Ayah 64:1الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی قدیر (1)۔
(یہ پوری کائنات خدا ہی کی بندگی کی دعوت دے رہی ہے)۔ یہ آیت الفاظ کے معمولی ردو بدل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے اور اسکے مختلف پہلوئوں کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ یہاں یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ ہی کی تسبیح کرتی اور اپنے عمل سے انسانوں کو یہ درس دے رہی ہے کہ اس کائنات کی بادشاہی تنہاء اللہ ہی کی ہے اور شکر کا سزا وار وہی ہے، نہ اس کی بادشاہی میں اس کا کوئی شریک وسہیم ہے اور نہ بندوں کے شکر کا اس کے سوا کوئی دوسرا حق دار ہے۔
(خدا کا کوئی شریک نہیں)۔ (وھو علی کل شی قدیر)۔ اور یہ بات بھی واضح ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر رہے اپنے کسی کام میں، خواہ کتنا ہی بڑا ہو، کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے اس وجہ سے کسی کو اس کا شریک ٹھہرانا ایک بالکل بےمعنی بات ہے۔ اس نے نہ دنیا کے پیدا کرنے میں کسی کی مدد حاصل کی اور نہ اس کے انتظام و انصرام میں وہ کسی کا محتاج ہوا بلکہ اس نے سب کچھ تنہاء اپنے بل بوتے پر کیا ہے اور جس طرح پہلے کیا ہے اسی طرح آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ اس وجہ سے بندوں کے اعتماد کے لیے وہ تنہا کافی ہے۔ ان کو چاہیے کہ اسی پر بھروسہ کریں اور اس کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کریں۔
Ayah 64:2(ھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن واللہ بما تعملون بصیر) (2)۔
(ان کے لیے اپنے اختیار کے سوا استعمال کی سزا بھگتنا لازمی ہے)۔ یعنی اس خدا نے، جس کی تسبیح تمام کائنات کر رہی ہے، تم کو بھی پیدا کیا ہے اس وجہ سے حق تو یہ تھا کہ تم بھی اسی کی تسبیح کرتے جس کی تسبیح آسمان کے تمام ستارے، فضاء کے تمام پرندے اور زمین کے تمام شجر و حجر کر رہے ہیں لیکن تم کو خدا نے اختیار بخشا ہے اس وجہ سے تم میں کافر بھی ہیں اور مومن بھی چناچہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور وہ ہر ایک کے ساتھ اس کے عمل کے مطابق ہی معاملہ کرے گا۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی نگاہوں میں کفر اور ایمان دونوں یکساں ہیں۔ یہ بابت بالبداہت خدا کے عدل اور اس کی حکمت کے خلاف ہے۔
Ayah 64:3(خلق السموات والارض بالحق و صورکم فاممن صورکم والیہ المصیر) (3)۔
(جزاء و سزا اہتمام ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے)۔ یہ اوپر والی بات کی دلیل بیان ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا ایک مقصد حق کے ساتھ پیدا کی ہے۔ اس مقصد حق کا تقاضا یہ ہے کہ اسکے بعد لازماً ایک ایسا دن آئے جس میں حق پسندوں کو ان کی حق پسندی کا صلہ ملے اور جن کی زندگی اس مقصد حق کے خلاف گزری ہو وہ اس کی سزا بھگتیں۔
(وصورکم فاحسن صورکم)۔ یہ اس اہتمام کی طرف توجہ دلائی ہے جو ان کی خلقت میں خالق نے ملحوظ رکھا ہے ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ انسان کی تخلیق بہترین سانچہ پر ہوئی ہے۔ چناچہ سورة تین میں فرمایا ہے
(لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم) (4) (اور ہم نے انسان کو بہترین سانچہ پر بنایا ہے) انسان کے ظاہر و باطن کی تشکیل جس طرح ہوئی ہے اور اس میں جو قوتیں اور قابلتیں و دیعت کی گئی ہیں وہ صاف اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ اس دنیا کی تمام مخلوقات میں مقصود کی حیثیت اسی کو حاصل ہے۔ وہی سر تاج اور گل سر سبد کی حیثیت رکھتا ہے باقی دوسری ساری چیزیں بالواسطہ یا بلاواسطہ اسی کی خدمت اور نفع رسانی کے لیے ہیں۔
انسان کے لیے یہ اہتمام و انتظام اور اس کا نہایت اعلیٰ ظاہری و باطنی صلاحیتوں سے مسلح ہونا اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اس کو خالق نے بےمقصد و عبث نہیں پیدا کیا ہے کہ بس وہ کھائے پیئے اور ایک دن ختم ہوجائے۔ اگر ایساہو تو وہ سارا اہتمام بالکل بےمعنی ہو کے رہ جاتا ہے جو قدرت نے اس کی تخلیق اور اس کے قیام وبقاء پر صرف کیا ہے، چناچہ اسی بنیاد پر قرآن نے جگہ جگہ انسان کو یہ یاددہانی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ربوبیت کے لیے جو اہتمام فرمایا، تمہارے لیے جو پاکیزہ خوان کرم بچھایا اور شکل و صورت کے اعتبار سے اپنی تمام مخلوقات میں جو امتیاز تم کو بخشا اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک دن تم اس کے سامنے حاضر کیے جائو اور تم سے تمہارے رب کی بخشی ہوئی نعمتوں کے متعلق سوال ہو۔
(اَ اللہ ُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآئَ بِنَآئً وَّصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ) (المومن، 40۔ 64) (اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو مستقر اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورت گری کی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق بخشا۔)
مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے اچھی صورتوں کے ساتھ پاکیزہ رزق اور عالی شان مکان کا یہ اہتمام اس بات کی بدیہی دلیل ہے کہ تم اپنے رب کے آگے مسئول ہو۔ اسی دلیل کی بنیاد پر ان لوگوں کو دھمکی بھی دی گئی ہے جو آخرت اور جزاء و سزا کے قائل نہیں تھے۔ فرمایا ہے :
(یٰٓـاَیُّھَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ۔ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰکَ فَعَدَلَکَ۔ فِیْٓ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَآئَ رَکَّبَکَ۔) (الانفطار : 82۔ 6۔ 8) (اے انسان، تجھ کو تیرے اس رب کریم کے باب میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے جس نے تیرا نقشہ بنایا، پھر تیرے جوڑ بند ٹھیک کیے پس تجھے متوازن کیا اور جس صورت پر چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔)
اس آیت میں اس اہتمام کی وضاحت بھی ہوگئی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے میں فرمایا ہے اور ساتھ ہی اس سے جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اس کی طرف بھی نہایت تہدید آمیز انداز میں اثرہو گیا ہے۔ (والیہ المصیر) یعنی جس خدا نے ایک عظیم غایت کو پیش نظر رکھ کر یہ دنیا پیدا کی ہے اور اس اہتمام کے ساتھ تمہیں اس میں وجود بخشا ہے لازم ہے کہ تم ایک دن اسی کی طرف جزاء و سزا کے لیے لوٹائے جائو۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ سارا اہتمام بالکل بےمعنی کے رہ جائے گا۔
Ayah 64:4(یعلم ما فی السموات والارض ویعلم ما تسرون وما تعلنون واللہ علیم بذات الصدور) (4)۔
(کوئی بات اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے)۔ یعنی اس مغالطہ میں نہ رہو کہ بھلا اللہ تعالیٰ کو ساری دنیا کے تمام خفیہ و اعلانیہ اعمال کی خبر کہاں ہوگی کہ وہ سب کا حساب کرنے بیٹھے گا اور سب کو جزا یا سزا دے گا ! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب سے واقف ہے اور تم کوئی کام خواہ پوشیدہ طور پر کردیا علانیہ وہ تمہارے ہر قول و فعل کو جانتا ہے بلکہ جو کچھ تمہارے سینوں میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اس سے بھی باخبر رہتا ہے۔
Ayah 64:5(الم یاتکم نبواء الذین کفروا من قبل فذاقوا وبال امرھم ولھم عذاب الیم) (5)۔
(مکافات ِ عمل کی شہادت تاریخ سے)۔ فرمایا کہ کیا اس ملک کی پچھلی قوموں کی تاریخ تمہارے علم میں نہیں آئی کہ انہوں نے کفر کیا تو اس کفر کا دبال انہیں اس دنیا میں بھی چکھنا پڑا اور آخرت میں بھی ان کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے ؟ یہ اشارہ عاد، ثمود، اہل مدین اور قوم لوط وغیرہ کی طرف ہے۔ جن کی سرگزشتیں تفصیل سے پچھلی سورتوں میں سنائی بھی گئی ہیں اور قریش ان سے فی الجملہ واقف بھی ہے بلکہ ان میں سے بعض قوموں کی بستیوں کے کھنڈروں پر سے ان کو گزرنے کے مواقع بھی ملتے رہتے تھے۔ ان کی تاریخ کی طرف اشارہ کر کے متنبہ فرمایا کہ یہ واقعات دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کے خیرو شر سے غیر متعلق نہیں ہے بلکہ اس کی اصلاح کے لیے اس نے برابر اپنے رسول بھیجے ہیں اور جب قوموں نے رسولوں کی تکذیب کی ہے تو اس نے ان کو سزا بھی نہایت عبرت انگیز دی۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے قانون مجازات کی یہ مثالیں اپنی آنکھوں سے اس زمین میں دیکھتے ہو تو اس بات کو کیوں بعید سمجھتے ہو کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں ساری دنیا کا انصاف کرے اور اس دن اس کے کامل عدل اور اس کی کامل رحمت کا ظہور ہوا۔
Ayah 64:6(ذلک بانہ کا نت تاتیھم رسلھم بالبینت فقالوا بشریھد وننا فکروا وتولو واستغنی اللہ واللہ غنی حمید) (6)۔
رسولوں کی تکذیب کے لیے منکرین کا بہانہ)۔ یہ سبب بتایا ہے کہ یہ قومیں کیوں خدا کے عذاب کی گرفت میں آئیں ؟ فرمایا کہ اللہ کے رسول ان کی ہدایت کے لیے نہایت واضح نشانیوں اور دلائل کے ساتھ آئے لیکن یہ اپنی سرکشی کے سبب سے ان کو خاطر میں نہ لائیں۔ انہوں نے یہ بہانہ تراشا کہ اگر اللہ کو ہماری ہدایت کے لیے کوئی رسول بھیجنا ہی ہوتا تو وہ کسی برتر مخلوق کو رسول بنا کر بھیجتا۔ ہمارے ہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجنے کے کیا معنی ؟ کیا ہم ایسے حقیر ہیں کہ ہمارے ہی جیسے انسان ہمیں ہدایت دینے والے بنیں گے ! مطلب یہ ہے کہ اگر انسان ہی ہمیں ہدایت دے سکتے ہیں تو ہم کیا برے ہیں ! ہم خود ہی اپنے کو ہدایت دے لیں گے، دوسروں کا بار احسان ہم کیوں اٹھائیں !
(منکرین کے باب میں سنت الٰہی)۔ (فکفرواو تولو او ستغنی اللہ) یعنی اس طرح کے اعتراضات اور بہانے پیدا کرکے انہوں نے رسول کا انکار اور دعوت حق سے اعراض کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ بھی ان سے بےپروا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت سے بہرہ یاب کرنے کے لیے اہتمام کرتا ہے لیکن جب لوگ اس کی ناقدری کرتے ہیں تو وہ ان سے بےپروا ہو کر ان کو چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اس ناقداری کا انجام دیکھیں۔ (واللہ غنی حمید) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی ہدایت مطلوب ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ اس میں اس کا کوئی نفع ہے۔ وہ لوگوں کی ہدایت و ضلالت سے بالکل بےنیاز اور خود اپنی ذات میں ستو وہ صفات اور کامل ہے۔ وہ ہدایت کا انتظام کرتا ہے تو محض اس وجہ سے کرتا ہے کہ لوگوں کی فلاح اسی میں ہے لیکن جب وہ اس کی قدر نہیں کرتے تو وہ اس کو زبردستی لوگوں کے اوپر نہیں لا دیتا
Ayah 64:7۔ (زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن ثم لتنبومن بما عملتم و ذلک علی اللہ یسیر) (7)۔
(توڑجواب)۔ یعنی ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے اس وجہ سے وہ نبیوں کی دعوت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ (قل بلی و ربی لتبعثن)۔ فرمایا کہ جس زور و تاکید کے ساتھ یہ لوگ مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کر رہے ہیں اسی زور و تاکید کے ساتھ، بصید قسم، تم ان کو جواب دو کہ ہاں میرے رب کی قسم، تم ضرور اٹھائے جائو گے !
(سم کے اندر دلیل کا پہلو)۔ اگرچہ اس فقرے میں دلیل کا پہلو نمایاں نہیں ہے، بلکہ دعوے کا جواب بظاہردعوے ہی سے دے دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ یہ بات منکرین کے بےدلیل دعوے کے جواب میں کہلائی گئی ہے لیکن (ربی) کی قسم میں دلیل کا بھی ایک لطیف پہلو مضمر ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، جس کی شانیں اس کائنات کے ہر گوشہ میں نمایاں ہیں، اس بات کو واجب کرتی ہے کہ وہ نیکو کار اور بد کار دونوں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا بلکہ لازماً وہ نیکوں کو ان کی نیکی کا صلہ دے گا اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا۔ اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ وہ مرنے کے بعد لوگوں کو اٹھائے، ان کا حساب کرے اور ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔
(وذلک علی اللہ یسیر) یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر قیاس کر کے اس کام کو ناممکن یا مشکل نہ سمجھو۔ دوسروں کے لیے تو یہ کام بیشک ناممکن ہے۔ ان کا علم بھی نہایت محدود ہے اور ان کی قدرت بھی نہایت محدود ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے یہ نہایت آسان ہے۔ وہ غیر محدود علم اور غیر محدود قدرت کا مالک ہے۔
Ayah 64:8(فامنواباللہ ورسولہ والنور الذی انزلنا واللہ بما تعملون خیبر) (8)۔
(دعوت ایمان جاندار تنبیہ)۔ یہ باندار تنبیہ دعوت ایمان ہے۔ یعنی اس قسم کے بہانے پیدا کر کے رسول کی تکذیب نہ کرو بلکہ اللہ اور اس کے رسول پر اور اس روشنی پر ایمان لائو جو اللہ نے نازل فرمائی ہے۔ روشنی سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا کرنے کے لیے نازل فرمایا۔ یہ امر واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو روشنی ہل کتاب کو ہدایت و ضلالت میں امتیاز کے لیے عطاء فرمائی تھی وہ انہوں نے جیسا کہ پچھلی سورتوں میں تفصیل گزر چکی ہے، ضائع کردی تھی، جس کے سبب سے ان کے لیے حق و باطل میں امتیاز ناممکن ہوگیا تھا لیکن جب اس نے از سر نو خلق کی رہنمائی کے لیے اپنی روشنی، اپنی کامل صورت میں، اتاری تو اس کی قدر کرنے کے بجائے انہوں نے پورا زور لگایا کہ اس کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں، نہ خود اس سے فائدہ اٹھائیں نہ دوسروں کو فائدہ اٹھانے کا موقع دیں۔
(یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللہ ِ بِاَفْوَاہِھِمْ وَ اللہ ُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ۔) (الصف : 61۔ 8) (یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں اور اس کا فیصلہ یہ ہے کہ ان کافروں کے علی الرغم وہ اپنے نور کو کامل کر کے رہے گا۔)
(واللہ بما تعملون خبیر) یعنی اس مغالطے میں نہ رہو کہ اللہ تمہارے اعمال سے بیخبر ہے۔ جو کچھ تم کررہے ہو وہ سب اس کے علم میں ہے اور ایک دن وہ سب تمہارے سامنے آ کے رہے گا۔
Ayahs 64:9–10(یوم یجمعکم لیوم الجمع ذلک یوم التغابن ومن یومن باللہ ویعمل صالحا یکفرعنہ سیاتہ وید خلہ جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ابدا ذلک الفوز العظیم۔ والذین کفروا وکذبوا بایتنا اولیک اصحب النار خلدین فیھا وبئس المصیر) (9، 10)۔
(سلامتی کی راہ)۔ یعنی بجائے اس کے اپنے کو اس مغالطے میں مبتلا رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتا۔ سلامتی اس بات میں ہے کہ اس دن کو برابر یاد رکھو جس دن اللہ تعالیٰ تمہیں اکٹھا کیے جانے کے دن کے لیے اکٹھا کرے گا یعنی اس دن کے لیے اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں طے شدہ ہے، جس کے دلائل آفاق وانفس میں موجود ہیں، جس کی شہادت تمام نبیوں اور رسولوں اور تمام آسانی صحیفوں نے دی ہے جس کا واقع ہونا اس دنیا کے با مقصد و باغایت ہونے کے لیے ضروری ہے اور جو واقع نہ ہو تو یہ دنیا بالکل عبث، بےحکمت ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے۔
دوسرے مقام میں فرمایا (ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُوْدٌ۔) (ھود : 11، 103) (وہ دن ہے جس کے لیے لوگ جمع کیے جائیں گے اور وہ حاضری کا دن ہوگا) دوسری جگہ فرمایا ہے : (قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ۔ لَمَجْمُوْعُوْنَ اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ۔) (الواقعۃ : 56، 49، 50) (کہہ دو ، تمام اگلے اور پچھلے ایک معین دن کے وقت مقرر پر حاضر کیے جائیں گے) ان آیات میں ایک مقررہ وقت پر تمام اگلوں پچھلوں کے جمع کیے جانے پر جو زور ہے۔ وہ ان نادانوں کے استعبار کو دفع کرنے کے لیے ہے جو سمجھتے ہیں کہ بھلا اتنی بیشمار مخلوقات کو خشکی و تری، دریائوں اور پہاڑوں کے کونے کونے سے کون جمع کرسکتا ہے ؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دن اس جمع کے لیے مقرر کر رکھا ہے اور یہ بات لازماً ہو کے رہے گی۔ شکوک میں رہنے کے بجائے اس کے لیے تیاری کرو اور اس کو برابر یاد رکھو۔
(ہار جیت کا دن)۔ (ذلک یوم التغابن یوم التغابن) کا ترجمہ شاہ عبد القادر ؒ نے ہار جیت کا دن کیا ہے۔ یہ ترجمہ ہمارے نزدیک لفظ کی صحیح روح کے مطابق ہے۔ اس ہار جیت کی وضاحت آگے قرآن نے خود کردی ہے۔ فرمایا ہے کہ جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو لغزشوں کے اثرات سے پاک کرکے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور جن کو یہ چیز حاصل ہوئی ان کو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے بالکل برعکس ان لوگوں کا حال ہوگا جنہوں نے اللہ کا کفر اور اس کی آیتوں کی تکذیب کی ہوگی۔ یہ لوگ دوزخ میں پڑیں گے اور اسی میں ہمیشہ رہیں گے اور نہایت ہی برا ٹھکانہ ہوگا۔
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں انہوں نے تو اسی دنیا کو ہار جیت کا میدان سمجھ رکھا ہے۔ جن کو دنیا کی رفاہیتیں حاصل ہوگئیں وہ سمجھ بیٹھے کہ انہوں نے بازی جیت لی اور جن کو نہیں حاصل ہوئیں ان کو نام و نامراد سمجھ لیا، حالانکہ یہ دنیا دار الانعام نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ دار الانعام آخرت ہے جس میں بازی وہ لوگ جیتیں گے جو اس دنیا میں ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاریں گے اگرچہ اس دنیا کی متاع میں سے انہیں کوئی چیز بھی حاصل نہ ہوئی ہو اور وہ لوگ وہاں بالکل محروم و نامراد ہوں گے جو ایمان و عمل صالح سے محروم اٹھیں گے اگرچہ دنیا میں انہیں قارون کے خزانے حاصل رہے ہوں۔
یہ امر یہاں واضح رہے کہ جو لوگ اسی دنیا کو ہار جیت کا میدان سمجھ بیٹھیں گے ان کے لیے یہ بالکل ناممکن ہے کہ وہ اپنے عیش و آرام کو قربان کر کے دوسروں کی خدمت و اعانت کی راہ میں اپنے مال صرف کریں۔ اگر کبھی وہ حوصلہ کرنا بھی چاہیں تو فوراً یہ اندیشہ ان کا حوصلہ پست کر دے گا کہ اگر کل کو کوئی ناگہانی آفت یا مشکل پیش آگئی تو کیا بنے گا ! البتہ جو شخص ہار جیت کا اصل میدان آخرت کو سمجھے گا اس کو اس طرح کا کوئی اندیشہ پست حوصلہ نہیں کرسکتا۔ اگر کبھی کوئی دغدغہ دل میں پیدا ہوگا بھی تو وہ اس کو شیطانی دغدغہ سمجھے گا اور بےدھڑک اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے اپنے رب کے بھروسہ پر باری کھیل جائے گی۔
Ayah 64:11(ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ ومن یومن باللہ یھد قلبہ واللہ بکل شی علیم) (11)۔
(ایک وسوسہ کا علاج)۔ یہ اس دغدغہ کو دور فرمایا ہے جو آخرت کی بازی کھیلنے کی راہ میں مزاحم ہوسکتا ہے، فرمایا کہ اللہ و رسول کی اطاعت اور ان کی رضا طلبی کی راہ میں قدم اٹھاتے ہوئے اس وسوسہ کو کوئی اہمیت نہ دو کہ کل کو کوئی مشکل پیش آگئی تو کیا ہوگا ! کوئی مصیبت بھی بندوں پر اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں آتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کسی ایسے شخص کے لیے ممکن نہیں ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو۔ تو بندے کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ جو کام وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں کرے گا وہ اس کے لیے کسی ایسی آزمائش کا سبب نہیں بن سکتا جو اس کی قوت برداشت سے زیادہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی قوتوں اور صلاحیتوں سے سب سے زیادہ واقف ہے۔ وہ کسی پر اس کی قوت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالے گا۔
(ومن یومن باللہ یھد قلبہ واللہ بکل شی علیم) یہ اللہ کی راہ میں آزمائشوں کا مقابلہ کرنے والوں کی تسلی دی گئی ہے کہ اگر تم اپنے ایمان میں مضبوط رہو گے تو کوئی آزمائش تمہیں پست حوصلہ نہیں کرسکے گی بلکہ اللہ تعالیٰ عین وقت پر روح القدس کے ذریعہ سے تمہارے دل کی رہنمائی فرمائے گا۔ تمہارا رب ہر چیز سے باخبر ہے۔ وہ اپنے بندوں کے احوال کو جانتا ہے اور ٹھیک وقت پر ان کی مدد کے لیے غیب سے سامان کرتا ہے۔ یہی بات سیدنا مسیح ؑ نے بھی اپنے شاگردوں کو خطاب کر کے فرمائی ہے کہ جب لوگ تم کو میرے کام پر عدالتوں میں پکڑوائیں تو یہ فکر نہ کرتا کہ کیا کہو گے، میرا خداوند عین وقت پر روح القدس سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ سورة حدید کی آیت 22 میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے۔
Ayah 64:12(واطیعو اللہ فاطیعو الرسول فان تولیتم فانما علی رسولنا البلغ المبین) (12)۔
یعنی غلط قسم کے اندیشوں اور اوہام میں منبلا ہو کر اللہ و رسول کی اطاعت سے جی نہ چرائو ورنہ یاد رکھو کہ رسول پر صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایت تم کو واضح طور پر پہنچا دے۔ یہ فرض اس نے ادا کرو یا تو وہ اللہ کے ہاں بری الذمہ ہوا۔ تمہارے ایمان کی بابت اس سے پرسش نہیں ہوگی بلکہ تم سے پرسش ہوگی کہ تم نے اس کی دعوت کیوں قبول نہیں کی۔
Ayah 64:13(اللہ لا الہ الا ھو و علی اللہ فلیتوکل المومنون) (13)
فرمایا کہ آسمان و زمین میں کوئی اور الٰہ نہیں ہے جس سے کسی ضرر کا اندیشہ یا کسی نفع کی توقع ہو۔ صرف اللہ ہی ہے جو نفع یاضرر پہنچا سکتا ہے۔ اہل ایمان کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔ یہی ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔
Ayah 64:14(یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم واولاد کم عدوا لکم فاحذروھم وان تعفوا وتصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیم) (14)۔
(ایک بہت بڑی آزمائش سے آگاہی)۔ یہ ان آزمائشوں میں سے ایک بہت بڑی آزمائش سے متنبہ فرمایا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے حقوق و فرائض اور اس کی راہ میں انفاق جان و مال سے روکنے والی بنتی ہیں، یعنی بیوی بچوں کی محبت یہ محبت ہے تو ایک فطری چیز لیکن ساتھ ہی یہ انسان کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ اس محبت میں اور خدا کی محبت میں بسا اوقات تصادم ہوتا ہے۔ اگر آدمی کا علم و ایمان پختہ نہ ہو تو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس پر بیوی بچوں کا مفاد اور ان کی محبت اس قدر غالب آجائے کہ وہ خدا کی محبت کو نظر انداز کر بیٹھے درآنحالیکہ یہ چیز اس کے ایمان کو غارت کردینے والی ہے۔ عرب شعراء جان بازی اور فیاضی پر ملامت کرنے والیوں کی ملامت کا ذکر بہت کرتے ہیں اور ایک حدیث شریف میں بھی ہے کہ آدمی کے بیوی بچے اس کو سب سے زیادہ بخل و بزدلی پر مجبور کرنے والے ہیں۔ اسی چیز کی طرف اس آیت میں بھی اشارہ ہے کہ آدمی کے اہل و عیال میں سے بعض اس کے دشمن ہوتے ہیں۔ وہ اس کو خدا کے حقوق سے روکنے والے بن جاتے ہیں۔ اگرچہ وہ یہ کام بظاہر خیر خواہانہ انداز میں کرتے ہیں لیکن یہ چیز انجام کار کے اعتبار سے باعث ہلاکت ہے اس وجہ سے وہ در حقیقت وہ کام کرتے ہیں جو دشمن کرتا ہے۔
(ان من انحا جکم) میں حرف من تبعیض کے لیے ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص کے بیوی بچے لازماً ایسے ہی ہوں۔ بہتوں کے بیوی بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جو راہ حق میں مزاحم ہونے کے بجائے معاون ہوتے ہیں لیکن اگر کسی کے اہل و عیال ایسے نہیں ہیں تو اس کو چاہیے کہ وہ ان سے بچ کے رہے کہ وہ اس کے لیے پھندا نہ بننے پائیں۔
(وان تعفوا وتصفحوا و تعفروا فان اللہ غفور رحیم) یہ بچ کے رہنے کی وضاحت ہے کہ تمہارے لیے یہ دیکھنا تو ضروری ہے کہ وہ تم کو اللہ کی راہ سے روکنے والے نہ بنیں لیکن ساتھ ہی یہ لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ حتی الامکان یہ چیز قطع تعلق اور مضارقت پر منتہی نہ ہو بلکہ جس حد تک گنجائش ہو عفو و درگزر اور چشم پوشی سے کام لو اور یہ امید رکھو کہ اللہ غفور رحیم ہے۔ وہ تمہاری کوتاہیوں سے بھی در گزر فرمائے گا اور ان کی کمزوریوں کو بھی معاف کرے گا۔
معلوم ہوا کہ جس کو اس طرح کی آزمائش سے سابقہ پیش آئے اس کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی فتنہ میں پڑنے سے تو بچائے اور اپنے قول و عمل سے اپنے اہل و عیال کی کمزوری کی اصلاح کی کوشش کرے لیکن جب تک کفر و ایمان کا کوئی سوال پیدا نہ ہو اس وقت تک ان سے قطع تعلق نہ اختیار کرے بلکہ عفو و درگزر سے کام لے۔ گویا ان کے ساتھ زندگی تو گزارے لیکن گھل مل کر نہیں بلکہ بچ بچا کر اس طرح کہ خود بھی محفوظ رہے اور ان کی بھی اصلاح ہو۔
Ayah 64:15(انما اموالکم واولاد کم فتنۃ واللہ عندہ اجر عظیم) (15)
یہ اس مضمون کی مزید وضاحت ہے۔ فتنۃ کے معنی امتحان و آزمائش کے ہیں۔ فرمایا کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہاری آزمائش کے لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے ذریعہ سے تمہارا امتحان کیا ہے کہ تم ان کی محبت میں پھنس کر خدا اور اس کے حقوق کو بھول جاتے ہو یا ان کو خدا کی محبت اور اس کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ بناتے ہو۔ اگر پہلی راہ اختیار کرو گے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کے امتحان میں تم ناکام رہے۔ اللہ کی محبت پر تم نے مال و اولاد کی محبت کو ترجیح دی حالانکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی ہر چیز سے زیادہ اللہ کو محبوب رکھے۔ (وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہ) (البقرۃ : 2، 165) (اہل ایمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں) اور اگر دوسری راہ اختیار کرو گے تو یہی راہ فوز و فلاح کی راہ ہے۔ یہ راہ اختیار کر کے اس دنیا میں کوئی نقصان بھی اٹھائو گے تو اطمینان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر نقصان کی تلافی آخرت میں اجر عظیم سے فرمائے گا۔)
Ayah 64:16فاتقوا اللہ ما استطعتم واسمعموا واطیعوا وانفقوا خیر الا نفسکم ومن یوق شح نفسہ فاولیک ھو المفلحون) (16)۔
(فلاح کی راہ)۔ یہ اس سلسلہ کی آخرت نصیحت ہے کہ اللہ سے برابر ڈرتے رہو کہ شیطان تمہیں کسی فتنہ میں نہ ڈالنے پائے۔ یہ ڈرنا تاحد امکان ہو۔ تمہارے امکان میں جس حد تک ہے اگر اس حد تک تم اللہ سے ڈرنے کی کوشش کرو گے تو اللہ تعالیٰ شیطان کو تم پر قابو پانے نہیں دے گا ورنہ مال و اولاد کے کسی فتنہ میں پڑ کر تم اللہ کی راہ سے اتنے دور ہو جائو گے کہ تمہارے لیے بازگشت کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہے گا۔
(واسمعوا واطیعو وانفقوا خیر لا نفسکم) یہ وہی اوپر والی بات مثبت انداز میں فرمائی کہ اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو اور مانو اور خدا کی راہ میں جس انفاق کی دعوت دی جا رہی ہے اس پر لبیک کہو۔ اس انفاق کا اصلی نفع اللہ و رسول کو نہیں حاصل ہوگا بلکہ تمہی کو حاصل ہوگا اگر تم خلوص اور فیاضی سے خرچ کرو گے۔
(ومن یوق مشح نفسہٖ فاولیک ھم المفلحون) شح۔ کے معنی بخل و حرص کے ہیں۔ فرمایا کہ انسان کے نفس کے اندر جو بخل ہے۔ اگر وہ نفس پر غالب آجائے تو وہ اس کے لیے تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ مبارک ہیں اللہ کے وہ بندے جو اس کے غلبہ سے محفوظ رکھے گئے۔ آخرت میں فلاح پانے والے وہی بنیں گے !
(شح) کی اضافت، نفس کی طرف اس بات کی دلیل ہے کہ نفس انسانی جن داعیات سے مرکب ہے ان میں اس کا بھی ایک مقام ہے لیکن یہ ان دعادی میں سے ہے جن سے اگر ہوشیار نہ رہا جائے تو یہ شہوت یا غضب کی طرح انسان کی ہلاکت میں ڈال سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس کو اتنی ڈھیل نہ دی جائے کہ یہ نفس پر غالب آ کر ایثار و قربانی کے جذبات کو دبا لے۔ اس کا طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ جب یہ جذبہ غالب ہونے لگے تو انسان اس کے علی الرغم انفاق کر کے اس کو دباتا رہے یہاں تک کہ یہ اتنا کمزور ہوجائے کہ نیکی کے اقدامات میں مزاحم نہ ہو سکے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے اس جذبہ کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کوشش میں وہ کامیاب ہوتے ہیں اور جو اس کوشش میں کامیاب ہوئے آخرت کی فلاح کے حق دار وہی ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کی رضا جوئی کے اعمال میں انفاق کا درجہ سب سے اونچا ہے بالخصوص وہ انفاق جو آدمی اپنی ذاتی ضروریات کو نظر انداز کر کے کرتا ہے۔ (وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ) (الحشر : 59، 9) (وہ اپنے اوپر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود ضرورت مند ہوں)
Ayah 64:17(ان تقرضوا اللہ قرضا حسنا یصعفہ لکم و یغفرلکم واللہ شکورحلیم) (17)
(فرض حسن کا موقع و محل اور اس کی حقیقت)۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے اوپر جس انفاق کا حکم ہے وہ اللہ کی راہ میں ہر قسم کے انفاق کے لیے ہے خواہ اس کا تعلق صدقات و زکوٰۃ سے ہو یا جہاد سے۔ اس آیت میں خاص طور پر جہاد کے لیے اتفاق کی تاکید ہے۔ قرآن میں لفظ قرض عام طور پر جہاد ہی کے انفاق کے لیے آتا ہے اور اس لفظ کے استعمال میں جو اپیل اور بلاغت ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ سورة مزمل میں فرمایا ہے۔
(وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَقْرِضُوا اللہ قَرْضًا حَسَنًا) (المزمل : 73، 20) (اور نماز کا اہتمام کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرض دو اچھا قرض۔)
اس آیت میں (واتوا الزکوۃ) کے بعد (واقرضو اللہ) سے مراد وہ انفاق ہے جو خاص حالات کے اندر اللہ کی راہ میں مطلوب ہوتا ہے۔
(یضعفہ لکم و یغفرلکم، مضاعفۃ) کے معنی صرف دو نا کرنے کے نہیں آتے ہیں بلکہ یہ مجرد بڑھاتے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ خواہ یہ بڑھانا دوگنا کرنے کی نوعیت کا ہو یا (اضعافا مضاعفۃ) کی نوعیت کا۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تم سے جو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس کے خزانے میں کوئی کمی ہوگئی ہے جس کے سبب سے قرض مانگنے کی نوبت آگئی ہے۔ اس کا خزانہ بدستور بھر پور ہے۔ یہ قرض وہ اس لیے مانگ رہا ہے کہ تمہارے لیے نفع کمانے کی راہ کھولے کہ تم اس کی راہ میں ایک خرچ کر کے آخرت میں دس گنا بلکہ ستر گنا وصول کرو۔ اس کے لیے شرط صرف یہ ہے کہ یہ قرض ’ قرض حسن ‘ ہو۔ ’ قرض حسن ‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں کہ یہ قرض اچھے مال میں سے دیا جائے، خوش دلی اور فیاضی سے دیا جائے اور خود ضرورت مند ہونے کے باوجود دیا جائے۔ جس قرض کے اندر یہ خوبیاں ہوں گی اللہ اس کو کئی گنا بڑھا کر قرض دینے والوں کو واپس بھی کرے گا اور ان کو اپنی مغفرت سے بھی نوازے گا۔
(اللہ تعالیٰ کی صفات کا حوالہ)۔ (واللہ شکور رحیم، شکور) کے معنی قدردانی کے ساتھ قبول کرنے والے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی نیکیوں کا بڑا ہی قدر دان اور ان کی بڑی پذیرائی فرمانے والا ہے۔ اگرچہ وہ غنی وحمید ہے۔ اس کے بندے اس کے حضور میں جو نذرانے پیش کرتے ہیں اسی کے دیے ہوئے مال میں سے پیش کرتے ہیں لیکن وہ ان کو حقیر نہیں خیال کرتا بلکہ وہ ان کو قدر کے ساتھ قبول کرتا اور ان کو پروان چڑھاتا ہے۔ ساتھ ہی وہ حلیم ہے اس وجہ سے اپنے بندوں کے ساتھ نہایت فیاضانہ معاملہ کرتا ہے۔ اگر وہ بڑی برائیوں سے بچنے والے ہوتے ہیں تو ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے وہ چشم پوشی فرماتا ہے۔
Ayah 64:18(علیم الغیب والشھادۃ العزیز العلیم) (18)
یعنی اللہ تعالیٰ تمام غائب و حاضر کا جاننے والا بھی ہے اور ساتھ ہی عزیز و حکیم بھی ہے۔ اس کی رضا جوئی کے لیے تم جو قربانی بھی کرو گے وہ اس سے مخفی نہیں رہے گی اور یہ بھی اطمینان رکھو کہ اگر تم اس کا ساتھ دو گے تو وہ کوئی کمزور ہستی نہیں ہے بلکہ وہ ہر چیز پر غالب اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ اس پر بھروسہ کرنے والے کبھی نامراد نہیں ہوتے اور اس کے حکموں پر عمل کرنے والے کبھی ٹھوکر نہیں کھاتے۔
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی (فلہ الحمد وبیدہ التوفیق)۔۔۔ رحمان آباد۔۔۔ 13۔ اپریل 1978ء۔۔ 4 جمال الاول 1398ھ۔