62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

تدبر قرآن۔ ٢٦۔ الجمعۃ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ا۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق سورة صف اور سورة جمعہ کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ صرف اسلوب بیان اور نہج استدلال دونوں کے الگ الگ ہیں۔ سابق سورة میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیشین گوئی کا حوالہ ہے۔ اس میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی طرف اشارہ ہے۔ بنی اسماعیل کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ان کو جس عظیم نعمت سے نوازا ہے اس کی قدر کریں۔ یہودیوں کی حاسدانہ سازشوں کا شکار ہو کر اپنے کو اس فضل عظیم سے محروم نہ کر بیٹھیں۔ اسی ذیل میں مسلمانوں کے ایک گروہ کو ملامت فرمائی ہے کہ اس نے دنیوی کاروبار کے طمع میں جمع اور رسول کا احترام ملحوظ نہیں رکھا۔ اگر تجارت کی طمع لوگوں کو جمعہ کے احترام اور رسول کی موعظت سے زیادہ عزیز ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے اس بیع و شراء کی حقیقت نہیں سمجھی جو وہ اپنے رب سے کرچکے ہیں (جس کا ذکر سابق سورة میں ہوچکا ہے) ساتھ ہی اس ناقدری کے انجام سے بھی آگاہ فرمایا ہے کہ یہ روش اختیار کر کے یہود اللہ کی شریعت سے محروم ہوگئے۔ مسلمان فلاح چاہتے ہیں تو ان کی تقلید سے بچیں۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (١۔ ٤) بنی اسماعیل کو یہ یاددہانی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر جو رسول مبعوث فرمایا وہ تمہارے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا مظہر ہے۔ یہ ایک عظیم فضل ہے جو اللہ نے تم کو جاہلیت کی تاریکی سے نکالنے کے لیے تم پر فرمایا ہے۔ اس نعمت عظمی کی قدر کرو، یہودیوں کی حاسدانہ سازشوں کے شکار ہو کر ان کی تمنا بر آنے کا سامان نہ کرو۔ (٥۔ ٨) یہود کے اس دعوے کی تردید کہ وہ اللہ کی برگزیدہ امت ہیں، ان کے سوا کوئی اور قوم نبوت و رسالت کے شرف کی حق دار نہیں ہو سکتی۔ ان کی ان نالائقیوں کی طرف اشارہ جن کے سبب سے وہ اللہ کی ہدایت سے محروم اور امامت کے منصب سے معزول ہوئے۔ (٩۔ ١١) مسلمانوں کی ایک غلطی پر جو جمعہ اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبہ کے احترام کے معاملے میں، کچھ لوگوں سے صادر ہوئی، گرفت۔ اگرچہ یہ غلطی بظاہر معمولی نظر آتی ہے لیکن اس نے ایک بہت بڑی کمزوری کی نشان دہی کی تھی کہ ابھی مسلمانوں کے ایک گروہ نے دین کی اس حقیقت کو نہیں سمجھا کہ جو شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت و جنت کے عوض اپنی جان اور اپنے مال کو فروخت کر کا ہوتا ہے۔ یہ بات اس کے ایمان کے منافی ہے کہ کسی اور دنیوی کا روبار کی طمع اس کو اللہ اور رسول سے بےپروا کر دے۔ یہ یہود کے نقش قدم کی پیروی ہے جس سے مسلمانوں کو سابق سورة میں روکا گیا ہے۔ یہود نے اسی طرح کی غلطی کا ارتکاب سبقت کے معاملہ میں کیا تو اللہ نے ان پر لعنت کردی۔

Ayah 62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

(تسبیح کرتی ہیں آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اس اللہ ہی کی جو بادشاہ، قدوس، عزیز اور حکیم ہے۔

ا۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم) (1)۔ (تمہید)۔ یہ تمہیدی آیت معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے۔ سابق سورة میں صیغہ ماضی یستبح آیا ہے جو تصویر حال کا فائدہ دے رہا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی چار صفات بیان ہوئی ہیں۔ الملک جس کے معنی بادشاہ کے ہیں۔ القدوس جس کے معنی ہر نقص و عیب سے پاک کے ہیں۔ العزیز جس کے معنی جیسا کہ بار بار واضح کیا جا چکا ہے غالب و مقتدر کے ہیں۔ الحکیم وہ ذات جس کے ہر قول و فعل میں حکمت ہے۔ یہ چاروں صفات آگے والی آیت کی تمہید کے طور پر یہاں آئی ہیں۔ ان کی وضاحت آیت کی تفسیر کے تحت ہی مناسب رہے گی۔
Ayah 62:2

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

اسی نے اٹھایا ہے امیوں میں ایک رسول انہی میں سے جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے۔ اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور بیشک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔

(ھو الذی بعث فی الامین رسولا منھم یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتب الحکمۃ وان کانوا من قبل لف ضلل مبین) (2) فرمایا کہ اسی خدا نے جو اس کائنات کا حقیقی بادشاہ ہے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ وہ ان کو اس آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ تدبر کیجئے تو معلوم ہوگا کہ تمہید کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جو صفات گنائی ہیں انہی کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے اس رسول کی بعثت ہوئی ہے جس کا یہاں ذکر ہے۔ (رسول اللہ ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کی صفات کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہوئی)۔ وہی خلق کا بادشاہ حقیقی ہے۔ اس کی اس صفت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس نے اپنی نوعیت کو اپنے احکام و ہدایات سے آگاہ کرنے کے لیے اس کی طرف اپنا رسول بھیجا جس کی صفت یہ ہے کہ (یتلوا علیھم ایتہ) وہ لوگوں کو اس کی تعلیمات و ہدایات پڑھ کر سنا رہا ہے۔ وہ پاک اور قدوس ہے اس وجہ سے اس نے یہ چاہا کہ وہ اپنے رسول اور اپنی تعلیمات کے ذریعہ سے لوگوں کو پاکیز بنائے چناچہ اس کا رسول لوگوں کو عقائد و اعمال اور اخلاق کی خرابیوں سے پاک کر رہا ہے (یزکیھم)۔ پھر وہ عزیز اور حکیم ہے اس وجہ سے اس نے ایسا رسول بھیجا ہے جو اس کے بندوں کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دے رہا ہے۔ یہاں لفظ کتاب شریعت اور قانون کے مفہوم میں ہے۔ شریعت اور قانون کا موثر نفاذ اسی کی طرف سے ہوتا ہے جو غالب و مقتدر ہو لیکن اللہ تعالیٰ صرف غالب و مقتدر ہی نہیں بلکہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے وہ اپنے رسول کے ذریعہ سے جس قانون کی تعلیم دے رہا ہے وہ مجرد اس کے زور اقتدار کا مظہر نہیں بلکہ اس کی حکمت اور بندوں کی دنیوی و اخروی مصلحت کا بھی مظہر ہے۔ یہ آیت بنی اسماعیل پر اتنان اور اظہارفضل و احسان کے محل میں ہے اس وجہ سے یہاں ان کے لیے لفظ امین بطور ایک وصف امتیازی کے استعمال ہوا ہے۔ اس لفظ سے اس کے محل میں بحث ہوچکی ہے لیکن اتنی بات کی یاددہانی یہاں بھی ضروری ہے کہ یہ اصطلاح اگرچہ اہل کتاب بالخصوص یہود کی وضع کردہ تھی جس میں ان کے اندر مذہبی پندار کی جھلک بھی تھی اور اہل عرب کے لیے ان کا جذبہ تحقیر بھی نمایاں تھا۔ لیکن بنی اسماعیل چونکہ کتاب و شریعت سے نا آشنا تھے اس وجہ سے بغیر کسی احساس کہتری کے انہوں نے اس لقب کو اپنے لیے خود بھی اختیار کرلیا۔ پھر جب قرآن نے ان کے لیے اور ان کی طرف مبعوث ہونے والے رسول کے لیے اس لفظ کو بطور ایک وصف امتیازی کے ذکر فرمایا تو اس کا رتبہ اتنا بلند ہوگیا کہ اہل عرب کے لیے اس نے گویا ایک تشریف آسمانی کی حیثیت حاصل کرلی جس سے قدرت کی یہ شان ظاہر ہوئی کہ جن کو ان پڑھ اور گنوار کہہ کر حقیر ٹھہرایا گیا وہ تمام عالم کی تعلیم و تہذیب پر مامور ہوئے اور جن کو اپنے حامل کتاب نہ شریعت ہونے پر ناز تھا وہ (کثیل الحماد یحمل اسفار) چارپائے بروکتابے چند کے مصداق قرار پائے۔ یہاں یہ لفظ عربوں کے جذبہ شکر گزاری کو ابھارنے کے لیے استعمال ہوا ہے کہ انہیں اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ان پر نظر کرم فرمائی۔ ان کی اصلاح و تربیت اور ان کو کتاب و حکمت سے بہرہ مند کرنے کے لیے انہی کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرمایا اور جاہلیت کی اس تاریکی سے ان کو نکالا جس میں وہ اپنی امیت کے سبب سے اب تک گھرے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو یہ نعمت مل گئی ہے وہ اس کو حرزجاں بنائیں اور کوشش کریں کہ دوسرے بھی اس کو قدر کریں ایسا نہ ہو کہ ناقدری کے سلب سے ہو اس سے محروم ہو کر رہ جائیں اور حاسدوں کا مقصد پورا ہوجائے۔ یہاں نبی امی ﷺ کی جو صفات مذکور ہوئی ہیں ان پر سورة ٔبقرہ کی تفسیر میں ہم مفصل بحث کرچکے ہیں۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجئے تاکہ آپ کی بعثت کے مقاصد سے متعلق جو غلط فہمیاں منکرین حدیث نے پھلائی ہیں وہ دور ہوجائیں۔ بنی اسماعیل کے اندر بعینہٖ انہی صفات کے پیغمبر اٹھائے جانے کے لیے حضرت ابراہیم ؑ نے دعا فرمائی تھی۔ سورة بقرہ میں یہ دعا یوں مذکور ہے۔ (رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔) (اے ہمارے رب ! اور تو بھیجو ان کے اندر ایک رسول انہی میں سے جو تیری آیتیں ان کو پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔ بیشک تو غالب و حکیم ہے۔) (آنحضرت ﷺ دعائے ابراہیم کے مظہر ہیں)۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح یہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعا کے بھی مظہر ہیں جو آپ نے اولاد اسماعیل سے متعلق فرمائی تھی، گویا گوناگوں صفتیں آپ کے اندر جمع ہیں۔ یہ نوید مسیح ہیں اور دعائے ابراہیم ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں اور پھر یہ کہ وہ تمہارے ہی اندر کے ایک فرد ہیں۔ تمہارے اور ان کے درمیان اجنبیت و غیریت کا کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ تمہیں حقیر ٹھہرانے والے تمہیں یہ طعنہ نہیں دے سکتے کہ تمہیں ان کے یا کسی اور کے واسطہ سے روشنی ملی بلکہ اللہ نے تمام خلق پر تم کو سر بلند کیا کہ تمہارے ذریعہ سے سارے جہان میں اجالا کرنے کا سامان کیا۔ (آنحضرت ﷺ کی بعثت تمام خلق کی طرف ہے)۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت اگرچہ امیوں کے اندر ہوئی لیکن آپ کی دعوت تمام خلق کے لیے ہے۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ آنحضرت ﷺ دو بعثثوں کے ساتھ مبعوث ہوئے۔ ایک بعثت خاص دوسری بعثت عام۔ آپ کی بعثت خاص بنی اسماعیل کی طرف ہوئی اور اس بعثت کے فرائض کی تکمیل حضور ﷺ نے بذات خود فرمائی۔ آپ کی بعثت عام، جو تمام خلق کی طرف ہوئی اس کے فرائض انجام دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو (شھداء اللہ فی الارض) کے منصب پر سرفراز فرمایا جو اب قیامت تک کے لیے اس فرض کی انجام دہی پر مامور ہے (شھد اللہ فی الارض) کے ہر اول دستہ کی حیثیت چونکہ امیوں ہی کو حاصل ہوئی اس وجہ سے یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ جو امی تھے اللہ تعالیٰ نے انہی کے واسطہ سے تمام خلق کو روشنی دکھائی۔ (وان کانو من قبل لفی فمل مبین) یہ امیوں کے جذبہ شکر وسپاس کو ابھارنے کے لیے اس تاریکی طرف توجہ دلائی ہے جو ماضی میں ان پر چھائی رہی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ جاہلیت کی اس گھٹا ٹوپ تاریکی کا خیال کریں جس میں وہ گرفتار رہ چکے ہیں تب انہیں اپنے رب کے فضل و احسان کا کچھ اندازہ ہوگا کہ اس نے ان کو کس چاہ ظلمت سے نکالا اور کس آسمان رفعت و عزت پر پہنچایا ؟
Ayah 62:3

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور انہی میں سے ان دوسروں میں بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں اور اللہ غالب و حکیم ہے۔

(واخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحکیم) (3)۔ (ان امیوں کو جاندار و لطیف دعوت جو ابھی اسلام سے محروم تھے)۔ اس کا عطف امین پر ہے۔ یعنی جن امیوں کے اندر اس رسول کی بعثت ہوئی ہے انہی میں سے وہ دوسرے بھی ہیں جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ یہ اشارہ ان بنی اسماعیل کی طرف ہے جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اس سے یہ بات نکلی کہ اوپر اگرچہ لفظ امین عام استعمال ہوا ہے لیکن اس سے مراد صرف وہ بنی اسماعیل ہیں جو مشرف با سلام ہوچکے تھے۔ چناچہ آیت کا آخری ٹکڑا (وان گانو من قبل لفی ضلل مبین) اسی پر دلیل بھی ہے۔ اب اس آیت میں نہایت خوب صورت اور بلیغ اسلوب سے بنی اسماعیل کے ان لوگوں کو بھی دعوت دے دی جو ابھی اسلام سے بیگانہ تھے۔ لفظ منھم سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ انہی امیوں میں سے جن کے لیے یہ آسمانی نعمت اتری ہے، کچھ دوسرے بھی ہیں لیکن ابھی وہ اس سے بد کے ہوئے ہیں۔ اور نہایت لطیف اسلوب سے ان کو دعوت دی گئی کہ جن کے لیے خوان نعمت بچھایا گیا ہے اور جو سب سے پہلے مدعو ہیں حیف ہے اگر وہ اس سے محروم رہیں۔ (لما یلحقوابم) (ابھی وہ ان سے ملے نہیں ہیں) کے الفاظ کے اندر یہ بشارت بھی مضمر ہے کہ گو ابھی وہ ملے نہیں لیکن عنقریب مل جائیں گے گویا یہ مستقبل قریب میں ان کے قبول اسلام کی اسی طرح کی بشارت ہے جس طرح کی بشارت سورة ممتحنہ کی آیت 7 میں گزر چکی ہے۔ (ہدایت کے باب میں سنت الٰہی)۔ (وھو العزیز الحکیم) یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ایمان و ہدایت کے باب میں اس نے اختیار فرمائی ہے۔ وہ چاہے تو ساری خلق کو ہدایت بخش دے، وہ عزیز و غالب ہے۔ لیکن وہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے وہ ہدایت سے انہی کو سرفراز فرماتا ہے جو اس کی حکمت کے تحت سزا وار ہوتے ہیں۔ سورة دہر میں اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے (وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ ان اللہ کان علیما حکیما یدخل من یشاء فی رحمتہ) (الدھر، 76، 30، 31) (اور تمہارا چاہنا کچھ نہیں مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ بیشک اللہ ہی علم و حکمت والا ہے۔ وہی اپنی رحمت میں جس کو چاہے گا داخل کرے گا۔
Ayah 62:4

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل ہے وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے

(ذلک فضل اللہ یونیہ من یشا واللہ ذوالفضل العظیم) (4)۔ (یہود کے حسد پر تعریض)۔ یہ اسی فضل عظیم کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے امیوں پر فرمایا اور جس کا اوپر ذکر ہوا۔ ارشاد ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس پر کسی کا اجارہ نہیں ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے اس کے لیے انتخاب فرماتا ہے اور اس کا ہر چاہنا اس کی اپنی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ کسی دوسرے کو اس میں ذرا بھی دخل نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہود کو اس پر حسد ہے تو وہ جتنا حسد کرنا چاہیں کرلیں۔ اس سے وہ اپنا ہی نقصان کریں گے کسی دوسرے کا کچھ نہیں بگاڑیں گے خدا نے امیوں کو اپنی چیز دی، کسی دوسرے کی نہیں دی ہے کہ وہ اس پر غصہ کا اظہار کرے۔
Ayah 62:5

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

ان لوگوں کی تمثیل جن پر تورات لا دی گئی پھر انہوں نے اس کو نہ اٹھایا اس گدھے کی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ کیا ہی بری تمثیل ہے اس قوم کی جس نے اللہ کی آیتوں کی تکذیب کی ! ! اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

(مثل الذین حملوا ا لشورۃ ثم لم یحملوھا کمثل لحمار یحمل اسفارا بئس مثل القوم الذین کذبوا بایت اللہ واللہ لا یھدی القوم الظلمین) (5)۔ (یہود کے پندار پر ضرب)۔ یہ یہود کے پندار کے ضرب لگائی ہے کہ اگر وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ کتاب و شریعت کے حامل وہی ہو سکتے ہیں، کوئی دوسرا اس شرف میں ان کا حریف نہیں ہوسکتا، تو یہ گھمنڈ اب وہ اپنے دماغ سے نکال دیں۔ اب ان کی مثال اس گدھے کی ہے جو کتابوں کا بوجھ تو اٹھائے ہوئے ہے لیکن اسے کچھ خبر نہیں کہ ان کتابوں میں کیا ہے۔ (حملوا التورۃ ثم لم یحملوھا) یعنی اس میں تو شبہ نہیں کہ ایک زمانے میں ان کے اوپر تورات کا بوجھ لادا گیا لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ہے کہ انہوں نے اس بار گراں کو اٹھایا نہیں۔ اس نہ اٹھانے کی وضاحت (کذبوا بایت اللہ) کے الفاظ سے فرما دی گئی کہ تورات کی تعلیمات اور اس کے احکام پر ان کا ایمان باقی نہیں رہا، عملاً انہوں نے ان کی تکذیب کردی۔ ظاہر ہے کہ جب ان کتابوں کے احکام کی انہوں نے تکذیب کردی تو ان کے اجر سے تو وہ محروم ہوگئے، صرف ان کا دزر اور گناہ ان کے سر باقی رہا اور وہ اس مثل کے مصداق ہیں کہ چار پائے بروکتابے چند۔ (حملوالتورۃ) میں لفظ حملو نہایت بلیغ ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس تورات کے حامل ہونے پر آج ان کو ناز ہے وہ انہوں نے اس وقت بھی شوق ورغبت سے نہیں قبول کی تھی جس وقت انہیں عطاہوئی تھی بلکہ وہ گویا ان پر زبردستی لادی گئی تھی۔ اس زبردستی لادنے کی پوری تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے کہ تورات کے ایک ایک حکم کو قبول کرنے میں یہود نے کس کس طرح اپنی ضد و مکابرت کا مظاہرہ کیا ہے اور حضرت موسیٰ ؑ نے کس سوز و غم کے ساتھ ان کی اس حالت پر ماتم کیا ہے۔ اس کی طرف سرسری اشارہ سورة صف کی آیت 5 میں بھی ہے۔ (بئس مثل القوم الذین کذبوا بایت اللہ) فرمایا کہ جن کی مثال اتنی مکروہ ہے ان کے لیے زیبا نہیں ہے کہ وہ اپنے تقدس و تقرب الٰہی کے زعم میں مبتلا ہوں اور یہ سمجھ بیٹھیں کہ ان کے ہوتے خدا کسی دوسرے کو کتاب و شریعت کا حامل نہیں بنا سکتا۔ (جو کتاب پر عامل نہیں وہ اس کا حامل بھی نہیں)۔ کذابوا بایت اللہ کے الفاظ سے اوپر کے الفاظ (ثم لم یحملوھا) کی وضاحت ہوگئی کہ تورات کے نہ اٹھانے کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے اس کے احکام کی اپنی عمل سے تکذیب کردی۔ زبان سے تو دعویٰ ہے کہ وہ اس کے حامل ہیں لیکن جب اس پر عامل نہیں تو اس کے حامل کیسے ہوئے ؟ (واللہ لا یھدی القوم الظلمین) یہ ٹکڑا بعینہٖ سورة صف کی آیت 7 میں بھی گزر چکا ہے۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف کہ ان کی بد اعمالیوں کے سبب سے ان پر لعنت ہوچکی ہے اور اللہ نے ان کے دلوں پر جیسا کہ سورة بقرہ میں تفصیل گزر چکی ہے۔ مہر کردی ہے، اس وجہ سے اب ان کو ہدایت نصیب ہونے والی نہیں ہے۔ یہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے ہیں۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ان کو تورات دی گئی تو اس کی انہوں نے تکذیب کردی اور اب اسی تورات کے حامل ہونے کے زعم میں اللہ کے آخری رسول کی تکذیب کر رہے ہیں کہ بھلا ان کے ہوتے کسی اور قوم کے اندر کوئی رسول کیسے پیدا ہوسکتا ہے ؟ فرمایا کہ ایسے بدبختوں کو خدا ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اس طرح کے لوگ ہمیشہ اسی طرح ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔
Ayah 62:6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

ان سے کہو کے اے وہ لوگو ! جو یہودی ہوئے، اگر تمہارا گمان ہے کہ دوسروں کے مقابل میں تم اللہ کے محبوب ہو تو موت کے طالب بنو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو

(قل یایھا الذین ھادو ان زعمتم انکم اولیاء اللہ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین) (6)۔ (یہود کے پندار پر ایک اور ضرب)۔ یہ ان کے اسی پندار پر ایک اور ضرب لگائی کہ اگر تمہارا زعم یہ ہے کہ تم خدا کے محبوب ہو تو اس محبت و محبوبیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ تمہارے اندر خدا کی راہ میں جان دینے کا شوق و ولولہ ہو۔ محب کو سب سے زیادہ آرزو و محبوب کی ملاقات کی ہوتی ہے۔ وہ اس چیز سے جان نہیں چراتا جو محبوب سے ملاقات کی راہ کھولے، لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ موت کا مقابلہ کرنے میں تم سے زیادہ بزدل کوئی نہیں۔ سورة صفت کی آیت 4، 5 میں ان کے حال پر جو تبصرہ فرمایا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ سورة حشر میں بنو قریظہ اور ان کے حلیفوں کی بزدلی کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے۔ (لَاْ اَنْـتُـمْ اَشَدُّ رَھْبَۃً فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنَ اللہ ِط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ۔ َایُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍط بَاْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌط تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰیط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّایَعْقِلُوْنَ۔) (الحشر۔ 59۔ 13، 14) (ان کے سینوں میں تمہارا ڈر اللہ کے خوف سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سمجھ رکھنے والے لوگ نہیں۔ یہ کبھی تم سے کھلے میدان میں لڑنے کا حوصلہ نہیں کرسکتے۔ لڑیں گے تو قلعہ بندبستوں میں یا دیواروں کی اوٹ سے۔ ان کے اپنے اندر شدید مخاصمت ہے۔ تم ان کو متحد گمان کر رہے ہو، حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عقل سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں۔) سورة بقرہ میں یہی مضمون نسبۃً تفصیل سے اس طرح بیان ہوا ہے۔ (قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَ اللہ ِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًام بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْط وَ اللہ ُ عَلِیْمٌم بِالظّٰلِمِیْنَ۔ وَلَتَجِدَنَّہُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍج وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْاج یَوَدُّ اَحَدُہُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَۃٍج وَمَا ہُوَ بِمُزَحْزِحِہٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَط وَ اللہ ُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ۔) (البقرۃ :۔ 20۔ 95، 96) (کہہ دو اگر دار آخرت کی تمام نعمتیں اللہ کے پاس دوسروں کے مقابل میں تمہارا ہی حق ہیں تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔ اور یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اپنی ان کرتوتوں کے سبب سے جو انہوں نے کی ہیں اور اللہ ان ظالموں سے اچھی طرح باخبر ہے اور تم ان کی زندگی کا سب سے زیادہ حریص پائو گے۔ یہاں تک کہ یہ مشرکوں سے بھی زیادہ زندگی کے حریص ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی تمنا ہے کہ ہزار سال جیے۔) (من دون الناس سے بنی اسماعیل کی طرف اشارہ ہے۔) آیت زیر بحث ہیں (من دون الناس) کے الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن یہاں اشارہ خاص طور پر بنی اسماعیل ہی کی طرف ہے۔ تورات کی پیشین گوئیوں اور نسلی رقابت کی بناء پر یہود کو سب سے زیادہ پرخاش انہی سے تھی۔ اس پر خاش کی پوری سرگزشت سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہ پرخاش تھی تو شروع ہی سے لیکن آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد جب انہوں نے تاڑ لیا کہ وہ خطرہ سر پر آگیا جس سے وہ اندیشہ ناک تھے تو یہ آگ پوری طرح بھڑک اٹھی۔ (یہود کی بزدلی پر ان کی پوری تاریخ گواہ ہے) قرآن نے یہاں یہود کی جس بزدلی پر طنز کیا ہے اگرچہ وہ اس کے جواب میں بےحیائی سے کہہ سکتے تھے کہ ہم موت سے ڈرنے والے لوگ نہیں ہیں لیکن آدمی سے اپنا باطن مخفی نہیں ہوتا۔ انہیں محسوس ہوا کہ قرآن نے ان کی نہایت دکھتی رگ پکڑی ہے چناچہ انہوں نے خاموشی ہی میں سلامتی دیکھی وہ ایک ایسی بات کی تردید کس طرح کرسکتے تھے جس کی شہادت ان کی ماضی کی تاریخ بھی دے رہی تھی اور حاضر کے واقعات بھی جس کے گراہ تھے۔
Ayah 62:7

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور یہ ہرگز اس کے طالب نہ بنیں گے، بوجہ اپنی ان کرتوتوں کے جو وہ کرچکے ہیں اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

(ولا یتمنونہ ابدا بما قدمت ایدیھم واللہ علیم بالظلمین) (7)۔ یہ ان کی بزدل کے سبب کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس چیز نے ان کو موت سے اتنا خائف کر رکھا ہے یہ ان کے اعمال ہیں۔ یہ نبیوں کے قاتل ہیں، یہ تورات کے محروف ہیں، اللہ کی امانتوں میں خیانت کرنے والے ہیں اور انہوں نے ان تمام نشانات ہدایت کو مٹایا ہے جن کو خلق کے سامنے اجاگر کرنے پر یہ مامور ہوئے تھے تو اب یہ کیا منہ لے کے اپنے رب کے سامنے جائیں گے ! لیکن ان کو بہر حال اس کے حضور میں حاضر ہونا ہے اور وہ ان ظالموں سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ ہر ایک کو اس کے کیے کی بھر پور سزا دے گا۔
Ayah 62:8

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

ان کو بتا دو کہ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ تم سے دو چار ہو کر رہے گی پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کے سامنے حاضر کیے جائو گے پس وہ تم کو ان سارے اعمال سے آگاہ کرے گا جو تم کرتے رہے ہو۔

(قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملقیکم ثم تردون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون) (8)۔ اوپر (واللہ علیم بالظلمین) میں جو تہدید مضمر تھی وہ اس آیت میں اچھی طرح کھل گئی ہے۔ فرمایا کہ موت سے بھاگتے ہو تو بھاگو، لیکن تم اس سے بھاگ کے کہاں جائو گے ؟ وہ تمہیں پکڑ ہی لے گی۔ پھر تم اپنی تمام بد اعمالیوں کے ساتھ اپنے اس خدا کے سامنے پیش کیے جائو گے جو تمام غائب و حاضر کا جاننے والا ہے۔ نہ اس سے تمہارا کوئی فعل مخفی ہے، نہ کوئی چیز تم اس سے چھپا سکو گے۔ وہ تمہارا سارا کچا چٹھا تمہارے سامنے رکھ دے گا اور تمہیں اپنے ہر جرم کی سزا بھگتنی پڑے گی۔
Ayah 62:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

(اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن کی نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف مستعدی سے چل کھڑے ہو اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔

2۔ آگ آیات 9۔ 11 کا مضمون آگے مسلمانوں کی ایک غلطی پر گرفت فرمائی جو نماز جمعہ اور پیغمبر ﷺ کے احترام کے معاملے میں ایک جماعت سے صادر ہوئی۔ کوئی تجارتی قافلہ مدینہ میں داخل ہوا اس کی خبر سن کر کچھ لوگ عین اس وقت مسجد سے اٹھ کر چلے گئے جب آنحضرت ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ اگرچہ یہ فعل کچھ خام تربیت لوگوں ہی سے صادر ہوا لیکن اس سے جماعت کی بعض ایسی کمزوریوں کی نشان دہی ہوئی جن کی اصلاح ضروری تھی۔ ایک کمزوری تو یہ ظاہر ہوئی کہ معلوم ہوا کہ ابھی بہتوں کے اندر اس فضل عظیم کا کماحقہ شعور نہیں پیدا ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی شکل میں امیوں پر فرمایا ہے۔ دوسری یہ کہ ابھی لوگوں نے اس بیع و شراء کی حقیقت اچھی طرح نہیں سمجھی ہے۔ جس کا ذکر سورة صف کی آیات 10، 13 میں ہوا ہے کہ جو لوگ رسول سے سمع وطاعت کا عہد کر چکتے ہیں۔ وہ اللہ کی مغفرت اور اس کی جنت کے عوض اپنی جان اور اپنے مال اللہ کے ہاتھ فروخت کر چکتے ہیں۔ ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی اور بیع و شراء کو اتنی اہمیت دیں کہ اس کے شوق میں اللہ کے رسول کو خطبہ دیتا ہوا چھوڑکر مسجد سے چل کھڑے ہوں۔ تیسری یہ کہ معلوم ہوا کہ ابھی لوگوں نے جمعہ کی عظمت کا صحیح اندازہ نہیں کیا ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لئے بنی اسرائیل کے یوم السبت سے مشابہ ہے۔ بنی اسرائیل نے طمع دنیا اور ہوس شکار میں مبتلا ہو کر حرمت کو ہٹہ لگایا تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کر کے ان کی شکلیں مسخ کردیں۔ اگر انہی کو مسلمان اس تجارت کی ہوس میں جمعہ کی حرمت کو بٹہ لگائیں گے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ اللہ کے غضب سے محفوظ رہیں۔ یہ باتیں خاص اہمیت رکھتے ہیں اور ان سے اس فضل عظیم کی نہایت کھلی ہوئی ناقدری ہوئی جو یہود کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے امیوں پر فرمایا۔ در جس کا نہایت اہتمام سے اس سورة میں ذکر ہوا ہے، اس وجہ سے ان لوگوں کو سرزنش کی گئی جو ان کے مرتکب ہو۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (یایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون) (9)۔ (خطاب کا ایک حکیمانہ انداز)۔ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن انہی لوگوں کی طرف سے جن کی کمزوری پر نکیر فرمائی گئی ہے۔ عام خطاب کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ زیادہ رسوائی کا احساس نہیں کرتے جن کا رویہ زیر بحث ہوتا ہے بلکہ ان کے اندر سلامت روی ہوتی ہے تو وہ اس پردہ پوشی کو متکلم کی کریم النفسی پر محمول کرتے اور نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر تعین کے ساتھ نام لے کر ان کو سرانش کی جائے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر ضد اور امانیت کا جذبہ ابھرے۔ (جمعہ کی اذان)۔ للصلوٰۃ من یوم الجعۃ) میں (من یوم الجمعۃ) کے الفاظ صلوٰۃ کی وضاحت کے لیے ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ یہاں زیر بحث خاص طور پر جمعہ کی نماز ہے۔ یہ جمعہ کی نماز ہی واحد چیز ہے جو جمعہ کے دن کو دوسرے دنوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہاں جس اذان کا ذکر ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہی اذن مراد ہو سکتی ہے جو خطبہ جمعہ سے پہلے دی جاتی ہے۔ روایات سے بلا اختلاف ثابت ہے کہ نبی ﷺ اور شیخین ؓ کے عہد مبارک میں جمعہ کی اذان ایک ہی تھی جو خطبہ سے پہلے دی جاتی تھی۔ ایک اذان کا اضافہ حضرت عثمان ؓ نے اپنے زمانے میں کیا جب مدینہ منورہ کی آبادی زیادہ ہوگئی۔ یہ مدینہ کے بازار میں حضرت عثمان ؓ کے مکان سے دی جاتی۔ اگرچہ یہ اذان سیدنا عثمان ؓ کا اضافہ ہے لیکن اس اضافے کو امت کے تمام اخیار نے بلا کسی نکیر کے قبول کیا۔ (فاسعوا الی ذکر اللہ) سعی کے معنی صرف دوڑنے کے نہیں آتے بلکہ یہ لفظ اصلاً کسی کام کو مستعدی اور سرگرمی کے ساتھ چاق و چوبند ہو کر کرنے کے لیے آتا ہے۔ غلام آقا کی پکار سن کر جب مستعدی سے اس کی طرف لپکتا ہے تو یہ سعی ہے۔ فرمایا کہ جب یہ اذان سنو تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ (خطبہ اور نما جمعہ)۔ (ذکر اللہ) یہاں خطبہ اور نماز دونوں کے لیے ایک جامع لفظ ہے۔ نماز کا ذکر ہونا تو واضح ہے، قرآن میں جگہ جگہ نماز کو ذکر ہی سے تعبیر کیا گیا ہے، رہا جمعہ کا خطبہ تو وہ در حقیقت نماز ہی کا حصہ ہے۔ جمعہ کی نماز ظہر کی نماز کے قائم مقام ہے جس کی چار رکعتیں جمعہ کے دن تخفیف ہو کر دور رہ جاتی ہیں اور ان کی جگہ خطبہ کی شکل میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ ذکر اللہ امام حاضرین مسجد کو مخاطب کر کے کرتا ہے۔ اس وجہ سے وہ ساری باتیں اس کا دائرہ میں آتی ہیں جو مسلمانوں کی صلاح و فلاح سے متعلق اور جن کے لیے وقت کے حالات مقتضی ہوں۔ اس کو چند رسمی دعائوں کی شکل میں محدود کردینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ (خطبہ اور نماز کا اہتمام و التزام)۔ (وز روا الجیع، لفظ بیع) اصلاً تو بیچنے کے معنی میں ہے لیکن یہ اپنے عام استعمال میں خریدو فروخت دونوں ہی کے لیے آتا ہے۔ اگرچہ یہاں ذکر بیح ہی کے چھوڑنے کا ہے لیکن جب بیع کے چھوڑنے کا ذکر ہوا جو نسبتہً زیادہ مرغوب ہے تو خرید کا چھوڑنا تو بدرجہ اولیٰ مطلوب ہوگا۔ مقصود یہ بتانا ہے کہ دنیا کا ہر کام چھوڑ کر نماز کی طرف لپکو۔ بیع کے ذکر کی وجہ صرف یہ ہے کہ جو واقعہ مسلمانوں کے لیے آزمائش کا سبب ہوا اور جس پر یہاں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ وہ بیع و شراء ہی سے متعلق تھا۔ (ذلکم خیر لکم ان کنتم تعملون)۔ یعنی بظاہر تو یہ حکم تم میں سے بعضوں پر گراں گزرے گا، تم اپنے کاروبار کا نقصان محسوس کرو گے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہی طریقہ تمہارے لیے موجب خیر و برکت ہے۔ رزق و فضل سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس کی خوشنودی کے لیے تم کوئی نقصان گزارا کرو گے تو ابدی زندگی میں اس کا اجر اپنے رب کے پاس محفوظ کرلو گے اور ہوسکتا ہے کہ اس دنیا میں بھی وہ ایسی شکلیں پیدا کردے کہ تمہارے ہر نقصان کی تلافی ہوجائے۔ (ان کنتم تعملون) یعنی تمہیں اپنے نفع نقصان کا اندازہ اس دنیا کی محدود زندگی کو سامنے رکھ کر نہیں کرنا چاہیے بلکہ آخرت کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ لیکن آخرت ایسی چیز ہے کہ اس کو سمجھنا چاہو گے تب ہی سمجھو گے۔
Ayah 62:10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب نماز ختم ہوجائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کے فضل کے طالب بنو اور اللہ کو زیادہ یاد رکھو تاکہ تم فلاح پائو

(فاذا فضیت الصلوٰۃ فانتشرو فی الارض واتبغوا من فضل اللہ واذکرواللہ کثیرا لعلکم تفلحون) (10)۔ (یہود کے احترام سبقت کے بالمقابل جمعہ کی پابندی آسان ہے)۔ یعنی یہ پابندی صرف اتنی ہی دیر کے لیے ہے کہ نماز سے فارغ ہو جائو ! اس کے بعد تمہیں اجازت ہے کہ تم جہاں چاہو جائو اور جس شکل میں چاہو اللہ کے رزق و فضل کے طالب بنو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اتنے قلیل وقت کی پابندی بھی تم اپنے رب کی خوشنودی کے لیے گوارا نہیں کرسکتے تو پھر تمہارا ایمان و اسلام کیا ہے ! یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ یہود پر سبقت کے احترام کی پابندی پورے دن کے لیے تھی۔ لیکن اس امت پر جمعہ کے احترام کی پابندی صرف اذان سے لے کر ختم نماز تک کے لیے عائد کی گئی ہے، باقی پورے دن میں اسی طرح آ زادی ہے جس طرح دوسرے دنوں میں ہے۔ (واذکرو اللہ کثیرا لعلکم تفلحون) یعنی تمہارے لیے رزق و فضل کی جدوجہد پر کوئی پابندی نہیں ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر اس جدوجہد میں دنیا ہی مطمح نظر نہیں ہے، آخرت کی فلاح بھی مطلوب ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر قدم پر اللہ کو یاد رکھو۔ یہی یاد تمہیں شیطان کے فریبوں اور فتنوں سے بچائے گی ورنہ شیطان تمہیں اس طرح اندھا بنا دے گا کہ تم حرام و حلال کے اعتبار سے عاری ہو کر اس دنیا کے کتنے بن کر رہ جائو گے اور پھر جہنم ہی کے ایندھن بنو گے۔
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب وہ کوئی تجارت یا دلچسپی کی چیز دیکھ پاتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور تم کو کھڑے چھوڑ دیتے ہیں۔ کہہ دو ، جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے کہیں بہتر ہے اور اللہ بہترین روزی دینے والا ہے۔

(واذا ارادتجارۃ اولھو انفضوا الیھا و تر کرک قائما قل ما عند اللہ خیر من اللھو ومن التجارۃ واللہ خیر الرزقین) (11)۔ (واقعہ جو اس کا تنبیہ کا سبب ہوا)۔ یہ آخر میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو مذکورہ بالا تنبیہات وتعلیمات کے نزول کا سبب ہوا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باہر کا کوئی تجارتی قافلہ، عین خطبہ جمعہ کے وقت، مدینہ میں داخل ہوا۔ اس نے اعلان و اشتہار کے لیے، رواج کے مطابق، اپنے ڈھول اور دف جو بجائے تو کچھ لوگ پیغمبر ﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ کر اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس طرح کے قافلے اس زمانے میں بڑی اہمیت رکھتے تھے۔ ضروری چیزوں کی خریدو فروخت انہی کے ذریعہ سے ہوتی اس وجہ سے لوگوں کو ان کا انتظار رہتا اور جب وہ آتے تو ہر شخص اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کرنے اور اپنا مال فروخت کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرنے کی کوشش کرتا۔ یہ فعل جن لوگوں سے صادر ہوا ظاہر ہے کہ ان پر اسلامی تربیت کا رنگ ابھی اچھی طرح چڑھا نہیں تھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خطبہ جمعہ کی اہمیت سے بھی اچھی طرح واقف نہیں تھے۔ ان کے نزدیک اہمیت صرف نماز ہی کی تھی۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ نماز سے پہلے پہلے قافلہ کو دیکھ کر واپس آجائیں گے۔ بہرحال ان سے جو غلطی ہوئی اس سے امت کو یہ فائدہ پہنچا کہ جمعہ، خطبہ جمعہ اور پیغمبر ﷺ سے متعلق ایسی ہدایات نازل ہوگئیں جو اس سے پہلے نازل نہیں ہوئی تھیں۔ آیت میں بات اگرچہ عام صیغہ سے فرمائی گئی ہے لیکن یہ امر واضح ہے کہ یہ فعل جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، صادر کچھ نا تربیت یافتہ لوگ ہی سے ہوا۔ قرآن کا عام انداز موعظت یہی ہے کہ وہ تعین کے ساتھ ملامت کرنے کے بجائے عام الفاظ ہی میں تنبیہ کرتا ہے تاکہ جماعت کا ہر شخص اس سے فائدہ اٹھائے اور کسی خاص گروہ کو اس سے رسوائی کا احساس نہ ہو۔ (ترکوک قائما) سے اس واقعہ کی سنگینی کا ایک حاصل پہلو یہ واضح ہوتا ہے کہ خطبہ خود حضور نبی کریم ﷺ دے رہے تھے۔ حضور ﷺ کے خطبہ کو اس طرح چھوڑ کر چل دینے میں سوء ادب اور دین کی ناقدری کے جو پہلو مضمر ہیں وہ نہایت اہم ہیں۔ یہ بعینہٖ وہی روش ہے جو یہود نے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ اختیار کی۔ جس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کے دل، جیسا کہ سورة صف میں بیان ہوا ہے۔ کج کردینہ اس وجہ سے قرآن نے ان سے پہلے ہی مرحلہ میں گرفت فرمائی۔ (قل ما عند اللہ خیر من اللھم ومن التجارۃ واللہ خیر الرازقین) فرمایا کہ اللہ کے پاس مخلص اہل ایمان کے لیے جو اجر عظیم ہے اس کے طالب بنو۔ وہ اس دنیا کے لہو و لعب اور اس کی تجارت سے کہیں بہتر ہے۔ اگر اس دنیا کا بڑے سے بڑانقصان کر کے بھی تم نے خدا اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کرلی تو اپنے خزف ریزوں کے عوض ابدی بادشاہی کے مالک بن جائو گے اور اگر خد اور سول کو ناراض کر کے تم نے ساری دنیا کی دولت بھی سمیٹ لی تو آخر کتنے دنوں کے لیے پس دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کے پیچھے مت بھاگو بلکہ جو چیز اللہ کے پاس ہے اس کے طالب بنو۔ اللہ بہترین روزی دینے والا ہے۔ وہ وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا اور ایسا رزق دیتا ہے جو ہر اعتبار سے رزق کریم ہوتا ہے۔ (لعلکم تفلحون) اور (خیر الرزاقین) میں عربیت کے جو اسلوب ہیں ان کی وضاحت ان کے محل میں ہوچکی ہے۔ 4۔ جمعہ، خطبہ جمعہ اور مقام نبوت سے متعلق قرآن کے چند اشارات اگرچہ آیات کے تحت ان سے مستنبط ہونے والی اہم باتوں کی طرف ہم توجہ دلاتے آ رہے ہیں لیکن چند باتیں مزید توجہ کی مستحق ہیں۔ (رسول کی تقسیم اللہ کی تعلیم ہے)۔ ایک یہ کہ جمعہ کی نماز، اس کی اذان اور اس کے خطبہ سے متعلق یہاں مسلمانوں کو جو ہدایات دی گئی ہیں اور ان کی ایک غلطی پر جس طرح تنبیہ فرمائی گئی ہے اس کا انداز شاہد ہے کہ جمعہ کے قیام سے متعلق ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام پائی ہیں، حالانکہ قرآن میں کہیں بھی جمعہ کا کوئی ذکر نہ اس سے پہلے آیا ہے نہ اس کے بعد ہے بلکہ روایات سے ثابت ہے کہ اس کے قیام کا اہتمام ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر نبی ﷺ نے فرمایا اور لوگوں کو آپ ہی نے اس کے احکام و آداب کی تعلیم دی، پھر جب لوگوں سے اس کے آداب ملحوظ رکھنے میں کچھ کوتاہی ہوئی تو اس پر قرآن نے اس طرح گرفت فرمائی گویا براہ راست اللہ تعالیٰ ہی کے بتائے ہوئے احکام و ٓداب کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کے دیے ہوئے احکام بعینہٖ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں، ان کا ذکر قرآن میں ہو یا نہ ہو۔ رسول کی طرف ان کی نسبت کی تحقیق تو ضروری ہے لیکن نسبت ثابت ہے تو ان کا انکار خود اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار ہے۔ گفتگو او گفتہ اللہ بود (خطبہ جمعہ نماز جمعہ کا ضروری رکن ہے)۔ دوسری یہ کہ خطبہ جمعہ، نماز جمعہ کا ایک ضروری رکن ہے۔ اس سے بےپروائی یا اس کی ناقدری کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں رہے۔ اس خطبہ کے لیے نماز جمعہ کی رکعتیں چار کی جگہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، صرف دور رکھی گئی ہیں اور دو رکعتوں کی جگہ خطبہ کو دی گئی ہے جو دو رکعتوں ہی کی طرح دو حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔ پھر نماز کی طرح خطبہ بھی، قرآن کی تصریح کے مطابق، ذکر اللہ ہے، یعنی خطبہ اور نماز دونوں کی روح ایک ہی بتائی گئی ہے۔ بس اتنا فرق ہے کہ نماز میں امام اور مقتدی سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر ذکر الٰہی کرتے ہیں اور خطبہ میں امام لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر اللہ کی تذکیر کرتا ہے۔ اس زمانے میں یہ عجیب مصیبت ہے کہ اصل خطبہ جمعہ چند معروف دعائیہ کلمات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور ائمہ حضرات اپنا سارا زور خطابت ان لمبی لمبی تقریروں پر صرف فرماتے ہیں جو وہ اصل خطبہ سے پہلے کرتے ہیں۔ ان تقریروں میں ذکر اللہ بہت کم اور دوسری غیر ضروری باتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ سامعین یا تو اونگھتے ہیں یا سوتے ہیں اور جو سننے کی کوشش کرتے ہیں وہ طول بیان سے تھک جاتے ہیں۔ (ایک افسوسناک صورتحال)۔ بہت سے لوگ ان لمبی تقریروں سے بچنے کے لیے مسجد میں اس وقت چیختے ہیں جب وہ خطبہ شروع ہوتا ہے جو ہے تو اصلی لیکن اس زمانے میں وہ بالکل ایک رسمی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ یہ صورت حال نہایت افسوس ناک ہے۔ ضروری ہے کہ اصل خطبہ کی اہمیت بحال کی جائے۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ لمبی لمبی تقریروں کی جگہ امام صاحبان اصل خطبہ ہی میں ضروری باتوں کی تذکیر کریں۔ خطبہ جامع، مختصر اور پر حکمت ہوتا کہ لوگ دلچسپی سے سنیں اور مستفید ہوں۔ لوگوں کو تاکید کی جائے کہ خطبہ سننے کے لیے وہ ٹھیک وقت پر پہنچیں اور اس سے غفلت کے ان عواقف سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔ (جمعہ کے روز مسلمان کے لیے پسندیدہ روش)۔ تیسری یہ کہ قرآن کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ مسلمان کے لیے پسندیدہ روش، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ہے کہ جمعہ سے پہلے کا وقت وہ جمعہ کی تیاریوں میں صرف کرے۔ کوئی اور مصروفیت بلا کسی شدید ضرورت کے وہ ایسی نہ پیدا کرے جو اس تیاری میں مانع یا مخل ہو۔ یہ بات یوں نکلتی ہے کہ فرمایا ہے کہ جب نماز ختم ہوجائے تب زمین میں پھیل جائو اور اللہ کے رزق و فضل کے طالب بنو۔ ان الفاظ کے اندر یہ مضمون مضمر ہے کہ جمعہ کے دن کاروباری مصروفیت کے لیے موزوں وقت جمعہ سے پہلے کا نہیں بلکہ جمعہ کی نماز کے بعد ہی کا ہے بالخصوص اس طرح کی کاروباری مصروفیت جس کے لیے لوگوں کو بستی سے نکل کر زمین میں پھیلنے پر مجبور ہونا پڑے اور اندیشہ ہو کہ جمعہ کے لیے جو اجتماع مطلوب ہے اس انتشار سے اس کو نقصان پہنچے گا۔ ایک عام آدمی کو ہفتہ میں ایک دن ایسا ضرور ملنا چاہیے جس دن وہ حجامت بنوائے، کپڑے دھوئے، غسل کرے ان کاموں کے لیے موزوں ترین دن جمعہ ہی کا ہوسکتا ہے اس لیے کہ یہ باتیں اس کے آداب میں سے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ جمعہ کے دن دوسری معاشی و کاروباری سرگرمیاں اگر ضروری ہوں تو جمعہ کے بعد ہی شروع ہوں۔ یہی طریقہ ہمارے سلف صالحین کا رہا ہے اور یہی طریقہ آج بھی ان حلقوں میں پسندیدہ ہے جن میں اسلامی شعائر اور اسلامی تہذیب کا شعور زندہ ہے۔ جمعہ سے متعلق جو باتیں براہ راست قرآن مجید سے مستنبط ہوتی ہیں، ہم نے اپنے طریقہ کے مطابق اپنی بحث انہی تک محدود رکھی ہے۔ دوسرے مسائل جن کا تعق فقہ سے ہے۔ ہم نے ان سے تعرض نہیں کیا ہے۔ ان سطور پر اللہ تعالیٰ کی توفیق و رہنمائی سے اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی احسانہ۔ لاہور۔ 25، مارچ 1978 ء۔ 14، ربیع الثانی 1398 ھ۔