60. Surah Al-Mumtahana
الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتدبرِ قرآن
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader
اے ایمان والو ! ان لوگوں سے دستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہوا وہ آخرت سے ناامید ہوئے جس طرح کفار قبر والوں سے ناامید ہوئے۔
(یایھا الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب اللہ علیھم قد یعسوا من الاخرۃ کما یئس الکفار من اصحب القبور) (13)۔
(آخر میں ابتداء مضمون کا اعادہ)۔ اس آخری آیت میں اس مضمون کی پھر یاددہانی ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا ہے۔ قرآن میں ایسی مثالیں بہت ہیں کہ جس مضمون سے سورة کا آغاز ہوتا ہے اس پر اس کا اختتام بھی ہوتا ہے۔ یہ چیز قرآن میں نظم کی ایک بہت بڑی شہادت ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا ہے (یایھا الذین امنوا لا تتخذو عددی وعدو کم اولیاء) (اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو) اللہ اور اہل ایمان کے دشمن یہود بھی تھے اور مشرکین قریش بھی اس سورة (الممتحۃ) سے پہلے جو مسبحات سورتیں گزری ہیں ان میں زیادہ تر یہود کی سازشوں اور ان کے ساتھیوں کا رویہ زیر بحث آیا ہے اور مسلمانوں کو ان سے دور رہنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ اب اس کی آخری آیت میں دونوں دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ نہ ان یہود کی دوستی تمہارے لیے کسی خیر کا باعث ہو سکتی نہ کفار کی۔ یہ دونوں ہی اپنے عقیدے اور عمل کے اعتبار سے ایک ہی سطح کے اور ایک ہی انجام سے دو چار ہونے والے ہیں۔ جو ان کا ساتھی بنے گا اس کا حشر بھی وہی ہوگا جو ان کا ہونے والا ہے۔
(قوما غضب اللہ علیھم) سے ظاہر ہے کہ یہودی مراد ہو سکتے ہیں۔ صفت کی حیثیت سے قرآن میں یہ الفاظ یہود ہی کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ پہلی ہی سورة میں ان کے لیے (مغضوب علیھم) کی صفت آئی ہے۔ (قد یئسوا من الاخرۃ) یعنی اگرچہ زبان سے یہ آخرت کا اقرار کرتے ہیں لیکن ان کی دنیا پرستی، ان کی ہوس زر اور موت سے ان کا فرار گواہ ہیں کہ یہ آخرت کی توقع نہیں رکھتے۔ اگر یہ آخرت کی توقع رکھتے ہوتے تو یہ ان حرکتوں کے مرتکب نہ ہوتے جن کے مرتکب ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی شدید تنبیہات کے بعد بھی ان سے باز نہ آئے۔
(کما یئس الکفار من اصحب القبور) یعنی جس طرح کفار اب ان مردوں کے جی اٹھنے سے مایوس ہیں جو قبروں میں پہنچ چکے اور کہتے ہیں کہ (اذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید) (ق، 50، 3) (کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، یہ لوٹا یا جانا تو نہایت مستبعد ہے) اسی طرح یہ یہود بھی آخرت سے مایوس ہیں۔ آخرت کے معاملے میں دونوں ایک ہی سطح پر ہیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ قرآن نے جگہ جگہ یہود اور کفار کی مشابہت نمایاں فرمائی ہے تاکہ جو مسلمان اہل کتاب ہونے کی بناء پر ان سے کسی حسن ظن میں مبتلا تھے ان کی غلط فہمی رفع ہو اور ان پر واضح ہوجائے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بدتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ (وللہ الحمد فی الاولی والاخرۃ) رحمان آباد۔ 4۔ مارچ 1978 ء۔ 23 ربیع الاول 1398 ء۔