کہ اس کا خالق صرف ایک بےپناہ قدرت رکھنے والا ہی نہیں ہے بلکہ جس طرح اس کی قدرت بےپناہ ہے اسی طرح اس کی حکمت، رحمت، پروردگاری اور اس کے جودوکرم کی بھی کوئی حدونہایت نہیں ہے۔ پھر یہیں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس کی یہ صفات بھی متقاضی ہیں کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں وہ اپنی بندوں کے درمیان انصاف کرے اور اس کے کامل عدل اور اس کی کامل رحمت کا ظہور ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کی صفات رحمت و ربوبیت کی نفی ہوجاتی ہے حالانکہ اس دنیا کا ہر گوشہ اس کی شہادت سے معمور ہے۔
Ayah 51:49ومن کل شیٔ خلقنازوجین لعلکم تذکرون (49)
یہ اس کائنات کے ایک اور خاص پہلو کی طرف توجہ دلائی اور یہ پہلو بھی اپنے اندر قیامت اور جزاء وسزا کی دلیل رکھتا ہے۔
اس کائنات کا ایک خاص پہلو
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جوڑے جوڑے پیدا کی ہے۔ چناچہ اوپر آسمان و زمین کا ذکر ہوچکا ہے۔ ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر ہی اپنی غایت اور اپنے مقصد کو پورا کرتی ہے اس سے ایک طرف تو توحید کی دلیل ملتی ہے کہ ایک مدبر و حکیم ہستی نے یہ دنیا پیدا کی ہے جو اس تمام کائنات سے بالاتر اور سب پر حاوی ہے اور اپنی قدرت حکمت کے تحت اس کے اجزائے مختلفہ میں ربط پیدا کرکے ان کو صالح نتائج کے ظہور کا ذریعہ بناتی ہے۔ دوسری طرف یہ آخرت کی بھی ایک بدیہی دلیل ہے اس لئے کہ اس دنیا کی ہر چیز جب جوڑا جوڑا ہی اور ہر چیز اپنی غایت کو اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر پہنچتی ہے تو ضروری ہے کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ہوتا کہ اس میں جو خلا نظر آتا ہے اس جوڑے کی ساتھ مل کر بھر جائے۔ یہ جوڑا آخرت ہے۔ آخرت کو مان لینے کے بعد یہ دنیا ایک بامقصد وباحکمت چیز بن جاتی ہے اور آخرت کو نہ مانے تو ایک بالکل باطل وعبث چیز ہو کے رہ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے آخرت کو نہ ماننے والوں سے جگہ جگہ یہ سوال کیا ہے کہ کیا تم نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ہم نے تم کو عبث پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے، اس دلیل کی پوری وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ یہاں لعلکم تذکروں، کے الفاظ سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز کا جوڑے جوڑے ہونا اس امر کی یاددہانی کرتا ہے کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ہے جس سے اس کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ ہے آخرت۔
Ayah 51:50ففروا الی اللہ، انی لکم منہ نذیر مبین (50)
آخرت کی یاددہانی
یعنی جب آخرت ہے اور اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے رسول کی مخالفت سے باز آئو، اپنے رب کی طرف بھاگو اور اس دن کے لئے تیاری کرو جس دن ہر شخص سے اس کے اعمال کی بابت پرسش ہونی ہے اور جس دن خدا کے سوا کوئی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔
انی لکم منہ نذیر مبین، یعنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے ایک نذیر مبین، کی حیثیت سے آیا ہوں کہ آخرت کے ظہور سے پہلے پہلے اس کے خطرات سے تمہیں اچھی طرح آگاہ کردوں تاکہ کسی کے لئے اس دن عذر کی گنجائش باقی نہ رہے کہ اس کے پاس کوئی اس دن سے آگاہ کرنے والا نہیں آیا۔ میں نے ایک نذیر مبین، کی طرح تمہیں اس دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں سے اچھی طرح آگاہ کردیا ہے اب نتائج کی ساری ذمہ داری خود تمہارے اوپر ہے۔
نذیر مبین، کے اندر جو تلمیح ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ منہ سے مراد یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص تمہارے اندار ہی کے مشن پر مامور ہو کر آیا ہوں۔ بعض لوگوں نے منہ کو نذیر، کے صلہ کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن یہ رائے عربیت کے بھی خلاف ہے اور نظائر قرآن کے بھی۔
Ayah 51:51ولا تجعلو امع اللہ الھا اخرط انی لکم منہ نذیر مبین (51)
اس حقیقت کی یاد دہانی کہ خدا کا کوئی شریک نہیں
یہ اوپر کے مضمون کی تکرار نہیں ہے بلکہ ایک اور حقیقت سے آگاہ فرمایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ جب آخرت کا مرحلہ آئے گا تو اس دن تمہارے مزعومہ شرکاء وشفعاء تمہاری مدد کریں گے یا سفارش کرکے خدا کی پکڑ سے تمہیں بچا لیں گے۔ اس قسم کے خیالی سہاروں پر بھروسہ کرکے اپنی عاقبت برباد نہ کرو۔ اس دن سابقہ صرف اللہ وحدہ لاشریک سے پیش آئے گا، دوسرے سہارے سب بےحقیقت ثابت ہوں گے۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مشن پر بھی مامور ہوں کہ تمہیں اس حقیقت سے بھی اچھی طرح آگاہ کردوں کہ خدا کا کوئی شریک نہیں ہے۔
ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کرتے آرہے ہیں کہ مشرکین اول تو قیامت کو بہت بعید ازامکان خیال کرتے تھے اور اگر ایک مفروضہ کے درجے میں مانتے بھی تھے تو ان کو گمان یہ تھا کہ ان کا معاملہ تو ان کے شرکاء کے سامنے پیش ہوگا، وہ اپنے زورواثر سے ان کو خدا کی پکڑ سے بچالیں گے۔ ان کے اس زعم نے زعم قیامت کو ان کے نزدیک ایک بالکل بےاثر چیز بنادیا تھا۔ ان کی اسی غلط فہمی پر ضرب لگانے کے لئے قرآن میں قیامت کے ساتھ توحید کا ذکر ضرور آتا ہے۔ پیچھے اس کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ اسی نوعیت کی تنبیہ یہاں بھی ہے۔
Ayah 51:52کذلک ما اتی الذین من قبلھم من رسول الا قالو اساحراومجنون (52)
یہ نبی ﷺ کو تسلی دیگئی ہے کہ ان لوگوں کی اس روش پر غم نہ کرو۔ اس صورت حال سے تمہی کو سابقہ پیش نہیں آیا ہے بلکہ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں انہوں نے اپنے اپنے رسولوں کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے۔
رسولوں کے ساتھ شریروں کی روش
قالو اساحرا ومجنون، یعنی انہوں نے جب ان کی طلب پر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دکھائیں تو ان کو جادوگر ٹھہریا اور جب ان کو عذاب وقیامت سے ڈرایا تو ان کو خبطی اور دیوانہ قرار دیا۔ ساحر، اور مجنون، کے الفاظ بطور مثال نقل ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی مخالفت کے لئے انہوں نے کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کر ہی لیا، اسی طرح تمہاری قوم کے اشرار بھی تمہیں مطعون کرنے کے لئے طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں۔ رسولوں کے ساتھ اشرار کا سلوک ہمیشہ یہی رہا ہے۔ اس میں تمہاری کسی کوتاہی یا کمی کو کوئی دخل نہیں ہے اور نہ یہ صورت حال صرف تمہی کو پیش آئی ہے اس وجہ سے دل گرفتہ نہ ہو بلکہ صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرو جس طرح تم سے پہلے اولو العزم رسولوں نے کیا۔
Ayah 51:53اتواصوابہ، بل ھم قوم طاغون (53)
یہ اشرار کی روش کی یکسانی اور اس کے تسلسل پر اظہار تعجب ہے کہا یسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم کی اشرار نے اپنے بعد آنے والی قوم کے اشرار کو یہ وصیت کرچھوڑی ہے کہ تمہارے پاس بھی کوئی رسول آئے تو اس سے وہی سلوک کرنا جو ہم نے اپنے رسول سے کیا ہے چناچہ ہر آنے والی نسل اپنے اسلاف کی اس وصیت کی پوری وفاداری کے ساتھ تعمیل کرتی چلی جارہی ہے۔
بل ھم قوم طاغون ‘ یہ اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ عمل کی اس مشابہت کی اصل علت یہ ہے کہ یہ لوگ بھی (یعنی قریش) اسی طرح کے سرکش ہیں جس طرح کے سرکش پچھلے رسولوں کے مکذبین تھے۔ مزاج کی یہ یکسانی اس بات کا سبب ہوئی کہ یہ بھی وہی ٹیڑھی چال چلیں جو ان کے پیش رو چلے اور پھر لازماً اسی انجام سے دوچار ہوں جس سے وہ دوچار ہوئے۔
Ayah 51:54فتول عنھم فماانت بملوم (54)
مغروروں سے اعراض اور نیکوں کی طرف التفات کی ہدایت
یعنی اس قسم کے شریر لوگوں سے، جو مخالفت کے لئے ادھار کھائے بیٹھے ہوں، تم اعراض کرو۔ رسول کی حیثیت سے انذاروتبلیغ کی جو ذمہ داری تھی وہ تم نے ادا کردی۔ اب تم عنداللہ بری ہو، اب کوئی پرسش ان کے باب میں تم سی نہیں ہونی ہے بلکہ یہ خود سزا وار ملامت ہیں اور اس کا انجام عنقریب دیکھیں گے۔
Ayah 51:55وذکرفان الذکرٰی تنفح المومنین (55)
یعنی شریروں اور سرکشوں سے تو اعراض کرو لیکن ان لوگوں کو سمجھاتے رہو جو تمہاری بات سنتے ہیں۔ ایمان کے طالبوں کو تمہاری تعلیم و تذکیر سے نفع پہنچتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اوپر کی آیت میں اعراض کی جو ہدایت ہی اس کا تعلق قریش کے ان سرکش لیڈروں سے ہے جو غرور کے سبب سے کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں تھے لیکن آنحضرت ﷺ اس خیال سے ان کے ایمان کے لئے زیادہ فکر مند تھے کہ یہ ایمان لائے گے تو اس سے دین کو تقویت حاصل ہوگی اور دوسروں کے لئے ایمان کی راہ کھلے گی۔ مصلحت تھی اس وجہ سے نبی ﷺ ایک مدت تک ان کے پیچھے سرگرداں رہے لیکن جب ان پر حجت تمام ہوگئی اور واضح ہوگیا کہ یہ پتھر اپنی جگہ سے کھسکنے والے نہیں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے پیچھے وقت ضائع کرنے سے روک دیا۔
Ayahs 51:56–58(56۔ 58)
دواہم حقیقتوں کا بیان
قریش کے لیڈروں سے اعراض کے حکم کے بعد ان آیات میں دو نہایت اہم حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہی۔
اول اس حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو جو پیدا کیا ہے تو اپنی کسی احتیاج کے لئے نہیں پیدا کیا ہے کہ وہ ہر حال میں ان کی ناز برداری کرتا رہے۔ اس کی سلطنت اپنے بل بوتے پر قائم رہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ لوگ ہی اس کے محتاج ہیں۔ اس نے ان کو اس لئے پیدا کیا کہ اس کی عبادت و اطاعت کا حق ادا کرکے سعادت و کمال کے مدارج حاصل کریں جو اس نے ان کے لئے مقدر کر رکھے ہیں۔ اسی مقصد کی یاددہانی کے لئے اس نے اپنے رسول بھیجے تاکہ لوگوں پر اصل حقیقت واضح ہوجائے لیکن رسول کی ذمہ داری صرف حق کو واضح کردینے کی ہے۔ یہ ذمہ داری اس پر نہیں ہے کہ لوگ اس حق کو لازماً قبول بھی کرلیں۔ رسول نے اپنا فرض ادا کردیا۔ اگر لوگ اس کی دعوت کو قبول نہیں کررہے ہیں تو اپنے ہی کو تباہ کررہے ہیں۔ خدا اور اس کے رسول کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں کہ ان کو ہر قیمت پر کسی نہ کسی طرح راضی کرنے ہی کی کوشش کی جائے۔
گویا اوپر والی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو قریش کے لیڈروں سے اعراض کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے ان آیات میں اس کی وجہ بیان فرما دی گئی ہے کہ ان مستکبرین کے بغیر خدا کا کوئی کام بند نہیں ہوجائے گا کہ تم ان کے پیچھے اپنے کو ہلکان رکھو۔
دوسرے اس حقیقت کی طرف کہ اللہ کے دین کی دعوت اپنا زاد وراحلہ اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ جو لوگ اس دعوت کو لے کر اٹھیں ان کا سارا بھروسہ اپنے رب پر ہونا چاہیے۔ انہیں یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی عبادت و اطاعت کے لئے پیدا کیا ہے۔ یہی چیز ان کی خلقت کی غایت اور ان کی زندگی کا نصب العین ہے جس کا پورا ہونا ہر شکل میں مطلوب ہے۔ اس کی خاطر تو وہ ہر چیز قربان کرسکتے ہیں لیکن اس کو کسی چیز پر بھی قربان نہیں کرسکتے۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ اس جرم میں ان کے دشمن ان پر تمام معاشی راہیں مسدود کردیں گے جب بھی انہیں اپنے موقف حق پر ڈٹے رہنا اور یہ اطمینان رکھنا چاہیے کہ اگر انہوں نے اپنے مقصد حیات سے انحراف اختیار نہ کیا تو اللہ تعالیٰ دشمنوں کے علی الرغم ان کے لئے رزق کی ایسی راہیں کھولے گا جن کا گمان نہ ان کو ہوگا اور نہ ان کے دشمنوں کو رزاق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ بڑی ہی محکم قوت وتدبیر کا مالک ہے کسی بڑے سے بڑے دشمن کی قوت بھی اس کی قوت پر غالب نہیں آسکتی۔
یہ گویا نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو، دعوت کے اس دور میں جب کفار ان کو مکہ سے نکال دینے اور تمام معاشی راہیں ان پر بند کردینے کی اسکیمیں سوچ رہے تھے، تسلی دی گئی ہے کہ تم اللہ واحد کی بندگی کے اس نصب العین پر ڈٹے رہو جس کے لئے تمہارے رب نے تم کو پیدا کیا ہے۔ رزاق حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ تمہارے لئے غیب سے رزق کی راہیں کھولے گا۔ بندوں کا فرض اپنے رب کی بندگی کرنا ہے۔ رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لی ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کے پورا کرنے میں کسی پہلو سے بھی عاجز نہیں ہے۔ یہ مضمون قرآن میں ان مواقع میں خاص طور پر بیان ہوا ہے جہاں نبی ﷺ کو قریش کے اعتبار سے بےنیاز ہو کر اپنے موقف حق پر ثابت قدم رہنے کی ہدایت فرمائی گئی بعض آیتیں ہم بطور مثال نقل کرتے ہیں۔
وامراھلک بالصلوٰۃ واصطبرعلیھا، لانسئلک رزقاً ، نحن نرزقک والعاقبۃ للتقویٰ (طٰہ : 132)
اور تم اپنے لوگوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر جمے رہو ہم تم سے رزق رسانی کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تم کو رزوی دیں گے اور انجام کار کی کامیابی تقویٰ ہی کے لئے ہے۔
یہی مضمون دوسرے الفاظ میں یوں آیا ہے۔
لاتمدن عینیک الیٰ ما متعنابہ ازواجاً منھم ولاتحزن علیھم واخفص جناحک للمؤمنین (الحجر : 88)
اور ہم نے ان کفار کی بعض جماعتوں کو جن چیزوں سے بہرہ مند کررکھا ہے اس کی طرف نگاہ نہ اٹھائو اور نہ ان کے حال پر غم کرو اور اپنی شفقت کے بازو اہل ایمان پر جھکائے رکھو۔
کلام کا موقع ومحل سمجھ لینے کے بعد ایک نظر اس کے اجزاء پر بھی ڈال لیجئے۔
وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ اس آیت میں لفظ عبادت، اپنے وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے یعنی رب کی بندگی اور اس کے احکام کی اطاعت۔ مقصود اس حقیقت کا پتہ بتادینے سے زندگی کے اصل نصب العین کو سامنے رکھ دینا ہے تاکہ ہر انسان واضح طور پر جان لے کہ اسے کس مقصد کے لئے جینا اور کس مقصد کے لئی مرنا ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ خدا کی بندگی اس لئے مطلوب نہیں ہے کہ خدا کسی کی بندگی کا محتاج ہے بلکہ قرآن میں جابجا یہ تصریح ہے کہ بندے ہی اس کی بندگی کے محتاج ہیں اس لئے کہ ان کی رفعت وبلندی کا زینہ یہ بندگی ہی ہے۔ اگر اس بندگی سے وہ منحرف ہوجائیں تو پھر ان کی حیثیت حیوانات سے زیادہ نہیں رہ جاتی بلکہ وہ ان سے بھی فرد تر درجے میں گرجاتے ہیں۔ یہاں جنوں اور انسانوں دونوں کا ذکر ایک درجہ کی مخلوق کی حیثیت سے کیا ہے، اس لئے کہ ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے اختیار کے شرف سے مشرف فرمایا ہے اور دونوں اللہ تعالیٰ کے ہاں مساوی درجے میں مسئول اور بندگی رب کا حق ادا کرنے کی صورت میں یکساں اجروشرف کے حق دار ہیں۔
مآاریدمنھم من رزق ومآاریدان یطعمون، یہ اس امر کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو اپنی کسی ضرورت کے لئے نہیں پیدا کیا ہے کہ ان کے بغیر اس کا کوئی کام بند ہوجائے۔ اس نے نہ تو اپنی مخلوق کی رزق رسانی کی ذمہ داری ان پر ڈالی ہے اور نہ وہ خود کھانے پینے کا محتاج ہے کہ ان سے یہ چاہے کہ وہ اس کو کھلائیں بلکہ وہ خود ہی سب کا روزی رساں ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ انسان کود اپنے یا اپنی آل واولاد کے رزق کے لئے اس دنیا میں جو جدوجہد کرتا ہے اس میں اس کی حیثیت ایک آلہ اور ذریعہ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ اس کی کوششوں کو بارآور کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اگر اس کا فضل نہ تو آدمی کی ساری محنت اکارت ہو کے رہ جائے۔ چناچہ فرمایا۔ افرء یتم ماتحرثون، ع انتم تزرعونہ امر نحن الزرعون (الواقعہ : 63۔ 64)
(غور تو کرو اس چیز پر جو تم بولتے ہو، کیا تم اس کو پروان چڑھاتے ہو یا ہم اس کو پروان چڑھانے والے ہیں)
ومآاریدان یظعمون، میں مشرک قوموں کے اس وہم پر بھی ایک ضرب ہے جو وہ اپنی دیوتائوں کی نسبت رکھتی ہیں کہ وہ ان کی پیش کردہ قربانیوں سے بہرہ مند اور محظوظ ہوتے ہیں۔
ان اللہ ھوالرزاق ذوالقوۃ المتین۔ یعنی حالات کی ظاہری نامساعدت سے بددل ہو کر کوئی خدا کی رزق رسانی وکارسازی کے باب میں کسی شک میں مبتلا نہ ہو۔ رزاق حقیقی اللہ تعالیٰ ہی اور وہ بڑی ہی محکم قوت کا مالک ہے۔ حالات کی نامساعدت اور مخالفوں کی مزاحمت اس کی تدبیروں کو شکست نہیں دے سکتی۔
ذوالقوۃ المتین، کی وضاحت مولانا فراہی ؒ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں فرمائی ہے۔
”لفظ متین، پر چونکہ وقف ہے اس وجہ سے اس کا اعراب ظاہر نہیں ہوتا اور جب اعراب ظاہر نہیں ہوتا تو اس کی قراءت میں کسی اختلاف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس کا اعراب ہے کیا ؟ بعض اس کو مجرور سمجھتے اور اس کو قوۃ، کی صفت قرار دیتے ہیں، قوت، دراصل رسی کی لڑکو کہتے ہیں اور رسی کی مضبوطی کے لئے عربی میں لفظ متین، معروف ہے۔ ایک شبہ یہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ لفظ، قوت، مؤنث ہے اور متین، مذکر ہے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہی کہ ’ متین ‘ فعیل کے وزن پر ہے اور یہ وزن عربی میں مذکر اور مؤنث دونوں ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن میں ارشاد ہے ان رحمت اللہ قریب من المحسنین (الاعراف : 56) (اللہ کی رحمت محسنون کے قریب ہے)“۔
”بعض متین، اللہ تعالیٰ کی صفت کی حیثیت سے قرآن میں کہیں اور نہیں استعمال ہوا ہے۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس کا فاعل محذوف مانا جائے یعنی المتین قوتہ، اس طرح یہ اختلاف محض اعراب کا اختلاف ہوگاء معنی میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوگا۔“
Ayah 51:59فان للذین ظلمواء نوباً مثل ذنوب اصحبھم فلا یستعجلون (59)
قریش کو تنبیہ
ذنوب، بھرے ہوئے ڈول کو کہتے ہیں۔ خالی ڈول کے لئے یہ لفظ نہیں آتا۔ اسی مفہوم سے ترقی کرکے یہ لفظ حصہ اور نصیب کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا، ابوذوئب کا ایک شعر ہے۔
ھمرک والمنایاغالبات نکل بنی اب منھا ذنوب
(تیری جان کی قسم، موت سے مفر نہیں۔ ہر باپ کے بیٹوں کے لئے اس میں حصہ ہے)
آیت میں ذنوب، سے مراد زندگی کی وہ محدود مدت ہے جو ان کفار کے حصہ میں آئی ہے۔ للذین ظلموا، سے مراد قریش کے وہی لیڈر ہیں جن کا رویہ یہاں زیر بحث ہے۔ فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے پہلے ہم مشربوں کو (اشآارہ عاد وثمود وغیرہ کی طرف ہے) ایک مدت مہلت کی دی کہ اس کے اندر وہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرکے اپنا پیمانہ بھر لیں اسی طرح ان کو بھی ایک مہلت ہم نے عطا فرمائی ہے کہ ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے۔ بالآخر یہ مہلت تمام ہونی ہے اور وہ انجام ان کے سامنے آکے رہے گا جس سے ان کو آگاہ کیا جارہا ہے تو اس مہلت کو غیر محدود سمجھ کر اس عذاب کے لئے وہ جلدی نہ مچائیں جس سے ان کو آگاہ کیا جارہا ہے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ مثلاً وربک الغفور ذوالرحمۃ، لویؤ اخذھم بماکسبوا العجل لھم العذاب، بل لھم موعدلن یجدوامن دونہ موئلاً (الکھف : 85) (اور تیرا رب مغفرت اور رحمت کرنے والا ہے، اگر وہ ان کے جرموں پر فوراً مواخذہ کرنے والا ہوتا تو ان پر فوراً عذاب بھیج دیتا۔ لیکن ان کے لئے ایک وعدے کا دن ہے جس سے وہ کہیں پناہ نہیں پائیں گے) ’
Ayah 51:60فویل للذین کفرومن یومھم الذی یوعدون (60)
للذین کفرورا، اگرچہ عام ہے لیکن یہاں مراد کفار قریش ہی ہیں جو رسول کے انذار کو محض دھونس خیال کرکے اس کو زچ کرنے کے لئے، مطالبہ کررہے تھے کہ اگر اس طرح کا کوئی عذاب آنا ہے تو وہ آجائے، اس کو دیکھے بغیر ہم اس کو ماننے والے نہیں ہیں۔ فرمایا کہ اس دن کے لئے جلدی نہ مچائیں۔ وہ بڑا ہی کٹھن دن ہوگا۔ اس دن کے سبب سے ان کو جن ابدی ہلاکتوں سے سابقہ پیش آئے گا ان سے ان کو کوئی پناہ نہ دے سکے گا۔
اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذلک
رحمان آباد
18 اپریل 1977 ء
28 ربیع الثانی 1397 ھ