Ayah 63:1اذا جاءک المنفقون قالو انشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون) (1)۔
(پختہ کار منافقین کا کردار)۔ ایک گروہ کے منافقانہ طرز عمل کی طرف اشارہ پچھلی سورة میں بھی ہوا ہے لیکن وہاں بات عام صیغہ سے در پردہ فرمائی گئی تھی، اس سورة میں پردہ بالکل اٹھا دیا گیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس میں ان منافقین کا کردار زیر بحث ہے جو نفاق میں اتنے پختہ ہوچکے تھے کہ ان سے کسی اصلاح کی توقع باقی نہیں رہی تھی چناچہ ان کے بارے میں آگے پیغمبر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا بھی ہے کہ ان کے لیے تم مغفرت مانگو بھی تو اللہ ان کی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ بلکہ دوسرے مقام میں یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر تم ستر بار بھی انکے لیے مغفرت مانگو جب بھی اللہ ان کی مغفرت فرمانے والا نہیں ہے۔
فرمایا کہ یہ منافقین جب تمہارے پاس پیغمبر ﷺ کے پاس آتے ہیں تو قسم کھا کر اقرار کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن اللہ بھی قسم کھا کر کہتا ہے کہ یہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ عربی میں نشھد اور واللہ یشھد کے الفاظ قسم کے مفہوم کے حامل ہوتے ہیں۔ یعنی منافقین قسمیں کھا کھا کر پیغمبر ﷺ کو اپنے مومن و مسلم ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ ان کو قسمیں کھانے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آتی کہ ان کی پیہم غلطیوں نے ان کو اس قدر ساقط الاعتبار بنا دیا تھا کہ وہ خود بھی محسوس کرنے لگے تھے کہ جب تک قسم کھا کے وہ بابت نہیں کہیں گے کوئی اس کو باور نہیں کرے گا۔ جس آدمی کو اپنے عمل پر اعتماد ہوتا ہے وہ بےضرورت قسم نہیں کھاتا لیکن جس کو اپنے عمل پر بھروسہ نہ ہو اس کا واحد سہارا قسم ہی ہوتی ہے چناچہ یہی وجہ ہے کہ زیادہ قسم کھانے والے کی صفت قرآن میں مھین آئی ہے اور پیغمبر ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ (ولا تطع کل حلاف مھین (القلم : 68، 20) (اور تم زیادہ قسمیں کھانے والے ذلیل کی بات پر کان نہ دھرو)۔
(واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون) یہ فقرہ غایت درجہ بلیغ اور برمحل ہے۔ فرمایا کہ جہاں تک تمہارے رسول ہونے کا تعلق ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ان کی شہادت کی محتاج نہیں ہے اللہ کو خوب علم ہے کہ تم اس کے رسول ہو لیکن اللہ یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین اپنی اس شہادت میں جھوٹے ہیں۔
Ayah 63:2(اتخذوا یمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ انھم ساء ما کانو یعملون) (2)۔
(قسم کو سپر بنانے والوں کا انجام)۔ لیکن انہوں نے تمہاری گرفت سے محفوظ رہنے کے لیے اپنی قسموں کو ڈھال بنایا ہے کہ ان کی سازشوں اور شرارتوں کے سبب جو وہ اسلام کے خلاف برابر کررہے ہیں۔ تمہیں ان کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو، وہ اسلام کے برابر مخلص سمجھے جاتے رہیں۔ سورة مجادلہ آیت 14 میں ان منافقین ہی کی یہ سازش بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے خدا کی مغضوب قوم یہود سے دوستی گانٹھ رکھی ہے۔ ایک طرف اپنی قسموں کے ذریعہ سے انہیں اطمینان دلا رکھا ہے کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کو بھی قسم کھا کر اطمینان دلاتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھی ہیں۔ اس کے بعد معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ یہی آیت وہاں بھی آئی ہے۔ فرمایا ہے۔
(اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہ ِ فَلَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ۔) (المجادلۃ : 58، 16) (انہوں نے اپنی قسموں کو سپربنا رکھا ہے پس وہ اللہ کی راہ سے رک گئے اور ان کے لیے ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔)
یعنی اس سپر کی آڑ میں وہ بزعم خود اپنے کو بہبود سے بھی محفوظ کیے ہوئے ہیں اور مسلمانوں سے بھی اور اس طرح انہوں نے اللہ کی راہ میں جو قدم اٹھایا تھا وہ روک لیا ہے لیکن یہ پناہ گاہ زیادہ عرصہ تک ان کی حفاظت نہ کرسکے گی بلکہ بہت جلد ان کو ایک ذلیل کرنے والے عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا۔ (فصدوا عن سبیل اللہ لفظ صد) لازم اور تدی دونوں آتا ہے۔ یہاں قرینہ دلیل کہ لازم کے مفہوم میں ہے۔ یعنی پہلے اسلام کی طرف انہوں نے قدم بڑھایا لیکن قسموں کی آڑ میں اب رک گئے۔ ان کے گمان یہ ہے کہ جب مجردقسموں کے بل پر بھی اپنی اسلامیت کی دھونس جمائی جاسکتی ہے اور مسلمانوں کو دھوکا دیا جاسکتا ہے تو اس سے آگے بڑھ کر اپنے لیے خطرات کو کیوں دعوت دی جائے۔ فرمایا کہ (انھم ساء ما کانو یعملون) وہ اس کو بڑی دانشمندانہ سیاست سمجھ رہے ہیں لیکن یہ دانشمندانہ سیاست نہیں بلکہ نہایت ہی احمقانہ چال ہے جس کے نہایت مہلک نتائج ان کے آگے آئیں گے۔
Ayah 63:3(ذلک بانھم امنوا ثم کفروا فطبع علی قلوبھم فھم لا یفھون) (3)۔
فرمایا کہ یہ راہ انہوں نے اس وجہ سے اختیار کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے۔ جس کے سبب سے وہ فکر سلیم کی نعمت سے محروم ہوگئے ہیں۔ اس مہر کے لگنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کی راہ اختیار کرلی۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جن کو وہ ایک مرتبہ اسلام کی روشنی دکھا دیتا ہے اگر وہ اس کی قدر کرتے ہیں تو ان کی روشنی میں اضافہ کرتا ہے اور اگر قدر نہیں کرتے بلکہ مڑ مڑ کر پیچھے ہی کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کی وہ روشنی بھی سلب ہوجاتی ہے اور ان کے دل پر مہر بھی کردی جاتی ہے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ پھر وہ صحیح سونچنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ بہبود کے دلوں پر جو مہر لگی اس کے وجوہ اور اثرات کی تفصیل سورة بقرہ میں بیان ہوئی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ انہی لوگوں کے بارے میں حضرت مسیح ؑ نے فرمایا کہ ان سے وہ بھی لے لیا جاتا ہے جو ان کے پاس ہوتا ہے۔
Ayah 63:4(واذا ارایتھم تعجبک جسامھم وان یقولو تسمع لقولھم کا نھم خشت مسندۃ یحسبون کل صحیۃ علیھم ھم العدونا حذرھم قتلھم اللہ انی یوفکون) (4)۔
(منافقین کے ظاہر اور باطن کی تصویر)۔ یہ ان منافقین کی تصویر ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ چند چھوٹے چھوٹے جملوں میں ان کے ظاہر اور باطن دونوں کی اس طرح تصویر کھینچ دی گئی ہے کہ کوئی پہلو بھی مخفی نہیں رہ گیا ہے۔ اوپر کے دو فقروں میں ان کے ظاہر کی تصویر ہے۔ بعد کے دو فقروں میں ان کے باطن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پھر پیغمبر ﷺ کو ان سے ہوشیار رہنے کی تاکید اور ساتھ ہی ان کی حالت پر اظہار افسوس ہے۔
(واذا رایتھم تعجبک احیسامھم) فرمایا کہ جب تم ان کو دیکھتے ہو تو ان کے پلے ہوئے جسم اور ان کی پالش کی ہوئی شکلیں تمہیں دل کش معلوم ہوتی ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ ان منافقین کے مالی حالات اچھے تھے۔ اول تو انہوں نے حرام و حلال ہر راستہ سے، دولت اکٹھی کر رکھی تھی۔ دوسرے یہ انتہاء درجہ کے نجیل تھے، اپنے ذاتی آرام وعیش کے سوا کسی دوسرے دینی و اجتماعی کام پر کوڑی بھی خرچ کرنے کے روادار نہ تھے۔ ان کی اس رفاہیت کا اثر ان کے جسموں اور ان کی شکلوں میں نمایاں تھا۔ ان کا سردار مشہور منافق عبد اللہ بن ابی بڑا دولت مند تھا۔ اس کے جتھے کے دوسرے آدمی بھی خوش حال تھے۔ (وان یقولو اتسمع لقولھم) یعنی یہ بڑے چرب زبان بھی ہیں۔ جب باتیں کرتے ہیں تو اسلام کی حمیت و حمایت میں اس طرح تقریر کرتے ہیں کہ مخاطب کا دل موہ لتے ہیں اور وہ ان کی باتیں سننے لگتا ہے۔ اوپر ذکر آیا ہے کہ یہ لوگ اللہ و رسول کو اپنی وفاداری کا یقین اپنی قسموں اور جادو بیانی سے دلاتے ہیں۔ سورة محمد میں ان کی یہ خصوصیت بھی بیان ہوئی ہے کہ یہ زبان سے جوش جہاد کا اظہار بہت کرتے ہیں لیکن جب جہاد کا حکم دے دیا گیا تو چھپنے لگے۔ ان منافقین کو چونکہ اندازہ تھا کہ ان کی بزدلی پیغمبر ﷺ پر بھی ظاہر ہے اور عام مسلمانوں پر بھی اس وجہ سے جب بھی یہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو کوشش کرتے کہ اپنے زور خطابت سے حضور ﷺ کو یہ باور کرا دیں کہ وہ اسلام کے فدائی اور اس کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردینے والے ہیں۔ حضور ﷺ اگرچہ زبان کے ان غازیوں سے اچھی طرح واقف تھے لیکن کریم النفسی کے سبب سے آپ ﷺ ان کی باتیں سن لیتے جن سے ان کو اطمینان ہوجاتا کہ ان کی جادو بیانی کا رگر ہوگئی۔
(کا نھم حشب مسندۃ) یہ انکے باطن پر عکس ڈالا گیا ہے کہ ہرچند ان کے جسم اور ان کی شکلیں دل کشی ہیں لیکن ان کے جسموں کے اندر جو دل ہیں وہ مردہ ہیں۔ ان پر جیسا کہ اوپر والی آیت میں فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے۔ اس روحانی اور قلبی موت کے سبب سے تمہاری مجلس میں ان کی مثال بالکل ایسی ہوتی ہے کہ گویا لکڑی کے کھوکھلے کندے ہوں جنہیں لباس پہنا کر دیواروں سے ٹیک لگا دی گئی ہو۔
(یحسبون کل صیحہ علیھم صیحۃ) کے لغوی معنی توچیخ کے ہیں لیکن یہ خطرہ کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں اسی معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ اپنی طاقت لسانی سے تمہیں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ بڑے بہادر اور اسلام کی راہ میں ہر قربانی کے لیے تیار ہیں لیکن یہ پرلے سرے کے بزول ہیں۔ کہیں بھی کوئی خطرہ نمودار ہو یہ اپنی بزدلی کے سبب سے خیال کرتے ہیں کہ ہو نہ ہو یہ بجلی انہی پر گرنے والی ہے۔ جن کی بزدلی کا یہ خیال ہے ان سے اس وقت کیا توقع کی جاسکتی ہے جب فی الواقع انہیں کسی حقیقی خطرے کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ (ھم العدونا حذرھم) یعنی یہ تو اپنے کو بےگناہ ثابت کرنے کے لیے تمہاری نظروں میں دوسروں کو مشکوک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اسلام کے اصلی دشمن در حقیقت یہی ہیں۔ ان سے ہر وقت چوکنے رہو۔ یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ ان منافقین کی ایک چال یہ بھی تھی کہ یہ جن جرائم کا ارتکاب خود کرتے ان کا الزام دوسرے بےگناہ مسلمانوں کے سر تھوپتے تاکہ حضور ﷺ کے سامنے یہ بےگناہ بنے رہیں۔
(قتلھم اللہ انی یونکون)۔ یہ ان کی زجر و ملامت بھی ہے اور ان کے حال پر اظہار افسوس بھی۔ فرمایا کہ اللہ ان کو غارت کرے ! یہ کس طرح اوندھے کردیئے گئے ہیں کہ ان کا ہر قدم الٹا ہی پڑ رہا ہے ! ان منافقین کے اس کردار کی تصویر قرآن میں جگہ جگہ کھینچی گئی ہے۔ ہم بخیال اختصار صرف ایک مثال سورة بقرہ سے پیش کرتے ہیں۔
(وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہٗ فِی الْحَیٰـوۃِ الدُّنْیَا وَیُشْہِدُ اللہ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہٖ وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ۔ وَاِذَا تَوَلّٰی سََعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَط وَ اللہ ُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ۔ وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللہ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُط وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ۔) (البقرۃ، 3، 204، 206) اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جن کی بات دنیا کی زندگی کے باب میں تمہیں دل کش لگتی ہے اور وہ اپنے دل کے حال پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں حالانکہ وہ بد ترین دشمن ہیں اور جب وہ تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان کی ساری بھاگ دوڑ زمین میں اس لیے ہوتی ہے کہ اس میں فساد برپا کریں اور مال و جان کو تباہ کریں اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا اور جب ان کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو عزت کا خیال ان کو گناہ میں گرفتار کرلیتا ہے تو ان کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانہ ہے۔)
Ayah 63:5(واذا قیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لووارء وسھم ورایتھم یصدون و ھم مستلبرون) (5)۔
(جھوٹی عزت نفس)۔ یہ وہی بات ذرا مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہے جو سورة ٔ بقرہ کی مندرجہ بالا آیت میں (واذا فیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزیز بالا ثم) کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی سازشوں اور شرارتوں کے نوٹس میں آنے کے بعد جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کرو تاکہ حضور ﷺ تمہارے لیے استغفار کریں اور آپ ﷺ کا استغفار اللہ کے ہاں تمہارے لیے سفارش بنے تو اکڑتے اور اپنے سر مٹکاتے ہیں اور نہایت غرور کے ساتھ اس سے اعراض کرتے ہیں۔
ان کے سفر وارنہ اعراض کا اظہار ان کا جوارح سے جس طرح ہوتا ہے اس کی تعبیر (لووا رو سھم) کے الفاظ سے کی گئی ہے اور یہ بلیغ ترین تعبیر ہے۔ باطن میں اس کا جو اثر مرتب ہوتا ہے اس کو (یصدون وھم مستکرون) کے الفاظ سے بیان فرمایا گیا ہے۔ گویا ان کا ظاہر و باطن دونوں سامنے کردیا گیا ہے۔ یہ امر ملحوظ ہے کہ جن لوگوں کے اندر اخلاقی جرأت نہیں ہوتی وہ اپنے گناہوں کے ظاہر ہوجانے کے بعد بھی ان کا اعتراف یا ان پر اظہار ندامت نہیں کرتے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ اگر ایک بار اعتراف جرم کرلیا تو ہمیشہ کے لیے بھرم ختم ہوجائے گا۔ ان کی یہ کمزوری ان کو ان کے گناہوں کے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔ اس چیز کو سورة بقرہ والی آیت میں (اخذتہ العزۃ بالاثم) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔
Ayah 63:6(سواء علیھم استغفرت لھم امر لم تستغفر لھم لن یغفر اللہ لھم ان اللہ لا یھدی القوم الفسقین) (6)۔
(گناہوں پر اصرار کرنے والوں کو اللہ مغفرت سے محروم کردیتا ہے)۔ ان کے اس غرور و اعراض کی سزا ان کو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو خطاب کر کے ان کے بارے میں یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ تم ان کے لیے مغفرت مانگو یہ نہ مانگو، اللہ ان کو معاف کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنی ہدایت سے نہیں نوازتا جو نافرمانی پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ ہدایت صرف انہی کو دیا کرتا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمسار ہو کر اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ سورة نساء میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔
(وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَآئُ ْوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللہ تَوَّابًا رَّحِیْمًا۔) (النساء : 4۔ 64) (اور ﷺ اگر وہ جب کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، تمہارے پاس آتے اور اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت مانگتا تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے۔)
جو لوگ اللہ اور رسول سے اکڑتے ہیں سورة توبہ میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا :
(اِسْتَغْفِرْ لَھُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْط اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ) التوبۃ : 9، 80) (ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو۔ اگر تم ستر بار بھی انکے لیے مغفرت چاہو گے تو بھی اللہ ان کو معاف کرنے والا نہیں ہے۔)
Ayah 63:7(ھم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا وللہ خزائن السموات والارض ولکن المنفقین لا یفقھون) (7)۔
(اللہ تعالیٰ کے غضب کا سبب) یہ سبب بتایا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے اس غضب کے مستحق کیوں ٹھہرے کہ اگر رسول اللہ ﷺ بھی ان کے لیے ستر بار مغفرت مانگیں جب بھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمانے والا نہیں ہے۔ ارشاد ہوا کہ یہی لوگ ہیں جو لوگوں کو روکتے ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاکہ یہ منتشر ہوجائیں۔
روایات میں آتا ہے کہ 6 ھ میں غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر نبی ﷺ نے جس چشمہ پر پڑائو ڈالا وہاں پانی کے بارے میں ایک غریب مہاجر اور ایک انصاری میں جھگڑا ہوگیا۔ مہاجر نے انصاری کو تھپڑ ماردیا۔ انصاری نے انصار کی دہائی دی اور مہاجر نے مہاجرین کی۔ دونوں طرف کے آدمی تلواریں سونت سونت کر اکٹھے ہوگئے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی عنایت سے بات زیادہ بڑھنے نہ پائی۔ لیکن عبد اللہ بن ابی نے جو اس طرح کے مواقع کی ہمیشہ گھات میں رہتا، موقع سے فائدہ اٹھا کر مہاجرین کے خلاف انصار کے جذبات بھڑکانے کے لیے نہایت زہر آلود فقرے کہے۔ اس نے کہا کہ ”یہ ہمارے گھر میں پناہ پا کر اب ہمیں یہ غرانے لگے ہیں۔ سچ کہا ہے جس نے کہا ہے کہ رکشے کو موٹا کردیا بالآخر تمہی کو کاٹے گا۔ خدا کی قسم ! اب ہم پلٹے تو جو باعزت ہیں وہ رذیلوں کو وہاں سے نکال کے رہیں گے۔
انصار کے جو آدمی اس دوران میں اس کے ارد گرد جمع ہوگئے تھے ان کو مخاطب کر کے اس نے کہا ”یہ تمہاری اپنی غلطی کا خمیازہ ہے جو تمہیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ تم نے اپنے گھر میں ان کو اتارا اور اپنے مال میں ان کو حصہ دار بنایا۔ خدا کی قسم ! اگر تم ان کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیتے تو یہ کب کے یہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ہوتے“۔
آیت میں اس کے انہی فقروں میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جن کے دلوں کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ بغض و حسد بھرا ہوا ہے اللہ تعالیٰ ان کو کیسے معاف کرسکتا ہے !
(عبد اللہ بن ابی کے طعنوں کا جواب)۔ (واللہ خزائن السموات والارض ولکن المنفقین لا یفقھون) یہ عبد اللہ بن ابی کی بات کا جواب ہے کہ یہ منافق سمجھتا ہے کہ اگر وہ اس کے ساتھ مہاجرین کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیں گے تو ان کا کوئی سہارا باقی نہیں رہ جائے گا حالانکہ آسمانوں اور زمین کے سارے خزانے اللہ ہی کے قبضہ ہیں۔ وہی جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور جن سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے لیکن ان منافقوں کے دنوں پر چونکہ مہر لگ چکی ہے اس وجہ سے یہ اس حقیقت کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔
Ayah 63:8(یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منھا الازل وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین ولکن المنفقین لا یعلمون) (8)۔
یہ عبد اللہ بن ابی کے اس دوسرے زہر آلود فقرے کی طرف اشارہ ہے جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔ اس نے انصار کو مہاجرین کے خلاف اکسانے کے لیے یہ بھی کہا کہ اب مدینہ واپس ہوتے ہیں پہلا کام یہ کرنا ہے کہ جو عزت و اقتدار والے ہیں (یعنی انصار) وہ ان لوگوں کو مدینہ سے نکال باہر کریں گے جو ذلیل ہیں۔ یہ اشارہ اس کا مہاجرین کی طرف تھا۔ یعنی اس نے وہی جاہلی نعرہ لگایا جو اہل عرب کا شعار تھا کہ اس سر زمین پر ہم ہمیشہ عزت و اقتدار والے رہے ہیں اور یہ ہمارا ہی حق ہے۔ ہم یہ کس طرح گوارا کرسکتے ہیں کہ جو ہمارے ہاں پناہ لینے آئے وہ ہمارے آدمیوں کو طمانچے لگائیں۔
(وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین ولکن المنفقین لا یعلمون) یہ اس نعرہ جاہلی کا جواب ہے کہ عزت تو اللہ اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے ہے اور سنت الٰہی کے مطابق اب اس کا ظہورکا وقت آگیا ہے لیکن یہ منافقین اس کو نہیں جانتے۔ اس سنت کا حوالہ سورة مجادلہ میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے۔
(اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللہ وَرَسُوْلَـہٗٓ اُولٰٓئِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ۔ کَتَبَ اللہ ُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْط اِنَّ اللہ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔) (المجادلۃ : 58، 20، 21) (جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر رہے ہیں ذلیل ہونے والے وہی بنیں گے۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، بیشک اللہ قوی اور غالب ہے۔)
Ayah 63:9(یایھا الذین امنوا لا تلھکم اموالکم ولا اولاد کم عن ذکر اللہ ومن یسل ذلک فائولیک ھم الخسرون) (9)
(مسلمانوں کو تنبیہ)۔ یہ آخر میں مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی کہ تم ان منافقوں کو روش کی تقلید نہ کرنا۔ ان کو مال و اولاد کی محبت نے خدا سے غافل کردیا ہے۔ اب ان کے اندر آخرت کے لیے کچھ کرنے کا حوصلہ باقی نہیں رہا۔ اگر تم بھی انہی کی طرح مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر خدا اور آخرت کو بھول بیٹھے تو یاد رکھو کہ اصل نامرادی و محرومی یہی ہے۔ جو لوگ اللہ کو بھلا بیٹھتے ہیں وہ خود اپنے انجام کو بھلا بیٹھتے ہیں اور شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ سورة مجادلہ میں منافقین کے بارے میں فرمایا ہے۔ (اِسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰہُمْ ذِکْرَ اللہ ِط اُولٰٓئِکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِط اَلَآ اِنَّ حِزَبَ الشَّیْطٰنِ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ۔ (المجادلۃ : 58، 19) (ان پر شیطان نے قابوپا لیا ہے پس ان کو اللہ کو یاد سے غافل کردیا ہے۔ یہی لوگ شیطان کی پارٹی ہیں اور سن لو کہ شیطان کی پارٹی ہی بالآخر نامراد ہونے والی ہے)۔
Ayah 63:10(وانفقوا من ما رزقنکم من قبل ان یاتی احد کم الموت فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب لا نا صدق واکن من الصلحین) (10)
یہ اللہ تعالیٰ کی یاد کو زندہ رکھنے، مال و اولاد کے فتنہ سے بچنے اور نفاق کے حملے سے محفوظ رہنے کا طریقہ بتایا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہیں بخشا ہے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنی موت سے پہلے پہلے اس میں آخرت کے لیے جو کمائی کرنی ہے کرلے۔ ایسا نہ ہو کہ موت آدھمکے تب وہ حسرت کے ساتھ ہے کہ اب رب ! تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا۔ اگر ایسا کرسکتا تو میں بھی صالحین کے زمرہ میں ہوتا۔
سورة توبہ میں منافقین کے کردار کا یہ پہلو خاص طور پر نمایاں ہوا ہے کہ وہ بخل کے سبب سے اپنی مٹھیاں بھیجتے رہتے ہیں۔ جب یہ غریب تھے تو ہر جگہ یہ اپنے اس شوق اور اس تمنا کا اظہار کرتے تھے کہ اگر اللہ نے ہمارے حالات بھی سدھار دیے تو ہم اللہ کی راہ میں خوب خرچ کریں گے اور دین کی بڑی بڑ خدمتیں کر کے صالحین میں اپنا نام روشن کریں گے لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کی تمنا پوری کردی تو منہ پھیر کر چل دیئے۔ اس بخل کی پاداش میں خدا نے ان کے دلوں کے اندر نفاق کی جڑی جما دی اور صدقہ کر کے صالحین میں سے بننے کا جو موقع خدا نے تمہیں عطا کیا تھا وہ اس سے محروم ہوگئے۔ فرمایا ہے :
(وَ مِنْہُمْ مَّنْ عٰہَدَ اللہ لَئِنْ اٰتٰـنَا مِنْ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْن۔ فَلَمَّآ اٰتٰھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ وَتَوَلَّوْا وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ۔ فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِہِمْ) (التوبۃ۔ 9۔ 75، 77) (اور ان میں سے وہ بھی ہیں جنہوں نے عہد کیا کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے فضل سے نوازا تو ہم خوب صدقہ کریں گے اور صالحین میں سے ہوں گے۔ تو جب اللہ نے ان کو اپنے فضل میں سے عطا فرمایا وہ اس میں بخیل بن بیٹھے اور برگشتہ ہو کر منہ پھیرلیا تو اس کی پاداش میں خدا نے ان کے دلوں میں نفاق جما دیا۔)
سورة حدید کی تفسیر میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ انفاق سے پہلو تہی کرنے والے اس دنیا ہی میں نفاق سے آلودہ ہو کر مومنین صالحین سے ممیز نہیں ہوجاتے بلکہ آخرت میں بھی وہ اس کے نتائج سے اس طرح دو چار ہوں گے کہ صورت حال ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔ دنیا میں صدقہ کرنے والے مردوں اور عورتوں کو اللہ تعالیٰ وہاں صالحین کے اس زمرہ کے ساتھ اٹھائے گا جس میں صدیقین اور شہداء ہوں گے اور نور جن کا ہم رکاب ہو کر جنت کی طرف رہنمائی کرے گا۔ منافق مرد اور عورتیں اس نور سے حصہ نہ پا سکیں گے۔ ان کے اور صالحین کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی۔ وہاں ان پر واضح کردیا جائے گا کہ صالحین کے زمرہ میں شامل ہونے کی شرط انفاق اور صدقہ تھا جس سے دنیا میں انہوں نے گریز کیا۔ اس آیت میں آکن جو مضارع کی ساکن شکل ہے، کا عطف بظاہر فاصدق پر ہے جو منصوب ہے لیکن ہمارے نزدیک اصل میں (اکن من الصلحین) شرط مخدوف کا جواب ہے۔ اس کو کھول دیجئے تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر میں یہ صدقہ کرسکتا تو نیکو کاروں میں سے بنتا (فاصدق) کی صورت میں چونکہ اس شرط کا قرینہ واضح تھا اس وجہ سے اسے حذف کردیا گیا۔
Ayah 63:11(ولن یوخر اللہ نفسا اذا جاء اجلھا واللہ خبیر بما تعملون) (11)۔
یعنی جب موت کی گھڑی سر پر آجائے گی تو اس قسم کی حسرت، حسرت ہی رہے گی۔ اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ زندگی کی فرصت گزر جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کی مہلت نہیں دیا کرتا اور اللہ تعالیٰ کو یہ بھی پتہ ہے کہ آج انفاق اور نیکی کی زندگی بسر کرنے کا جو عہد تم کر رہے ہو یہ بالکل بےحقیقت ہے۔ اگر تمہیں مزید مہلت بھی ملی تو تم وہی کرو گے جو اب تک کرتے رہے ہو۔ ان سطور پر اس سورة کی تفسیر بنو فیق ایزدی تمام ہوئی۔ (فلللہ الحمد ولہ المنۃ)۔۔ لاہور۔۔ 30۔ مارچ 1978ء۔ 19 ربیع الثانی 1398ھ