Ayah 56:81(افبھذا الحدیث انتم مدھنون) (81)۔
(قرآن سے بےاعتنائی برتنے والوں کو تنبیہ)۔ ادھان کے معنی اغماض، سہل انگاری اور بےنیازی و بےاعتنائی برتنے کے ہیں۔ قرآن کی عظمت بیان کرنے کے بعد بانداز تعجب سوال کیا ہے کہ کیا یہ قرآن جس کو تمہارے رب نے اس اہتمام خاص کے ساتھ تمہاری ہدایت کے لیے اتارا ہے اس بےاعتنائی کا سزا وار ہے جو تم اس سے برت رہے ہو ! مطلب یہ ہے کہ تم اتنے بدذوق و بےبصیرت تو نہیں ہوچکے ہو کہ گہر اور پشینر میں کوئی تمیز نہ رہ گئی ہو۔ تمیز تو ہے لیکن تم قرآن کو قبول کرنا نہیں چاہتے اس وجہ سے اس کا کاہنوں کی طرح کا کلام قرار دے کر نظر انداز کر رہے ہو تو کرو لیکن یاد رکھو کہ تمہارے نظر انداز کرنے سے یہ حقیقت نا بود نہیں ہوجائے گی۔ حقیقت بہر حال حقیقت ہے اور اس سے تمہیں سابقہ پیش آ کے رہے گا۔ یہ تمہارے ہی حق میں بہتر ہوتا اگر تم اس کی قدر کرتے۔
Ayah 56:82(وتجعلون رزقکم انکم تکذبون) (82)
(رزق سے مراد قرآن ہے) یہاں رزق سے مراد ہمارے نزدیک وحی الٰہی یا بالفاظ دیگر قرآن ہے جس پر بحث چلی آرہی ہے۔ وحی الٰہی کو قدیم صحیفوں میں بھی جا بجا رزق سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور قرآن میں بھی اس کے حوالے اس کے محل میں ہم دے چکے ہیں۔ حضرت مسیح ؑ نے فرمایا ہے کہ ”انسان صرف روٹی سے نہیں جیتنا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے“ قرآن میں بھی اسکو زندگی سے تعبیر فرمایا گیا ہے (واستجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم لما یحییکم) (الانفال : 80، 24) (اور لبیک کہو اللہ و رسول کی دعوت پر جب کہ رسول تمہیں بلا رہا ہے اس چیز کی طرف جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے) آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے تو تمہارے لیے مائدہ ٔ آسمانی اتارا کہ تم اس سے حیات جاودان حاصل کرو لیکن تمہاری محرومی ہے کہ تم اسکی ناقدری اور تحقیر کررہے ہو۔
Ayahs 56:83–87(فلولا اذا بلغت لحلقوم وانتم حینئذ تنظرون ونحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون فلولا ان کنتم غیر مدینین ترجعونھا ان کنتم صدقین) (84، 87)
(خدا کے قبضہ قدرت سے کوئی باہر نہیں ہے)۔ یعنی اس ڈھٹائی سے تم قرآن کا جو مذاق اڑا رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ جس جزاء و سزا سے یہ تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، نہ تم کسی کے محکوم ہو ورنہ تمہیں کسی کے آگے اپنے کسی قول و فعل سے متعلق کوئی جواب دہی کرنی ہے تو اپنے آپ کو یا اپنے کسی محبوب سے محبوب کو موت کے پنجہ سے کیوں نہ بچا لیتے ؟ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو اس وقت تو تم اپنے آپ کو بالکل ہی بےبس پاتے ہو اور جان فرشتہ اجل کے حوالے کرنی پڑتی ہے تو اپنی اس بےبسی کا مشاہدہ کرتے ہوئے تم نے اپنے آپ کو مطلق العنان اور شتر بےمہار کیوں سمجھ رکھا ہے ؟ اوپر آیت 60 میں فرمایا ہے (نحن قدرنا بینکم الموت وما نحن بسموقین) (ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر رکھی ہے اور ہم کسی کو پکڑنے سے عاجز رہنے والے نہیں ہیں) وہی حقیقت یہاں دوسرے الفاظ میں ممثل کر کے سمجھاتی ہے کہ کوئی اپنے آپ کو مطلق العنان نہ سمجھے۔ کوئی خدا کی گرفت سے باہر نہیں ہے سب موت کے اسیر ہیں اور یہ موت اسی لیے مقدر کی گئی ہے کہ وہ ہر متنفس کو ایک یوم موعود میں خدا کے آگے پیش ہونے کے لیے جمع کرتی رہے۔
(موت کے اسیر سب ہیں) فلولا اذا بلغت الحلقوم بلغت)۔ کا فاعل نفس (جان) یہاں پر بنائے قرینہ محذوف ہے۔ یعنی انسان کی جان جب نزع کے وقت حلق میں آ پھنستی ہے۔ سورة قیامہ میں بھی اسی طرح (بلغت) کا فاعل مخدوف ہے (فاذا بلغت التراقی) (القیمۃ، 75، 26) (پس جب کہ جان پسلی میں آپھنسے گی) بلاغت کے پہلو سے اس حذف کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ واقعہ کا ہول، ابہام کے سبب سے، زیادہ موثر ہو کر سامنے آتا ہے۔ (لولا) کا جواب آگے نہایت موثر انداز میں آ رہا ہے۔ (وانتم حینیذ تنظرون) یعنی یہ نہیں ہوتا کہ یہ حادثہ دوسروں کی بیخبر ی میں پیش آجاتا ہے بلکہ مبتلائے نزع کے اعزہ و اقرباء اس کے سارے محب و محبوب اس کے معالج اور ڈاکٹر اس کے پاس موجود ہوتے ہیں لیکن موت کا فرشتہ ان سب کے سامنے سے اس کی جان نکال کے لے کرچلا جاتا ہے اور کسی کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر وہ پاس موجود ہوتے تو فرشتہ اجل کا ہاتھ پکڑ لیتے بلکہ ان کی ساری جاں نثاریاں اور تمام تدبیریں بالکل بےسود ہو کے رہ جاتی ہیں۔ (ونحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون، الیہ) میں ضمیر کا مرجع مبتلائے نزع شخص ہے۔ یعنی تم تو اس کے پاس ہوتے ہی ہو، تم سے زیادہ قریب اس کے ہم ہوتے ہیں لیکن تم ہم کو نہیں دیکھتے۔ تم کو اپنے ڈاکٹر کا ہاتھ نظر آتا ہے لیکن ہمارے فرشتہ کا ہاتھ نظر نہیں آتا کہ وہ کس چابکدستی سے اس کی جان نکال لیتا ہے۔ (فلولا ان کنتم غیر مدینین ترجعونھا ان کنتم صدقین) یہ اس لولا کا جواب ہے جو اوپر مذکور ہواچون کہ شرط اور اس کے جواب میں دوری ہوگئی تھی اس وجہ سے اس کو پھر دہرا دیا ہے۔ فرمایا کہ اگر تم یہ گمان رکھتے ہو کہ تم کسی ایسے کے محکوم و مقہور نہیں ہو جو تم کو پکڑ سکے اور سزا دے سکے تو اس جان کو لوٹا کیں نہیں لیتے جس کو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہمارا فرشتہ نکال لیتا ہے۔ مدین کے معنی محکوم اور مقہور (under control) کے ہیں۔
Ayahs 56:88–89(فاما ان گان من المقربین فروح وریحان وجنت نعیم) (88، 89)۔
(موت کے بعد کے مراحل)۔ یعنی اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ جو مرگیا اس کا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام ہوا بلکہ اصل مرحلہ اس کے بعد سامنے آئے گا جو (اوپر کنتم ازواجا ثلثۃ) (7) کے الفاظ سے بیان ہوا، یعنی اس کا معاملہ تین شکلوں سے خالی نہیں، یا تو وہ مقربین میں سے ہوگا۔ یا اصحاب یمین میں سے یا اصحاب شمال میں سے، فرمایا کہ اگر وہ مقربین میں سے ہوا تو اس کے لیے ابدی راحت و سرور و نعمت کا باغ ہے۔ روح کے معنی راحت کے ہیں اور ریحان یہاں سرور کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ سورة رحمن میں اس الفاظ پر بحث گزرچکی ہے۔ ریحان کے اصل معنی تو پھول کے ہیں لیکن ہی اپنے لوازم یعنی خوشبو اور سرور کے لیے بھی آتا ہے۔
Ayahs 56:90–91(واما ان گان من اصحب الیمین فسلم لک من اصحب الیمین) (90، 91) اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہوا تو اس کو اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتوں کی طرف سے داد ملے گی کہ اے صاحب یمین، تیرے لیے سلامتی اور مبارکی ہے۔
(فلسم لک من اصحب الیمین) میں من سلام کے صلہ کے طور پر نہیں آیا ہے، جیسا کہ عام طور پر مفسرین نے سمجھا ہے، بلکہ ضمیر خطاب کے بیان کے لیے آیا ہے اس وجہ سے میرے نزدیک اس ٹکڑے کا یہ ترجمہ صحیح نہیں ہوگا کہ تیرے لیے اصحاب یمین کی جانب سے سلام پہنچے بلکہ عربیت کے صحیح قاعدے سے اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ اے صاحب یمین تیرے لیے سلامتی ہو۔ اسی سلام و سلامتی کے اندر وہ سب کچھ ہے جو اوپر اصحاب یمین کے مرتبہ سے متعلق بیان ہوا ہے۔
Ayahs 56:92–94(واما ان کان من المکذبین الضالین فنزل من حمیم وتصلیۃ حجیم) (92، 94)
یہ اصحاب شمال کا انجام بیان ہو رہا ہے لیکن یہاں ان کا ذکر اصحاب شمال کے بجائے انکے اصل جرم کے حوالے سے (المکذبین الضالین) کے الفاظ سے ہوا ہے تاکہ ان کے انجام کے ساتھ ساتھ انکے جرم کی نوعیت بھی واضح ہوجائے اور قریش کے مکذبین ضالین پر یہ پوری طرح منطبق بھی ہوجائے۔ اوپر آیت 51، 54 میں قریش کو مخاطب کر کے فرمایا ہے (ثم انکم ایھا الضالون المکذبون لا کلون من شجر من زقوم فما لون منھا البطون فشربون علیہ من الحمیم) (وہی یہاں اختصار کے ساتھ فرمادیا ہے (ضالون) اور مکذبون میں جو فرق ہے اس کی وضاحت ہم اوپر کرچکے ہیں۔
(فنزل من حمیم وتصلیۃ جحیم)۔ سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان لوگوں کی اولین ضیافت تو کھولتے پانی سے ہوگی۔ اس کے بعد ان کو جہنم کے اصل عذاب میں جھونک دیا جائے گا۔
Ayahs 56:95–96(ان ھذا لھوحق الیقین فسبح باسم ربک العظیم) (95، 96) یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تلقین صبر و استقامت اور پیام تسلی ہے کہ جو باتیں اوپر بیان ہوئیں سب یقینی حقائق ہیں۔ ان میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے اگر تمہاری قوم کے لوگ نہیں مان رہے ہیں تو تم ان کو ان کے حال پر چھوڑو اور اپنے رب عظیم کی تسبیح کرو۔ اس تسبیح کے موقع و محل اور اس کے مفہوم پر آیت 74 کے تحت ہم بحث کرچکے ہیں۔ ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی احسانہ۔ رحمان آباد۔ 24۔ اکتوبر 1977 ء۔ 11 ذوالقعدہ 1397 ھ