56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 56:41–44

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں والے تو کیا ہی برا حال ہوگا بائیں والوں کا !

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

وہ لو کی لپٹ، کھولتے پانی

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہوگی اور نہ کسی طرح کی کوئی افادیت۔

(واصحب الشمال ما اصحب الشمال فی سموم و حمیم وظل من یحموم لا باردولاکریم (41، 44)۔ (اصحب الشمال کا حشر)۔ یہ اصحب الشمال یعنی ان لوگوں کا حشر بیان ہو رہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے، فرمایا کہ وہ لوئوں اور شعلوں کی لپٹ اور گرم پانی کے بیچ میں ہوں گے۔ جب گرمی کی ایذا سے گھبرا کر وہ پانی کی طرف بھاگیں گے تو انہیں کھولتا پانی پینے کو ملے گا۔ اسی بھاگ دوڑ میں ان کی زندگی گزرے گی۔ یہی مضمون (یطوفون بینھا و بین میم ان) (الرحمن : 55، 44) کے الفاظ سے بھی بیان ہوا ہے۔ (وظل من یحموم) یعنی ان کو کوئی سایہ نصیب نہیں ہوگا۔ صرف سیاہ دھوئیں کا سایہ وہاں انکے لیے ہوگا۔ اور یہ ان تمام خوبیوں سے محروم ہوگا جو سایہ میں ہوتی ہیں۔ سایہ میں اصل چیز ٹھنڈک ہوتی ہے لیکن اس دھوئیں کے سایہ میں اذیتیں تو وہ ساری ہوں گی جو دھوئیں کے اندر ہوتی ہیں لیکن کوئی ٹھنڈک نہیں ہوگی۔ اسی طرح بعض دوسرے فوائد کا امکان بھی اس میں ہوسکتا ہے، مثلاً شعلوں ہی کی لپیٹ سے ذرا اس کے سایہ میں امان نصیب ہوجائے لیکن یہ چیز بھی اس سے حاصل نہیں ہوگی۔ کریم کے معنی فیض بخش کے ہیں یعنی اس سایہ میں نہ ٹھنڈک ہوگی نہ کوئی اور فائدہ سورة مرسلات میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے (لا ظلیل ولا یغنی من اللھب (المرسلت 77، 31) (نہ سایہ دار اور نہ شعلوں سے بچانے والا)
Ayahs 56:45–48

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

یہ لوگ اس سے پہلے خوش حالوں میں تھے

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے رہے۔

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے !

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے آباء و اجداد بھی !

(یہ ان کے ان بڑے جرائم کی طرف اشارہ ہے جن کے سبب سے وہ اس انجام بد گو پہنچے۔ اسلوب بیان سے معلومہوتا ہے کہ گویا وہ دن لوگوں کے سامنے حاضر کردیا گیا ہے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بد قسمت لوگ اس انجام کو پہنچے تو کیوں پہنچے !) (انھم گانو قبل ذلک مترفین) فرمایا کہ یہ لوگ اس سے پہلے یعنی دنیا میں بڑے مالدار اور عیش و رفاہیت والے رہے ہیں۔ یہ بات ان کے جرم کی حیثیت سے نہیں بیان ہوئی ہے بلکہ اس سے ان کے ان جرائم کی سنگینی واضح ہو رہی ہے جو آگے بیان ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو عیش و آرام اور دولت و ثروت سے نوازا جس کا حق یہ تھا کہ وہ اس کے شکر گزارو فرمانبردار بندے بنتے لیکن یہ اس سے استکبار میں مبتلا ہوئے اور سب سے بڑے گناہ پر برابر اصرار کرتے رہے۔ دوسرام مقصد اس سے اس پستی و بلندی کو نمایاں کرنا ہے جس کا ذکر قیامت کی صفت کی حیثیت سے ابتدائے سورة میں (خافضۃ رافعۃ) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ یعنی دیکھ لو، دنیا میں جو لوگ سب سے اونچے اور سر بلند رہے وہ یہاں آ کر عذاب الٰہی کے کس کھڈ میں گرے ! (وگانو یصرون علی الحنث العظیم) حنث کے معنی گناہ کے ہیں۔ اس کی صفت یہاں عظیم آتی ہے جس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس سے مراد شرک ہے۔ شرک فلسفہ دین کے نقطہ نظر سے بھی سب سے بڑا گناہ ہے اور قرآن نے بھی اس کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا ہے۔ (و گانو یقولون ایذا متنا و کنا ترابا و عظاما انا لمبعوثون اواباء نا الاولون) یہ ان کی دوسرے بڑے جرم کا ذکر ہے کہ وہ آخرت اور جزاء و سزا کے اس بنا پر منکر تھے کہ ان کے نزدیک مر کر سڑ گل جانے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ایک بالکل ناممکن بات تھی چناچہ جب ان کو آخرت کے حساب کتاب سے آگاہ کیا جاتا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے کہ کیا جب ہم مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے اور ہمارے اگلے آباء و اجداد بھی، جو مدتوں پہلے خاک میں مل چکے ہیں، از سر نو زندہ کیے جائیں گے، یعنی یہ بات انہونی ہے اور جو لوگ اس سے ڈرا رہے ہیں وہ محض ہم کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور وہ خود بھی عقل سے بالکل عاری ہیں۔
Ayahs 56:49–50

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

کہہ دو ! اگلے اور پچھلے

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

ایک معین دن کی مقررہ مدت تک سب جمع کیے جائیں گے ،

(قل ان الاولین والاخرین لمجموعون الی میقات یوم معلوم) (49، 50)۔ (قریش کو تنبیہ)۔ (اصحب الشمال) کے جرائم بیان کرتے ہوئے یہ آنحضرت ﷺ کی زبان سے قریش کو جواب دلوایا کہ یہی استیعاد آج تم میری تذکیر آخرت کے جواب میں پیش کرتے ہو تو اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ جتنے بھی اگلے اور پچھلے ہیں سب ایک معین دن کی مقررہ میقات تک جمع کیے جاتے رہیں گے اور جب وہ میقات آجائے گی تو وہ جزاء و سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مر جاتے ہیں یہ نہ سمجھو کہ جس طرح تمہارے اندر سے وہ ختم ہوگئے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں سے بھی وہ ختم ہوگئے۔ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ذخیرہ میں جمع کیے جا رہے ہیں اور جب جزاء و سزا کا یوم مرعود آجائے گا تو وہ سب اٹھائے جائیں گے۔ خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے۔ (لمجموعون) کے بعد الی اسی طرح استعمال ہوا ہے جس طرح دوسری جگہ فرمایا ہے (کتب علی نفسہ الرحمۃ لیجمعنکم الی یوم القیمۃ) (الانعام : 6، 21) (اللہ نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے وہ تم کو روز قیامت تک لازماً جمع کرتا رہے گا۔)
Ayahs 56:51–55

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر تم لوگ، اے گمراہو اور جھٹلانے والو ،

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

زقوم کے درخت میں سے کھائو گے

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

اور اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے ،

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

پھر اس پر کھولتا پانی پیو گے

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

تون سے ہوئے اونٹوں کی طرح

(ثم انکم ایھا الضالون المکذبون لا کلون من شجر من زقوم فما لون منھا البطون فشربون علیہ من الحمیم فشربون شرب الھیم) (51، 55) (یہ قریش کو براہ راست خطاب کر کے ارشاد ہوا کہ اے گمراہو اور جھٹلانے والو، جانتے ہو کہ اٹھائے جانے کے بعد کیا ہوگا ؟ اس کے بعد قوم رقوم کے خار دار اور کڑوے پتوں اور پھلوں سے اپنے پیٹ بھرو گے، پھر اس پر کھولتا ہوا پانی اس طرح پیو گے جس طرح سون سے ہوئے اونٹ پیتے ہیں۔ (ضالون اور مکذبون) کی دو صفتوں سے خطاب ان کے ان دو جرموں کے اعتبار سے ہے جو مذکور ہوئے۔ اوپر ان کے شرک اور تکذیب آخرت کا ذکر ہوا ہے، انہی کے لحاظ سے یہاں خطاب (ضالون اور مکذبون) کے الفاظ سے ہوا، یعنی اللہ کی توحید کے باب میں کج راہ اور آخرت کے جھٹلانے والے۔ اوپر ان کے (مترفین) یعنی امراء و اغنیاء اور ارباب تنعم میں سے ہونے کا بھی ذکر ہوا ہے۔ اس مناسبت سے آخرت میں ان کی غذا تھوہر ہوگی۔ وہ اس کے پتوں اور کانٹوں کو چابیں اور اس پر کھولتا پانی پئیں گے۔ (ھیم) جمع ہے (اھیم) کی اھیم اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کو ھیام یعنی تونس کی بیماری لا حق ہو۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ پانی پیتا چلا جاتا ہے لیکن اس کی پیاس کسی طرح نہیں بجھتی
Ayah 56:56

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

یہ جزا کے دن ان کی پہلی ضیافت ہوگی !

(ھذا نزلھم یوم الدین) (56) (نزل) جیسا کہ ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں، اس سامان ضیافت کو کہتے ہیں جو مہمان کے مرکب سے اترنے کے بعد، سب سے پہلے اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کی اولین ضیافت تھوہر اور گرم پانی سے ہوگی کون اندازکر سکتا ہے کہ بعد میں ان کے سامنے کیا کچھ آئے گا !
Ayah 56:57

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

(ہم نے تم کو پیدا کیا ہے تو تم قیامت کی تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟

2۔ آگے آیات 57، 74 کا مضمون آگے بعث اور جزاء کے دلائل آ رہے ہیں جن کے انکار کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ اسلوب بیان زجر و ملامت کا ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ آیات کی تلاوت کیجئے۔ (آیات۔۔ 57، 40) 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (نحن خلقنکم فلولا تصدقون) (57)۔ خطاب انہی منکرین قیامت سے ہے جن کا قول (ابذا متنا و کنا ترابا وعظاما انا لمبعوثون) اوپر نقل ہوچکا ہے فرمایا کہ جب ہم ہی نے تم کو پیدا کیا اور اس حقیقت سے تمہیں مجال انکار نہیں ہے تو پھر قیامت کی تصدیق سے تمہیں کیوں گریز ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کرنے سے ہم قاصر نہیں رہے تو در بدہ پیدا کرنے سے کیوں عاجز رہیں گے ؟ اول بار پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا دوسری بار ؟ یہ منطق عجیب ہے کہ جو کام زیادہ مشکل ہے اس کے واقعہ ہونے کو تو تم تسلیم کرتے ہو اور جو اس سے بالبداہت آسان ہے اس کو ناممکن قرار دیتے ہو۔ (تصدقون) کے بعد اس کا مفعول (بالدین یا بالبعث) بر بنائے وضاحت قرینہ مخدوف ہے۔
Ayahs 56:58–59

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ Open ayah 56:58 in the Quran reader

کیا تم نے غور کیا ہے اس چیز پر جو تم ٹپکا دیتے ہو !

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ Open ayah 56:59 in the Quran reader

اس کی صورت گری تم کرتے ہو یا صورت گری کرنے والے ہم ہیں ؟

(افرء یتم ما تمنون ءانتم تخلقونہ امر نحن الخلقون) (58، 59) (انسان کی خلقت سے قیامت کی دلیل)۔ یہ انسان کی خلقت کی طرف توجہ دلائی کہ اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ تمہاری خلقت میں کچھ تمہاری تدبیر و حکمت کو بھی دخل ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ تمہیں وجود میں نہیں لا سکتا تو آئو دیکھو کہ اس میں تمہارا دخل کتنا ہے ؟ فرمایا کہ تم جو کچھ کرتے ہو بس اس قدر ہے کہ پانی کی ایک بوند عورت کے رحم میں ٹپکا کر الگ ہوجاتے ہو۔ اس بوند کو تہ بہ تہ تاریکیوں کے اندر گونا گوں مراحل سے گزار کر ایک بھلے چنگے بچہ کی صورت میں عورت کے پیٹ سے باہر لانا اور پھر اس کو بچپن، بلوغ، جوانی اور بڑھاپے کے مراحل سے گزار نا کس کا کام ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ سارے کام اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت و حکمت سے ہوتے ہیں تو جو خدا پانی کی ایک بوند پر یہ تصرفات کرسکتا ہے اور اس کی صورت گری میں وہ کسی کا بھی محتاج نہیں ہے وہ اگر اس کے بغیر مجرو زمین کے ذرات ہی سے تمہیں دوبارہ مشکل کر کے اٹھا کھڑا کرے تو اس کے لیے کیا مشکل ہے !
Ayah 56:60

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ Open ayah 56:60 in the Quran reader

ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کی ہے اور ہم عاجز رہنے والے نہیں ہیں بلکہ قادر ہیں

(نحن تدرنا بینکم الموت وما نحن بمسبوقین) (60)۔ یعنی یہ گمان کرنے کی بھی ذراگنجائش نہیں ہے کہ کوئی ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نکل سکتا ہے۔ ہم نے لوگوں کے درمیان موت کا جال بچھا رکھا ہے اور یہ جال ایسا ہے کہ اس نے سب کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ہر بڑے چھوٹے اور امیر و غریب کے لیے موت لازمی ہے اور اس طرح ہم سب کو روز قیامت کی پیشی کے لیے جمع کر رہے ہیں۔ آگے آیات 83، 87 میں یہ مضمون وضاحت سے آ رہا ہے۔
Ayahs 56:61–62

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 56:61 in the Quran reader

اس بات پر کہ ہم تمہاری جگہ تمہاری مانند بنا دیں اور تم کو اٹھائیں اس عالم میں جس کو تم نہیں جانتے

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 56:62 in the Quran reader

اور پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہی ہو تو اس سے کیوں یاددہانی نہیں حاصل کرتے

(علی ان نبدل امثالکم و نشئکم فی مالا تعملون) (61) یعنی جب پیدا کرنا بھی ہمارے اختیار میں ہے اور مارنا بھی ہمارے اختیار میں ہے تو اگر تمہاری جگہ تمہاری مانند ہم پیدا کرنا چاہیں گے تو اس سے کیوں عاجز رہیں گے ؟ ہم عاجز نہیں رہیں گے بلکہ اس بات پر قادر ہیں کہ تمہارے مانند پیدا کردیں اور ایک ایسے عالم میں تمہیں اٹھا کھڑا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔ (علی) یہاں اس بات کا قرینہ ہے کہ (وما نحن بمسوقین) کو مثبت معنی یعنی قادرین کے مفہوم میں لیا جائے۔ گویا اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم عاجز نہیں بلکہ قادر ہیں۔ صلہ کی تبدیلی سے عربی زبان میں حذف و ایجاز کے جو تصرف ہوتے ہیں اس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔ یہی مضمون سورة معارج میں اس طرح آیا ہے (فَـلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ۔ عَلٰٓی اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْہُمْلا وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ۔) المعارج 70، 40، 41) (بیشک ہم قادذر ہیں اس بات پر کہ ان کی جگہ ان سے بہتر کو لائیں، ہم اس سے عاعز رہنے والے نہیں ہیں۔) (ونشئکم فی مالا تعملون) یعنی ایک ایسے عالم میں تمہیں اٹھا کھڑا کردیں جس کے نوامیس و قوانین اس عالم سے بالکل مختلف ہوں گے اور تم ان سے بالکل نا آشنا ہو۔ تمہیں حیرانی ہے کہ موت اور زندگی کے ان معروف ضوابط کے خطاب، جن سے اس دنیا میں تم آشنا ہو، یہ کیسے ممکن ہے کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مجرد ایک صدائے صور سے ساری خلقت از سر نو وجود میں آجائے پھر ایک ایک فرد کا حساب ہو اور پھر وہ ابدی جنت یا ابدی دوزخ کا سزا وار قرار پائے ! لیکن یہ سب کچھ ہوگا اور ایک ایسے عالم میں یہ تمہارے سامنے آئے گا جس سے تم ابھی نا آشنا ہو (ولقد علمتم النشاۃ الاولی فلولا تذکرون) (66)۔ یعنی اگر تم نے اس عالم کو، جس میں ہم تم کو از سر نو پیدا کرنے والے ہیں، نہیں دیکھا تو یہ کوئی معقول دلیل اس بات کی نہیں ہے کہ تم اس کی تکذیب پر جم جائو۔ آخر اس جہان میں اپنی خلقت کو تو تم دیکھتے ہو تو اس سے کیوں نہیں سبق حاصل کرتے کہ جس نئی زندگی سے تمہیں آگاہ کیا جا رہا ہے اس میں ذرا بھی استبعاد نہیں ہے جو خالق اس دنیا میں تمہیں لایا ہے اس کی قدرت کے دائرہ سے کوئی چیز بھی باہر نہیں ہے وہ تمہیں دوبارہ بھی اسی طرح وجود میں لا سکتا ہے اور اس کی ربوبیت و حکمت کا یہ تقاضا بھی ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو یہ دنیا بالکل بےمقصد ہو کے رہ جاتی ہے اور خالق کائنات سے یہ بات بعید ہے کہ وہ کوئی کار عبث کرے۔
Ayahs 56:63–64

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ Open ayah 56:63 in the Quran reader

کیا تم نے غور کیا ہے اس چیز پر جو تم بولتے ہو ؟

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ Open ayah 56:64 in the Quran reader

اس کو تم پروان چڑھاتے ہو یا پروان چڑھانے والے ہم ہیں ؟

(افریتم ما تحرثون انتم تزوعونہ ام نحن الزعون) (63، 64) (وسائل ربوبیت سے جزاء پر استدلال)۔ انسان کی خلقت کے بعد یہ ان وسائل ربوبیت کی طرف توجہ دلائی جو رب کریم نے اس کی پرورش کے لیے مہیا فرمائے ہیں اور جن کے مہیا ہونے میں نہ انسان کی تدبیر کو کوئی دخل ہے نہ اس کے کسی استحقاق کو یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بلا استحقاق جو نعمتیں بخشی ہیں ان کو قرآن نے مختلف اسلوبوں سے جگہ جگہ جزاء و سزا کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے کہ ان کا بلا کسی حق کے عطا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک دن ہر نعمت کے باب میں لوگوں سے پرسش ہونی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی جگہ جگہ واضح فرمائی ہے کہ یہ نعمتیں اکثروں کے لیے استکبار کا سب بن گئیں۔ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو انہوں نے اپنی تدبیر و قابلیت کا کرشمہ اور اپنا حق سمجھا اور اس غرور میں آخرت سے آنکھیں بند کرلیں اور اگر کسی نے ان کو آنکھیں کھولنے کی دعوت دی تو اس کو وہی جواب دیا جو اوپر مترفین کی زبان سے نقل ہوا ہے۔ فرمایا کہ زمین میں جو کچھ تم بولتے ہو، کبھی اس پر بھی غور کیا ؟ کیا اپنے بوئے ہوئے بیجوں کو تم پروان چڑھاتے ہو یا ان کو پروان چڑھانے والے ہم ہیں ؟ جس طرح اولاد کی پیدائش میں تمہارا حصہ صرف اتنا ہی ہے کہ تم ہل چلا کر کچھ دانے زمین میں بکھیر دیتے ہو، اس کے بعد کے سارے مراحل تم دیکھتے ہو کہ براہ راست قدرت کے اہتمام میں طے ہوتے ہیں۔ اسی نے زمین میں یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ اپنی آغوش میں دانے کی پرورش کرے۔ اسی نے بیج میں یہ صلاحیت و دیعت فرمائی کہ وہ زمین کی حرارت اور رطوبت سے فیض یاب ہو کر اپنے اندر سے سوئیاں نکالے اور ان نازک سوئیوں کے اندر یہ حوصلہ ودیعت فرمایا کہ وہ دھرتی کا سینہ چیر کر باہر نکلیں اور کھلی فضاء میں پروان چڑھیں۔ پھر اللہ ہی ان نازک سوئیوں کو ڈنٹھلوں کا سہارا مہیا کرتا ہے۔ ان کے ندر برگ و بار پیدا کرتا ہے، خوشے نکالتا ہے۔ پھول اور پھل پیدا کرتا ہے، پھر وہ پک کر کسان کی جھولی بھرتے ہیں، غور کرو کہ ان میں سے کون سا کام ہے جو تمہارے کیے ہوتا ہے یا جس کو تم انجام دینے کی قابلیت رکھتے ہو۔
Ayah 56:65

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ Open ayah 56:65 in the Quran reader

ہم چاہیں تو اس کو ریزہ ریزہ کر چھوڑیں تو تم باتیں ہی بناتے رہ جائو۔

(لو نشاء لجعلنہ حطاما فظلتم تفکھون (65)۔ یعنی اس معاملے میں تمہاری بےبسی تو اس بات سے واضح ہے کہ ہم چاہیں تو تمہاری ہری بھری فصل کو، عین اس وقت جب کہ تم اپنی شاندار کامیابی پر پھولے نہ سما رہے ہو، کوئی باد تند بھیج کر یا ژالہ باری کر کے چشم زدن میں بالکل ریزہ ریزہ کر کے رکھ دیں، پھر تم باتیں ہی بناتے رہ جائو۔ لفظ (قفکھون) یہاں بطور طنز استعمال ہوا ہے، یعنی ایسی بد حواسی طاری ہو کہ کسی کی سمجھ میں نہ آئے کہ اس حادثہ کی کیا توجیہ کرے اور اپنے نقصان کا اندازہ دوسروں کو کس طرح کرائے، کوئی کچھ کہے کوئی کچھ آگے اس کی تفصیل آرہی ہے۔
Ayahs 56:66–67

اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ Open ayah 56:66 in the Quran reader

بیشک ہم تو تاوان میں پڑے !

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 56:67 in the Quran reader

بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہے

(انا لمغرمون بل نحن محرومون) (66، 67) یعنی کوئی تو یوں فریاد کرے کہ بھائی ہم تو تاوان میں پڑگئے، جو کچھ لگایا وہ بھی پلے نہ پڑا۔ دوسرے بولیں کہ اس آفت نے تو ہمیں بالکل ہی محروم کر چھوڑا، اب بیوی بچوں کی پرورش اور گزارے کی کیا شکل ہوگی ! سورة قلم میں ایک باغ والوں کی تمثیل بیان ہوئی ہے جس سے اس صورت حال کی پوری تصویر سامنے آجاتی ہے، فرمایا ہے :۔۔۔۔۔ (القلم۔۔۔۔۔ 68، 17، 27)۔۔ (ہم نے ان کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا جب کہ انہوں نے قسم کھائی کہ کل صبح صبح وہ اپنے باغ کے پھل ضرور ہی توڑ لیں گے، اور ذرا بھی نہیں چھوڑیں گے تو ابھی وہ سوئے ہی پڑے تھے کہ تیرے رب کی جانب سے اس باغ پر ایسی گردش آئی کہ اس کا بالکل ستھرائو ہوگیا۔ انہوں نے صبح صبح شریکوں کو پکارا کہ باغ توڑنا ہے تو سویرے سویرے کھیتوں پر پہنچو۔ تو وہ کا نا پھوسی کرتے نکلے کہ کوئی مسکین آج باغ میں نہ پہنچنے پائے اور وہ بڑی امنگ اور حوصلہ سے نکلے تو جب باغ کو دیکھا تو بولے کہ معلوم ہوتا ہے ہم رستہ بھول کر غلط جگہ آگئے ! نہیں بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم ہو کر رہ گئے۔)
Ayahs 56:68–69

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ Open ayah 56:68 in the Quran reader

ذرا غور تو کرو اس پانی پر جو تم پیتے ہو !

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ Open ayah 56:69 in the Quran reader

کیا تم نے اس کو اتارا ہے بادلوں سے یا اس کے اتارنے والے ہم ہیں ؟

(افراء یتم الماء الذی تشربون ءانتم انزلتموہ من المزن ام نحن المنزلون) (68، 69)۔ (سامان غذا کی بعد پانی کی نعمت کی طرف اشارہ)۔ غذائی نعمتوں کے بعد یہ پانی کی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ بھلا کبھی اس پانی پر بھی غور کیا ہے جو پیتے ہوا کیا اس کو بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا اس کے اتارنے والے ہم ہیں ! یعنی یہ ہماری ہی قدرت و حکمت اور ربوبیت ہے کہ ہم سمندروں کے کھاری پانی کو بھاپ بھنا کر اڑاتے اور پھر اس کو صاف، شیریں اور خوش گوار بنا کر تمہارے اوپر برساتے جس کو تم بھی پیتے ہو، تمہارے مویشی بھی پیتے ہیں اور ان سے تمہاری فصلیں بھی سیراب ہوتی ہیں۔ بھلا بتائو کہ ہے کسی میں یہ قدرت کہ بادلوں سے پانی برسا دے ! یہ امر واقع رہے کہ اہل سائنس نے اب تک پانی برسانے کے جو تجربات کیے ہیں اس کی نوعیت بچوں کے کھیل سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ بادلوں کے کسی ٹکڑے پر کچھ گرم و سرد اثرات ڈال کر چند بوندیں ٹپکا لینا اور چیز ہے، بادلوں کو بتانا، ان کو فضا میں پھیلانا، ان کو ایک جگہ سے ہانک کر دوسری جگہ لے جانے کے لیے سازگار ہوائیں چلان اور جس علاقہکو چاہنا اس کو جل تھل کردینا ایک دوسری چیز ہے۔
Ayah 56:70

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 56:70 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل ہی تلخ بنا دیں تو تم لوگ شکر کیوں نہیں کرتے !)

(لو نشاء جعلنہ اجا جاً فلولا تشکروں) (70)۔ (ربوبیت کا تقاضا)۔ یعنی ہم چاہیں تو اس پانی کو ایسا کھاری اور تلخ بنا دیں کہ یہ تمہارے کسی کام کا بھی نہ رہے۔ یعنی جب ہم ہی نے کھاری کو شیریں بنایا ہے تو ہمارے لیے کیا مشکل ہے کہ ہم پھر اس شیریں کو کھاری بنا دیں۔ (فلولا تشکرون) یہ اسی ربوبیت کا تقاضا بیان ہوا ہے کہ یہ چیز تم پر واجب کرتی ہے کہ تم اپنے رب کے شکر گزار بند بنو، ورنہ اپنی نا شکری کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہو۔ دین میں شکر کا جو مقام ہے اس کی وضاحت سورة فاتحہ میں ہوچکی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کی تحریک سے بندھ اپنے رب کی راہ میں پہلا قدم اٹھاتا ہے اور منزل پر پہنچنے کے بعد اسی کا اظہار وہ اپنی جدوجہد کے نتائج دیکھ لینے کے بعد بھی کرے گا۔
Ayahs 56:71–72

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ Open ayah 56:71 in the Quran reader

ذرا غور تو کرو اس آگ پر جس کو جلاتے ہو !

ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ Open ayah 56:72 in the Quran reader

کیا تم نے پیدا کیا ہے اس کے درخت کو یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں !

(واخر دعوھم ان الحمد للہ رب العلمین، افرئیتم النار التی تورون انتم انشاتم شجر تھا ام نجن المنشون) (71، 72)۔ (پانی کے بعد آگ کی طرف اشارہ) پانی کے بعد آگ کی بھی، ضروریات زندگی میں، بڑی اہمیت ہے۔ بالخصوص ان قوموں کے لیے جن کو بڑے بڑے صحرائی سفر کرنے پڑتے تھے۔ جہاں نہ تو راہ میں آبادیاں ہوتیں جہاں سے ضرورت کے وقت بآسانی آگ دستیاب ہو سکے، نہ آگ چیز ہی ایسی ہے جس کو آدمی اپنے سامان میں باندھ کے ساتھ لے سکے اور نہ اس وقت تک دیا سلائی ہی کے قسم کی کوئی چیز ایجاد ہوئی تھی جس سے یہ ضرورت پوری کی جاسکے۔ اس قسم کے ضرورت مندوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی یاددہانی کے لیے بعض خاص قسم کے پتھر بھی پیدا کئے جن کو رگڑ کر آگ پیدا کی جاسکتی تھی اور اس سے عجیب تر اپنی قدرت و حکمت کی یہ شان دکھائی کہ دو ایسے درخت بھی پیدا کئے جن کی دو ٹہنیوں کو ایک دوسری سے رگڑ کر آگ بھڑکائی جاسکتی تھی۔ ان کو مرغ اور عفار کہتے تھے۔ سورة یٰسین میں بھی اس درخت کا ذکر ہوچکا ہے۔ فرمایا کہ اس چیز پر بھی غور کرو کہ زندگی کی اتنی بڑی ضرورت کو مہیا کرنے والے تم ہو یا ہم ہیں !
Ayah 56:73

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ Open ayah 56:73 in the Quran reader

ہم نے اس کو یاددہانی اور صحرا کے مسافروں کے لیے ایک نہایت نفع بخش چیز بنایا ہے۔

(نحن جعلنھا تذکرۃ و متا عا للمقوین) (73) (آگ کے ذکرکے بعض خاص پہلو)۔ فرمایا کہ ہم نے اس کو یاد دہانی اور منفعت کی چیز بنایا ہے صحرا کے مسافروں کے لیے، مقرین صحرائوں اور چٹیل میدانوں میں سفر کرنے والوں کو کہتے ہیں، جہاں آگ کا حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، ضمیر مونث کا مرجع شجرۃ بھی ہوسکتا ہے اور وہ آگ بھی جو اس سے پیدا ہوتی ہے۔ دونوں صورتوں میں باعتبار مفہوم کوئی فرق واقع نہیں ہوگا۔ تذکرۃ کے معنی یاددہانی کے ہیں اس یاد دہانی کے ہیں تو متعدد پہلو لیکن ہم صرف دو خاص اہمیت رکھنے والے پہلوئوں کی طرف یہاں اشارہ کریں گے۔ اول یہ کہ رب کریم کی پروردگاری کی یہ ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ ربوبیت انسان پر مسئولیت کی ذمہ داری عائد کرتی ہے جو سزا و سزا و دوزخ یا جنت کو مستلزم ہے۔ اس نکتہ کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر جو دی ہے کہ دوزخ میں آگ بھی ہوگی اور اس میں زقوم کے درخت بھی ہوں گے، یہ ایک حقیقت ہے۔ اس کو خلاف عقل سمجھ کر کوئی اس کا مذاق اڑانے کی کوشش نہ کرے۔ جو خدا سرخ اور عفاء کی ہری شاخوں کے اندر آگ بھر سکتا ہے اس کے لیے دوزخ کے اندر زقوم پیدا کردینا کیا مشکل ہے۔ سورة بنی اسرائیل کی آیت 60 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ قریش کے لیے فکرے قرآن کا مذاق اڑاتے تھے کہ یہ دوزخ میں آگ کی بھی خبر دیتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اس میں زقوم کے درخت بھی ہوں گے۔ وہاں ان کے اس استہزاء کا جواب ایک دوسرے پہلو سے دیا ہے۔ جس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ اس سورة کی آیات 52، 53 بھی چونکہ زقوم کا ذکر آیا ہے اس وجہ سے جب آگ پیدا کرنے والے اس درخت کا ذکر فرمایا تو اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلا دی کہ جو لوگ دوزخ میں آگ اور درخت کی یکجائی کو ناممکن بتاتے ہیں وہ اس درخت سے سبق حاصل کریں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح یہ دونوں چیزیں یکجا کررکھی ہیں۔
Ayah 56:74

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:74 in the Quran reader

تو تم اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو !

(فسبح باسم ربک العظیم) (74) (نبی ﷺ کو صبر اور نماز کی تاکید)۔ یہ بحث کے آخر میں نبی ﷺ کو اپنے موقف حق پر ڈٹے رہنے اور اپنے رب کی تسبیح کرتے رہنے کی تاکید فرمائی۔ اس تاکید کا یہ محل ہے کہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے وہ تو تمہارے ساتھ ہیں لیکن یہ ہٹ دھرم لوگ ماننے والے نہیں ہیں سو ان کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اپنے رب کی تسبیح میں لگے رہو، تسبیح یہاں وسیع معنی یہاں پاکی بیان کرنے کے مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خواہشوں کے اندھے پرستار تو یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا محض ان کے عیش کے لیے بنائی ہے۔ ان کو علم نہیں ہے کہ رب عظیم اس بات سے پاک اور برتر ہے کہ وہ کوئی عبث اور محض کھیل تماشے کی قسم کا کام کرے۔ اس پر واجب ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں اپنے شکر گزار بندوں کو ان کی ناشکر گزاری کا صلہ دے اور جو نا شکرے ہیں وہ کیفر کردار کو پہنچیں۔ (باسم ربک میں ب کا صلہ اس امر کا قرینہ ہے کہ سبح یہاں اسعانت کے مضمون پر بھی متضمن ہے جس سے معنی میں یہ اضافہ ہوجائے گا کہ اپنے رب کی تسبیح کرو اور اسی سے اس صورت حال کے مقابلہ کے لیے مدد مانگو، لفظ اسم اس حقیقت کا سراغ دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بندے کے تعلق و توسل کا ذریعہ صرف اس کے اسمائے حسنی ہی ہیں۔ انہی کی معرفت سے خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے جو تمام صحیح علم و عمل کا سر چشمہ ہے۔
Ayah 56:75

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

(پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کے ٹھکانوں کی !

4۔ آگے آیات 75، 96 کا مضمون آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ قریش کے لیڈروں کو خطاب کر کے متنبہ فرمایا ہے کہ قرآن جس شدنی کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ اس سے فرار اختیار کرنے اور اس کی تکذیب کرنے کی کوشش نہ کرو۔ یہ کاہنوں کی خرافات کی قسم کا کلام نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے محفوظ خزانہ علم سے اترا ہوا باعزت کلام ہے جو نہایت پاکیزہ ذرائع سے اس کے پاکیزہ رسول پر نازل ہوا ہے۔ یہ شاطین کی چھوت اور مداخلت سے بالکل محفوظ و مامون ہے، یہ تمہارے لیے ابدی ہدایت اور دائمی رزق ہے، اس کی ناقدری اور تکذیب کر کے اپنی شامت کو دعوت نہ دو۔ یادرکھو کہ کوئی خدا کے قابو سے باہر نہیں نکل سکتا اور تمہیں جس حفض و رفع آگاہ کیا جا رہا ہے وہ اپنے تمام لوازم و نتائج کے ساتھ سامنے آنے والا ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (فلا اقسم بموقع النجوم) (75)۔ (لا فعل سے الگ ہے)۔ یہاں لا فعل اقسم سے متصل نہیں ہے بلکہ اس سے بالکل الگ ہے۔ اثبات سے پہلے یہ نفی مخاطب کے زعم باطل کی تردید کے لیے آئی ہے۔ اس طرح نفی کا لانا عربی زبان اور قرآن میں معروف ہے۔ سورة نساء میں فرمایا ہے (فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فما شجر بینھم) (النساء : 4، 65) (پس نہیں، تیرے رب کی قسم، وہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات میں تمہی کو حکم نہ بتائیں) یعنی اگر ان منافقین کا گمان ہے کہ محض کلمہ پڑھ لینے سے یہ مسلمان بن گئے ہیں تو یہ گمان بالکل غلط ہے۔ اس کے بعد قسم کھا کر فرمایا کہ یہ اس وقت تک سچے مومن نہیں بن سکتے جب تک اپنی تمام نزاعات میں تمہی کو (رسول اللہ ﷺ کو) حکم نہ بنائیں۔ اسی طرح یہاں قسم سے پہلے لا کے ذریعہ محاطبوں کے اس زعم کی تردید فرما دی کہ قرآن العیاذ باللہ کاہنوں کی مزخوفات کی قسم کا کوئی شیطانی القاء ہے۔ اس کے بعد قسم کھا کر قرآن کی عظمت و تقدیس اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا ذکر فرمایا۔ یہ اسلوب کلام ایک فطری اسلوب کلام ہے اس وجہ سے ہر زبان میں موجود ہے۔ ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب معروف ہے۔ جب آپ کہتے ہیں نہیں خدا کی قسم، اصل حقیقت یوں ہے، تو یہی اسلوب استعمال کرتے ہیں اور مقصود یہ ہوتا ہے کہ اصل حقیقت کے اثبات سے پہلے مخاطب یا معترض کے خیال یا اعتراض کی تردید کردیں۔ اس اسلوب کلام میں بلاغت یہ ہے کہ گویا معترض کا اعتراض اتنا لغو ہے کہ متکلم ایک لمحہ کے لیے بھی اس کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اس کو اتنا توقف بھی گوارا نہیں ہے کہ صحیح پہلو کی وضاحت کرنیکے بعد اس کی تردید کرے۔ (وحی الٰہی کی حفاظت کے لیے ایک خاص انتظام) مواقع جمع ہے موقع کی جس کے معنی چیز کے واقع ہونے یا گرنے کی جگہ کے ہیں۔ یہاں یہ ان ٹھکانوں یا کمین گاہوں کے لیے آیا ہے جن پر ان شیاطین کے تعاقب کے لیے شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں کو ملالہ علی کے بھید معلوم کرنے کے لیے ان میں چھپ کر کان لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین جن نے کچھ خاص کمین گاہیں ایسی منتخب کر رکھی تھیں جن میں وہ ملا اعلیٰ کی باتوں کی سن گن لینے کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔ نزول قرآن کے زمانے میں وحی الٰہی کو شیاطین کی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر یہ اہتمام فرمایا کہ جو شیاطین ان کمین گاہوں میں بیٹھنے کی کوشش کرتے ان پر شہاب ثاقت کے راکٹ پھینکے جاتے اس حقیقت کا اعتراف سورة جن میں خود جنوں کی زبان سے یوں نقل ہوا ہے۔ (الجن۔۔ 72، 908)۔۔۔ (اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو یہ پایا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے اور یہ کہ ہم اس کے کچھ ٹھکانوں میں غیب کی باتیں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے لیکن اب جو کان لگانے کی کوشش کرے گا تو وہ ایک شہاب ثاقت کو اپنی گھات میں پائے گا۔) میرے نزدیک سورة جن کی اس آیت میں جن کمین گاہوں کو مقاعد کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ انہی کو آیت زیر بحث میں مواقع کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ البتہ مقاعد میں انکے کمین گاہ ہونے کا مفہوم پیش نظر ہے اور مواقع میں شہابوں کے ہدف ہونے کا لفظ نجوم یہاں شہابوں کے مفہوم میں ہے۔ سورة الملک میں فرمایا ہے (ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح وجعلنھا رجوما للشیطین) (الملک : 67، 5) (اور ہم نے آسمان زیریں کو چراغوں سے سجایا اور ان کو شیطانوں کے سنگسار کرنے کے لیے بھی بنایا) ان شہابوں پر سورة نجم کی آیات 1، 5 اور سورة رحمن کی آیت 35 کے تحت بھی بحث گزر چکی ہے۔ ان دونوں مقامات پر بھی ایک نظرڈال لیجئے۔
Ayah 56:76

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

اور بیشک یہ ایک بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو !

(وانہ لقسم لو تعلمون عظیم) (76) (ایک بر محل جملہ معترضہ)۔ یہ قسم اور مقسم علیہ کے درمیان ایک بر محل جملہ معترضہ ہے۔ فرمایا کہ جس طرح تم محض ہٹ دھرمی سے قرآن کو القائے شیطانی قراردیتے ہو اسی طرح اس قسم کے باب میں بھی کہو گے کہ بھلا شہابوں کے گرنے کو شیاطین کے رحم سے کیا تعلق ! لیکن تم جان سکو تو یہ حقیقت تم پر آشکارا ہوگی کہ یہ قسم اپنے اندر ایک عظیم شہادت اس بات کی رکھتی ہے کہ جنات و شیاطین کو ملا اعلیٰ تک کوئی رسائی حاصل نہیں ہے، جیسا کہ کاہنوں کا دعویٰ ہے۔ اگر کوئی وہاں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو قدرت نے اس کی سرکوبی کے لیے نہایت عظیم پیمانے پر انتظام کر رکھا ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی خدا کے شہابوں کی زد سے بچ کے نکل سکے، مطلب یہ ہے کہ تم اس کو جان سکویا نہ جان سکو اور مانو یا نہ مانو لیکن اللہ تعالیٰ نے اس قسم میں تمہاری آگاہی کے لیے اس کائنات کا ایک نہایت اہم راز بیان فرمایا ہے۔
Ayahs 56:77–80

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

بیشک یہ ایک با عزت قرآن ہے۔

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

ایک محفوظ کتاب میں ،

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ Open ayah 56:79 in the Quran reader

اس کو صرف پاکیزہ ہی ہاتھ لگاتے ہیں

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

یہ عالم کے خداوند کا نازل کردہ ہے

(انہ لقراٰن کریم فی کتب مکنون لا یمسہ الا المطھرون تنزیل من رب العلمین) (77، 80) (قرآن شیطانی چھوت سے بالکل پاک ہے)۔ قسم کے بعد یہ مقسم علیہ ہے اور یہ حقیقت اپنی جگہ پر اچھی طرح واضح کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید میں قسمیں شہادت کے طور پر کھائی گئی ہیں۔ گویا شیاطین پر سنگ باری اور آتش باری کے مذکورہ بالا انتظام کا حوالہ دے کر مخاطبوں کو متنبہ فرمایا کہ اس قرآن کو کاہنوں کے قسم کا کوئی شیطانی القاء نہ گمان کرو بلکہ یہ ایک نہایت با عزت اور برتر کلام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک محفوظ کتاب میں ہے جس تک اس کے پاک فرشتوں کے سوا کسی کی بھی رسائی نہیں یعنی اس کو صرف ملائکہ مقربین ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں، جنات اور شیاطین وہاں نہیں پھٹک سکتے۔ (تنزیل من رب العلمین) پس یہ گمان نہ کرو کہ جس طرح کی شیطانی وحی کاہنوں پر آتی ہے اسی طرح کی وحی العیاذ باللہ یہ قرآن بھی ہے۔ یہ القائے شیطانی نہیں بلکہ اللہ رب العالمین کا اتارا ہوا کلا ہے۔ اس کا سر چشمہ لوح محفوظ ہے جس تک ملائکہ مقربین کے سوا کسی کی بھی رسائی نہیں۔ اس کے لانے والے حضرت جبریل امین ؑ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سب سے مقرب فرشتے ہیں اور شیاطین ان پر کسی پہلو سے بھی اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ اس کا نزول محمد ﷺ پر ہوا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ضلات و سنوائت کے ہر شائبہ سے بالکل پاک رکھا ہے۔ (فقہاء کے بعض استنباط)۔ (لا یمسہ الا المطھرون) کے ٹکڑے سے ہمارے فقہاء نے طہارت کے بعض آداب بھی استنباط کیے ہیں جن کا اہتمام ان کے نزدیک قرآن مجید کو چھونے یا تلاوت کرتے وقت ضروری ہے، لیکن یہ آیت جس سیاق وسباق میں ہے اس سے واضح ہے کہ ان مسائل سے ان کو براہ راست تعلق نہیں ہے اس وجہ سے فقہاء کے استنباطات کو ان کو اپنے دلائل کی روشنی میں جانچ کرا دیا قبول کیجئے۔ یہ موضوع ہمارے دائرہ بحث سے الگ ہے اس وجہ سے ہم اس سے تعرض نہیں کریں گے بس اتنا عرض کریں گے کہ جن فقہاء نے قرآن کی زبانی تلاوت یا اس کو ہاتھ لگانے تک کے لیے بھی طہارت کی وہ شرطیں عائد کی ہیں جو نماز کے لیے ضروری ہیں انکے اقوال غلو پر مبنی ہیں۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اس وجہ سے وہ ہر پہلو سے لائق تکریم ہے لیکن وہ ہمارے لیے ہر قدم پر حق و باطل اور خیر و شر کے جاننے کا ذریعہ اخذ و استنباط کا حوالہ اور استدلال کا مرکز بھی ہے۔ اگر اس کو ہاتھ لگانے یا اس کی کسی سورة یا آیت کی تلاوت کرنے یا حوالہ دینے کے لیے بھی آدمی کا طاہرو مطہر اور باوضو ہونا ضروری قرارپا جائے تو یہ ایک ایسی تکلیف مالا یطاق ہوگی جو دین فطرت کے مزاج کیخلاف ہے۔ اس طرح کی غیر فطری پابندیاں عائد کرنے سے قرآن کی تعظیم کا وہی تصور پیدا ہوگا جس کی تعبیر سیدنا مسیح ؑ نے یوں فرمائی ہے کہ تمہیں چراغ دیا گیا کہ اسکو گھر میں بلند جگہ رکھو کہ سارے گھر میں روشنی پھیلے لیکن تم نے اسکو پیمانے کے نیچے ڈھانپ کر رکھا ہے۔)