65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

تدبر قرآن۔۔۔۔ ٦٥۔۔ الطلاق۔۔۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔ ا۔ سورة کا عمود اور سابق و لا حق سے تعلق سابق سورة ۔۔۔ التغابن۔۔ کی آیات ١٤۔ ١٦ میں یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ آدمی کے بیوی بچے اس کے لیے بڑی آزمائش ہیں اگر وہ چوکنا نہ رہے تو ان کی محبت میں گرفتار ہو کر وہ اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے جی چرانے لگتا ہے یہاں تک کہ یہ چیز کو بالآخر نفاق میں مبتلا کردیتی ہے اور اس طرح ان کے ساتھ اس کی دوستی خود اپنے ساتھ دشمنی بن جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرمائی ہے کہ ان سے چوکنے رہنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بالکل ہی قطع تعلق کرلے بلکہ تاجدار مکان اس طرح عفو و در گزر کا معاملہ رکھے کہ ان کی اصلاح بھی ہو اور اپنے کو ان کے ضرر سے محفوظ بھی رکھے سکے۔ سورة تغابن کے بعد دو سورتوں الطلاق اور التحریم میں اسی نازک مسئلہ کی مزید وضاحت فرمائی اور نفرت و محبت دونوں طرح کے حالات کے اندر صحیح رویہ کے حدود معین کر دے تاکہ کسی بےاعتدالی کی گنجائش نہ باقی رہے۔ سورة طلاق میں یہ بتایا ہے کہ اگر بیوی سے کسی سبب سے نفرت پیدا ہوجائے تو اس کے معاملے میں کس طرح حدود الٰہی کی پابندی کا اہتمام کرے اور سورة تحریم میں یہ واضح فرمایا ہے کہ محبت میں کس طرح اپنے آپ کو اور ان کو حدود الٰہی کا پابند رزکھنے کی کوشش کرے۔ میاں بیوی کے رشتہ ہی پر تمام معاشرت کی بنیاد ہے اور ہر شخص کو اس سے سابقہ بھی پیش آتا ہے لیکن اس رشتہ کے نازک حدود وقیود کا اول تو سب کو علم نہیں ہوتا اور جن کو ہوتا بھی ہے وہ نفرت یا محبت کی ہلچل میں ان کو ٹھیک ٹھیک ملحوظ رکھنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ کوئی سبب اگر اختلاف یا افتراق کا پیدا ہوگیا ہو تو وہ ایسی نفرت و عداوت کی شکل اختیار کرلیتا ہے کہ شریعت کے تمام حدود و احکام پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر تعلقات محبت پر قائم ہیں، جیسا کہ ہونا چاہیے تو خدا کے حدود و آداب کا احترام اس محبت پر قربان کردیا جاتا ہے۔ یہ دونوں ہی حالتیں حدود الٰہی نے دو الگ الگ سورتوں میں تفصیل سے بتایا کہ نفرت اور محبت دونوں قسم کے حالات کے اندرآدمی کا معاملہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مجرو اندھے بہرے جذبات پر نہیں بلکہ خدا کے حدود پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں سورتیں در حقیقت سورة تغابن ہی کے اجمال کی شرح کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان دونوں ہی میں خطاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے اور یہ خطاب بغیر کسی تمہید کے شروع ہوگیا ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ سابق سورة ہی کا تکملہ و تتمہ ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے براہ راست خطاب شخصا ًنہیں بلکہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ اس طرح کے خطاب کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں۔ اس براہ راست خطاب سے ان احکام کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے جو ان سورتوں میں بیان ہوئے ہیں۔ یہاں جن خرابیوں کی اصلاح کی گئی ہے وہ جاہلیت کی سوسائٹی میں عام رہی ہیں بلکہ شاید یہ کہنا بھی بےجا نہ ہو کہ اس تہذیب و تمدن کے دور میں بھی یہ عام ہیں۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ ان کی اصلاح کے احکام براہ راست نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے دیے جائیں تاکہ لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی ان باتوں کی پابندی کی ہدایت ہے توتابہ دیگراں چہ رسدا۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ سورة طلاق حسب ذیل حصوں میں منقسم ہے۔ (١۔ ٧) اس امر کی وضاحت کہ اگر کسی کو طلاق دینے کی نوبت آئے تو یہ جائز نہیں ہے کہ وہ بیوی کو طلاق کے دو کلمے کہہ کر فوراً گھر سے نکال باہر کرے بلکہ اس کے لیے اللہ کے مقرر کیے ہوئے متعین قاعدے اور ضابطے ہیں جن کی پابندی ہر امیر و غریب کے لیے ضروری ہے۔ جو لوگ اپنی مالی مشکلات کے باوجود اللہ کی رضا کے لیے اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی کریں گے اللہ ان کی مشکل آسان کرے گا اور ان کے مال میں برکت دے گا اور جو مال کی محبت میں اللہ کے حدود وقیود توڑیں گے تو وہ یاد رکھیں کہ وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے بلکہ اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔ (٨۔ ١٢) مسلمانوں کو تنبیہ کہ جن قوموں نے اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی ہے اللہ نے ان کو ہمیشہ نہایت سخت سزا دی ہے۔ تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ اللہ نے اس رسول کے ذریعہ سے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے کہ ان کی تاریکی سے نکال کر روشنی میں کھڑا کیا ہے۔ اگر اس روشنی کی وہ قدر کریں گے تو اللہ ان کو جنت کی ابدی نعمتوں سے نوازے گا اور اگر انہوں نے اس کی ناقدری کی تو یاد رکھیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے حساب سے طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اللہ سے، جو تمہارا پروردگار ہے، ڈرتے رہو اور ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود ہی نکلیں الا آنکہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کی مرتکب ہوں اور یہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود ہیں اور جو اللہ کے حدود سے تجاوز کریں گے تو انہوں نے اپنی ہی جان پر ظلم ڈھایا تو نہیں جانتے شاید اللہ اس کے بعد کوئی اور صورت پیدا کردے

الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (یایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن واحصوا العدۃ و اتقوا اللہ ربکم لاتخزجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ وتلک حدود اللہ ومن یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ لا تدری لعل اللہ یحدیث بعد ذلک امرا) (1)۔ (نبی ﷺ سے خطاب کی اہمیت)۔ تمہید میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہاں نبی ﷺ سے خطاب شخصا ً نہیں بلکہ امت کے وکیل کی حیثت سے ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کو خطاب کرنے کے بعد معاً (طلقتم) ہیں ضمیر خطاب جمع کی آگئی ہے جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہاں جو احکام دیے جا رہے ہیں وہ ہیں تو تمام مسلمانوں کے لیے البتہ نبی ﷺ کو خطاب کر کے یہ احکام دینے سے ان کی اہمیت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، بہت بڑھ گئی ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر ان کی عظمت کا احساس پیدا ہو کہ جب پیغمبر ﷺ پر بھی ان باتوں کی پابندی لازمی ہے تو دوسروں پر تو بدرجہا زیادہ ہوگی۔ (طلاق کے باب میں حدود الٰہی کا احترام)۔ جاہلیت میں طلاق کا عام طریقہ یہ رہا ہے کہ جس کو بھی بیوی پر کسی سبب سے غصہ آیا وہ نتائج و عواقب کا لحاظ کیے بغیر، ایک ہی سانس میں تین ہی نہیں بلکہ ہزاروں طلاقیں دے ڈالتا اور ساتھ ہی اس کو گھر سے باہر بھی نکال دیتا کہ جب طلاق دے چھوڑی تو اب اپنے گھر میں اس کی ایک وقت کی روٹی کا بھی خرچ کیوں برداشت کرے ! اس طرح طلاق دینے میں عورت، مرد، بچوں بلکہ پورے کنبہ کے لیے یہاں تک کہ اس بچہ کے لیے بھی، جو عورت کے پیٹ میں بصورت حمل ہوسکتا ہے۔ جو نصرتیں ہیں ان پر سورة بقرہ کی تفسیر میں بحث ہوچکی ہے۔ یہاں انہی مضرتوں کو پیش نظر رکھ کر ہدایت فرمائی کہ غصہ اور نفرت کے جوش میں اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود وقیود کو نہ بھولو۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ (اذا ظلقتم النساء فطلقم ھن لعدتھن واحصوا العدۃ) فرمایا کہ جب کسی کو طلاق دینے کی نوبت آئے تو وہ عدت کے حساب سے طلاق دے اور اس عدت کا اہتمام سے شمار رکھے۔ اس کی وضاحت سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ وہاں فرمایا ہے (اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌم بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌم بِاِحْسَان) (البقرۃ، 2۔ 229) (جس سے معلوم ہوا کہ یہ جائز نہیں ہے کہ ایک ہی سانس میں تین یا تین سے زیادہ طلاقیں دے کر بیوی کو جدا کر دے بلکہ دو مہینوں میں، دو طہروں کے اندر، طلاق دے اور پھر تیسرے طہر میں اگر چاہے تو مراجعت کرلے اگر اس کو حسن سلوک کے ساتھ بیوی کی طرح رکھنا مقصود ہو ورنہ دستور کے مطابق رخصت کر دے اگر آخری فیصلہ قطع تعلق ہی کا ہے۔ اس عدت کا شمار میاں اور بیوی دونوں کے لیے ضروری ہے۔ بیوی کے لیے اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس مدت کے اندر اس کو حق حاصل ہے کہ اگر وہ اس کو بیوی کی طرح رکھنا چاہیے تو مراجعت کرلے۔ اس مدت کے گزر جانے کے بعد اس کا یہ حق ختم ہوجائے گا۔ علاوہ ازیں اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ اس دوران میں اگر معلوم ہوا کہ عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل تک ممتد ہوجائے گی اور اس دوران میں عورت کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کی ساری ذمہ داری مرد پر ہوگی۔ (واتقو اللہ ربکم) فرمایا کہ اللہ سے جو تمہارا خداوند ہے، ڈرتے رہو، ڈرتے رہو، یعنی اس کے مقرر کیے ہوئے ان حدود کی پابندی، اس غصہ کے باوجود کرتے رہو جو تمہارے اندر بیوی کے خلاف پیدا ہوچکا ہے۔ اگر حدود توڑ و گے تو یاد رکھو کہ اپنے اس خداوند کے حدود توڑو گے جس کی اطاعت تم پر واجب ہے اور جس کی پکڑ اور جس کے قہر و غضب سے تمہیں کوئی نہ بچا سکے۔ (طلاق میں عدت کی پابندی کی بعض مصلحتیں)۔ (لا تخرجو ھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین لفاحشۃ مبینۃ)۔ اس عدت کے دوران نہ تو تمہیں یہ حق حاصل ہے کہ ان کو ان کے گھروں سے نکالو اور نہ انہی کے لیے جائز ہے کہ وہ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوں بلکہ دونوں یکجا ایک ہی گھر میں رہیں تاکہ باہمی ساز گاری اور اصلاح احوال کی کوئی گنجائش ہو تو یہ یکجائی اس میں مددگار ہو۔ اللہ تعالیٰ کو میاں بیوی کا رشتہ ٹوٹنا پسند نہیں ہے۔ طلاق ایک مجبوری کا علاج ہے۔ اللہ نے بندوں کی مجبوریوں کے تحت اس کو جائز تو رکھا ہے لیکن یہ اکڑا لمباحات، یعنی جائز چیزوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکروہ ہے۔ چناچہ اس نے اپنے بندوں کو اس سے بچانے ہی کے لیے طلاق پر عدت کی شرط عائد کی ہے اور یہ بھی ضروری قرار دیا ہے کہ اس مدت میں میاں بیوی دونوں ایک ہی گھر میں رہیں تاکہ دونوں ٹھنڈے دل سے اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کرسکیں کہ آخری قدم اٹھانے سے پہلے سازگاری اور اصلاح احوال کا کوئی امکان ہے یا نہیں ؟ (زمانہ عدت میں شوہر کا گھر بیوی کا بھی گھر ہے)۔ (لا فخر جو ھن من بیوتھن) میں لفظ (بیوتھن) اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ مرد کو یہ نہیں خیال کرنا چاہیے کہ گھر اسی کا ہے بلکہ یہ گھر جس طرح اس کا ہے اسی طرح زمانہ عدت میں بیوی کا بھی ہے اس وجہ سے نہ تو مرد کے لیے جائز ہے کہ بیوی کو اس کے گھر سے نکالے اور نہ بیوی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ برہم ہو کر گھر سے چل کھڑی ہو۔ یہاں نکلنے سے مراد وہ نکلنا نہیں ہے جو معمولاً اپنی چھوٹی موٹی ضروریات کے لیے ہوا کرتا ہے بلکہ وہ نکلتا ہے جو کسی گھر کے خیرباد کہنے کے معنی میں ہوتا ہے۔ (ایک مستثنیٰ صورت)۔ (الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ) یعنی اس سے صرف ایک شکل مستثنیٰ ہے وہ یہ کہ مرد نے عورت کو طلاق کسی ایسی حرکت کی بنا پر دی ہو جو فاحشۃ مبینۃ کے حکم میں داخل ہو۔ اس سے ظاہر ہے کہ زنا یا اس کے لوازم و مقدمات ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ ان سے کم درجے کی برائی کے لیے اس لفظ کا استعمال معروف نہیں ہے۔ اگر مرد کی نگاہ عورت کی کسی ایسی حرکت پر پڑی ہے اور اس سے مشتعل ہو کر اس نے طلاق دی ہے تو پھر نہ مرد سے یہ مطالبہ کرنا جائز ہے کہ وہ ایسی عورت کو اپنے گھر میں ڈالے رکھے اور نہ اس سے اس فائدہ کے حاصل ہونے ہی کی توقع ہے جس کے لیے شریعت نے یہ یکجائی ضروری قرار دیہ ہے۔ کسی باحمیت مرد سے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ اس کے دل کے اندر کسی ایسی عورت کے لیے کبھی گنجائش پیدا ہو سکے گی جس کی بےوفائی اس کے علم میں آچکی ہو، چناچہ یہی وجہ ہے کہ جن میاں بیوی کے درمیان لعان تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ ان کے درمیان فقہاء جدائی کرا دینے ہی میں بہتری خیال کرتے ہیں اس لیے کہ جو مرد مقید قسم اپنی بیوی کو فاحشہ قرار دے چکا ہرچند اس کے الزام کا قانونی توڑ عورت کی جوابی قسم سے ہوجاتا ہو لیکن اس جوابی قسم سے مرد کے دل کو نہیں بدلا جاسکتا۔ اسی طرح اگر کسی نے اپنی بیوی کو ایسی بنیاد پر طلاق دی ہے جو فاحشہ مبینہ سے تعلق رکھنے والی ہے تو اس سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ اس کا دل کبھی عورت سے صاف ہو سکے گا۔ (حدود الٰہی کی خلاف ورزی کا ضرر خلاف ورزی کرنے والوں کو پہنچتا ہے)۔ (وتلک حدود اللہ ومن یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ) یہ تنبیہ اور نہایت اہم تنبیہ ہے فرمایا کہ یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدیں ہیں تو جوان کو لانگنے کی جسارت کرے گا وہ یاد رکھے کہ وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا بلکہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا۔ اللہ نے جو قیدیں اور پابندیاں بندوں پر عائد کی ہیں کسی اپنے نفس کے لیے نہیں عائد کی ہیں بلکہ بندوں ہی کی بہبود کے لیے عائد کی ہیں۔ جو لوگ ان کو توڑتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ ان کو توڑ کر اپنے ہی شخصی، نوعی، عائلی اور اجتماعی مصالح برباد کرتے ہیں۔ (ایک عظیم حکمت)۔ (لا تدری لعل اللہ یحلاث بعد ذلک امرا)۔ یہ اس مصلحت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو (لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن) کی ہدایت میں مضمر ہے۔ فرمایا کہ تم نہیں جانتے، شاید اللہ تعالیٰ اس طرح کوئی ایسی بات پیدا کردے کہ میاں بیوی میں اختلاف کے بعد ملاپ کی صورت پیداہو جائے۔ یعنی اس یکجائی کے دوران میں میاں اور بیوی دونوں کے اندر اپنے رویہ کے جائزہ لینے کا احساس ابھرے اور ان کے پھٹے ہوئے دل ایک دوسرے سے از سر نو جڑ جائیں اور ان کا اجڑتا گھر پھر آباد ہوجائے۔ اگر ایسا ہو تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے۔ وہ دلوں کو جڑا ہوا اور گھروں کو آباد دیکھنا پسند کرتا ہے۔ یہ پسند نہیں کرتا کہ میاں بیوی میں ایسی نا چاقی پیدا ہو کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور صرف وہی جدا نہ ہوں بلکہ ان کے بچے ہوں تو وہ بھی اپنی ماں سے اور ماں بھی اپنے بچوں سے جدا ہوجائے۔
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پس جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو ان کو یا تو دستور کے مطابق نکاح میں رکھو یا دستور کے مطابق جدا کر دو اور اپنے میں سے دو ثقہ آدمیوں کو گواہ بنا لو۔ اور گواہی کو قائم رکھو اللہ کے لیے یہ نصیحت ان کو کی جاتی ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اللہ سے ڈریں گے تو اللہ ان کے لیے راہ نکالے گا

(فاذا بلغن ابلھن فامسکرھن بمعروف اد فار تو من بمعروف واشھدوا ذوی عدل منکم واقیمو الشھادۃ للہ۔ ذلکم یوعظ بہ من کان یومن باللہ والیوم الاخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا و یرزقہ من حیث لا یحتسب ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ ان اللہ بالغ امرہ قد جعل اللہ لکل شی قدرا) (2، 3)۔ (مرد کو اپنا حق عورت کی ضرر رسانی کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے)۔ فرمایا کہ جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں یعنی تیسرے طہر میں داخل ہوجائیں تب ان کے رکھنے یا الگ کردینے کا آخری فیصلہ کرو۔ اگر ان کو رکھنا ہو تو دستور کے مطابق رکھو جس طرح ایک خدا ترس مسلمان اپنی بیوی کو رکھتا ہے اور جدا کردینے ہی کا فیصلہ ہو تو یہ بھی شریفوں کے دستور کے مطابق یعنی کچھ دے دلا کر احسان و مروت کے ساتھ ہو۔ سورة ٔ بقرہ کی آیت 231 میں فرمایا ہے۔ (وَّلَا تُمْسِکُوْھُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا) یعنی اگر ان کو روکو تو یہ مراجعت اس قصد سے نہ ہو کہ وہ تمہارے پنجہ میں اسیر رہیں اور تم ان کو تنگ کرسکو۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص ایسا کرنا چاہیے تو کرسکتا ہے اس لیے کہ اس کو مراجعت کا حق حاصل ہے لیکن یہ حق اگر کوئی عورت کو ضرر پہنچانے اور تنگ کرنے کے لیے استعمال کرے گا تو وہ خدا کے بخشے ہوئے ایک حق کو ایک نہایت ظالمانہ مقصد کے لیے استعمال کرے گا جس کا وبال بہت ہی سخت ہے۔ (گواہ اور گواہی کی اہمیت)۔ (واشھدوا ذوی عدل منکم واقیمو الشھادۃ للہ) یعنی اس کی بیوی کی حیثیت سے رکھنا ہو تو اور جدا کرنا ہو تو دونوں صورتوں میں اس پر اپنے اندر سے دو ثقہ مسلمانوں کو گواہ بنا لو تاکہ اس واقعہ کی بناء پر کوئی نزاع پیدا ہونے کا امکان باقی نہ رہے ورنہ اندیشہ ہے کہ فریقین میں سے کسی کی موت پر وراثت وغیرہ کے جھگڑے اٹھ کھڑے ہوں۔ اس شہادت کے حکم کو فقہاء نے تو عام طور پر استحسان ہی کے درجے میں رکھا ہے اور ایک اچھے معاشرے میں اگر یہ استحسان ہی کے درجے میں رہے جب بھی کافی ہے، لیکن اس زمانے میں معاشرے کے فساد کے سبب سے جس طرح نکاح کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ اختیار کرلیا گیا ہے اس طرح طلاق کے لیے بھی یہ طریقہ اختیار کرلیا جائے تو اس سے بہت سی نزاعات کا سد باب ہو سکتا ہے۔ (واقیمو الشھادۃ للہ)۔ یہ مسلمانوں کو عام طور پر اور گواہوں کو خاص طور پر تاکید ہے کہ گواہی کے فرائض کو اللہ کے لیے انجام دو۔ یعنی اول تو گواہی سے حتی الامکان کترانا نہیں چاہیے ثانیاً جب گواہی کی نوبت آئے تو بےرو رعایت اور بےخوف و خطر صرف اللہ کی خاطر گواہی دو۔ یہ بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مسلمانوں کو (شھداء اللہ فی الارض) کے منصب پر سرفراز فرمایا ہے اس وجہ سے مسلمان کسی معاملہ میں کسی شخص یا کسی فریق کو گواہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ کا گواہ ہوتا ہے اور اسی گواہی پر امت کے اندر اس کی حیثیت عرفی کا انحصار ہے۔ (ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا لازمی تقاضا)۔ (ذلکم یوعظ بہ من کان یومن باللہ والیوم الاخر) فرمایا کہ یہ تین باتیں جو اوپر کی آیات میں بتائی گئی ہیں ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے لازمی نتائج میں سے ہیں۔ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان کے مدعی ہیں ان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان کو حرزبان بنائیں ورنہ یاد رکھیں کہ ان کا ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا دعویٰ بالکل بےمعنی ہو کر رہ جائے گا۔ (حدود الٰہی کی پباندی کرنے والوں کو عظیم بشارت)۔ (ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا) یہ حدود کی پابندی کرنے والوں کو اطمینان دلایا ہے کہ وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں کہ ان کو کوئی مشکل پیش آئی تو اللہ ان کے لیے راہ نکالے گا۔ وہ اپنے بندوں کا مشکلات کے ذریعہ سے امتحان کرتا ہے۔ جو ان سے پست حوصلہ ہو کر برگشتہ ہوجاتے ہیں خدا بھی ان کو چھوڑ دیتا ہے لیکن جو مشکلات کے علی الرغم خدا کے حدود کا احترام قائم رکھنے کا عزم کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ بالآخر ان کی راہ آسان کردیتا ہے۔ (وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا) (العنکبوت : 29، 69) (جو موانع کے علی الرغم ہماری راہ پر چلنے کی جدوجہد کریں گے ہم ضرور ان کے لیے اپنی راہیں کھولیں گے۔)
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور ان کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے انکو گمان بھی نہ ہوگا اور جو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ اللہ اپنے ارادے پورے کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا رکھا ہے

(ویرزقہ من حیث لا یحتسب) یہ اوپر والی بات ہی کی مزید وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہوسکا۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ ایک ہی سانس میں تین طلاقیں دے کر بیوی کو گھر سے نکال باہر کرنے کا ایک بڑا محرک، خاص طور پر غرباء کے لیے، ان کا معاشی مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ جب ایک عورت کو طلاق دے چھوڑی تو اب اس کے نان نفقہ کی ذمہ داری مفت میں کیوں اٹھائیں ! ! اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا ہے کہ اگر تم اللہ کے حدود کے احترام کے لیے یہ بوجھ اٹھائو گے تو وہ تمہیں وہاں سے رزق فراہم کرے گا جہاں سے تم کو گمان بھی نہ ہوگا۔ یہ خیال نہ کرو کہ خدا کی رحمت اور اس کی مدد کے راستے اتنے ہی میں جتنے تم نے سوچ رکھے ہیں یا جو تم قیاس کرسکتے ہو بلکہ اس کے بیشمار راستے ہیں جن کا علم اسی وقت ہوتا ہے جب وہ کھلتے ہیں۔ اس وقت انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اس کے لیے خدا کی مدد اس گوشے سے نمودار ہوئی جدھر سے اس کے نمودار ہونے کا وہ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ (ومن یتوکل علی اللہ فھوحسبہ) فرمایا کہ اس کے لیے شرط صرف یہ ہے کہ خدا پر پورا بھروسہ رکھو۔ اگر تم خدا پر بھروسہ رکھو گے تو وہ تمہاری دست گیری کے لیے کافی ہے۔ وہ اسباب و وسائل کا محتاج نہیں ہے۔ اسباب و وسائل اس کے تابع ہیں۔ بندے کو یہ اندیشہ نہیں رکھنا چاہیے کہ جن نامساعد حالات میں وہ گھرا ہوا ہے خدا ان کو بدلنے سے قاصر رہ جائے گا۔ جب وہ مدد کرنا چاہے گا تو اس کے ارادے میں کوئی چیز مزاحم نہ ہو سکے گی۔ (اللہ کی مدد کے ہور کے لیے ایک وقت مقرر ہوتا ہے)۔ (ان اللہ بالغ امرہ قد جعل اللہ لکل شی قدرا) البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اسی طرح اس کی نصرت کے ظہور کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ اس کے ظہور میں اگر کچھ دیر ہوتی ہے تو اس سے مقصود بندوں کے صبر کا امتحان ہوتا ہے۔ بندے کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ اللہ نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ ضرور پورا کرے گا۔ اگر اس میں دیر ہوگی تو اتنی ہی ہوگی جتنی اس کے صبر کے امتحان کے لیے ضروری ہے اور یہ امتحان اسی کی بھلائی کے لیے ہے۔ (ایک سوال اور اس کا جواب)۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان آیات میں جو طریقہ طلاق دینے کا بتایا گیا ہے اگر کوئی شخص اس پر عمل نہیں کرتا بلکہ ایک ہی وقت میں تین یا اس سے زائد طلاقیں دے کر بیوی کو علیحدہ کردیتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اس سوال کے جواب میں حنفیہ اور دوسرے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے۔ دوسرے ائمہ کے نزدیک تو اس طرح طلاق دینے والے کی ایک سے زیادہ طلاقیں ایک ہی کے حکم میں محبوب ہوں گی لیکن حنفیہ کے نزدیک اس طرح طلاق دینے والے کی طلاق تو واقع ہوجائے گی البتہ صحیح طریقہ اختیار نہ کرنے کے سبب سے وہ عند اللہ گناہ گار ہوگا۔ ہمارے نزدیک ان دونوں ہی مسلکوں میں تھوڑی تھوڑی کسر ہے جس کی اصلاح، احترام شریعت کے نقطہ منظر سے، ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کی اتنی واضح ہدایات کے باوجود، ایک ہی سانس میں کئی طلاقیں دے ڈالتا ہے اور اس کی اس جسارت پر اس کو کوئی تادیب نہیں ہوتی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ دین کے ساتھ اس نے جو مذاق کیا اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ اس کا نوٹس لینا ضروری ہے ورنہ لفظ طلاق ایک بالکل بےمعنی لفظ بن کے رہ جاتا ہے حالانکہ شریعت میں نکاح و طلاق کے الفاظ نہایت اہم ہیں جن کو مذاق کے طور پر بھی استعمال کیا جائے تو یہ حقیقت بن جاتے ہیں۔ اس پہلو سے غور کیجئے تو حنفیہ کا مسلک، احترام شریعت کے نقطہ نظر سے زیادہ قرین صواب معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی طلاق کو واقعہ کردیتے ہیں، لیکن ایک خاصی اس میں بھی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اس کو کوئی تادیب و تعزیز نہ کی جائے تو مجرد اس بات سے کہ اس طرح طلاق دینے والا عند اللہ گناہ گار ہوگا لوگوں کے اندر قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ کا صحیح احترام پیدا نہیں کیا جاسکتا اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس کی طلاق کو نافذ کرنے کے ساتھ دین کے ساتھ کھیل کرنے کی کوئی سزا بھی اس کو دی جائے تاکہ جو لوگ طلاق دینے کا یہ غلط طریقہ اختیار کرتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہو۔ حنفیہ کے اس فتوے کی بنیاد حضرت عمر ؓ کے ایک اجتہاد پر ہے اور ہمیں جہاں تک علم ہے ان کا اجتہاد یہ ہے کہ اس طرح طلاق دینے والے کی طلاق نافذ تو کر دینی چاہیے اس لیے کہ اس نے ضائع کیا ہے تو اپنا حق رجعت ضائع کیا ہے لیکن ساتھ ہی حدود الٰہی کی جو خلاف ورزی اس نے کی ہے اس کی سزا بھی اس کو ملنی چاہیے تاکہ دوسروں کو حدود شریعت کی خلاف ورزی کی جرأت نہ ہو۔ یہ اجتہادنہایت حکیمانہ ہے۔ ہم نے اس کتاب میں فقیہی جزئیات پر بحث کے لیے ایک خاص حد مقرر کرلی ہے اس وجہ سے اشارہ پر کفایت کرتے ہیں اپنے بعض فقہی مقالات میں ہم نے اس پر بحث کی ہے۔
Ayah 65:4

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری عورتوں میں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں اگر ان کے باب میں شک ہو تو ان کی عدت میں مہینے ہے اور اسی طرح ان کی بھی جن کو حیض نہ آیا ہو اور حمل والیوں کی مدت وضع حمل ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا تو اللہ اس کے لیے اس کے معاملے میں آسانی پیدا کرے گا۔

(والی یسن من المحیضن من نساء کم ان ارتبتم فعد تھن ثلثۃ اشھر والی لم یحض واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ومن یتق اللہ یجعل لہ من امرہ یسرا) (4)۔ (عورتوں کے اختلاف حالات کے سبب سے ان کی عدت میں فرق)۔ اوپر ان عورتوں کی عدت بتائی ہے جن کو حیض آتا ہے اور جن کی عدت کی حد بندی حیض اور طہر سے ہو سکتی ہے۔ اب یہ ان عورتوں کی عدت بتائی جا رہی ہے جو آئسہ ہوچکی ہوں یا ابھی ان کو حیض آیا ہی نہ ہو یا وہ حاملہ ہوں جس کے سبب سے ان کو حیض نہ آ رہا ہو۔ فرمایا کہ جو آئسہ ہوچکی ہوں یا جن کو ابھی حیض آیا ہی نہ ہو ان کی عدت تو تین مہینے ہے اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔ (ارباب تاویل کا ایک الجھن اور اس کا حل)۔ آئسہ عورتوں کے ساتھ (ان ارنبتم) کی جو شرط لگی ہوئی ہے اس کے سبب سے ہمارے ارباب تاویل کو اس میں بڑا ارتیاب پیش آیا ہے۔ عام طور پر تو لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر تمہیں ان کی عدت کے بارے میں کوئی شبہ ہو تو ہم تم کو بتاتے ہیں کہ ان کی عدت تین مہینے ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عورت کو خون تو آتا ہو لیکن یہ معین نہ ہو رہاہو کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ تو اس کی عدت تین مہینے ہے۔ پہلا قول سعید ابن جبیر ؒ سے مروی ہے اور ابن جریر ؒ نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن یہ قول کچھ قوی نہیں معلوم ہوتا۔ اگر مقصود محض لوگوں کے سوال کا حوالہ تو اس مضمون کی تعبیر کے لیے موزوں ترین لفظ سوال ہے جو قرآن میں اس طرح کے مواقع میں ہر جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس کے لیے (ارتبتم) کا لفظ موزوں نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر سوال ہوتا تو ان تینوں ہی قسم کی عورتوں سے متعلق ہوتا جن کا حکم یہاں بیان ہوا ہے جیسا کہ روایات سے معلوم بھی ہوتا ہے۔ لیکن (ارتبتم) اس طرح استعمال ہوا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آئسہ عورتوں کے ساتھ بطور ایک شرط مذکور ہوا ہے۔ دوسرا قول مجاہد ؒ ، زہری ؒ اور ابن زید ؒ سے مروی ہے۔ اس میں ایک تو یہ بات کھٹکتی ہے کہ اگر یہ مسئلہ ایسی عورتوں کا ہے جن کو خون آتا ہے لیکن یہ شک پیدا ہو رہا ہے کہ یہ حیض ہے یا استخاضہ تو ان کو آئسہ سے تعبیر کرنا موزوں نہیں تھا حالانکہ یہاں ان کے لیے (والی یسن من المحیض) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس آئسہ کے بارے میں اس طرح کا شک نہ ہو اس کے لیے کوئی مدت نہیں ہے۔ وہ طلاق کے معاً بعد الگ ہوجائے گی حالانکہ جہاں تک ہمیں علم ہے غیر مدخولہ آئسہ کے لیے تو کسی حدیث کی قید نہیں ہے لیکن جو آئسہ مد خواء ہے اس کے لئے تین ماہ کی عدت کی قید مہر شکل ہے۔ ان شبہات کے سبب سے میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ (ان ارتبتم) کی شرط یہاں آئسہ غیر مدخولہ اور آئسہ مد خولہ کے درمیان امتیاز کے لیے آئی ہے۔ یعنی آئسہ اگر مد خولہ ہے تو آئسہ ہونے کے باوجود اس کا امکان ہے کہ شاید یاس کی حالت عارضی ہو، پھر امید کی شکل پیدا ہوگئی ہو اور اس کے رحم میں کچھ ہو۔ یہی صورت اس کو بھی پیش آسکتی ہے جس کو ابھی اگرچہ حیض نہیں آیا ہے لیکن وہ مدخولہ ہے، چناچہ اسی بنیاد پر آئسہ غیر مد خولہ اور صغیرہ غیر مدخولہ کے لیے تو کسی عدت کی ضرورت نہیں ہے لیکن آئسہ یا صغیرہ، جس کو حیض نہ آیا ہو، اگر مد خولہ ہوں تو ان کے بارے میں چونکہ شبہ کا امکان ہے اس وجہ سے ان کے لیے مدت ہے۔ ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر بات یہی کہنی تھی تو صاف صاف کیوں نہ کہہ دی کہ اگر آئسہ مد خولہ ہو تو اس کی مدت تین مہینے ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر بات یوں کہی جاتی تو اس سے عدت کی اصل عللت واضح نہ ہوتی جبکہ اس کا واضح ہونا ضروری تھا۔ اس عدت کی اصل علت عورت کا مجرر مدخولہ ہونا نہیں بلکہ یہ اشتباہ ہے کہ ممکن ہے اس کے رحم میں کچھ ہو۔ (واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن) فرمایا کہ اسی طرح وہ عورتیں جو حاملہ ہو ان کی عدت وضع حمل ہے۔ (ایک سوال اور اس کا جواب)۔ اس حکم کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورة بقرہ کی آیت 234 میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن بیان ہوئی ہے اور یہاں حاملہ کی عدت واضح حمل بیان ہوئی ہے تو اگر کسی حاملہ مطلقہ کا شوہرانتقال کر جائے تو وہ مدت کے چار مہینے دس دن پورے کرے گی یا وضع حمل کے ساتھ ہی اس کی عدت ختم ہوجائے گی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حاملہ کی عدت مہینوں اور دنوں کے حساب سے مقرر نہیں کی جاسکتی۔ وہ تو بہر حال وضع حمل ہی کے ساتھ مشروط ہوگی۔ یہ چار ماہ دس دن سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کم بھی ہو سکتی ہے۔ اگر زیادہ ہوجائے تو عورت بہر حال اس کو گزارنے کی پابند ہوگی تو جب کم ہو تو عورت کو اس کمی سے فائدہ اٹھانے کا بھی حق ہونا چاہیے۔ گویا یہ دونوں حکم دو الگ الگ حالتوں سے متعلق ہیں اور دونوں اپنے اپنے دائروں میں نافذ العمل رہیں گے۔ (حدود شریعت کی پابندی کرنے والوں کو اطمینان دہانی)۔ (ومن تیق اللہ یعجل لہ من امہر یسرا)۔ وہی بات جو آیت 2 میں فرمائی ہے معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ یہاں بھی دہرائی ہے۔ احکام کے ساتھ ساتھ یہ تنبیہات اس لیے ضروری ہیں کہ لوگ شریعت الٰہی کو بوجھ نہ محسوس کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ان مطلقات کے زمانہ عدت کے قیام اور مصارف کے بار بعضوں کی طبیعت پر گراں تو گزرے گا لیکن جو لوگ اللہ سے ڈریں گے اور حتی الامکان اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کو قائم رکھیں گے اللہ تعالیٰ ان کے لیے آسانی پیدا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر جو بوجھ ڈالتا ہے اگر بندے اس کو اٹھانے کا حوصلہ کرلیتے ہیں تو وہ اس کے لیے اٹھانے میں ان کی مدد فرماتا ہے اور جیسا کہ اوپر فرمایا ہے ان کی مدد وہاں سے کرتا ہے جہاں سے ان کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق نہ تو یہ سوز ظن ہونا چاہیے کہ وہ اپنے بندوں پر کوئی ایسا بوجھ ڈالے گا جو ان کی قوت برداشت سے زیادہ ہو اور نہ یہ اندیشہ ہونا چاہیے کہ وہ بندے پر بوجھ ڈال کر اس کو تنہا چھوڑ دے گا
Ayah 65:5

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے تو جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس سے اس کے گناہ دور کرے دے گا اور اس کے اجر کو بڑھائے گا۔

۔ (ذلک امرا اللہ انزلہ الیکم ومن یتق اللہ یکفر عنہ سبیاتہ و یعظم لہ اجراء) (5) یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید تاکید ہے کہ یہ اللہ کے احکام ہیں جو اس نے تمہاری طرف اتارے ہیں تو ان کو نہ گراں سمجھو، نہ ان کو حقیر جانو اور نہ یہ گمان کرو کہ وہ تم پر احکام اتار کر خود بےتعلق ہوجائے گا بلکہ وہ تمہاری مدد کرے گا اگر تم ان کو اٹھائو گے اور سزا بھی دے گا اگر ان کو پھینکنے کی کوشش کرو گے۔ (ومن یتق اللہ یکفرعنہ سیاتہ و یعظم لہ اجرا) یہ تسلی دی کہ اللہ کے جو بندے اپنی حد تک حدود الٰہی کو قائم رکھنے کی کوشش کریں گے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ عفو و در گزر کا معاملہ کرے گا۔ چھوٹی موٹی غلطیاں اور کو تاہیاں جو ان سے صادر ہوجائیں گی ان کو معاف کر دے گا اور ان کے نیکیوں کے اجر کو بڑھائے گا۔
Ayah 65:6

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

اور ان کو رکھو جس طرح اپنی حیثیت کے مطابق تم رہتے ہو اور ان کو ضیق میں ڈالنے کے لیے ضرر نہ پہنچائو اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر خرچ کرو تاآنکہ وہ حمل سے فارغ ہوجائیں۔ پس اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو ان کا معاوضہ دو اور دستور کے مطابق ایک قرار داد کرلو۔ اگر تم کوئی زحمت محسوس کرو تو اس کے لیے کوئی اور دودھ پلائے گی۔

(اسکنر من من حیث سکنتم من وجد کم ولا تضاروھن لتضقوا علیھن وان کن اولت حمل فانفقوا علیھن حتی یضعن عملھن فان ارضعن لکر فاتوھن اجورھن واتمروا بینکم بمعروف وان تعا سرتو فسترضع لہ اخری) (6)۔ (زمانہ عدت میں عورتوں کے ساتھ رکھنے کا طریقہ)۔ فرمایا کہ زمانہ عدت میں ان عورتوں کو ساتھ رکھنے کا طریقہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے ان کی خودداری مجروح ہو بلکہ تمہاری آمدنی کے لحاظ سے رہائش کا جو معیار تمہارا ہو وہی معیار رہائش ان کے لیے بھی مہیا کرو اور اس دوران میں کسی پہلو سے ان کو تنگ کرنے کی تدبیریں نہ اختیار کرو کہ چند ہی دنوں میں پریشان ہو کر وہ تمہارا گھر چھوڑنے پر مجبورہو جائیں۔ (وجد) کے معنی یافت کے ہیں۔ آدمی کا معیار زندگی اس کی آمدنی کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ اسی کی ہدایت ان عورتوں کے باب میں فرمائی کہ ان کو اسی معیار پر رکھنا ہوگا جو معیار آدمی کا اپنا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ خود تو کوٹھیوں اور بنگلوں میں رہیں اور بیوی کو نوکروں کے کسی کو ارٹر یا گیراج میں ڈال دیں اور بچا کھچا اس کو کھانے کو بھیج دیں۔ (ولا تضاروھن لتضیقوا علیھن) اگر کسی نے دل سے اللہ تعالیٰ کے یہ احکام قبول نہ کیے ہوں تو وہ ظاہر ہیں انکی خانہ پری کرتے ہوئے بھی تنگ کرنے کی ایسی تدبیریں اختیار کرسکتا ہے کہ عورت کے لیے چوبیس گھنٹے بھی اس کے گھر میں گزارنا محال ہوجائے۔ اگر ایسا ہو تو وہ ساری مصلحت یک قلم نوت ہوجائے گی جس کے لیے یہ احکام دیے گئے ہیں اس وجہ سے منفی پہلو سے بھی اس بات کی وضاحت فرما دی کہ اس دوران میں ان کو تنگ کر کے بھگا دینے کی تدبیریں نہ کی جائے۔ (وان کن اولادت حمل فانفقوا علیھن حتی یضعن حملھن) یہ خاص طور پر حاملہ عورتوں کے بارے میں ہدایت فرمائی کہ ان پر اس وقت تک خرچ کرو جب تک وہ حمل سے فارغ نہ ہوجائیں۔ اس خاص اہتمام سے ذکر کی وجہ ظاہر ہے کہ ان کی مدت قیام طویل بھی ہو سکتی ہے اور بعض حالات میں ان کے مصارف کی نوعیت بھی مختلف ہو سکتی ہے۔ (بعض احکام درباب رضاعت)۔ فان ارضعن لکم فاتوھن اجورھن واتمروا بینکم بمعروف)۔ یہ وضع حمل کے بعد کا مرحلہ ہے کہ اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو اس کا معاوضہ دو اور اس معاوضہ سے متعلق باہمی مشورہ سے ایک قرار داد طے کرلو جو وقت کے دستور اور مرد کے معیار زندگی کے مطابق ہو۔ (وان تغاسوتم فسترضع لہ اخری) یعنی اس طرح کی قرار داد میں اگر فریقین زحمت محسوس کر رہے ہیں تو کسی دوسری عورت سے دودھ پلانے کا معاملہ ہوسکتا ہے۔ یعنی اس کا انحصار فریقین کی باہمی رضا مندی، سہولت اور مفاہمت پر ہے۔ کسی کو اس معاملے میں اس کی مرضی کے خلاف مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ سورة بقرہ کی آیت 233 کے تحت رضاعت سے متعلق بنیادی مسائل پر گفتگو ہوچکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس پر ایک نظرڈال لیجئے۔ ہمارے لیے فقہی جزئیات کی تفصیل کا ذکر موقع نہیں ہے۔
Ayah 65:7

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

چاہیے کہ کشادگی والا اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور جس کو کم ہی رزق دیا گیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اس کو دیا ہے۔ جتنا جس کو اللہ نے دیا ہے اس سے زیادہ کسی پر وہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اللہ تنگی کے بعد کشادگی بھی پیدا کرے گا

(لینفق ذوسعۃ من سعتہ ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتہ اللہ لا یکلف اللہ نفسا الا ما اتھا سیجعل اللہ بعدی عسر یسرا) (7)۔ (خرچ کا معیار)۔ یہ خرچ کا معیار بتا دیا کہ کشادہ حال کو اپنی کشادہ حالی کے معیار پر خرچ کرنا پڑے گا اور تنگ حال کو اپنی آمدنی کے مطابق۔ نہ کشادہ حال کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے معیار زندگی سے ان کو فرد تر حال میں رکھے اور نہ غریب پر اس کی حیثیت سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص پر ذمہ داری اس کی حیثیت کے اعتبار سے ڈالی ہے۔ (غریبوں کو اطمینان دہانی)۔ (سیجعل اللہ بعد عسر یسرا) یہ غریبوں کو برسر موقع تسلی دی ہے کہ اگر وہ اپنی حالت پر قانع و صابر اور تنگ حالی کے باوجود خدا کے حدود کو قائم رکھنے کا اہتمام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے تنگی کے بعد آسانی پیدا کرے گا۔ غربت اور احتیاج کے باوجود اللہ کی خوشنودی کے لیے جو لوگ ایثار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت دیتا ہے۔
Ayah 65:8

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہوئی ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو نہایت ہولناک عذاب دیا

(وکاین من قریۃ عتت عن امرربھا ورسلہ فحاسبنھا حسابا شدیداوعذب تھا عذابا نکرا) (8)۔ (ایک عام تنبیہ)۔ اس آیت کا موقع و محل سمجھنے کے لیے سورة تغابن کی آیات 6۔ 8 پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ یہ ایک عام تنبیہ ہے جس کے مخاطب قریش اور سلمان سب ہیں کہ اللہ نے تمہاری رہنمائی کے لیے اپنی ہدایات نازل کردی ہیں۔ اگر تم نے ان کی قدر کی تو ان کا فائدہ تمہی کو پہنچے گا اور اگر نافرمانی کی تو یاد رکھو کہ تم سے پہلے کتنی قومیں گزر چکی ہیں جنہوں نے اپنے رب کے احکام اور اس کے رسولوں کی تعلیمات کی ناقدری کی تو اللہ نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو نہایت ہولناک عذاب دیا۔ یہ اشارہ عاد وثمود وغیرہ کی طرف بھی ہے جن کی سرگزشتیں قرآن میں سنائی گئی ہیں اور یہود کی طرف بھی جن کو اللہ نے اپنی شریعت سے نوازا لیکن انہوں نے اس کی قدر نہیں کی تو وہ اللہ کے نہایت سخت عذاب کی گرفت میں آئے۔ (عتت عن امرربھا) میں عن اس مر کا قرینہ ہے کہ عتت یہاں اعرضت کے مفہوم پر متضمن ہے یعنی سر کشی کے سبب سے انہوں نے اپنے رب کے حکم سے اعراض کیا۔ (حاسبنا) یہاں محاسبہ کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ نے ان پر سخت گرفت کی اور ان کو ہولناک عذاب دیا۔ نکو کے معنی شدید اور ہولناک کے ہیں۔
Ayah 65:9

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کا انجام نامرادی ہوا۔

(فذاقت وبال امرھا وکان عاقبۃ امرما خسرا) (9)۔ یعنی جب وہ خدا کے محاسبہ کی زد میں آگئیں تو انہیں اپنی سر کشی کا انجام بھگتنا پڑا اور ان کا انجام نامرادی ہوا۔ اس لیے کہ فلاح و بہبود کی واحد راہ وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے بتائی ہے۔ اگر قومیں اپنی سر کشی کے سبب سے اس سے انحراف اختیار کرتی ہیں تو لازماً نامرادی سے دو چار ہوتی ہیں۔
Ayahs 65:10–11

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب بھی تیار کر رکھا ہے تو اللہ سے ڈرو، اے عقل والو ! اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک یاددہانی اتار دی ہے۔

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

ایک رسول جو تمہیں اللہ کی واضح آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالے اور جو ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے۔ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ اللہ نے ان کو نہایت اچھی روزی دی۔

(اعد اللہ لھم عذابا شدیدا۔ فاتقوا اللہ یاولی الالباب الذین امنوا قد انزل اللہ الیکم ذکرا رسولا یتلوا علیکم ایت اللہ مبینت لیخرج الذین امنوا وعملوالصلحت من الظلمت الی النور ومن یومن باللہ ویعمل صالحا شدید خلہ جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ابدا قد احسن اللہ لہ رزقا) (10۔ 11) (ایک موثر تنبیہ و ترغیت)۔ یہ نہایت واضح الفاظ میں مسلمانوں کو تنبیہ بھی ہے ساتھ ہی نہایت موثر انداز میں ترغیب بھی کہ اللہ نے تمہاری طرف اپنی یاددہانی (قرآن) بھی نازل کردی اور اپنا رسول بھی بھیج دیا ہے۔ اب آگے کا کام تمہارا ہے کہ تاریکی سے روشنی کی طرف نکالنے کے لیے جو اہتمام اللہ نے فرمایا ہے اس کی قدر کرتے ہو یا ان قوموں کی تقلید کرتے ہو جن کا انجام نا مرادی ہوا اور جن کے لیے اللہ نے ایک سخت عذاب تیار کررکھا ہے۔ (فاتقوال اللہ یاولی الالباب الذین امنوا) یعنی جب قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اسی سنت کے مطابق ہوا جو مذکور ہوئی تو اے اہل عقل جو ایمان لائے ہو، دانش مندی کا راستہ یہی ہے کہ اپنے اللہ سے ڈرو۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے ایمان کی راہ میں جو قدم بڑھایا ہے اس سے یہ بات تو ثابت ہوئی کہ تم خواہشوں کے غلام نہیں بلکہ عقل سے کام لینے والے لوگ ہو کہ ایمان کی راہ اختیار کی تو اب تمہارے ایمان کا تقاضایہ ہے کہ اپنے اللہ سے ڈرو اور اس کے حدود سے انحراف نہ اختیار کرو ورنہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو ان قوموں کا ہوا جنہوں نے اللہ کی بتائی ہوئی راہ سے انحراف کیا۔ (عقل و ایمان لازم و ملزوم ہیں)۔ (یاولی الالباب) کے بعد (الذین امنوا) سے یہ بات نکلتی ہے کہ عقل اور ایمان میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ جو شخص عاقل ہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ایمان سے بہرہ ور ہو۔ اگر کوئی شخص ایمان سے بہرہ ور نہیں ہے تو خواہ وہ آسمان و زمین کا طول و عرض ناپنے میں کتنا ہی ماہر ہو لیکن اس کی عقل میں بہت بڑا فتور ہے۔ (ہدایت کے لیے اہتمام)۔ (قد انزل اللہ الیکم ذکرا رسولا یتلوا علیکم ایت اللہ مبینت لیخرج الذین امنوا وعملوا الصلحت من الظلمت الی النور) یہ اس اہتمام کی طرف اشارہ ہے جو اللہ نے اپنی حجت تمام کردینے کے لیے فرمایا ہے کہ تمہارا طرف اپنی یاددہانی بھی اس نے نازل کردی ہے اور ایک رسول بھی بھیج دیا ہے جو ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرنے والوں کو اللہ کی آیات سنا رہا ہے تاکہ انکو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی شاہراہ پر لائے۔ مطلب یہ ہے کہ اس اہتمام کے بعد بھی اگر تم نے روشنی پر تاریکی ہی کو ترجیح دی تو اس کی ذمہ داری تمہارے ہی اوپر ہوگی اور اس گمراہی کے لیے اپنے رب کے سامنے تم کوئی عذرنہ پیش کرسکو گے۔ (رسول کی زندگی سزا یا ذکر الٰہی ہوتی ہے)۔ ذکرا رسولا میں ذکر سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن کو ذکری اور ذی الذکر کے الفاظ سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اس تعبیر کے مضمرات کی طرف ہم اس کے محل میں اشارہ کرچکے ہیں۔ یہ انسانی فطرت کے تمام مضمرات کی یاددہانی کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خلق کی رہنمائی کے لیے جو ہدایات بھیجیں اور جن کو قومیں فراموش کرتی رہیں ان کی بھی یاددہانی کرتا ہے۔ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں اور ان پر ایمان لانے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو معاملہ کیا اس کی بھی یادددہانی کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس جزاء اور سزا کی یاددہانی کرتا ہے جس کا ایک معین دن اس زندگی کے بعد لازماً ظہور میں آنے والا ہے جو اس دنیا کی غایت و نہایت ہے۔ رسولا یہاں ذکرا سے بدل ہے اور اس کا بدل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں میں روح اور قالب کا رشتہ ہے۔ چناچہ قرآن کے لیے جس طرح لفظ ذکر آیا ہے اسی طرح رسول کے لیے مذکر آیا ہے۔ (انما انت مذکر) (الغاشیہ : 88۔ 21) (تم تو بس ایک مذکر ہو) رسول اللہ ﷺ کی زندگی سراپا ان حقائق کی یاددہانی تھی جن کی یاددہانی تھی جن کی یاددہانی کے لیے قرآن نازل ہوا۔ یعنی قرآن نے جو کچھ بتایا رسول اللہ ﷺ نے وہ سب کچھ کر کے بھی دکھا دیا جس سے لوگوں پر اللہ کی حجت اس طرح پوری ہوگئی کہ اس میں کسی پہلو سے کوئی کسر باقی نہیں رہی۔ (رزق آخرت کی بشارت)۔ (قد حسن اللہ لہ رزقا) یعنی جو ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرے گا اور حدود الٰہی کی حفاظت کی خاطر ایثار کرے گا وہ مطمئن رہے کہ یہ خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ اللہ نے اس کے لیے آخرت میں نہایت اعلیٰ رزق تیار کر رکھا ہے۔ اوپر آیت 3 میں ایثار و توکل کرنے والوں کو اس دنیا میں تائید الٰہی کی بشارت دی ہے۔
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے بنائے سات آسمان اور انہی کے مانند زمین بھی۔ ان میں اس کے احکام نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔

(اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مشلعن یتنزل الامربینن لتعلموا ان اللہ علی کل شئی قدیر وان اللہ قدا حاط بکل شی علماء) (12) (صفات الٰہی کا حوالہ تاکہ لوگوں کا عقیدہ محکم ہو)۔ یہ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت قدرت اور صفت علم کی یاددہانی فرمائی ہے تاکہ اوپر جو باتیں فرمائی گئیں ہیں، خواہ ان کا تعلق تنبیہ و تہدید سے ہوتاتسکین و تسلی سے، ان کا اعتقاد لوگوں کے اندر راسخ ہو اور وہ یہ جانیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپناہ ہے، وہ جو چاہے کرسکتا ہے اور اس کا علم بھی محیط کل ہے۔ سات آسمانوں اور سات زمینوں کی کوئی چیز بھی اس سے مخفی نہیں ہے۔ اگر کسی نے کوئی نیکی کی ہے تو وہ بھی اس کے علم میں ہے اور اگر کسی نے کوئی بدی کی ہے تو وہ بھی اس کے علم میں ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ سے متعلق یہ شعور اچھی طرح دلوں کے اندر راسخ نہ ہو اس وقت تک اس کی شریعت کے احترام کا صحیح حق ادا نہیں ہوسکتا۔ (سات آسمان اور سات زمین)۔ (اللہ الذی خلق سبع سموات ومن الارض مثلھن) اپنی قدرت کی وسعت کا تصور دینے کے لیے فرمایا کہ یہ گمان کرو کہ خدا کی کائنات کل اتنی ہی سے جتنی تمہیں نظر آتی ہے۔ یہ تو اس کی کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر اور محدود حصہ ہے۔ یہ آسمان جو تمہیں نظر آتا ہے اس جیسے سات آسمان خدا نے بنائے ہیں اور زمین بھی یہی نہیں ہے جس پر تم چلتے پھرتے ہو بلکہ زمینیں بھی ہر آسمان کے ساتھ الگ الگ سات ہیں۔ سات آسمانوں کا ذکر تو قرآن میں بھی بار بار ہوا ہے اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں بھی لیکن سات زمینوں کا ذکر صرف اس سورة میں ہوا ہے لیکن جب سات آسمانوں کا ذکر ہوا ہے تو ان کے ساتھ سات زمینوں کا پایا جانا لازمی ہوا۔ آسمان اور زمین میں وہی نسبت ہے جو مکان اور اس کی چھت میں ہوتی ہے تو جب چھتیں سات ہیں تو مکان بھی سات ہونے چاہئیں۔ جس طرح آسمان کے بغیر زمین کا تصور نہیں کیا جاسکتا اسی طرح زمین کے بغیر آسمان کا بھی کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔ بلندی کے لیے پستی کا وجود نا گزیر ہے۔ رہا یہ سوال کہ ان ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں میں ایک ہی طرح کے قوانین و نوامیس نافذ ہیں۔ اور ایک ہی قسم کی مخلوق آباد ہے یا الگ الگ مخلوق اور الگ نوامیس وقوانین ہیں تو مجرو مثلھن کے لفظ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ ہر عام میں ایک ہی مخلوق اور ایک ہی قسم کے نوامیس و قوانین ہوں۔ اس مثلیت کا تعلق صرف پیدا کرنے سے ہے کہ اللہ نے جس طرح رات آسمان بنائے ہیں اسی طرح زمینیں بھی سات بنائی ہیں۔ رہے ان کے نوامیس و قوانین تو یہ چیز نہ اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے اور نہ ہماری اور آپ کی سمجھ میں آنے والی ہی ہے۔ ہمارے لیے یہ اجمالی ایمان بس ہے کہ۔۔ ع ستاروں سے آگ جہاں اور بھی ہیں ہماری سائنس ابھی فلائے لا متناہی میں آوارہ گردی کر رہی ہے۔ وہ ایک راز کا انکشاف کرتی ہے تو اس سے سینکڑوں معمے دوسرے پیدا ہوجاتے ہیں۔ تاہم مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اگر سائنس سراغ نہ دے سکی تو جرأت میں انشاء اللہ سارے راز کھل جائیں گے۔ اس دنیا میں انسان کو جو علم ملا ہے وہ بہت قلیل ہے۔ (وما اوتیتم من العلم الا قلیلا) بنی اسرائیل : 17، 85)۔ (یتنزل الامر بینھن) یعنی جس طرح تمہارے آسمان و زمین کے درمیان خدا کے احکام و قوانین کا نزول ہوتا ہے اسی طرح دوسرے آسمانوں اور زمینوں کے اندر بھی اس کے احکام نازل ہوتے ہیں۔ (لتعلموا ان اللہ علی کل شی قدیر) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کائنات کا یہ راز تم پر اس لیے کھولا ہے کہ تم پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کوئی حدود نہایت نہیں ہے۔ لتعلموا سے پہلے ایک مناسب موقع فعل محذوف ہے اور اس قسم کے حذف کی مثالیں پیچھے گزرچکی ہیں۔ (وان اللہ قل احاط بکل شی علماء) یہ اس کا دوسرا مقصد واضح فرمایا کہ جس طرح اس کی قدرت کی کوئی حدود نہایت نہیں اسی طرح اسکے علم کی بھی کوئی حدود نہایت نہیں ہے۔ اس کا علم ان تمام عوالم کی ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فلللہ الحمد ولہ المنۃ۔ رحمان آباد۔ 25۔ اپریل 1978؁ء۔ 16 جمادی الاول 1398؁ھ۔