55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 55:39–42

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

پس اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کی بابت سوال کی ضرورت نہیں ہوگی۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کن شانوں کو جھٹلائو گے !

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ Open ayah 55:41 in the Quran reader

مجرم پہچان لیے جائیں گے اپنی علامتوں سے پس پکڑے جائیں گے چٹیا اور پائوں سے (اور جہنم میں پھینک دیے جائیں گے)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:42 in the Quran reader

تو اپنے رب کی کن کن قدرتوں کی تکذیب کرو گے !

(فیومیذ لا یسئل عن ذنبم انس ولا جان فبای الاء ربکما تکذبن یعرف المجرمون بسمھم فیوخذ بالنواصی والاقدام فبای الا ربکما تکذبین) (39۔ 42)۔ (مجرموں کا جرم بےتحقیق واضح ہوگا)۔ یعنی اس مغالطے میں نہ رہو کہ اس دن تمہارے جرائم کی تفتیش و تحقیق کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ کو کوئی محنت کرنی پڑے گی۔ محنت تو درکنار کسی سے اس کے جرم کی بابت پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔ اس دن ہر مجرم اپنی پیشانی سے پہچان لیا جائے گا کہ وہ کس درجے کا مجرم اور کس سزا کا مستحق ہے۔ سوال کی مختلف نوعتیں ہوتی ہیں۔ یہاں جس سوال کی نفی ہے وہ تحقیق و تفتیش کی نوعیت کا سوال ہے۔ اس کی ضرورت پیش نہ آنے کی وجہ قرآن کے دوسرے مقامات میں یہ بیان ہوئی ہے کہ اس دن آدمی کے صرف ہاتھ پائوں ہی نہیں بلکہ اس کے ایک ایک بن مو سے اس کے جرائم کی شہادت ملے گی۔ رہا وہ سوال جو توبیخ یا ملامت یا استہزاء اور ظنز کی نوعیت کا ہوتا ہے تو اسکی نفی یہاں نہیں کی گئی ہے اور قرآن میں جو سوالات مجرموں سے مذکور ہیں وہ اسی دوسری نوعیت کے ہیں۔ اس باب میں قرآن کے بیان میں کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ دونوں کے مواقع الگ الگ ہیں۔ (دوزخ میں پھینکے جانے کی تصویر)۔ (فیوخذ بالنواصی والاقدام) یہ ان کے دوزخ میں پھینکے جانے کی تصویر ہے کہ اپنے جرم کی علامت کے ساتھ یہ دوزخ کے سنتریوں کے پاس لائے جائیں گے اور وہ ان کی چٹیا اور ان کے پائوں پکڑ کے اٹھائیں گے اور جس طرح لکڑی کے کندے دہکتی آگ میں پھینکے جاتے ہیں اسی طرح ان کو بھڑکتی دوزخ میں پھینک دیں گے۔ پہلا دوزخ میں پھینکے جانے کا مضمون محذوف ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پکڑے جانے کی جو تصویر کھینچی گئی ہے۔ وہ پھینکے جانے ہی کی ہے۔ اس واضح قرینہ کی موجودگی میں اس مضمون کے اظہار کی ضرورت نہیں تھی۔ آگے آیت ترجیح ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے کہ تمہارے سامنے مرحلہ تو یہ بھی آنے والا ہے تو آخر اپنے رب کی کن کن نشانیوں کی تکذیب کرو گے !
Ayahs 55:43–45

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ Open ayah 55:43 in the Quran reader

یہ ہے وہ جہنم جس کی مجرم تکذیب کرتے رہے تھے۔

یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ Open ayah 55:44 in the Quran reader

وہ اس کے اور اس کے کھولتے پانی کے درمیان چکر لگاتے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:45 in the Quran reader

تو اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے !)

(ھذا جہنم التی یکذب بھا المجرمون یطوفون بینھا و بین حمیم ان فبای الا ربکما تکذبن) (43۔ 45)۔ (آگ اور کھولتے پانی کے درمیان گردش)۔ فرمایا کہ یہ ہے اس جہنم کی تصویر جس کی مجرمین تکذیب کر رہے ہیں بالآخر وہ اس کی آگ اور اس کے کھولتے پانی کے درمیان پھیرے لگائیں گے۔ ’ ان ‘ اس پانی کی صفت کے لیے آتا ہے جس کی گرمی اپنے آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہو۔ یہ ان کی انتہائی بےکسی کی تصویر ہے کہ جب دوزخ کی آگ ان کو جھلسے گی تو وہ پانی کی تلاش میں بھاگیں گے لیکن پانی کا حال یہ ہوگا کہ وہ گرمی کے آخری نقطہ پر پہنچا ہوا ہوگا۔ انہی کے درمیان پھیرے لگانے میں ان کی زندگی گزرے گی۔ سورة غاشیہ میں ان کی اس حالت کی تویر یوں کھینچی گئی ہے ؟ (تصی نارا حامیۃ تسقی من عین ان یہ) (الغاشیۃ : 41۔ 5) (وہ بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے اور جب پانی مانگیں گے تو انکو آخری درجے میں گرم چشمہ کا پانی پلایا جائے گا)۔ آخر میں آیت ترجیح ہے اور اس کا موقع و محل واضح ہے کہ آج تو بڑی ڈھٹائی سے آخرت اور عذاب کا انکار کررہے ہو لیکن جب یہ کچھ سامنے آئے گا تب کیا کرو گے ! آخر اپنے رب کے کتنے مظاہر کو جھٹلائو گے !
Ayahs 55:46–47

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:46 in the Quran reader

(اور ان کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتے رہے دو باغ ہوں گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:47 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کن کن عنایتوں کو جھٹلائو گے !

4۔ آگے آیات 46۔ 78 کا مضمون مجرموں کا انجام بیان کرنے کے بعد آگے اس صلہ کی تفصیل ہے جو اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کو قیامت میں ملنے والا ہے۔ اس تقابل سے دونوں گروہوں کی پوری تصویر سامنے آگئی ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ بس اتنی بات یاد رکھنے کی ہے کہ آیات 46۔ 61 میں مقربین کی حیثیت کا بیان ہے اور اس کے بعد کی آیات میں اصحاب الیمین کی جنت کا، ان دونوں گروہوں کے فرق مراتب کی تفصیل اس کے بعد والی سورة الواقعہ میں آئے گی جو اس کی توام سورة ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت۔۔ (ولمن خاف مقام ربہ جنتن فبای الا ربکما تکذبین) (46۔ 47) (مقتیوں کا انجام)۔ مجرمین کے انجام کے بعد یہ متقیوں کا انجام بیان ہو رہا ہے۔ ان کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ یہ اپنے رب کے حضور پر پیشی سے برابر ڈرتے رہے۔ اس دن کا حوالہ قرآن کے دوسرے مقام میں (یوم یقوم الناس لرب العلمین) (المطففین : 6) کے الفاظ سے آیا ہے، یعنی جس دن لوگ اپنے رب کے حضور میں پیشی کے لیے اٹھیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ انسان کو جادو مستقیم پر استوار رکھنے والی واحد چیز یہی اللہ تعالیٰ کے آگے پیشی کا خوف ہے۔ یہ خوف دل سے نکل جائے تو پھر انسان کو بڑے سے بڑا مجرم بننے سے بھی کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ فرمایا کہ جو لوگ اپنے رب کے حضور جواب دہی سے ڈرتے رہے ان کے لیے دو باغ ہوں گے۔ قرآن میں لفظ ’ جنت ‘ تمام اخروی کامیابیوں کی ایک جامع تعبیر ہے اور دو جنتوں کا ذکر تکمیل نعمت کے طور پر ہوا ہے کہ ایک نہیں بلکہ دو دو جنتیں ان کو ملیں گی۔ سورة کہف آیت 32 میں باغ والے کا جو قصہ ہے اس میں بھی دو باغوں کا ذد کر ہے (جعلنا لا حد ھما جنتین من اعناب وحففنھما بنخل) (الکہف : 32) (ان میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان کو گھیرا تھا کھجوروں سے) اس آیت کے تحت ہم نے لکھا ہے کہ یہ دو باغوں کا ذکر اتمام نعمت کے اظہار کے لیے ہے کہ اللہ نے تو اپنے فضل سے اس کو دودو باغ دے رکھے تھے لیکن یہ نعمت اس کے لیے شکر گزاری کے بجائے نا شکری کا سبب بنی)۔ (بلاغت کلام کا ایک نکتہ)۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے اور آگے جنت کی ایک ایک نعمت کے ذکر کے بعد یہ ترجیح آئے گی۔ اس کے موقع پر محل کی بلاغت سمجھنے کے لیے یہ بات یاد رکھیے کہ جن مکذبین سے یہاں خطاب ہے وہ اول تو قیامت کو بہت بعید از امکان چیز سمجھتے تھے اور اگر ایک مفروضہ کے درجے میں اس کو مانتے بھی تھے تو یہ ماننے کے لیے وہ کسی قیمت پر بھی تیار نہیں تھے کہ آخرت کی نعمتوں میں کوئی حصہ ان فتوفقیر مسلمانوں کا بھی ہوگا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اگر جنت کی فی الواقع کوئی حقیقت ہے تو جس طرح اس دنیا کی تمام نعمتیں ان کو ملی ہیں اسی طرح آخرت کی نعمتیں بھی انہی کو ملیں گی۔ ان کو اس ذہنیت کو اچھی طرح کچلنے اور ان کے غرور کو بالکل پامال کردینے کے لیے یہاں جنت کی ایک ایک نعمت پر ہاتھ رکھ رکھ کے فرمایا ہے کہ یہ ہم اپنیے متقی بندوں کو دیں گے اور ساتھ ہی ان مکذبین سے سوال کیا ہے کہ بتائو تم ہماری کتنی نعمتوں کو جھٹلائو گے ! یہاں تو تم کہتے ہو کہ یہ محض جی کو خوش کرنے کی باتیں ہیں لیکن اس وقت کس طرح تکذیب کرو گے جب ہم یہ ساری چیزیں اپنے بندوں کو دیں گے اور تم اس وقت حسرت سے اپنے سر پیٹو گے۔
Ayahs 55:48–49

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ Open ayah 55:48 in the Quran reader

دونوں نہایت کثیر شاخوں والے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:49 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کتنی رحمتوں کو جھٹلائو گے !

(ذواتا افنان فبای الاء ربکما تکذبن) (48۔ 49) یہ ان دو باغوں کی زرخیزی، شادابی اور برگ و بار کی کثرت کی تعبیر ہے کہ وہ اجاڑ اور بےرونق نہیں ہوں گے بلکہ ایک ایک درخت شاخوں اور ٹہنیوں کی کثرت سے رشک چمن ہوگا۔ باغوں کی اس صفت کے بعد بھی آیت ترجیح ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کے امراء و اغنیاء کا سب سے بڑا سرمایہ ناز باغ ہی ہوتے تھے اور ایک گرم و خشک ملک میں کسی کے پاس اگر سر سبز و شاداب باغ ہوں تو اس کی خوش بختی و بلند اقبالی کے کیا کہنے ہیں ! ان کے اسی ذوق کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ ہم اس طرح کے باغ اپنے نیک بندوں کو دیں گے تو تم ہماری کن کن بخشنوں کو جھٹلائو گے۔
Ayahs 55:50–51

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ Open ayah 55:50 in the Quran reader

ان کے اندر دو چشمے جاری ہوں گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:51 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے !

(فیھما عینن تجرین فبای الاء ربکما تکذبن) (50۔ 51) اس کی شادابی و زرخیزی کی ضمانت کے لیے ان میں الگ الگ دو چشمے بھی روں دواں ہوں گے۔ تو بتائو اپنے رب کی کتنی نعمتوں کو جھٹلائو گے ! اس کے بعد آیت ترجیح ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Ayahs 55:52–53

فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ Open ayah 55:52 in the Quran reader

ان میں ہر میوے کی الگ الگ قسمیں ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:53 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کے کن کن افضال کی تکذیب کرو گے !

(فیھما من کل فاکھۃ زوجن فبای الاء ربکما تکذبن) (52۔ 53) یعنی دونوں باغوں میں ایک ہی قسم کے پھل نہیں ہوں گے بلکہ دونوں میں الگ الگ قسموں کے پھل ہوں گے۔ لفظ ’ زوج ‘ یہاں ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوا ہے جس کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے جس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Ayahs 55:54–55

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ Open ayah 55:54 in the Quran reader

وہ ٹیک لگائے ایسے بچھونوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے استر استبرق کے ہوں گے اور دونوں باغوں کے پھل ان کے سروں پر لٹک رہے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:55 in the Quran reader

تو اپنے رب کی کتنی نعمتوں کی تکذیب کرو گے !

(متکئین علی فرش بطائنھا من استبرق وجنا الجنتین دان فبای الاء ربکما تکذبن) (54۔ 55)۔ یعنی یہ اہل جنت گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ایسے تختوں پر بیٹھے ہوں گے جن پر بچھے ہوئے فرشوں کے استر سبرق کے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جن بچھونوں کے استر استبرق کے ہوں ان کے بارے کا اندازہ کون کرسکتا ہے ! مزید یہ کہ دونوں باغوں کے اندر پھلوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ سروں پر لٹک رہے ہوں گے۔ انکے حاصل کرنے میں کسی کو کوئی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Ayahs 55:56–59

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:56 in the Quran reader

ان میں باحیا حوریں ہوں گی جن کو ان سے پہلے کسی انسان یا جن نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:57 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کتنی نوازشوں کو جھٹلائو گے !

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:58 in the Quran reader

وہ حوریں ایسی ہوں گی گویا یا قوت اور مونگے ہوں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:59 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے !

(فیھن قصرت الطرف لم یطمثھن انس قبلھم ولا جان، فبای الاء ربکما تکذبن، کا نھن الیاقوت والمرجان، فبای الاء ربکما تکذبین) (56۔ 59) (فیھن) میں ضمیر جمع کا مرجمع وہ تمام نعمتیں بھی ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے اور جنت کے وہ تمام لان، چمن اور محل بھی جو لفظوں میں مذکورہ نہ سہی لیکن لوازم کی حیثیت سے وہ بدیہی طور پر سمجھے جاتے ہیں۔ عربی میں اس طرح ضمیروں کا استعمال معروف ہے۔ اس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔ فرمایا کہ عیش دوام کے ان باغوں اور سامانوں کے اندران کے لیے شرمیلی اور با حیا نازنینیں بھی ہوں گی۔ انسان کی فطرت کچھ ایسی بنی ہوئی ہے کہ وہ چیز چیزوں سے اس وقت تک اچھی طرح لطف اندوز نہیں ہوسکتا جب تک بیوی اس کے ساتھ نہ ہو جس کو قدرت نے اس کا شریک رنج و راحت بنایا ہے چناچہ تعریف میں فرمایا ہے کہ وہ نہایت شرمیلی اور باچیا ہوں گی۔ عورت کا یہ شرمیلا پن اس کا سب سے بڑا حسن بھی ہے اور اس کے اخلاق کا سب سے بڑا محافظ بھی۔ جو عورت شرمیلی نہیں ہے ہر جائی ہے۔ ہر جائی کسی کی وفادار نہیں ہو سکتی اور جب وہ وفادار نہیں ہو سکتی تو ایک عورت کی حیثیت سے اس کا وجود بےمقصد ہے اس لیے کہ وہ کسی خاندان کی تعمیر میں بنیاد کی اینٹ کا کام نہیں دے سکتی درآنحالیکہ یہی عورت کے وجود کی غایت ہے۔ (لم یطمتھن انس قبلھم ولا جان) یہ ان کے شوہر نا آشنا ہونے اور کنوارا پن کی تعبیر ہے۔ یاقوت اور مرجان سے ان کی تشبیہ ان کے حس اور ان کی عصمت و محفوظیت کے بیان کے لیے ہے۔ ان صفتوں کے بعد بھی ترجیح والی آیت آئی ہے اور اس کا موقع و محل واضح ہے۔
Ayahs 55:60–61

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ Open ayah 55:60 in the Quran reader

نیکی کا صلہ تو آخر احسان ہی ہوگا !

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:61 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کے کن کن احسانوں کو جھٹلائو گے !

(ھل جزاء لاحسان الا الاحسان فبای الاء ربکما تکذبن) (60۔ 61) (جزا و سزا کے حق میں عقل و فطرت کی گواہی)۔ مقربین کی جنت کے اوصاف بیان کرنے کے بعد یہ آخر میں مخاطبوں کو متوجہ کر کے نہایت بلیغ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اس بات پر تمہیں تعجب کیوں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو یہ ساری نعمتیں دینے والا ہے ! آخر نیکی اور پاک بازی کا بدلہ کیا ہونا چاہیے افضل و کرم ہی ہونا چاہیے یا کچھ اور ؟ اگر اس کائنات کا خالق ایک ایسا دن نہ لائے جس میں بروں کو ان کی بدیوں کی سزا اور نیکیوں کو ان کی نیکیوں کا بھر پور صلہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کو نیکی اور بدی میں کوئی امتیاز ہی نہیں ہے بلکہ اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ نعوذ باللہ وہ بدی کو زیادہ پسند کرتا ہے کہ اس نے شریروں کو سارے وسائل دے کر اس دنیا میں آزاد چھوڑ رکھا ہے کہ وہ اس میں جو اودھم چاہیں مچائیں۔ انسان کی عقل اور اس کی فطرت اپنے رب کے متعلق اس قسم کی مکروہ بد گمانی کبھی گوارا نہیں کرسکتی۔ اس کی فطرت کی شہادت یہی ہے کہ کائنات کا خالق نہایت ہی عادل اور رحیم ہے۔ وہ ان لوگوں کو سزا دے گا جو برائیں کے مرتکب ہوں گے اور نیکیوں کو ان کی ایک ایک نیکی کا بھر پور صلہ دے گا۔ یہ بات چونکہ انسانی فطرت میں راسخ ہے، کوئی عاقل، سلامتی، عقل و ہوش کے ساتھ اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اس وجہ سے بات ایسے اسلوب میں فرمائی ہے جو ایک واضح حقیقت کے بیان کا ہے لفظ احسان نیکی کے معنی میں بھی آتا ہے اور نیک صلہ کے معنی میں بھی، اس آیت میں یہ نہایت خوبصورتی کے ساتھ دونوں ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے اور اس کا موقع یہاں یہ ہے کہ جب یہ حقیقت اپنی جگہ ثابت اور مسلم ہے تو اللہ تعالیٰ لازماً ہر نیکی کا نیک صلہ دے کے رہے گا، تم اس کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے !
Ayahs 55:62–63

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:62 in the Quran reader

اور ان دو کے سوا اور بھی دو باغ ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:63 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کتنی نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

(ومن دونھما جنتن فبای الاء ربکما تکذبن (62۔ 63) (بےایمان جنت)۔ مذکورہ دو جنتیوں کے سوا اب دو اور جنتوں کا ذکر آ رہا ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے مذکورہ دو جنتوں کے ساتھ فی الجملہ اشتراک بھی رکھتی ہیں اور بعض اعتبار سے ان سے مختلف بھی ہیں۔ ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں قسم کی جنتوں کے حق دار ایک ہی قسم کے لوگ ہوں گے یا الگ الگ قسم کے لوگ۔ اس کا صحیح جواب آگے آنے والی سورة سورة ٔواقعہ میں آئے گا۔ اس میں اہل ایمان کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ (اصحب المینۃ اور السابقون اور ان دونوں کے لیے الگ الگ جنتوں کا ذکر ہے جن کے اوصاف میں فی الجملہ اشتراک بھی ہے اور بعض پہلوئوں سے اختلاف بھی۔ اس وجہ سے قرین قیاس بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اوپر سابقین اولین یا بالفاظ دیگر مقربین کی جنت کا ذکر ہے اور اب یہ من دونھما کی جنت کا ذکر آ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس طرح دونوں گروہوں کے مرتبہ میں فرق ہے اسی طرح دونوں گروہوں کی جنتوں میں بھی فرق ہے، جس کا اندازہ اہل ذوق خود کرسکتے ہیں۔ آگے ہم بھی اس فرق کے بعض پہلوئوں کی طرف اشارہ کریں گے۔ من دونھما کا ترجمہ ان دو کے سوا۔ ان دونوں کے بالمقابل بھی ہوسکتا ہے اور ان دونوں سے فرونر بھی۔ اس ٹکڑے کے بعد وہی ترجیح ہے جو ہر نعمت کے ذکرکے ساتھ برابر آرہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہی دو جنتوں پر تو بس نہیں ہے اور بھی دو جنتیں ہوں گی تو تم کن کن جنتوں کو جھٹلائو اور ان کا مذاق اڑائو گے !
Ayahs 55:64–65

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ Open ayah 55:64 in the Quran reader

دونوں سبزی سے سیاہی مائل ،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:65 in the Quran reader

تو اپنے رب کی کن کن رحمتوں کو جھٹلائو گے

(مدھا متن فبای الا ربکما تکذبن (64۔ 65) یعنی انکی سربزی کا حال یہ ہوگا کہ وہ مائل بہ سیاہی ہوجائے گی۔ شاداب باغ کا سب سے زیادہ خوبصورت رنگ یہی ہوتا ہے۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے جس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Ayah 55:66

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ Open ayah 55:66 in the Quran reader

ان میں دو چشمے ہوں گے ابلتے ہوئے

(فیھما عینن نضاختن فبای الا ربکما تکذبن (66۔ 67)۔ ’ نضخ ‘ کے معنی جوش مارنے اور ابلنے کے ہیں۔ یہ پہاڑی چشموں کی تصویر ہے۔ میدانی علاقوں کے چشمے تو، جیسا کہ اوپر لفظ تجرین آیا ہے، صرف بہتے ہیں لیکن پہاڑی چشمے جوش کے ساتھ ابلتے ہیں۔ اسکے بعد آیت ترجیح ہے جس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Ayahs 55:67–69

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:67 in the Quran reader

تو اپنے رب کی کتنی رحمتوں کو جھٹلائو گے !

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ Open ayah 55:68 in the Quran reader

ان میں میوے، کھجور اور انار ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:69 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کتنی نعمتوں کو جھٹلائو گے !

(فیھما فاکھۃ ونخل ورمان فبای الاء ربکما تکذبن (67۔ 69) (فاکھۃ) کے بعد نخل (کھجور) اور رمان (انار) کا ذکر عام کے بعد خاص کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ دونوں میوے عرب کے محبوب میوئوں میں ہے اویر کی جنت میں (من کل فاکھۃ زوجن) کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی دونوں باغوں میں ہر پھل کی الگ الگ قسمیں ہوں گی۔ ان دونوں اسلوبوں میں جو فرق ہے وہ نگاہ میں رہے۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Ayahs 55:70–76

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ Open ayah 55:70 in the Quran reader

ان میں نیک سیرت اور خوب صورت حوریں ہوگی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:71 in the Quran reader

تو اپنے رب کی کتنی عنایتوں کی تکذیب کرو گے !

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ Open ayah 55:72 in the Quran reader

حوریں، خیموں میں رہنے والیاں ،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:73 in the Quran reader

تو اپنے رب کے کتنے احسانات کو جھٹلائو گے !

لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:74 in the Quran reader

ان سے پہلے ان کو نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہوگا، نہ کسی جن نے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:75 in the Quran reader

تو اپنے رب کے کتنے افضال کو جھٹلائو گے !

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ Open ayah 55:76 in the Quran reader

ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے سبز چاند نیوں اور خوب صورت قالینوں پر

خیرت حسان کے معنی ہیں پاکیزہ سیرت اور پاکیزہ صورت (حور مقصورات فی الخیام) میں خاص عربی ذدوق نمایاں ہے خیموں کی رہائش اہل عرب کی پسندیدہ رہائش رہی ہے۔ امرائے عرب کے خیمے اور شامیانے شاندار محلوں کے لیے بھی قابل رشک ہوتے تھے اور یہاں تو ذکر جنت کے خیموں کا ہے۔ اوپر کی جنت میں شرمیلی نازنینوں کا ذکر ہے اور ان کو یاقوت و مرجان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ دونوں جگہ صفات کا جو فرق ہے وہ نگاہ میں رہے۔ ہر صفت کے بیان کے بعد آیت ترجیح بھی آئی اور اس کا موقع نہ محل واضح ہے۔
Ayah 55:77

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:77 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کتنی نعمتوں کو جھٹلائو !

یعنی اس قسم کی جنتوں میں سبز چاندنیوں اور خوبصورت نادر قالینوں پر گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے وہ بیٹھے ہوں گے۔ لفظ عبقریٰ نادر اور قیمتی چیزوں کے لیے آتا ہے اور موقع و محل کی رعایت سے اس کا اطلاق مختلف چیزوں پر ہوسکتا ہے۔ ہم نے محض موقع کی مناسبت سے یہاں اس کو نادر قالینوں کے معنی میں لیا ہے۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Ayah 55:78

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠ Open ayah 55:78 in the Quran reader

بڑا ہی بابرکت ہے نام تیرے عظمت والے اور سزا وار تکریم رب کا !

(تبرک اسم ربک ذی الجلل والاکرام) (78)۔ (خاتمہ سورة) جس طرح اوپر جزاء و سزا کے دلائل بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ (کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلل والاکرام) اسی طرح جزاء و سزا کی تفصیلات سنانے کے بعد اسی آیت کا اعادہ فرمایا ہے اور مقصود اس اعادہ سے ہے یہ ظاہر کرنا ہے کہ چونکہ تیرے رب ذدوالجلال والاکرام کی ذات بڑی ہی خیر و برکت والی ہے اس وجہ سے اس کی یہ تمام برکتیں لازماً ظاہر ہوں گی۔ نادان ہیں وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا پیدا تو کردی لیکن پیدا کردینے کے بعد اس کے خیر و شر سے اسے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ جس طرح اوپر والی آیت میں لفظ وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو تعبیر فرمایا ہے اسی طرح اس آیت میں لفظ اسم سے اس کی ذات کو تعبیر فرمایا ہے۔ اسم اپنے مسمی پر دلیل ہوتا ہے۔ مذکورہ جنتوں کے اوصاف پر غور کیجئے تو ایک بات واضح طور پر محسوس ہوتی ہے کہ اوپر کی جنتوں میں جو نعمتیں بیان ہوئی ہیں ان میں اہل عجم کا ذوق زیادہ نمایاں ہے اور بعد کی جنتوں میں اہل عرب کا ذوق زیادہ ابھرا ہوا نظر آتا ہے۔ اگرچہ یہ نعمتیں بطور تشبیہ بیان ہوئی ہیں، ان کی اصل حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، تاہم ان کی مدد سے کسی حد تک یہ ہمارے تصور کے قریب آجاتی ہیں اور یہی ان تشبیہات سے مقصود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج 24۔ رمضان المبارک 1397 کو ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی احسانہ۔ لاہور۔ 10 ستمبر 1977 ء۔ 24 رمضان المبارک 1397 ء