Ayah 61:11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(سبح للہ ما فی السموات وما فی الارض وھو العزیز الحکیم) (1)۔
(آیت تسبیح کا آگے کے مضمون سے ربط)۔ یہ آیت تشویق وتحریض کے محل میں بھی ہو سکتی ہے اور اظہار بےنیازی کے محل میں بھی۔ آگے جہاد سے جان چرانے والے منافقین کو ان کی بدعہدی وبزدلی پر ملامت کی گئی ہے۔ اس مضمون سے یہ آیت اپنے مذکورہ دونوں پہلوئوں سے ربط رکھنی ہے۔ اگر تشریق و ترغیب کے پہلو سے نگاہ ڈالیے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس خدا کی تسبیح و بندگی میں اس کائنات کی ہر چیز سرگرم ہے، جو ہر چیز پر غالب اور جس کے ہر کام میں حکمت ہے اس کی راہ میں جہاد سے اگر کوئی جان چرائے تو اس پر حیف ہے ! بےنیازی کے پہلو سے نگاہ ڈالیے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح و بندگی میں لگی ہوئی ہے اور حقیقی غالب و حکیم وہی ہے تو اس کو اس بات کی کیا پرواہو سکتی ہے کہ کچھ بزدل اس کی راہ میں جہاد سے جان چراتے پھرتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس سورة میں سبح آیا ہے اور اگلی سورة میں یسبح ہے ان دونوں اسلوبوں میں یہ فرق ہے کہ ماضی بیان واقعہ اور بیان حقیقت کے لیے آتا ہے اور مضارع تصویر حال اور استمرار کا فائدہ بھی دیتا ہے۔
(العزیز الحکیم) کی دو صفتوں کا بغیر حرف عطف کے بیان اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں صفتیں موصوف میں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔ یعنی وہ بیک وقت ہر چیز پر غالب و قادر بھی ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت و مصلحت بھی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو ذات ان صفات سے موصوف ہے اس سے بڑھ کر بھروسہ کے قابل اور کس کی ذات ہو سکتی ہے ! بدقسمت ہیں وہ جو ایسی ذات پر بھی بھروسہ نہ کریں۔
Ayahs 61:2–3(یایھا الذین امنوا لم تقولون مالا تفعلون کبرمقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون) (2، 3)۔
(زبان کے غازیوں کو تنبیہ)۔ خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن انہی کی طرف سے جو ایمان و اسلام اور انفاق و جہاد کے دعوے تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے لیکن جب آزمائش کا وقت آتا تو بالکل بزدل ثابت ہوتے۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم اس بات کا دعویٰ ہی کیوں کرتے ہو جو پورا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ! اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ اس زبانی جہاد سے تم کوئی سعادت کی کمائی کر رہے ہو تو یہ خیال بالکل غلط ہے۔ تمہارا یہ رویہ اللہ کے نزدیک تمہارے لیے موجب سعادت نہیں بلکہ مزید غضب کا باعث ہے کہ تم زبان سے تو بڑے غازی ہو لیکن عمل کے اعتبار سے بالکل صفر۔ آدمی کے قول وقرار کی ساری قدر و قیمت اس کی وفاداری و راستبازی میں ہے۔ ایک شخص ایک طالب مدد کو پہلے ہی مرحلے میں اگر صاف جواب دے دیتا ہے کہ وہ اس کی مدد نہیں کرے گا تو گو اس کا انکار اگر وہ مدد کی اہلیت رکھتا ہے۔ فتوت، ہمدردی اور اسلامی اخوت کے منافی اور اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ فعل ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اللہ کے نزدیک مبغوض وہ ہوگا جس نے ایک ضرورت مند کو مدد کا اطمینان تو بڑی فراخ دلی سے دلایا لیکن جب وعدہ پورا کرنے کا وقت آیا تو اس کو دھوکا دیا۔
یہ رویہ یوں تو ہر شکل میں مکروہ و مبغوض ہے لیکن معاملہ ایک نبی اور اس پر ایمان کے مدعیوں کا ہو تو اس کی سنگینی اور بڑھ جائے گی۔ جو لوگ ایک نبی کی دعوت قبول نہیں کرتے وہ اللہ کے غضب کے سزا وار ہوتے ہیں اور ان کی سزا وار ہونے چاہیے لیکن ان سے بھی زیادہ اللہ کے غضب کے سزا وار وہ ہیں جو ماننے کو تو اس کی ہر بات مان لیں لیکن عمل کسی بات پر بھی نہ کریں یا صرف ان باتوں پر کریں جو ان کے نفس کی خواہشوں کے موافق ہوں اور جب کوئی اہم مرحلہ پیش آئے تو اس وقت چھپتے پھریں۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کا رویہ کھلے ہوئے دشمنوں کے مقابل میں دین کے لیے زیادہ خطرناک ہے اس لیے کہ انہوں نے اپنے کو دوست ظاہر کر کے دین کی دشمنی کی اور اس کی فوج میں بھرتی ہو کر اس کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے۔
ان کے زیادہ معتوب الٰہی ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ جب ایک مرتبہ انہوں نے دین کو مان لیا تو گویا انہوں نے اس امر کا اعتراف کرلیا کہ یہ چیز ان کے دل کو اپیل کرنے والی اور ان کی سمجھ میں آنے والی ہے۔ اس پہلو سے ان کا معاملہ ان لوگوں سے بالکل مختلف ہوجاتا ہے جو اس کے مخالف اس بناء پر ہوں کہ ابھی بات ان کی سمجھ میں سرے سے آئی ہی نہ ہو۔ کسی بات کا سمجھ میں نہ آنا بہر حال ایک عذر ہے جس کی بناء پر ایک شخص رعایت کا مستحق قرار پاتا ہے لیکن جو لوگ سمجھ چکنے کا اعتراف کرچکے ہوں اگر وہ اس کے عملی تقاضوں سے گریز اختیار کریں تو اس کا سبب صرف ان کی اخلاقی کمزوری ہی ہو سکتی ہے جو کسی کے لیے بھی کوئی عذر نہیں بن سکتی بلکہ یہ بہر شکل ایک برائی ہے جو اللہ کے غضب اور اس کی نفرت ہی کی موجب ہوگی۔
Ayah 61:4(منافقین کی اصل کمزوری)۔ (ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کا نھم بنیان موصوص) (4)۔ یہ ان منافقین کی اس کمزوری سے پردہ اٹھایا ہے جس پر یہ نکیر فرمائی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ ان کی خاص کمزوری یہ تھی کہ اپنی وفاداری و جان نثاری کی دھونس جمانے کے لیے وہ جہاد کے ولولہ کا اظہار تو بہت کرتے لیکن جب جہاد کا حکم دے دیا گیا تو چھپتے پھرتے تھے۔ سورة نساء میں ان کی کمزوری کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے۔ (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَج فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللہ ِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَۃً) (النساء : 4، 77)۔ (تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا جاتا تھا کہ ابھی اپنے ہاتھ روکو اور نماز کا اہتمام کرو اور زکوٰۃ دو (تو وہ جنگ کے لیے جلدی مچاتے تھے) لیکن جب جنگ ان کے اوپر فرض کردی گئی تو انمیں سے ایک گروہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہا ہے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ۔)
سورة توبہ میں انہی لوگوں کو ان الفاظ میں ملامت فرمائی ہے۔
(یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ اثَّا قَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ) (التوبۃ۔ 9 : 38)۔ (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اٹھو تو تم زمین پر ڈھٹے پڑتے ہو۔)
ان لوگوں کی بزدلی کا حال یہ تھا کہ اگر مارے باندھے جنگ کے لیے نکلتے بھی تو صف بستہ اور سینہ سپر ہو کر لڑنے کا حوصلہ نہ کرتے بلکہ ان کی کوشش برابر یہ ہوتی کہ کسی طرح جنگ کے خطرہ سے اپنے کو محفوظ رکھیں۔ سورة توبہ میں ان کی اس بزدلی کی تصویر اس طرح کھینچی گئی ہے۔)
(لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَـلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْہِ وَھُمْ یَجْمَحُوْنَ۔) التوبۃ 9 : 57) (اگر وہ پا جائیں کوئی پناہ گاہ یا غار یا کوئی گھس پیٹھنے کی جگہ تو وہ رسی تڑا کر اس کی طرف بھائیں گے۔)
ان لوگوں کی انہی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ تم نے محض زبانی جمع خرچ سے اللہ کو خوش کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے یہ اس کو خوش کرنے کے بجائے اس کے قہروغضب میں مزید اضافے کا موجب ہوگا۔ اللہ ان لوگوں کو کبھی پسند کرنے والا نہیں ہے جو ڈینگیں تو بہت ماریں لیکن قربانی کا کوئی حوصلہ اپنے اندر نہ رکھتے ہوں۔ وہ محبوب انہی لوگوں کو رکھتا ہے جو میدان جنگ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوتے ہیں اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔
(بنیان) عمارت کو کہتے ہیں لیکن یہاں اس سے مراددیوار ہے۔ دیوار کی ایک اینٹ بھی اگر اپنی جگہ سے کھسک جائے تو پھر پوری دیوار کو اکھاڑ پھینکنا آسان ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے سورة انفال میں تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص منظم فوج کشی کی صورت میں صف سے اپنی جگہ چھوڑ کر بھاگتا ہے تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے (فَقَدْ بَآئَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللہ ِ وَمَاْوٰہُ جَھَنَّمُط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔) (الانفال۔ 8 : 16) (تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ نہایت ہی برا ٹھکانا ہے۔)
Ayah 61:5(واذقال موسیٰ لقومہ یقوم لم توذوننی وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم فلمازاعوا ازاع اللہ قلوبھم واللہ لا یھدی القوم الفسقین) (5)۔
(منافقین کی روشنی کی مثال)۔ منافقین کی اس روش کے انجام کو مثال سے واضح فرمایا ہے کہ یہی روش بہود کی وہی ہے۔ وہ جہاد کے لیے جوش و جذبہ کا اظہارتو بہت کرتے لیکن جب امتحان کا وقت آتا تو ڈگ ڈال دیتے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے جب انہیں فلسطینیوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا تو وہ یہ جواب دے کر بیٹھ رہے کہ یہ بڑے زور آور لوگ ہیں، ہم ان کی تلواروں کا لقمہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں، آپ اپنے رب کے ساتھ جا کر ان سے لڑو، ہم تو جب تک وہ اس شہر کو خالی نہیں کریں گے اس میں داخل ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔
ان کی یہی روش اس جنگ کے معاملے میں بھی رہی جسکا ذکر سورة بقرہ میں ہوا ہے کہ جہاد کے لیے قائد کا انتخاب تو انہوں نے حضرت سموئیل ؑ سے بڑے جوش و خروش سے کرایا لیکن جب قائد کا انتخاب ہوگیا تو اس کی قیادت میں جنگ سے انہوں نے انکار کردیا۔ تورات کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ایک موقع بھی ایسا نہیں گزرا ہے جب انہوں نے پوری خوش دلی سے حضرت موسیٰ ؑ کی اطاعت کی ہو۔ ان کی اس روش پر حضرت موسیٰ ؑ نے بار بار نہایت دس سوزی کے ساتھ اپنے غم و غصہ کا اظہار بھی فرمایا ہے اور نہایت سخت الفاظ میں ان کو ملامت بھی کی ہے لیکن آخر وقت تک ان کی روش میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، بلکہ ان کے دل کی سختی بڑھتی ہی گئی۔
(یقوم لم توذوننی وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم)۔ یہ حضرت موسیٰ ؑ کے انہی شکو وں کا حوالہ ہے جو اپنی قوم کی بدعہدیوں اور نافرمانیوں پر انہوں نے بار بار کیے ہیں اور جن سے تورات بھری پڑی ہے۔ یہود کو حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت میں کوئی شبہ نہیں تھا۔ انہیں اچھی طرح علم تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن اس کے باوجود محض اپنی پست ہمتی، دنیا طلبی اور دناء تکے سبب سے، یہ جانتے ہوئے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں، ان کی برابر نافرمانی کرتے رہے۔
(فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم) یہ وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق ان کو دی کہ بار بار کی تنبیہ و تذکیر کے بعد بھی انہوں نے اپنے دل کے رخ کو سیدھا نہیں کیا تو اللہ نے ان کے دل کو اسی رخ پر کج کردیا جس کو انہوں نے اپنے لیے پسند کیا۔ انسانی طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ آدمی اسے جس رخ پر لگائے اسی رخ پر لگ جاتی ہے۔ اگر اس کو آپ عقلی و فطرت کے خلاف کسی غلط رخ پر موڑیں گے تو وہ شروع شروع میں اس پر مڑنے سے اباء کرے گی لیکن آپ اسے موڑنے پر بضد رہیں گے تو بالآخر اسی سانچہ پر وہ ڈھل جائے گی۔
(ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی)۔ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس کی طبیعت کے اسی اصول کے مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ کسی کو ہدایت پر مجبور کرتا نہ ضلالت پر۔ اس نے انسان کے اندر نیکی اور بدی کا شعور دے کر اسے آزادی بخشی ہے کہ چاہے وہ نیکی کی راہ اختیار کرے یا بدی کی۔ اگر وہ نیکی کی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اس کی توفیق ارزانی فرماتا ہے اور اگر وہ بدمی کی راہ پر جانا چاہتا ہے تو وہ اس کو اس کی ڈھیل بھی دے دیتا ہے، اگر چاہتا ہے۔ (واللہ لا یھدی القوم الفسقین) یعنی اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ نہیں ہے کہ کوئی پسند تو کرے ضلالت لیکن وہ اس کے اندر زبردستی ہدایت ٹھونسے۔ ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اس کی قدر کرتا اور اس کا طالب بنتا ہے۔
یہ ان منافقین کو جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تم بھی یہود کی اسی روش کی پیروی کرو گے تو تمہارے دل بھی اسی طرح کج کردیے جائیں گے جس طرح ان کے دل کج کردیئے گئے۔ پھر تم ہمیشہ غلط رخ ہی پر چلو گے، صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائو گے۔
Ayah 61:6(واذ قال عیسیٰ ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التورۃ و مبشرا برسول یاتی من بعد اسمہ احمد فلما جاء ھم بالبینت قالوا ھذا سحر مبین) (6)۔
(دل کی کجی کے اثرات جو بعد میں ظاہر ہوئے)۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ان کے دل کی ہی کجی کا اثر ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے سے بھی محروم رہے اور جس آخری رسول کی بشارت آنجناب ﷺ نے دی اس کی تکذیب کے لیے بھی آج رات دن خاکبازی میں مصروف ہیں حالانکہ ان کی تمام مخالفتوں کے علی الرغم اللہ کا یہ نور کامل ہو کر رہے گا، نہ یہ اس کا کچھ بگاڑ سکیں گے نہ مشرکین قریش)۔
حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں۔ ان کے ذکر سے مقصود یہ دکھاتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ بنی اسرائیل نے جو سلوک کیا اور اس کی پاداش میں ان پر جو لعنت ہوئی، اس کا اثر بدان پر آخر تک مسلط رہا یہاں تک کہ اس کے نتیجہ میں انہوں نے حضرت مسیح ؑ کی بھی تکذیب کی اور اب اسلام کی جو مخالفت کر رہے ہیں یہ بھی اسی کا اثر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بیماری ایسی جان لیوا ہے کہ ایک مرتبہ لگ گئی تو پھر اس سے جان چھڑانا ناممکن ہے۔ سلامتی اسی میں ہے کہ اس کی چھوت نہ لگنے دی جائے۔
(مصدقالما بین یدی من التوریۃ) یہ بات حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی رسالت کی دلیل کے طور پر فرمائی کہ میرے ظہور سے ان پشین گوئیوں کی تصدیق ہوئی ہے جو میرے باپ میں تورات کے صحیفوں میں موجود ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں سب سے زیادہ واضح بشارت تو ان کے پیش رو حضرت یحییٰ ؑ نے دی۔ انہوں نے اپنا خاص مشن ہی یہ بتایا کہ وہ اپنے بعد آنے والے کی خوش خبری دینے آئے ہیں۔ اپنی اسی بشارت کے ضمن میں انہوں نے ان پشین گوئیوں کا بھی حوال دیا جو حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں پہلے سے موجود تھیں اور جن کی بناء پر لوگوں کو ایک نبی کی بعثت کا انتظار تھا۔ یہ ساری چیزیں اپنے محل میں بیان ہوچکی ہیں۔ یہاں اعادے کی گنجائش نہیں ہے۔
(مصدقا لما کا صحیح مفہوم)۔ (مصدقالما بین یدی) کے لغوی مفہوم پر اس کے محل میں مفصل بحث ہوچکی ہے۔ جو لوگ اس کے معنی یہ لیتے ہیں کہ میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں، انہوں نے نہ تو اس کلام کا موقع و محل سمجھا ہے نہ مصدقاکا صحیح لغوی مفہوم وہ متعین کرسکے ہیں۔ حضرت مسیح ؑ نے یہ بات اپنے کو مومن بالتوراۃ ظاہر کرنے کے لیے نہیں فرمائی ہے۔ بلکہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اپنی نبوت و رسالت کی دلیل کے طور پر فرمائی ہے، اور قرآن میں جہاں بھی یہ لفظ آیا ہے اسی سیاق میں آیا ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ بات بالکل لا حاصل ہے کہ میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ اگر انہوں نے تورات کی تصدیق فرمائی تو اس سے جو بات ثابت ہوئی وہ صرف یہ ہے کہ وہ تورات پر ایمان رکھتے تھے لیکن اس سے ان کی نبوت و رسالت کس طرح ثابت ہوجائے گی ؟ پھر یہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ تورات کے ہر حصہ کی تصدیق نہ حضرت مسیح ؑ نے فرمائی ہے نہ محمد رسول اللہ ﷺ نے بلکہ حضرت مسیح ؑ نے بھی اس کی تحریفات سے پردہ اٹھایا ہے اور قرآن نے بھی بلکہ قرآن کے تو اس کے اچھی طرح بخیے ادھیڑے ہیں۔
(آنحضرت ﷺ کے باب میں حضرت مسیح ؑ کی پیشین گوئیوں کی اہمیت)۔ (ومبشرا برسول یاتی من بعدی) اسمہ احمد۔ یعنی ساتھ ہی حضرت مسیح ؑ نے اپنا مشن بھی بتایا کہ میں ایک رسول کی خوش خبری دینے آیا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ جہاں تک اس رسول کی پیشین گوئی کا تعلق ہے وہ تو سیدنا ابراہیم ؑ کے زمانے سے چلی آرہی ہے جس کا ذکر اگلی سورة میں بھی آ رہا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اس رسول کی خوش خبری دی۔ بعض دوسرے انبیاء سے بھی تورات کے مختلف صحیفوں میں پیشین گوئیاں موجود ہیں اور اہل کتاب ان کا مصداق آنحضرت ﷺ کو مانیں یا نہ مانیں لیکن ایک غیر جانبدار ذہن یہ ماننے پر مجبور ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سوا کسی اور پر وہ منطبق نہیں ہو سکتیں۔ الغرض جہاں تک آنحضرت ﷺ کی بشارت کا تعلق ہے اس میں حضرت مسیح ؑ منفرد نہیں ہیں لیکن آنجناب ﷺ کی بشارت تین پہلوئوں سے دوسری سابق بشارتوں سے بالکل مختلف ہے۔ ایک یہ کہ آپ نے اس بشارت کو اپنا ایک ضمنی کام نہیں بلکہ اپنی بعثت کا خاص مقصد اور مشن بتایا ہے۔ دوسرا یہ کہ آپ نے اس کے ظہور کا زمانہ بھی بالکل قطعی طور پر متعین کردیا ہے۔ تیرا یہ کہ آپ نے یہ بشارت آنحضرت ﷺ کے اسم گرامی کی تصریح کے ساتھ دی ہے۔ یہ تینوں پہلو خاصے اہم ہیں اس وجہ سے ہم بالاختصار ان پر یہاں گفتگو کریں گے۔
(انجیل کے انجیل سے موسوم ہونے کی حکمت)۔ پہلی بات یعنی حضرت مسیح ؑ کا آنحضرت ﷺ کی بشارت پر مامور ہونا ان کے الفاظ (مبشرا ﷺ برسول یاتی من بعدی) سے بھی واضح ہے لیکن اس سے بڑی دلیل خود اس صحیفہ کا نام ہے جو ان پر نازل ہوا۔ لفظ انجیل بلا اختلاف یونانی ہے جس کے معنی مسلم طور پر بشارت کے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ تمام آسمانی صحیفوں میں یہی صحیفہ خاص طور پر اس لفظ سے کیوں موسوم ہوا ؟ عیسائی ممکن ہے نجات سے متعلق اپنے من گھڑت عقیدے کی بناء پر اس کی توجیہ یہ کریں کہ یہ بنی آدم کے لیے نجات کی بشارت ہے، لیکن یہ توجیہ بالکل طفلانہ ہے۔ نجات سے متعلق جو عقیدہ پال نے گھڑا ہے اس کی کوئی الٹی سیدھی دلیل پال کے لا یعنی علم کلام ہو تو ہو لیکن ان انجیلوں میں اس کی کوئی کمزور سے کمزور دلیل بھی نہیں ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کا مشن جس طرح بشارت رہا ہے اسی طرح بلکہ کسی کسرے زائد انداز بھی رہا ہے اور یہ دونوں فرض جس طرح ہر نبی نے انجام دیے اسی طرح حضرت مسیح ؑ نے بھی انجام دیے۔ انہوں نے ایمان لانے والوں کو نوز و فلاح کی بشارت بھی دی اور کفر کرنے والوں کو دوزخ سے ڈرایا بھی، پھر کوئی وجہ نہیں تھی کہ ان کے صحیفہ کا نام مخصوص طور پر بشارت (انجیل) ہی ہوتا۔ البتہ اس نام سے موسوم ہونے کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ حضرت مسیح ؑ کا امتیازی وصف اور خاص مشن تھا ہی یہ کہ وہ اپنے بعد آنے والے آخری رسول کی بشارت دیں۔ اس مشن پر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کر کے بھیجے گئے تھے۔ اس سوجہ سے ان کے صحیفہ کا نام ہی بشارت (انجیل) ہوا کہ نام ہی سے آپ کے مشن کا اظہار ہوا اور یہ نام قیامت کے دن عیسائیوں پر حجت بنے کہ جس کی بشارت دینے پر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوئے۔ اس پر ایمان لانے سے خود محروم رہے اور سیدنا مسیح ؑ کی کنواریوں والی تمثیل ان پر صادق آئی کہ رات بھر تو وہ شمعیں جلائے دولہا کا انتظار کرتی رہیں لیکن جب دولہا کے آنے کا وقت ہوا تو ان کی کپیوں کا تیل ختم ہوگیا اور وہ سو رہیں۔
انجیلوں کا تدبر سے مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان کا خاص مضمون آسمانی بادشاہت کی بشارت ہے۔ مختلف اسلوبوں، پیرایوں اور گوناگوں تمثیلوں سے یہی مضمون ان میں بار بار آتا ہے۔ اس آسمانی بادشاہی کی جو خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔ اس کے تدریجی نشوونما کا جو تصور دیا گیا ہے اس میں داخل ہونے والوں اور اس سے محروم رہنے والوں کے جو اوصاف مذکور ہوئے ہیں اگر ان پر اچھی طرح غور کیجئے تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ یہ در حقیت اس نبوت کی بشارت ہے جو آنحضرت ﷺ کی بعثت کی شکل میں ظاہر ہوئی اور اس نظام صالح کی خوش خبری ہے جس کی برکتیں صحابہ ؓ کے ہاتھوں زمین پر پھیلیں۔ یہاں اس مسئلہ کی وضاحت کا موقع نہیں ہے ورنہ میں مثالیں دے کر اپنا نقطہ نظر اچھی طرح واضح کردیتا۔ تاہم مجھے امید ہے کہ جو لوگ انجیلوں پر اس پہلو سے غور کریں گے وہ میری رائے سے اتفاق کریں گے کہ ان کا اصل مضمون اس آسمانی بادشاہی کی بشارت ہی ہے جو آنحضرت ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے قائم ہوئی۔
(یہ پیشین گوئی تعین زمانہ کے ساتھ ہے)۔ اس پیشین گوئی میں زمانے کے تعین کی بات بھی اس کی اہمیت کو بہت بڑھا دیتی ہے۔ اس سے پہلے جتنی پیشین گوئیاں بھی آنحضرت ﷺ یا دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کے باب میں وارد ہوئیں ان میں سے کسی میں بھی اس تصریح کے ساتھ زمانے کا تعین نہیں ہے بلکہ سب ایک غیر معین مستقل سے تعلق رکھنے والی ہیں، لیکن اس پیشین گوئی میں یہ تصریح ہے کہ وہ رسول آپ کے بعد آئے گا اور آپ اس کی بشارت دینے اور اس آنے والے کی راہ صاف کرنے آئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ سیدنا مسیح ؑ کے بعد وہ کون شخصیت اس پوری دنیا میں ظاہرہوئی ہے جس پر وہ صفات یا وہ تمثیلات منطبق ہو سکیں جو آنجناب ﷺ نے اس کے باب میں یا اس کے ہاتھوں قائم ہون والے نظام سے متعلق فرمائی ہیں ؟ ضد اور ہٹ دھرمی کی بات اور ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس کے جواب میں محمد ﷺ کے سوا کسی اور کا نام نہیں لیا جاسکتا۔ اگر عیسائی یہ نام نہیں لینا چاہتے تو پھر انہیں انجیلوں سے بھی دست بردار ہوجانا چاہیے۔ آخر وہ کب تک ایک ایسی بشارت دیتے رہیں گے جس کا کوئی مصداق دو ہزار سال میں ظاہر نہیں ہوا۔
(نام کی تصریح کے ساتھ بشارت)۔ مسئلہ کا تیسرا پہلو بھی نہایت اہم بلکہ سب سے زیادہ اہم ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے آنحضرت ﷺ کی بشارت نام کی تصریح کے ساتھ دی ہے۔ نام کی صراحت کے ساتھ اس پیشین گوئی کا ظہور میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس میں کسی قسم کا خفانہ رہے بلکہ ہر چیز اس طرح کھل کر سامنے آجائے کہ جو لوگ اس کا انکار کریں ان کی ہٹ دھرمی بالکل بےنقاب اور ان پر اللہ کی حجت اچھی طرح قائم ہوجائے۔
(ناموں کی تحریف میں اہل کتاب کی جسارت)۔ لیکن ناموں کے اوپر تحریف کرنے والوں نے جو قیامت ڈھائی ہے وہ سب سے زیادہ دردناک ہے۔ انہوں نے یا تو ان ناموں کا حلیہ اس طرح بگاڑا کہ ان کی اصل صورت معلوم کرنے کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہ جائے یا ان کا ترجمہ اور پھر ترجمہ در ترجمہ کر کے ان کو حقیقت سے اتنا دور کردیا کہ ان کی تحقیق کی کاوش جوئے شیر لانے کے مترادف بن گئی۔
اس کی مثال کے لیے ہم ”مردہ“ اور ”بکہ“ کو پیش کرتے ہیں۔ یہ دونوں نام تورات میں آئے ہیں۔ مردہ وہ قربان گاہ ہے جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی پیش کی اور (بکہ) مکہ وہ مقام ہے جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت اسماعیل ؑ کو بسایا اور جن کی ذریت سے ایک رسول کی بعثت کی دعا فرمائی، چونکہ یہود یہ بات کسی قسمت پر گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا کوئی تعلق مکہ سے ثابت ہو سکے یا یہ کہ قربان ہونے والا فرزند حضرت اسماعیل ؑ کو قرار دیا جاسکے اس وجہ سے انہوں نے نہایت سفاکی کے ساتھ ہر اس نشان کو تورات سے کھرچ کھرچ کر مٹایا جس کو انہوں نے اپنی خواہش کے خلاف پایا، چناچہ مردہ کو ان کے علماء اور قاریوں نے زبان کے تروڑ مروڑ سے مورہ موریا مریا اور نہ جانے کیا کیا بنایا۔ اسی طرح بکہ کو بکاء بنایا اور پھر اس کو وادی بکار کا نام دے کر مترجموں نے اس کا ترجمہ دادی گریہ کردیا حالانکہ بکہ اور مکہ دونوں ایک ہی چیز ہے۔ اس کی تحقیق اس کتاب میں اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ 1 ؎(ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد اول، صفحات 747، 748)
ان دو مثالوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تورات اور انجیل میں ان ناموں پر کیا گزری ہے جن کو یہودیوں یا عیسائیوں نے اپنے مقصد کے خلاف پایا ہے۔ خاص طور پر احمد یا حمد تو ایسے نام ہیں کہ ان کا کوئی حرف بھی وہ گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتے تھے۔ چناچہ انجیلوں سے یہ بات تو صاف معلوم ہوتی ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے نام کی تصریح کے ساتھ حضور ﷺ کی بعثت کی بشارت دی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ عیسائی علماء نے اس نام پر پردہ ڈالتے ہیں وہ کمال فن دکھایا ہے کہ یہود کے سوا کوئی اور اس کمال میں ان کا حریف نہیں ہوسکتا۔
پہلے ہم انجیل یوحنا سے وہ حوالے نقل کرتے ہیں جن میں حضور ﷺ کی بشارت دی گئی ہے، اس کے بعد ان کے خاص خاص پہلوئوں کی طرف توجہ دلائیں گے، سیدنا مسیح ؑ فرماتے ہیں :”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابر تک تمہارے ساتھ رہے، یعنی سچائی کا روح“۔ (یوحنا۔ باب 14، 16، 17)
”لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرا نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاددلائے گا“۔ (یوحنا، باب 14، 26)
”اس کے بعد میں تم سے محبت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار ٓتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں“۔ (یوحنا، باب 14، 30)
”لیکن جب وہ مددگار آئے گا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا“۔ (یوحنا، باب 15، 26)
”لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جائوں گا تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا“۔ (یوحنا، باب : 6، 7)
”مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں مگر اب ان کی برداشت نہیں کرسکتے۔ لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اسی لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا“۔ (یوحنا : باب 16، 12، 13)
یہ حوالے ہم نے انجیل یوحنا سے لیے ہیں جو عیسائیوں کے تمام فرقوں کے نزدیک مسلم ہے۔ انجیل برناباس میں حضور ﷺ کی بشارت آپ کے نام نامی محمد، کی تصریح کے ساتھ بار بار وارد ہوئی ہے لیکن اس کے حوالے ہم اس لیے نہیں دے رہے ہیں کہ موجودہ عیسائی جو پامال کے پیرو ہیں، اس کو مستند نہیں مانتے، مذکورہ بالاحوالوں پر غور کیجئے تو چند باتیں بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت مسیح ؑ نے آنحضرت ﷺ کی بشارت ایسی واضح صفات کے ساتھ دی ہے کہ وہ حضور ﷺ کے سوا کسی دوسرے پر منطبق نہیں ہو سکتیں، مثلاً ”وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے“۔ ”وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا“۔ ”دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں“۔ غور کیجئے کہ حضرت مسیح ؑ کے بعد آنحضرت ﷺ کے سوا اور کون ہے جس کو ان صفات کا مصداق قرار دیا جاسکے ؟
دوسری یہ کہ ان پیشین گوئیوں کے پیش و عقب میں اگرچہ ایسے بےجوڑ فقرے اور الفاظ گھسانے کی کوشش کی گئی ہے جن میں ان کے مطلب کو خبط کیا جاسکے لیکن اس کوشش میں تحریف کرنے والوں کو کامیابی نہیں ہوئی ہے بلکہ ان فقروں کا بےربط ہونا بالکل نمایاں ہے۔
تیسری یہ کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے آنحضرت ﷺ کی تعریف میں کوئی معین لفظ فرمایا جس کو بعد کے مترجموں اور شارحوں نے اپنی تحریف کا خاص طور پر ہدف بنایا اور اپنا پورا زور لگایا ہے کہ اس کو جس حد تک اس کے صحیح مفہوم سے دور کرسکیں کردیں۔ کسی نے اسکا ترجمہ مددگار کیا ہے کسی نے وکیل کسی نے شفیع کسی نے سچائی کی روح۔ رہا یہ کہ وہ لفظ کیا ہے تو یوحنا میں جو یونانی لفظ استعمال ہوا ہے وہ (Paragletus) بتایا جاتا ہے جس کے معنی بیان کرنے میں وہ موشگافیاں کی گئی ہیں جو اوپر بیان ہوئیں۔ یہ یونانی ظاہر ہے کہ کسی سریانی لفظ کا ترجمہ ہوگا اس لیے کہ انجیل کی اصل زبان سریانی تھی تو اب اس کی تحقیق کون کرے کہ وہ کیا تھا۔ جب ایک لفظ کو گم کرنے کی جدوجہد میں صدیوں سے ایک پوری قوم لگی ہو تو اس سراغ لگانا کس کے امکان میں ہے ! یہ تو قرآن کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس کا کچھ سراغ دیا۔ بعض مسلمان مورخین کی تحقیق یہ ہے کہ اصل سریانی لفظ (منعمنا) ہے جس کے معنی سریانی میں وہی ہیں جو محمد اور احمد کے ہیں۔
(یہود کی شقاوت)۔ (فلما اء ھم بالبینت قالوا ھذا سحرمبین) (جاء) کے فاعل حضرت عیسیٰ ؑ ہیں۔ یعنی وہ سابق پیشین گوئیوں کے مصداق اور اپنے بعد آنے والے رسول خاتم کے مبشر بن کر نہایت کھلے ہوئے معجزات کے ساتھ جب آئے تو یہود کے دل اس طرح کج ہوچکے تھے کہ انہوں نے آپ کے تمام معجزات کو جادو قرار دیا اور آپ کی تکذیب کردی۔ انجیل میں تصریح ہے کہ یہود نے آپ کے معجزات کو جادو کا کرشمہ بھی قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ یہ جو کچھ دکھاتے ہیں اس میں روح القدس کی تائید کو کوئی دخل نہیں ہے بلکہ ان کو ایک بھوت، بغلزلوں کی مدد حاصل ہے۔ بعض لوگوں نے جاء کا فاعل آنحضرت ﷺ کو قرار دیا ہے لیکن یہ سیاق وسباق کے بالکل خلاف ہے۔
(ایک و تعق پہلو)۔ یہاں اس فرق کو بھی ملحوظ رکھیے جو حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت مسیح ؑ کے انداز خطاب میں نمایاں ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے تو بنی اسرائیل کو یقوم سے مخاطب کیا لیکن حضرت مسیح ؑ نے ان کو (یبنی اسرائیل) سے مخاطب کیا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ قومی تعلق نہ آپ کا بنی اسرائیل سے تھا نہ کسی اور قوم سے بلکہ آپ عیسیٰ بن مریم تھے۔ قرآن نے خطاب کے ان باریک پہلوئوں کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔
Ayah 61:7(ومن اظلم ممن افتری علی اللہ الکذب وھو یدعی الی الاسلام واللہ لا یھدی القوم الظمین) (7)۔ یہ یہود کی بد قسمتی پر اظہار افسوس ہے کہ اپنی جس کجی نے اب ان کو اسلام کی مخالفت پر ابھارا ہے۔ فرمایا کہ ان سے بڑھ کر اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا کون ہوسکتا ہے جن کو اسلام کی دعوت دی جا رہی ہو اور وہ اسلام کی مخالفت کے بہانے پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر طرح طرح کے جھوٹ گھڑ رہے ہوں۔
(یہود کے من گھڑت دعوے)۔ (افتری علی اللہ الکذب)۔ سے ان باتوں کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے اپنی بزرگی و برتری ثابت کرنے کے لیے اپنی شان میں گھڑ رکھی تھیں۔ مثلاً یہ کہ ہم ایک برگزیدہ اور خدا کی منطق نظر امت ہیں، ہم کسی ایسے نبی کی ہدایت کے محتاج کس طرح ہو سکتے ہیں جو امیوں کے اندر پیدا ہوا ہو ؟ نبوت و رسالت کے لیے تو ہمیشہ سے اسرائیل کا گھرانا مخصوص رہا ہے، اس سے باہر کوئی نبی کس طرح پیدا ہوسکتا ہے ؟ اس ضمن میں یہ بات بھی انہوں نے گھڑ رکھی تھی کہ ہمیں تو یہ ہدایت ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کے دعوائے نبوت کی تصدیق ہی نہ کریں جس کی پیش کی ہوئی قربانی کو کھانے کے لیے ان سے آگ نہ اترے۔ قرآن نے سورة بقرہ میں ان تمام من گھڑت باتوں کی تردید فرمائی کہ یہ سب افتراء ہے۔ اللہ نے کہیں بھی اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی ہے۔ انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہاں فرمایا کہ کتنے محروم القسمت ہیں وہ جو لوگ جن کو اسلام کی دعوت دی جا رہی ہے اور وہ خود اپنی آنکھوں میں اپنی ہی گھڑی ہوئی خرافات کی دھول جھونک رہے ہیں۔
(واللہ لا یھدی القوم الظلمین) یہ اس سنت الٰہی کی طرف پھر اشارہ فرمادیا جو آیت 5 میں بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا جو خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو ان پر یہ احسان فرمایا کہ آنے والے نبی کے باب میں ان کو پہلے سے رہنمائی دی کہ یہ اسے خود بھی پہچانیں اور دوسروں کو بھی پہنچوائیں لیکن جب انہوں نے اس احسان کی یہ قدر کی کہ اللہ کے بتائے ہوئے نشانات خود مٹا رہے ہیں تو ایسے شامت زردن کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔
Ayah 61:8(یہود کی سعی لا حاصل کی تمثیل)۔ (یرید ون لیطفوا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرون) (8)۔ یہ اس سعی لا حاصل کی تمثیل ہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی ہدایت کو اپنی من گھڑت باتوں اور اپنی ایجاد کردہ بدعات سے دبانے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے کہ سورج یا چاند کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھانے کی کوشش کی جائے۔ فرمایا کہ ان کی یہ کوشش لا حاصل رہے گی۔ اللہ اپنے اس نور کو کامل کر رہے گا۔ یہ بہت جلد ہلال سے بدر بنے گا اگرچہ یہ چیز کفار پر کتنی گراں گزرے۔
Ayah 61:9(ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون) (9)۔
(غلبہ اسلام کا واضح اعلان)۔ یہ (واللہ ستم نورہ ونوکرہ الکفرون) کی وضاحت ہے کہ اسی خدا نے جس نے اپنے نور کو کامل کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے، اپنی ہدایت اور اپنے دین حق کے ساتھ اپنے رسول کو بھیجا ہے کہ اس دین کو اس سر زمین کے تمام ادیان پر غالب کرے اور یہ بات لازماً ہو کے رہے گی اگرچہ مشرکین کو یہ کتنی ہی ناگوار گزرے۔ اور وہ اس کیخلاف کتنا ہی زور لگائیں۔
اوپر والی آیت میں (ولو کرہ الکفرون) فرمایا ہے جو فی الجملہ عام ہے۔ جس میں وہ سب شامل ہیں جو اس دین حق اور اس رسول بر حق کے انکار کرنے والے تھے۔ اس آیت میں (ولو کرہ المشرکون) کے الفاظ ہیں جو خاص مشرکین قریش کے لیے ہیں۔ ان دونوں لفظوں نے مل کر ان تمام مخالفت طاقتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے جو اس وقت عرب میں اسلام کی مخالفت کر رہی تھیں۔ گویا ان سب کو چیلنج کیا ہے کہ تمہیں جتنا زور لگانا ہے لگا لو لیکن تم اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گے۔ اللہ کا قطعی فیصلہ یہی ہے کہ اس رسول کے ذریعہ سے اس کا دین حق اس سر زمین کے تمام ادیان پر غالب آ کے رہے گا۔ چناچہ یہ بات پوری ہو کر رہی۔ بہت جلد وہ وقت آگیا کہ پورے عرب کے متعلق یہ اعلان ہوگیا کہ اس سر زمین میں دو دین جمع نہیں ہوں گے بلکہ صرف اللہ کے دین ہی کی حکمرانی ہوگی۔ یہی مضمون سورة توبہ میں ان الفاظ میں گزر چکا ہے۔
(یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللہ ِ بِاَفْوَاھِہِمْ وَیَاْبَی اللہ ُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْن۔ ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖلا وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ۔ (التوبۃ۔ 9، 32، 33)۔ (وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپے نور کو کامل کر کے رہے گا، ان کافروں کے علی الرغم۔ وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو سارے دین پر غالب کرے، اگرچہ یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی بری لگے۔)
Ayah 61:102۔ آگے آیات۔ 10۔ 14 کا مضمون
اوپر کے پیرے میں یہ بتایا ہے کہ اہل ایمان کے لیے یہ روش تو بالکل ہی غلط ہے کہ وہ رسول سے سمع وطاعت کا عہد کریں اور جب اس عہد کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا وقت آئے تو جان و مال کی محبت میں پھنس کر اس سے فرار کی کوشش کریں۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ انکے لیے صحیح روش کیا ہے جس کو اختیار کر کے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ آیات کی تلاوت کیجئے۔۔ (آیات۔ 10۔ 14)
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(یایھا الذین امنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم) (10)۔ (اہل ایمان کے لیے کامیاب تجارت)۔ یعنی ایمان لانے اور رسول سے سمع وطاعت کا عہد کر چکنے کے بعد اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ تمہارے لیے صحیح روش کیا ہے تو آئو میں تمہیں وہ سودا بتاتا ہوں جو تمہیں ایک درد ناک عذاب سے نجات دینے والا بنے گا۔ یہاں جس چیز کو تجارۃ (سودا) سے تعبیر فرمایا ہے اس کی وضاحت آگے آرہی ہے کہ تم اپنی جان اور اپنا مال اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار رہو اور اس کے بدلے میں اللہ کی مغفرت اور اس کی جنت کے حق دار بنو۔ یہ سب سے بڑی کامیابی ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے تمہیں بازی کھیلنی چاہیے۔ اس آیت میں تو اس کا صلہ یہی بتایا ہے کہ دوزخ کے درد ناک عذاب سے نجات پائو گے لیکن آگے کی آیات میں وضاحت آرہی ہے کہ اس کے صلہ میں تمہیں آخرت کی بھی تمام کامرانیاں حاصل ہوں گی اور اس دنیا میں بھی تمہیں وہ فتح عظیم حاصل ہوگی جس کے تم متمنی ہو۔ یہاں صرف عذاب سے نجات کا ذکر اس وجہ سے فرمایا کہ مومن کا اصل مطلوب یہی ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے اگر یہ چیز حاصل ہوگئی تو گویا سب کچھ حاصل ہوگیا۔
Ayahs 61:11–12(تو منون باللہ ورسولہ وتجاھدون فی سبیل اللہ بامرالکم وانفسکم ذتکم خیر لکم ان کنتم تعلمون یفرلکم ذنوبکم ویدخلکم جنت تجری من تحتھا الانھر و مسکن طیبۃ فی جنت عدن ذلک الفوز العظیم) (11، 12)۔
(عربیت کے ایک اسلوب کی وضاحت)۔ عربیت کے اس اسلوب کی طرف جگہ جگہ ہم اشارہ کرتے آ رہے ہیں کہ جب امر یا نہی کے اندر موعظت اور نا صحانہ تلقین کا مضمون پیدا کرنا ہو تو ان کو خبریہ اسلوب میں کردیتے ہیں چناچہ اس آیت میں (تومنون) اور (تجاھدون) بظاہر تو خبر کے اسلوب میں ہیں لیکن یہ معنی میں امر کے ہیں۔ اس اسلوب کا فائدہ یہاں یہ ہوا کہ گویا ان کو نہایت شفقت کے ساتھ یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ ہم تمہیں نہایت نفع بخش کاروبار بتا رہے ہیں کہ تم اپنا مال اور اپنی جان اللہ کے حوالہ کرو اور اس کے بدلے میں ابدی بادشاہی حاصل کرو۔ (ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون) یعنی بظاہر تو یہ سودا تمہیں خسارے کا سودامعلوم ہوگا اس لیے کہ تمہیں نسیہ کی خاطر اپنے نقد کی قربانی کرنی پڑے گی لیکن اصل حقیقت تک تمہاری نظر پہنچ جائے تو تم یہ دیکھو گے کہ اپنے چند خزف ریزوں اور عمر فانی کے چند مستعار لمحات کے بدلے میں تم نے دولت کو نین حاصل کی ہے جسکے لیے کبھی زوال نہیں ہے۔ (ذلک الفوز العظیم) اس دولت کو نین کی طرف بالا جمال اشارہ کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر سوچو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ سب سے بڑی کامیابی ہے جو تمہیں حاصل ہوئی۔ اپنی حقیر متاع سے اس سے بڑی کوئی اور کامیابی تم حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ اس نفع بخش کاروبار کا ذکردوسرے مقام میں یوں آیا ہے۔ (اِنَّ اللہ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَط) (اللہ نے اہل ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے عوض میں خرید لیے ہیں۔)
Ayah 61:13(واخری تحبونھا نصر من اللہ و فتح قریب و بشر المومنین) (13)۔
(اس دنیا میں کامیابی اور غلبہ کی بشارت)۔ یہ ایک ایسی کامیابی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا جو ان کو عنقریب اس دنیا میں ظاہر ہونے والی ہے۔ فرمایا کہ ایک اور کامرانی بھی تم کو حاصل ہوگی جو عنقریب ظاہر ہونے والی ہے۔
(فتح مکہ کی بشارت)۔ یہ اشارہ ہمارے نزدیک فتح مکہ کی طرف ہے۔ ہجرت کے بعد سب سے بڑی تمنا جو ہر مسلمان کے دل میں جاگزیں تھی وہ فتح مکہ ہی کی تھی۔ اسی پر اسلام کے اصل دشمنوں کو شکست کا انحصار بھی تھا اور یہی غلبہ حق کی سب سے بڑی شہادت بھی تھی۔ اس وجہ سے ہر مسلمان اپنی تمام جدوجہد کے اصل نصب العین کی حیثیت سے اس کا آرزو مند تھا۔ فتح کی صفت یہاں قریب آئی ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سورة اس دور میں نازل ہوئی ہے جب فتح مکہ کے ظہور میں زیادہ دیر باقی نہیں رہ گئی تھی۔ بعض لوگوں نے سورة کا زمانہ نزول غزوہ احد کے لگ بھگ بتایا ہے لیکن یہ بات کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتی۔ سورة کے زمانہ ٔ نزول کا اندازہ کرنے کے لیے سب سے زیادہ موزوں اخذ یہی آیت ہو سکتی ہے اور اس سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی ہے۔
(وبشر المومنین) جب زبان پر فتح مکہ کا ذکر آگیا تو بر محل اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ کو ہدایت فرما دی کہ اب تم مسلمانوں کو بشارت سنا دو کہ یہ مبارک ساعت دور نہیں ہے۔ اس کا ظہور جلد ہی ہونے والا ہے۔ لوگ حوصلہ بلند رکھیں اور اس کا انتظار کریں۔ فتح مکہ کی بشارت مختلف اسلوبوں سے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر وارد ہوئی ہے۔ اگرچہ قطعیت کے ساتھ کہنا تو مشکل ہے لیکن یہ بشارت اس طرح وارد ہوئی ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ شاید سب سے پہلی بشارت یہی ہے۔
Ayah 61:14(یایھا الذین امنوا کو نو انصار اللہ کما قال عیسیٰ ابن مریم للحوارین من انصاری الی اللہ قال الحواریون نحن انصار اللہ فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل و کفرت طائفۃ فاید نا الذین امنوا علی عدوھم فاصبحوا ظھرین) (14)
(حواریوں کا قابل تقلید نمونہ)۔ اوپر آیت 5 میں مسلمانوں کو یہود کی روش کی تقلید سے روکا ہے کہ اگر ان کے نقش قدم پر چلو گے تو اسی رفیع نظر میں مبتلا ہو کر رہو گے جس میں وہ مبتلا ہوئے۔ اب یہ بتایا کہ تمہارے لیے قابل تقلید نمونہ حوارمین کا ہے جنہوں نے یہود کی طرح حضرت مسیح ؑ کی تکذیب نہیں کی بلکہ جب حضرت مسیح ؑ نے ان کو اللہ کے لیے اٹھنے کی دعوت دی تو وہ پورے جوش دلی کے ساتھ اس راہ میں نصرت ورفاقت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور اللہ نے بالآخر انہی جاں نثاروں کو غلبہ حق کا ذریعہ بنایا۔
لفظ حواری عربی میں اہل کتاب سے آیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ اس کے معنی سرگرم و پر جوش حامی و حمایتی کے ہیں۔ قرآن مجید اور انجیل دونوں سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ جب یہود کے علماء و فقہاء کے رویہ سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے غرباء و عوام اور دریا کے کنارے کے ماہی گیروں کو دعوت دی کہ اے مچھلیوں کو پکڑنے والو ! آئو میں تمہیں آدمیوں کے پکڑنے والا بنائوں۔ بالآخر انہی کے اندر سے ایک مختصر جماعت تین سوا تین سو آدمیوں کی، پورے جوش دلی کے ساتھ، دعوت کے کام میں تعاون کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ (من انساری الی اللہ) کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے فرمایا کہ میں تو خدا کی بتائی ہوئی صراط مستقیم پر اللہ کی طرف چل کھڑا ہوا ہوں تم میں سے جن کے اندر اس راہ میں میری رفاقت کا حوصلہ ہو وہ اٹھے اور میرا ساتھ دے۔ حوارتین نے نحن انصار اللہ کہہ کر اس دعوت پر لبیک کہی۔
(فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل و کفرت طائفۃ) قرینہ دلیل ہے کہ یہاں لفظ طائفۃ کی تنکیر ایک جگہ تعلیل کے مفہوم میں ہے اور دوسری جگہ تکتیر کے مفہوم میں۔ یعنی بنی اسرائیل میں سے ایک مختصر گروہ (حوارتین کا گروہ) تو ایمان لایا اور ایک بڑا گروہ اپنے کفر پر اڑا رہ گیا لیکن خدا کی تائید اہل ایمان کو حاصل ہوئی اور وہ بالآخر اہل کفر پر غالب ہوگئے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ سیدنامسیح ؑ کی دعوت کی تکذیب کے بعد سے آج تک یہود کو کبھی اقتدار حاصل نہیں ہوا۔ حضرت مسیح ؑ کے زمانے میں وہ رومیوں کے محکوم تھے۔ پھر قسطنطین کے نصرانیت قبول کرلینے کے بعد سے وہ برابر نصاریٰ کے محکوم رہے اور آج بھی جب کہ بظاہر ان کی ایک آزاد حکومت ہے وہ عیسائیوں ہی کی زیردست ہیں۔ قرآن مجید میں یہ مضمون دوسرے مقام اس طرح بیان ہوا ہے۔
(فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْھُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللہ ِط قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ ِج اٰمَنَّا بِ اللہ ِج وَاشْھَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۔ رَبَّنَآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ۔) (آل عمران : 3، 52، 53)۔ (پس جب عیسیٰ نے ان کی طرف سے (علمائے یہود کی طرف سے) کفر کو بھانپ لیا تو اس نے دعوت دی کہ اللہ کی طرف بڑھنے میں کون میرے مددگار بنتے ہیں ! حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار بنتے ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لائے اور تو گواہ رہ کہ ہم مسلم ہیں۔ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے اس چیز پر جو تو نے اتاری اور ہم نے رسول کی پیروی کی تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ۔) اللہ تعالیٰ کی تائید سے اس سورة کی تفسیر ان سطور میں تمام ہوئی۔ (فالحمد للہ علی ذلک)۔ (رحمان آباد۔ 14۔ مارچ 1978 ء۔ 3۔ ربیع الثانی 1398 ھ۔